Explained with ayahs 85–87
اللہ تعالیٰ کے معزز مہمان۔
جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف اللہ سے خوف نہ کھانے والے، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبرا قہرا جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے ؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
سورة مَرْیَم 51
مطلب یہ ہے کہ ان کی زیادتیوں پر تم بےصبر نہ ہو۔ ان کی شامت قریب آلگی ہے۔ پیمانہ بھرا چاہتا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی مہلت کے کچھ دن باقی ہیں، انہیں پورا ہو لینے دو۔
Read the full tafseer →يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا، لفظ وفا ایسے آنے والوں کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی بڑے بادشاہ یا امیر کے پاس اکرام و اعزاز کے ساتھ جائیں بعض روایات حدیث میں ہے کہ یہ لوگ سواریوں پر سوار ہو کر پہنچیں گے اور سواری ہر شخص کی وہ ہوگی جس کو وہ دنیا میں اپنے لئے پسند کرتا تھا۔ اونٹ، گھوڑا یا دوسری سواریاں بعض حضرات نے فرمایا کہ ان کے اعمال صالحہ ان کی مرغوب سواریوں کی صورت اختیار کرلیں گے یہ روایات حدیث روح المعانی اور قرطبی نے نقل کی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
تفسیر آیات 85 تا 87: يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا (85) وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا (86) لا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا (87)
وفد کا مفہوم : " وفد وفدا کے معنی کہیں عزت و اکرام کے ساتھ جانے کے ہیں جس طرح سفیر اور قاصد بادشاہ اور امیر کے پاس جاتے ہیں۔ ورد، ورد یرد سے اسم ہے۔ اس کے معنی گھاٹ پر اترنے کے ہیں جس طرح پیاسے اونٹ گھاٹ پر جاتے ہیں۔ إِلا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا میں میرے نزدیک استثناء منقطع ہے۔ یہ ان مجرموں کی مزعومہ شفاعت کی نفی ہے۔ فرمایا کہ جس دن ہم متقیوں کو اعزاز کے ساتھ خدائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
86۔ 1 وفد وافد کی جمع ہے جیسے رکب راکب کی جمع ہے۔ مطلب یہ کہ انھیں اونٹوں، گھوڑوں پر سوار کرا کے نہایت عزت و احترام سے جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ وزدا کے معنی پیاسے۔ اس کے برعکس مجرمین کو بھوکا پیاسا جہنم میں ہانک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–95
36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…
Read the full tafseer →یوم تحشر المتقین الی الرحمن وفدا (91 : 58) ” وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمن کے حضور پیش کریں گے “ اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانک کرلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
7 جس طرح ڈھور ڈنگر پیاس کی حالت میں گھاٹ کی طرف جاتے ہیں۔ اسی طرح مجرموں کو دوزخ کے گھاٹ اتارا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 85 یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ”
اللہ تعالیٰ کے ہاں اہل تقویٰ کا مہمانوں کی طرح استقبال کیا جائے گا ‘ جیسے سرکاری سطح پر وفود کا استقبال کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
76 جو لوگ شیطان کے فریب میں آجاتے ہیں تو پھر شیطان انھیں اپنی انگلیوں پرنچاتے رہتے ہیں۔ اس طرح ان کی گمراہی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے وہ جو کام کرتے ہیں سرکشی اور نافرمانی کا ہی کرتے ہیں اور ہم یہ سب کچھ ان کے نامہ اعمال میں محفوظ کرتے جارہے ہیں۔ لہذا آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کریں اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے دن گنے جاچکے ہیں۔ لہذا آپ ان پر عذاب کے لئے جلدی نہ کریں جتنے ان کی مہلت کے دن باقی ہیں وہ پورے ہو لینے دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
120۔ مجرمین سے مراد ظاہر ہے کہ مومینن ہی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
آیت نمبر 83 تا 98
ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…
Read the full tafseer →یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا۔ اور جس روز ہم تقویٰ والوں کو رحمن (کے دارالنعیم) کی طرف مہمان بنا کر جمع کریں گے۔
اِلی الرَّحْمٰنِ میں رحمن کی ذات کی مراد نہیں بلکہ اس) سے مراد ہے وہ مقام عزت جہاں تجلیات الٰہیہ پر تو انداز ہوں گی۔ وَفْدوافد کی جمع ہے بادشاہوں کی طرف وفد جاتے ہیں۔ عزت یابی کی امید اور انعام لینے کی تمنا لئے ہوئے۔ پس بارگاہِ الٰہی کی طرف بھی اہل تقویٰ اسی طرح قبروں سے اٹھ کر جائیں گے۔
عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں اور حاکم و بیہقی و ابن جریر وابن ابی حاتم نے بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا سنو اللہ متقیوں کے وفد کو نہ پیدل اٹھائے گا نہ ہنکا کرلے جائے گا بلکہ جنت کی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
