Taa-Haa 20:28

Taa-Haa · from ayah 28

20:28

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ ۪۟يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِیْ

تاکہ وہ بات سمجھ لیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

That they may understand my speech.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:28

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ وہ بات سمجھ لیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ وہ میری بات سمجھیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کہ لوگ میری بات (آسانی سے) سمجھ سکیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ وہ میری بات سمجھ لیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ وہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ لوگ میری بات سمجھیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ وہ لوگ میری بات کو سمجھ کیں،

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ (لوگ) میری بات (خوب) سمجھ سکیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(تاکہ) میری بات کو وہ اچھی طرح سمجھ سکیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

so that they may understand my speech;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that they may understand my speech.

— Muhammad Taqi Usmani

so that they may understand my speech.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"That they understand my speech."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That they may understand my speech.

— Saheeh International

so that they may understand me.

— Muhammad Sarwar

(That) they may understand my word;

— Muhammad Habib Shakir

That they may understand my Speech.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 20:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–35

معجزات کی نوعیت۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لئے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کرلیں۔ فرعون کے سامنے کلمہ حق۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب ؒ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–28

سورة طٰهٰ 15 بائیبل میں اس کی تشریح بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا " اے خداوند، میں فصیح نہیں ہوں نہ پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تو نے اپنے بندے سے کلام کیا۔ بلکہ رک رک کر بولتا ہوں اور میری زبان کند ہے " (خروج 104)۔ مگر تلمود میں اس کا ایک لمبا چوڑا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس میں یہ ذکر ہے کہ بچپن میں جب حضرت موسیٰ فرعون کے گھر پرورش پا رہے تھے، ایک روز انہوں نے فرعون کے سر کا تاج اتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوا کہ اس بچے نے یہ کام بالارادہ کیا ہے یا یہ محض طفلانہ فعل ہے۔ آخر کار یہ تجویز کیا گیا کہ بچے کے سامنے سونا اور آگ دونوں ساتھ رکھے جائیں۔ چناچہ دونوں چیزیں لا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–28

تیسری دعا، وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ ، يَفْقَـــهُوْا قَوْلِيْ ، یعنی کھول دے میری زبان کی بندش تاکہ لوگ میرا کلام سمجھنے لگیں۔ اس بندش کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ دودھ پینے کے زمانے میں تو اپنی والدہ ہی کے پاس رہے اور دریا پار فرعون سے ان کو دودھ پلانے کا وظیفہ اور صلہ ملتا رہا۔ جب دودھ چھڑایا گیا تو فرعون اور اس کی بیوی آسیہ نے ان کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا اس لئے والدہ سے واپس لے کر اپنے یہاں پالنے لگے۔ اسی عرصہ میں ایک روز حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا اور بعض روایات میں ہے کہ ایک چھڑی ہاتھ میں تھی جس سے کھیل رہے تھے وہ فرعون کے سر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–36

آیت 25-26 نبی اور دنیا پرست لیڈروں میں فرق حضرت موسیٰ کے علم میں جو نیہ یہ بات آئی کہ ان پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گی ہیں اور اب انہیں فرعون کے پاس خدا کے رسول کی حیثیت سے انذار و تبلیغ کے لئے جانا ہے تو انہوں نے فوراً یہ دعا کی جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کے لفظ لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس بوجھ کو کتنا بھاری محسوس کیا ہے اور کس دل سوزی کے ساتھ اس بارگراں کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اللہ تعالیٰ سے مدد و رہنمائی کے لئے التجا کی ہے۔ دنیا پرست لیڈروں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ لیڈری ہی کی ہوس میں جیتے اور اسی کے عشق میں مرتے ہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا سینہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–32

32۔ 1 کہتے ہیں کہ موسیٰ ؑ جب فرعون کے شاہی محل میں زیر پرورش تھے تو کھجور یا موتی کی بجائے آگ کا انگارا منہ میں ڈال لیا تھا جس سے ان کی زبان جل گئی اور اس میں لکنت پیدا ہوگئی (ابن کثیر) جب اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ فرعون کے پاس جا کر میرا پیغام پہنچاؤ تو حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں دو باتیں آئیں ایک تو یہ کہ وہ بڑا جابر اور متکبر بادشاہ ہے بلکہ رب ہونے تک کا دعویدار ہے دوسرا یہ کہ موسیٰ ؑ کے ہاتھوں اس کی قوم کا ایک آدمی مارا گیا تھا اور جس کی وجہ سے موسیٰ کو اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے نکلنا پڑا تھا یعنی ایک فرعون کی عظمت وجباریت کا خوف اور دوسرا اپنے ہاتھوں ہونے والے واقعہ کا اندیشہ اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–33

