Explained with ayahs 81–84
اللہ تعالیٰ کے سوا معبود۔
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہوجائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں۔ کلا کی دوسری قرأت کل بھی ہے خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
سورة مَرْیَم 51
مطلب یہ ہے کہ ان کی زیادتیوں پر تم بےصبر نہ ہو۔ ان کی شامت قریب آلگی ہے۔ پیمانہ بھرا چاہتا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی مہلت کے کچھ دن باقی ہیں، انہیں پورا ہو لینے دو۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا، مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے عذاب کے بارے میں جلدی نہ کریں وہ تو عنقریب ہونے ہی والا ہے کیونکہ ہم نے ان کو گنے چنے ایام اور جو مدت دنیا میں رہنے کی دی ہے وہ بہت جلدی پوری ہونے والی ہے اس کے بعد عذاب ہی عذاب ہے نَعُدُّ لَهُمْ ، یعنی ہم ان کیلئے شمار کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کوئی چیز آزاد نہیں ان کی عمر کے دن رات گنے ہوئے ہیں، ان کے سانس، ان کی نقل و حرکت کا ایک ایک قدم، ان کی لذات ان کی زندگی کا ایک ایک لحظہ ہم گن رہے ہیں، یہ گنتی پوری ہوتے ہی ان پر عذاب ٹوٹ پڑے گا۔
مامون رشید نے ایک مرتبہ سورة مریم پڑھی۔ جب اس آیت پر پہنچے تو حاضرین مجلس جو علماء فقہاء تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
تفسیر آیات 83 تا 84: أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا (83) فَلا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا
عربی میں جب کہیں گے " ارسل الکلب علی الصیب " تو اس کے معنی ہوں گے کتے کو شکار پر چھوڑ دیا۔ اسی اسلوب پر یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کافروں پر شیاطین کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان کو دعوت حق کے خلاف جتنا اکسا سکتے ہیں اکسا لیں۔ " اَزَّ یَؤُزُّ " کے معنی برانگیختہ کرنے، بھڑکانے اور اکسانے کے ہیں۔ ان کافروں کے ساتھ یہ معاملہ اس سنت الٰہی کے مطابق ہوا جس کا ذکر سورة زخرف میں ہے کہ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین : جو خدائے…
Read the full tafseer →84۔ 1 اور جب وہ مہلت ختم ہوجائے گی تو عذاب الٰہی ان کیلئے ہمیشگی کے لئے بن جائیگا۔ آپ کو جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–95
36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…
Read the full tafseer →فلا تعجل علیھم (91 : 48) ” آپ ان پر نزول عذاب کے لئے عجلت نہ کریں ’‘’۔ اپنے دل کو بھی تنگ نہ کریں ‘ پریشان نہ ہوں ‘ ان لوگوں کو تھوڑی سی مہلت دے دی گئی ہے۔ ان کے اعمال ئنے جارہے ہیں۔ ان کا حساب رکھا جارہا ہے۔ انداز بیان یہ ظاہر کررہا ہے کہ ان کے اعمال کا حساب نہایت ہی باریکی سے رکھا جارہا ہے۔
انما تعد لھم عدا (91 : 48) ” ہم ان کے دن گن رہے ہیں “۔ کس قدر خوفناک دھمکی ہے یہ ! وہ شخص ہلاک ہوا جسکے گناہوں ‘ جس کے اعمال ‘ جس کی ہر سانس کا حساب اللہ خود رکھ رہا ہے ‘ اور نہایت باریکی سے اس کا حساب ریکارڈ کیا جارہا ہے ‘ تاکہ سختی سے اس کی گرفت ہو سکے۔ جو شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کرئہ ارض کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
6 یعنی شیطان انہی بدبختوں کو گمراہی کا بڑھاوا دیتا اور انگلیوں پر نچاتا ہے جنہوں نے خود کفر وانکار کا شیوہ اختیار کرلیا۔ اگر ایسے اشقیاء شیطان کی تحریص و اغواء سے گمراہی میں لمبے جائیں تو جانے دیجئے، آپ ان کی سزا دہی میں جلدی نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے تاکہ ان کی زندگی کے گنے ہوئے دن پورے ہوجائیں۔ ان کی ایک ایک سانس، ایک ایک لمحہ اور ایک ایک عمل ہمارے یہاں گنا جا رہا ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ حرکت بھی ہمارے احاطہ علمی اور دفاتر اعمال سے باہر نہیں ہوسکتی۔ تمام عمر کے اعمال ایک ایک کر کے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 84 فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ ط ”
