Explained with ayahs 88–95
عیسیٰ ؑ کا تعارف
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
سورة مَرْیَم 52
یعنی سفارش اسی کے حق میں ہوگی جس نے پروانہ حاصل کیا ہو، اور وہی سفارش کرسکے گا جسے پروانہ ملا ہو۔ آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونوں پہلوؤں پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔
یہ بات کہ سفارش صرف اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمان سے پروانہ حاصل کرلیا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا میں ایمان لاکر خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے آپ کو خدا کے عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ اور یہ بات کہ سفارش وہی کرسکے گا جس کو پروانہ ملا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی سمجھ لیا ہے وہ سفارشیں کرنے کے مجاز نہ ہوں گے بلکہ خدا خود جس کو اجازت دے گا وہی شفاعت کے لیئے زبان کھول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
خلاصہ تفسیر
اور یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے اولاد (بھی) اختیار کر رکھی ہے (چنانچہ نصارٰی کثرت سے اور یہود قلت سے اور مشرکین عرب اس عقیدہ فاسدہ میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) تم نے (جو) یہ (بات کہی تو) ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جاویں اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں اس بات سے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے (کیونکہ) جتنے کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں سب خدا تعالیٰ کے روبرو غلام ہو کر حاضر ہوتے ہیں (اور) اس نے سب کو (اپنی قدرت میں)…
Read the full tafseer →وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا۔
ولد کے معنی اولاد کے ہیں۔ یہ واحد، جمع، مذکر، مونث سب کے لیے آتا ہے۔ خدا کے لیے اولاد ماننے کے معاملے میں مشرکین عرب اور یہود و نصاری سب یکساں ہیں۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہود حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں اور نصاری نے حضرت میسح کو جو کچھ بنایا ہے اس کی تفصیل اسی سورة میں پیچھے گزر چکی ہے۔ اوپر کی آیت میں شفاعت باطل کی تردید فرمائی ہے۔ اب آگے کی چند آیات میں شکل کی اس گھناؤنی قسم کی تردید فرمائی ہے جو درحقیقت شفاعت باطل کے اسی تصور کے تحت وجود پذیر ہوئی جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ظاہر ہے کہ اگر خدا سے اپنے جرائم کے لیے مفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
91۔ 1 ادا کے معنی بہت بھیانک معاملہ اور داھیۃ (بھاری چیز اور مصبیت) کے ہیں۔ یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے کہ اللہ کی اولاد قرار دینا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس سے آسمان و زمین پھٹ سکتے ہیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–95
36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
اس منظر میں فضا غضب ‘ غیرت اور ردعمل کی ہے۔ اس فضا کو الفاظ کی گونج اور گرج اور عبارات اور فقروں کی ضربات مزید تیز کردیتی ہیں۔ کائنات کے ضمیر میں ایک اشتہعال ہے۔ نفس کائنات کی تمام نفرت کرنے والی قوتوں کے اندر بھونچال آیا ہوا ہے۔ تمام تکوینی قوتوں کے اندر ‘ ذات باری کی شان میں اس قدر سخت گستاخی کرنے کی وجہ سے ‘ سخت اشتعال ہے۔ جب کسی انسان کی ذات یا اس کے محبوب شخص کی توہین کردی جائے اور اس کی عزت خطرے میں ہو تو اس کے تمام اعضاء یکدم ردعمل میں ہوتے ہیں۔ اسی رطح یہ پوری کائنات اس منظر میں نہایت ہی رد عمل میں ہے کیونکہ اس کے مالک کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے۔
اس کلمہ کفر اور شان باری کی توہین کے…
