Explained with ayahs 11–13
شک کے مارے لوگ
" حرف " کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (ابن عباس سے مروی) ہے کہ اعراب ہجرت کرکے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے۔ ابن حاتم میں آپ سے مروی ہے کہ اعراب حضور ﷺ کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جاکر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھر بار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 18
پہلی آیت میں معبود ان غیر اللہ کے نافع و ضار ہونے کی قطعی نفی کی گئی ہے، کیونکہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کسی نفع و ضرر کی قدرت نہیں رکھتے۔ دوسری آیت میں ان کے نقصان کو ان کے نفع سے قریب تر بتایا گیا ہے، کیونکہ ان سے دعائیں مانگ کر اور ان کے آگے حاجت روائی کے لیے ہاتھ پھیلا کر وہ اپنا ایمان تو فوراً اور یقیناً کھو دیتا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ نفع اسے حاصل ہو جس کی امید پر اس نے انہیں پکارا تھا، تو حقیقت سے قطع نظر، ظاہر حال کے لحاظ سے بھی وہ خود مانے گا کہ اس کا حصول نہ تو یقینی ہے اور نہ قریب الوقوع۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ اس کو مزید فتنے میں ڈالنے کے لیے آستانے پر اس کی مراد بر لائے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
خلاصہ تفسیر
اور بعض آدمی اللہ کی عبادت (ایسے طور پر) کرتا ہے (جیسے کوئی کسی چیز کے) کنارہ پر (کھڑا ہو اور موقع پا کر چل دینے پر تیار ہو) پھر اگر اس کو کوئی (دنیوی) نفع پہنچ گیا تو اس کی وجہ سے (ظاہری) قرار پا لیا اور اگر اس پر کچھ آزمائش ہوگئی تو منہ اٹھا کر (کفر کی طرف) چل دیا (جس سے) دنیا و آخرت دونوں کو کھو بیٹھا یہی ہے کھلا نقصان (دنیا کا نقصان تو دنیاوی آزمائش جو کسی مصیبت سے ہوتی وہ ظاہر ہی ہے اور آخرت کا نقصان یہ ہوا کہ اسلام اور) خدا کو چھوڑ کر اسی چیز کی عبادت کرنے لگا جو (اس قدر عاجز اور بےبس ہے کہ) نہ اس کو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع پہنچا سکتی ہے (یعنی اس کی عبادت نہ کرو تو کوئی…
Read the full tafseer →ید عوا المن ضرہ اقرب من نفعہ لبئس المولی و لبئس العشیر (13)
اس یدعوا کے بارے میں مجھے ان نحویوں کا مذہب قوی معلوم ہوتا ہے جو اس کو سابق الذکر یدعوا کا اعادہ اور بعد کے جملے سے اس کو بالکل غیر متعلق مانتے ہیں۔ اعادہ فعل یہاں اظہار حسرت و افسوس کے لئے ہے لمن ضرۃ یدعوا کا مفعول نہیں بلکہ اوپر والے مفعول مالا یضرۃ ومالا ینفعہ پر ایک قسم کا استدراک ہے اور مقصود اس سے اس کے ضلل بعید ہونے کی وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں صرف یہی نہیں کہ وہ کوئی ضرر یا نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ ستم بالائے ستم ہے کہ ان کا ضرر ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ اگر کسی ایسے کی پناہ ڈھونڈھی جائے جو نہ نفع پہنچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک غیر اللہ کا پجاری قیامت والے دن کہے گا کہ جس کا نقصان، اس کے نفع کے قریب تر ہے، وہ والی اور ساتھی یقینا برا ہے۔ یعنی اپنے معبودوں کے بارے یہ کہے گا کہ وہاں اس کے امیدوں کے محل ڈھے جائیں گے اور یہ معبود، جن کی بات اس کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے عذاب سے اس بچائیں گے، اس کی شفاعت کریں گے، وہاں خود وہ معبود بھی، اس کے ساتھ ہی جہنم کا ایندھن بنے ہونگے مطلب یہ کہ غیر اللہ کو پکارنے سے فوری نقصان تو اس کا ہوا کہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا، یہ قریب نقصان ہے۔ اور آخرت میں تو اس کا نقصان تحقیق شدہ ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