عجلت کی نفی پر مبنی یہ مضمون اس سورت میں یہاں دوسری مرتبہ آیا ہے۔ آیت 64 میں رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید کے بارے میں جلدی کرنے سے منع فرمایا گیا تھا کہ وحی کے سلسلے میں آپ ﷺ کا شوق اپنی جگہ مگر اللہ کی حکمت اور مشیت یہی ہے کہ اس کی تنزیل ایک خاص تدریج سے ہو۔ اب آیت زیر نظر میں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کفار مکہ کے بارے میں ایسا خیال اپنے دل میں نہ لائیں کہ انہوں نے ظلم و سرکشی کی انتہا کردی ہے ‘ اس لیے ان کا فیصلہ چکا دینا چاہیے۔ سورة الانعام اور اس کے بعد سب مکی سورتوں میں مسلسل قریش مکہ کی سازشوں ‘ کٹ حجتیوں اور مخالفانہ سرگرمیوں کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
76 جو لوگ شیطان کے فریب میں آجاتے ہیں تو پھر شیطان انھیں اپنی انگلیوں پرنچاتے رہتے ہیں۔ اس طرح ان کی گمراہی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے وہ جو کام کرتے ہیں سرکشی اور نافرمانی کا ہی کرتے ہیں اور ہم یہ سب کچھ ان کے نامہ اعمال میں محفوظ کرتے جارہے ہیں۔ لہذا آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کریں اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے دن گنے جاچکے ہیں۔ لہذا آپ ان پر عذاب کے لئے جلدی نہ کریں جتنے ان کی مہلت کے دن باقی ہیں وہ پورے ہو لینے دیں۔
Read the full tafseer →118۔ (کہ ان پر عذاب کسی طرح آجائے تاکہ آئندہ کے لیے مخلوق ان کے فتنہ وشر سے محفوظ ہوجائے) متی تستریح انت والمسلمون من شرورھم وتطھر الارض بقطع دابرھم (کشاف) ” حضور ﷺ کا جلد ہی عذاب چاہنا بعد مایوسی ان کے ایمان لانے کے شاید اس وجہ سے ہو کہ ان کا ضرر کفر دوسروں تک متعدی نہ ہوجائے، بس ایسا استعجال منافی شان رحمت کے نہیں “ (تھانوی (رح )
119۔ (اور وقت مناسب پر سزا دے لیں گے، تعجیل سزا میں حکمت ابتلاء ہی فوت ہوئی جاتی ہے) اعمال یہاں مقدر ہے۔ نعدانفاسھم واعمالھم (کبیر) قیل نعد اعمالھم لتجازیھم (بحر) اور اسی کا ترجمہ اردو محاورہ کے لحاظ سے ” حرکتیں “ کیا گیا ہے۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ ”‘ ہم ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
آیت نمبر 83 تا 98
ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…
Read the full tafseer →فلا تعجل علیہم انما نعد لہم عدا۔ پس آپ (نزول عذاب میں) ان کے لئے جلدی نہ کریں (یعنی جلد عذاب نازل ہونے کی دعا نہ کریں) ہم ان (کی زندگی کے ایام مقررہ) کی کامل طور پر یقیناً گنتی رکھتے ہیں۔ یعنی ہم نے ان کی عمریں مقرر کردی ہیں ان کے ایام زندگی اور ساعات) محدود اور معدود ہیں (مدت زندگی پوری ہونے سے پہلے ان کو ہلاک نہیں کیا جاسکتا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(83۔ 84) اے محمد ﷺ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر خوب اکساتے اور ان کو گمراہ کرتے رہتے ہیں تو آپ ان پر جلدی نزول عذاب کی درخواست نہ کیجیے ہم ان میں سے ایک کو شمار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →ۙفَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ : یعنی ایسا نہ کریں کہ جس طرح وہ شیاطین کے ابھارنے سے برائیوں میں جلدی کرتے ہیں کہ آپ بھی ان پر جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگیں، بلکہ صبر اور حوصلے سے انتظار کریں اور ان پر حجت پوری ہونے دیں۔ دیکھیے سورة احقاف (35) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلتَّأَنِّيْ مِنَ اللّٰہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ) [ مسند أبی یعلٰی : 4256۔ السنن الکبرٰی للبیہقی : 20767۔ سلسلۃ الأحادیث صحیحۃ : 4؍294، ح : 1795، عن أنس ] ”اناۃ (بردباری، وقار، آہستہ روی) اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔“ rnۭ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا : آدمی کے اطمینان، صبر و ثبات اور خوشی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(تفسیر 83-87) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم ترانا ارسلنا الشیطین علی الکفرین ہم نے شیطانوں کو ان پر اغوا کرنے کے لیے مسلط کردیا ہے یہ اس وقت ہوا جبب ابلیس سے کہا تھا : واستفزز من استطعت منھم بصوتک (بنی اسرائیل :64)
بعض نے فرمایا : انا ارسلنا کا معنی ہے ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ کہا جاتا ہے : ارسلت البعیر میں نے اونٹ کو چھوڑ دیا ہے یعنی ہم نے شیطانوں اور ان کو چھوڑ دیا ہے ہم ان کی شیطانوں کی بات قبول کرنے سے حفاظت نہیں کرتے۔ زجاج نے ارسلنا کا معنی قیضنا (ہم نے مسلط کردیا) کیا ہے۔ تؤزھم ازاً حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے وہ انہیں طاعت کی جگہ معصیت اور نافرمانی پر اکساتے ہیں۔ ان سے مروی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین توزھم ازا “ یعنی شیطانوں کو کافروں پر ہم مسلط کردیتے ہیں جو ان کو اغوا کرلیتے ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم “ یعنی وہ شیاطین مشرکین کو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف اکساتے ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم ازا “ کہ شیاطین ان کو مسلمانوں کے خلاف اس طرح اکساتے ہیں جیسے کتے کو شکار پر اکسایا جاتا ہے۔
4:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم ازا “ یعنی ان کو اکساتے ہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →[فَلَا تَعْجَلْ : تو آپ ﷺ جلدی مت کریں ] [عَلَيْهِمْ : ان پر (عذاب کی)] [انمَا نَعُدُّ : ہم تو بس گنتی (پوری) کرتے ہیں ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [عَدًّا : جیسے گنتی کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →(اِنَّمَا نَعُدُّلَھُمْ عَدًّا) کی یہ تفسیر اس صورت میں ہے جبکہ نعد کا مفعول اعمال اوراقوال مراد ہوں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ نعد کا مفعول انفاس اور ایام ہیں اور مطلب ہے کہ ہم ان کی زندگی کے انفاس (سانس) اور ایام گن رہے ہیں جب ان کی اجل آجائے گی تو عذاب بھی آجائے گا اور ان کی مدت کے ایام معدودے چند ہی ہیں گو ان کے نزدیک گنتی میں زیادہ ہوں کیونکہ فنا ہونے والی زندگی بہرحال ختم ہوگی اور دنیا میں جتنی بھی مدت گزری ہو بہرحال آخرت کے مقابلہ میں کم ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا
(ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔
نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
58:۔ ہم نے ان پر شیاطین کو مسلط کر رکھا ہے۔ جو انہیں گناہوں کی ترغیب دیتے اور انہیں کفر و شرک پر اکساتے رہتے ہیں۔ ” تؤزھم ازا “ ای تغریھم و تھیجھم علی المعاصی (روح ج 16 ص 134) ۔ ” فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْھِمْ “ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ یہ خیال نہ فرمائیں کہ ان کے تمرد وعناد اور ان کے معاصی کے پیش نظر تو انہیں اب تک عذاب خداوندی سے ہلاک ہوجانا چاہئے تھا۔ ” اِنَّمَا نَعُدُّ لَھُمْ عَدًّا الخ “ یہ ماقبل کی علت یعنی اب ان کی ہلاکت و تباہی کا وقت بالکل قریب آچکا ہے اور معدودے چند ایام باقی رہ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا عقیدہ اور ان کی بیہودہ گفتگو کا رد فرمایا ، اس کے علاوہ اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے واضح کیا کہ مشرکین اپنے معبودان کو باعث عزت سمجھتے تھے وہ ان کے مخالف بن جائیں گے اور ان کی عبادت سے انکار کردیں گے ، نیز مشرکین کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا ، اب اللہ نے مشرکین اور کفار کی گمراہی کے اسباب کا تذکرہ کیا ہے اور بتلا دیا ہے کہ جملہ اسباب ضلالت میں سے سب سے بڑا سبب انسانوں پر شیطان کا تسلط ہے ۔
