Taa-Haa 20:34

Taa-Haa · from ayah 34

20:34

وَّنَذْكُرَكَ كَثِیْرًا ۟ؕوَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And remember You much.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:34

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بکثرت تیری یاد کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کثرت سے آپ کا ذکر کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بکثرت تیری یاد کریں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم کثرت سے تیرا ذکر کیا کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے بہت یاد کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور خوب خوب تے را چرچا کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور زیادہ سے زیادہ تیرا چرچا پھیلائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تجھے خوب خوب یاد کریں

— مولانا اسحاق مدنی

اور تیرا ذکر خوب کثرت سے کریں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تیرا ذکر کریں کثرت کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تجھے کثرت سے یاد کریں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and remember You in abundance.

— Muhammad Taqi Usmani

and remember You in abundance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And remember You much,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And remember You much.

— Saheeh International

and remember you often.

— Muhammad Sarwar

And remember Thee oft.

— Muhammad Habib Shakir

And may make mention of Thee oft.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 20:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–35

معجزات کی نوعیت۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لئے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کرلیں۔ فرعون کے سامنے کلمہ حق۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب ؒ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–37

سورة طٰهٰ 17 اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو ایک ایک کر کے وہ احسانات یاد دلاتا ہے جو پیدائش کے وقت سے لے کر اس وقت تک اس نے ان پر کیے تھے۔ ان واقعات کی تفصیل سورة قصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف اشارات کیے گئے ہیں جن سے مقصود حضرت موسیٰ کو یہ احساس دلانا ہے کہ تم اسی کام کے لیے پیدا کیے گئے ہو اور اسی کام کے لیے آج تک خاص طور پر سرکاری نگرانی میں پرورش پاتے رہے ہو جس پر اب تمہیں مامور کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–35

صالح رفقاء ذکر و عبادت میں بھی مددگار ہوتے ہیں كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا، وَّنَذْكُرَكَ كَثِيْرًا، یعنی حضرت ہارون کو وزیر اور شریک نبوت بنانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم کثرت سے آپ کی تسبیح و ذکر کیا کریں گے۔ یہاں سے یہ سوال ہوسکتا ہے کہ تسبیح و ذکر تو ایسی چیز ہے کہ ہر انسان تنہا بھی جتنا چاہے کرسکتا ہے اس کے لئے کسی ساتھی کے عمل کا کیا دخل لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر و تسبیح میں بھی سازگار ماحول اور اللہ والے ساتھیوں کا بڑا دخل ہوتا ہے جس کے ساتھی اللہ والے نہ ہوں وہ اتنی عبادت نہیں کرسکتا جتنی وہ کرسکتا ہے جس کا ماحول اللہ والوں کا اور ساتھی ذاکر شاغل ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–36

آیت 25-26 نبی اور دنیا پرست لیڈروں میں فرق حضرت موسیٰ کے علم میں جو نیہ یہ بات آئی کہ ان پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گی ہیں اور اب انہیں فرعون کے پاس خدا کے رسول کی حیثیت سے انذار و تبلیغ کے لئے جانا ہے تو انہوں نے فوراً یہ دعا کی جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کے لفظ لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس بوجھ کو کتنا بھاری محسوس کیا ہے اور کس دل سوزی کے ساتھ اس بارگراں کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اللہ تعالیٰ سے مدد و رہنمائی کے لئے التجا کی ہے۔ دنیا پرست لیڈروں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ لیڈری ہی کی ہوس میں جیتے اور اسی کے عشق میں مرتے ہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا سینہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–34

34۔ 1 یہ دعاؤں کی علت بیان کی کہ اس طرح ہم تبلیغ رسالت کے ساتھ ساتھ تیری تسبیح اور تیرا ذکر بھی زیادہ کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–38

11: اگرچہ تسبیح اور ذکر تنہا بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اچھے رفقاء میسر ہوں، اور ماحول ساز گار ہو تو یہ رفاقت خود بخود اس تسبیح اور ذکر کا داعیہ بن جاتی ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–34

واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 33–34

8 یعنی دونوں مل کر دعوت و تبلیغ کے موقع پر بہت زور شور سے تیری پاکی اور کمالات بیان کریں اور مواضع دعوت سے قطع نظر جب ہر ایک کو دوسرے کی معیت سے تقویت قلب حاصل ہوگی، تو اپنی خلوتوں میں نشاط و طمانیت کے ساتھ تیرا ذکر بکثرت کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–34

آیت 30 ہٰرُوْنَ اَخِی ” آپ علیہ السلام نے اس وزارت کے لیے اپنے بھائی کا نام بھی خودہی تجویز کردیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

20 سیدنا موسیٰ کے دل میں ہیأات :۔ اللہ کا یہ حکم سن کر آپ نے اپنی حالت کا جائزہ لیا اور چند معروضات پیش کردیں۔ ایک یہ کہ مجھے اتنا حوصلہ عطا فرما کہ میں یہ کام سرانجام دے سکوں اور مجھے اس کام کے کرنے کی توفیق عطا فرما۔ دوسرے یہ کہ میری زبان سے لکنت دور کردے۔ کہتے ہیں کہ بچپن میں آپ نے اپنی زبان پر آگ کا کوئلہ رکھ لیا تھا جس سے آپ کی زبان میں گرہ پڑگئی تھی اور آپ ہکلا کر بات کرتے تھے۔ اس گرہ کو دور کردینے کی آپ نے درخواست کی تاکہ میں وضاحت سے بات کرسکوں اور لوگ میری بات آسانی سے سمجھ سکیں اور تیسرے یہ کہ اس گرانار ذمہ داری کے کام کے لئے مجھے ایک مددگار بھی عطا فرما اور چوتھے یہ کہ اس کام کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

29۔ دو آدمی مل کر تبلیغ و دعوت کا کام قدرۃ زیادہ قوت سے اور تسبیح وتذکیر کا کام بہتر طریق پر کرسکتے ہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دونوں آیتوں میں دلالت ہے اس پر کہ اسباب سے بھی اکابر کا قصد دین اور استعانت فی الدین ہی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–42

آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونذکرک کثیرا۔ اور تیری یاد بہت کریں۔ کلبی نے کہا تسبیح سے مراد نماز پڑھنا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو مددگار بنا دینے کی درخواست اس لئے کی کہ باہم تعاون سے امور خیر کی تکمیل میں سہولت پیدا ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–35

(29۔ 35) اور ہارون ؑ کو میرا معاون مقرر کردیجیے اور ان کے ذریعے سے میری قوت کو مضبوط کردیجیے اور میری کام یعنی فرعون کی جانب تبلیغ رسالت میں ان کو میرے ساتھ شامل کردیجیے تاکہ ہم دونوں مل کر تیری خوب نمازیں زبان وقلب سے پڑھیں اور کثرت سے تیرا ذکر زبان وقلب سے کریں یقینا آپ ہمارے حال سے واقف ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 33–34

كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا۔۔ : یعنی ان دعاؤں سے ہمیں کوئی دنیاوی مفاد مقصود نہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے تعاون سے تیری تسبیح اور تیرا ذکر بہت زیادہ کرسکیں گے، مثلاً دنیوی ضروریات آپس میں تقسیم کرلیں گے تو تسبیح و ذکر اور دعوت کے لیے زیادہ وقت نکل سکے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–35

کی نسبحک کثیرا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم تیرے لیے کثرت سے نماز پڑھیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ تسبیح باللسان مراد ہو یعنی ہم تیری ہر اس چیز سے پاکیزگی بیان کرتے ہیں جو تیری شان جلال کے موافق و مطابق نہ ہو، کثیرا۔ مصدر مخدوف کی صفت ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ وقت کی صفت ہو۔ اور ادغام عمدہ ہے۔ نذکر کثیراً بھی اسی طرح ہے انک کنت بنا بصیرا۔ خطابی نے کہا : البصیر، بمعنی المبصر ہے۔ البصیر وہ عالم جو مخفی امور کو جاننے والا ہو معنی ہے ہمیں جاننے والا۔ اور ہمارے بچپن میں ہمیں نعمتیں بہم پہنچانے والا۔ پس تو نے پہللے ببھی ہم پر احسان کیا پس اب بھی ہم پر احسان فرما اے ہمارے رب !

