یقین کے مالک لوگ
برے لوگوں کا بیان کرکے بھلے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جن کے دلوں میں یقین کا نور ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا ظہور ہے بھلائیوں کے خواہاں برائیوں سے گریزاں ہیں یہ بلند محلات میں عالی درجات میں ہونگے کیونکہ یہ راہ یافتہ ہیں ان کے علاوہ سب لوگ حواس باختہ ہیں۔ اب جو چاہے کرے جو چاہے رکھے دھرے۔
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 20
یعنی جن کا حال اس مطلب پرست، مذبذب اور بےیقین مسلمان کا سا نہیں ہے، بلکہ جو ٹھنڈے دل سے خوب سوچ سمجھ کر خدا اور رسول اور آخرت کو ماننے کا فیصلہ کرتے ہیں، پھر ثابت قدمی کے ساتھ راہ حق پر چلتے پھرتے ہیں، خواہ اچھے حالات سے سابقہ پیش آئے یا برے حالات سے، خواہ مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں یا انعامات کی بارشیں ہونے لگیں۔
سورة الْحَجّ 21
یعنی اللہ کے اختیارات غیر محدود ہیں۔ دنیا میں، یا آخرت میں، یا دونوں جگہ، وہ جس کو جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے اور جس سے جو کچھ چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ وہ دینا چاہے تو کوئی روکنے والا نہیں۔ نہ دینا چاہے تو کوئی دلوانے والا نہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور اللہ جس شخص یا قوم کو کوئی ثواب یا عذاب دینا چاہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں کیونکہ) اللہ تعالیٰ (قادر مطلق ہے) جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے (اور جن لوگوں کے دین حق میں مجادلہ کرنے کا ذکر آیا ہے اگلی آیت میں ان کی ناکامی اور محرومی کا بیان ہے فرمایا) جو شخص (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخالفت اور مخاصمت کر کے) اس بات کا خیال رکھتا ہو کہ (میں غالب آجاؤں گا اور آپ کے دین کی ترقی کو روک دوں گا اور یہ کہ) اللہ تعالیٰ رسول ﷺ کی (اور آپ کے دین کی) دنیا و آخرت…
Read the full tafseer →مخلصوں کا انجام
خدا سے مایوس ہو کر دوسروں کی پناہ ڈھونڈھنے والوں کا انجام بیان کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا جو سختی و نرمی اور رنج و راحت ہر طرح کے حالات میں ایمان و عمل صالح کی روش پر قائم دوائم رہیں گے۔ فرمایا کہ بیشک اللہ ان لوگوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ سیاق کلام دلیل ہے کہ یہاں فعل اپنے کامل معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لئے کہ یہ مقابل میں ہے ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف کے اس وجہ سے اس سے لازمًا وہ لوگ مراد ہوں گے جو دو ولی اور نفاق میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ پوری دل جمعی و یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی پر جمے ہوئے ہیں۔
ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
15۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ایسا شخص، جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کی مدد نہ کرے، کیونکہ اس کے غلبہ و فتح سے اسے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ اپنے گھر کی چھت پر رسی لٹکا کر اور اپنے گلے میں اس کا پھندا لے کر اپنا گلا گھونٹ لے، شاید یہ خود کشی اسے غیظ و غضب سے بچا لے جو محمد ﷺ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دیکھ کر اپنے دل میں پاتا ہے۔ اس صورت میں سماء سے مراد گھر کی چھت ہوگی۔ دوسرے معنی ہیں کہ ایک رسہ لے کر آسمان پر چڑھ جائے اور آسمان سے جو وحی یا مدد آتی ہے، اس کا سلسلہ ختم کرا دے (اگر وہ کرسکتا ہے) اور دیکھے کہ کیا اس کے بعد اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا ہے ؟ امام ابن کثیر نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10: رسی تان کر رابطہ کاٹ ڈالنے کے ایک معنی تو عربی محاورے کے مطابق پھانسی دے کر گلا گھونٹنے کے ہوتے ہیں۔ اگر یہاں یہ معنی لیے جائیں، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہیں، تو اس صورت میں آسمان سے مراد اوپر کی سمت یعنی چھت ہوگی، اور آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص جس کا خیال یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی، اس کا یہ خیال نہ پورا ہوا ہے، نہ ہوگا۔ اس پر اگر اسے غصہ اور جھنجھلاہٹ ہے تو وہ چھت کی طرف ایک رسی تان کر اپنے آپ کو پھانسی دے، اور اپنا گلا گھونٹ لے۔
