Maryam 19:82

Maryam · from ayah 82

19:82

كَلَّا ؕ— سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَیَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا ۟۠كَلَّا‌ ؕ سَيَكۡفُرُوۡنَ بِعِبَادَتِهِمۡ وَيَكُوۡنُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ضِدًّا

ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! Those "gods" will deny their worship of them and will be against them opponents [on the Day of Judgement].

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:82

کوئی پشتیبان نہ ہوگا وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور الٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لیکن ایسا ہرگز ہونا نہیں۔ وه تو ان کی پوجا سے منکر ہو جائیں گے، اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب غلط بات ہے ! وہ تو ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں گے، اور الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہرگز نہیں کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالفت ہوجائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہرگز (ایسا) نہیں ہے، عنقریب وہ (معبودانِ باطلہ خود) ان کی پرستش کا انکار کر دیں گے اور ان کے دشمن ہوجائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز ایسا نہ ہوگا، عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے اور ان کے خلاف مد مقابل ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسا ہرگز نہ ہوگا وہ معبود تو ان کی عبادت سے ہی انکار کردیں گے بلکہ الٹا ان کے مخالف بن جائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہرگز نہیں ! وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے عدو بنیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز نہیں، وہ تو ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں گے اور وہ الٹے ان کے مخالف بن جائیں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

ہرگز نہیں۔ (بلکہ) وہ تو عنقریب خود ہی ان کی عبادت کا انکار کربیٹھیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہر گز نہیں ! وہ تو ان لوگوں کی عبادت کا انکار کردیں گے اور (وہاں) وہ ان لوگوں کے مخالف ہوجائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہرگز نہیں وہ جھوٹے معبود ان کی عبادت سے انکار کردیں گے اور ان کے دشمن اور مخالف ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

By no means! They shall soon deny their worship and shall become their adversaries instead.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Never! They (their fabricated deities) will soon reject their having worshipped them, and they will be just the opposite for them.

— Muhammad Taqi Usmani

Never! They (their fabricated deities) will soon reject their having worshipped them, and they will be just the opposite for them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, but they will deny their worship of them, and will become their adversaries.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but they will deny their worship of them, and become opponents unto them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No! Those "gods" will deny their worship of them and will be against them opponents [on the Day of Judgement].

— Saheeh International

In fact, they can have no honor; their gods will renounce their worship of idols and will turn against them.

— Muhammad Sarwar

By no means! They shall soon deny their worshipping them, and they shall be adversaries to them.

— Muhammad Habib Shakir

By no means! anon they shall deny their worship, and become unto them an adversary. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

Instead, they shall reject their worship, and become adversaries against them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 81–84

اللہ تعالیٰ کے سوا معبود۔ کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہوجائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں۔ کلا کی دوسری قرأت کل بھی ہے خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 82–83

سورة مَرْیَم 50 یعنی وہ کہیں گے کہ نہ ہم نے کبھی ان سے کہا تھا ہماری عبادت کرو، اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ یہ احمق لوگ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا، یعنی یہ خود تراشیدہ بت اور معبود باطل جن کی عبادت اس لئے کرتے تھے کہ یہ ان کے مددگار ثابت ہوں گے محشر میں اس کے برعکس یہ ان کے دشمن ہوجاویں گے اللہ تعالیٰ ان کو نطق و زبان عطا فرماویں گے اور یہ بولیں گے کہ یا اللہ ان کو عذاب و سزا دیجئے کہ انہوں نے تجھ کو چھوڑ کر ہمیں معبود بنا لیا تھا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 81–82

تفسیر آیات 81 تا 82: وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا (81) كَلا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا ان مشرکین کا سب سے بڑا سہارا ان کے معبودان باطل تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ اگر خدا کے ہاں حاضر اور حساب کتاب کا کوئی مرحلہ آیا تو ان کے یہ معبود اپنے زور و اثر سے ان کو بچا ہی لیں گے۔ خصوصاً فرشتوں کی سفارش پر ان کو بڑا اعتماد تھا۔ ان کو وہ خدا کی چہیتی بیٹیاں گمان کرتے تھے اور اس خیال سے ان کی پوجا کرتے تھے کہ خدا ان کی بات نہیں ٹال سکتا۔ یہ دنیا میں بھی ان کو اپنے باپ سے سفارش کر کے ان کو رزق اور اولاد دلواتی ہیں اور اگر مرنے کے بعد بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 81–82

