Al-Hajj 22:15

Al-Hajj · from ayah 15

22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ ۟مَنۡ كَانَ يَظُنُّ اَنۡ لَّنۡ يَّـنۡصُرَهُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَـقۡطَعۡ فَلۡيَنۡظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهٗ مَا يَغِيۡظُ‏

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیئے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے۔ پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Whoever should think that Allah will not support [Prophet Muhammad] in this world and the Hereafter - let him extend a rope to the ceiling, then cut off [his breath], and let him see: will his effort remove that which enrages [him]?

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:15

جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دُنیا اور آخرت میں اُس کی کوئی مدد نہ کرے گا اُسے چاہیے کہ ایک رسّی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے، پھر دیکھ لے کہ آیا اُس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کر سکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیئے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے۔ پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد دونوں جہان میں نہ کرے گا وه اونچائی پر ایک رسہ باندھ کر (اپنے حلق میں پھنده ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لے) پھر دیکھ لے کہ اس کی چاﻻکیوں سے وه بات ہٹ جاتی ہے جو اسے تڑپا رہی ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو شخص یہ سمجھتا تھا کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس (پیغمبر) کی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان تک ایک رسی تان کر رابطہ کاٹ ڈالے، پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کی جھنجلاہٹ دور کرسکتی ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی مدد نہ فرمائے گا دنیا اور آخرت میں تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ داؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اﷲ اپنے (محبوب و برگزیدہ) رسول کی دنیا و آخرت میں ہرگز مدد نہیں کرے گا اسے چاہئے کہ (گھر کی) چھت سے ایک رسی باندھ کر لٹک جائے پھر (خود کو) پھانسی دے لے پھر دیکھے کیا اس کی یہ تدبیر اس (نصرتِ الٰہی) کو دور کر دیتی ہے جس پر غصہ کھا رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں کبھی اس کی مدد نہیں کرے گا تو وہ ایک رسی آسمان کی طرف لٹکائے، پھر کاٹ دے، پھر دیکھے کیا واقعی اس کی تدبیر اس چیز کو دور کر دے گی جو اسے غصہ دلاتی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو شخص یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا (اور دوسروں کی طرف رجوع کرے) اسے چاہئے کہ آسمان تک ایک رسی لٹکائے پھر اسے کاٹ ڈالے اور دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دفع کرسکتی ہے جو اسے غصہ دلاتی ہے ؟ (خواہ وہ کتنی ہی کوشش کرے تقدیر کے فیصلے کو بدل نہیں سکتا)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو یہ گمان رکھتا ہو کہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان تک ایک رسی تانے اور پھر اپنے معاملہ کا فیصلہ کر ڈالے اور دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کے غم کو دور کرنے والی بنتی ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو کوئی یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ اس کی کوئی مدد نہیں فرمائے گا دنیا وآخرت میں تو اس کو چاہیے کہ وہ ایک رسی تان لے آسمان کی طرف پھر وہ کاٹ ڈالے سلسلہ وحی کو پھر دیکھ لے کہ کیا اس کی تدبیر رد کرسکتی ہے اس چیز کو جو اس کو غصہ دلاتی ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

جو شخص یہ خیال رکھتا ہے کہ اللہ اپنے رسوک کی مدد دنیا اور آخرت میں نہ کرے گا تو اسے چاہیے کہ ایک رسی آسمان تک تان لے پھر سلسلہ وحی کو کاٹ دے تو غور کرنا چاہیے کہ آیا اس کی تدبیر اس کی ناگواری کی چیز کو موقوف کر اسکتی ہے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس شخص کو یہ گمان ہو کہ اللہ ہرگز اس کی مدد نہیں کرے گا دنیا اور آخرت میں تو اسے چاہیے کہ وہ ایک رسّی آسمان کی طرف تانے پھر اسے کاٹ دے پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دور کردیتی ہے جو اسے غصہ میں لاتی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو شخص یہ گمان یقینا کرتا ہو کہ اللہ اس کو دنیا و آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیے کہ اوپر کی طرف ایک رسی باندھے پھر اس سے اپنا گلا گھونٹ لے اب دیکھے کہ اس کی تدبیر سے اس کا غصہ کچھ جاتا رہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Anyone who fancies that Allah will not support him in this world and in the Hereafter, let him reach out to heaven through a rope, and then make a hole in the sky and see whether his device can avert that which enrages him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If someone thinks that Allah will never help him (the prophet) in this world and in the Hereafter, he should stretch a rope to the sky, then cut (Allah‘s communication) off (from the prophet) and see whether his effort can really remove what irritates (him).

