هٰرُوْنَ اَخِی ۟ۙهٰرُوۡنَ اَخِى
(یعنی) میرے بھائی ہارون کو
— Fateh Muhammad Jalandhari
Aaron, my brother.
— Saheeh International
Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz
هٰرُوْنَ اَخِی ۟ۙهٰرُوۡنَ اَخِى
(یعنی) میرے بھائی ہارون کو
— Fateh Muhammad Jalandhari
Aaron, my brother.
— Saheeh International
Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah Taa-Haa
ہارونؑ، جو میرا بھائی ہے
(یعنی) میرے بھائی ہارون کو
یعنی میرے بھائی ہارون ؑ کو
یعنی ہارون کو جو میرے بھائی ہیں۔
وہ کون میرا بھائی ہارون،
(وہ) میرا بھائی ہارون ؑ ہو،
ہارون کو، جو میرا بھائی ہے۔
ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔
میرے بھائی ہارون کو
یعنی میرے بھائی ہارون ؑ کو
(یعنی) ہارون کو کہ میرے بھائی ہیں
میرے بھائی ہارون کو
یعنی میرے بھائی ہارون کو۔
Aaron, my brother.
that is, Harun, my brother.
that is, Harun, my brother.
"Harun, my brother."
Aaron, my brother.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Aaron, my brother.
Let it be my brother Aaron
Haroun, my brother,
Harun, my brother.
"Aaron, my brother;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 22–35
معجزات کی نوعیت۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لئے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کرلیں۔ فرعون کے سامنے کلمہ حق۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب ؒ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة طٰهٰ 16 بائیبل کی روایت کے مطابق حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے تین برس بڑے تھے (خروج 77)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
حضرت ہارون ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ سے تین یا چار سال بڑے تھے، اور تین سال پہلے ہی وفات ہائی۔ جس وقت موسیٰ ؑ نے یہ دعا مانگی وہ مصر میں تھے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی دعا پر ان کو بھی نبی بنادیا تو بذریعہ فرشتہ ان کو بھی مصر ہی میں اس کی اطلاع مل گئی جب موسیٰ ؑ کو مصر میں فرعون کی تبلیغ کے لئے روانہ کیا گیا تو ان کو یہ ہدایت کردی گئی کہ وہ مصر سے باہر ان کا استقبال کریں اور ایسا ہی واقع ہوا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
آیت 25-26 نبی اور دنیا پرست لیڈروں میں فرق حضرت موسیٰ کے علم میں جو نیہ یہ بات آئی کہ ان پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گی ہیں اور اب انہیں فرعون کے پاس خدا کے رسول کی حیثیت سے انذار و تبلیغ کے لئے جانا ہے تو انہوں نے فوراً یہ دعا کی جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کے لفظ لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس بوجھ کو کتنا بھاری محسوس کیا ہے اور کس دل سوزی کے ساتھ اس بارگراں کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اللہ تعالیٰ سے مدد و رہنمائی کے لئے التجا کی ہے۔ دنیا پرست لیڈروں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ لیڈری ہی کی ہوس میں جیتے اور اسی کے عشق میں مرتے ہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا سینہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
32۔ 1 کہتے ہیں کہ موسیٰ ؑ جب فرعون کے شاہی محل میں زیر پرورش تھے تو کھجور یا موتی کی بجائے آگ کا انگارا منہ میں ڈال لیا تھا جس سے ان کی زبان جل گئی اور اس میں لکنت پیدا ہوگئی (ابن کثیر) جب اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ فرعون کے پاس جا کر میرا پیغام پہنچاؤ تو حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں دو باتیں آئیں ایک تو یہ کہ وہ بڑا جابر اور متکبر بادشاہ ہے بلکہ رب ہونے تک کا دعویدار ہے دوسرا یہ کہ موسیٰ ؑ کے ہاتھوں اس کی قوم کا ایک آدمی مارا گیا تھا اور جس کی وجہ سے موسیٰ کو اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے نکلنا پڑا تھا یعنی ایک فرعون کی عظمت وجباریت کا خوف اور دوسرا اپنے ہاتھوں ہونے والے واقعہ کا اندیشہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
10: بچپن میں حضرت موسیٰ ؑ نے ایک انگارہ زبان پر رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زبان میں تھوڑی سی لکنت پیدا ہوگئی تھی۔ اسی لکنت کو یہاں ”گرہ“ سے تعبیر فرمایا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
6 یہ عمر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