82۔ 1 عِزًّا کا مطلب ہے یہ معبود ان کے لئے عزت کا باعث اور مددگار ہوں گے اور ضِدًّا کے معنی ہیں، دشمن، جھٹلانے والے اور ان کے خلاف دوسروں کے مددگار۔ یعنی یہ معبود ان کے گمان کے برعکس ان کے حمایتی ہونے کی بجائے، ان کے دشمن، ان کو جھٹلانے والے اور ان کے خلاف ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–95

36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 82–83

ویکونون علیھ ضدا (91 : 28) ” اور یہ الٹے ان کے مخالف بن جائیں گے “۔ یعنی ان سے بری الذمہ ہوجائیں گے اور ان کے خلاف شہادت دیں گے “۔ جو شیاطین ان کو اس کام پر اکسا رہے ہیں ‘ یہ ہم نے ان پر مسلط کیے ہیں۔ ان کو اللہ نے اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ورغلا سکتے ہیں اور یہ اس وقت سے ماذون ہیں جب سے ابلیس نے اللہ سے اجازت چاہی کہ مجھے مہلت دیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی وہ معبود مددتو کیا کرتے، خود ان کی بندگی سے بیزار ہوں گے۔ اور ان کے مدمقابل ہو کر بجائے عزت بڑھانے کے اور زیادہ ذلت و رسوائی کا سبب بنیں گے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا۔ (وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ ) 46 ۔ الاحقاف :6)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 82 کَلَّاط سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ ” یہ مضمون قرآن میں بار بار آیا ہے کہ وہ ہستیاں جنہیں یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے ہوں گے ‘ وہ فرشتے ہوں ‘ اولیاء اللہ ہوں یا انبیاء ہوں ‘ قیامت کے دن وہ سب ایسے مشرکین سے اظہار برا ءت کردیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تم لوگ دنیا میں ہماری پرستش کرتے رہے ہو ‘ ہم سے دعائیں مانگتے رہے ہو اور سمجھتے رہے ہو کہ ہم تم لوگوں کو اللہ کے عذاب سے چھڑا لیں گے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 82–83

75 یعنی وہ کہہ دیں گے کہ ہم نے ان سے کب کہا تھا کہ وہ ہماری عبادت کیا کریں۔ نیز ہمیں تو آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ ہماری عبادت کرتے بھی رہے ہیں یا نہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

116۔ (قالا بھی حالا بھی) قالا اس طرح کہ کھل کر ان کی عبادت سے انکار کریں گے، اور حالا اس طرح کہ بجائے ان کی عزت ونصرت کے اور ان کی ذلت ومقہوریت کا سبب بن جائیں گے، اے اعداء لھم وکانوا اولیاء فی الدنیا (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 76–82