— Muhammad Taqi Usmani

If someone thinks that Allah will never help him (the prophet) in this world and in the Hereafter, he should stretch a rope to the sky, then cut (Allah‘s communication) off (from the prophet) and see whether his effort can really remove what irritates (him).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whoever thinks that Allah will not help him in this world and in the Hereafter, let him stretch out a rope to the ceiling and let him strangle himself. Then let him see whether his plan will remove that whereat he rages!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whoso is wont to think (through envy) that Allah will not give him (Muhammad) victory in the world and the Hereafter (and is enraged at the thought of his victory), let him stretch a rope up to the roof (of his dwelling), and let him hang himself. Then let him see whether his strategy dispelleth that whereat he rageth!.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Whoever should think that Allah will not support [Prophet Muhammad] in this world and the Hereafter - let him extend a rope to the ceiling, then cut off [his breath], and let him see: will his effort remove that which enrages [him]?

— Saheeh International

Those who thought that God would never grant victory to (Muhammad), in this world nor in the life hereafter (and now that he is victorious) should hang themselves by the necks from the ceiling, then cut the rope and see if this can do away with what has enraged them.

— Muhammad Sarwar

Whoever thinks that Allah will not assist him in this life and the hereafter, let him stretch a rope to the ceiling, then let him cut (it) off, then let him see if his struggle will take away that at which he is enraged.

— Muhammad Habib Shakir

Whosoever hath been imagining that Allah shall not make him victorious in the world and the Hereafter, let him stretch a cord up to the heaven and let him cut it, and let him look if his stratagem can do away that whereat he enrageth.

— Abdul Majid Daryabadi

If any think that Allah will not help him (His Messenger) in this world and the Hereafter, let him stretch out a rope to the ceiling and cut (himself) off: then let him see whether his plan will remove that which enrages (him)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–16

مخالفین نبی ﷺ ہلاک ہوں یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں وہ یقین مانے کہ اس کا یہ خیال محض خیال ہے۔ آپ کی مدد ہو کر ہی رہے گی چاہے ایسا شخص اپنے غصے میں ہار ہی جائے بلکہ اسے چاہے کہ اپنے مکان کی چھت میں رسی باندھ کر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر اپنے آپ کو ہلاک کردے۔ ناممکن ہے کہ وہ چیز یعنی اللہ کی مدد اس کے نبی کے لئے نہ آئے گویہ جل جل کر مرجائیں مگر ان کی خیال آرائیاں غلط ثابت ہو کر رہیں گی۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی سمجھ کے خلاف ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ کی امداد آسمان سے نازل ہوگی۔ ہاں اگر اس کے بس میں ہو تو ایک رسی لٹکا کر آسمان پر چڑھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة الْحَجّ 22 اس آیت کی تفسیر میں بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ مختلف مفسرین کے بیان کردہ مطالب کا خلاصہ یہ ہے 1) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ چھت سے رسی باندھ کر خود کشی کرلے۔ 2) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ کسی رسی کے ذریعے آسمان پر جائے اور مدد بند کرانے کی کوشش کر دیکھے۔ 3) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان پر جا کر وحی کا سلسلہ منقطع کرنے کی کوشش کر دیکھے۔ 4) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان پر جا کر اس کا رزق بند کرانے کی کوشش کر دیکھے۔ 5) جس کا یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

معارف و مسائل مَنْ كَانَ يَظُنُّ ، حاصل یہ ہے کہ اسلام کا راستہ روکنے والے معاند جو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے دین کی مدد نہ کرے ان کو سمجھنا چاہئے کہ یہ تو جبھی ہوسکتا ہے جبکہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ سے منصب نبوت سلب ہوجائے اور آپ پر وحی آنا منقطع ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو نبوت و رسالت سپرد فرماتا ہے اور اس کو وحی الٰہی سے نوازتا ہے اس کی مدد تو دنیا و آخرت میں کرنے کا اس کی طرف سے پختہ عہد ہے اور عقلاً بھی اس کے خلاف نہ ہونا چاہئے تو جو شخص آپ کی اور آپ کے دین کی ترقی کو روکنا چاہتا ہے اس کو اگر اس کے قبضہ میں ہو تو ایسی تدبیر کرنا چاہئے کہ یہ منصب نبوت سلب ہوجائے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ضمیر مفعول کا مرجع من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ فی الدین والاخرۃ ینصرہ میں ضمیر کا مرجع من ہے جن لوگوں نے اس کا مرجع رسول اللہ ﷺ کو مانا ہے ان کی رائے سیاق وسباق کلام سے بالکل بےجوڑ ہے۔ آیت میں اشارہ انہی دو دلوں اور منفاقوں کی طرف ہے جن کا ذکر اپور سے چلا آ رہا ہے اور جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ اگر انہیں کو آزمائش پیش آجاتی ہے تو خدا سے مایوس و بدگمان ہو کر دوسروں کو مولی و مرجع بنا بیٹھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پیش آمدہ مشکل سے خدا ان کو نہیں نکالے گا یا نہیں نکال سکتا۔ مدسبب کا مفہوم فلیمدد بسبب الی السمآء آسمان میں رسی تاننا آخری اور انتہائی تدبیر کر دیکھنے کے لئے اسی طرح کا ایک استعارہ ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

15۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ایسا شخص، جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کی مدد نہ کرے، کیونکہ اس کے غلبہ و فتح سے اسے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ اپنے گھر کی چھت پر رسی لٹکا کر اور اپنے گلے میں اس کا پھندا لے کر اپنا گلا گھونٹ لے، شاید یہ خود کشی اسے غیظ و غضب سے بچا لے جو محمد ﷺ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دیکھ کر اپنے دل میں پاتا ہے۔ اس صورت میں سماء سے مراد گھر کی چھت ہوگی۔ دوسرے معنی ہیں کہ ایک رسہ لے کر آسمان پر چڑھ جائے اور آسمان سے جو وحی یا مدد آتی ہے، اس کا سلسلہ ختم کرا دے (اگر وہ کرسکتا ہے) اور دیکھے کہ کیا اس کے بعد اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا ہے ؟ امام ابن کثیر نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

10: رسی تان کر رابطہ کاٹ ڈالنے کے ایک معنی تو عربی محاورے کے مطابق پھانسی دے کر گلا گھونٹنے کے ہوتے ہیں۔ اگر یہاں یہ معنی لیے جائیں، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہیں، تو اس صورت میں آسمان سے مراد اوپر کی سمت یعنی چھت ہوگی، اور آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص جس کا خیال یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی، اس کا یہ خیال نہ پورا ہوا ہے، نہ ہوگا۔ اس پر اگر اسے غصہ اور جھنجھلاہٹ ہے تو وہ چھت کی طرف ایک رسی تان کر اپنے آپ کو پھانسی دے، اور اپنا گلا گھونٹ لے۔ اور آسمان تک رسی تان کر رابطہ کاٹ لینے کی ایک دوسری تشریح حضرت جابر بن زید سے منقول ہے، اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

من کان یظن ……ما یغیظ (15) یہ ایک نہایت ہی متحرک منظر ہے جس میں انسان کے نفسیاتی غیض و غضب کو ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ایسے حالات میں ہونے والی حرکتوں کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسے حالات کو مجسم کر کے پیش کیا جاتا ہے جن میں انسان کا غصہ اور بےچینی اپنی انتہا پر ہو۔ ایک ایسا شخص جس پر مشکلات آرہی ہوں اور اس کا تعلق رب تعالیٰ سے نہ ہو ، یہ وہ شخص ہے جو مصیبت کے وقت ہر طرف سے مایوس ہوجاتا ہے۔ اسے کسی طرف کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی ، کسی طرف سے باد نسیم کے کسی جھونکے کے لئے کوئی کھڑکی نظر نہیں آتی۔ یہ شخص ضیق نفس اور دلی درد سے ناقابل برداشت حد تک تنگ آجاتا ہے اور مایوسی کی اس حالت میں اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 " لَنْ یَّنْصُرَہُ " میں ضمیر مفعول نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے جن کا تصور قرآن پڑھنے والے کے ذہن میں گویا ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ کیونکہ آپ ہی قرآن کے اولین مخاطب ہیں۔ گویا مومنین کا انجام ذکر کرنے کے بعد یہ انکے پیغمبر کے مستقبل کا بیان ہوا۔ حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ اپنے رسول سے دنیاوی اور اخروی فتح و نصرت کے جو وعدے کرچکا ہے وہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے، خواہ کفار و حاسدین کتنا ہی غیظ کھائیں اور نصرت ربانی کے روکنے کی کیسی ہی تدبیریں کرلیں، لیکن حضور ﷺ کی نصرت و کامیابی کسی طرح رک نہیں سکتی یقینا آکر رہے گی۔ اگر ان کفار و حاسدین کو اس پر زیادہ غصہ ہے اور سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کوشش سے خدا کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