8: اصل میں ان جھوٹے خداؤں میں خود تو نہ کوئی فائدہ پہنچانے کی طاقت ہے، نہ نقصان پہنچانے کی۔ البتہ یہ نقصان پہنچنے کا سبب بن سکتے ہیں، اور وہ اس طرح کہ جو شخص انہیں اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک مانے گا، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کا مستحق ہوگا۔
9: جس کا نقصان فائدے سے زیادہ ہو، وہ نہ مددگار بنانے کے لائق ہے اور نہ ساتھی بنانے کے لائق۔ لہذا ان بتوں سے امیدیں لگانا حماقت کے سوا کچھ نہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ومن الناس ………العشیر (13)
عقیدہ اور نظریہ ایک مومن کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے اور اسی پر مومن کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ ایک مومن کے ماحول میں زندگی کے سمندر میں اضطرابات اور تلاطم آتے اور جاتے رہتے ہیں اور تیز طوفانی ہوائیں چلتی رہتی ہیں لیکن مومن ہے کہ وہ سمندر کے بیچ میں ایک چٹان کو مضبوطی سے پکڑ کر جم جاتا ہے۔ اس کے ماحول کے اردگرد سے ایک ایک سہارا گرتا جاتا ہے لیکن وہ ہے کہ اس نے ایک مضبوط سہارا پکڑ رکھا ہوتا ہے اور اس کے پائوں کو کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔
ایک سچے مومن کی زندگی میں نظریہ کی یہ قدر و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسے اس پر جم جانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ اسے اس پر یقین…
Read the full tafseer →1 یعنی بتوں سے نفع کی تو امید موہوم ہے (بت پرستوں کے زعم کے موافق) لیکن ان کو پوجنے کا جو ضرر ہے وہ قطعی اور یقینی ہے اس لیے فائدہ کا سوال تو بعد کو دیکھا جائے گا، نقصان ابھی ہاتھوں ہاتھ پہنچ گیا۔
2 جب قیامت میں بت پرستی کے نتائج سامنے آئیں گے تو بت پرست بھی یہ کہیں گے " لَبِئْسَ الْمَوْلٰی وَلَبِئْسَ الْعَشِیْرُ " یعنی جن سے بڑی امداد ورفاقت کی توقع تھی وہ بہت ہی برے رفیق اور مددگار ثابت ہوئے کہ نفع تو کیا پہنچاتے الٹا ان کے سبب سے نقصان پہنچ گیا۔
Read the full tafseer →آیت 13 یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّہٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِہٖ ط ”
اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کو معبود کا درجہ دے کر پکارے گا تو اس سے اس کو کچھ نفع تو ملنے والا نہیں ہے ‘ البتہ اس سے نقصان اسے بہر حال مل کر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
11 یعنی اس قسم کے منافقین کو جب اسلام میں داخل ہونے میں کوئی مشکل یا مصیبت نظر آتی ہے، کافروں اور مشرکوں کی طرف سے جانے میں کوئی مادی فائدہ نظر آتا ہے تو فوراً اس کنارے سے اتر کر مشرکوں کی صف میں جا شامل ہوتے ہیں اور ایسے۔۔ یا آستانوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جن کے اختیار میں دوسروں کا نفع و نقصان تو کیا ہوگا وہ اپنی بھی مدافعت نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگوں کا نقصان تو یقینی ہے کہ انہوں نے دنیوی مفاد کی خاطر اپنا ایمان ضائع کردیا اور جس دنیوی فائدہ کی خاطر انہوں نے یہ گمراہی کی راہ اختیار کی۔ وہ فائدہ غیر یقینی ہے کبھی وہ توقع پوری ہو بھی جاتی ہے اگر اللہ کو منظور ہو تو بسا اوقات جس فائدہ کی خاطر اپنا…
Read the full tafseer →18۔ یعنی نہ بڑے کی حیثیت سے کچھ کام آرہا ہے، نہ برابر والے کی حیثیت سے کچھ نفع پہنچا رہا ہے۔ (آیت) ” من ضرہ “۔ جس کا ضرر یعنی جس کا موجب ضرر ہونا، محاورۂ عرب میں بےاصل اور غیر موجود شے پر بھی اطلاق بعید کا ہوتا ہے، بس نفع کا ابعد ہونا بہ معنی اس کے معدوم ہونے کے ہے۔ ھذا علی عادۃ العرب فانھم یقولون لمالایکون اصلا بعیدا من نفسہ کقولہ ذلک رجع بعید اے لارجع اصلا (معالم) کان نفع الصنم بعیدا علی معنی انہ لانفع فیہ اصلا (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…
