Al-Hajj 22:17

Al-Hajj · from ayah 17

22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـِٕیْنَ وَالنَّصٰرٰی وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا ۖۗ— اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰبِــئِيۡنَ وَالنَّصٰرٰى وَالۡمَجُوۡسَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا ‌ۖ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ

جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک۔ خدا ان (سب) میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے باخبر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who have believed and those who were Jews and the Sabeans and the Christians and the Magians and those who associated with Allah - Allah will judge between them on the Day of Resurrection. Indeed Allah is, over all things, Witness.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:17

جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے، اور صابئی، اور نصاریٰ، اور مجوس، اور جن لوگوں نے شرک کیا، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک۔ خدا ان (سب) میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے باخبر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک اہل ایمان اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور مشرکین ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فیصلے کر دے گا، اللہ تعالیٰ ہر ہر چیز پر گواه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بلاشبہ مومن ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا نصرانی اور مجوسی، یا وہ جنہوں نے شرک اختیار کیا ہے، اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک، بیشک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور ستارہ پرست اور نصارٰی (عیسائی) اور آتش پرست اور جو مشرک ہوئے، یقیناً اﷲ قیامت کے دن ان (سب) کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اﷲ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصاریٰ اور مجوس اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا یقینا اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی اور عیسائی اور آتش پرست اور جو مشرک ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاید ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو لوگ ایمان لائے جنہوں نے یہودیت اختیار کی اور صائبین، نصاریٰ مجوس اور جنہوں نے شرک کیا، اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی بن گئے اور ستارہ پرست اور نصرانی اور مجوسی اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا بیشک اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ فرما دے گا قیامت کے دن عملاً اور آخری طور پر بیشک اللہ ہر چیز پر پوری طرح مطلع ہے کیا

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ایمان والے اور جو لوگ یہود ہوئے ہیں اور صابی اور نصاری اور مجوس اور جو مشرک ہیں اللہ ان (سب) کے درمیان فیصلہ کردے گا قیامت کے دن بیشک اللہ ہر شے سے واقف ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً وہ لوگ جو (محمد ﷺ پر) ایمان لائے ہیں اور جو یہودی مجوسی اور عیسائی ہیں اور جن لوگوں نے شرک کی روش اختیار کی ہے یقیناً اللہ فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن۔ یقیناً اللہ ہرچیز پر گواہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ مومن ہیں ‘ یہودی ‘ صابی ‘ نصاریٰ ‘ مجوسی اور مشرک ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On the Day of Resurrection Allah will most certainly judge among those who believe, and those who became Jews, and Sabaeans, and Christians, and Magians, and those who associate others with Allah in His Divinity. Surely Allah watches over everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who believe and the Jews and the Sabians and the Christians and the Magians and those who ascribe partners to Allah, Allah will judge between them on the Day of Judgment. Surely Allah is witness to every thing.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who believe and the Jews and the Sabians and the Christians and the Magians and those who ascribe partners to Allah, Allah will judge between them on the Day of Judgment. Surely Allah is witness to every thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who believe, and those who are Jews, and the Sabians, and the Christians, and the Majus, and those who worship others besides Allah; truly, Allah will judge between them on the Day of Resurrection. Verily, Allah is over all things a Witness.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who believe (this revelation), and those who are Jews, and the Sabaeans and the Christians and the Magians and the idolaters - Lo! Allah will decide between them on the Day of Resurrection. Lo! Allah is Witness over all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who have believed and those who were Jews and the Sabeans and the Christians and the Magians and those who associated with Allah - Allah will judge between them on the Day of Resurrection. Indeed Allah is, over all things, Witness.

— Saheeh International

On the Day of Judgment, God will make truth and falsehood clearly distinct from each other to the believers, the Jews, the Sabeans, the Christian, the Zoroastrians, and the Pagans on the Day of Judgment. God is a Witness to all things.

