لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْـًٔا اِدًّا ۟ۙلَـقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـئًـا اِدًّا ۙ
(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
You have done an atrocious thing.
— Saheeh International
Juz 16 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juz
لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْـًٔا اِدًّا ۟ۙلَـقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـئًـا اِدًّا ۙ
(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
You have done an atrocious thing.
— Saheeh International
Juz 16 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Maryam
سخت بیہودہ بات ہے جوتم لوگ گھڑ لائے ہو
(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو
یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز ﻻئے ہو
(ایسی بات کہنے والو !) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑی سنگین حرکت کی ہے۔
بیشک تم حد کی بھاری بات لائے
(اے کافرو!) بیشک تم بہت ہی سخت اور عجیب بات (زبان پر) لائے ہو،
بلاشبہ یقینا تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو۔
یہ تو اتنی بری بات تم گھڑ لائے ہو۔
یہ تم نے ایسی سنگین بات کہی ہے
(ظالمو !) تم نے ایک اتنی سخت بےجا اور بیہودہ بات کہہ دی ہے،
تم نے یہ حرکت ایسی سخت کی ہے۔
(دیکھو !) تم یہ ایک بہت بھاری بات لائے ہو
ایسا کہنے والو یہ تو تم بری بات زبان پر لاتے ہو۔
Surely you have made a monstrous statement.
Indeed you have come up with such an abominable statement
Indeed you have come up with such an abominable statement
Indeed you have brought forth (said) a thing Idda.
Assuredly ye utter a disastrous thing
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
You have done an atrocious thing.
This is certainly a monstrous lie!
Certainly you have made an abominable assertion
Assuredly ye have brought a thing monstrous. *Chapter: 19
Indeed ye have put forth a thing most monstrous!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 88–95
عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
سورة مَرْیَم 52 یعنی سفارش اسی کے حق میں ہوگی جس نے پروانہ حاصل کیا ہو، اور وہی سفارش کرسکے گا جسے پروانہ ملا ہو۔ آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونوں پہلوؤں پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ بات کہ سفارش صرف اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمان سے پروانہ حاصل کرلیا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا میں ایمان لاکر خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے آپ کو خدا کے عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ اور یہ بات کہ سفارش وہی کرسکے گا جس کو پروانہ ملا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی سمجھ لیا ہے وہ سفارشیں کرنے کے مجاز نہ ہوں گے بلکہ خدا خود جس کو اجازت دے گا وہی شفاعت کے لیئے زبان کھول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
خلاصہ تفسیر اور یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے اولاد (بھی) اختیار کر رکھی ہے (چنانچہ نصارٰی کثرت سے اور یہود قلت سے اور مشرکین عرب اس عقیدہ فاسدہ میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) تم نے (جو) یہ (بات کہی تو) ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جاویں اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں اس بات سے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے (کیونکہ) جتنے کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں سب خدا تعالیٰ کے روبرو غلام ہو کر حاضر ہوتے ہیں (اور) اس نے سب کو (اپنی قدرت میں)…
