Maryam 19:87

Maryam · from ayah 87

19:87

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا ۟ۘلَا يَمۡلِكُوۡنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا‌ ۘ‏

(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

None will have [power of] intercession except he who had taken from the Most Merciful a covenant.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:87

اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمان کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لوگوں کو کسی کی سفارش کرنے کا اختیار بھی نہیں ہوگا، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے خدائے رحمن سے کوئی اجازت حاصل کرلی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اس دن) لوگ شفاعت کے مالک نہ ہوں گے سوائے ان کے جنہوں نے (خدائے) رحمان سے وعدۂ (شفاعت) لے لیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ سفارش کے مالک نہ ہوں گے مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن کوئی بھی کسی کی سفارش نہ کرسکے گا، مگر جس نے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن کسی کو شفاعت کا اختیار نہیں وگا مگر اس کو جس نے اللہ کے پاس کوئی عہد حاصل کرلیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہاں ان کو کسی سفارش کا بھی کوئی اختیار نہیں ہوگا سوائے اس شخص کے جس نے (خدائے) رحمان سے (اس بارے) کوئی اجازت لی ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

شفاعت کا اختیار کوئی بھی نہ رکھے گا بجز اس کے کہ جس نے خدائے رحمن سے اجازت لے رکھی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس دن کسی کو شفاعت کا اختیار نہیں ہوگا سوائے اس کے جس نے رحمن سے کوئی عہد حاصل کرلیا ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو لوگ کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے اللہ سے اقرار لیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day none will have the power to intercede for them except those who received a sanction from the Most Compassionate Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

none will have power to intercede, except the one who has entered into a covenant with the All-Merciful (Allah).

— Muhammad Taqi Usmani

none will have power to intercede, except the one who has entered into a covenant with the All-Merciful (Allah).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

None shall have the power of intercession, but such a one as has received permission (or promise) from the Most Gracious (Allah).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will have no power of intercession, save him who hath made a covenant with his Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

None will have [power of] intercession except he who had taken from the Most Merciful a covenant.

— Saheeh International

no one will be able to intercede for the others except those whom the Beneficent God has given authority.

— Muhammad Sarwar

They shall not control intercession, save he who has made a covenant with the Beneficent Allah.

— Muhammad Habib Shakir

They shall not own intercession, excepting those who have taken of the Compassionate a covenant. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

None shall have the power of intercession, but such a one as has received permission (or promise) from (Allah) Most Gracious.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:87

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 85–87

اللہ تعالیٰ کے معزز مہمان۔ جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف اللہ سے خوف نہ کھانے والے، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبرا قہرا جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے ؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 87–95

سورة مَرْیَم 52 یعنی سفارش اسی کے حق میں ہوگی جس نے پروانہ حاصل کیا ہو، اور وہی سفارش کرسکے گا جسے پروانہ ملا ہو۔ آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونوں پہلوؤں پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ بات کہ سفارش صرف اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمان سے پروانہ حاصل کرلیا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا میں ایمان لاکر خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے آپ کو خدا کے عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ اور یہ بات کہ سفارش وہی کرسکے گا جس کو پروانہ ملا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی سمجھ لیا ہے وہ سفارشیں کرنے کے مجاز نہ ہوں گے بلکہ خدا خود جس کو اجازت دے گا وہی شفاعت کے لیئے زبان کھول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ عہد سے مراد شہادت لا الہ الا اللہ ہے، بعض نے فرمایا کہ عہد سے مراد حفظ کتاب اللہ ہے خلاصہ یہ ہے کہ شفاعت کرنے کا حق ہر ایک کو نہیں ملے گا بجز ان لوگوں کے جو ایمان کے عہد پر مضبوط رہے۔ (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 85–87

تفسیر آیات 85 تا 87: يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا (85) وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا (86) لا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا (87) وفد کا مفہوم : " وفد وفدا کے معنی کہیں عزت و اکرام کے ساتھ جانے کے ہیں جس طرح سفیر اور قاصد بادشاہ اور امیر کے پاس جاتے ہیں۔ ورد، ورد یرد سے اسم ہے۔ اس کے معنی گھاٹ پر اترنے کے ہیں جس طرح پیاسے اونٹ گھاٹ پر جاتے ہیں۔ إِلا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا میں میرے نزدیک استثناء منقطع ہے۔ یہ ان مجرموں کی مزعومہ شفاعت کی نفی ہے۔ فرمایا کہ جس دن ہم متقیوں کو اعزاز کے ساتھ خدائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