(شیاطین کا تسلط)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم تر انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین “۔ اے پیغمبر ! ﷺ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے…
Read the full tafseer →فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْہِمْ 0ۭ اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمْ عَدًّا 84ۚ
عجل
العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ،
( ع ج ل ) العجلۃ
کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
اَلَمْ تَرَ اَنَّـآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تُؤْزُّھُمْ اَزًّا۔ فَلاَ تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ ط اِنَّمَا نَعُدُّلَھُمْ عَدًّا۔ (مریم : 83، 84)
(کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیاطین کو چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں خوب خوب برانگیختہ کررہے ہیں۔ تو آپ ان کے فیصلے کے لیے جلدی نہ کریں، ہم ان کے لیے اچھی طرح گنتی کررہے ہیں۔ )
اَرْسَلْنَا کا مفہوم
اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ کا معنی امام رازی، علامہ قرطبی اور علامہ آلوسی کے نزدیک یہ ہے کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر مسلط کردیا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اَرْسَلْنَا تسلیط کے معنی کو متضمن ہے۔
بعض اہل لغت کے نزدیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فہم القرآن
ربط کلام : کفر و شرک کا بنیادی محرّک اور سبب شیطان ہوتا ہے۔ جب شیطان انسان پر مسلط ہوجائے تو انسان غیر اللہ کی عبادت کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اے نبی ﷺ ! کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ ہم شیاطین کو کفار کی طرف بھیجتے ہیں جو انھیں کفر و شرک پر ابھارتے ہیں۔ شیاطین سے مراد جناّت اور وہ انسان ہیں جو لوگوں کو برائی اور کفر و شرک پر آمادہ کرتے ہیں۔ ان میں وہ علماء، پیر اور حکمران بھی شامل ہیں جو لوگوں کو شرک و بدعت کا سبق دیتے ہیں یا ایساماحول بناتے ہیں جس سے شرک و بدعت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کی سزا کے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ…
Read the full tafseer →84: فَـلَا تَعْجَلْ عَلَیْھِمْ اِنَّمَا نَعُدُّلَھُمْ عَدًّا (آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کریں ہم یقینا ان کے لئے گنتی رکھتے ہیں مکمل طور پر ) جلدی نہ کرنے کا مطلب عذاب اور عذاب کے لانے میں جلدی ہے۔ اور نَعُدُّ لَھُمْ کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے اعمال بدلے کیلئے شمار کر رہے ہیں۔ یا فناء کیلئے ان کے سانس گن رہے ہیں۔
نکتہ : ابن سماک نے یہ آیت مامون الرشید کے سامنے پڑھی تو اس نے کہا کہ جب سانس بھی گنتی کے ہیں اور اس کیلئے کوئی مدد بھی نہیں ہے یعنی اضافہ بھی نہیں ہے تو کتنی جلدی وہ ختم ہو رہے ہیں اور ختم ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
84۔ ولاتعجل علیھم، ، ان کی سزا کونہ طلب کرو، انما نعدلھم عدا، ، کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد راتیں ، دن اور مہینے ہیں۔ اور بعضنے کہا کہ اس سے مراد انفاس ہے کہ دنیا میں اپنی زندگی کی بقدر وہ سانسیں لیتے ہیں اپنے عذاب کے آنے تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