Read the full tafseer →لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا۔ "إِدّ " کے معنی ہیں سخت، درشت اور سنگین بات۔ یہاں اس اسلوب کلام پر بھی نظر رہے کہ بات غائب کے صیغہ سے ہو رہی تھی لیکن جب شدت عتاب و غضب کا موقع آیا تو دفعۃً صیغہ خطاب کا آگیا۔ یہ وہی اسلوب کلام ہے جس کا ذکر ہم " وان منکم الا واردھا " کے تحت کر آئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ تم بڑی ہی سنگین بات کے مرتکب ہوئے ہو۔ سنگین اس وجہ سے کہ یہ خدا کی خدائی اور اس کی کتائی میں دوسرے کو شریک وسہیم بنانا ہے اور خدا غیور ہے اس وجہ سے اس بات کو وہ کبھی گوارا نہیں کرسکتا کہ کسی کو اس کا کفو اور ہمسر قرار دے کر اس کی یکتائی کو بٹہ لگایا جائے۔ جب بندے، بندے ہوکر، کسی ایسی بات کو گوارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
91۔ 1 ادا کے معنی بہت بھیانک معاملہ اور داھیۃ (بھاری چیز اور مصبیت) کے ہیں۔ یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے کہ اللہ کی اولاد قرار دینا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس سے آسمان و زمین پھٹ سکتے ہیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–95
36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…
Read the full tafseer →لقد جئتم شیئا ادا (91 : 98) ” سخت بیہودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑ لائے ہو “۔ اس کی تردید کے ساتھ ہی تمام ماحول بھڑک اٹھتا ہے ‘ ہر چیز میں حرکت آجاتی ہے۔ پوری کائنات رب کی توہین کے ردعمل میں غضبناک ہوجاتی ہے۔ ہر چیز یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کلمہ کفر سے اس کے وجود ‘ اس کی ذات ‘ اس کی فطرت کی توہین کی گئی ہے ‘ چونکہ ہر چیز کے ضمیر اور اس کی شخصیت کا رد عمل باہر آجاتا ہے ‘ اور وہ بنیادیں ہی ہل جاتی ہیں جن پر اس کلمہ کفر سے قبل کائنات کی ہر چیز میں سکون اور ٹھہرائو تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
10 یعنی یہ ایسی بھاری بات کہی گئی اور ایسا سخت گستاخانہ کلمہ منہ سے نکالا گیا جسے سن کر اگر آسمان زمین اور پہاڑ مارے ہول کے پھٹ پڑیں اور ٹکڑیں ٹکڑے ہوجائیں تو کچھ بعید نہیں۔ اس گستاخی پر اگر غضب الٰہی بھڑک اٹھے تو عالم تہ وبالا ہوجائے اور آسمان و زمین تک کے پرخچے اڑ جائیں۔ محض اس کا حلم مانع ہے کہ ان بیہودگیوں کو دیکھ کر دنیا کو ایک دم تباہ نہیں کرتا۔ جس خداوند قدوس کی توحید پر آسمان، زمین، پہاڑ، غرض ہر علوی و سفلی چیز شہادت دے رہی ہے، انسان کی یہ جسارت کہ اس کے لیے اولاد کی احتیاج ثابت کرنے لگے۔ العیاذ باللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
آیت 89 لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا ” یہ عقیدہ گھڑکے تم لوگ اللہ کے حضور ایک بہت بڑی گستاخی کے مرتکب ہوئے ہو اور تمہاری اس گستاخی کی وجہ سے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
78 سفارش کی کڑی شرائط :۔ اس ذو معنی جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو سفارش صرف اس شخص کے حق میں کی جاسکے گی جس نے اپنے آپ کو مستحق شفاعت بنائے رکھا ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا عہد ہے کہ ان کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی اور یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی شرک نہ کیا ہوگا۔ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے مگر کبھی کبھی ان سے گناہ بھی سرزد ہوگئے ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سفارش صرف وہ لوگ کرسکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دیں گے اور یہی اللہ کا عہد ہے۔ ان لوگوں کو سفارش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی جن سے مشرکوں نے اپنی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔
Read the full tafseer →123۔ یعنی یہی اللہ کے فرزند قرار دینے کا قول۔ (آیت) ” ادا “۔ اے امرا منکر ا (راغب) قال ابن خالویہ الاد العجب وقیل العظیم المنکر والادۃ الشدۃ (کشاف) الاد فی کلام العرب من اعظم الدواھی (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
آیت نمبر 83 تا 98 ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…