10: بچپن میں حضرت موسیٰ ؑ نے ایک انگارہ زبان پر رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زبان میں تھوڑی سی لکنت پیدا ہوگئی تھی۔ اسی لکنت کو یہاں ”گرہ“ سے تعبیر فرمایا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–29

قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ” اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–28

5 زبان لڑکپن میں جل گئی تھی (جس کا قصہ تفاسیر میں ہے) صاف نہ بول سکتے تھے۔ اس لیے یہ دعا کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 یَفْقَہُوْا قَوْلِیْ ” ظاہر ہے لکنت والے شخص کی گفتگو کو سمجھنے میں لوگ دقت محسوس کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–33

19 موسیٰ (علیہ السلام) پہلے مدین سے مصر کو جارہے تھے۔ راستہ میں یہ واقع پیش آگیا۔ آپ کو نبوت عطا کی گئی اور معجزات عطا کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب جاؤ اور جاکر مصر کے بادشاہ فرعون سے جاکر ٹکر لو۔ وہ اللہ کا نافرمان اور خدائی کا دعوے دار بنا بیٹھا ہے اس کو راہ راست کی دعوت دو ۔ اور فرعون جیسے جابر اور قاہر بادشاہ سے مقابلہ کے لئے آپ کو جو سروسامان عطا کیا گیا وہ صرف یہ دو معجزات تھے۔ اسی بات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انبیاء و رسل پر جو ذمہ داری ڈالی جاتی ہے وہ کس قدر گرانبار ہوتی ہے۔ اس حکم کے بعد آپ نے اپنے اہل و عیال سے کیا سلوک ؟ اس بارے میں کتاب و سنت خاموش ہیں۔ اغلاب خیال یہی ہے کہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 28–32

28۔ توریت میں بھی یہ واقعات درج ہیں مگر محرف ومسخ شدہ شکل میں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو شریک کار کرنے کی درخواست کا کوئی ذکر توریت میں نہیں، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا ذکر جہاں ہے بھی، بہ طور شریک نبوت نہیں بلکہ بحیثیت ترجمان اور نائب کے۔” تب خداوند کا غصہ پر بھڑکا اور اس نے کہا کیا نہیں ہے لاویوں میں سے ہارون تیرا بھائی ؟ میں جانتا ہوں کہ وہ فصیح ہے۔ اور دیکھ کہ وہ بھی تیری ملاقات کو آتا ہے اور تجھے دیکھ کے دل میں خوش ہوگا، اور تو اسے کہے گا اور اسے باتیں بتائے گا ...... اور وہ تیرے عوض لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور وہ وہاں وہی تیری زبان کی جگہ ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–42

آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یفقہوا قولی۔ کہ وہ میری بات سمجھ لیں۔ بغوی نے لکھا ہے بچپن میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ایک روز فرعون کی گود میں تھے کہ آپ نے اس کے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور داڑھی نوچ لی فرعون نے اپنی بی بی آسیہ سے کہا یہ میرا دشمن ہے میں اس کو قتل کرائے دیتا ہوں ‘ آسیہ نے کہا یہ بچہ ہے بےسمجھ اس کو کچھ تمیز نہیں بھلے برے کو نہیں پہچانتا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ نے آپ کا دودھ چھڑایا تو واپس لا کر آسیہ کو دے دیا چناچہ آپ نے فرعون اور اس کی بی بی کی گود میں پرورش پائی دونوں نے آپ کو بیٹا بنا لیا ایک روز فرعون کے سامنے کھیل رہے تھے اور ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ‘ یکدم چھڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–28

(25۔ 28) نبوت ملنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی کہ اے اللہ میرا حوصلہ بڑھائیے تاکہ میں اس سے تبلیغ میں نہ ڈروں اور فرعون کی طرف تبلیغ رسالت کا جو میرا کام ہے اس کو آسان فرما دیجیے اور میری زبان سے لکنت ہٹا دیجیے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–30

وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ۔۔ : سورة شعراء کی آیت (13) : (وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ) سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ کی زبان میں وہ روانی نہ تھی جسے وہ اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ فرعون کو بھی ان پر طعن کے لیے یہی کمزوری ملی کہ کہا : (وَلَا یَکَادُ یُبِیْنُ) [ الزخرف : 52 ] ”اور یہ (موسیٰ) قریب نہیں کہ بات واضح کرے۔“ اگرچہ فرعون کی بات کا کچھ اعتبار نہیں، کیونکہ جھوٹا الزام لگا دینا اس سے کچھ بعید نہ تھا۔ الغرض ! اس کے لیے انھوں نے دو دعائیں کیں، ایک تو یہ کہ اے میرے رب ! میری زبان کی کچھ گرہ کھول دے، تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ کچھ گرہ کا مفہوم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–32

