Al-Hajj 22:16

Al-Hajj · from ayah 16

22:16

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ ۙ— وَّاَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ ۟وَكَذٰلِكَ اَنۡزَلۡنٰهُ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يُّرِيۡدُ

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اُتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی (ہیں) اور یہ (یاد رکھو) کہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایات دیتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And thus have We sent the Qur'an down as verses of clear evidence and because Allah guides whom He intends.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:16

ایسی ہی کھُلی کھُلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے، اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اُتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی (ہیں) اور یہ (یاد رکھو) کہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایات دیتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے اسی طرح اس قرآن کو واضح آیتوں میں اتارا ہے جسے اللہ چاہے ہدایت نصیب فرماتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے اس (قرآن) کو کھلی کھلی نشانیوں کی صورت میں اسی طرح اتارا ہے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بات یہی ہے کہ ہم نے یہ قرآن اتارا روشن آیتیں اور یہ کہ اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی طرح ہم نے اس (پورے قرآن) کو روشن دلائل کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور بیشک اﷲ جسے ارادہ فرماتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی طرح ہم نے اسے روشن آیات کی صورت میں نازل کیا ہے اور یہ کہ بیشک اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اسی طرح کی واضح آیات سے ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور اللہ یقینا ہدایت اسے ہی دیتا ہے جسے وہ چاہتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کو نہایت واضح دلیلوں کی صورت میں اتارا ہے کہ لوگ ہدایت حاصل کریں اور بیشک اللہ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی طرح اتارا ہے ہم نے اس قرآن کو کھلے اور روشن دلائل کی صورت میں اور بیشک اللہ ہی نوازتا ہے ہدایت کی دولت سے جس کو چاہتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے کھلی ہوئی نشانیاں (بنا کر) اور بات یہ ہے کہ اللہ جس کیلئے ارادہ کرتا ہے اسے ہدایت کر ہی دیتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی طرح ہم نے نازل کیا ہے اس (قرآن) کو روشن نشانیوں کی شکل میں اور یہ کہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہے کہ اللہ ہدایت دیتا ہے اس کو جو (ہدایت حاصل کرنا) چاہتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے جس کی تمام باتیں کھلی ہوئی ہیں اور اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Even so We have revealed the Qur'an with Clear Signs. Verily Allah guides whomsoever He wills.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And this is how We have sent it (the Qur‘an) down as clear signs, and the fact is that Allah leads whom He wills to the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

And this is how We have sent it (the Qur‘an) down as clear signs, and the fact is that Allah leads whom He wills to the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thus have We sent it down as clear Ayat, and surely, Allah guides whom He wills.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus We reveal it as plain revelations, and verily Allah guideth whom He will.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And thus have We sent the Qur'an down as verses of clear evidence and because Allah guides whom He intends.

— Saheeh International

We have revealed the Quran which contains authoritative verses. God guides only those whom He wants.

— Muhammad Sarwar

And thus have We revealed it, being clear arguments, and because Allah guides whom He intends.

— Muhammad Habib Shakir

And Thus We have sent it down as evidences, and verily Allah guideth whomsoever He intendeth.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus have We sent down Clear Signs; and verily Allah doth guide whom He will!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–16

مخالفین نبی ﷺ ہلاک ہوں یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں وہ یقین مانے کہ اس کا یہ خیال محض خیال ہے۔ آپ کی مدد ہو کر ہی رہے گی چاہے ایسا شخص اپنے غصے میں ہار ہی جائے بلکہ اسے چاہے کہ اپنے مکان کی چھت میں رسی باندھ کر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر اپنے آپ کو ہلاک کردے۔ ناممکن ہے کہ وہ چیز یعنی اللہ کی مدد اس کے نبی کے لئے نہ آئے گویہ جل جل کر مرجائیں مگر ان کی خیال آرائیاں غلط ثابت ہو کر رہیں گی۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی سمجھ کے خلاف ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ کی امداد آسمان سے نازل ہوگی۔ ہاں اگر اس کے بس میں ہو تو ایک رسی لٹکا کر آسمان پر چڑھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة الْحَجّ 22 اس آیت کی تفسیر میں بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ مختلف مفسرین کے بیان کردہ مطالب کا خلاصہ یہ ہے 1) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ چھت سے رسی باندھ کر خود کشی کرلے۔ 2) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ کسی رسی کے ذریعے آسمان پر جائے اور مدد بند کرانے کی کوشش کر دیکھے۔ 3) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان پر جا کر وحی کا سلسلہ منقطع کرنے کی کوشش کر دیکھے۔ 4) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان پر جا کر اس کا رزق بند کرانے کی کوشش کر دیکھے۔ 5) جس کا یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