87۔ 1 قول وقرار (عہد) کا مطلب ایمان و تقوٰی ہے۔ یعنی اہل ایمان و تقوٰی میں سے جن کو اللہ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، وہی شفاعت کریں گے، ان کے سوا کسی کو شفاعت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–95

36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 87–88

اس منظر میں فضا غضب ‘ غیرت اور ردعمل کی ہے۔ اس فضا کو الفاظ کی گونج اور گرج اور عبارات اور فقروں کی ضربات مزید تیز کردیتی ہیں۔ کائنات کے ضمیر میں ایک اشتہعال ہے۔ نفس کائنات کی تمام نفرت کرنے والی قوتوں کے اندر بھونچال آیا ہوا ہے۔ تمام تکوینی قوتوں کے اندر ‘ ذات باری کی شان میں اس قدر سخت گستاخی کرنے کی وجہ سے ‘ سخت اشتعال ہے۔ جب کسی انسان کی ذات یا اس کے محبوب شخص کی توہین کردی جائے اور اس کی عزت خطرے میں ہو تو اس کے تمام اعضاء یکدم ردعمل میں ہوتے ہیں۔ اسی رطح یہ پوری کائنات اس منظر میں نہایت ہی رد عمل میں ہے کیونکہ اس کے مالک کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے۔ اس کلمہ کفر اور شان باری کی توہین کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے شفاعت کا وعدہ دیا مثلاً ملائکہ، انبیاء، صالحین وغیر ہم، وہ ہی درجہ بدرجہ سفارش کریں گے، بدون اجازت کسی کو زبان ہلانے کی طاقت نہ ہوگی۔ اور سفارش بھی ان ہی لوگوں کی کرسکیں گے جن کے حق میں سفارش کیے جانے کا وعدہ دے چکے ہیں۔ کافروں کے لیے شفاعت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 87–88

آیت 87 لَا یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا ” اس دن کوئی کسی کی شفاعت نہ کرسکے گا اور کوئی شفاعت کسی کے کام نہیں آئے گی ‘ سوائے اس شخص کے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا عہد نبھایا ہو۔ جس نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ‘ اطاعت اور بندگی میں بسر کی ہو سوائے ان کوتاہیوں اور لغزشوں کے جو بشری کمزوریوں کے تحت سرزد ہوئی ہوں۔ ایسے لوگوں کے لیے تو شفاعت مفید ہوسکتی ہے ‘ لیکن وہ لوگ جو اپنی زندگیوں میں مستقلاً اللہ کے عہد کی خلاف ورزیاں کرتے رہے ‘ جنہوں نے اپنی زندگیوں کا رخ متعین کرتے ہوئے اللہ کی مرضی اور اس کے احکام کو مسلسل نظر انداز کیے رکھا ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 87–90

78 سفارش کی کڑی شرائط :۔ اس ذو معنی جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو سفارش صرف اس شخص کے حق میں کی جاسکے گی جس نے اپنے آپ کو مستحق شفاعت بنائے رکھا ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا عہد ہے کہ ان کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی اور یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی شرک نہ کیا ہوگا۔ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے مگر کبھی کبھی ان سے گناہ بھی سرزد ہوگئے ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سفارش صرف وہ لوگ کرسکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دیں گے اور یہی اللہ کا عہد ہے۔ ان لوگوں کو سفارش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی جن سے مشرکوں نے اپنی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

121۔ (اور وہ اجازت بھی خاص ہے اہل ایمان کے ساتھ، اہل کفر اس اجازت سے بھی نفع نہیں اٹھا سکتے) یہ اجازت ملائکہ، انبیاء اور صلحاء مومنین کو ملے گی۔ (آیت) ” عھدا “۔ عھد سے مراد یہاں اذن لی گئی ہے۔ وقیل عھد اللہ اذنہ لمن شاء فی الشفاعۃ (بحر) وقیل المراد بالعھد الامر والاذن (روح) دوسری مراد عھد سے عہد توحید ونبوت یا کلمہ شہادت و ایمان ہی ہوسکتا ہے اور ابن عباس ؓ سے یہی منقول ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–98