Read the full tafseer →یدعو لمن ضرہ اقرب من نفعہ وہ عبادت کرتا ہے ایسے کی جس (کی عبادت) کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ
قریب الوقوع ہے۔ یعنی کافر جس کی پوجا کرتا ہے اس کی عبادت کا ضرر اس موہومی فائدے سے زیادہ قریب ہوتا ہے جس کی تمنا کافر کے دل میں ہوتی ہے نفع سے مراد ہے امید سفارش اور بارگاہِ الٰہی تک پہنچنے کا وسیلہ بنانا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ جو چیز بالکل موجود نہ ہو اس کے بعد متعلق بعد کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں چیز بعید ہے یعنی معدوم ہے اللہ نے فرمایا ہے ذٰلِکَ رَجْعٌ بَعِیْدٌیہ لوٹنا بعید ہے یعنی ہو نہیں سکتا چونکہ بتوں سے فائدہ حاصل ہونا ممکن نہیں تھا اس لئے ضَرُّہٗ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعَہٖفرمایا مطلب…
Read the full tafseer →(13) اور یہ بنو حلاف ایسی چیزوں کی عبادت کر رہے ہیں کہ ان کا نقصان بہ نسبت اس کے نفع کے بہت جلد واقع ہونے والا ہے ایسا کارساز بھی بہت برا ہے اور ایسا رفیق بھی برا یعنی جس معبود کی عبادت اس کے پرستش کرنے والے کے لیے نقصان و عذاب کا باعث ہو تو ایسا معبود بہت برا ہے۔
Read the full tafseer →يَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ۔۔ : یعنی نفع تو درکنار ان کے پکارنے میں الٹا نقصان ہے، کیونکہ جو شخص انھیں پکارتا ہے وہ ایمان سے تو یقیناً اور فوراً ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اب رہا ظاہری فائدہ، تو وہ محض ایک خیالی امید ہے جو اس نے اپنے دماغ میں پال رکھی ہے۔ حاصل ہو تو ہو، نہ ہو تو نہ ہو۔ ہو بھی تو ان معبودوں کی طرف سے نہیں ہوگی، انھیں پکارنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
Read the full tafseer →یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّہٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِہٖ (وہ پکارتا ہے اس کو جس کی عبادت کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب الوقوع ہے)
اشکال : اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں اصنام سے نفع و ضرر کی نفی فرمائی اور اس آیت میں دونوں چیزیں ثابت کیں ؟
حل : اگر معنی صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو یہ وہم خود دور ہوجاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کی حماقت یہ بیان کی کہ وہ ایک حماد کی عبادت کرتا ہے جو ذرا بھر نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ حالانکہ کافر کا اعتقاد اس کے متعلق یہ ہے کہ وہ اس کا سفارشی بنے گا۔ پھر فرمایا قیامت کے دن یہ کافر بڑے زور دار انداز سے کہہ اٹھے گا جبکہ وہ بتوں کا نقصان ملاحظہ کرے گا۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
۔ البخاری وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یعبد الہ علی حرف، کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی مدینہ منورہ میں آتا تھا۔ اگر اس کی بیوی بچہ جنتی اور اس کی گھوڑی کے بچہ پیدا ہوتا تھا۔ تو کہتا کہ یہ دین صالح ہے۔ اور اگر اس کی بیوی بچی نہ جنتی اور اس کی گھوڑی بچہ نہ دیتی تو کہتا کہ یہ دین برا ہے۔
ایمان پختہ اور مضبوط ہونا ضروری ہے
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سند صحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوجاتے تھے۔ جب وہ اپنے شہروں کو لوٹتے اور اس سال خوب بارش ہوتی خوب سرسبزی ہوتی اور خوب بچے ہوتے تو کہتے کہ ہمارا دین…