Read the full tafseer →9 بہت آدمیوں نے تو غیر اللہ کو معبود ہی ٹھہرایا تھا، لیکن ایک جماعت وہ ہے جس نے خدا تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کی۔ مثلاً نصاریٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو۔ بعض یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا اور بعض مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ العیاذ باللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
آیت 87 لَا یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا ”
اس دن کوئی کسی کی شفاعت نہ کرسکے گا اور کوئی شفاعت کسی کے کام نہیں آئے گی ‘ سوائے اس شخص کے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا عہد نبھایا ہو۔ جس نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ‘ اطاعت اور بندگی میں بسر کی ہو سوائے ان کوتاہیوں اور لغزشوں کے جو بشری کمزوریوں کے تحت سرزد ہوئی ہوں۔ ایسے لوگوں کے لیے تو شفاعت مفید ہوسکتی ہے ‘ لیکن وہ لوگ جو اپنی زندگیوں میں مستقلاً اللہ کے عہد کی خلاف ورزیاں کرتے رہے ‘ جنہوں نے اپنی زندگیوں کا رخ متعین کرتے ہوئے اللہ کی مرضی اور اس کے احکام کو مسلسل نظر انداز کیے رکھا ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
78 سفارش کی کڑی شرائط :۔ اس ذو معنی جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو سفارش صرف اس شخص کے حق میں کی جاسکے گی جس نے اپنے آپ کو مستحق شفاعت بنائے رکھا ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا عہد ہے کہ ان کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی اور یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی شرک نہ کیا ہوگا۔ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے مگر کبھی کبھی ان سے گناہ بھی سرزد ہوگئے ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سفارش صرف وہ لوگ کرسکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دیں گے اور یہی اللہ کا عہد ہے۔ ان لوگوں کو سفارش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی جن سے مشرکوں نے اپنی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔
Read the full tafseer →122۔ مشرکوں کے عقیدہ میں تو خدا کے لیے اولاد کا اثبات ایک معمولی بات تھی ہی، مسیحیوں کے ہاں بھی ظہور اسلام کے قبل ہی مسیح کی ولدیت الی کا عقیدہ ایک مسلم حقیقت بن چکا تھا۔ حد یہ ہے یہ یہودی جیسی موحد قوم بھی یونان اور رومہ کے مشرک حکیموں، فلسفیوں کے اثر کے ماتحت اس عقیدہ سے بالکل بیگانہ ونامانوس نہیں رہے تھے۔ یہاں اشارہ غالب مسیحیوں کے جانب ہے وہی اپنے خدا کی صفت رحمانیت کے سب سے بڑے مدعی رہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
آیت نمبر 83 تا 98
ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…
Read the full tafseer →وقالوا اتخذ الرحمن ولدا۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمن نے (اپنے لئے اولاد اختیار کرلی ہے۔ قالواکا فاعل یہودی عیسائی اور بعض وہ مشرک ہیں جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مانتے تھے۔ چونکہ یہ قول مشہور تھا اور اس کے قائل بھی نامعلوم مجہول نہیں تھے اس لئے ضمیر حس فاعل کی طرف لوٹ رہی ہے اس کا پہلے مذکور ہونا ضروری نہیں۔ (فاعل متکلم اور مخاطب کو معلوم ہو اور مرجع ضمیر متعین ہو تو بغیر ذکر مرجع کے ضمیر غائب ذکر کی جاسکتی ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
(88۔ 89۔ 90) اور یہود بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیز ؑ کو بیٹا بنا لیا ایسی سخت حرکت اور بڑی بھاری بات ہے کہ اس بات کی وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اڑ جائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
پہلی آیات سے مناسبت یہ ہے کہ جب شفاعت کی نفی فرمائی اور سب سے بڑھ کر شفاعت کی حق دار اولاد ہوتی ہے، اس لیے ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی نفی فرمائی، تاکہ خاص و عام ہر سفارشی کی نفی ہوجائے اور ہر اس عزت کی نفی ہوجائے جس کے حصول کا باعث وہ اپنے معبودوں کو سمجھتے تھے۔ (بقاعی)