— Muhammad Sarwar

Surely those who believe and those who are Jews and the Sabeans and the Christians and the Magians and those who associate (others with Allah)-- surely Allah will decide between them on the day of resurrection; surely Allah is a witness over all things.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who believe and those who are Judaised and the Sabians and the Nazarenes and the Magians and those who associate - verily Allah will decide between them on the Day of Judgment; verily Allah is over everything a Witness.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who believe (in the Qur'an), those who follow the Jewish (scriptures), and the Sabians, Christians, Magians, and Polytheists,- Allah will judge between them on the Day of Judgment: for Allah is witness of all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مختلف مذہبوں کا فیصلہ روز قیامت ہوگا صابئین کا بیان مع اختلاف سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے یہاں فرماتا ہے کہ ان مختلف مذہب والوں کا فیصلہ قیامت کے دن صاف ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جنت دے گا اور کفار کو جہنم واصل کرے گا۔ سب کے اقوال و افعال ظاہر وباطن اللہ پر عیاں ہیں

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 23 یعنی " مسلمان " جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں خدا کے تمام انبیاء، اور اس کی کتابوں کو مانا، اور محمد ﷺ کے زمانے میں جنہوں نے پچھلے انبیاء کے ساتھ آپ پر بھی ایمان لانا قبول کیا۔ ان میں صادق الایمان بھی شامل تھے اور وہ بھی تھے جو ماننے والوں میں شامل تو ہوجاتے تھے مگر " کنارے " پر رہ کر بندگی کرتے تھے۔ اور کفر و ایمان کے درمیان تذبذب تھے۔ سورة الْحَجّ 24 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، النساء، حاشیہ 72۔ سورة الْحَجّ 25 صابئی کے نام سے قدیم زمانے میں دو گروہ مشہور تھے۔ ایک حضرت یحییٰ ؑ کے پیرو، جو بالائی عراق (یعنی الجزیرہ) کے علاقے میں اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–18

خلاصہ تفسیر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اور یہود اور صابئین اور نصاریٰ اور مجوس اور مشرکین، اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان میں قیامت کے روز (عملی) فیصلہ کر دے گا (کہ مسلمانوں کو جنت میں اور سب اقسام کافروں کو جہنم میں داخل کرے گا) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔ اے مخاطب کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے (اپنی اپنی حالت کے مناسب) سب عاجزی کرتے ہیں جو کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور (تمام مخلوقات کے مطیع و فرمانبردار ہونے کے باوجود انسان جو خاص درجہ کی عقل بھی رکھتا ہے وہ سب کے سب مطیع و فرمانبردار نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مشرکین اور ان کے اتحادیوں کو تنبیہ اس آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہے ان میں سے مجوس اور مشرکین کے سوا ہر گروہ کا ذکر سورة بقرہ آیت 62 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے یہود، نصاریٰ اور صائبین سب پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ملاحظہ ہوں صفحات 187-182 جلد اول، مجسوس اصلاً تو دین زرد شت کے پیرو تھے اور دین زردشت کی بنیاد، جیسا کہ ہم سورة کہف میں بیان کرچکے ہیں، خالص توحید پر تھی لیکن جس طرح امتداد زمانہ سے ہر دین کا حلیہ بگڑا اسی طرح اس دین کے پیرو بھی اپنے اصل دین کو مسخ کر کے آتش پرستی اور دوسری مشرکانہ بدعتوں میں مبتلا ہوگئے۔ اوپر کی آیات میں مومنین اور مشرکین کے درمیان جس مناظرہ و مجادلہ کا ذکر ہوا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