آیت نمبر 83 تا 98 ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یملکون الشفاعۃ الا من اتخذ عند الرحمن عہدا۔ وہاں کوئی سفارش کا اختیار نہیں رکھے گا مگر جس نے رحمن کے پاس (سے) اجازت لے لی ہے ‘ یعنی جن کے اندر ایسے اوصاہوں گے جو شفاعت کرنے کے لئے ضروری ہیں وہ شفاعت کرسکیں گے ‘ مراد یہ ہے کہ ایماندار نیکوکار ہوں تو اہل شفاعت ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ دوسری جگہ فرمایا ہے یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُہُمْ مِنْ فَضْلِہٖبقول ابن صالح حضرت ابن عباس ؓ نے مؤخر الذکر آیت کی تفسیر میں فرمایا یَسْتَجِیْبُیعنی ان کے بھائیوں کے لئے ان کی شفاعت قبول فرمائے گا ویزیدہم من فضلہ یعنی اپنی مہربانی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 85–87

(85۔ 86۔ 87) اور قیامت کے دن جب کہ ہم کفر و شرک اور تمام برائیوں سے بچنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی دار النعیم کی طرف اونٹنیوں پر سوار کرکے جمع کریں گے (یعنی اعزاز دیں گے) اور مشرکین کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے اور فرشتے بھی کسی کی سفارش نہیں کریں گے مگر جو کہ کلمہ ”۔ لاالہ الا اللہ“۔ کا ماننے والا ہوگا (اس کی اللہ تعالیٰ کے حکم سے سفارش کریں گے)۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۘلَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ۔۔ : یعنی شفاعت کا حق دار وہ ہوگا جسے رحمٰن کے ہاں عہد نجات حاصل ہو۔ اس عہد سے مراد کلمۂ شہادت کا اقرار ہے۔ یہ تفسیر ابن عباس اور ابن مسعود ؓ سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر مع حاشیہ حکمت بن بشیر) ایک حدیث میں پنجگانہ نماز کی پابندی کو بھی عہد قرار دیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْعَھْدُ الَّذِيْ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمُ الصَّلَاۃُ فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَرَ) [ مسند أحمد : 5؍346، ح : 23001۔ ترمذي : 2621۔ ابن ماجہ : 1079، عن بریدۃ ؓ و صححہ الألباني ] ”وہ عہد جو ہمارے اور ان (مشرکین) کے درمیان ہے نماز ہے، جس نے اسے ترک کردیا تو وہ بلاشبہ کافر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یملکون الشفاعۃ یعنی یہ کفار کسی کے لیے شفاعت کے مالک نہیں۔ الا من اتخذ عند الرحمن عھداً اس سے مراد مسلمان ہیں جو شفاعت کے مالک ہوں گے۔ یہ کسی چیز کا استثناء غیر جنس سے ہے یعنی لیکن وہ جنہوں نے خداوند رحمن سے کوئی وعدہ لیا ہے وہ شفاعت کریں گے۔ من اس بنا پر محل نصب میں ہے۔ بعض نے فرمایا : یملکون کی واو سے بدل کی بنا پر محل رفع میں ہے یعنی کوئی اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کا مالک نہیں ہوگا مگر جس نے اللہ کی بارگاہ میں عہد لیا وہ مالک ہوگا اس بنا پر استثنا متصل ہوگا اور نسوق المجرمین میں المجرمین سے کفار اور نافرمان سب مراد ہیں۔ پھر خبر دی کہ وہ شفاعت کے مالک نہ ہوں گے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 83–87

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین توزھم ازا “ یعنی شیطانوں کو کافروں پر ہم مسلط کردیتے ہیں جو ان کو اغوا کرلیتے ہیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم “ یعنی وہ شیاطین مشرکین کو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف اکساتے ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم ازا “ کہ شیاطین ان کو مسلمانوں کے خلاف اس طرح اکساتے ہیں جیسے کتے کو شکار پر اکسایا جاتا ہے۔ 4:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم ازا “ یعنی ان کو اکساتے ہیں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَا يَمْلِكُوْنَ : اختیار نہیں رکھتے لوگ ] [الشَّفَاعَةَ : شفاعت کا ] [اِلَّا : مگر ] [مَنِ : وہ جس نے ] [اتَّخَذَ : پکڑا ] [عِنْدَ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے پاس ] [عَهْدًا : کوئی عہد ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 87 کے دو معانی ہوسکتے ہیں اور آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونوں معانی پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔ ایک یہ کہ سفارش اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمن سے پروانہ حاصل کرلیا ہو یعنی دنیا میں ایمان لا کر اور خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے آپ کو عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ دوسرے یہ کہ سفارش وہی کرسکے گا جس کو پروانہ ملا ہو یعنی لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی سمجھ لیا ہے وہ سفارش کرنے کے مجاز نہ ہوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 86–88

اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی مذمت اور ان کے قول کی شناعت مشرکین عرب کہتے تھے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے تھے اور اب بھی اپنے دعویٰ پر قائم ہیں اور ان کے علاوہ دیگر مشرکین بھی اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ آیات بالا میں اول تو ان لوگوں کا قول نقل فرمایا پھر اس کی تردید فرمائی اور ان کے قول کی قباحت اور شناعت کو پوری طرح واضح فرمایا اور ارشاد فرمایا (لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا) (بلاشبہ تم نے بہت سخت بات کہی ہے) یہ معمولی بات نہیں یہ تو ایسی بات ہے کہ قریب ہے کہ اس کی وجہ سے آسمان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–98

ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا (ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔ نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

60:۔ یہ سورت کی خصوصیت کا بیان ہے اور اس سے شفاعت قہری کی نفی مقصود ہے۔ ” اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا “ شفاعت وہی کرسکے گا، جسے اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ لیکن شفاعت قہری کی اجازت تو کسی کو نہیں ہوگی۔ یا ” عھدا “ سے عہد توحید مراد ہے۔ یعنی قیامت کے دن صرف ان گنہگاروں کے حق میں شفاعت قبول ہوگی جو اہل توحید ہوں گے۔ قال ابن عباس العھد لا الہ الا اللہ۔ اس صورت میں اس سے مراد مشفوع لہ ہے یا یہ شافعین کے حق میں ہے۔ یعنی گنہگاروں کی سفارش صرف وہی لوگ کرسکیں گے جنہوں نے دنیا میں شرک نہیں کیا اور ان کا خاتمہ توحید پر ہوا۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور مقاتل کا قول ہے۔ وقال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–87

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا عقیدہ اور ان کی بیہودہ گفتگو کا رد فرمایا ، اس کے علاوہ اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے واضح کیا کہ مشرکین اپنے معبودان کو باعث عزت سمجھتے تھے وہ ان کے مخالف بن جائیں گے اور ان کی عبادت سے انکار کردیں گے ، نیز مشرکین کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا ، اب اللہ نے مشرکین اور کفار کی گمراہی کے اسباب کا تذکرہ کیا ہے اور بتلا دیا ہے کہ جملہ اسباب ضلالت میں سے سب سے بڑا سبب انسانوں پر شیطان کا تسلط ہے ۔ (شیاطین کا تسلط) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم تر انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین “۔ اے پیغمبر ! ﷺ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا۝ 87ۘ ملك المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور، وذلک يختصّ بسیاسة الناطقین، ولهذا يقال : مَلِكُ الناسِ ، ولا يقال : مَلِك الأشياءِ ، وقوله : مَلِكِ يومِ الدّين [ الفاتحة/ 3] فتقدیره : الملک في يوم الدین، ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے یہی وجہ ہے کہ ملک امن اس تو کہا جاتا ہے لیکن ملک الاشیاء کہنا صحیح نہیں ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ مَلِكِ يومِ الدّين [ الفاتحة/ 3] انصاف کے دن کا حاکم ۔ میں ملک کی اضافت یوم کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ اسل میں ملک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 77–95

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَ یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَۃَ اِلاَّ مَنِ اتَّخَذَعِنْدَالرَّحْمٰنِ عَھْدًا۔ (مریم : 78) (لوگ شفاعت و سفارش کا اختیار نہیں رکھتے مگر جس نے لے لیا ہے رحمن سے وعدہ۔ ) عَھْدًا کا مفہوم قیامت کے دن کفار اور مشرکین جب جہنم کی طرف ہانکے جارہے ہوں گے اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہوگا تو وہ شدید تمنا کریں گے کہ کاش آج ہمیں کوئی بچانے والا ہوتا۔ وہ جن فرشتوں اور جنات کو اس لیے پکارتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتے رہے کہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے، وہ دیکھیں گے آج ان کی کوئی سفارش کرنے کی جرأت نہیں کررہا، کیونکہ آج اگر کسی کے حق میں شفاعت ہوسکتی ہے تو وہ، وہ شخص ہے جس نے رحمن سے کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 86–87