معارف و مسائل مَنْ كَانَ يَظُنُّ ، حاصل یہ ہے کہ اسلام کا راستہ روکنے والے معاند جو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے دین کی مدد نہ کرے ان کو سمجھنا چاہئے کہ یہ تو جبھی ہوسکتا ہے جبکہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ سے منصب نبوت سلب ہوجائے اور آپ پر وحی آنا منقطع ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو نبوت و رسالت سپرد فرماتا ہے اور اس کو وحی الٰہی سے نوازتا ہے اس کی مدد تو دنیا و آخرت میں کرنے کا اس کی طرف سے پختہ عہد ہے اور عقلاً بھی اس کے خلاف نہ ہونا چاہئے تو جو شخص آپ کی اور آپ کے دین کی ترقی کو روکنا چاہتا ہے اس کو اگر اس کے قبضہ میں ہو تو ایسی تدبیر کرنا چاہئے کہ یہ منصب نبوت سلب ہوجائے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ آیت بطور تنبیہ کے ہے اور کذلک کا اشارہ توحید اور رد شرک کے ان روشن دلائل کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔ فرمایا کہ اسی طرح نہایت روشن دلائل کے ساتھ ہم نے قرآن کو اتارا ہے۔ اس کے بعد بربنائے قرینہ یہ مضمون محذوف ہے کہ جو صاحب توفیق ہوں گے وہ آیات پر ایمان لائیں گے اور جو توفیق سے محروم ہوں گے وہ جیسا کہ اوپر آیت 8 میں اشارہ ہوا، اللہ اور اس کی آیات میں کٹھ حجتی ہی کرتے رہیں گے۔ وان اللہ یھدی من یرید میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ہدایت و ضلالت کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہے اور جس کی وضاحت ہم بار بار کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت انہی کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے عقل و بصیرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

17۔ 1 مجوسی سے مراد ایران کے آتش پرست ہیں جو دو خداؤں کے قائل ہیں، ایک ظلمت کا خالق ہے، دوسرا نور کا، جسے وہ اہرمن اور یزداں کہتے ہیں۔ 17۔ 2 ان میں مذکورہ گمراہ فرقوں کے علاوہ جتنے بھی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والے ہیں، سب آگئے۔ 17۔ 3 ان میں سے حق پر کون ہے، باطل پر کون، یہ تو ان دلائل سے واضح ہوجاتا ہے جو اللہ اپنے قرآن میں نازل فرماتے ہیں اور اپنے آخری پیغمبر کو بھی اسی مقصد کے لئے بھیجا تھا، یہاں فیصلے سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ باطل پرستوں کو قیامت والے دن دے گا، اس سزا سے بھی واضح ہوجائے گا کہ دنیا میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون کون۔ 17۔ 4 یہ فیصلہ محض حاکمانہ اختیارات کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

