Explained with ayahs 81–84
اللہ تعالیٰ کے سوا معبود۔
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہوجائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں۔ کلا کی دوسری قرأت کل بھی ہے خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
سورة مَرْیَم 50
یعنی وہ کہیں گے کہ نہ ہم نے کبھی ان سے کہا تھا ہماری عبادت کرو، اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ یہ احمق لوگ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(آپ جو ان کی گمراہی سے غم کرتے ہیں تو) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر (ابتلاءً) چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو (کفر و ضلال پر) خوب ابھارتے (اور اکساتے) رہتے ہیں (پھر جو خود ہی اپنے اختیار سے اپنے بدخواہ کے بہکانے میں آجاوے اس کا کیوں غم کیا جاوے) سو (جب شیاطین ابتلاءً مسلط ہوئے ہیں اور تعجیل سزائے مستحق میں ابتلاء رہتا نہیں تو) آپ ان کے لئے جلدی (عذاب ہونے کی درخواست) نہ کیجئے ہم ان کی باتیں (جن پر سزا ہوگی) خود شمار کر رہے ہیں، (اور وہ سزا ان روز واقع ہوگی) جس روز ہم متقیوں کو رحمٰن (کے دار النعیم) کی طرف مہمان بنا کر جمع کریں گے اور مجرموں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
تفسیر آیات 83 تا 84: أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا (83) فَلا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا
عربی میں جب کہیں گے " ارسل الکلب علی الصیب " تو اس کے معنی ہوں گے کتے کو شکار پر چھوڑ دیا۔ اسی اسلوب پر یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کافروں پر شیاطین کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان کو دعوت حق کے خلاف جتنا اکسا سکتے ہیں اکسا لیں۔ " اَزَّ یَؤُزُّ " کے معنی برانگیختہ کرنے، بھڑکانے اور اکسانے کے ہیں۔ ان کافروں کے ساتھ یہ معاملہ اس سنت الٰہی کے مطابق ہوا جس کا ذکر سورة زخرف میں ہے کہ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین : جو خدائے…
Read the full tafseer →83۔ 1 یعنی گمراہ کرتے، بہکاتے اور گناہ کی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–95
36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ویکونون علیھ ضدا (91 : 28) ” اور یہ الٹے ان کے مخالف بن جائیں گے “۔ یعنی ان سے بری الذمہ ہوجائیں گے اور ان کے خلاف شہادت دیں گے “۔ جو شیاطین ان کو اس کام پر اکسا رہے ہیں ‘ یہ ہم نے ان پر مسلط کیے ہیں۔ ان کو اللہ نے اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ورغلا سکتے ہیں اور یہ اس وقت سے ماذون ہیں جب سے ابلیس نے اللہ سے اجازت چاہی کہ مجھے مہلت دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
6 یعنی شیطان انہی بدبختوں کو گمراہی کا بڑھاوا دیتا اور انگلیوں پر نچاتا ہے جنہوں نے خود کفر وانکار کا شیوہ اختیار کرلیا۔ اگر ایسے اشقیاء شیطان کی تحریص و اغواء سے گمراہی میں لمبے جائیں تو جانے دیجئے، آپ ان کی سزا دہی میں جلدی نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے تاکہ ان کی زندگی کے گنے ہوئے دن پورے ہوجائیں۔ ان کی ایک ایک سانس، ایک ایک لمحہ اور ایک ایک عمل ہمارے یہاں گنا جا رہا ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ حرکت بھی ہمارے احاطہ علمی اور دفاتر اعمال سے باہر نہیں ہوسکتی۔ تمام عمر کے اعمال ایک ایک کر کے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 83 اَلَمْ تَرَ اَ نَّآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تَؤُزُّہُمْ اَزًّا ”
چونکہ ایسے لوگ خود شیاطین کی رفاقت اختیار کرتے ہیں اس لیے ہم شیاطین کو ان پر مستقل طور پر مسلط کردیتے ہیں تاکہ وہ انہیں گناہوں اور سرکشی پر مسلسل ابھارتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