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–47

1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–36

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا شرح صدر اور طاقت لسان کے لیے دعا کرنا اور اپنے بھائی ہارون کو شریک کار بنانے کی درخواست کرنا اور دعا کا قبول ہونا جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرما کر اور دو بڑی بڑی نشانیاں (عصا اور یدبیضاء) عطا فرما کر فرعون کے پاس جانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب جس کام کا حکم فرمایا ہے اس کے لیے میرا سینہ کھول دیجئے اور میرے کام کو آسان فرمائیے۔ شرح صدر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا (اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ) (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا) جب شرح صدر ہوتا ہے تبھی کام کرنے کی ہمت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 34–35

19:۔ یہ مذکورہ دعاؤں کی غایت ہے تسبیح اور ذکر سے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت مراد ہے۔ والمراد ما یکون منھما فی تضاعیف اداء الرسالۃ و دعوۃ المردۃ العتاۃ الی الحق (روح ج 16 ص 185) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–36

ربط آیات : موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے سفر کرتے ہوئے وادی مقدس طویٰ میں پہنچے تو وہاں پر آپ کے سامنے حجاب ناری یا حجاب نوری ظاہر ہوا ، اور اللہ نے آپ سے کلام کیا۔ پھر اللہ نے اپنی واحدنیت کا ذکر کرکے حکم دیا کہ اے موسیٰ خاص میری عبادت کرو ، نماز قائم کرو اور وقوع قیامت پر یقین رکھو۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ وقوع قیامت کے منکر یا اس میں شک وتردد کا شکار ہیں آپ ان سے علیحدگی اختیار کریں۔ فرمایا ، قیامت کے دن ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی لاٹھی کے متعلق سوال کیا اور پھر لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ ظاہر کیا۔ اللہ نے یدبیضا کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّنَذْكُرَكَ كَثِيْرًا۝ 34ۭ اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيْرًا۝ 35 بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به «2» ، وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–43

تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–35

کَیْ نُسَبِّحَکَ کَثِیْرًا۔ وَّنَذْکُرَکَ کَثِیْرًا۔ اِنَّکَ کُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا۔ (طٰـہٰ : 33 تا 35) (تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ تیری تسبیح کریں۔ اور زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر کریں۔ بیشک تو ہمارا نگران رہا ہے۔ ) تسبیح ذکر کا مفہوم حضرت ہارون (علیہ السلام) کو شریک کار بنائے جانے کی درخواست اس لیے ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ تیری تسبیح اور زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر کرسکیں۔ تسبیح سے مراد یہ ہے کہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی شان، اس کی صفات اور اس کی مرضیات اور احکام کے منافی ہیں۔ ہم ہر حالت میں ان کی نفی کریں۔ اور جو چیزیں اس کی شان، اس کی صفات اور اس کی مرضیات اور احکام کے موافق ہیں ان کا اثبات کریں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–35

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور دوسری التجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کے حضور یہ التجا بھی کی کہ میرے رب میرے اہل میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دیجیے میرے بھائی کے ساتھ میری کمر کو مضبوط کیجئے اور اسے میرے کام میں شریک بنا دیں تاکہ ہم کثرت کے ساتھ تیری حمد اور ذکر کریں بلاشبہ تو ہمیں اچھی طرح دیکھنے والا ہے۔ حضرت ہارون موسیٰ (علیہ السلام) سے تقریباً تین سال بڑے تھے فرعون کے مظالم اور حالات کی سنگینی کے باعث حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پشتی بانی اور کام میں وسعت پیدا کرنے کے لیے اپنے رب کے حضور یہ دعا کی کہ میرے رب میرے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: وَّنَذْکُرَکَ کَثِیْرًا (اور تیری بہت یاد کریں) نمازوں میں اور نمازوں سے باہر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34۔ ونذکرک کثیر، ، ہم تیری ہی حمد کرتے ہیں اور تیری ثناء کرتے ہیں جن نعمتوں کا ولی بنایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–37