11: ان مخلوقات کے سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہیں، اور ہر چیز اس کے ہر حکم کے آگے سر جھکائے ہوئے ہے، نیز اس سے عبادت کا سجدہ بھی مراد ہوسکتا ہے ؛ کیونکہ اتنی سمجھ کائنات کی ہر چیز میں موجود ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، البتہ ہر چیز کے سجدے کی صورت مختلف ہے، اس پوری کائنات میں انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کے تمام افراد عبادت کا سجدہ نہیں کرتے ؛ بلکہ بہت سے کرتے ہیں بعض نہیں کرتے اس لئے انسانوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ بہت سے انسان بھی۔ یاد رہے کہ یہ سجدہ کی آیت ہے، جو شخص اصل عربی میں یہ آیت تلاوت کرے یا سنے اس…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وکذلک ……من یرید (16) اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا فیصلہ پہلے ہی کردیا ہے ، جو ہدایت طلب کرے گا ، تو اللہ کا ارادہ اس کی ہدایت کی شکل میں حقیقت کا روپ اختیار کرلے گا۔ یہ اللہ کی سنت کے مطابق ہوگا ، اور جس نے ضلالت طلب کی تو اسے ضلالت ملے گی۔ یہاں اللہ نے صرف ہدایت ہی کا ذکر فرمایا ہے۔ کیونکہ ان آیات میں مضمون ہدایت ہی کا ہے کہ وہ ایک صحتمند دل میں کس طرح داخل ہوتی ہے۔ رہے وہ فرقے اور مذاہب جو ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں ، ان میں سے حق پر کون ہے ؟ تو اس کا فیصلہ اس دنیا میں ہونا تو مشکل ہے ، قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے عقائد میں حق کہاں ہے اور باطل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی کیسی صاف صاف مثالیں اور کھلی باتیں ہیں۔ مگر سمجھتا وہ ہی ہے جسے خدا سمجھ دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

فَلْیَنْظُرْ ہَلْ یُذْہِبَنَّ کَیْدُہٗ مَا یَغِیْظُ ” یہ آیت مشکلات القرآن میں سے ہے اور مختلف مفسرین نے اپنے اپنے انداز میں اس کی تعبیر کی ہے۔ میرے نزدیک ”موضح القرآن“ میں شاہ عبدالقادر دہلوی رح کی تعبیر سب سے بہتر ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو پورے اخلاص کے ساتھ ہمہ وقت دین کی خدمت میں مصروف ہے اور اس رستے میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اللہ سے مسلسل امید رکھتا ہے کہ آج نہیں تو کل ‘ کل نہیں تو پرسوں اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ لیکن خدانخواستہ کسی مرحلے پر اگر وہ اللہ کی مدد سے مایوس ہوجائے تو اس کی یہ کیفیت اس کے لیے ناکامی کا باعث بن جائے گی۔ چناچہ اللہ کے راستے میں جدوجہد…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 یعنی اگرچہ قرآن میں ایسے بیشمار واضع دلائل موجود ہیں پھر بھی ان دلائل سے ہر شخص کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی بلکہ اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے متعلق اللہ کی مشیت ہو۔ مشیت الٰہی صرف انھیں نصیب ہوتی ہے جو خود ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ضدی، ہٹ دھرم، تکبر اور نافرمان قسم کے لوگوں کو نہ اللہ کی نسبت نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ جبراً کسی کو ہدایت دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ (اور ہدایت الہی ہی کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ جو بندہ اس کے لئے سعی وطلب کرتا ہے اس کے حق میں اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کر ہی لیتا ہے) (آیت) ” کذلک “ یعنی اس میں بھی صرف ہمارے ہی ارادہ وقدرت کو دخل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذلک انزلنہ ایت بینت و ان اللہ یہدی من یرید۔ اور ہم نے اس (قرآن) کو اسی طرح اتارا ہے جس میں کھلی کھلی دلیلیں (حق کی) ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ حق کی ہدایت کرتا ہے۔ کَذٰلِکَیعنی جس طرح ہم نے وہ آیات نازل کیں جن سے امکان حشر توحید صداقت رسول اور نصرت رسول کے وعدے کی سچائی ثابت ہو رہی ہے اسی طرح ہم نے ایسی آیات نازل کی ہیں جن کے اندر رسول اللہ ﷺ : کی نبوت اور قرآن کی صداقت کا واضح بیان ہے۔ لفظ آیات بینات سے ایک شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ قرآن کی کچھ آیات محکمات ہیں جن کی مراد کھلی ہوئی ہے اور کچھ متشابہات ہیں جن کی مراد واضح نہیں اور اس جگہ تمام آیات کو بینات (واضحات) کہا گیا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین نازل کیا ہے جس میں حلال و حرام کی واضح آیات ہیں اور جو شخص ہدایت کا اہل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے دین کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : طبری نے فرمایا : ”اور جس طرح ہم نے مختلف دلائل کے ساتھ ان لوگوں کے لیے اپنی حجت واضح کی ہے جو لوگوں کے مرنے کے بعد انھیں زندہ کرنے پر ہمیں قادر نہیں مانتے اور ہم پر ایمان نہیں لاتے، اسی طرح ہم نے یہ پورا قرآن ہی نہایت روشن آیات کی صورت میں اتارا ہے۔“rnۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ : اس جملے کا پچھلے جملے سے کیا تعلق ہے اور درمیان میں واؤ لانے کی کیا حکمت ہے ؟ اس سوال کے حل کے لیے اہل علم نے آیت کی کئی نحوی ترکیبیں کی ہیں، مگر مجھے سب سے قریب بقاعی کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ”ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا ہے اس اتارنے کی طرح ہم نے سارا قرآن مجید اتارا ہے۔ ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ (واضح آیات) وَّاَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ (اور بیشک اللہ اس کی راہنمائی کرتے ہیں جس کے متعلق ارادہ کرتے ہیں) یعنی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ان لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ یہ ایمان لائیں گے یا ایمان والوں کو ایمان پر ثابت قدم فرماتے ہیں۔ اور ان کی ہدایت میں اضافہ فرماتے ہیں اسی طرح ہم نے اس کو واضح اتارا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