فہم القرآن ربط کلام : متقین کے مقابلہ میں مجرمین کا انجام۔ ایک طرف متقین کو انعام و اکرام کے ساتھ نوازا جارہا ہوگا اور دوسری طرف مجرمین کو ملائکہ بیڑیوں میں جکڑ کر آگ کے کوڑوں سے ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف دھکیل رہے ہوں گے۔ مجرم خوف اور پیاس کی شدت کی وجہ سے ہلکان ہو رہے ہوں گے۔ کیونکہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ مجرمین تانبے جیسی زمین پر کھڑے ہونگے جس پر سورج اپنی پوری تپش اور شدت کے ساتھ ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ مزید یہ کہ مجرم جہنم کو اپنے سامنے دیکھیں گے۔ اس خوف اور سورج کی حدّت کی وجہ سے پیاس کے مارے ان کے کلیجے کٹ رہے ہوں گے اور زبانیں منہ سے باہر نکلی ہوں گی۔ اس کیفیت میں انھیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

87: لَایَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَۃَ (وہ شفاعت کا اختیار نہ رکھیں گے ) ۔ : یہ حال ہے وائوؔ کو اگر ضمیر قرار دیں تو عبادؔ کی طرف لوٹے گی جس پر متقین مجرمین کا تذکرہ دلالت کررہا ہے کیونکہ بندے انہی دونوں قسموں پر مشتمل ہیں۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ جمع کی علامت ہو جیسا کہ اس مثال میں اکلونی البراغیث اور فاعل من اتخذ ہے کیونکہ وہ معناً جمع ہے۔ اور من اتخذؔ محلاً مرفوع ہے کیونکہ یہ وائو سے بدل ہے جو یملکون ؔ میں ہے۔ نمبر 3۔ فاعلیت کیوجہ سے مرفوع ہے۔ نمبر 4۔ حذف مضاف کی تقدیر پر منصوب ہے ای الا شفاعۃُ من اتخذ اور مقصود یہ ہے وہ اس بات کا اختیار نہ رکھیں گے کہ ان کے لئے سفارش کی جائے۔ اِلَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

87۔ لایملکون الشفاعۃ الامن التخذ عندالرحمن عھدا۔ اس سے مراد لاالہ الا اللہ ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شفاعت نہیں کریں گے لیکن وہ جن کا اللہ کے ہاں عہد ہے وہ مومنین ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ، لایشفعون الامن ارتضی من رسول، ، اور بعض نے کہا کہ کوئی شفاعت نہیں کرسکتا، مگر جس شخص نے یہ گواہی دی لاالہ الا اللہ ، الحاصل مومن کے بغیر کوئی گواہی نہیں دے سکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 87–95

87۔ 94:۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اول تو قیامت قائم ہی نہ ہوگی اور ہم کسی عذاب میں پکڑے گئے تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہم کو اس عذاب سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی سفارش کا ہر کسی کو مالک اور مختار نہیں بنایا ہے جو یہ مشرک جس سے چاہیں گے اپنی سفارش کرلیں گے یہ شفاعت تو اللہ کے فرشتے اس کے رسول اور نیک لوگ ایسے لوگوں کے حق میں کریں گے جو اللہ کی وحدانیت اس کے رسولوں کو سچا جاننے کے عہد پر قائم ہوں گے لیکن سوائے شرک کے اور گناہوں میں عمر بھر گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 85–87

آیت 85 اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں گروہوں، یعنی متقین و مجرمین کے درمیان تفاوت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقین کو، ان کے شرک و بدعات اور دیگر گناہوں سے بچنے کے سبب سے، قیامت کے ورز، اکرام و تعظیم کے ساتھ اکٹھا کرے گا اور وہ وفود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان کی منزل اور ان کا مطلوب و مقصود رحمٰن و منان ہوگا اور یہ ضرو ری ہے کہ آنے والے کا دل امید سے لبریز ہو اور جس کے پاس آیا ہے اس پر حسن ظن ہو۔ پس اہل تقویٰ ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باپایاں احاسن کی امید کھتے ہوئے اور اس کی رضا کے گھر میں اس کی نوازشوں سے فوزیاب ہوتے ہوئے، اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اس کا سبب ان کے وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