آیت 30 ہٰرُوْنَ اَخِی ” آپ علیہ السلام نے اس وزارت کے لیے اپنے بھائی کا نام بھی خودہی تجویز کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–33
19 موسیٰ (علیہ السلام) پہلے مدین سے مصر کو جارہے تھے۔ راستہ میں یہ واقع پیش آگیا۔ آپ کو نبوت عطا کی گئی اور معجزات عطا کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب جاؤ اور جاکر مصر کے بادشاہ فرعون سے جاکر ٹکر لو۔ وہ اللہ کا نافرمان اور خدائی کا دعوے دار بنا بیٹھا ہے اس کو راہ راست کی دعوت دو ۔ اور فرعون جیسے جابر اور قاہر بادشاہ سے مقابلہ کے لئے آپ کو جو سروسامان عطا کیا گیا وہ صرف یہ دو معجزات تھے۔ اسی بات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انبیاء و رسل پر جو ذمہ داری ڈالی جاتی ہے وہ کس قدر گرانبار ہوتی ہے۔ اس حکم کے بعد آپ نے اپنے اہل و عیال سے کیا سلوک ؟ اس بارے میں کتاب و سنت خاموش ہیں۔ اغلاب خیال یہی ہے کہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
28۔ توریت میں بھی یہ واقعات درج ہیں مگر محرف ومسخ شدہ شکل میں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو شریک کار کرنے کی درخواست کا کوئی ذکر توریت میں نہیں، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا ذکر جہاں ہے بھی، بہ طور شریک نبوت نہیں بلکہ بحیثیت ترجمان اور نائب کے۔” تب خداوند کا غصہ پر بھڑکا اور اس نے کہا کیا نہیں ہے لاویوں میں سے ہارون تیرا بھائی ؟ میں جانتا ہوں کہ وہ فصیح ہے۔ اور دیکھ کہ وہ بھی تیری ملاقات کو آتا ہے اور تجھے دیکھ کے دل میں خوش ہوگا، اور تو اسے کہے گا اور اسے باتیں بتائے گا ...... اور وہ تیرے عوض لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور وہ وہاں وہی تیری زبان کی جگہ ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–42
آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…
Read the full tafseer →ہرون اخی۔ میرے بھائی ہارون کو وزیر وزر سے مشتق ہے وزر کا معنی ہے بوجھ ‘ بادشاہ کی طرف سے وزیر پر بھی بار حکومت ہوتا ہے۔ یا وزر جبل سے لفظ وزیر مشتق ہے ‘ وزرجبل پہاڑی پناہ گاہ کو کہتے ہیں ‘ بادشاہ بھی وزیر کی رائے سے مدد لیتا ہے اور اپنی حکومت کے معاملات میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ موازرت (باب مفاعلہ) باہم مدد کرنا۔ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ وزیر اصل میں ازیر تھا ازیر ازر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے ازر کا معنی ہے قوت۔ ازیر قوی ‘ اور ازیر بمعنی مازر کے ہے جیسے عشیر بمعنی معاشر اور جلس بمعنی مجالس کے آتا ہے۔ ہمزہ کو واو سے بدل دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
(29۔ 35) اور ہارون ؑ کو میرا معاون مقرر کردیجیے اور ان کے ذریعے سے میری قوت کو مضبوط کردیجیے اور میری کام یعنی فرعون کی جانب تبلیغ رسالت میں ان کو میرے ساتھ شامل کردیجیے تاکہ ہم دونوں مل کر تیری خوب نمازیں زبان وقلب سے پڑھیں اور کثرت سے تیرا ذکر زبان وقلب سے کریں یقینا آپ ہمارے حال سے واقف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ۔۔ : سورة شعراء کی آیت (13) : (وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ) سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ کی زبان میں وہ روانی نہ تھی جسے وہ اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ فرعون کو بھی ان پر طعن کے لیے یہی کمزوری ملی کہ کہا : (وَلَا یَکَادُ یُبِیْنُ) [ الزخرف : 52 ] ”اور یہ (موسیٰ) قریب نہیں کہ بات واضح کرے۔“ اگرچہ فرعون کی بات کا کچھ اعتبار نہیں، کیونکہ جھوٹا الزام لگا دینا اس سے کچھ بعید نہ تھا۔ الغرض ! اس کے لیے انھوں نے دو دعائیں کیں، ایک تو یہ کہ اے میرے رب ! میری زبان کی کچھ گرہ کھول دے، تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ کچھ گرہ کا مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذھب الیٰ فرعون انہ طغی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید سے مانوس کردیا اور اسے معجزات دکھا دئیے جو ان کے رسول ہونے پر دلیل تھے تو انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا کہ اسے دعوت دیں۔ طغیٰ کا معنی ہے اس نے نافرمانی کی، تکبر کیا، کفر کیا، جبر کیا اور حد سے بڑھا۔ قال رب اشرح لی صدری۔ ویسرلی امری۔ واحلل عقدۃ من لسانی۔ یفھوا قولی۔ واجعل لی وزیر من اھلی۔ ھرون اخی۔ رسالت کی تبلیغ کے لیے اعانت طلب کی۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتا دیا تھا کہ اس نے فرعون کے دل پر مہر لگا دی ہے وہ ایمان نہیں لائے گا تو حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–47