75 یعنی وہ کہہ دیں گے کہ ہم نے ان سے کب کہا تھا کہ وہ ہماری عبادت کیا کریں۔ نیز ہمیں تو آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ ہماری عبادت کرتے بھی رہے ہیں یا نہیں ؟
Read the full tafseer →117۔ (اور یہ بدبخت اپنی قوت ارادی سے کام نہ لے کر اس شیطانی اثر کو قبول کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” ارسلنا “۔ ارسال یہاں بھیجنے کے معنی میں نہیں، مسلط کردینے کے معنی میں ہے اور یہ ارسال تمامتر تکوینی حیثیت سے ہوتا ہے۔ ارسلنا اے سلطنا (ابن عباس ؓ (آیت) ” تؤزھم ازا “۔ از کے معنی حیلہ یا تدبیر وتزویر سے اکسانے، بھڑکانے وابھارنے کے ہیں، اے تغربھم علی المعاصی وتھیجھم لھا بالوساوس والتسویلات (کشاف) وقال الضحاک تغربھم اغراء (تاج) گویا ضمنا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ شیطان کو قوت صرف ترغیب، تدبیر وتزویر سے آمادہ کردینے کی حاصل ہے، مجبور کردینے کی نہیں، یہ ان کافروں کا بالکل اختیاری فعل ہے کہ اپنی قوت تمیز اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
آیت نمبر 83 تا 98
ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…
Read the full tafseer →الم تر انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین توزہم ازا۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیطانوں کو کفار پر (ابتلاءً ) چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو خوب ابھارتے ہیں۔ سوال انکاری ہے اور نفی کا انکار اثبات ہوتا ہے یعنی شیطانوں کو ہم نے کافروں پر مسلط کر رکھا ہے ‘ بغوی نے لکھا ہے اس سے اشارہ اس قول کی طرف ہے جس میں اللہ نے ابلیس سے فرمایا تھا واسْتَفْزِزَّ مَنِ اسْتَطَعْتِ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ یا ارسلنا سے مراد ہے آزاد چھوڑ دینا ‘ یعنی ہم نے شیطانوں کو اور ان کافروں کو باہم تعلق قائم کرنے میں آزاد چھوڑ دیا ہے اَرْسَلْتُ الْبَعِیْرُمیں نے اونٹ کو کھول دیا ‘ آزاد چھوڑ دیا۔
اَزَّابھارنا ‘ برانگیختہ کرنا ‘ جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(83۔ 84) اے محمد ﷺ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر خوب اکساتے اور ان کو گمراہ کرتے رہتے ہیں تو آپ ان پر جلدی نزول عذاب کی درخواست نہ کیجیے ہم ان میں سے ایک کو شمار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →ۧاَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ۔۔ :”اَزَّا“ قاموس میں ہے : ”أَزَّ یَءِزُّ“ اور ”اَزَّ یَؤُزُّ اَزًّا“ (ض، ن) ”أَزَّ الشَّیْءَ“ اس نے کسی چیز کو سخت حرکت دی۔ ”اَزَّ النَّارَ“ اس نے آگ کو بھڑکایا۔ ”اَزَّتِ الْقِدْرُ“ ہانڈی سخت ابلنے لگی۔ ”أَزِیْزٌ کَأَزِیْزِ الْمِرْجَلِ“ ہانڈی ابلنے جیسی آواز۔ یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کافر لوگ، جنھوں نے طے کر رکھا ہے کہ انھوں نے کسی صورت حق کو تسلیم نہیں کرنا، ہم نے ان پر شیاطین کو مسلط کردیا ہے، جو انھیں برائی پر شدت سے ابھارتے رہتے ہیں اور انھیں گناہوں کی آگ میں اس طرح مسلسل جھونکے رکھتے ہیں کہ وہ اسی پیچ و تاب میں ہانڈی کی طرح ابلتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(تفسیر 83-87) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم ترانا ارسلنا الشیطین علی الکفرین ہم نے شیطانوں کو ان پر اغوا کرنے کے لیے مسلط کردیا ہے یہ اس وقت ہوا جبب ابلیس سے کہا تھا : واستفزز من استطعت منھم بصوتک (بنی اسرائیل :64)