فَلْیَنْظُرْ ہَلْ یُذْہِبَنَّ کَیْدُہٗ مَا یَغِیْظُ ” یہ آیت مشکلات القرآن میں سے ہے اور مختلف مفسرین نے اپنے اپنے انداز میں اس کی تعبیر کی ہے۔ میرے نزدیک ”موضح القرآن“ میں شاہ عبدالقادر دہلوی رح کی تعبیر سب سے بہتر ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو پورے اخلاص کے ساتھ ہمہ وقت دین کی خدمت میں مصروف ہے اور اس رستے میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اللہ سے مسلسل امید رکھتا ہے کہ آج نہیں تو کل ‘ کل نہیں تو پرسوں اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ لیکن خدانخواستہ کسی مرحلے پر اگر وہ اللہ کی مدد سے مایوس ہوجائے تو اس کی یہ کیفیت اس کے لیے ناکامی کا باعث بن جائے گی۔ چناچہ اللہ کے راستے میں جدوجہد…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 اس آیت میں ایسا خیال کرنے والے سے مراد وہی منافق ہے جو کفر اور اسلام کی سرحد پر کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتا ہے مگر اللہ کی رضا پر راضی اور شاکر نہیں رہتا۔ اور جب اسے کفر و شرک کی صف میں شامل ہونے میں کوئی مفاد نظر آتا ہے تو فوراً ادھر لڑھک آتا ہے اور انھیں حقیر دنیوی مفادات کی خاطر اللہ کو چھوڑ کر دوسرے آستانوں پر جانا اور در در کی خاک چھانتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے وہ مفادات حاصل نہیں ہوتے تو الٹا اللہ اور اس کی تقدید کو کو سنے لگتا ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی تقدیر کو بدلنے کی خاطر اپنی مقدور بھر کوشش کرکے دیکھے اور جو کچھ وہ کرسکتا ہے کر دیکھے اور بتلائے کہ کیا ایسے کرنے سے وہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ (اور ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتی) (آیت) ” ما یغیظ “۔ ناگواری کی چیز سے مراد ہے نصروحی الہی۔ غاظھم اللہ بہ من نصرۃ النبی ﷺ ما ینزل علیہ (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے الذی یغیظہ من نصر اللہ (بیضاوی) (آیت) ” ینصرہ “۔ میں ضمیر رسول کی طرف ہے۔ اے لن ینصرہ اللہ بنبیہ (ابن جریر، عن قتادۃ) اے لن ینصرہ اللہ بنیبہ (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے لن ینصر اللہ محمد ﷺ (ابن کثیر۔ عن ابن عباس ؓ صحابہ میں ابن عباس ؓ تابعین میں کلبی، مقاتل، ضحاک، قتادہ، ابن زید، سدی اور اہل لغت ونحو میں فراء وزجاج سے یہی تفسیر منقول ہے۔ (آیت) ” لیقطع “ میں مفعول ” وحی “ مقدر ہے۔ اے لیقطع عن النبی ﷺ الوحی (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے لیقطع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ فی الدنیا والاخرۃ جو شخص یہ خیال یا گمان کرتا ہو کہ اللہ اس (نبی محمد ﷺ کی مدد دنیا و آخرت میں ہرگز نہیں کرے گا۔ اس کلام میں کسی قدر اختصار ہے پورا کلام اس طرح تھا ‘ اللہ دنیا و آخرت میں اپنے رسول کی مدد ضرور کرے گا۔ اب جو شخص رسول اللہ ﷺ سے بغض رکھنے کی وجہ سے یہ خیال کرتا ہے اللہ اپنے رسول کی نصرت نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں۔ فلیمدد بسبب الی السمآء ثم لیقطع فلینظر ہل یذہبن کیدہ ما یغیظ تو اس کو چاہئے کہ ایک رسی آسمان تک تان لے ‘ پھر اس کے ذریعے سے آسمان تک پہنچ کر اس وحی کا سلسلہ ہی کاٹ دے پھر غور کرے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کی ناگواری کی چیز کو (یعنی وحی کو)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) اور ان ہی لوگوں کے بارے میں اگلی آیت نازل ہوئی ہے کیوں کہ یہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ نعوذ باللہ محمد ﷺ کی دنیا میں مدد نہیں کی جائے گی تو آپ کی پیروی کرنے سے ہمارے اور یہود کے درمیان جو تعلقات ہیں وہ ختم ہوجائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس بات کا خیال رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ کی غلبہ ونصرت و شوکت کے ساتھ دنیا وآخرت میں مدد نہیں فرمائے گا تو وہ ایک رسی اپنے مکان کی چھت میں باندھ کر اس سے اپنا گلا گھونٹ لے اور پھر اپنے متعلق غور کرے کہ اس کے اس فعل نے جو اس کو رسول اکرم ﷺ پر غصہ تھا اس کا تدارک کیا یا نہیں۔ اور اس آیت کی ایک اور طریقہ پر تفسیر کی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا۔۔ : ”سَبَبٌ“ رسی۔ ”اَلسَّمَاء“ ”سَمَا یَسْمُوْ“ (ن) سے ہے جس کا معنی ہے بلند ہونا۔ آسمان کو اس کی بلندی کی وجہ سے ”سماء“ کہتے ہیں، اس لیے بادل کو بھی ”سماء“ کہہ لیتے ہیں اور چھت کو بھی۔ مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَاکی ایک تفسیر وہ ہے جو طبری نے ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں محمد ﷺ کی مدد نہیں کرے گا، وہ چھت سے ایک رسی باندھے، پھر اس کے ساتھ پھانسی لے کر اپنا گلا گھونٹ لے اور مرجائے اور دیکھے، کیا اس کے ایسا کرنے سے اس کے غصے اور حسد کی آگ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللّٰہُ فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی مدد دنیا و آخرت میں ہر گز نہ کریں گے) مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اپنے رسول کا مددگار ہے آپ کے دشمنوں میں سے جو اس کے خلاف گمان رکھتا ہے۔ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ (پس اس کو چاہئے کہ وہ ایک رسّی تان لے) سبب کا معنی رسّی۔ اِلَی السَّمَآ ئِ (آسمان تک) گھر کی بلندی۔ ثُمَّ لْیَقْطَعْ (پھر وہ وحی کا سلسلہ کاٹ دے) پھر وہ چاہئے کہ گلا گھونٹ لے۔ یہاں گلا گھونٹنے کو قطعاً فرمایا ہے کیونکہ گلا گھونٹنے والاا پنی سانس کے راستوں کو روک کر سانس کو کاٹ دیتا ہے۔ فَلْیَنْظُرْ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