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا : اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کے باطل ہونے کی دلیل بھی ذکر فرما دی کہ وہ کہتے ہیں کہ اس رحمٰن نے اولاد بنا رکھی ہے جس کی بےپناہ رحمت سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے اور ہر چیز اپنی بقا کے لیے اسی کی محتاج ہے، جبکہ…
Read the full tafseer →(تفسیر 88-95) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا اتخذ الرحمن ولداً ۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور جنہوں نے کہا : ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یحییٰ اعمش، حمزہ کسائی، عاصم اور خلف نے ولداً وائو کے ضمہ اور لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ چار مقامات پر ایسا ہی پڑھا ہے۔ اس سورة میں لاوتین مالا وولدا۔ یہ گزر چکا ہے اور یہ ارشاد : ان دعوا للرحمن ولدا۔ وما ینبغی للرحمن ان یتخذولداً ۔ اور سورة نوح میں مالہ وولدہ، سورة نوح میں ابن کثیر، مجاہد، حمید ابو عمرو اور یعقوب نے ان کی موافقت کی ہے اور باقی قراء نے تمام جگہ واو اور لام میں فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے العرب والعرب، العجم والعجم۔ شاعر نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئتم شیئا ادا “ یعنی بڑی بات (اور فرمایا) (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ “ یعنی شرک سے آسمان زمین پہاڑ اور ساری مخلوق خوف زدہ ہوجاتی ہے مگر انسان اور جنات (خوف زدہ نہیں ہوتے) اور قریب ہے کہ اس شرک کی وجہ سے اللہ کی عظمت کے لئے (سب چیزیں) نیچے گرپڑیں اور جیسے کہ مشرک کی کوئی نیکی شرک کے ساتھ نفع نہیں دیتی اسی طرح ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موحدین کے گناہوں کو بخش دیں کے (اور فرمایا) (آیت) ” وتخر الجبال ھدا “ یعنی گرپڑنا۔
اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے والوں سے پہاڑ کا خوش ہونا :
2:۔ ابن مبارک، سعید بن منصور، ابن ابی…
Read the full tafseer →[وَقَالُوا : اور لوگوں نے کہا ] [اتَّخَذَ : بنائی ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن نے ] [وَلَدًا : کوئی اولاد ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی مذمت اور ان کے قول کی شناعت
مشرکین عرب کہتے تھے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے تھے اور اب بھی اپنے دعویٰ پر قائم ہیں اور ان کے علاوہ دیگر مشرکین بھی اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ آیات بالا میں اول تو ان لوگوں کا قول نقل فرمایا پھر اس کی تردید فرمائی اور ان کے قول کی قباحت اور شناعت کو پوری طرح واضح فرمایا اور ارشاد فرمایا (لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا) (بلاشبہ تم نے بہت سخت بات کہی ہے) یہ معمولی بات نہیں یہ تو ایسی بات ہے کہ قریب ہے کہ اس کی وجہ سے آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا
(ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔
نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
61:۔ یہ شکوی ہے۔ سورة کہف کی ابتداء میں فرمایا ” ویُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا “ یعنی ان لوگوں کو زجر و تخویف سنائی جو اللہ کے سوا اوروں کو نائب و متصرف سمجھتے تھے اس کے بعد سورة کہف اور مریم میں مشرکین کے شبہات کا ازالہ کیا گیا اب آخر میں ازالہ شبہات کے بعد سورة کہف والے شکوے کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نائب نہیں اور اللہ کے سوا اوروں کو متصرف اور کارساز سمجھنا بہت بڑا جرم ہے اور ولد سے یہاں ولد حقیقی مراد نہیں ہے بلکہ نائب اور سفارشی مراد ہے جیسا کہ ” اتخذ “ کی تعبیر بتا رہی ہے۔ ” لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا “ سے ” اَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے قیامت کو پیش آنیوالے حالات کا تذکرہ بھی فرمایا اور ساتھ ایمان والوں کا انجام بھی بیان فرمایا کہ وہ اللہ کے حضور میں وفد کی شکل میں باعزت طور پر پیش ہوں گے برخلاف اس کے کافر اور مشرک مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کرلے جایا جائے گا اور ان کی سخت تذلیل ہوگی ۔