1۔ الفریابی وعبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ، یعنی جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں فرمائیں گے۔ آیت فی الدنیا والاٰ خرۃ فلیمدد بسبب، یعنی اس کو چاہیے کہ رسی باندھ لے آیت الی السماء، اپنے گھر کی چھت سے آسمان کی طرف، آیت ثم الیقطع پھر اس کے ذریعے اپنا گلہ گھونٹ لے یہاں تک کہ مرجائے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ اس کو ہر گزرزق نہیں دیں گے۔ آیت فلیمدد بسبب الی السماء یعنی اس کو چاہیے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس (قرآن) کو ] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح نشانیاں ہوتے ہوئے ] [ وَّان اللّٰهَ : اور یہ کہ اللہ ] [ يَهْدِيْ : ہدایت دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جسے ] [ يُّرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–16

اللہ تعالیٰ نے آیات بینات نازل فرمائی ہیں، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اس آیت سے پہلی آیت میں مشرکوں اور کافروں کی بد حالی بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ جن کی پرستش کرتے ہیں وہ ان کو کوئی نفع اور نقصان نہیں دے سکتے ان کا ضرر نفع سے زیادہ قریب ہے ان کی دوستی اور رفاقت و بال جان ہے اس کے بعد اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے اللہ تعالیٰ انہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ساتھ ہی (اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ) بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کسی کو ایمان اور اعمال صالحہ سے نوازنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–16

بیان فلاح اہل ایمان وخیبت و خسران دشمنان بدسگالان قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یدخل الذین امنوا .... الیٰ .... وان اللہ یھدی من یرید۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جو ایمان اور اسلام میں متذبذب اور متزلزل تھے اب ان آیات میں ان ایمانداروں کا حال ذکر کرتے ہیں جو ایمان پر جمے ہوئے ہیں اور اعمال صالحہ پر ثابت قدم ہیں۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں اول تو ایسے مومنین مخلصین کی فلاح اور کامیابی کا ذکر کیا اور اس کے بعد دشمنان اسلام کی ناکامی اور نامرادی کو بیان کیا کہ ان مجادلین فی الدین اور ان منافقین کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی دنیا اور آخرت میں کوئی مدد نہیں کرے گا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

26:۔ ” وَکَذٰالِکَ اَنْزَلْنٰهُ الخ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی مسئلہ توحید کو قرآن میں اس طرح دلائل سے واضح کرنا ہمارا ہی کمال ہے اور یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ ” مَنْ یُّرِیْدُ “ یرید کا فاعل مَنْ ہے یعنی اللہ تعالیی ان لوگوں کو سیدھی راہ دکھاتا ہے جو سیدھی راہ دیکھنا چاہیں اور اللہ کی طرف انابت کریں۔ یا یرید کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور عائد محذوف ہے ای یرید ھدایتہ یعنی اللہ تعالیٰ جسے راہ راست پر لانا چاہتا ہے اسے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–17

ربط آیات : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ جھگڑالو لوگ : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰہُ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ۝ 0ۙ وَّاَنَّ اللہَ يَہْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ۝ 16 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–17