95 مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی : سو انکے مزعومہ شفعاء میں سے کسی کو ان کیلئے کسی سفارش کی بھی اجازت نہیں ہوگی سوائے ان حضرات کے جنہوں نے خدائے رحمان کے یہاں اس کا عہد لے رکھا ہو۔ جیسا کہ حضرات انبیاء و صلحائے کرام کو اجازت دی جائے گی۔ اور ہمارے حضور ﷺ کو تو شفاعت کبرٰی کا اعزاز نصیب ہوگا۔ سو جنہوں نے ایمان و اخلاص اور اعمال صالحہ کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی، ان کو شفاعت کے اس اعزاز سے نوازا جائے گا۔ اور جو نور ایمان و یقین سے محروم رہے ہوں گے وہ اس دن کی سفارش سے بھی محروم رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو استثناء یہاں پر منقطع ہے اور { یملکون } کی ضمیر کا مرجع ان کے وہ خود ساختہ معبودان باطلہ ہیں جن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–87

غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم) سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–98

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف (انسان پر شیطان کا تسلط) یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 85–87

ف 5 اس عہدے سے مراد کلمہ شہادت کا اقرار ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی تفسیر وارد ہے۔ نیز ایک حدیث میں پنجگانہ نماز کی پابندی کو بھی عہد قرار دیاے معلوم ہوا کہ مومنین اصحاب کبائر کی تو شفاعت ہوگی مگر کافر کی کوئی شفاعت نہیں کرسکے گا پس لایملکون الشفاعۃ کے معنی یہ ہیں کہ شفاعت کے مستحق صرف وہی لوگ ہونگے جنہوں نے … یا آیت کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کا اختیار صرف اسی کو ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے شفاعت کی اجازت دے دی ہو یعنی کوئی نبی یا فرشتہ از خود کسی کی شفاعت نہیں کرسکے گا اس آیت میں تمام مشرکین کو تنبیہ کردی ہے کہ وہ مشرک خواہ سرپرست ہوں یا قبر پرست ہر قسم کی شفاعت سے محروم رہیں گے گویا لیکونوا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 86–88

(19:87) لا یملکون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب ملک مصدر (باب ضرب) وہ اختیار نہیں رکھیں گے۔ ضمیر فاعل کا مرجع مجرمین ہیں۔ لا یملکون سے کفار کی شفاعت کی نفی اور الا سے اہل ایمان کی شفاعت کا اثبات ہے۔ ای ھؤلاء الکفار لا یملکون الشفاعۃ لاحد والمسلمون فیملکون الشفاعۃ۔ یہ کفار کسی کی شفاعت حاصل نہ کرسکیں گے جب کہ مسلمانوں کو شفاعت حاصل ہوگی۔ من اتخذ عند الرحمن عھدا۔ جس نے خداوند رحمن سے وعدہ لے رکھا ہے۔ عہد سے یہاں مراد اذن۔ اجازت یا اس سے مراد عہد توحید ونبوت ہے یعنی جس نے ایمان و یقین کے ساتھ قولاً وعملاً یہ اقرار کیا : انی اشھد ان لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک وان محمد عبدک ورسولک۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 81–87

لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 87 توز وہ ابھارتا ہے۔ از ابھارنا، ہلانا۔ نعد ہم گن رہے ہیں۔ عد گنتی۔ وفد مہمان بنانا۔ نسوق ہم چلائیں گے۔ ورد پیاسا۔ عھد عہد، وعدہ۔ تشریح : آیت نمبر 81 تا 87 ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور بہت سے معبود گھڑ رکھے ہیں تاکہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے ان کو عزت و سربلندی کے مقام پر بٹھائیں گے ان کی حمایت کریں گے، کوئی مصیبت پڑی تو وہ ان کو بچا لیں گے فرمایا کہ یہ جھوٹے معبود تمہاری عزت و سربلندی کا ذریعہ نہیں بلکہ تمہاری ذلت، رسوائی اور محرومی کا سبب بنیں گے کیونکہ وہ قیامت کے دن صاف انکار کردیں گے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مشرکین کہتے تھے کہ جن لوگوں کی مورتوں کو ہم پوجا کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہم کو اس عذاب سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ شفاعت کینے کی مجال وہاں اس شخص کو ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ نے اقرار کرلیا ہے، جیسے محمد ﷺ کہ قرآن میں ان سے خطاب فرمایا جاتا ہے کہ عقریب آپ کو ایسا دیں گے کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے یوں عرض کیا کہ جب تک میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہے گا میں راضی نہ ہوں گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 87–95