(85۔ 86۔ 87) اور قیامت کے دن جب کہ ہم کفر و شرک اور تمام برائیوں سے بچنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی دار النعیم کی طرف اونٹنیوں پر سوار کرکے جمع کریں گے (یعنی اعزاز دیں گے) اور مشرکین کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے اور فرشتے بھی کسی کی سفارش نہیں کریں گے مگر جو کہ کلمہ ”۔ لاالہ الا اللہ“۔ کا ماننے والا ہوگا (اس کی اللہ تعالیٰ کے حکم سے سفارش کریں گے)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ۚيَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ۔۔ : ”وَفْدًا“ ”وَافِدٌ“ کی جمع ہے۔ ”وَفَدَ یَفِدُ وَفْدًا وَ وُفُوْدًا“ بروزن ”وَعَدَ یَعِدُ“ کسی کے پاس جانا۔ وفد چند آدمیوں کی جماعت کو کہتے ہیں جو کسی اہم کام کے لیے یا کوئی عطیہ حاصل کرنے کے لیے کسی بادشاہ یا بڑی شخصیت کے پاس جائے۔ ”نَسُوْقُ“ ”سَاقَ یَسُوْقُ سَوْقًا“ بروزن ”قَالَ یَقُوْلُ“ جانوروں کو ہانکنا۔ بعض اوقات کسی کو بھی چلانے کے معنی میں آجاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا) [ الزمر : 73 ] ”اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔“ ”الْمُجْرِمِيْنَ“ جرم وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا۔ اس کلام میں حذف ہے یعنی رحمن کی جنت کی طرف اور اس کے دار کر اممت کی طرف متقین کو لے جائیں گے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انی ذاھب الی ربی سیھدین۔ (الصافات)
اسی طرح حدیث میں ہے : من کا نت ھجرتہ الی اللہ ورسولہ فھجرتہ الی اللہ ورسولہ (1) جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے۔ الوفد اسم ہے والدفن کا، جیسا کہا جاتا ہے : صوم فطر وزور، یہ وافد کی جمع ہے جیسے رکب وراکب، صحب وصاحب یہ فدیفد وفداً ووفودا ووفادۃ سے مشتقق ہے جب کوئی فتح یا کسی خطیر امر کی صورت میں باشاہ کی طرف جائے۔ جوہری نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین توزھم ازا “ یعنی شیطانوں کو کافروں پر ہم مسلط کردیتے ہیں جو ان کو اغوا کرلیتے ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم “ یعنی وہ شیاطین مشرکین کو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف اکساتے ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم ازا “ کہ شیاطین ان کو مسلمانوں کے خلاف اس طرح اکساتے ہیں جیسے کتے کو شکار پر اکسایا جاتا ہے۔
4:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم ازا “ یعنی ان کو اکساتے ہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →[يَوْمَ : (اس دن کے لئے) جس دن ] [نَحْشُرُ : ہم اکٹھا کریں گے ] [الْمُتَّقِيْنَ : متقی لوگوں کو ] [اِلَى الرَّحْمٰنِ : رحمن کی طرف ] [وَفْدًا : ایک وفد کے طور پر ]
Read the full tafseer →قیامت کے دن متقی مہمان بنا کر لائے جائیں گے اور مجرمین ہنکا کر پیاسے حاضر کیے جائیں گے اور وہی شخص سفارش کرسکے گا جسے اجازت ہوگی
ان آیات میں قیامت کے دن کی حاضری کا ایک منظر بتایا اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے متقی بندے قیامت کے دن مہمانوں کے طور پر حاضر ہوں گے ان کا اکرام کیا جائے گا اور ان کو طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور مجرمین جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے جیسے جانوروں کو ہانکا جاتا ہے اور مجرمین پیاسے ہوں گے، اس کے بعد یہ فرمایا کہ وہاں کسی کو کسی کی سفارش کرنے کا اختیار نہ ہوگا ہاں جن بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاعت کی اجازت دی جائے گی وہی شفاعت کریں گے۔ جیسا کہ آیۃ الکرسی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا
(ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔
نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
59:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” وَفْدًا “ ای رکبانا (روح) ۔ یعنی قیامت کے دن متقی اور شرک سے بچنے والوں کو عزت و احترام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔ ” وَ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ الخ “ یہ تخویف اخروی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا عقیدہ اور ان کی بیہودہ گفتگو کا رد فرمایا ، اس کے علاوہ اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے واضح کیا کہ مشرکین اپنے معبودان کو باعث عزت سمجھتے تھے وہ ان کے مخالف بن جائیں گے اور ان کی عبادت سے انکار کردیں گے ، نیز مشرکین کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا ، اب اللہ نے مشرکین اور کفار کی گمراہی کے اسباب کا تذکرہ کیا ہے اور بتلا دیا ہے کہ جملہ اسباب ضلالت میں سے سب سے بڑا سبب انسانوں پر شیطان کا تسلط ہے ۔
(شیاطین کا تسلط)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم تر انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین “۔ اے پیغمبر ! ﷺ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے…
Read the full tafseer →يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا 85ۙ
حشر
، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة .
( ح ش ر ) الحشر ( ن )
اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
یَوْمَ نَخْشُرُالْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا۔ وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وِرْدًا۔
(مریم : 85، 86)
(یاد کرو جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے۔ اور مجرموں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے۔ )
وَفْدًا کا معنی
وَفْدًا… وَفَدَ وَفْدًا کے معنی ہیں کہیں عزت و احترام کے ساتھ جانا، جس طرح سفیر اور قاصد بادشاہ اور امیر کے پاس جاتے ہیں۔ مختار الصحاح کے مطابق وفد ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بادشاہوں کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ المفردات میں بھی یہی لکھا گیا ہے۔
وِرْدًا کا معنی
وِرْدًا … وَرَدَیَرِدُ سے اسم ہے، اس کے معنی گھاٹ پر اترنے کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کا موازنہ جاری ہے۔
کفار اور مشرکین کے عقیدہ اور کردار کی وجہ سے ان پر شیطان مسلّط کردیے جاتے ہیں۔ کفر و شرک سے اجتناب اور کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کی اللہ تعالیٰ رہنمائی اور دستگیری کرتا ہے۔ جس بنا پر ان پر شیطان کا تسلط نہیں ہوتا۔ وہ دنیا میں اس طرح زندگی گزارتے ہیں جس طرح ان کے رب نے حکم دیا ہے۔ ایسے لوگوں پر ان کے رب کا یہ انعام ہوگا کہ جب وہ دنیا سے کوچ کریں گے تو موت سے پہلے ملائکہ انھیں ان الفاظ میں خوشخبری سنائیں گے۔ جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر پکے ہوگئے ان پر ملائکہ کا نزول ہوگا جو انھیں تسلّی دیں گے اب تمہیں خوف اور غم کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
متقین کا اعزاز اور مجرمین کی ذلت :
85، 86: یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا (اس دن کو یاد کرو جس روز ہم متقین کو رحمٰن کی بارگاہ میں مہمان بنا کر جمع کریں گے) اس حالت میں کہ وہ عمدہ قسم کی اونٹنیوں پر سوار ہونگے۔ جن کے کجاوے سونے کے اور ان کی مہاریں یاقوت و زبردج کی ہونگی۔ وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وِرْدًا ( اور مجرمین کو ہم دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے) مجرمین سے کافر مراد ہیں۔ سوق سے مراد ہے چوپائیوں کی طرح ہانک کرلے جانا کیونکہ وہ دنیا میں چوپائیوں سے بھی زیادہ گمراہ تھے اور وردًا کا معنی پیاسے کیونکہ جو آدمی گھاٹ پر وارد ہوتا ہے اس کو پیاس ہی گھاٹ…
Read the full tafseer →85۔ یوم نحشرالمتقین الی الرحمن وفدا۔ یاد کیجئے اے محمد ! اس وقت کو جس دن سب لوگوں کو جمع کیا جائے گا جس شخص نے دنیا میں رحمن کی اطاعت اختیار کیا وہ جنت میں گروہ درگروہ جائیں گے وفد بمعنی جماعات کے ہے۔ جیسے راکب جمع ہے رکب کی۔ ابن عباس اس کا معنی سوار ہوکر کرنے سے کرتے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ اونٹوں پر سوار ہوکر جنت میں جائیں گے۔ حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا خدا کی قسم کہ ان کو پیدل نہیں لے جایا جائے گا، بلکہ ایسی اونٹیوں پر جن کے کجاوے سونے کے ہوں گے سوار کیا جائے گا، اور ان اصیل گھوڑوں پر سوار کرکے لے جایاجائے گا، جن کی زینیں یاقوت کی ہوں گی اگر اہل جنت چاہیں گے توسواریاں اڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
83۔ 86:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں ان کے انکار کا سبب فرمایا ہے کہ ان کے کفر کے سبب سے شیطان ان پر ایسا مسلط ہوگیا ہے کہ ان کی عقل بالکل جاتی رہی ہے کیسی ہی موٹی اور ظاہر بات کیوں نہ ہو شیطان ان کو کسی بات کے سمجھنے کا موقع نہیں دیتا دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی عقل کا آدمی کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام کرتا ہے تو کوئی فائدہ اس کام کا ضرور سوچ لیتا ہے مکان کوئی بناتا ہے تو رہنے کے خیال سے کنواں کوئی کھدواتا ہے تو پانی پینے کے خیال سے اتنا بڑا، جہاں اللہ تعالیٰ جیسے صاحب حکمت نے کیا بےفائدہ پیدا کیا ہے کہ عمر بھر جو اللہ کی فرمانبرداری کرے اور دنیا بھی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