1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →[هٰرُوْنَ : جو ہارون ہے ] [اَخِي : میرا بھائی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا شرح صدر اور طاقت لسان کے لیے دعا کرنا اور اپنے بھائی ہارون کو شریک کار بنانے کی درخواست کرنا اور دعا کا قبول ہونا جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرما کر اور دو بڑی بڑی نشانیاں (عصا اور یدبیضاء) عطا فرما کر فرعون کے پاس جانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب جس کام کا حکم فرمایا ہے اس کے لیے میرا سینہ کھول دیجئے اور میرے کام کو آسان فرمائیے۔ شرح صدر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا (اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ) (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا) جب شرح صدر ہوتا ہے تبھی کام کرنے کی ہمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
18:۔ یہ چوتھی درخواست ہے۔ میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی اس مہم میں میرا شریک بنا دے تاکہ دونوں مل کر اس کام کو سرانجام دے سکیں ” اُشْدُدْ بِهٖ اَزْرِيْ “ ،” اَزر “ کے معنی قوت کے ہیں۔ الازر القوۃ الشدیدۃ (مفردات ص 15) ۔ یعنی میرے بھائی کو میرے کام میں شریک کر کے میری قوت کو مضبوط کردے۔ یا ازر کے معنی ظہر (کمر) ہے۔ یعنی میری کمر مضبوط فرما (” اُشْدُدْ بِهٖ اَزْرِيْ “ ) ای ظہری (قرطبی ج 11 ص 193) ۔ ” وَ اَشْرِکْهُ فِیْ اَمْرِيْ “ یہ پانچویں درخواست ہے یعنی ہارون کو نبوت اور تبلیغ میں میرا شریک بنا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
ربط آیات : موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے سفر کرتے ہوئے وادی مقدس طویٰ میں پہنچے تو وہاں پر آپ کے سامنے حجاب ناری یا حجاب نوری ظاہر ہوا ، اور اللہ نے آپ سے کلام کیا۔ پھر اللہ نے اپنی واحدنیت کا ذکر کرکے حکم دیا کہ اے موسیٰ خاص میری عبادت کرو ، نماز قائم کرو اور وقوع قیامت پر یقین رکھو۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ وقوع قیامت کے منکر یا اس میں شک وتردد کا شکار ہیں آپ ان سے علیحدگی اختیار کریں۔ فرمایا ، قیامت کے دن ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی لاٹھی کے متعلق سوال کیا اور پھر لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ ظاہر کیا۔ اللہ نے یدبیضا کا…
Read the full tafseer →ہٰرُوْنَ اَخِي 30ۙ هرن هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب . أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–43
تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِی۔ وَیَسِّرْلِیْٓ اَمْرِیْ ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ ۔ یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ ۔ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ ۔ ہٰرُوْنَ اَخِیْ ۔ اشْدُدْبِہٖٓ اَزْرِیْ ۔ وَاَشْرِکْہُ فِیْٓ اَمْرِیْ ۔ (طٰـہٰ : 25 تا 32) (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے سینے کو میرے لیے کھول دے۔ اور میرے کام کو آسان کردے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ لوگ میری بات سمجھیں۔ اور میرے خاندان سے میر وزیر بنا دے۔ میرے بھائی ہارون کو۔ اس سے مضبوط کر میری کمر کو۔ اور اس کو میری ذمہ داری میں شریک بنا۔ ) منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے دعا حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور دوسری التجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کے حضور یہ التجا بھی کی کہ میرے رب میرے اہل میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دیجیے میرے بھائی کے ساتھ میری کمر کو مضبوط کیجئے اور اسے میرے کام میں شریک بنا دیں تاکہ ہم کثرت کے ساتھ تیری حمد اور ذکر کریں بلاشبہ تو ہمیں اچھی طرح دیکھنے والا ہے۔ حضرت ہارون موسیٰ (علیہ السلام) سے تقریباً تین سال بڑے تھے فرعون کے مظالم اور حالات کی سنگینی کے باعث حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پشتی بانی اور کام میں وسعت پیدا کرنے کے لیے اپنے رب کے حضور یہ دعا کی کہ میرے رب میرے…
Read the full tafseer →30: ھٰرُوْنَ یہ وزیر کا عطف بیان ہے۔ اور اَخِی یہ بدل یا عطف بیان ثانی ہے۔ نمبر 3۔ وزیرًا اور ہارون یہ دونوں مفعول ہیں دوسرے کو اول پر مقدم اس لئے کیا تاکہ وزارت کے معاملہ کی اہمیت معلوم ہو۔
Read the full tafseer →30۔ ہارون اخی، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چار سال بڑے تھے اور وہ فصیح لسان تھے اور خوبصورت تھے سفید رنگ کے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) حضرت آدم کی طرح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–36