Read the full tafseer →[ يَدْعُوْا : وہ پکارتا ہے ] [ لَمَنْ : ضرور ہی اس کو ] [ ضَرُّهٗٓ: جس کا نقصان ] [ اَقْرَبُ : زیادہ قریب ہے ] [ مِنْ نَّفْعِهٖ : اس کے نفع سے ] [ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى: یقینا بہت ہی برا کارساز ہے ] [ وَلَبِئْسَ الْعَشِيْرُ : اور یقینا بہت ہی برا ساتھی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
طلب دنیا کے لیے اسلام قبول کرنے والوں کی تباہی
صحیح بخاری ج 2 ؍ ص 649 میں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص مدینہ منورہ آیا اس کی بیوی کو حمل تھا اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگیا اور اس کے گھوڑوں کے بھی بچے پیدا ہوگئے تو اس پر وہ کہتا تھا کہ واقعی یہ دین (یعنی اسلام) اچھا دین ہے اور اگر بیوی کے ہاں لڑکا پیدا نہ ہوا اور گھوڑی نے بچے نہ دیئے تو کہتا تھا کہ یہ اچھا دین نہیں ہے اس قسم کے لوگوں کے بارے میں آیت بالا نازل ہوئی۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ تفسیر ابن مردویہ حضرت ابو سعید ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی نے اسلام قبول کرلیا اس کے بعد اس کی بینائی جاتی رہی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
مذمت مذبذبین و مترد دین دربار دین متین
قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف .... الیٰ .... ولبئس العشیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین اور مجادلین کی مذمت تھی۔ جو کھلم کھلا اور صریح طور پر قیامت کے منکر تھے۔ اب ان آیات میں مذبذبین اور متردوین کی مذمت بیان کرتے ہیں جو محض دنیاوی طمع پر اسلام لے آئے ہیں مگر ان کے دل میں ابھی تک تردد باقی ہے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مدینہ میں کچھ لوگ آتے اور اسلام لے آتے پس اگر انہیں وہاں مال اور اولاد کی ترقی معلوم ہوتی تو کہتے دین اسلام اچھا دین ہے اور اگر کچھ اس کے خلاف ہوتا تو کہتے کہ اسلام کچھ اچھا دین نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں متزلزل اور…
Read the full tafseer →22:۔ ” یَدْعُوْا لمَنْ ضَرُّهٗ الخ “ لام ابتدائیہ ہے جملہ استینافیہ ہے اس میں غیر اللہ کی پکار اور دعاء کا بد انجام اور اس کا بہت بڑی گمراہی ہونا واضح کیا گیا ہے استیناف یبین مال دعائہ و عبادتہ غیر اللہ تعالیٰ ویقرر کون ذلک ضلالا بعیدا (روح ج 17 ص 125) ۔ اس آیت اور اس سے پہلی آیت میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلی آیت میں معبودان باطلہ کے نافع اور ضار ہونے کی نفی کی گئی ہے مگر اس آیت میں ان کے ضار یعنی نقصان رساں ہونے کا اثبات ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جن معبودان باطلہ کو مشرکین مختار نفع و نقصان اور متصرف سمجھ کر پکارتے ہیں۔ بیشک وہ عاجز و درماندہ ہیں اور نفع یا نقصان پہنچانا ان کی قدرت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–17
ربط آیات :
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔
جھگڑالو لوگ :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…
Read the full tafseer →يَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّہٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِہٖ 0ۭ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَلَبِئْسَ الْعَشِيْرُ 13
قرب
الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ «3» ، وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة .
نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35]
( ق ر ب ) القرب
والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ قرب مکانی کے متعلق فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
تفسیر : قیامت کے دلائل بیان کر کے پھر انہیں بےہودہ لوگوں کے جاہلانہ حجت و مجادلہ کا ذکر فرماتا ہے۔ قال و من الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولاھدی ولا کتاب منیر۔ بعض کہتے ہیں پہلی آیت ومن الناس الخ نضربن حارث کے حق میں اور یہ ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں دونوں جگہ نضر مراد ہے محض ذم کے مبالغہ کے لیے اس کا اعادہ کیا۔ انسان کسی مقصد پر جو حجت قائم کرتا ہے یا کوئی عقیدہ دل میں جماتا ہے۔ تو یا علم بالبد یہیات یا استدلال و نظر سے یا وحی والہام سے پھر جس کو یہ تینوں باتیں کسی بات کی طرف ہدایت نہ کریں اور وہ اس پر جھگڑے تو سخت نادان ہے بغیر علم میں بدیہیات ولا ھدی میں نظریات اور ولا کتاب…
Read the full tafseer →یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّہٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَفْعِہٖ ط لَبِئْسَ الْمَوْلٰی وَلَبِئْسَ الْعَشِیْرُ ۔ (الحج : 13)
(وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جن کا ضرر ان کے نفع سے زیادہ قریب ہے، بہت برا ہے ان کا مولیٰ اور برے ہیں ان کے ساتھی۔ )
مشرکین کی حماقت
گزشتہ آیت میں فرمایا کہ مشرکین کی انتہائی گمراہی ملاحظہ ہو کہ یہ ان چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان دے سکتی ہیں اور ان کے لیے جس پروردگار کو چھوڑا ہے وہ نہ صرف نفع و ضرر پر قادر ہے بلکہ اس کی قدرتیں بےپناہ ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا گیا ہے کہ کسی ایسی ذات کو پکارنا جو نفع و ضرر پر قادر نہ ہو یقینا حماقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : انسان جب اپنے رب کی بندگی چھوڑتا ہے تو پھر دربدر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا اور جگہ جگہ ماتھا ٹیکتا ہے۔
مشرک اپنی مفاد پرستی کی وجہ سے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے رب سے مانگنے اور اس کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ عجلت پسندی کی وجہ سے ان کو پکارتا ہے جو نفع و نقصان پہچانے پر قدرت نہیں رکھتی۔
جلد باز اور مفاد پرست طبیعت کی وجہ سے مشرک اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ جس مزار یا بت کے سامنے اپنی حاجت پیش کررہا ہے وہ تو اسے نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ یہ فکر و عمل اس قدر گمراہ کن ہے کہ آدمی ہدایت قبول کرنا تو درکنار حق بات سننا بھی گوارا…
Read the full tafseer →کافر جماد کا عابد :
13: یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّہٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِہٖ (وہ پکارتا ہے اس کو جس کی عبادت کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب الوقوع ہے)
اشکال : اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں اصنام سے نفع و ضرر کی نفی فرمائی اور اس آیت میں دونوں چیزیں ثابت کیں ؟
حل : اگر معنی صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو یہ وہم خود دور ہوجاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کی حماقت یہ بیان کی کہ وہ ایک حماد کی عبادت کرتا ہے جو ذرا بھر نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ حالانکہ کافر کا اعتقاد اس کے متعلق یہ ہے کہ وہ اس کا سفارشی بنے گا۔ پھر فرمایا قیامت کے دن یہ کافر بڑے زور دار انداز سے کہہ اٹھے گا جبکہ وہ بتوں کا نقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ یدعوالمن ضرہ اقرب من نفعہ، یہ آیت مشکلات قرآن میں سے شمار کی جاتی ہے اس میں چند سوالات ذکر کیے جاتے ہیں۔