اور آسمان تک رسی تان کر رابطہ کاٹ لینے کی ایک دوسری تشریح حضرت جابر بن زید سے منقول ہے، اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →ان اللہ ……مایرید (14)
اس لئے اگر فتنوں میں سے کسی فتنے میں کوئی مومن مبتلا ہوجائے یا آزمائشوں میں سے کوئی آزمائش اس پر آجائے تو اسے چاہئے کہ وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے اور اس کے اندر کوئی تزلزل پیدا نہ ہو۔ امید رکھے کہ اللہ ضرور اس کی امداد کرے گا اور اللہ اس بات پر قادر ہے کہ اس کی اس مصیبت اور آزمائش کو دور کرے اور اس کو جزائے خیر دے۔
جو شخص یہ بھروسہ نہ رکھتا ہو کہ دنیا و آخرت میں اللہ اس کی مدد کرے گا ، اور وہ مشکلات میں اللہ کی امداد سے مایوس ہوجائے۔ اگرچہ یہ سختیاں حد سے بڑھ جائیں ، تو ایسا شخص اپنے بارے میں جو چاہے ، کرے۔ جس طرف چاہے اپنے نفس کو لے کر نکل جائے وہ جو جتن بھی کرے ، اس کی…
Read the full tafseer →3 منکرین مجادلین اور مذبذبین کے بعد یہاں مومنین مخلصین کا انجام نیک بیان فرمایا۔
4 جس کو مناسب جانے سزا دے اور جس پر چاہے انعام فرمائے۔ اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ”
اس کے اختیارات غیر محدود ہیں۔ وہ جو چاہے کر گزرتا ہے۔
Read the full tafseer →13 یعنی اللہ تعالیٰ کے اختیارات لامحدود ہیں۔ وہ چاہے تو ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں سینکڑوں گناہ زیادہ معاوضہ اور بدلہ دے۔ چاہے تو ان کی سب چھوٹی موٹی خطائیں معاف کر دے۔ البتہ ایک بات اس سے مستبعد ہے وہ یہ ہے کہ وہ بندوں پر کسی بھی طرح کا ظلم نہیں کرتا۔ اس سلسلہ میں وہ اپنے اختیارات کو استعمال نہیں کرتا بلکہ عدل کے تقاضوں کو محفوظ رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →19۔ (اور اس نے اس جزا اور سزا کا ارادہ کرلیا ہے) خدا ہی قادر مطلق ہے۔ اسی کا ارادہ سب پر غالب ہے۔ وہ خود ہی قانون ساز ہے۔ کوئی قانون اس کے اوپر حاکم نہیں۔ اس میں رد آگیا بہت سی مشرک قوموں اور مشرک فلسفیوں کا جنہوں نے خدا کو محدود الاختیار مانا ہے اور قادر کے اوپر بھی کسی ” قانون قدرت “ کو حاکم ونافذ سمجھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…
Read the full tafseer →ان اللہ یدخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت تجری من تحتہا الانہر ان اللہ یفعل ما یرید۔ بلاشبہ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے بہشت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے
نہریں جاری ہوں گی بیشک اللہ جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے۔ یعنی اللہ مؤمن کو جزا اور مشرک کو سزا دینا چاہتا ہے اور کوئی اس کے فیصلہ کو روک نہیں سکتا اور اس کی منشاء کو رد نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →(14) اور اللہ تعالیٰ تو ایسا منعم حقیقی ہے کہ جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اچھے کام کیے اللہ تعالیٰ ان کو ایسے باغات میں داخل فرمائے گا جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب، اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی اور اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے کہ جس کو چاہے بدبخت بنائے اور جس کو چاہے سعادت سے بہرہ مند فرمائے۔
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : کافروں اور مطلب پرست بےیقین مسلمانوں کے بعد سختی اور نرمی یعنی ہر حال میں اسلام پر قائم رہنے والے مسلمانوں کا ذکر فرمایا، جو یقین و ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں اور ہر عمل خلوص نیت کے ساتھ سنت نبوی کے مطابق بجا لاتے ہیں، کیونکہ عمل صالح کے لیے یہ دونوں چیزیں لازم ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسی جنتوں کا وعدہ فرمایا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ : یعنی اللہ تعالیٰ غیر محدود اختیارات کا مالک ہے، دنیا یا آخرت میں جسے جو چاہے دے دے۔ تھوڑے سے عمل پر وہ جنت عطا کر دے کہ جس کا عرض زمین و آسمان کے عرض کے برابر…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْانْھٰرُ 1 اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایُرِیْدُ (بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے جنت کے ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے) یہ وعدہ ان لوگوں کیلئے ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہر حال میں کرنے والے ہوں ان کی طرح نہ ہوں جو ایک کنارے پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