منافقوں کی عبادت اور ان کے معبودوں کا حال بیان فرما کر اس جگہ سچے ایمانداروں کی عبادت کا حال بیان فرماتا ہے اور ان کے معبود حقیقی کا وصف کرتا ہے کہ اللہ جو معبود حقیقی اور قادر مطلق ہے اپنے ایمانداروں نیکو کار بندوں کو مرنے کے بعد ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے قادر مطلق ہے برخلاف ان کے معبودوں کے کہ ان کو نفع و ضرر کا کچھ بھی اقتدار نہیں۔ من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ میں ان منافقوں کی طرف روئے سخن ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عبادت تردد اور شک سے کرتے ہیں کہ جہاں کوئی دنیا کا فائدہ معلوم ہوا تو جمع رہے ‘ کوئی تکلیف آپڑی تو اللہ سے پھر کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰـہُ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لا وَّاَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ ۔ (الحج : 16) (اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کو نازل کیا ہے۔ واضح دلائل کی صورت میں بیشک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ) دلائل کب بےاثر ہوتے ہیں ؟ گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین کو آنحضرت ﷺ کی دعوت پر اس قدر غصہ اور رنج تھا کہ وہ یہ سوچتے تھے کہ کاش ! کوئی ایسی صورت ممکن ہو کہ ہم نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کا سلسلہ منقطع کردیں۔ ایسی صورت میں آنحضرت ﷺ کی دعوت کا سلسلہ خود بخود رک جائے گا اور آیت کے الفاظ میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ وہ اللہ کی ذات کریم سے بھی انتہائی نالاں اور آزردہ تھے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–16

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور منافق اپنی بےاعتمادی اور بد اعتقادی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیروں سے مدد طلب کرتا ہے۔ اس لیے اسے ایک تمثیل کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مشرک، منافق اور جو شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں کرے گا۔ اسے چاہیے کہ ایک رسی آسمان کی طرف لٹکائے پھر اسے کاٹ دے اور اب دیکھے کیا اس کا ایسا کرنا اس کے غصہ کو ٹال دے گا ؟ اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو بالکل کھول کر بیان کرتا ہے۔ بلاشبہ وہ اسی کو ہدایت دیتا ہے جو ہدا یت کی چاہت اور ارادہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عملی مثال کی طرف اشارہ فرما کر یہ حقیقت سمجھائی ہے کہ اگر کوئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16: وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا ہے اس اتارنے کی طرح ہم نے سارا قرآن مجید اتارا ہے۔ ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ (واضح آیات) وَّاَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ (اور بیشک اللہ اس کی راہنمائی کرتے ہیں جس کے متعلق ارادہ کرتے ہیں) یعنی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ان لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ یہ ایمان لائیں گے یا ایمان والوں کو ایمان پر ثابت قدم فرماتے ہیں۔ اور ان کی ہدایت میں اضافہ فرماتے ہیں اسی طرح ہم نے اس کو واضح اتارا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16۔ وکذالک، جس طرح ہم نے وہ آیات نازل کیں جن سے امکان حشر ، توحید اور صداقت اور دوسری آیات قرآنی مراد ہیں، انزلناہ، اس سے مراد قرآن ہے۔ آیات بینات وان اللہ یھدی من یرید،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ بعضے لوگ دنیا کی خوشحالی کی امید پر اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور جب ان کی امید پوری نہیں ہوتی تو اس غصہ سے وہ لوگ اسلام کے دائرہ سے نکل جاتے ہیں کہ اسلام لانے والوں سے دین ودنیا کی بہبودی کا جو وعدہ اللہ کے رسول کرتے اور اس کو اللہ کا وعدہ بتلاتے ہیں ہمارے اسلام لانے کے بعد اس وعدہ کا ظہور جلدی کیوں نہیں ہوا اور جب اس وعدہ کا ظہور جلدی نہیں ہوا تو ہمارے دل میں یہ خیال جم گیا ہے کہ جو وعدہ یہ رسول اللہ لوگوں سے کرتے ہیں ‘ سرے سے وہ اللہ کا وعدہ ہی نہیں ہے ان رسول کا جو جی چاہتا ہے ‘ یہ اپنی طرف سے کہہ دیتے ہیں ان لوگوں کی خیالی باتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 16 یعنی اسی طرح جب ہم نے اس قرآن عظیم میں تفاصیل بیان کی تو ہم نے اس کو آیات بینات بنایا جو تمام مطالب اور مسائل نافعہ پر دلالت کرتی ہیں، لیکن ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے قبضہٓ قدرت میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ اس قرآن کے ذریعے سے ہدایت پا لیتا ہے، وہ قرآن کو اپنا راہنما اور مقتدا بنا لیتا ہے اور قرآن کے نور سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ اور جس کی ہدایت اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا اس کے پاس خواہ ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آجائے وہ کبھی ایمان نہیں لاتا، قرآن اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا بلکہ قرآن اس کے خلاف حجت بنے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–18

قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

39 ہدایت اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی ہدایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ سو وہی توفیق دیتا ہے کہ اس کی تعلیمات کو صدق دل سے اپنا کر دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ کو اپنایا جائے۔ کیونکہ ہدایت کی دولت جو سب سے بڑی دولت ہے وہ حق تعالیٰ کی طرف سے اس کی بےنہایت رحمت و فیاضی کی بناء پر ملتی تو بالکل مفت ہے لیکن اس کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا طلب صادق ہے جس کا تعلق انسان کے باطن اور اس کے دل سے ہے۔ اور دلوں کی حالت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے وہ حق و ہدایت کے نور سے انہی کو نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے جو اپنے باطن میں اس کے لئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–18

ایمان والوں کیلئے خوشخبری ‘ اللہ کی عظمت و شان تشریح : یہ سب باتیں غیب کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ رسول کو وحی کے ذریعے بتاتا ہے اور رسولوں کو بتاتا ہے اور رسول لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو توحید کا وعدہ لینے کے بعد دنیا میں بھیجا جس کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان کو نیکی پر ہی پیدا کیا گیا ہے مگر جس طرح ایک ہی کھیت میں کچھ پودے صحت مند اور کچھ ناقص اگ آتے ہیں اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی کچھ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور کچھ نہیں آئے انہوں نے ایمان کو ترجیح دی اور قائم و دائم رہے تو ایسے ہی لوگوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے کہ آخرت میں ان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ۔ یعنی گو قرآن میں ایمان و توحید کی کھلی کھل دلیلیں موجود ہیں مگر اس سے ہدایت وہی پاتا ہے جسے اللہ ہدایت دینا چاہے اس لئے کہ یہ علم و عقل اور تجربہ تو حقیقت تک پہنچنے کا ایک امکانی ذریعہ ہے لیکن اس تک رسائی صرف اللہ کی توفیق پر موقوف ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:16) کذلک۔ ایسے ہی۔ اسی طرح۔ مثل ذلک الانزال۔ جس طرح ہم نے یہ (مندرجہ بالا) باتیں کھلی کھلی بیان کی ہیں اسی طرح (انزلنہ) ہم نے سارا قرآن نازل کیا ہے۔ ہ ضمیر کا مرجع القرآن ہے۔ ایت بینت۔ موصوف صفت ہو کر انزلنا سے حال ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–16

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 16 : حرف (کنارہ) ‘ اصاب (پہنچ گیا) ‘ انقلب (پلٹ گیا) ‘ الضلال البعید (دور کی گمراہی۔ انتہا درجہ کی گمراہی) ‘ اقرب (زیادہ قریب) ‘ المولی (دوست) ‘ العشیر (ساتھی۔ رفیق) ‘ یظن (وہ گمان کرتا ہے) ‘ یمدد (وہ باندھتا ہے) ‘ یقطع (وہ کاٹتا ہے) ‘ کید (تدبیر) یغظ (غصہ دلاتا ہے) ‘ تشریح آیت نمبر 11 تا 16 : دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی ڈھنگ سے اچھی یا بری زندگی گذار ہی لیتا ہے۔ وہ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خوب محنت کرتا ہے۔ بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے کوئی کامیاب ہوتا ہے اور کسی کو زندگی بھر حسرتوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس کے ہر عمل کے پیچھے اعتقاد اور یقین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