83۔ 86:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں ان کے انکار کا سبب فرمایا ہے کہ ان کے کفر کے سبب سے شیطان ان پر ایسا مسلط ہوگیا ہے کہ ان کی عقل بالکل جاتی رہی ہے کیسی ہی موٹی اور ظاہر بات کیوں نہ ہو شیطان ان کو کسی بات کے سمجھنے کا موقع نہیں دیتا دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی عقل کا آدمی کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام کرتا ہے تو کوئی فائدہ اس کام کا ضرور سوچ لیتا ہے مکان کوئی بناتا ہے تو رہنے کے خیال سے کنواں کوئی کھدواتا ہے تو پانی پینے کے خیال سے اتنا بڑا، جہاں اللہ تعالیٰ جیسے صاحب حکمت نے کیا بےفائدہ پیدا کیا ہے کہ عمر بھر جو اللہ کی فرمانبرداری کرے اور دنیا بھی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
آیت 81
یہ کفار کی سزا ہے۔ اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی، تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کردیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کردیا۔ وہ انہیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں، انہیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں، ان پر القاء کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہوجاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →92 مجرموں کو ان کی انجام کے بارے میں آگہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم پوری طرح گن رہے ہیں ان کیلئے (ان کی مدت مہلت کو) "۔ سو جس دن ان کی مہلت کے دن پورے ہوجائیں گے، یہ خود عذاب میں دھر لئے جائیں گے۔ اور یہ اپنے کئے کا بھرپور بدلہ بہرحال پا کر رہیں گے۔ اس لئے آپ کو ان کے عذاب کے لئے جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے کا کام آپ ہم پر چھوڑ دیں۔ ہم ان سے خود ہی نمٹ لیں گے اور اچھی طرح اور پورے عدل و انصاف کے ساتھ نمٹیں گے۔ اور یہ لوگ اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگت کر رہیں گے اور ہماری گرفت و پکڑ سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ان کیلئے کسی بھی طرح ممکن نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
(انسان پر شیطان کا تسلط)
یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی آپ اس بارے میں تعجب نہ کریں کہ ہم نے ان کی رسمی ڈھیلی کیوں چھوڑ رکھی ہے اور اس قدر سرکشی کے باوجود ان کی گرفتک ویں نہیں کرتے۔ بس اب مہلت کے دن پورے رہے ہیں اور ان کی شامت آیا ہی چاہتی ہے۔
Read the full tafseer →(19:84) فلا تعجل علیہم۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ پس عجلت نہ کیجئے ان پر (نزول عذاب کے لئے)
نعد۔ مضارع جمع متکلم۔ عدمصدر (باب نصر) ہم شمار کر رہے عدا مصدر کو دوبارہ لا کر فعل زیادہ پرزور بنایا گیا ہے۔ نعدلہم عدا۔ ہم ان کی مہلت کے ایک ایک دن کو گن رہے ہیں یا۔ ہم ان کی کارکردگیوں کو ایک ایک کر کے شمار کر رہے ہیں۔ نہ تو گنتی سے کوئی چیز چھپ سکے گی۔ اور نہ مہلت میں ذرہ برابر کمی بیشی کی جاسکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 87
توز وہ ابھارتا ہے۔ از ابھارنا، ہلانا۔ نعد ہم گن رہے ہیں۔ عد گنتی۔ وفد مہمان بنانا۔ نسوق ہم چلائیں گے۔ ورد پیاسا۔ عھد عہد، وعدہ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 87
ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
(1) پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور بہت سے معبود گھڑ رکھے ہیں تاکہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے ان کو عزت و سربلندی کے مقام پر بٹھائیں گے ان کی حمایت کریں گے، کوئی مصیبت پڑی تو وہ ان کو بچا لیں گے فرمایا کہ یہ جھوٹے معبود تمہاری عزت و سربلندی کا ذریعہ نہیں بلکہ تمہاری ذلت، رسوائی اور محرومی کا سبب بنیں گے کیونکہ وہ قیامت کے دن صاف انکار کردیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