۔ البخاری وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یعبد الہ علی حرف، کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی مدینہ منورہ میں آتا تھا۔ اگر اس کی بیوی بچہ جنتی اور اس کی گھوڑی کے بچہ پیدا ہوتا تھا۔ تو کہتا کہ یہ دین صالح ہے۔ اور اگر اس کی بیوی بچی نہ جنتی اور اس کی گھوڑی بچہ نہ دیتی تو کہتا کہ یہ دین برا ہے۔
ایمان پختہ اور مضبوط ہونا ضروری ہے
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سند صحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوجاتے تھے۔ جب وہ اپنے شہروں کو لوٹتے اور اس سال خوب بارش ہوتی خوب سرسبزی ہوتی اور خوب بچے ہوتے تو کہتے کہ ہمارا دین…
Read the full tafseer →[ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يُدْخِلُ : داخل کرے گا ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کئے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يَفْعَلُ : کر گزرتا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
اللہ تعالیٰ نے آیات بینات نازل فرمائی ہیں، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے
اس آیت سے پہلی آیت میں مشرکوں اور کافروں کی بد حالی بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ جن کی پرستش کرتے ہیں وہ ان کو کوئی نفع اور نقصان نہیں دے سکتے ان کا ضرر نفع سے زیادہ قریب ہے ان کی دوستی اور رفاقت و بال جان ہے اس کے بعد اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے اللہ تعالیٰ انہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ساتھ ہی (اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ) بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کسی کو ایمان اور اعمال صالحہ سے نوازنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
بیان فلاح اہل ایمان وخیبت و خسران دشمنان بدسگالان
قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یدخل الذین امنوا .... الیٰ .... وان اللہ یھدی من یرید۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جو ایمان اور اسلام میں متذبذب اور متزلزل تھے اب ان آیات میں ان ایمانداروں کا حال ذکر کرتے ہیں جو ایمان پر جمے ہوئے ہیں اور اعمال صالحہ پر ثابت قدم ہیں۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں اول تو ایسے مومنین مخلصین کی فلاح اور کامیابی کا ذکر کیا اور اس کے بعد دشمنان اسلام کی ناکامی اور نامرادی کو بیان کیا کہ ان مجادلین فی الدین اور ان منافقین کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی دنیا اور آخرت میں کوئی مدد نہیں کرے گا…
Read the full tafseer →24:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الخ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–17
ربط آیات :
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔
جھگڑالو لوگ :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ 0ۭ اِنَّ اللہَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ 14
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
أمن
والإِيمان
يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
منافقوں کی عبادت اور ان کے معبودوں کا حال بیان فرما کر اس جگہ سچے ایمانداروں کی عبادت کا حال بیان فرماتا ہے اور ان کے معبود حقیقی کا وصف کرتا ہے کہ اللہ جو معبود حقیقی اور قادر مطلق ہے اپنے ایمانداروں نیکو کار بندوں کو مرنے کے بعد ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے قادر مطلق ہے برخلاف ان کے معبودوں کے کہ ان کو نفع و ضرر کا کچھ بھی اقتدار نہیں۔