Read the full tafseer →لقد جئتم شیئا ادا۔ تم نے نہایت سخت حرکت کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اداً کا ترجمہ کیا منکر یعنی بری مجاہد اور قتادہ نے سخت بری۔ ادنی امر فلاں بات یا واقعہ کا مجھ پر سخت بوجھ پڑا یہ عربی محاورہ ہے ‘ بغوی نے لکھا ہے عربی زبان میں اِدٌّ کا معنی ہے بہت ہی بڑا حادثہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
(88۔ 89۔ 90) اور یہود بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیز ؑ کو بیٹا بنا لیا ایسی سخت حرکت اور بڑی بھاری بات ہے کہ اس بات کی وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اڑ جائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
پہلی آیات سے مناسبت یہ ہے کہ جب شفاعت کی نفی فرمائی اور سب سے بڑھ کر شفاعت کی حق دار اولاد ہوتی ہے، اس لیے ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی نفی فرمائی، تاکہ خاص و عام ہر سفارشی کی نفی ہوجائے اور ہر اس عزت کی نفی ہوجائے جس کے حصول کا باعث وہ اپنے معبودوں کو سمجھتے تھے۔ (بقاعی) وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا : اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کے باطل ہونے کی دلیل بھی ذکر فرما دی کہ وہ کہتے ہیں کہ اس رحمٰن نے اولاد بنا رکھی ہے جس کی بےپناہ رحمت سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے اور ہر چیز اپنی بقا کے لیے اسی کی محتاج ہے، جبکہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد جئتم شیا ادا۔ ادا کا مطلب ہے سخت ممنوع اور قبیح چیز، یہ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد وغیر ہما سے مروی ہے۔ جوہری نے کہا : الاد، الادۃ الدھیۃ واللامروالامر العظیم۔ اس کا معنی ہے ہولناک اور سخت ترین امر ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد جئتم شیا اداً اسی طرح الاد، مثل فاعل ہی اور الادۃ کی جمع ادد ہے ادت فلاناداھیۃ تودۃ ادا، فلاں کو سخت شدت نے آلیا۔ الاد کا معنی غلبہ اور قوت بھی ہے۔ زجاج نے کہا : نضون عنی شدۃ واذا من بعد ما کنت صملاً جلداً ابو عبدالرحمن سلمی نے کہا : ادا ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جب کوئی انتہائی ناپسندیدہ کام کرے، راجز نے کہا :۔ قد لقی الاقران…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئتم شیئا ادا “ یعنی بڑی بات (اور فرمایا) (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ “ یعنی شرک سے آسمان زمین پہاڑ اور ساری مخلوق خوف زدہ ہوجاتی ہے مگر انسان اور جنات (خوف زدہ نہیں ہوتے) اور قریب ہے کہ اس شرک کی وجہ سے اللہ کی عظمت کے لئے (سب چیزیں) نیچے گرپڑیں اور جیسے کہ مشرک کی کوئی نیکی شرک کے ساتھ نفع نہیں دیتی اسی طرح ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موحدین کے گناہوں کو بخش دیں کے (اور فرمایا) (آیت) ” وتخر الجبال ھدا “ یعنی گرپڑنا۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے والوں سے پہاڑ کا خوش ہونا : 2:۔ ابن مبارک، سعید بن منصور، ابن ابی…
Read the full tafseer →[لَقَدْ جِئْتم : یقینا تم لوگ آئے ہو ] [شَـيْــــــًٔـا اِدًّا : ایک ہولناک چیز کے پاس ] ء د د [اَدًّا : (ض۔ ن) ] بھاری اور دشوار ہونا۔ اِدٌّ ہولناک۔ بھاری۔ زیر مطالعہ آیت۔ 89 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
پھر فرمایا (اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے سب رحمن کے حضور میں بندہ بنے ہوئے حاضر ہوں گے۔ (سب اللہ کے بندے ہیں اور بندگی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوں گے اس کا بندہ ہونے سے کسی کو بھی انکار اور استنکاف نہ ہوگا جو سراپا بندہ ہو وہ کیونکر خالق جل مجدہ کی اولاد ہوسکتا ہے) (لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا) ان تمام حاضر ہونے والوں کو اس نے اپنے علمی احاطہ میں لے رکھا ہے اور انھیں خوب شمار کر رکھا ہے۔ کوئی بھی بچ کر اور بھاگ کر اس کے قبضہ قدرت سے نکل نہیں سکتا یہ جو لوگ اس کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا (ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔ نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