1۔ الفریابی وعبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ، یعنی جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں فرمائیں گے۔ آیت فی الدنیا والاٰ خرۃ فلیمدد بسبب، یعنی اس کو چاہیے کہ رسی باندھ لے آیت الی السماء، اپنے گھر کی چھت سے آسمان کی طرف، آیت ثم الیقطع پھر اس کے ذریعے اپنا گلہ گھونٹ لے یہاں تک کہ مرجائے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ اس کو ہر گزرزق نہیں دیں گے۔ آیت فلیمدد بسبب الی السماء یعنی اس کو چاہیے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ مَنْ : جو ] [ كَان : ہے (کہ)] [ يَظُنُّ : گمان کرتا ہے ] [ ان : کہ ] [ لَّنْ يَّنْصُرَهُ : ہرگز مدد نہیں کرے گا ان ( نبی ﷺ ) کی ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : دنیا اور آخرت میں ] [ فَلْيَمْدُدْ : تو اسے چاہیے کہ وہ تان لے ] [ بِسَبَبٍ : ایک رسی کو ] [ اِلَى السَّمَاۗءِ : آسمان تک ] [ ثُمَّ لْيَقْطَعْ : پھر اسے چاہیے کہ وہ کاٹ دے (اللہ کی مدد کو)] [ فَلْيَنْظُرْ : پھر وہ دیکھے ] [ هَلْ يُذْهِبَنَّ : کیا لے جاتی ہے ] [ كَيْدُهٗ : اس کی تدبیر ] [ مَا : اس چیز کو جو ] [ يَغِيْظُ : خون کھولاتی ہے (اس کا)] نوٹ۔ 1: آیت۔ 15 کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کا راستہ روکنے والے یہ چاہتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–16

اللہ تعالیٰ نے آیات بینات نازل فرمائی ہیں، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اس آیت سے پہلی آیت میں مشرکوں اور کافروں کی بد حالی بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ جن کی پرستش کرتے ہیں وہ ان کو کوئی نفع اور نقصان نہیں دے سکتے ان کا ضرر نفع سے زیادہ قریب ہے ان کی دوستی اور رفاقت و بال جان ہے اس کے بعد اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے اللہ تعالیٰ انہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ساتھ ہی (اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ) بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کسی کو ایمان اور اعمال صالحہ سے نوازنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–16

بیان فلاح اہل ایمان وخیبت و خسران دشمنان بدسگالان قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یدخل الذین امنوا .... الیٰ .... وان اللہ یھدی من یرید۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جو ایمان اور اسلام میں متذبذب اور متزلزل تھے اب ان آیات میں ان ایمانداروں کا حال ذکر کرتے ہیں جو ایمان پر جمے ہوئے ہیں اور اعمال صالحہ پر ثابت قدم ہیں۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں اول تو ایسے مومنین مخلصین کی فلاح اور کامیابی کا ذکر کیا اور اس کے بعد دشمنان اسلام کی ناکامی اور نامرادی کو بیان کیا کہ ان مجادلین فی الدین اور ان منافقین کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی دنیا اور آخرت میں کوئی مدد نہیں کرے گا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ ” مَنْ کَانَ یَظُنُّ الخ “ جمہور مفسرین نے ” یَنْصُرَهُ “ کی ضمیر منصوب کا مرجع آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کو قرار دیا ہے کیونکہ قرآن پڑھتے وقت آپ کا تصور ذہن میں رہتا ہے اس لیے کہ آپ قرآن کے مخاطب اول ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اپنے پیغمبر ﷺ کی مدد کرے گا۔ دنیا میں آپ کے دین اور آپ کے متبعین کو سربلند کر کے اور آخرت میں آپ کا درجہ سب سے بلند کر کے آپ کے متبعین کو جنت میں داخل فرما کر اور آپ کے دشمنوں کو جہنم رسید کرے گا لیکن جس شخص کا ازراہ بغض و حسد یہ گمان ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں آپ کی مدد نہیں کرے گا تو وہ بغض و حسد کی آگ میں جل مرے تو کیا حسد و عداوت کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–17

ربط آیات : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ جھگڑالو لوگ : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَہُ اللہُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَاۗءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرْ ہَلْ يُذْہِبَنَّ كَيْدُہٗ مَا يَغِيْظُ۝ 15 كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–17