(عقیدہ ابنیت)
آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے عقیدہ ابنیت کی تردید فرمائی ہے ، سورة بنی اسرائیل کے آخر میں اور سورة کہف میں بھی یہی تذکرہ ہے وہاں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” لم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی…
Read the full tafseer →وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه»
( ر ح م ) الرحم ۔
الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوا اتَّخَذَالرَّحْمٰنُ وَلَدًا۔ (مریم : 88)
( اور وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے اولاد بنا رکھی ہے۔ )
انسان کی کمزوری
انسان کی ہمیشہ سے یہ کمزوری رہی ہے کہ وہ ہر ایسی بات کو قبول کرنے سے پہلوتہی کرتا رہا ہے جس سے اس کی زندگی میں صالح تبدیلی کا راستہ کھلتا ہو۔ انسان کو ہمیشہ اپنی خواہشات کی پیروی میں زندگی گزارنا محبوب معلوم ہوتا ہے اور ایسے راستے پر چلنا جس میں ایمان و کردار کی پختگی اور ایثار و قربانی کا رویہ اختیار کرنا پڑے بوجھل معلوم ہوتا ہے۔ وہ حیوانوں کی طرح یہ چاہتا ہے کہ میں زندگی اس طرح گزاروں جس طرح میرا نفس چاہتا ہے اور جس میں میرے سفلی جذبات کو تسکین ملتی ہے۔ لیکن جب وہ یہ دیکھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کچھ بزرگ اللہ تعالیٰ کو اپنی بات منواسکتے ہیں انھوں نے اسی وجہ سے ہی یہ عقیدہ بنا رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اولاد رکھتا ہے۔
قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور بزرگوں کو یہاں تک کہ معصوم بچوں کو بھی سفارش کا حق دیا جائے گا لیکن یہ لوگ اسی کے حق میں سفارش کرسکیں گے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اجازت عنایت فرمائے گا۔ سفارش کرنے والی کتنی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو وہ اس حد تک ہی سفارش کرپائے گی جس حد تک اسے سفارش کرنے کی اجازت ملے گی اس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس سے بڑھ کر یہ عقیدہ اختیار کرلیا ہے کہ کچھ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا بدترین حرکت ہے :
88: وَّقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا (اور انہوں نے کہا کہ رحمان نے بیٹا بنا لیا ہے) کہنے والے یہودو نصاری ہیں اور اسی طرح مشرکین عرب جنہوں نے ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا۔
Read the full tafseer →88۔ وقالوا اتخذالرحمن ولدا۔ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں اور وہ لوگ جن کا یہ گمان تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں حمزہ اور کسائی نے ولدا، واؤ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس جگہ پر اور سو رہ زخرف اور سو رہ نوح میں۔ ابن کثیر اور ابوعمر و اور یعقوب قراء کے ساتھ سورة نوح میں ان کی متابعت کی ہے اور دوسرے قراء نے واؤ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے عرب والعرب اور عجم والعجم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
87۔ 94:۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اول تو قیامت قائم ہی نہ ہوگی اور ہم کسی عذاب میں پکڑے گئے تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہم کو اس عذاب سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی سفارش کا ہر کسی کو مالک اور مختار نہیں بنایا ہے جو یہ مشرک جس سے چاہیں گے اپنی سفارش کرلیں گے یہ شفاعت تو اللہ کے فرشتے اس کے رسول اور نیک لوگ ایسے لوگوں کے حق میں کریں گے جو اللہ کی وحدانیت اس کے رسولوں کو سچا جاننے کے عہد پر قائم ہوں گے لیکن سوائے شرک کے اور گناہوں میں عمر بھر گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
آیت 88
یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس عزم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپن ابیٹا بنایا ہے۔ جی اس کہ نصاریٰ کہتے ہیں (المسیح ابن اللہ) التوبۃ 30/9) ” مسیح اللہ کا بیٹا ہے “ یہودی کہتے ہیں (عزیز ابن اللہ) (التوبۃ :30/9) ” عزیز اللہ کا بیٹا ہے “ اور مشرکین کہتے ہیں ” فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
(لقد جئتم شیاء ادا) یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ (تکاد السموت) قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف (یتفطرن منہ) اس قول سے پھٹ جاتے۔ (وتنشق الارض) اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
97 سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے احاطہ کر رکھا ہے ان سب کا گن کر "۔ پس نہ کوئی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہوسکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ بلکہ ہر کسی نے اپنے وقت موعود و محدد میں اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر شخص کی عمر، اس کے انفاس اور اس کے اقوال و اَفعال کا اس نے پوری طرح احاطہ اور شمار کر رکھا ہے۔ اور ہر چیز کی اس کے یہاں ایک خاص حد اور انتہا ہے ۔ { کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہ بِمِقْدَارٍ } ۔ سو آسمان و زمین کی سب مخلوق اس کے کامل کنٹرول اور مکمل قابو میں ہے۔ ہر ایک کو اس قادر مطلق نے پوری طرح گن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
اللہ تعالیٰ رشتے ناتے سے بےنیاز ہے
تشریح : یہودی اور عیسائی مشرک ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات جو کہ توحید کا سبق دیتی ہیں ان کو چھوڑ کر پیغمبروں کو ہی اللہ اور اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ شرک اس قدر شدید گناہ ہے کہ اس سے دنیا تہس نہس ہوسکتی ہے۔ اللہ کیونکہ غفور الرحیم ہے، اس لیے وہ گنہگاروں، مشرکوں اور کافروں کو فوراً عذاب نہیں دیتا، مگر ان کے برے انجام کے بارے میں قرآن میں بار بار اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح توحید کی خصوصیات، نیک اور بد لوگوں کا انجام بہت دفعہ بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹرطارق السویڈان بیان کرتے ہیں۔
(1) دنیا اور آخرت 115 دفعہ قرآن میں آیا ہے۔ (2) فرشتے اور شیطان 88…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
(انسان پر شیطان کا تسلط)
یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
ف 6 نصاری حضرت مسیح کو اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی اولاد بتاتے ہیں۔ (دیکھیے توبہ آیت 103 اسرا 40)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
(19:87) لا یملکون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب ملک مصدر (باب ضرب) وہ اختیار نہیں رکھیں گے۔ ضمیر فاعل کا مرجع مجرمین ہیں۔ لا یملکون سے کفار کی شفاعت کی نفی اور الا سے اہل ایمان کی شفاعت کا اثبات ہے۔ ای ھؤلاء الکفار لا یملکون الشفاعۃ لاحد والمسلمون فیملکون الشفاعۃ۔ یہ کفار کسی کی شفاعت حاصل نہ کرسکیں گے جب کہ مسلمانوں کو شفاعت حاصل ہوگی۔
من اتخذ عند الرحمن عھدا۔ جس نے خداوند رحمن سے وعدہ لے رکھا ہے۔ عہد سے یہاں مراد اذن۔ اجازت یا اس سے مراد عہد توحید ونبوت ہے یعنی جس نے ایمان و یقین کے ساتھ قولاً وعملاً یہ اقرار کیا : انی اشھد ان لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک وان محمد عبدک ورسولک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 98
اِد سخت، بھاری چیز۔ تکاد قریب ہے۔ یتفطرن پھٹ پڑیں گے۔ تنشق ٹکڑے ہوجائیں گے۔ تخر ڈھے پڑیں، گر جائیں۔ ھد دھڑام سے گرنا۔ ماینبغی شایان شان نہیں ہے۔ احصی اس نے شمار کر رکھا ہے۔ عد گنتی۔ ود محبت لد جھگڑالو آدمی۔ رکز آہٹ، سرسراہٹ۔
تشریح :- آیت نمبر 88 تا 98
سورة مریم کی آیات کو نصاریٰ کے اس قول اور عقیدے پر ختم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے ہی میں اس بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