61:۔ یہ شکوی ہے۔ سورة کہف کی ابتداء میں فرمایا ” ویُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا “ یعنی ان لوگوں کو زجر و تخویف سنائی جو اللہ کے سوا اوروں کو نائب و متصرف سمجھتے تھے اس کے بعد سورة کہف اور مریم میں مشرکین کے شبہات کا ازالہ کیا گیا اب آخر میں ازالہ شبہات کے بعد سورة کہف والے شکوے کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نائب نہیں اور اللہ کے سوا اوروں کو متصرف اور کارساز سمجھنا بہت بڑا جرم ہے اور ولد سے یہاں ولد حقیقی مراد نہیں ہے بلکہ نائب اور سفارشی مراد ہے جیسا کہ ” اتخذ “ کی تعبیر بتا رہی ہے۔ ” لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا “ سے ” اَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے قیامت کو پیش آنیوالے حالات کا تذکرہ بھی فرمایا اور ساتھ ایمان والوں کا انجام بھی بیان فرمایا کہ وہ اللہ کے حضور میں وفد کی شکل میں باعزت طور پر پیش ہوں گے برخلاف اس کے کافر اور مشرک مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کرلے جایا جائے گا اور ان کی سخت تذلیل ہوگی ۔ (عقیدہ ابنیت) آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے عقیدہ ابنیت کی تردید فرمائی ہے ، سورة بنی اسرائیل کے آخر میں اور سورة کہف میں بھی یہی تذکرہ ہے وہاں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” لم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی…
Read the full tafseer →لَقَدْ جِئْتُمْ شَـيْــــــًٔـا اِدًّا 89ۙ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا۔ تَکَادُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَحِزُّالْجِبَالُ ھَدًّا۔ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ (مریم : 89، 90، 91) (یقینا تم نے ایک سخت معیوب بات کہی ہے۔ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑے اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ دھماکے کے ساتھ گرپڑیں۔ کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ رحمن کا ایک بیٹا ہے۔ ) اِدًّا … اَی مُنْکَرًا عَظِیْمًا یعنی سخت معیوب اور قبیح چیز۔ جوہری نے کہا الادَّم والادَّۃ۔ الدَّاھِیَۃُ وَالْاَمْرُالْفَظِیْعُ (قرطبی) ھَدًّا … اس کا معنی کسی دیوار وغیرہ کے دھماکے کے ساتھ گرنے کے ہیں۔ اسلوبِ کلام کی تبدیلی پہلی آیت میں سب سے پہلی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کچھ بزرگ اللہ تعالیٰ کو اپنی بات منواسکتے ہیں انھوں نے اسی وجہ سے ہی یہ عقیدہ بنا رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اولاد رکھتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور بزرگوں کو یہاں تک کہ معصوم بچوں کو بھی سفارش کا حق دیا جائے گا لیکن یہ لوگ اسی کے حق میں سفارش کرسکیں گے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اجازت عنایت فرمائے گا۔ سفارش کرنے والی کتنی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو وہ اس حد تک ہی سفارش کرپائے گی جس حد تک اسے سفارش کرنے کی اجازت ملے گی اس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس سے بڑھ کر یہ عقیدہ اختیار کرلیا ہے کہ کچھ…
Read the full tafseer →89: لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا (تم نے نہایت سخت حرکت کی ہے) یہاں غائب سے خطاب کی طرف التفات کیا گیا ہے اور اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ انہیں یہ کہیں۔ اَلْادّ عجیب یا بڑ احادثہ اَلْاِدّۃ سختی اور کہتے ہیں ادّنی الامر کہ مجھے کام نے بوجھل کردیا اور مجھ پر بہت گراں گزرا۔
Read the full tafseer →89۔ لقد جئتم شیئا ادا۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے ، ادا، ، کا ترجمہ منکر کیا ہے۔ یعنی بری ، مجاہد اور قتادہ نے اس کا معنی سخت بری کیا ہے۔ مقاتل نے اس کا معنی کیا ہے بہت بڑا، عربی زبان میں ادا کا معنی ہے بہت بڑا حادثہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