من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ میں ان منافقوں کی طرف روئے سخن ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عبادت تردد اور شک سے کرتے ہیں کہ جہاں کوئی دنیا کا فائدہ معلوم ہوا تو جمع رہے ‘ کوئی تکلیف آپڑی تو اللہ سے پھر کر…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُط اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایُرِیْدُ ۔ (الحج : 14)
(بیشک اللہ تعالیٰ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغوں میں جن کے نیچے سے نہریں رواں دواں ہوں گی، بیشک اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ )
مخلصین کا انجام
اللہ تعالیٰ سے مایوس ہو کر دوسروں کو پکارنے والوں کے انجام کے ذکر کے بعد اب ان لوگوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے جنھوں نے نہایت ناگفتہ بہ حالات اور مخالفت اور معاندت کے طوفانوں میں اللہ تعالیٰ سے امید ٹوٹنے نہیں دی۔ وہ ٹھیک اس راستے پر چلتے رہے جس کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور منافق کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اعتقاد اور ان کا بہتر انجام۔
سچا ایمان اور صالح کردار رکھنے والے حضرات کے لیے قرآن خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں جس میں اللہ تعالیٰ انھیں داخل فرمائے گا۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ اس آیت کے آخری الفاظ درحقیقت پچھلی آیت کا جواب ہے جس میں مشرک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ جنہیں اپنا مولا اور ساتھی سمجھ کر پکارتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک نہیں نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ کسی نیک کی نیکی…
Read the full tafseer →14: اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْانْھٰرُ 1 اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایُرِیْدُ (بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے جنت کے ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے) یہ وعدہ ان لوگوں کیلئے ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہرحال میں کرنے والے ہوں ان کی طرح نہ ہوں جو ایک کنارے پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ یدعوالمن ضرہ اقرب من نفعہ، یہ آیت مشکلات قرآن میں سے شمار کی جاتی ہے اس میں چند سوالات ذکر کیے جاتے ہیں۔
سوال : پہلی آیت مٰں اللہ نے فرمایا، یدعوا من دون اللہ، ،، اور اس آیت میں ارشاد فرمایا ، لمن ضرہ اقرب من نفعہ، ان دونوں آیات میں توفیق کیسے ممکن ہے ؟۔
جواب : پہلی آیت میں ، یدعوا من دون اللہ مالایضرہ، اس آیت سے مراد ہے کہ ترک عبادت سے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ یعنی اگر وہ بتوں کی عبادت نہیں بھی کرے گا تو وہ بت اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے اور دوسری آیت میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ اس کا ان بتوں کی عبادت کرنا زیادہ ضرررساں ہے۔
سوال : یہاں کیسے فرمایا کہ ، لمن ضرہ اقرب من نفعہ،…
Read the full tafseer →14:۔ ان لوگوں کی عقلوں کی خرابی کا ذکر تھا جو دنیا کے لالچ سے ظاہری طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور حقیقت میں گویا اس دائرہ کے کنارے پر کھڑے رہ جاتے ہیں ‘ اندر نہیں گھستے کیونکہ جس طرح کسی چھت کے کنارہ پر کھڑا ہونے والا شخص ذرا سی ٹھیں میں گر پڑتا ہے اسی طرح جن لوگوں کا اوپر ذکر ہے وہ بھی ذرا سی آزمائش میں دائرہ اسلام کے باہر ہوجاتے ہیں ان آیتوں میں فرمایا ‘ جو لوگ پکے ایماندار ہیں اور تکلیف اور راحت ہر حال میں نیک کام کرتے رہتے ہیں اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو ایسے باغوں میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا حکم دیوے گا جن کے باغوں کے درختوں کے نیچے دودھ ‘ شہد ‘ شراب اور پانی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14
جب اللہ تعالیٰ نے باطل دلیلوں سے جھگڑنے والے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ایسے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں، ایک مقلدین اور دوسرے اپنی بدعات کی طرف دعوت دینے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی دو اقسام ذکر فرمائیں جو اپنے آپ کو ایمان سے منسوب کرتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی جن کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا اور دوسری قسم ان لوگوں کی جو حقیقی مومن ہیں جنہوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ پس ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