اس آیت میں فرمایا کہ بعض گمراہ یوں بکواس لگاتے ہیں کہ اللہ کا ایک بیٹا بھی ہے۔ ان سے خطاب ہوتا ہے کہ تم بڑی بھاری بات بنا کر لائے ہو یعنی یہ بڑا گستاخی کا کلمہ ہے، یہ ایسا سخت کلمہ ہے کہ اس کی شامت سے اگر آسمان پھٹ پڑیں تو کچھ بعید نہیں، اور زمین پھٹ جائے تو کچھ دور نہیں، اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں تو کچھ عجب بات نہیں ہے۔ خدا کے لئے بیٹا ثابت کرتے ہو، حقیقت میں بڑی حماقت کی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
[32] یہ اجازت صرف انبیاء اور صالحین کو ملے گی اور صرف مومنین کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
(ف 1) مشرکین کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اس امید پر کہ ان کے معبودان باطل قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے اور جہنم کی آگ سے بچائیں گے ان کی پرستش شروع کردی ، حالانکہ یہی لوگ قیامت کے ہول سے ان معبودوں کو بھول جائیں گے اور ان کی عبادت سے یکسر انکار کردیں گے ۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ شرک وکفر کی گمراہیاں انکی طبیعت وذوق کے موافق ہیں جہاں شیاطین کی جانب سے تحریک ہوئی ، یہ متاثر ہوگئے ،
ارشاد ہے کہ اللہ کے پاکباز بندوں کے لئے تو وہاں عزت واحترام کا سامان موجود ہے ، انہیں بارگاہ رحمت میں فرشتے تعظیم و توقیر سے پہنچا دیں گے ، اگر یہ لوگ جو بت پرستی کے مجرم ہیں ، جنہوں نے دنیا میں نفس کی پوجا کی ہے جنہوں…
Read the full tafseer →-88 اور یہ منکر کہتے ہیں کہ رحمان اولاد رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کر رکھی ہے۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ سے بیٹا اور بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں جیسے نصاریٰ اور یہود کے بعض فرقے اور کفار عرب کے بعض لوگ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
ف 2۔ ہر شخص خدا ہی کا محتاج اور محکوم ہوگا۔
Read the full tafseer →انکی کیا ہی بات ہے کہ انہوں نے تو خدائے رحمن کے لئے ایک بیٹا بھی بنا رکھا ہے :
88۔ زیر نظر آیت سے مضمون کا رخ صاف اسی طرف پھر چکا ہے جس طرح سورة کے شروع میں بات چلی تھی اور وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بات تھی اس موضوع کو دوبارہ اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ماننے کے معاملہ میں مشرکین عرب اور یہود ونصاری سب یکساں ہیں ۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ‘ یہود عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کو ‘ جیسے کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے ” ولد “ کے معنی اولاد کے ہیں وہ لڑکی ہو ایا لڑکا اور یہ لفظ واحد جمع مذکر اور مونث سب کے لئے آتا ہے ۔ اوپر کی آیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَـٰنِ عَهْدًا
"Except the one who has taken a covenant with the Rahman (All-Merciful) " - 19:87.
Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has said that عَھد means a declaration of firm belief in the Unity of Allah Ta’ ala, while others say that عِھد means committing the Qur’ an to memory. In brief only those people will have the permission to intercede with Allah who stand firm by their covenant to adhere to the true faith. (Ruh)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
52. This implies two things: (1) Intercession will be allowed only for the one who might have received permission for it from the Merciful, that is, the one who believed in Allah in the world and made himself deserving of His pardon. (2) Only that one will be able to plead intercession who might have received permission for this from the Merciful, and not those ones whom people themselves had made their intercessors without any reason.
Read the full tafseer →