87۔ 94:۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اول تو قیامت قائم ہی نہ ہوگی اور ہم کسی عذاب میں پکڑے گئے تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہم کو اس عذاب سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی سفارش کا ہر کسی کو مالک اور مختار نہیں بنایا ہے جو یہ مشرک جس سے چاہیں گے اپنی سفارش کرلیں گے یہ شفاعت تو اللہ کے فرشتے اس کے رسول اور نیک لوگ ایسے لوگوں کے حق میں کریں گے جو اللہ کی وحدانیت اس کے رسولوں کو سچا جاننے کے عہد پر قائم ہوں گے لیکن سوائے شرک کے اور گناہوں میں عمر بھر گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
آیت 88 یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس عزم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپن ابیٹا بنایا ہے۔ جی اس کہ نصاریٰ کہتے ہیں (المسیح ابن اللہ) التوبۃ 30/9) ” مسیح اللہ کا بیٹا ہے “ یہودی کہتے ہیں (عزیز ابن اللہ) (التوبۃ :30/9) ” عزیز اللہ کا بیٹا ہے “ اور مشرکین کہتے ہیں ” فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔ (لقد جئتم شیاء ادا) یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ (تکاد السموت) قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف (یتفطرن منہ) اس قول سے پھٹ جاتے۔ (وتنشق الارض) اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
97 سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے احاطہ کر رکھا ہے ان سب کا گن کر "۔ پس نہ کوئی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہوسکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ بلکہ ہر کسی نے اپنے وقت موعود و محدد میں اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر شخص کی عمر، اس کے انفاس اور اس کے اقوال و اَفعال کا اس نے پوری طرح احاطہ اور شمار کر رکھا ہے۔ اور ہر چیز کی اس کے یہاں ایک خاص حد اور انتہا ہے ۔ { کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہ بِمِقْدَارٍ } ۔ سو آسمان و زمین کی سب مخلوق اس کے کامل کنٹرول اور مکمل قابو میں ہے۔ ہر ایک کو اس قادر مطلق نے پوری طرح گن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
اللہ تعالیٰ رشتے ناتے سے بےنیاز ہے تشریح : یہودی اور عیسائی مشرک ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات جو کہ توحید کا سبق دیتی ہیں ان کو چھوڑ کر پیغمبروں کو ہی اللہ اور اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ شرک اس قدر شدید گناہ ہے کہ اس سے دنیا تہس نہس ہوسکتی ہے۔ اللہ کیونکہ غفور الرحیم ہے، اس لیے وہ گنہگاروں، مشرکوں اور کافروں کو فوراً عذاب نہیں دیتا، مگر ان کے برے انجام کے بارے میں قرآن میں بار بار اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح توحید کی خصوصیات، نیک اور بد لوگوں کا انجام بہت دفعہ بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹرطارق السویڈان بیان کرتے ہیں۔ (1) دنیا اور آخرت 115 دفعہ قرآن میں آیا ہے۔ (2) فرشتے اور شیطان 88…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف (انسان پر شیطان کا تسلط) یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
ف 6 نصاری حضرت مسیح کو اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی اولاد بتاتے ہیں۔ (دیکھیے توبہ آیت 103 اسرا 40)
Read the full tafseer →(19:89) ادا۔ اچھنبا۔ بھاری بوجھ۔ نازیبا اور ناپسندیدہ بات۔ ایسی نہایت ناپسندیدہ بات جس سے ہنگامہ بپا ہوجائے۔ یہ ادت الناقۃ تئد کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں اونٹنی (اپنے بچے کی جدائی میں) سخت روئی اور ہنگامہ کیا۔ الادید۔ شور ۔ ہنگامہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 98 اِد سخت، بھاری چیز۔ تکاد قریب ہے۔ یتفطرن پھٹ پڑیں گے۔ تنشق ٹکڑے ہوجائیں گے۔ تخر ڈھے پڑیں، گر جائیں۔ ھد دھڑام سے گرنا۔ ماینبغی شایان شان نہیں ہے۔ احصی اس نے شمار کر رکھا ہے۔ عد گنتی۔ ود محبت لد جھگڑالو آدمی۔ رکز آہٹ، سرسراہٹ۔ تشریح :- آیت نمبر 88 تا 98 سورة مریم کی آیات کو نصاریٰ کے اس قول اور عقیدے پر ختم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے ہی میں اس بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