آیت نمبر 76 تا 82 ترجمہ : اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان آیات کے ذریعہ جن کو ان پر نازل کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تو وہ وہ طاعات ہیں جو طاعت گزار کے لئے باقی رہتی ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں یعنی وہ ثواب اور اجر جو اس کو حاصل ہوگا وہ بہتر ہوگا بخلاف اعمال کفار کے اور یہاں (اسم تفضیل) خیر کا استعمال ان کے قول اَیُّ الفریقین خیرٌ مقامًا کے مقابلہ میں ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ؟ جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ عاص ابن وائل ہے جس سے (حضرت) خباب ابن ارت نے کہا تھا کہ تو مرنے کے بعد (زندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا ایسا ہرگز نہ ہوگا ‘ بتوں کے وسیلہ سے ان کو عزت حاصل نہ ہوگی۔ سیکفرون بعبادتہم وہ ان کی عبادت ہی کا انکار کریں گے ‘ یعنی وہ آلہہ اور معبود ان کی عبادت کا قیامت کے دن انکار کریں گے اور کہیں گے یہ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے (شیطانوں اور اپنے ہوا و ہوس کی پوجا کرتے تھے) ہم ان کے اس فعل سے بری ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن کافر غیر اللہ کی عبادت کا انکار کردیں گے اور کہیں گے خدا کی قسم ہم مشرک نہیں تھے۔ ویکونون علیہم ضدا۔ اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ ضد سے مراد ہے ذلت و حقارت۔ اوّل فقرہ میں بتوں کا باعث عزت ہونا مذکور ہے ‘ جس کی امید کافروں کو تھی اور عزت کی ضد ذلت ہوتی ہے یا ضد سے مراد ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(82) ہرگز یہ بت ان کی عذاب الہی سے حفاظت نہیں کرسکتے بلکہ ان کے وہ معبود تو ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں گے اور ان کے یہ بت ان کفار کے خلاف اور ان کے عذاب کی زیادتی کی حمایت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ : انکار اس معنی میں کریں گے کہ وہ کہیں گے، ہم نے کبھی ان سے نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو، یا ہمیں مصیبت کے وقت پکارو اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ وہ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة یونس (28، 29) ، نحل (86) ، قصص (63) ، فاطر (13، 14) اور احقاف (5، 6) اسی طرح کفار بھی اپنے معبودوں کی عبادت سے مکر جائیں گے اور ان کے خلاف ہوجائیں گے، بلکہ قسم کھا کر کہیں گے کہ اللہ کی قسم ! ہم مشرک نہیں تھے۔ دیکھیے سورة انعام (23) بلکہ وہ اور ان کے معبود ایک دوسرے کو لعنت کریں گے۔ دیکھیے عنکبوت (25) اور سورة بقرہ (166،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 81–82

(تفسیر 81-82) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتخذوا من دون اللہ الھۃ لیکونوا لھم عزا۔ اس سے مراد مشرکین ہیں۔ عزا اس کا معنی ہے مددگار اور محافظ، یعنی اولاد، العز موسلا دھار بارش کو بھی کہتے ہیں ؛ یہ ہر وی کا قول ہے۔ کلام کا ظاہر یہ ہے کہ عزاً ان بتوں کی طرف راجع ہے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے۔ اور اس کو واحد ذکر فرمایا کیونکہ یہ مصدر کے معنی میں ہے یعنی تاکہ وہ اس کے ساتھ عزت پائیں اور ان کے ذریعے اللہ کے عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کلا، معاملہ اس طرح نہیں جس طرح انہوں نے گمان کیا بلکہ وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے یعنی وہ انکار کریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 80–82

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ ہم اس کے مال اور اس کی اولاد کے وارث ہوں گے۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ ہم اس کے مال اور اس کی اولاد کے وارث ہوں گے اور جس شخص نے یہ گستاخی کی تھی وہ عاص بن وائل تھا۔ 3:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ جو کچھ اس کے پاس ہے ہم اس کے وارث ہوں گے اور اس کا قول ہے (آیت) ” لاوتین مالاو ولدا “ (کہ میں ضرور مال اور اولاد دیا جاوں گا) اور ابن مسعود ؓ کے قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ونرثہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَلَّا : ہرگز نہیں ] [سَيَكْفُرُوْنَ : وہ (الٰہ) انکار کریں گے ] [بِعِبَادَتِهِمْ : ان کی عبادت کا ] [وَيَكُوْنُوْنَ : اور وہ ہوجائیں گے ] [عَلَيْهِمْ : ان کے ] [ضِدًّا : مخالف ] ض د د [ضَدًّا : (ن) ] جھگڑے میں غالب آنا۔ ضِدٌّ مخالف۔ دشمن۔ زیر مطالعہ آیت۔ 82 ؀

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 82–83

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ ) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر چھوڑ دیا ہے جو انھیں خوب ابھارتے رہتے ہیں سو آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کیجیے ہم ان کی باتوں کو خوب شمار کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے کافروں پر شیاطین کو چھوڑ رکھا ہے وہ انھیں کفر پر اور برے اعمال پر خوب ابھارتے ہیں یہ لوگ اللہ کی ہدایت کو نہیں مانتے جو اس نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعہ بھیجی ہے بلکہ شیاطین کے بہکانے اور ورغلانے ہی کو اچھا سمجھتے ہیں اور ان کے بہکاوے میں آجاتے ہیں حق کو چھوڑ کر باطل پر جمے رہتے ہیں لہٰذا یہ لوگ عذاب کے مستحق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–98

ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا (ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔ نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

57:۔ یہ مشرکین کا رد ہے کہ جس غرض کے لیے انہوں نے اللہ کے نیک بندوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔ وہ غرض انہیں کبھی میسر نہیں ہوگی۔ اللہ کے بندے ان کی عبادت پر خوش ہونے کے بجائے قیامت کے دن ان کی عبادت اور پکار کا انکار کریں گے اور ان مشرکین کے خلاف ہوجائیں گے۔ یہ آیت انبیاء علیہم السلام، اولیاء کرام اور فرشتوں کے حق میں ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–82

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا جو اہل ایمان کو طعن دیتے تھے اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے پاس زندگی کا سارا سازو سامان ہے جب کہ مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں ہمارے گھر بہتر ہیں ، اور ہماری مجلسیں اچھی ہیں ، نوکر چاکر ہیں اور پشت پر دوست احباب ہیں ، پھر وہ اہل ایمان سے کہتے کہ بتاؤ ہماری حالت اچھی ہے یا تمہاری ، اللہ نے ایسے بیہودہ خیالات کا رد فرمایا اور اس کا الزامی اور حکیمانہ جواب بھی دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے ہدایت کے سامان کی زیادتی کا ذکر فرمایا ، اور باقی رہنے والی نیکیوں کے اچھے بدلے کا تذکزہ فرمایا اب آج کی آیات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَلَّا۝ 0ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْہِمْ ضِدًّا۝ 82ۧ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 77–95

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 81–82

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَہُمْ عِزًّا۔ کَلَّاط سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًّا۔ (مریم : 81، 82) (اور انھوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے پشت پناہ بنیں۔ ہرگز نہیں، وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے دشمن ہوجائیں گے۔ ) مشرکین کا معبودانِ باطل پر اعتماد مشرکین نے قیامت کے بارے میں جو غلط تصورات بنا رکھے تھے اور اسی طرح دنیوی مشکلات پر قابو پانے کے لیے جو سہارے تراش رکھے تھے ان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے علاوہ کچھ اور بھی معبود بنا رکھے ہیں جن کے بارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 81–82

فہم القرآن ربط کلام : شرک کرنے کا بنیادی سبب یہ ہوتا ہے کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ کو کارساز، خود مختار اور ایک جاننے کی بجائے دوسروں کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے مشرک اور کافر اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے سامنے ہاتھ جوڑتے، جھکتے، سجدے کرتے اور نذ ونیاز پیش کرتے ہیں۔ ذات کبریا کا اصل نام ” اللہ “ ہے اس کا متبادل نام الٰہ ہے۔ جو متبادل نام ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تمام بڑی بڑی صفات کا ترجمان ہے۔ اس کا ایک معنٰی حاجت روا، مشکل کشا ہے۔ (النمل : 62) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اس بات سے منع کیا ہے کہ لوگو ! اللہ کے سوا نہ کسی کی عبادت کرو اور نہ کسی کو پکارو اور نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

معبودین کی بیزاری : 82: کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِھِمْ ( ہرگز ایسا نہیں عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے) کلا یہاں ردعیہ ہے اور ان کے ایمان کی تردید کیلئے آیا ہے ھم کی ضمیر آلہۃ کی طرف جارہی ہے کہ عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور اس سے ناواقفیت ظاہر کرتے ہوئے کہیں گے اللہ کی قسم تم نے ہماری عبادت نہیں کی تم جھوٹے ہو (2) یہ ضمیر مشرکین کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی وہ اس بات سے انکار کردیں گے کہ انہوں نے ان بتوں کی عبادت کی ہے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا اور کہیں گے اللہ کی قسم تم نے ہماری عبادت نہیں کی تم جھوٹے ہو یا مشرکین کو کہیں گے یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