آیت 85
اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں گروہوں، یعنی متقین و مجرمین کے درمیان تفاوت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقین کو، ان کے شرک و بدعات اور دیگر گناہوں سے بچنے کے سبب سے، قیامت کے ورز، اکرام و تعظیم کے ساتھ اکٹھا کرے گا اور وہ وفود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان کی منزل اور ان کا مطلوب و مقصود رحمٰن و منان ہوگا اور یہ ضرو ری ہے کہ آنے والے کا دل امید سے لبریز ہو اور جس کے پاس آیا ہے اس پر حسن ظن ہو۔ پس اہل تقویٰ ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باپایاں احاسن کی امید کھتے ہوئے اور اس کی رضا کے گھر میں اس کی نوازشوں سے فوزیاب ہوتے ہوئے، اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اس کا سبب ان کے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →93 پرہیزگاروں کے انعام و اکرام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن کہ پرہیزگاروں کو ہم خدائے رحمن کے حضور اکٹھا کرلائیں گے مہمانوں کے طور پر۔ یعنی جس طرح کہ شاہی مہمان عزت و اکرام کے ساتھ لائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی روایات میں وارد ہے کہ ان کو سواریوں پر بٹھا کر اعزازو اکرام کے ساتھ خدائے رحمن کے حضور پیش کیا جائے گا ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ ۔ سو متقی اور پرہیزگار لوگوں کو اس روز نہایت عزت و احترام کے ساتھ خدائے رحمن کے حضور پیش کیا جائے گا تاکہ وہ اس روز اس واہب مطلق ۔ جل وعلا شانہ ۔ سے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پھل اور بہترین صلہ و بدلہ پاس کیں ۔ اللہ نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
(انسان پر شیطان کا تسلط)
یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
ف 5 اس عہدے سے مراد کلمہ شہادت کا اقرار ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی تفسیر وارد ہے۔ نیز ایک حدیث میں پنجگانہ نماز کی پابندی کو بھی عہد قرار دیاے معلوم ہوا کہ مومنین اصحاب کبائر کی تو شفاعت ہوگی مگر کافر کی کوئی شفاعت نہیں کرسکے گا پس لایملکون الشفاعۃ کے معنی یہ ہیں کہ شفاعت کے مستحق صرف وہی لوگ ہونگے جنہوں نے … یا آیت کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کا اختیار صرف اسی کو ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے شفاعت کی اجازت دے دی ہو یعنی کوئی نبی یا فرشتہ از خود کسی کی شفاعت نہیں کرسکے گا اس آیت میں تمام مشرکین کو تنبیہ کردی ہے کہ وہ مشرک خواہ سرپرست ہوں یا قبر پرست ہر قسم کی شفاعت سے محروم رہیں گے گویا لیکونوا…
Read the full tafseer →(19:85) وفدا۔ مصدر۔ مہمانی۔ وافد۔ مہمان یا کسی قوم کا نمائندہ یا قاصد اس کی جمع وفد وفود ووفاد۔ واوفاد۔ وفد یفد (ضرب) وفد الی الامیر۔ وفدبن کر آنا۔ قاصد بن کر آنا۔ چونکہ وافد مرسل الیہ کی طرف بطور مہمان جاتا ہے لہٰذا جمہور مفسرین نے یہی معنی لئے ہیں۔ یعنی متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور بطور مہمان حاضر ہوں گے۔ وفدا بمعنی جماعتوں کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔ یا رکبانا علی نجائب طاعتہم۔ یعنی اپنی بہترین طاعتوں کی سواریوں پر سوار ہو کر حاضر ہوں گے (ان کے نیک اعمال اس دن نہایت خوبصورت سواریوں پر سوار ہو کر حاضر ہوں گے (ان کے نیک اعمال اس دن نہایت خوبصورت سواریوں کی صورت میں حاضر ہوں گے) ۔
نسوق۔ مضارع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 87