بعض نے فرمایا : انا ارسلنا کا معنی ہے ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ کہا جاتا ہے : ارسلت البعیر میں نے اونٹ کو چھوڑ دیا ہے یعنی ہم نے شیطانوں اور ان کو چھوڑ دیا ہے ہم ان کی شیطانوں کی بات قبول کرنے سے حفاظت نہیں کرتے۔ زجاج نے ارسلنا کا معنی قیضنا (ہم نے مسلط کردیا) کیا ہے۔ تؤزھم ازاً حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے وہ انہیں طاعت کی جگہ معصیت اور نافرمانی پر اکساتے ہیں۔ ان سے مروی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین توزھم ازا “ یعنی شیطانوں کو کافروں پر ہم مسلط کردیتے ہیں جو ان کو اغوا کرلیتے ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم “ یعنی وہ شیاطین مشرکین کو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف اکساتے ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم ازا “ کہ شیاطین ان کو مسلمانوں کے خلاف اس طرح اکساتے ہیں جیسے کتے کو شکار پر اکسایا جاتا ہے۔
4:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” توزھم ازا “ یعنی ان کو اکساتے ہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →[اَ : کیا ] [لَمْ تَرَ : آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [انآ : کہ ہم نے ہی ] [اَرْسَلْنَا : بھیجا ] [الشَّيٰطِيْنَ : شیطان کو ] [عَلَي الْكٰفِرِيْنَ : کافروں پر ] [تَـــؤُزُّهُمْ : وہ اکساتے ہیں ان کو ] [اَزًّا : جیسے اکسانے کا حق ہے ]
ء ز ز
[اَزًّا : (ن) ] (1) ہانڈی کا جوش میں آنا۔ اُبلنا (لازم) ۔ (2) ہانڈی کو جوش میں لانا۔ اُبالنا۔ (متعدی) ۔ پھر کسی کو کسی کام پر ابھارنے، اُکسانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 83 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ ) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر چھوڑ دیا ہے جو انھیں خوب ابھارتے رہتے ہیں سو آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کیجیے ہم ان کی باتوں کو خوب شمار کر رہے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ہم نے کافروں پر شیاطین کو چھوڑ رکھا ہے وہ انھیں کفر پر اور برے اعمال پر خوب ابھارتے ہیں یہ لوگ اللہ کی ہدایت کو نہیں مانتے جو اس نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعہ بھیجی ہے بلکہ شیاطین کے بہکانے اور ورغلانے ہی کو اچھا سمجھتے ہیں اور ان کے بہکاوے میں آجاتے ہیں حق کو چھوڑ کر باطل پر جمے رہتے ہیں لہٰذا یہ لوگ عذاب کے مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا
(ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔
نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
58:۔ ہم نے ان پر شیاطین کو مسلط کر رکھا ہے۔ جو انہیں گناہوں کی ترغیب دیتے اور انہیں کفر و شرک پر اکساتے رہتے ہیں۔ ” تؤزھم ازا “ ای تغریھم و تھیجھم علی المعاصی (روح ج 16 ص 134) ۔ ” فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْھِمْ “ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ یہ خیال نہ فرمائیں کہ ان کے تمرد وعناد اور ان کے معاصی کے پیش نظر تو انہیں اب تک عذاب خداوندی سے ہلاک ہوجانا چاہئے تھا۔ ” اِنَّمَا نَعُدُّ لَھُمْ عَدًّا الخ “ یہ ماقبل کی علت یعنی اب ان کی ہلاکت و تباہی کا وقت بالکل قریب آچکا ہے اور معدودے چند ایام باقی رہ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا عقیدہ اور ان کی بیہودہ گفتگو کا رد فرمایا ، اس کے علاوہ اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے واضح کیا کہ مشرکین اپنے معبودان کو باعث عزت سمجھتے تھے وہ ان کے مخالف بن جائیں گے اور ان کی عبادت سے انکار کردیں گے ، نیز مشرکین کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا ، اب اللہ نے مشرکین اور کفار کی گمراہی کے اسباب کا تذکرہ کیا ہے اور بتلا دیا ہے کہ جملہ اسباب ضلالت میں سے سب سے بڑا سبب انسانوں پر شیطان کا تسلط ہے ۔