جنت کو ” جنت “ اس لئے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…
Read the full tafseer →35 جنتیوں کیلئے عظیم الشان نہریں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح کی دولت رکھنے والے ایسے خوش نصیبوں کو ایسی عظیم الشان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے عظیم الشان نہریں جاری ہونگی۔ یعنی دودھ کی، شہد کی اور شراب طہور کی۔ اور صاف ستھرے پانی کی۔ اور پانی بھی ایسا جس میں کہیں کوئی سڑانڈ پیدا نہ ہو۔ اور شراب ایسی کہ نہ اس سے کوئی خرابی پیدا ہو اور نہ کسی طرح کا کوئی فتور آئے۔ اور شہد ایسا کہ جس میں کوئی کدورت اور آمیزش نہ ہو۔ اور دودھ ایسا کہ جس میں کبھی کوئی تغیر اور بدلاؤ نہ آئے۔ جیسا کہ سورة محمد کی آیت نمبر 15 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اور پھر ان نعمتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ایمان والوں کیلئے خوشخبری ‘ اللہ کی عظمت و شان
تشریح : یہ سب باتیں غیب کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ رسول کو وحی کے ذریعے بتاتا ہے اور رسولوں کو بتاتا ہے اور رسول لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو توحید کا وعدہ لینے کے بعد دنیا میں بھیجا جس کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان کو نیکی پر ہی پیدا کیا گیا ہے مگر جس طرح ایک ہی کھیت میں کچھ پودے صحت مند اور کچھ ناقص اگ آتے ہیں اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی کچھ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور کچھ نہیں آئے انہوں نے ایمان کو ترجیح دی اور قائم و دائم رہے تو ایسے ہی لوگوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے کہ آخرت میں ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یعنی وہ غیر محدود اختیارات کا مالک ہے کسی کو مجال نہیں کہ اس کے حکم میں چون و چرا کرسکے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(22:23) فائدہ : آیت 12 میں ہے یدعوا من دون اللہ ما لا یضرہ وما لا ینفعہ اور آیت 13 میں ہے یدعوا لمن ضرہ اقرب من نفعہ۔ یعنی پکارتا ہے اس کو کہ ضرر اس کا قریب تر ہے بہ نسبت اس کے نفع کے ۔ یعنی جہاں تک اس کا مذموم معبود کو پکارنے کا تعلق ہے اس فعل سے نقصان تو لازم آگیا۔ کیونکہ غیر اللہ کو پکارنا حرام ہے اور باعث زیاں ہے۔ جہاں تک اس فعل سے نفع کی امید ہے تو وہ ایک موہوم امر ہے اگر کوئی نفع بالفرض ہو بھی جائے تو وہ من جانب اللہ ہوتا ہے جو سنت اللہ کے تحت اس کی قسمت میں ازل سے لکھا جا چکا ہے ۔ لہٰذا جس من دون اللہ کو یہ پکارتا ہے اس سے نقصان ہی نقصان لازم ہے۔ اس طرح یہ آیت ماقبل سے متضاد نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 16 :
حرف (کنارہ) ‘ اصاب (پہنچ گیا) ‘ انقلب (پلٹ گیا) ‘ الضلال البعید (دور کی گمراہی۔ انتہا درجہ کی گمراہی) ‘ اقرب (زیادہ قریب) ‘ المولی (دوست) ‘ العشیر (ساتھی۔ رفیق) ‘ یظن (وہ گمان کرتا ہے) ‘ یمدد (وہ باندھتا ہے) ‘ یقطع (وہ کاٹتا ہے) ‘ کید (تدبیر) یغظ (غصہ دلاتا ہے) ‘
تشریح آیت نمبر 11 تا 16 :
دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی ڈھنگ سے اچھی یا بری زندگی گذار ہی لیتا ہے۔ وہ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خوب محنت کرتا ہے۔ بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے کوئی کامیاب ہوتا ہے اور کسی کو زندگی بھر حسرتوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس کے ہر عمل کے پیچھے اعتقاد اور یقین…
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ پکے ایمان دار ہیں اور تکلیف و راحت ہر حال میں نیک کام کرتے رہتے ہیں اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو ایسے باغوں میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا حکم دے گا جن باغوں کے درختوں کے نیچے دودھ شہد شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی، آخر آیت میں فرمایا قیامت کے دن اپنے علم اور ارادہ کے موافق اللہ تعالیٰ جزاوسزا کا جوفیصلہ کرے گا وہ ٹل نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