کفار کی ذلت ورسوائی
ان آیتوں میں منکرین حشر کا سبب فرمایا کہ ان کے کفر کے سبب سے شیطان ان کے اوپر ایسا مسلط ہوگیا ہے کہ ان کی عقل بلکل جاتی رہی ہے۔ اے محبوب ﷺ ! آپ جلدی نہ کریں، ہم ان کی مدت گن رہے ہیں اور حساب لگا رہے ہیں ۔ یعنی ہمارے ہاں ان کے عذاب کا وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آوے گا، ان کو عذاب دیا جاوے گا۔ کافروں کی میعاد اس دن پوری ہوگی جس دن متقی اللہ کے پاس مہمان بن کر آئیں گے۔ یعنی نہایت عزت سے لائے جائیں گے، اور وہ دن وہ ہوگا کہ گناہ گار جہنم میں پیاسے روانہ کردیئے جاویں گے، چونکہ آفتاب کی تپش اس روز زیادہ ہوگی، اور کافر گرمی کے مارے بھن بھن جائیں گے، پھر اسی وقت دوزخ کی طرف روانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
[31] یعنی اللہ نے ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے تاکہ ان کی زندگی کے گنے ہوئے دن پورے ہوجائیں۔ جونہی پورے ہوجائیں گے نتیجہ خود بخود آشکارا ہوجائے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ سورة مریم کے نزول پر پورے دس برس بھی نہ گزرے تھے کہ دشمنان اسلام کا فیصلہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–86
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…
Read the full tafseer →-84 سو آپ ان کافروں کے لئے عذاب میں جلدی نہ کیجیے اور تعجیل سے کام نہ لیجیے ہم ان کے اعمال بد کو خوب شمار کرتے رہتے ہیں۔ یعنی ہم نے اپنی حکمت بالغہ سے ان کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ا ن کی زندگی کے دن پورے کئے جا رہے ہیں اور ان کا ایک عمل ہمارے ہاں گنا جا رہا ہے ان گناہوں کی تعداد جن سے یہ سزا کے مستحق ہوتے ہیں وہ پوری ہوجائے گی تو خود ہی عذاب آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام ﷺ کے لئے رب کریم کی تسلی وتسکین :
84۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان مخالفین کی مخالفت سے ہراساں اور پریشان نہ ہوں اور انہ ہی ان کے متعلق کوئی جلدی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ مخالفت کرکے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو کچھ بگڑے گا ان ہی کا بگڑے گا ان کی مخالفت جتنی شدت اختیار کرتی جائے گی یہ اتنے ہی اپنی تباہی کے قریب ہوتے جائیں گے ، ان کا علاج ان کے دوست شیاطین ہی کردیں گے کیونکہ وہ جو ٹیکہ بھی ان کو لگائیں گے یہ بڑے شوق سے لگوالیں گے اور یہ ظاہر ہی ہے کہ شیطان کا ٹیکہ کبھی صحت یاب کرنے کے لئے نہیں ہوتا بیماری کو مزید بڑھانے ہی کے لئے ہوتا ہے گویا وہ علاج بالمثل کرتا ہے اور یہ…
Read the full tafseer →إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا
"We are but counting for them a count down." - 19:84
This verse means: "Do not be impatient about their punishment because it is going to befall upon them in any case - and very soon. We have allowed them a fixed term in this world and that term is about to end. Then will come their retribution." نَعُدُّ لَهُمْ means: "We are counting for them, i.e. they do not have control on anything. Their days are numbered and We keep a count of every moment of their life and everything they do."
Once Ma'mun Rashid read Surah Maryam. Upon reading this particular verse, he…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
51. That is: Endure their persecutions patiently a little more, for the time of their punishment is coming near, for We have given them respite for a fixed term, and let that term expire.
Read the full tafseer →