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذھب الیٰ فرعون انہ طغی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید سے مانوس کردیا اور اسے معجزات دکھا دئیے جو ان کے رسول ہونے پر دلیل تھے تو انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا کہ اسے دعوت دیں۔ طغیٰ کا معنی ہے اس نے نافرمانی کی، تکبر کیا، کفر کیا، جبر کیا اور حد سے بڑھا۔ قال رب اشرح لی صدری۔ ویسرلی امری۔ واحلل عقدۃ من لسانی۔ یفھوا قولی۔ واجعل لی وزیر من اھلی۔ ھرون اخی۔ رسالت کی تبلیغ کے لیے اعانت طلب کی۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتا دیا تھا کہ اس نے فرعون کے دل پر مہر لگا دی ہے وہ ایمان نہیں لائے گا تو حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–47

1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَفْقَـــهُوْا : وہ لوگ سمجھیں ] [قَوْلِيْ : میری بات کو ] ترکیب : (آیت۔ 28) یَفْقَھُوْا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اس لئے اس سے پہلے لام کَی کو محذوف نہیں مان سکتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–36

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا شرح صدر اور طاقت لسان کے لیے دعا کرنا اور اپنے بھائی ہارون کو شریک کار بنانے کی درخواست کرنا اور دعا کا قبول ہونا جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرما کر اور دو بڑی بڑی نشانیاں (عصا اور یدبیضاء) عطا فرما کر فرعون کے پاس جانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب جس کام کا حکم فرمایا ہے اس کے لیے میرا سینہ کھول دیجئے اور میرے کام کو آسان فرمائیے۔ شرح صدر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا (اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ) (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا) جب شرح صدر ہوتا ہے تبھی کام کرنے کی ہمت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–28

17:۔ یہ تیسرے درخواست ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بچپن میں فرعون کی گود میں تھے تو انہوں نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ اور اس کی داڑھی کے بال بھی نوچ ڈالے اس پر فرعون نے برہم ہو کر کہا کہ یہ تو میرا دشمن ہوگا اور ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ فرعون کی بیوی آسیہ نے کہا وہ نادان بچہ ہے جو آگ اور جواہرات میں بھی تمیز نہیں کرسکتا۔ چناچہ فوراً دہکتے کوئلوں کا ایک طشت اور جواہرات کا ایک طشت لا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے رکھ دئیے گئے۔ انہوں نے ہاتھ جواہرات کی طرف بڑھایا۔ جبریل (علیہ السلام) نے ان کا ہاتھ آگ کے طشت میں رکھ دیا۔ انہوں نے ایک دہکتا ہوا کوئلہ منہ میں رکھ لیا۔ جس سے زبان جل گئی اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–36

ربط آیات : موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے سفر کرتے ہوئے وادی مقدس طویٰ میں پہنچے تو وہاں پر آپ کے سامنے حجاب ناری یا حجاب نوری ظاہر ہوا ، اور اللہ نے آپ سے کلام کیا۔ پھر اللہ نے اپنی واحدنیت کا ذکر کرکے حکم دیا کہ اے موسیٰ خاص میری عبادت کرو ، نماز قائم کرو اور وقوع قیامت پر یقین رکھو۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ وقوع قیامت کے منکر یا اس میں شک وتردد کا شکار ہیں آپ ان سے علیحدگی اختیار کریں۔ فرمایا ، قیامت کے دن ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی لاٹھی کے متعلق سوال کیا اور پھر لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ ظاہر کیا۔ اللہ نے یدبیضا کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَفْقَـــہُوْا قَوْلِيْ۝ 28۠ فقه الفِقْهُ : هو التّوصل إلى علم غائب بعلم شاهد، فهو أخصّ من العلم . قال تعالی: فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [ النساء/ 78] (ق ہ ) الفقہ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہچنچنے کے ہیں اور یہ علم سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [ النساء/ 78] ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–43

تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–32

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِی۔ وَیَسِّرْلِیْٓ اَمْرِیْ ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ ۔ یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ ۔ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ ۔ ہٰرُوْنَ اَخِیْ ۔ اشْدُدْبِہٖٓ اَزْرِیْ ۔ وَاَشْرِکْہُ فِیْٓ اَمْرِیْ ۔ (طٰـہٰ : 25 تا 32) (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے سینے کو میرے لیے کھول دے۔ اور میرے کام کو آسان کردے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ لوگ میری بات سمجھیں۔ اور میرے خاندان سے میر وزیر بنا دے۔ میرے بھائی ہارون کو۔ اس سے مضبوط کر میری کمر کو۔ اور اس کو میری ذمہ داری میں شریک بنا۔ ) منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے دعا حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–28