17۔ 1 مجوسی سے مراد ایران کے آتش پرست ہیں جو دو خداؤں کے قائل ہیں، ایک ظلمت کا خالق ہے، دوسرا نور کا، جسے وہ اہرمن اور یزداں کہتے ہیں۔ 17۔ 2 ان میں مذکورہ گمراہ فرقوں کے علاوہ جتنے بھی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والے ہیں، سب آگئے۔ 17۔ 3 ان میں سے حق پر کون ہے، باطل پر کون، یہ تو ان دلائل سے واضح ہوجاتا ہے جو اللہ اپنے قرآن میں نازل فرماتے ہیں اور اپنے آخری پیغمبر کو بھی اسی مقصد کے لئے بھیجا تھا، یہاں فیصلے سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ باطل پرستوں کو قیامت والے دن دے گا، اس سزا سے بھی واضح ہوجائے گا کہ دنیا میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون کون۔ 17۔ 4 یہ فیصلہ محض حاکمانہ اختیارات کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

11: ان مخلوقات کے سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہیں، اور ہر چیز اس کے ہر حکم کے آگے سر جھکائے ہوئے ہے، نیز اس سے عبادت کا سجدہ بھی مراد ہوسکتا ہے ؛ کیونکہ اتنی سمجھ کائنات کی ہر چیز میں موجود ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، البتہ ہر چیز کے سجدے کی صورت مختلف ہے، اس پوری کائنات میں انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کے تمام افراد عبادت کا سجدہ نہیں کرتے ؛ بلکہ بہت سے کرتے ہیں بعض نہیں کرتے اس لئے انسانوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ بہت سے انسان بھی۔ یاد رہے کہ یہ سجدہ کی آیت ہے، جو شخص اصل عربی میں یہ آیت تلاوت کرے یا سنے اس…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان الذین امنوا ……شی ئٍ شھید (17) ان فرقوں کا تعارف اور تعریف پہلے گزر چکی ہے۔ یہاں ان کا ذکر اس اصول کے حوالے سے ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے اور اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہدایت پر کون ہیں اور ضلالت پر کون ہیں ؟ آخرت میں اللہ ہی سب کا حساب و کتاب کرنے الا ہے۔ آخری فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے اور ہر چیز پر اللہ گواہ ہے۔ لوگ اگر اپنی فکر ، اپنی خواہشات اور اپنے ذاتی میلانات کے پچیھے دوڑ رہے ہیں تو دوڑتے رہیں۔ یہ پوری کائنات اپنی فطرت کے ساتھ اللہ کے قوانین قدرت کی مطیع ہے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ نافرمان اگر کوئی ہے تو انسان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 مجوس آگ پوجتے ہیں اور دو خالق مانتے ہیں ایک خیر کا خالق جس کا نام " یزدان " ہے دوسرا شر کا جس کو " اہرمن " کہتے ہیں اور کسی نبی کا نام بھی لیتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ پیچھے بگڑے ہیں یا سرے سے غلط ہیں۔ شہر ستانی نے " ملل و نحل " میں ان کے مذہب پر جو کلام کیا ہے اسے دیکھا جائے " صابئین " وغیرہ کا ذکر پہلے گزر چکا۔ 8 یعنی تمام مذاہب و فرق کے نزاعات کا عملی اور دو ٹوک فیصلہ حق تعالیٰ کی بارگاہ سے قیامت کے دن ہوگا۔ سب جدا کر کے اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچا دئیے جائیں گے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون کس مقام یا کس سزا کا مستحق ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدٌ ” یعنی ہرچیز اور ہر انسان کے دل کی کیفیت اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 یعنی کسی بھی اللہ کے رسول پر ایمان لائے۔ کیونکہ تمام انبیا و رسل کے اصول دین ایک ہی رہے ہیں۔ (تفصیل کے لئے اسی سورة کی آیت نمبر 92، 93 کے حواشی ملاحظہ فرما لیجئے) اس لحاظ سے ہر نبی پر ایمان لانے والے مسلمان ہوئے اور اسلام اور ایمان کا صرف یہ فرق ہے کہ اسلام کا تعلق ظاہری اعمال سے ہوتا ہے اور ایمان کا دل سے۔ اللہ اور اس کے رسول کی جس قدر اطاعت کی جائے، ایمان اتنا ہی پختہ ہوتا جاتا ہے اور جتنا ایمان پختہ ہوتا جاتا ہے اطاعت کی مزید توفیق نصیب ہوتی رہتی ہے۔ گویا اسلام اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوتے ہیں۔ 17 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر جو لوگ ایمان لائے تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ (چنانچہ ان سب کے کفر و ایمان سے بھی خوب واقف ہے، اسے صحیح فیصلہ کرتے دیر ہی کیا لگ سکتی ہے) (آیت) ’ ان اللہ ...... القیمۃ “ اس فیصلہ سے مراد عملی فیصلہ کا ظہور ہے۔ یعنی یہ کہ قیامت میں مسلمان جنت میں داخل ہوجائیں گے اور کافر دوزخ میں۔ (آیت) ” المجوس “ ‘۔ مجوس وہ اہل عجم ہیں جن کا دعوی ہے کہ ہم ایک نبی زرتشت نامے کی امت ہیں، لیکن اب وہ عملاتوحید کے بجائے ثنویت کے معتقد ہیں۔ یعنی ایک کے بجائے دو خدا قرار دے لئے ہیں۔ ایک یزدان یعنی خدائے نور و خدائے خیر۔ دوسرا اہرمن یعنی خدائے ظلمت و خدائے شر۔ اور کہتے ہیں کہ یہ کائنات انہیں دونوں کی کشمکش کی رزمگاہ ہے۔ فقہاء امت نے انہیں بھی اہل کتاب کے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین امنوا والذین ہادوا والصبئین والنصری والمجوس والذین اشرکوا ان اللہ یضل بینہم یوم القیمۃ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اور یہودی اور صابی اور عیسائی اور مجوسی اور مسرکین ‘ اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا سے مراد ہیں بت پرست۔ یَفْصِلُ بَیْنَہُمْیعنی حق پرست کو باطل پرست سے الگ کر دے گا حق پرست کی حق پرستی اور باطل پرست کی باطل پرستی ظاہر کر دے گا) یا یہ مراد ہے کہ اللہ ہر ایک کو اس کے مناسب بدلہ دے گا کسی فریق کو جنت میں اور کسی کو دوزخ میں بھجوا دے گا۔ ان اللہ علی کل شی شہید۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ شَہِیْدٌواقف ہے۔ احوال کا نگراں ہے ممکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(17) اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور مدینہ منورہ کے یہودی اور صائبین جو نصاری کا ایک فرقہ ہے اور نجران کے عیسائی یعنی سید وعاقب اور سورج اور آگ کی پوجا کرنے والے اور مشرکین عرب اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان قیامت کے روز عملی فیصلہ فرما دے گا اللہ تعالیٰ ان کے اختلاف اور ان کے اعمال سے واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا۔۔ : گزشتہ آیات میں ایمان والوں کے علاوہ مختلف لوگوں کا ذکر ہوا، کچھ قیامت کے منکر، کچھ کنارے پر رہ کر عبادت کرنے والے، کچھ اللہ کے ساتھ شریک بنانے والے وغیرہ۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ اتنے مختلف عقائد کے لوگ جو اپنی اپنی بات پر اس قدر پختہ ہیں کہ واضح دلائل کے باوجود اپنی بات نہیں چھوڑتے، آخر کبھی ان کے جھگڑے کا فیصلہ بھی ہوگا ؟ فرمایا، ان کے جھگڑے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن فرمائے گا، جب مومن جنت اور کافر جہنم میں جائیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں ان کے حق یا باطل پر ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ یقیناً ہوا ہے اور قرآن مجید کا نام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصَّابِئِیْنَ وَالنَّصٰریٰ وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا (بیشک اللہ تعالیٰ مسلمانوں یہودی اور صابی اور عیسائی، مجوسی اور مشرکین) ایک قول یہ ہے کہ ادیان پانچ ہیں۔ چار شیطان کیلئے اور ایک رحمان کیلئے۔ الصابئونؔ یہ نصاریٰ کی ایک قسم ہے۔ پس چھ نہ بنے۔ اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (بیشک اللہ تعالیٰ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے) احوال و اماکن کے اعتبار سے ایک ہی سزا نہ دیں گے۔ اور نہ ان کو ایک جگہ جمع کریں گے۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ (بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے) اس کو جاننے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبدالرزاق وعبدبن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ان الذین اٰمنوا الآیۃ کے بارے میں فرمایا کہ صائبون وہ قوم ہیں جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور زبور کو پڑھتے ہیں اور مجوسی، سورج چاند اور آگ کی عبادت کرتے ہیں۔ آیت والذین اشرکو اور وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں، آیت ان اللہ یفصیل بینہم یوم القیمۃ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ ان چھ دینوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے۔ پانچ دین شیطان کے لیے ہیں اور ایک دی اللہ عز وجل کے لیے ہے۔ اللہ اکیلا عبادت کے لائق ہے 2۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ان الَّذِينَ : بیشک وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَالَّذِينَ : اور وہ جو ] [ هَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ وَالصّٰبِــِٕــيْنَ : اور صابئین ] [ وَالنَّصٰرٰي : اور نصارٰی ] [ وَالْمَجوسَ : اور مجوسی ] [ وَالَّذِينَ : اور وہ جنھوں نے ] [ اَشْرَكُـوْٓا : شرک کیا ] [ ان اللّٰهَ : (تو) بیشک اللہ ] [ يَفْصِلُ : فیصلہ کرے گا ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے مابیں ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ شَهِيْدٌ: عینی شاہد ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل ایمان اور یہود و نصاریٰ ، مجوس اور مشرکین سب کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلے فرمائے گا، جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں دنیا میں ایک جماعت تو اہل ایمان کی ہے جو خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لائے اور ان کے علاوہ بہت سی جماعتیں ہیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ان میں یہودی نصرانی صابئین اور آتش پرست اور طرح طرح سے شرک اختیار کرنے والے لوگ ہیں مسلمانوں کے علاوہ جتنی دوسری جماعتیں ہیں وہ آپس میں اپنے عقائد اور اعمال کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن چونکہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے ایک فریق اہل ایمان کا اور دوسرا مجموعی حیثیت سے تمام کافروں کا ہے یہ سب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–24