توز وہ ابھارتا ہے۔ از ابھارنا، ہلانا۔ نعد ہم گن رہے ہیں۔ عد گنتی۔ وفد مہمان بنانا۔ نسوق ہم چلائیں گے۔ ورد پیاسا۔ عھد عہد، وعدہ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 87
ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
(1) پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور بہت سے معبود گھڑ رکھے ہیں تاکہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے ان کو عزت و سربلندی کے مقام پر بٹھائیں گے ان کی حمایت کریں گے، کوئی مصیبت پڑی تو وہ ان کو بچا لیں گے فرمایا کہ یہ جھوٹے معبود تمہاری عزت و سربلندی کا ذریعہ نہیں بلکہ تمہاری ذلت، رسوائی اور محرومی کا سبب بنیں گے کیونکہ وہ قیامت کے دن صاف انکار کردیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
کفار کی ذلت ورسوائی
ان آیتوں میں منکرین حشر کا سبب فرمایا کہ ان کے کفر کے سبب سے شیطان ان کے اوپر ایسا مسلط ہوگیا ہے کہ ان کی عقل بلکل جاتی رہی ہے۔ اے محبوب ﷺ ! آپ جلدی نہ کریں، ہم ان کی مدت گن رہے ہیں اور حساب لگا رہے ہیں ۔ یعنی ہمارے ہاں ان کے عذاب کا وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آوے گا، ان کو عذاب دیا جاوے گا۔ کافروں کی میعاد اس دن پوری ہوگی جس دن متقی اللہ کے پاس مہمان بن کر آئیں گے۔ یعنی نہایت عزت سے لائے جائیں گے، اور وہ دن وہ ہوگا کہ گناہ گار جہنم میں پیاسے روانہ کردیئے جاویں گے، چونکہ آفتاب کی تپش اس روز زیادہ ہوگی، اور کافر گرمی کے مارے بھن بھن جائیں گے، پھر اسی وقت دوزخ کی طرف روانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
[31] یعنی اللہ نے ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے تاکہ ان کی زندگی کے گنے ہوئے دن پورے ہوجائیں۔ جونہی پورے ہوجائیں گے نتیجہ خود بخود آشکارا ہوجائے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ سورة مریم کے نزول پر پورے دس برس بھی نہ گزرے تھے کہ دشمنان اسلام کا فیصلہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–86
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…
Read the full tafseer →-85 یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن ہم متقیوں اور پرہیز گاروں کو رحمان کے حضور میں بحیثیت مہمان کے جمع کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔
Read the full tafseer →ہم متقی انسانوں کو بھی اپنے ہاں جمع کریں گے اور ان کی ضیافت ہوگی :
85۔ وفد کی صورت میں جانے سے یہ مفہوم واضح ہوتا ہے کہ ان کو عزت واحترام کے ساتھ لے جایا جائے گا فرمایا وہ لوگ جنہوں نے ہمارے رسول ﷺ کی آواز پر لبیک کہا اور ہر وہ کام اور ہر وہ بات ترک کردی جس کے ترک کرنے کا ان کو حکم ملا اور ہر کام کے لئے وہ ہر حال میں تیار رہے جس کے کرنے کے ہم نے ان کو حکم دیا تو اب وہ وقت قریب آگیا ہے کہ ہم ان کی بھی ضیافت کریں اور ان کو شاباش دیں اور ان سب کو معزز طریقہ سے اپنے ہاں جمع کرنے کی دعوت دیں اور ان کی پذیرائی کریں کیونکہ انہوں نے جو کیا ہماری رضا حاصل کرنے کے لئے کیا :
Read the full tafseer →يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَـٰنِ وَفْدًا
"The day We will assemble the God-fearing before the Rahman (All-Merciful) as guests." - 19:85.
The word وفد applies to those who are received by rulers and princes with respect and honour. According to some sayings of the Holy Prophet ﷺ he said, "These men will ride on their mounts which they used in their worldly life." Some say that their own virtuous deeds will take the shape of their mounts.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
51. That is: Endure their persecutions patiently a little more, for the time of their punishment is coming near, for We have given them respite for a fixed term, and let that term expire.
Read the full tafseer →