اس آیت میں فرمایا کہ بعض گمراہ یوں بکواس لگاتے ہیں کہ اللہ کا ایک بیٹا بھی ہے۔ ان سے خطاب ہوتا ہے کہ تم بڑی بھاری بات بنا کر لائے ہو یعنی یہ بڑا گستاخی کا کلمہ ہے، یہ ایسا سخت کلمہ ہے کہ اس کی شامت سے اگر آسمان پھٹ پڑیں تو کچھ بعید نہیں، اور زمین پھٹ جائے تو کچھ دور نہیں، اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں تو کچھ عجب بات نہیں ہے۔ خدا کے لئے بیٹا ثابت کرتے ہو، حقیقت میں بڑی حماقت کی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
[32] یہ اجازت صرف انبیاء اور صالحین کو ملے گی اور صرف مومنین کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
(ف 1) مشرکین کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اس امید پر کہ ان کے معبودان باطل قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے اور جہنم کی آگ سے بچائیں گے ان کی پرستش شروع کردی ، حالانکہ یہی لوگ قیامت کے ہول سے ان معبودوں کو بھول جائیں گے اور ان کی عبادت سے یکسر انکار کردیں گے ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ شرک وکفر کی گمراہیاں انکی طبیعت وذوق کے موافق ہیں جہاں شیاطین کی جانب سے تحریک ہوئی ، یہ متاثر ہوگئے ، ارشاد ہے کہ اللہ کے پاکباز بندوں کے لئے تو وہاں عزت واحترام کا سامان موجود ہے ، انہیں بارگاہ رحمت میں فرشتے تعظیم و توقیر سے پہنچا دیں گے ، اگر یہ لوگ جو بت پرستی کے مجرم ہیں ، جنہوں نے دنیا میں نفس کی پوجا کی ہے جنہوں…
Read the full tafseer →-89 بلاشبہ تم نے یہ ایک سخت نامعقول اور بھاری بات گھڑی ہے اور تم ایک ایسی بھاری چیز میں آگئے ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بھاری گناہ 12 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت ایک ایسا بھاری گناہ ہے جس کے نیچے تم اد بےہو اور آپھنسے ہو کہ ایعاذ باللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
ف 2۔ ہر شخص خدا ہی کا محتاج اور محکوم ہوگا۔
Read the full tafseer →ان نظریات کے حامل سب لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ بہت ہی سخت بات ہے جو تم نے کہی ہے : 89۔ (اد) کی اصل ” ادد “ ہے ۔ ” الاد : الداھیہ والامر الفظیع “ وہ امر جس کی برائی حد سے گزر چکی ہو یعنی بہت ہی بری بات کہ اس سے بری ممکن ہی نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اتنی بری بات ہے کہ اس سے زیادہ کوئی بری بات اور دین اسلام میں نہیں ہو سکتی ۔ (جاء یجئی) کے وہی معنی ہیں جو (اتی) کے ہیں لیکن (جاء) میں قصد پایا جاتا ہے اور اس جگہ (جئتم) بولا گیا ہے یعنی جس بات کا تم نے قصد کیا ہے وہ بہت ہی بری بات اتنی بری کی اس سے زیادہ بری بات اور کوئی نہیں ہو سکتی ، گویا یہ کہا جارہا ہے کہ جس بات کا تم نے قصد کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَـٰنِ عَهْدًا "Except the one who has taken a covenant with the Rahman (All-Merciful) " - 19:87. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has said that عَھد means a declaration of firm belief in the Unity of Allah Ta’ ala, while others say that عِھد means committing the Qur’ an to memory. In brief only those people will have the permission to intercede with Allah who stand firm by their covenant to adhere to the true faith. (Ruh)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
52. This implies two things: (1) Intercession will be allowed only for the one who might have received permission for it from the Merciful, that is, the one who believed in Allah in the world and made himself deserving of His pardon. (2) Only that one will be able to plead intercession who might have received permission for this from the Merciful, and not those ones whom people themselves had made their intercessors without any reason.
Read the full tafseer →