[12] یہ گمان کرنے والا شخص وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اس کی نسبت فرمایا جا رہا ہے کہ جس شخص نے امید و یقین کی جگہ شک و مایوسی کی راہ اختیار کی اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اب اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ایسے شخص کے لئے صرف یہی چارہ کار رہ جاتا ہے کہ گلے میں پھندا ڈال کر زندگی ختم کر ڈالے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
کون خدا تمہیں پسند ہے ؟
(ف 2) اس سے پہلے مشرکین اور ان کے معبؤدوں کا ذکر تھا ، کہ ان کے معبودان باطل مشکلات اور مصائب میں ان کے کام نہیں آسکتے ، اور انکی کوئی مدد نہیں کرسکتے ، اور نہ اس قابل ہیں ، کہ براہ راست انکو کوئی نقصان پہنچا سکیں ، مگر مومنین کا یہ عالم ہے کہ ان کا معبود برحق دنیا میں ان کی راہ نمائی کرتا ہے ، اور مشکلات ومصائب میں ان کی اعانت کرتا ہے ، پھر جب وہ اس زندگی میں کامیاب وکامران رہ کر دوسری دنیا میں پہنچتے ہیں تو ان کے نیک اعمال اور سچے ارمان کے معارضہ میں جنت میں داخل کرتا ہے اور اپنی نوازش پائے اور اسے مفتخر کرتا ہے ۔ اب کہیے کون تمہیں پسند ہے ؟ زندہ اور قدیر خدا جو…
Read the full tafseer →(14) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے پائیں نہریں بہ رہی ہوں گی بیشک اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتا ہے وہ کر گزرتا ہے اور جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے یعنی وہ اپنی بات پوری کرتا ہے کوئی اس کی مزاحمت کرنے والا نہیں ہے وہ جزا اور سزا کا ارادہ کرچکا ہے لہٰذا ! جو وہ ارادہ کرچکا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔ فلا الٰہ الاھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 3۔ اس کے ساتھ کوئی مزاحمت نہیں کرسکتا اور وہ اس جزاء و سزا کا ارادہ کرچکا ہے، پس ضرور ایسا ہی واقع ہوگا۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں پہنچا دے گا :
14۔ بلاشبہ جو لوگ اس کی رضا کے لئے ایمان لاتے اور اچھے عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی انہوں نے دنیا کے عیش و آرام کو رضائے الہی کے لئے قربان کیا اور جس کی چاہت ان کے دل میں تھی وہ یقینا ان کو میسر ہوگئی یعنی وہ مراد کو پہنچے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ان کو حاصل ہوگئی ۔ بلاشبہ قانون الہی میں مشرک کو سزا دینا اور مومن کو جزا دینا طے ہے اور کوئی نہیں جو اس کے کئے گئے فیصلے کو نافذ ہونے سے روک دے اس کے قانون کو رد نہیں کیا جاسکتا وہ صاحب قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
Commentary
(And among men there is one who worships Allah (standing) on the verge - 22:11.) Bukhari and Ibn Abi Haim have related from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ migrated to Madinah, people flocked to him and accepted the new religion. But there were some among them whose conversion to Islam was far from being genuine, and whose sole motive for their action was to seek self-advancement, and they lacked conviction. If, after becoming Muslims, favorable circumstances resulted in an increase in their prosperity and their children, they thought Islam was a very good…
Read the full tafseer →20.“Those who believed and did righteous deeds”are quite different from the wavering Muslims, for they have a firm belief in Allah, His Prophet (peace be upon him) and the Hereafter. Therefore they follow the way of truth both in prosperity and in adversity.
21. That is, Allah's powers are unlimited. He may bestow anything on anyone He wills in this world or in the Hereafter or in both, and bar anything from anyone. None has the power to interfere with what He wills and does.
Read the full tafseer →