منافقوں کی عبادت اور ان کے معبودوں کا حال بیان فرما کر اس جگہ سچے ایمانداروں کی عبادت کا حال بیان فرماتا ہے اور ان کے معبود حقیقی کا وصف کرتا ہے کہ اللہ جو معبود حقیقی اور قادر مطلق ہے اپنے ایمانداروں نیکو کار بندوں کو مرنے کے بعد ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے قادر مطلق ہے برخلاف ان کے معبودوں کے کہ ان کو نفع و ضرر کا کچھ بھی اقتدار نہیں۔ من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ میں ان منافقوں کی طرف روئے سخن ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عبادت تردد اور شک سے کرتے ہیں کہ جہاں کوئی دنیا کا فائدہ معلوم ہوا تو جمع رہے ‘ کوئی تکلیف آپڑی تو اللہ سے پھر کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَـآئِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ ھَلْ یُذْھِبَنَّ کَیْدُہٗ مَایَغْیِظُ ۔ (الحج : 15) (جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو اسے چاہیے کہ وہ آسمان تک ایک رسی تانے، پھر اسے کاٹ ڈالے (پھر اپنے معاملہ کا فیصلہ کر ڈالے) پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کے غم کو دور کرنے والی بنتی ہے۔ ) اس آیت کے مفہوم میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے تو ہم خود کچھ کہنے کی بجائے تین مفسرین کی بیان کردہ تفسیر کو نقل کررہے ہیں جن کی ہمارے نزدیک ایک اہمیت ہے۔ ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–16

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور منافق اپنی بےاعتمادی اور بد اعتقادی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیروں سے مدد طلب کرتا ہے۔ اس لیے اسے ایک تمثیل کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مشرک، منافق اور جو شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں کرے گا۔ اسے چاہیے کہ ایک رسی آسمان کی طرف لٹکائے پھر اسے کاٹ دے اور اب دیکھے کیا اس کا ایسا کرنا اس کے غصہ کو ٹال دے گا ؟ اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو بالکل کھول کر بیان کرتا ہے۔ بلاشبہ وہ اسی کو ہدایت دیتا ہے جو ہدا یت کی چاہت اور ارادہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عملی مثال کی طرف اشارہ فرما کر یہ حقیقت سمجھائی ہے کہ اگر کوئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کا غصہ بےفائدہ ہے : 15: مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللّٰہُ فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی مدد دنیا و آخرت میں ہرگز نہ کریں گے) مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اپنے رسول کا مددگار ہے آپ کے دشمنوں میں سے جو اس کے خلاف گمان رکھتا ہے۔ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ (پس اس کو چاہیے کہ وہ ایک رسّی تان لے) سبب کا معنی رسّی۔ اِلَی السَّمَآ ئِ (آسمان تک) گھر کی بلندی۔ ثُمَّ لْیَقْطَعْ (پھر وہ وحی کا سلسلہ کاٹ دے) پھر وہ چاہیے کہ گلا گھونٹ لے۔ یہاں گلا گھونٹنے کو قطعاً فرمایا ہے کیونکہ گلا گھونٹنے والا اپنی سانس کے راستوں کو روک کر سانس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 15۔ من کان یظن ان لنصرہ اللہ، جو یہ گمان کرتا ہے نبی کریم کی مدد اللہ نہیں کرے گا، فی الدنیا والاخرۃ فلیمدد بسبب، رسی تان لے، الی السمائ، اس سے مراد گھر کی چھت ہے ۔ مطلب یہ کہ چھت کے ساتھ ایک رسی باندھ کر اس کو اپنے گلے میں ڈال لوتا کہ مرجائے۔ ثم لیقطع پھر اسی رسی کو کاٹ دو ، بعض نے کہا کہ پھر تو اس کو کاٹ دے۔ یعنی تم اس رسی کو لمباچھوڑ دو تاکہ اس کے ذریعے رگیں کٹ جائیں یادب جائیں اس سے وہ مرجائے ، فلینظر ھل یذھبن کیدہ، اس کی کاریگری اور اس کاحیلہ، مایغیظ ، ما بمعنی مصدر کے ہے۔ کیا اس کا غصہ پر مکروفریب چلاجائے گا، اس کا معنی ہے کہ وہ غصے کے ساتھ اپنی گردن کو رسی سے باندھ لے تاکہ غصہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ بعضے لوگ دنیا کی خوشحالی کی امید پر اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور جب ان کی امید پوری نہیں ہوتی تو اس غصہ سے وہ لوگ اسلام کے دائرہ سے نکل جاتے ہیں کہ اسلام لانے والوں سے دین ودنیا کی بہبودی کا جو وعدہ اللہ کے رسول کرتے اور اس کو اللہ کا وعدہ بتلاتے ہیں ہمارے اسلام لانے کے بعد اس وعدہ کا ظہور جلدی کیوں نہیں ہوا اور جب اس وعدہ کا ظہور جلدی نہیں ہوا تو ہمارے دل میں یہ خیال جم گیا ہے کہ جو وعدہ یہ رسول اللہ لوگوں سے کرتے ہیں ‘ سرے سے وہ اللہ کا وعدہ ہی نہیں ہے ان رسول کا جو جی چاہتا ہے ‘ یہ اپنی طرف سے کہہ دیتے ہیں ان لوگوں کی خیالی باتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–15