سوال : پہلی آیت مٰں اللہ نے فرمایا، یدعوا من دون اللہ، ،، اور اس آیت میں ارشاد فرمایا ، لمن ضرہ اقرب من نفعہ، ان دونوں آیات میں توفیق کیسے ممکن ہے ؟۔
جواب : پہلی آیت میں ، یدعوا من دون اللہ مالایضرہ، اس آیت سے مراد ہے کہ ترک عبادت سے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ یعنی اگر وہ بتوں کی عبادت نہیں بھی کرے گا تو وہ بت اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے اور دوسری آیت میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ اس کا ان بتوں کی عبادت کرنا زیادہ ضرررساں ہے۔
سوال : یہاں کیسے فرمایا کہ ، لمن ضرہ اقرب من نفعہ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 13:۔ صحیح بخاری ‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ 2 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس کے کچھ دیہاتی لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آن کر اسلام لے آتے تھے اور پھر اپنے اپنے گاؤں کو چلے جاتے تھے ‘ گاؤں میں چلے جانے کے بعد اگر ان کے مال یا اولاد میں کچھ ان کو بہبودی نظر آتی تھی تو اسلام پر قائم رہتے تھے اور کہتے تھے بلاشک یہ دین اچھا ہے اور اگر اسلام کے بعد اتفاق سے کوئی سختی پیش آتی تھی تو اسلام کی مذمت کرنے لگتے تھے اور اسلام سے پھرجاتے تھے ایسے لوگوں کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آیت 11
یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضعیف الایمان ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، ایمان کی بشاشت اس کے دل میں جاگزیں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ یا تو خوف سے ایمان لایا ہے یا محض عادت کی بنا پر اور وہ بھی اس طریقے سے کہ وہ سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ (فان اصابہ خیر اطمان بہ) یعنی اگر اسے وافر رزق مل رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچی، تو وہ ایمان پر نہیں، بلکہ پہنچنے والی بھلائی پر مطمئن ہوتا ہے۔۔۔. اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات اسے عافیت میں رکھتا ہے اور اسے ایسے فتنوں میں مبتلا نہیں کرتا جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں۔
(وان اصابتہ فتنٓ) اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی محبوب چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
32 غیر اللہ کو پکارنا انتہاء درجے کی گمراہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص اللہ کے سوا ایسی بےحقیقت چیزوں کو پکارتا ہے جو اس کو نہ کوئی نفع دے سکیں نہ نقصان۔ یہی ہے انتہاء درجے کی گمراہی کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی ہستیوں کو پوجے پکارے جن کے معبود بننے کا کوئی امکان ہی نہ ہو۔ کہ معبود برحق تو بہرحال ایک ہی ہے۔ اور جن میں کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسی بےحقیقت چیزوں کو معبود قرار دینا اور انکو پوجنا پکارنا دائمی ہلاکت و تباہی کا سامان اور خود اپنی تذلیل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت
تشریح : جب انسان نے خود پر غور کیا تو معلوم ہوا یہ تو بڑی ہی عجیب و غریب فیکٹری ہے۔ جس میں جدید سائنس کی رو سے ایک سو چھبیس عناصر شامل ہیں۔ آگ ‘ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی ‘ ہائیڈروجن ‘ ریڈیم ‘ کاربن ‘ نائٹروجن وغیرہ وغیرہ اور یہی اجزا ہر جاندار چرند پرند غرض ذی روح اور غیر ذی روح سب انہیں کا مرکب ہیں۔ فرق انسان میں اور باقی تمام مخلوقات میں صرف یہ ہے کہ انسان کو رب العزت نے علم اور ارادہ دیا ہے جو کہ اور کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔ اسی علم کی وجہ سے آج انسان کو یہ نکتہ معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق میں ڈارون کا اصول غلط ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی نفع تو درکنار ان کے پکارنے میں الٹا نقصان ہے کیونکہ جو شخص انہیں پکارتا ہے وہ ایمان سے تو یقیناً اور فوراً ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اب رہا ظاہری فائدہ جس کے لئے پکارتا ہے۔ سو وہ ایک موسوم امر ہے۔ حاصل ہو تو ہو، نہ ہو تو نہ ہو اس پکارنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(22:23) فائدہ : آیت 12 میں ہے یدعوا من دون اللہ ما لا یضرہ وما لا ینفعہ اور آیت 13 میں ہے یدعوا لمن ضرہ اقرب من نفعہ۔ یعنی پکارتا ہے اس کو کہ ضرر اس کا قریب تر ہے بہ نسبت اس کے نفع کے ۔ یعنی جہاں تک اس کا مذموم معبود کو پکارنے کا تعلق ہے اس فعل سے نقصان تو لازم آگیا۔ کیونکہ غیر اللہ کو پکارنا حرام ہے اور باعث زیاں ہے۔ جہاں تک اس فعل سے نفع کی امید ہے تو وہ ایک موہوم امر ہے اگر کوئی نفع بالفرض ہو بھی جائے تو وہ من جانب اللہ ہوتا ہے جو سنت اللہ کے تحت اس کی قسمت میں ازل سے لکھا جا چکا ہے ۔ لہٰذا جس من دون اللہ کو یہ پکارتا ہے اس سے نقصان ہی نقصان لازم ہے۔ اس طرح یہ آیت ماقبل سے متضاد نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 16 :
حرف (کنارہ) ‘ اصاب (پہنچ گیا) ‘ انقلب (پلٹ گیا) ‘ الضلال البعید (دور کی گمراہی۔ انتہا درجہ کی گمراہی) ‘ اقرب (زیادہ قریب) ‘ المولی (دوست) ‘ العشیر (ساتھی۔ رفیق) ‘ یظن (وہ گمان کرتا ہے) ‘ یمدد (وہ باندھتا ہے) ‘ یقطع (وہ کاٹتا ہے) ‘ کید (تدبیر) یغظ (غصہ دلاتا ہے) ‘
تشریح آیت نمبر 11 تا 16 :
دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی ڈھنگ سے اچھی یا بری زندگی گذار ہی لیتا ہے۔ وہ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خوب محنت کرتا ہے۔ بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے کوئی کامیاب ہوتا ہے اور کسی کو زندگی بھر حسرتوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس کے ہر عمل کے پیچھے اعتقاد اور یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(ف 1) شان نزول۔
صحیح و بخاری وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس کے کچھ دیہاتی لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں آن کر اسلام لے آتے تھے اور پھر اپنے اپنے گاؤں کو چلے جاتے تھے گاؤں میں چلے جانے کے بعد اگر ان کے مال یا اولاد میں کچھ ان کو بہبودی نظر آتی تھی تو اسلام پر قائم رہتے تھے اور کہتے تھے بلاشک یہ دین اچھا ہے اور اگر اسلام کے بعد اتفاق سے کوئی سختی آجاتی تو اسلام کی مذمت کرنے لگتے تھے اور اسلام سے پھرجاتے تھے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بعضے دیہاتی لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا طریقہ یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
[12] یہ گمان کرنے والا شخص وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اس کی نسبت فرمایا جا رہا ہے کہ جس شخص نے امید و یقین کی جگہ شک و مایوسی کی راہ اختیار کی اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اب اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ایسے شخص کے لئے صرف یہی چارہ کار رہ جاتا ہے کہ گلے میں پھندا ڈال کر زندگی ختم کر ڈالے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
کون خدا تمہیں پسند ہے ؟