(شیاطین کا تسلط)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم تر انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین “۔ اے پیغمبر ! ﷺ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ تَـــؤُزُّہُمْ اَزًّا 83ۙ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی ) رای
الرؤیتہ
کے معنی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
اَلَمْ تَرَ اَنَّـآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تُؤْزُّھُمْ اَزًّا۔ فَلاَ تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ ط اِنَّمَا نَعُدُّلَھُمْ عَدًّا۔ (مریم : 83، 84)
(کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیاطین کو چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں خوب خوب برانگیختہ کررہے ہیں۔ تو آپ ان کے فیصلے کے لیے جلدی نہ کریں، ہم ان کے لیے اچھی طرح گنتی کررہے ہیں۔ )
اَرْسَلْنَا کا مفہوم
اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ کا معنی امام رازی، علامہ قرطبی اور علامہ آلوسی کے نزدیک یہ ہے کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر مسلط کردیا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اَرْسَلْنَا تسلیط کے معنی کو متضمن ہے۔
بعض اہل لغت کے نزدیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فہم القرآن
ربط کلام : کفر و شرک کا بنیادی محرّک اور سبب شیطان ہوتا ہے۔ جب شیطان انسان پر مسلط ہوجائے تو انسان غیر اللہ کی عبادت کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اے نبی ﷺ ! کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ ہم شیاطین کو کفار کی طرف بھیجتے ہیں جو انھیں کفر و شرک پر ابھارتے ہیں۔ شیاطین سے مراد جناّت اور وہ انسان ہیں جو لوگوں کو برائی اور کفر و شرک پر آمادہ کرتے ہیں۔ ان میں وہ علماء، پیر اور حکمران بھی شامل ہیں جو لوگوں کو شرک و بدعت کا سبق دیتے ہیں یا ایساماحول بناتے ہیں جس سے شرک و بدعت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کی سزا کے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ…
Read the full tafseer →83: پھر اپنے اس ارشاد سے اپنے پیغمبر کو تعجب دلایا۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّا اَرْسَلْنَاالشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیطان کو کفار پر چھوڑ رکھا ہے یعنی ہم نے شیاطین اور ان کے درمیان دوستی بنادی۔ یہ درحقیقت ارسلتُ البَعِیْر کے محاورہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی اونٹ کو کھول دینا آزاد چھوڑ دینا ہے۔ (2) اغوا کے ذریعے ان پر تسلط جمانا مراد ہے۔
تَؤُزُّھُمْ اَزًّا ( وہ ان کو خوب ابھارتے ہیں) یعنی اغوا کے ذریعے گناہوں پر آمادہ کرتے ہیں۔ الَازّ اور الھِزُّ یہ دونوں ایک ہی قسم کے لفظ ہیں دونوں کا معنی بھڑکانا اور بہکا کر پیچھے لگانا آتا ہے۔
Read the full tafseer →83۔ الم ترانا ارسلنا الشیاطین علی الکافرین ، ، یعنی شیطانوں کو ہم نے کافروں پر مسلط کررکھا ہے۔ یہ اس وقت ہے جب شیطان سے فرمایا ، واستفزز من الستطعت منھم بصوتک، ، توزھم ازا، ، یعنی جھوٹ فریب دے کر گناہوں پر آمادہ کرنا اور بہکا کر خواہشات کے پیچھے لگادینا۔ از، ، اور والھز، حرکت دینے کو کہتے ہیں۔ یعنی ان کو حرکت دیتے، آمادہ کرنے اور گناہوں پر آمادہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