بیان فیصلہ اختلاف ملل و امم در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادوا .... الیٰ .... الی صراط الحمید۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کا دین اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ اختلاف کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگ مختلف ہیں۔ ہر شخص اپنے کو حق اور ہدایت پر بتلاتا ہے اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس دن اہل حق کو عزت اور کرامت حاصل ہوگی اور اہل باطل کو ذلت اور اہانت ملے گی اور اس دن معلوم ہوجائیگا کہ عزت و ذلت کی مالک کون ذات ہے کہ جس کو تمام آسمان اور زمین کی چیزیں آفتاب و ماہتاب اور شجر و حجر سب سجدہ کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ (1) قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

27:۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام۔ ” وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا “ قوم موسیٰ علیہ السلام۔ ” وَالصَّائِبِیْنَ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد کے لوگ مراد ہیں جو شمس و قمر اور دیگر سیاروں کی عبادت کرتے تھے۔ ” وَالنَّصَارٰي “ قوم عیسیٰ علیہ السلام۔ ” وَالْمَجُوْس “ آتش پرست۔ ” وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا “ اور دیگر تمام مشرکین جو صائبین اور مجوس کی طرح کسی خاص نام سے مشہور نہیں ہیں دنیا میں تو سب حق پر ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ مومنوں اور دیگر پانچ فرقوں کے درمیان آخری فیصلہ فرمائے گا اور ہر ایک کو اس کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–17

ربط آیات : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ جھگڑالو لوگ : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِــــِٕــيْنَ وَالنَّصٰرٰي وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُـوْٓا۝ 0ۤۖ اِنَّ اللہَ يَفْصِلُ بَيْنَہُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ۝ 17 هَادَ ( یہودی) فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا [ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور، وفعل طفیل في إتيان الدّعوات من غير استدعاء، وتَهَوَّدَ في مشيه : إذا مشی مشیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–17