17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–38
سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
28 عقدئہ لسان کے ازالے کی دعا و درخواست : سو اس سے حضرت موسیٰ کی طرف سے عقدئہ لسان یعنی زبان کی گرہ کھولنے کی دعا و درخواست کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے اپنی دعاء و درخواست میں اللہ تعالیٰ کے حضور مزید عرض کیا " اور میری زبان سے گرہ کھول دے "۔ جس کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ وہ پیدائشی تھی ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بچپن میں اس وقت سے ہوگئی تھی جب کہ آپ نے فرعون کے سامنے آزمائش کے ایک موقع پر ایک جلتا انگارا اپنے منہ میں ڈال لیا تھا ۔ جس کا قصہ مشہور ہے۔ (روح، قرطبی، معارف اور صفوہ وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے شرح صدر اور اس رکاوٹ کے دور کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–48
سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →ف 10 مفسرین کی عام روایات کے مطابق حضرت ہارون عمر میں حضرت موسیٰ سے بڑے تھے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(20:29) وزیرا۔ الوزر کے معنی بارگراں کے ہیں۔ اور یہ معنی وزر سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی پہاڑ میں جائے پناہ کے ہیں وزیر وزر سے صیغہ صفت ہے وزیروہ شخص جو امیر کا بوجھ اور اس کی ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہو اور اس کے عہدہ کو وزارت کہا جاتا ہے۔ وزیر۔ معین ۔ مددگار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–46
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–37
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
[5] یعنی میری زبان کی لکنت دور کردے کہ خطاب و کلام پوری طرح رواں ہوجائے اور میری بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ…
Read the full tafseer →-30 وہ مددگار ہارون کو بنا دے جو میرا بھائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–35
ف 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈر جانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے، اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ڈرنا ہے جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبرا جانا۔ حدیثوں میں آیا ہے، سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس لئے ڈر گئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں الامنین فرمانے سے تسلی دینا اس طرف مشیر ہے۔ 7۔ یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔
Read the full tafseer →سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا بھائی ہی میرا بوجھ ہلکا کرسکتا ہے : 30۔ اس چھٹے فقرہ میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہارون (علیہ السلام) کا واضح طور پر نام پیش کردیا اور اس طرح قانون الہی میں جس کا رسول ہونا پہلے ہی طے تھا اس کا نام لے کر گویا موسیٰ (علیہ السلام) نے قدرتی طور پر اس بات کی تصدیق کردی جو علم الہی میں ہونے والی تھی ، پس سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کا نام پر نبوت حاصل نہیں کی بلکہ جس کو نبوت دی جانے والی تھی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اس کو اپنا بوجھ ہلکا کرنے والا سمجھا اور اس کا نام لے دیا اور یہ بات مشیت ایزدی کی تائید سے ہوئی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
Sayyidna Harun (علیہ السلام) was three or four years senior to Sayyidna Musa علیہ السلام and died three years before the latter. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) petitioned to Allah Ta` ala for his appointment as Wazir he was in Egypt, and there he received, through an angel, information about his elevation to the status of a prophet and his appointment as an assistant to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . He was also instructed to receive Sayyidna Musa (علیہ السلام) outside Egypt when he arrived there in pursuance of his mission to persuade the Pharaoh to accept the true faith. This he did.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
16. Prophet Aaron was three years older than Prophet Moses (peace be upon them). (Exodus7:7).
Read the full tafseer →