آیت 14 جب اللہ تعالیٰ نے باطل دلیلوں سے جھگڑنے والے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ایسے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں، ایک مقلدین اور دوسرے اپنی بدعات کی طرف دعوت دینے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی دو اقسام ذکر فرمائیں جو اپنے آپ کو ایمان سے منسوب کرتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی جن کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا اور دوسری قسم ان لوگوں کی جو حقیقی مومن ہیں جنہوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ پس ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جنت کو ” جنت “ اس لئے کہا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–18

قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

37 اللہ سے مایوس اور بدگمان ہونے والوں کو سخت تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ اس کی مدد نہیں کرے گا۔ یعنی آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی تو وہ آسمان کی طرف رسی تان کر اس مدد کو قطع کر دے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے کی جاتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس نصرت و مدد کو رکوا دے جو اس کی طرف سے اس کے رسول کے لئے کی جاتی ہے کہ اپنے رسولوں کی مدد کرنے کا اس نے قطعی وعدہ فرما رکھا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الاَشْہَادُ } ۔ (المومن :51) ۔ نیز { ثُمَّ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–18

ایمان والوں کیلئے خوشخبری ‘ اللہ کی عظمت و شان تشریح : یہ سب باتیں غیب کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ رسول کو وحی کے ذریعے بتاتا ہے اور رسولوں کو بتاتا ہے اور رسول لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو توحید کا وعدہ لینے کے بعد دنیا میں بھیجا جس کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان کو نیکی پر ہی پیدا کیا گیا ہے مگر جس طرح ایک ہی کھیت میں کچھ پودے صحت مند اور کچھ ناقص اگ آتے ہیں اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی کچھ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور کچھ نہیں آئے انہوں نے ایمان کو ترجیح دی اور قائم و دائم رہے تو ایسے ہی لوگوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے کہ آخرت میں ان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنے پیغمبر ﷺ کی مدد کرتا رہے گا۔ اگر کافروں کو اس پر غصہ اور جلن ہے تو اس غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی بس ایک ہی صورت ہے کہ چھت سے رسی باندھ کر پھانسی میں لٹک کر مرجائیں یا مطلب یہ ہے کہ کافروں کو چاہیے کہ کسی ذریعے سے آسمان پر چلے جائیں اور وہاں سے آنحضرت ﷺ کو جو مدد یا وحی آرہی ہے اسے منقطع کرنے کی کوشش کریں۔ آیت کے یہ دونوں مطلب اسی صورت میں کہ ولن ینصرہ میں ” ہ “ کی ضمیر محمد ﷺ کے لئے قرار دی جائے لیکن اگر یہ ضمیر خود اس شخص کے لئے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ … مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی تدبیر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 13–15

(22:23) فائدہ : آیت 12 میں ہے یدعوا من دون اللہ ما لا یضرہ وما لا ینفعہ اور آیت 13 میں ہے یدعوا لمن ضرہ اقرب من نفعہ۔ یعنی پکارتا ہے اس کو کہ ضرر اس کا قریب تر ہے بہ نسبت اس کے نفع کے ۔ یعنی جہاں تک اس کا مذموم معبود کو پکارنے کا تعلق ہے اس فعل سے نقصان تو لازم آگیا۔ کیونکہ غیر اللہ کو پکارنا حرام ہے اور باعث زیاں ہے۔ جہاں تک اس فعل سے نفع کی امید ہے تو وہ ایک موہوم امر ہے اگر کوئی نفع بالفرض ہو بھی جائے تو وہ من جانب اللہ ہوتا ہے جو سنت اللہ کے تحت اس کی قسمت میں ازل سے لکھا جا چکا ہے ۔ لہٰذا جس من دون اللہ کو یہ پکارتا ہے اس سے نقصان ہی نقصان لازم ہے۔ اس طرح یہ آیت ماقبل سے متضاد نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–16

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 16 : حرف (کنارہ) ‘ اصاب (پہنچ گیا) ‘ انقلب (پلٹ گیا) ‘ الضلال البعید (دور کی گمراہی۔ انتہا درجہ کی گمراہی) ‘ اقرب (زیادہ قریب) ‘ المولی (دوست) ‘ العشیر (ساتھی۔ رفیق) ‘ یظن (وہ گمان کرتا ہے) ‘ یمدد (وہ باندھتا ہے) ‘ یقطع (وہ کاٹتا ہے) ‘ کید (تدبیر) یغظ (غصہ دلاتا ہے) ‘ تشریح آیت نمبر 11 تا 16 : دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی ڈھنگ سے اچھی یا بری زندگی گذار ہی لیتا ہے۔ وہ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خوب محنت کرتا ہے۔ بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے کوئی کامیاب ہوتا ہے اور کسی کو زندگی بھر حسرتوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس کے ہر عمل کے پیچھے اعتقاد اور یقین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