منافقوں کی عبادت اور ان کے معبودوں کا حال بیان فرما کر اس جگہ سچے ایمانداروں کی عبادت کا حال بیان فرماتا ہے اور ان کے معبود حقیقی کا وصف کرتا ہے کہ اللہ جو معبود حقیقی اور قادر مطلق ہے اپنے ایمانداروں نیکو کار بندوں کو مرنے کے بعد ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے قادر مطلق ہے برخلاف ان کے معبودوں کے کہ ان کو نفع و ضرر کا کچھ بھی اقتدار نہیں۔ من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ میں ان منافقوں کی طرف روئے سخن ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عبادت تردد اور شک سے کرتے ہیں کہ جہاں کوئی دنیا کا فائدہ معلوم ہوا تو جمع رہے ‘ کوئی تکلیف آپڑی تو اللہ سے پھر کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصّٰبِئِیْنَ وَالنَّصٰرٰی وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (الحج : 17) (جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صائبین اور نصاریٰ اور مجوس اور جنھوں نے شرک کیا۔ بیشک اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ ) اسلام کے مخالف گروہ گزشتہ آیات میں ہم نے محسوس کیا ہے کہ حق و باطل میں ایک کشمکش برپا ہے جس میں اہل حق اپنی مساعیِ جلیلہ استقامت اور اخلاص کا پوری طرح ثبوت دے رہے ہیں اور مخالفین برہنہ مخالفت اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس آیت سے قبل اور ما بعد توحید باری تعالیٰ کا ذکر ہے اس لیے تمام مذہبی طبقات کو مخاطب کر کے انتباہ کیا گیا ہے کہ سب کے درمیان ” اللہ “ ہی فیصلہ صادر فرمائے گا۔ کہ کس کس نے ” اللہ “ کی توحید اور اس کے احکام کا انکار کیا اور کس نے اس کی توحید کو مانا اور شرک سے اجتناب کیا۔ اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کے ذکر کے ساتھ پانچ فرقوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جو دنیا کے مختلف ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ یہودی اپنے آپ کو اس لیے یہودی کہلواتے ہیں کہ وہ اپنی نسبت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے یہودہ کی طرف کرتے ہیں۔ صائبین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو زرتشت کے پیروکار کہتے ہیں۔ جن کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حقیقی فیصلہ قیامت کو : 17: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصَّابِئِیْنَ وَالنَّصٰریٰ وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا (بیشک اللہ تعالیٰ مسلمانوں یہودی اور صابی اور عیسائی، مجوسی اور مشرکین) ایک قول یہ ہے کہ ادیان پانچ ہیں۔ چار شیطان کیلئے اور ایک رحمان کیلئے۔ الصابئونؔ یہ نصاریٰ کی ایک قسم ہے۔ پس چھ نہ بنے۔ اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (بیشک اللہ تعالیٰ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے) احوال و اماکن کے اعتبار سے ایک ہی سزا نہ دیں گے۔ اور نہ ان کو ایک جگہ جمع کریں گے۔ نحو : ان الذین ٰامنواکی خبر ان اللہ یفصل بینہم ہے جیسا کہتے ہیں ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17۔ ان الذین آمنوا، والذین ھادوا، ،، شرک سے مراد بتوں کی پوجا کرنا ہے۔ ان اللہ یفصل بینھم، ، ان کے درمیان ہم فیصلہ کرتے ہیں، یوم القیامۃ ان اللہ علی کل شی شھید۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

17:۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء سے اور انبیاء نے اپنی امتوں سے یہ مضبوط عہد لیا ہے کہ ہر زمانہ میں اسی شریعت کے موافق عمل ہوگا جو شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی کے موافق ہر ایک زمانہ کے لیے ٹھہرائی ہے اور اس آخری زمانہ کی مصلحت کے موافق مرضی الٰہی یہی ہے کہ اس زمانہ میں جو شخص آخری شریعت شرع محمدی کے موافق عمل کرے گا عقبیٰ سے اسی کو اجر ملے گا نہیں تو نہیں کیونکہ اجر اسی عمل پر مل سکتا ہے جو مرضی الٰہی کے موافق ہے ‘ مرضی الٰہی کے برخلاف کام پر تو مؤاخذہ ہوگا ‘ پھر ایسے کاموں پر اجر کہاں ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اس عہد کی بنا پر اللہ کے رسول ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–24