83۔ 86:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں ان کے انکار کا سبب فرمایا ہے کہ ان کے کفر کے سبب سے شیطان ان پر ایسا مسلط ہوگیا ہے کہ ان کی عقل بالکل جاتی رہی ہے کیسی ہی موٹی اور ظاہر بات کیوں نہ ہو شیطان ان کو کسی بات کے سمجھنے کا موقع نہیں دیتا دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی عقل کا آدمی کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام کرتا ہے تو کوئی فائدہ اس کام کا ضرور سوچ لیتا ہے مکان کوئی بناتا ہے تو رہنے کے خیال سے کنواں کوئی کھدواتا ہے تو پانی پینے کے خیال سے اتنا بڑا، جہاں اللہ تعالیٰ جیسے صاحب حکمت نے کیا بےفائدہ پیدا کیا ہے کہ عمر بھر جو اللہ کی فرمانبرداری کرے اور دنیا بھی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
آیت 81
یہ کفار کی سزا ہے۔ اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی، تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کردیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کردیا۔ وہ انہیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں، انہیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں، ان پر القاء کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہوجاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →91 شیطان کا کام اکسانا، بڑھکانا ۔ والعیاذ باللہ : پس شیطان کا کام محض اکسانا، بھڑکانا اور برائی کی ترغیب دینا ہے۔ نہ کہ مجبور کردینا۔ جیسا کہ قیامت کے روز وہ خود کہے گا ۔ { وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُم مِّنْ سُلْطَانٍ اِلَّا اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ } ۔ (ابراہیم : 22) جس طرح کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کا کام صرف حق کی دعوت دینا ہے اور خیر کی طرف بلانا ہے نہ کہ ایمان و اقرار پر مجبور کردینا۔ زمخشری کہتے ہیں کہ " اِزَّھَزَّ " اور " اسْتَفَرَّ " تینوں الفاظ قریب قریب ایک معنیٰ میں آتے ہیں۔ یعنی اکسانا، بھڑکانا اور انگیخت کرنا وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
(انسان پر شیطان کا تسلط)
یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی وساوس اور تسویلات سے حق تعالیٰ کی مخالفت پر اکساتے اور برے کاموں کی رغبت دلاتے رہتے ہیں (شوکانی)
Read the full tafseer →(19:83) تؤزہم۔ (وہ شیاطین) ان کو ابھارتے ہیں۔ ازیؤز (باب نصر) مضارع واحد مؤنث غائب از مصدر۔ جس کے اصل معنی دیگ کے جوش مارنے کے ہیں۔ اور پھر اسی مناسبت سے ورغلانے۔ ابھارنے ۔ ترغیب دلانے۔ آپس میں گتھ جانے اور اوپر اچھال دینے کے بھی آتے ہیں۔
ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کافرین کی طرف راجع ہے اور ضمیر فاعل واحد مؤنث غائب شیاطین کے لئے ہے۔ وہ شیاطین ان کافروں کو (اسلام کے خلاف) خوب ابھارتے رہتے ہیں۔ مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 87
توز وہ ابھارتا ہے۔ از ابھارنا، ہلانا۔ نعد ہم گن رہے ہیں۔ عد گنتی۔ وفد مہمان بنانا۔ نسوق ہم چلائیں گے۔ ورد پیاسا۔ عھد عہد، وعدہ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 87
ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
(1) پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور بہت سے معبود گھڑ رکھے ہیں تاکہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے ان کو عزت و سربلندی کے مقام پر بٹھائیں گے ان کی حمایت کریں گے، کوئی مصیبت پڑی تو وہ ان کو بچا لیں گے فرمایا کہ یہ جھوٹے معبود تمہاری عزت و سربلندی کا ذریعہ نہیں بلکہ تمہاری ذلت، رسوائی اور محرومی کا سبب بنیں گے کیونکہ وہ قیامت کے دن صاف انکار کردیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
کفار کی ذلت ورسوائی