30 ذکر و تسبیح کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے ذکر و تسبیح اور خاص کر اجتماعی ذکر و تسبیح کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ سو اس ارشاد سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تسبیح و تقدیس اور اجتماعی ذکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ " تاکہ ہم دونوں تیرا ذکر کریں " کہ تیری تسبیح و تقدیس اور تیرا ذکر ہی شاہ کلید اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ کیونکہ تسبیح میں تنزیہ ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ کی ہر نقص و عیب اور شائبہ شرک و ضعف سے۔ اور تسبیح کے ساتھ ذکر میں اشارہ ہے اس کی صفات کمال کی طرف۔ سو وہی ہے جو ہر نقص و عیب سے پاک اور ہر خوبی و کمال کا مالک ہے۔ اور وہی مدد کرسکتا ہے اپنے بندے کی۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–48

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–35

ف 11 یعنی جب ہم بچے تھے اس وقت بھی تو نے ہماری پرورش کی اور ہمیں دشمنوں سے محفوظ رکھا اب بھی ہم پر احسان فرما اور فرعون کے شر سے محفوظ رکھ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 33–35

(20:33) کی۔ مضارع کو نصب دیتا ہے اسی وجہ سے نسبحک ونذکرک منصوب ہیں۔ تاکہ ہم خوب کثرت سے تیری پاکی بیان کریں اور تیرا ذکر کریں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–46

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–38

[5] یعنی میری زبان کی لکنت دور کردے کہ خطاب و کلام پوری طرح رواں ہوجائے اور میری بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–34

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–35

ف 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈر جانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے، اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ڈرنا ہے جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبرا جانا۔ حدیثوں میں آیا ہے، سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس لئے ڈر گئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں الامنین فرمانے سے تسلی دینا اس طرف مشیر ہے۔ 7۔ یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم دونوں مل کر تیرا بہت زیادہ ذکر کرسکیں گے : 34۔ تسبیح کے بعد ذکر کا لفظ بیان کرکے یہ وضاحت فرما دی گئی کہ تسبیح اور ذکر ایک نہیں بلکہ دو چیزیں ہیں اور دونوں کے ملنے سے عبادت اور نماز کا تصور تکمیل پاتا ہے ، تسبیح کیا ہے ؟ انبیائے کرام کے لئے فریضہ نبوت و رسالت کی ادائیگی اور ہمارے تمہارے لئے جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی شان ، اس کی صفات اور اس کی مرضیات و احکام کے موافق ہیں ان کا اثبات اور ان کا اظہار کرنا ذکر ہے اور دونوں چیزیں مل کر ہی عبادت کہلاتی ہیں کیونکہ فقط نفی اور فقط اثبات کوئی شے نہیں کیونکہ نہ اس سے عقیدہ بنتا ہے اور نہ ہی کردار ، ہاں ! نفی اثبات پر مقدم ہے جب کہ ہم ماسوا اللہ سے کفر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–35

Good companions are a help in the better performance of worship and Dhikr (remembrance) كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرً‌ا وَنَذْكُرَ‌كَ كَثِيرً‌ا (So that we proclaim Your purity a lot and remember You a lot - 20:33, 34). The advantage of making Sayyidna Harun a Wazir and a partner in prophethood would be that both of them together would be able to pray to Allah Ta` ala and glorify His name more often. Here the question may arise that a man by himself can also pray as often as he desires, so where was the need for a companion? The answer to this is that good companions and a conducive environment…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–37

17. Allah recounts the favors He had shown to Prophet Moses (peace be upon him) since his birth in order to impress upon him the fact that he had been brought up under divine care right from his birth for the purpose of appointing him as a Messenger. Here mere references have been made but in Surah Al-Qasas details of the favors have been given.

Read the full tafseer →