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً اہل ایمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لئے فرمایا : (ان اللہ علی کل شیء شہید) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ھذن خصمن اختصموا فی ربھم) ” یہ دو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–18

قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

40 اصل فیصلہ قیامت ہی کے روز : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہی سب کے درمیان فیصلہ فرمائے گا قیامت کے دن۔ یعنی عملی طور پر اور آخری فیصلہ کہ ایمان والوں کو جنت میں داخل فرما دے گا اور کفر والوں کو دوزخ میں بھیج دے گا۔ ورنہ علمی طور پر فیصلہ تو وہ ان کے درمیان اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعے اس دنیا میں ہی فرما چکا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور حق کو باطل سے پوری طرح نکھار کر بیان فرما دیا ہے مگر یہ دنیا چونکہ " دارالجزاء " نہیں " دارالعمل " ہے۔ اس لیے یہاں پر سب کو ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ سو آج جو مختلف قومیں اور جماعتیں حق اور اہل حق کے خلاف دندناتی پھرتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–18

ایمان والوں کیلئے خوشخبری ‘ اللہ کی عظمت و شان تشریح : یہ سب باتیں غیب کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ رسول کو وحی کے ذریعے بتاتا ہے اور رسولوں کو بتاتا ہے اور رسول لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو توحید کا وعدہ لینے کے بعد دنیا میں بھیجا جس کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان کو نیکی پر ہی پیدا کیا گیا ہے مگر جس طرح ایک ہی کھیت میں کچھ پودے صحت مند اور کچھ ناقص اگ آتے ہیں اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی کچھ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور کچھ نہیں آئے انہوں نے ایمان کو ترجیح دی اور قائم و دائم رہے تو ایسے ہی لوگوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے کہ آخرت میں ان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں سے ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ ان گروہوں میں سے کونسا گروہ حق پر ہے اور کونسا باطل پر اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمان حق پر ہیں لیکن یہ جو فرمایا کہ ” اللہ فیصلہ کریگا “ تو اس سے صرف باطل پرست فرقوں کی تہدید مقصود ہے یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کو مقام و جزا کے اعتبار سے الگ الگ کردیا جائے گا۔ (کبیر، شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:17) ھادوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھود مصدر (باب نصر) وہ یہودی ہوئے ھود۔ پشیمان ہونا۔ حق کی طرف لوٹنا۔ (بچھڑے کی پوجا سے توبہ کرنے کی بناء پر یہود کہلائے) یہودی ہونا۔ ھود۔ یہودیوں کی جماعت۔ الصابئین۔ ستارہ پرستوں کا ایک گروہ۔ المجوس۔ مجوسی کی جمع۔ مجوسیت مصدر۔ آتش پرست۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–25