ان آیتوں میں منکرین حشر کا سبب فرمایا کہ ان کے کفر کے سبب سے شیطان ان کے اوپر ایسا مسلط ہوگیا ہے کہ ان کی عقل بلکل جاتی رہی ہے۔ اے محبوب ﷺ ! آپ جلدی نہ کریں، ہم ان کی مدت گن رہے ہیں اور حساب لگا رہے ہیں ۔ یعنی ہمارے ہاں ان کے عذاب کا وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آوے گا، ان کو عذاب دیا جاوے گا۔ کافروں کی میعاد اس دن پوری ہوگی جس دن متقی اللہ کے پاس مہمان بن کر آئیں گے۔ یعنی نہایت عزت سے لائے جائیں گے، اور وہ دن وہ ہوگا کہ گناہ گار جہنم میں پیاسے روانہ کردیئے جاویں گے، چونکہ آفتاب کی تپش اس روز زیادہ ہوگی، اور کافر گرمی کے مارے بھن بھن جائیں گے، پھر اسی وقت دوزخ کی طرف روانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
[30] صحیحین میں یہ روایت آئی ہے کہ ایک صحابی کا قرضہ ایک مشرک کے ذمے باقی تھا۔ جب انہوں نے اس سے تقاضا کیا تو اس نے کہا کہ جب تک محمد ﷺ کی صداقت سے انکار نہ کروگے میں قرضہ نہ چکاؤں گا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہونے کا نہیں چاہے تو مر کر بھی زندہ ہوجائے۔ وہ مشرک ازراہ تمسخر و تمرد بولا کہ اچھا جب یہ بات ہے کہ میں مر کر دوبارہ آسکتا ہوں تو جبھی آنا اور قرضہ چکانا۔ میں تو اس وقت بھی صاحب مال و اولاد ہوں گا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–86
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…
Read the full tafseer →-83 اے پیغمبر کیا آپ کو م علوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو ان کافروں پر چھوڑ رکھا ہے جو ان کو خوب اکساتے رہتے ہیں۔ یعنی اے پیغمبر آپ ان منکروں کی حرکات ناشائستہ سے متاثر نہ ہوں کیونکہ یہ مخالف قوتوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں شیاطین جو ان کے صریح دشمن ہیں اور ان کو اچھالتے اور اکساتے رہتے ہیں اور یہ ان کے کہنے میں آ کر دین حق کی مخالفت کیا کرتے ہیں تو جن کی یہ حالت ہو کہ وہ اپنے اختیار سے دشمنوں کے آلہ کار بن رہے ہوں ان کی حرکتا شنیعہ سے آپ کیوں متاثر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔
Read the full tafseer →شیطان ہیں کہ ان کو ہر وقت اکساتے رہتے ہیں :
83۔ اس جگہ پھر سنت الہی کا سبق یاد دلایا گیا ہے اور سنت الہی یہ ہے کہ جو لوگ اللہ رب العزت کی یاد دہانی سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں ہم ان پر کوئی شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ ان کا ساتھی بن جاتا ہے اور پھر جس کا ساتھی شیطان ہوگیا ظاہر ہے کہ وہ تیرتا ہوا ہی ڈوب گیا کیونکہ انسان کو ڈبونے کے لئے تو وہ ہر وقت اور ہر آن تیار ہے ۔ یہی بات یہاں ذکر کی گئی فرمایا ان کافروں پر ہم نے شیطان کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان کو دعوت حق کے خلاف جتنا اکسا سکتا ہے اکسالے اور کوئی کسر باقی نہ چھوڑے گویا یہ وہی بات ہوئی کہ ” مرے کو مارے شاہ مدار “ جو پہلے ہی برانگیختہ ہونے کو…
Read the full tafseer →Commentary
تَؤُزُّهُمْ أَزًّا
"Inciting them with all their incitements" - 19:83.
In Arabic language the words حَضّ – فَزّ – اَزّ - ھَزّ are synonymous, differing only in shade or degree, and mean to urge, incite, instigate. The word اَزّ means to apply strong pressure, to persuade somebody to do something. The sense of this verse is that the Devils instigate the unbelievers to persist in their evil ways by presenting before their eyes the benefits and hiding from them the wickedness of their evil deeds.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
50. That is, they will say: We never asked them to worship us nor were we aware that these foolish people were worshiping us.
Read the full tafseer →