82۔ کلا، ، ایسا امر نہیں جیسا کہ ان لوگوں کا گمان ہے۔ سیکفرون بعبادتھم، ، اس وقت یہ بت اور معبودان سے انکار کرلیں گے اور ان سے برات کرلیں گے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ، تبراناالیک ماکانوا ایانایعبدون۔ ” ویکونون علیھم ضدا، ، کافروں کے باطل معبود قیامت کے دن ان کے دشمن اور مخالف ہوجائیں گے ان کی تکذیب اور ان پر لعنت کریں گے اور بعض نے کہا کہ قیامت کے دن کافر اپنے اللہ کے مخالف ہوجائیں گے۔ دنیا میں تو ان کی پوجا کرتے تھے لیکن آخرت میں منکر ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–82

77۔ 82:۔ صحیح بخاری ومسلم میں خباب بن ارت ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس میں خباب ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں کے ایک شخص عاص بن وائل پر میرا کچھ قرضہ آتا تھا میں جب اپنا قرضہ مانگنے کو اس کے پاس گیا تو اس نے کہا ادا کردوں گا، عاص بن دائل نے یہ سن کر کہا کہ اگر مر کر پھر جان سچ ہے تو تم مسلمانوں کے عقیدہ کے موافق وہاں جنت میں میرے پاس مال و اولاد سب کچھ ہوگا پھر وہیں میں تمہارا قرضہ ادا کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے ان منکرین قرآن کا حال دیکھا اور ان کی باتیں سنیں کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 81–84

آیت 81 یہ کفار کی سزا ہے۔ اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی، تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کردیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کردیا۔ وہ انہیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں، انہیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں، ان پر القاء کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہوجاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 81–82

90 مشرکوں کے اس مشرکانہ زعم و گھمنڈ کی صریح تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا بلکہ فیصلے کے اس روز وہ ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے "۔ اور ان کے دشمن بن جائیں گے۔ اور ان کی پوجا پاٹ کا وہ صاف وصریح طور پر انکار کردیں گے ۔ { ویکونون علیہم ضدا } ۔ نیز جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَائً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتَہِمْ کَافِرِیْنَ } ۔ (الاحقاف : 6) ۔ تب ان لوگوں کی حسرت دیکھنے کے قابل ہوگی کہ زندگی بھر کے تمام سہارے اس وقت ٹوٹ چکے ہوں گے۔ سو کتنا کرم و احسان ہے ہم پر اور پوری بنی نوع…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–87

غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم) سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–82

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی بجائے اس کے کہ وہ ان کے لئے بچائو کا سبب بنیں الٹا ان کی پکڑ کا سبب بنیں گے اور باعث حسرت، ان معبودوں کے اتحاد و اتفاق کی وجہ سے ان کوشی واحد فرض کر کے ” ضدا “ صیغہ واحد کا لا گیا ہے کہ حدیث میں ہے، وھم ید علی من سواھم (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:82) کلا۔ حرف ردع وزجر۔ ہرگز نہیں۔ ضدا۔ مخالف۔ دشمن۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے ہے۔ بوجہ حال کے منصوب ہے۔ سیکفرون میں ضمیر فاعل معبودان باطل کے لئے ہے۔ بعبادتہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب غیر اللہ کو پوجنے والوں کی طرف راجع ہے۔ یکونون میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب پھر معبودان باطل کے لئے ہے۔ اور علیہم میں ہم ضمیر کا مرجع وہی غیر اللہ کو پوجنے والے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ وہ معبودان باطل ان کی عبادت سے انکار کریں گے اور (الٹے) ان کے دشمن ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 81–87

لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 87 توز وہ ابھارتا ہے۔ از ابھارنا، ہلانا۔ نعد ہم گن رہے ہیں۔ عد گنتی۔ وفد مہمان بنانا۔ نسوق ہم چلائیں گے۔ ورد پیاسا۔ عھد عہد، وعدہ۔ تشریح : آیت نمبر 81 تا 87 ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور بہت سے معبود گھڑ رکھے ہیں تاکہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے ان کو عزت و سربلندی کے مقام پر بٹھائیں گے ان کی حمایت کریں گے، کوئی مصیبت پڑی تو وہ ان کو بچا لیں گے فرمایا کہ یہ جھوٹے معبود تمہاری عزت و سربلندی کا ذریعہ نہیں بلکہ تمہاری ذلت، رسوائی اور محرومی کا سبب بنیں گے کیونکہ وہ قیامت کے دن صاف انکار کردیں گے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 77–82