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعون کے پاس جانے سے پہلے اپنے رب کے حضور دو التجائیں۔ دعوت توحید کا کام ہر دور میں مشکل رہا ہے لیکن کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو یہ کام بالکل ہی غیر معمولی اور انتہائی مشکل حالات میں کرنا پڑا۔ جن میں چار انبیائے کرام (علیہ السلام) سرفہرست ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخرالزمان ﷺ نے جن حالات میں دعوت توحید کا کام کیا وہ تاریخ عالم میں مشکل ترین ادوار سمجھے جاتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال محنت فرمائی بالآخر دعا کی کہ الٰہی اب تو کفار کا ایک گھر بھی باقی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ (تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں) تیری رسالت کا پیغام پہنچانے کے وقت۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–30

28 عقدئہ لسان کے ازالے کی دعا و درخواست : سو اس سے حضرت موسیٰ کی طرف سے عقدئہ لسان یعنی زبان کی گرہ کھولنے کی دعا و درخواست کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے اپنی دعاء و درخواست میں اللہ تعالیٰ کے حضور مزید عرض کیا " اور میری زبان سے گرہ کھول دے "۔ جس کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ وہ پیدائشی تھی ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بچپن میں اس وقت سے ہوگئی تھی جب کہ آپ نے فرعون کے سامنے آزمائش کے ایک موقع پر ایک جلتا انگارا اپنے منہ میں ڈال لیا تھا ۔ جس کا قصہ مشہور ہے۔ (روح، قرطبی، معارف اور صفوہ وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے شرح صدر اور اس رکاوٹ کے دور کرنے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–48

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

ف 9 یعنی مددگار جو اس بار عظیم کو اٹھانے میں میرا شریک ہو۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” ایسے بڑے پیغمبر کو سمجھانے کے لئے ایک پیش کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے پیغمبر کے پیش کار حضرت ابوبکر صدیق تھے۔ ابتدا میں حضرت ابوبکر کی تبلیغ ہی سے سب لوگ مسلمان ہوئے جن کا شمار کبار صحابہ میں ہے۔ (از موضح وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:28) یفقھوا۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) جمع مذکر غائب فقہ مصدر (باب سمع) کہ وہ (لوگ) سمجھ سکیں۔ مضارع منصوب بھی اسی طرح لکھا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–46

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–38

[5] یعنی میری زبان کی لکنت دور کردے کہ خطاب و کلام پوری طرح رواں ہوجائے اور میری بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–34

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–35

ف 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈر جانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے، اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ڈرنا ہے جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبرا جانا۔ حدیثوں میں آیا ہے، سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس لئے ڈر گئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں الامنین فرمانے سے تسلی دینا اس طرف مشیر ہے۔ 7۔ یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میری یہ اپیل تیری بارگاہ میں اس لئے ہے تاکہ میری بات سمجھنے کے لئے کوئی تیار تو ہو : 28۔ زیر نظر آیت نے واضح کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہی خطرہ لاحق تھا اور رہ رہ کر خیال آرہا تھا کہ میں مصر پہنچوں گا تو قبطیوں کا مطالبہ قتل میرے کندھوں پر سوار ہوگا اور پھر جب میں رسالت کا پیغام پہنچاؤں گا تو لوگ مزید میرے ساتھ الجھیں گے اور میری بات پر کوئی بھی کان دھرنے کو تیار نہیں ہوگا ۔ آخر میں اس حقیقت کا کوئی جواب تو میرے پاس ہو اور پھر وہ نہیں تو کم از کم یہ تحریک میری طرف سے جب چلے تو میرے گھر میں تو کوئی اختلاف رونما نہ ہو اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ صرف میں ہی نہیں میرا بھائی ہارون بھی مرے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

The third prayer وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي (And remove the knot from my tongue, that they may understand my speech - 20:27, 28). The story behind this "knot" is that as an infant Sayyidna Musa (علیہ السلام) lived with his own mother who used to suckle him and was paid for her services by the Pharaoh. When he was weaned, the Pharaoh and his wife 'Asiya ؓ adopted him, and took him away from his mother. One day Sayyidna Musa (علیہ السلام) caught hold of the Pharaoh's beard and slapped him on the face. Another version has it that he was playing with a stick and with it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–28

15. Prophet Moses (peace be upon him) prayed to Allah for this because he was conscious that he was not a fluent speaker but was slow of speech. He also knew that as a Messenger he would have to be fluent in order to impress Pharaoh and his courtiers. This is confirmed by the Bible (Exodus 4: 10) but the Talmud gives a strange explanation for this impediment in his speech. According to it, when he was a child he burnt his tongue with a live coal to escape punishment from Pharaoh whose crown he had taken off from his head and put it on his own head. The same story has been adopted by many of…

Read the full tafseer →