(ف 2) شان نزول : غطفان کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرنے میں کچھ توقف کیا اور بولے کہ شاید نبی ﷺ کو کوئی مہم پیش نہ آجائے اگر ہم اسلام لائے تو ان کے ساتھ لڑائی میں شریک ہوناپڑے گا تو پھر ہمارا اور یہود کا دوستانہ جاتا رہے گا اور جو ہماری وقتا فوقتا مدد کیا کرتے ہیں وہ موقوف کردیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نبی ﷺ سے حسد کرت ہیں وہ چاہے جس قسم کی تدبیر کریں اور جان تک دیدیں تب بھی ان کا مقصد پورا نہ ہوگا آگے فرمایا کہ جس طرح ایسے لوگوں کے خیال کو جھٹلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اسی طرح قرآن کی کھلی کھلی اور آیتوں می اسی طرح لوگوں کے بہت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[13] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 49 صفحہ 99۔ [14] یعنی ایران کے آتش پرست جو دو الہٰوں کے قائل تھے ایک یزدان یعنی اِلٰہِ خیر اور دوسرا اہرمن یعنی اِلٰہِ شر۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) قرآن حکیم کی آیات کو اللہ تعالیٰ نے اکثر بینات کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ ان جن تعلیمات کا ذکر ہے ، وہ صحت و ثبوت کے لحاظ سے بالکل واضح اور نمایاں ہیں ، اور بالکل حقیقت اور فطرت کے قریب ہیں ، جن میں قطعا الجھاؤ نہیں ، اور باوجود منطقی دلائل کے موافق ہوئے کے اس درجہ آسان ہیں کہ ہر شخص اقتدار استعداد استفادہ کرسکتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے کہ اس میں کھلی کھلی اور واضح دلیلیں ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے یہ احکام مذکورہ نازل فرمائے اسی طرح تمام قرآن کریم نازل کیا۔ درآنحالیکہ وہ دلائل واضحہ پر مشتمل ہے اور سب کو غور و فکر کا موقعہ دیا گیا ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اور جس کے لئے ارادہ کرتا ہے اسی کو ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے اور دستو یہ ہے کہ تلاش حق کی نیت سے جو شخص کوشش کرتا ہے اس کی ہدایت کے ساتھ ارادئہ باری تعالیٰ کا تعلق ہو ہی جاتا ہے۔ اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کلام واضح اور صاف وہی ہوتا ہے جس کے لئے دلائل موجود ہوں کلام الہی دلائل سے پر ہے : 16۔ قرآن کریم کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشن دلائل کی صورت میں اس کا نازل کیا گیا ہے اور اس سے زیادہ آپ کو کہیں روشن دلائل دستیاب نہیں ہوں گے یہ دلائل عقیدہ توحید ‘ عقیدہ قیامت اور عقیدہ رسالت کی صداقت کو روز روشن کی طرح واضح کردیتے ہیں جو صاحب توفیق ہوں گے وہ ان پر ایمان لا کر اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں گے اور جو محروم رہیں گے وہ دین و دنیا میں خائب و خاسر ہوں گے ۔ رہی ہدایت تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے قانون کے مطابق اس کو دیتا ہے جو ہدایت کی طلب رکھتا ہے اور جو طلب نہیں رکھتا محض باپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

Commentary مَن كَانَ يَظُنُّ (If someone thinks - 22:15). It means that the enemies of Islam who put hurdles in its path and desired that Allah should abandon the Holy Prophet ﷺ and his religion must clearly understand that this can happen only when, God forbid, he is deprived of the office of the prophethood and ceases to receive wahy (revelations) from Allah Ta’ ala. It is well understood that when Allah Ta’ ala bestows the prophethood on someone and also favours him with wahy (revelations), He also promises him full support in this world and in the Hereafter. Thus the only way to stop the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

22. There is a great divergence of opinion about the exact meaning of this verse. Some of the interpretations are: (1) One who presumes that Allah will not help him (Muhammad: peace be upon him), he should hang himself by a rope from the ceiling. (2) One who presumes that Allah will not help him (Muhammad: peace be upon him), he should ascend to the sky by a rope and try to stop Allah’s help. (3) One who presumes that Allah will not help him (Muhammad: peace be upon him), he should ascend to the sky and stop the process of revelations. (4) One who presumes that Allah will not help him…

Read the full tafseer →