شان نزول : بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت حباب بن ارت ؓ کا زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا۔ وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض ادا نہ کروں گا جب تک تم سید عالم محمد مصطفیٰ کے منکر نہ ہوجاؤ، اور کفر اختیار نہ کرو۔ خباب نے فرمایا :" ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے "۔ وہ کہنے لگا کہ کیا مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا، وہ کہنے لگا " ہاں !" ۔ عاص نے کہا :" تو پھر مجھے چھوڑیئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں، اور مجھے مال و اولاد ملے۔ جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا " اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ :" وہ جو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–83

[30] صحیحین میں یہ روایت آئی ہے کہ ایک صحابی کا قرضہ ایک مشرک کے ذمے باقی تھا۔ جب انہوں نے اس سے تقاضا کیا تو اس نے کہا کہ جب تک محمد ﷺ کی صداقت سے انکار نہ کروگے میں قرضہ نہ چکاؤں گا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہونے کا نہیں چاہے تو مر کر بھی زندہ ہوجائے۔ وہ مشرک ازراہ تمسخر و تمرد بولا کہ اچھا جب یہ بات ہے کہ میں مر کر دوبارہ آسکتا ہوں تو جبھی آنا اور قرضہ چکانا۔ میں تو اس وقت بھی صاحب مال و اولاد ہوں گا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 76–86

(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-82 ایسا ہرگز نہیں ہوگا بلکہ وہ معبود تو قیامت میں ان مشرکوں کی عبادت ہی سے انکار کردیں گے۔ اور وہ معبودان باطلہ ان مشرکوں کے مخالف اور دشمن ہوجائیں گے۔ یعنی جن کی پرستش کیا کرتے تھے وہ مدد تو کیا خاک کرتے اور عزت تو کیا نصیب ہوتی ان کے طرز عمل سے اور ذلت و روسائی ہو گیوہ ان کی پرستش کا ہی انکار کریں گے کہ ہم تو ان کو جانتے بھی نہیں کیسی عبادت ان کنا عن عبادتکم لغافلین اور مزید برآں وہ ان مشرکوں سے لڑنے کو تیار ہوجائیں گے اور ان کے دشمن اور سخت مخالف ہوجائیں گے۔ واذا حشر الناس کانوا لھم اعداء وکانوا بعبادتھم کافرین غیروں کی عبادت کا ان مشرکوں کو یہ صلہ ملے گا کہ جن سے عزت و نصرت کی امید…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–87

ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز نہیں ‘ وہ ان کی عبادت سے کھلا انکار کردیں گے ‘ وقت آنے دو : 82۔ فرمایا یہ خیالی پلاؤ پکانے والی شیخ چلی ہیں اور ان کا یہ زعم بالکل باطل ہے اور ان احمقوں کی یہ آرزو قطعا پوری نہیں ہوگی اور ان کے یہ معبود جن کو انہوں نے بزعم خویش تصور کیا تھا قیامت کے روز کھلے میدان میں ان کے سامنے ان کی اس عبادت کرنے کا انکار کریں گے اور صاف صاف ان کو کہیں گے تم بالکل جھوٹے ہو ہماری عبادت تم نے کب کی اور ہم نے تم کو اپنی عبادت کا کب کہا ؟ یہ بات عیسائیوں سے بھی پوچھی جائے گی جس کا ذکر پیچھے سورة مائدہ کی آیت 116 ، 117 میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ملاحظہ ہو۔ تفسیر عروۃ الوثقی جلد سوم ، دوسرے مشرکین سے بھی کہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا "And they will be just the opposite for them" - 19:82. The idols and the false gods whom the infidels worshipped in the hope of winning their help will turn against them on the Day of Judgment. God will grant speech to them and they will say, "0 God! Finish these sinners because they turned away from you and made us the objects of their worship."

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–83

50. That is, they will say: We never asked them to worship us nor were we aware that these foolish people were worshiping us.

Read the full tafseer →