[32] یہ اجازت صرف انبیاء اور صالحین کو ملے گی اور صرف مومنین کے لئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 87–90

(ف 1) مشرکین کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اس امید پر کہ ان کے معبودان باطل قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے اور جہنم کی آگ سے بچائیں گے ان کی پرستش شروع کردی ، حالانکہ یہی لوگ قیامت کے ہول سے ان معبودوں کو بھول جائیں گے اور ان کی عبادت سے یکسر انکار کردیں گے ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ شرک وکفر کی گمراہیاں انکی طبیعت وذوق کے موافق ہیں جہاں شیاطین کی جانب سے تحریک ہوئی ، یہ متاثر ہوگئے ، ارشاد ہے کہ اللہ کے پاکباز بندوں کے لئے تو وہاں عزت واحترام کا سامان موجود ہے ، انہیں بارگاہ رحمت میں فرشتے تعظیم و توقیر سے پہنچا دیں گے ، اگر یہ لوگ جو بت پرستی کے مجرم ہیں ، جنہوں نے دنیا میں نفس کی پوجا کی ہے جنہوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-87 اس دن کسی کو سفارش کا اختیار نہ ہوگا مگر ہاں جس نے رحمان سے کوئی وعدہ اور اجازت حاصل کرلی ہو۔ یعنی جس گرفت اور عذاب کے جلدی کرنے سے پیغمب رکو منع کیا گیا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ گنتی پوری ہونے کے بعد جس دن وہ عذاب آئے گا تو اس دن حالت یہ ہوگی کہ تقوے کے پابند لوگوں کو جنت جو رحمان کی طرف سے اہل تقویٰ کے لئے مقرر کی گئی ہے اس کی طرف باعزت طریقہ سے بطور مہمان اکٹھا کر کے ہم لے جائیں گے اور جرائم پیشہ دین حق کے مجرموں کو ہانکتے ہوئے پیاسا جہنم کے گھاٹ جا اتاریں گے یعنی جس طرح ڈھور ڈنگروں کو ہنکاتے ہوئے لے جاتے ہیں اسی طرح ان منکروں کو ہانکتے ہوئے لے جائیں گے اسی دن کسی کو کسی کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–87

ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کوئی شخص بغیر اجازت کے سفارش بھی نہیں کرسکے گا : 87۔ یہ گویا اس سفارش کی نفی کی جارہی ہے جس سفارش کو مجرم استعمال کرنا چاہتے تھے اور جب ان کو بھی یقین ہوجائے گا کہ ہم ان کی سفارش کر ہی نہیں سکتے گویا ان کیسفارش کے ہم اہل نہیں کیونکہ ان کی سفارش کرنے کا پروانہ موجود نہیں اور بغیر اذن یعنی پروانہ اجازت کے کوئی سفارش کا مجاز نہیں ان کی سفارش کا مجاز وہی ہے جس نے خدا رحمن سے اجازت نامہ حاصل کیا ہو رہی یہ بات کہ یہ پروانہ کن لوگوں کو حاصل ہوگا ؟ سفارش کا مقام انبیائے کرام (علیہم السلام) اور شہدائے امت کو حاصل ہے اور یہ ایک منصب تکریم وتشریف ہے جن پر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو سرفراز فرمائے گا جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–89

مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّ‌حْمَـٰنِ عَهْدًا "Except the one who has taken a covenant with the Rahman (All-Merciful) " - 19:87. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has said that عَھد means a declaration of firm belief in the Unity of Allah Ta’ ala, while others say that عِھد means committing the Qur’ an to memory. In brief only those people will have the permission to intercede with Allah who stand firm by their covenant to adhere to the true faith. (Ruh)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–95

52. This implies two things: (1) Intercession will be allowed only for the one who might have received permission for it from the Merciful, that is, the one who believed in Allah in the world and made himself deserving of His pardon. (2) Only that one will be able to plead intercession who might have received permission for this from the Merciful, and not those ones whom people themselves had made their intercessors without any reason.

Read the full tafseer →