(ف 2) اس سے پہلے مشرکین اور ان کے معبؤدوں کا ذکر تھا ، کہ ان کے معبودان باطل مشکلات اور مصائب میں ان کے کام نہیں آسکتے ، اور انکی کوئی مدد نہیں کرسکتے ، اور نہ اس قابل ہیں ، کہ براہ راست انکو کوئی نقصان پہنچا سکیں ، مگر مومنین کا یہ عالم ہے کہ ان کا معبود برحق دنیا میں ان کی راہ نمائی کرتا ہے ، اور مشکلات ومصائب میں ان کی اعانت کرتا ہے ، پھر جب وہ اس زندگی میں کامیاب وکامران رہ کر دوسری دنیا میں پہنچتے ہیں تو ان کے نیک اعمال اور سچے ارمان کے معارضہ میں جنت میں داخل کرتا ہے اور اپنی نوازش پائے اور اسے مفتخر کرتا ہے ۔ اب کہیے کون تمہیں پسند ہے ؟ زندہ اور قدیر خدا جو…
Read the full tafseer →(13) وہ ایسے کی عبادت کررہا ہے جس کی عبادت کا ضرر جو کہ واقعی ہے اس کی عبادت کے موہوم اور غیر واقع نفع سے قریب تر ہے کچھ شک نہیں ایسا مددگار اور کارساز بھی برا اور ایسا رفیق اور دوست بھی برا۔ یعنی ان کی عبادت عذاب الٰہی کا سبب ہوتی ہے اور وہ عذاب واقعی ہے اور یہ عذاب الٰہی تو قریب ہے اور نفع مفقود ہے۔
قیامت میں جب بت پرستی کے نتائج روبرو آئیں گے تو اس وقت منکر بھی کہیں گے برا مولا اور برا دوست یعنی بالا دست ہوکر بھی برا اور دوست ہوکر بھی برا۔ نہ بڑا ہوکر کام آئے نہ دوست بن کر کام آئے۔
نعوذ باللہ من ذلک۔ پہلی آیات میں نفع اور ضرر کی نفی فرمائی تھی اس آیت سے نفع و ضرر کا اثبات معلوم ہوتا ہے ہم…
Read the full tafseer →ف 2۔ نہ مولی یعنی بڑا ہو کر کام آوے اور نہ عشیر یعنی برابر ہو کر کام آوے۔
Read the full tafseer →جس کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب ہوگیا وہ بھی اچھا ساتھی ہوگا :
13۔ گزشتہ آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا نہ کوئی حقیقی ‘ ’ نافع “ ہے اور نہ حقیقی ” ضار “ اور جو شخص کسی کو اللہ تعالیٰ کے سوا نافع یا ضار سمجھے وہ شرک کا مرتکب ہوا اور زیر نظر آیت میں بیان ہوا کہ جو شخص اسے پکارتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سے قریب تر ہے تو اس طرح گویا دونوں آیتوں میں تضاد ہوگیا ؟ کیونکہ اس آیت میں نفع وضرر کو تسلیم کرلیا گیا ؟ سمجھ لینا چاہئے کہ حقیقت میں ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں اور بلاشبہ کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان گویا نہ وہ کسی کا کچھ بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
Commentary
(And among men there is one who worships Allah (standing) on the verge - 22:11.) Bukhari and Ibn Abi Haim have related from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ migrated to Madinah, people flocked to him and accepted the new religion. But there were some among them whose conversion to Islam was far from being genuine, and whose sole motive for their action was to seek self-advancement, and they lacked conviction. If, after becoming Muslims, favorable circumstances resulted in an increase in their prosperity and their children, they thought Islam was a very good…
Read the full tafseer →18. (Verses 12-13)clarify two things about the deities whom the mushriks invoke. Firstly, they can do a person neither any good nor any harm. Nay, it is more probable that they do harm rather than good. For when the mushrik invokes other deities than Allah, he loses his faith forthwith. Secondly, the mushrik himself knows that there is no guarantee or probability of any good from his god who is utterly helpless and powerless. As regards to the occasional grant of his request through his god, this is done by Allah merely to test his faith.
19. That is, the one, who leads a person to the way of…
Read the full tafseer →