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 : ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ دنیا میں چھ فریق ہیں۔ (1) اول اہل اسلام (2) پھر یہودی اور (3) ستارہ پرست اور (4) عیسائی اور (5) آتش پرست اور (6) مشرک۔ ان میں سے ہر ایک اپنے تئیں ہدایت پر کہتا ہے کہ مگر درحقیقت ہدایت پر وہی ہے جس کو خدا نے ہدایت دی ، یعنی اہل اسلام ۔ بیشک اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ چکادے گا اور ان کے اعمال کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[13] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 49 صفحہ 99۔ [14] یعنی ایران کے آتش پرست جو دو الہٰوں کے قائل تھے ایک یزدان یعنی اِلٰہِ خیر اور دوسرا اہرمن یعنی اِلٰہِ شر۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 3) تمام دینی اختلافات نبھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے ، یہ تمام کتابوں اور تمام قسم کی تعلیمات کے لئے ملک اور معیار ہے ، اس وقت تک جس قدر سچائی اور صداقت صحیفوں اور کتابوں کی شکل میں نازل ہوئی ، وہ سب کی سب اس میں موجود ہے ، اس میں اللہ تعالیٰ نے ہر حقیقت مذہبی کا ذکر فرمایا ہے ، اس لئے جہاں تک اعتقاد وعمل کے اختلافات ہیں ، ان میں بس یہی اللہ کی آخری کتاب حکم فطرت کا صحیفہ ہے ، مگر ان لوگوں کی کج فہمی اور محرومی سے اگر یہ معیار بھی بجائے خود مابہ النزاع کتاب کی شکل اختیار کرلے تو اللہ تعالیٰ نے اس جھگڑے کو چکانے کے لئے قیامت کا دن مقرر فرما دیا ہے ، تاکہ وہاں سب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہیں اور صائبین اور نصاریٰ اور مجوس اور وہ لوگ جو مشرک ہیں اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کے مابین قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ اور ہر چیز پر مطلع ہے۔ یعنی دنیا کے مختلف فرقے مثلاً مسلمان یہودی، صائبین یعنی کواکب پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور بت پرست ان سب کے درمیان کھلا اور عملی فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمادے گا بیشک اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر چیز ہے یعنی سب کے اعمال اور عقائد سے وہ اچھی طرح واقف ہے ان سب کا فیصلہ قیامت کے دن ہوجائے گا۔ فیصلہ یہی کہ جو راہ راست پر ہوگا وہ بہشت میں بھیج دیا جائے گا اور جو گمراہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ مجوس آتش پرست ہیں۔ 8۔ پس اس کو ہر ایک کے کفر و ایمان کی بھی اطلاع ہے، ہر ایک مناسب پاداش دے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ناخلف گروہ بندیوں میں تقسیم ہونے والوں کے درمیان قیامت کے روز فیصلہ ہوجائے گا : 17۔ ایمان کے دعویداروں ‘ یہودی کہلانے والوں ‘ صابئی کے نام کو پسند کرنے والوں ‘ نصاری نام رکھ لینے والوں اور مجوسی کے نام سے یاد کئے جانے والوں اور شرک کو پسند کرنے والوں سب کو اپنی اپنی جگہ یہ دعوی ہے کہ وہی ہدایت یافتہ ہیں ‘ سوائے ایک گروہ کے ان سب گروہ کا ذکر پیچھے سورة المائدہ آیت 69 میں گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں اور جس گروہ کا ذکر قبل ازیں نہیں آیا اس کا ذکر فقط قرآن کریم کی اس آیت میں کیا گیا ہے اور کسی آیت میں نہیں کیا گیا وہ نام (المجوس) ہے کہا جاتا ہے کہ یہ چھوٹے کانوں والا ایک آدمی تھا جس کا نام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

Commentary In verse 17 it is stated that Allah will decide among the believers and non-believers of different faiths on the Day of Resurrection, because He knows everything. What that decision would be, has been related in the Qur'an at several places, namely that the good Muslims will enjoy a life of everlasting peace and comfort, while the infidels would be condemned to a life of eternal perdition. In the next verse, by using the word "Sajdah" (prostration), it has been declared that all created things, be they living things, minerals or plants, are in obedience and thus submit to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23. This means the Muslims of every age who believed in the Prophets of Allah and His Books up to the time of Prophet Muhammad (peace be upon him): they included both the sincere Muslims and the wavering Muslims. 24. See(E.N. 72 of Surah An-Nisa). 25. Sabaeans: In ancient times two sects were known by this title: (1) The followers of Prophet John, who were found in upper Iraq in large numbers and practiced baptism. (2) The worshipers of stars, who ascribed their creed to Prophets Shith and Idris (peace be upon them) and believed that the elements were governed by the planets and the planets…

Read the full tafseer →