(ف 2) شان نزول : غطفان کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرنے میں کچھ توقف کیا اور بولے کہ شاید نبی ﷺ کو کوئی مہم پیش نہ آجائے اگر ہم اسلام لائے تو ان کے ساتھ لڑائی میں شریک ہوناپڑے گا تو پھر ہمارا اور یہود کا دوستانہ جاتا رہے گا اور جو ہماری وقتا فوقتا مدد کیا کرتے ہیں وہ موقوف کردیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نبی ﷺ سے حسد کرت ہیں وہ چاہے جس قسم کی تدبیر کریں اور جان تک دیدیں تب بھی ان کا مقصد پورا نہ ہوگا آگے فرمایا کہ جس طرح ایسے لوگوں کے خیال کو جھٹلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اسی طرح قرآن کی کھلی کھلی اور آیتوں می اسی طرح لوگوں کے بہت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–15

[12] یہ گمان کرنے والا شخص وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اس کی نسبت فرمایا جا رہا ہے کہ جس شخص نے امید و یقین کی جگہ شک و مایوسی کی راہ اختیار کی اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اب اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ایسے شخص کے لئے صرف یہی چارہ کار رہ جاتا ہے کہ گلے میں پھندا ڈال کر زندگی ختم کر ڈالے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) یہ آیت اسی قبیل سے ہے ، جس طرح کہ (آیت) ” فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الاوجس او سلما فی السمآء “۔ کی آیت ہے یعنی مقصد یہ ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اور یہ سمجھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو یکہ و تنہا چھوڑ دے گا ، اور ان کی بالکل اعانت نہیں کرے گا ، اس کو چاہئے کہ اپنی ہی کر دیکھے ، اللہ کو بہرحال یہی منظور ہے ، کہ وہ حق کو دنیا کے گوشے گوشے تک پھیلا دئے چاہئے مخالفین اور معاندین اس کو برداشت نہ کریں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی دنیا اور آخرت میں کوئی مدد نہیں کرے گا تو اس کو چاہئے کہ وہ ایک رسی اوپر کی طرف یعنی اپنے مکان کی چھت میں تانے پھر گلے میں پھندا لگاکر اپنا گلا گھونٹ لے اور اپنی زندگی ختم کردے پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیزکو روک سکتی ہے جو اس کو غصے میں ڈالتی ہے۔ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسا گمان کرتا ہے کہ وہ اپنے پیغمبر محمد ﷺ کی دنہ دنیا میں کوئی مدد کرے گا۔ دنیا میں مدد یہی کہ آپ کے دین کو غالب و منصور نہیں فرمائے گا اور نہ آخرت میں کوئی مدد فرمائے گا۔ آخرت میں مدد یہی کہ آپ کے مراتب بلند نہیں کرے گا تو ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

ف 3۔ اس کے ساتھ کوئی مزاحمت نہیں کرسکتا اور وہ اس جزاء و سزا کا ارادہ کرچکا ہے، پس ضرور ایسا ہی واقع ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتنا برا گمان ہے اس شخص کا جس نے یہ سمجھا کہ اس کی مدد اللہ کبھی نہیں کرے گا : 15۔ (من ینصرہ) میں ضمیر ” ہ “ کا مرجع کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہیں اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کا مرجع ” من “ ہے ۔ 1۔ جو شخص اپنی جگہ پر یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں کرے گا ۔ 2۔ جو شخص اپنی جگہ پر یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی جس نے ایسا خیال کیا ہے کبھی مدد نہیں کرے گا اور ہمارے خیال میں یہی آخری مفہوم زیادہ واضح ہے کیونکہ جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی غیر اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارا ہے اس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیا ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

Commentary مَن كَانَ يَظُنُّ (If someone thinks - 22:15). It means that the enemies of Islam who put hurdles in its path and desired that Allah should abandon the Holy Prophet ﷺ and his religion must clearly understand that this can happen only when, God forbid, he is deprived of the office of the prophethood and ceases to receive wahy (revelations) from Allah Ta’ ala. It is well understood that when Allah Ta’ ala bestows the prophethood on someone and also favours him with wahy (revelations), He also promises him full support in this world and in the Hereafter. Thus the only way to stop the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

22. There is a great divergence of opinion about the exact meaning of this verse. Some of the interpretations are: (1) One who presumes that Allah will not help him (Muhammad: peace be upon him), he should hang himself by a rope from the ceiling. (2) One who presumes that Allah will not help him (Muhammad: peace be upon him), he should ascend to the sky by a rope and try to stop Allah’s help. (3) One who presumes that Allah will not help him (Muhammad: peace be upon him), he should ascend to the sky and stop the process of revelations. (4) One who presumes that Allah will not help him…

Read the full tafseer →