Explained with ayahs 81–84
اللہ تعالیٰ کے سوا معبود۔
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہوجائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں۔ کلا کی دوسری قرأت کل بھی ہے خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 49
اصل میں لفظ عزا استعمال ہوا ہے، یعنی وہ ان کے لیئے سبب عزت ہوں۔ مگر عزت سے مراد عربی زبان میں یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اس کی حمایت پر ہو جس کی وجہ سے اس کا کوئی مخالف اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ ، یعنی جس مال اور اولاد کا یہ ذکر کر رہا ہے آخرت میں ملنے کا معاملہ تو بہت دور ہے دنیا میں بھی جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے اس کو بھی چھوڑنا پڑے گا اور اس کے وارث آخر کار ہم ہوں گے یعنی یہ مال و اولاد اس سے چھین کر بالآخر اللہ کی طرف لوٹ جائے گا۔
وَيَاْتِيْنَا فَرْدًا، اور قیامت کے روز یہ اکیلا ہمارے دربار میں حاضر ہوگا نہ کوئی اولاد ساتھ ہوگی نہ مال۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تفسیر آیات 81 تا 82: وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا (81) كَلا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا
ان مشرکین کا سب سے بڑا سہارا ان کے معبودان باطل تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ اگر خدا کے ہاں حاضر اور حساب کتاب کا کوئی مرحلہ آیا تو ان کے یہ معبود اپنے زور و اثر سے ان کو بچا ہی لیں گے۔ خصوصاً فرشتوں کی سفارش پر ان کو بڑا اعتماد تھا۔ ان کو وہ خدا کی چہیتی بیٹیاں گمان کرتے تھے اور اس خیال سے ان کی پوجا کرتے تھے کہ خدا ان کی بات نہیں ٹال سکتا۔ یہ دنیا میں بھی ان کو اپنے باپ سے سفارش کر کے ان کو رزق اور اولاد دلواتی ہیں اور اگر مرنے کے بعد بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
82۔ 1 عِزًّا کا مطلب ہے یہ معبود ان کے لئے عزت کا باعث اور مددگار ہوں گے اور ضِدًّا کے معنی ہیں، دشمن، جھٹلانے والے اور ان کے خلاف دوسروں کے مددگار۔ یعنی یہ معبود ان کے گمان کے برعکس ان کے حمایتی ہونے کی بجائے، ان کے دشمن، ان کو جھٹلانے والے اور ان کے خلاف ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–95
36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…
Read the full tafseer →یہ لوگ جو آیات الہیہ کا انکار کرتے ہیں ‘ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو الہٰ بناتے ہیں اور انکے ہاں اپنی عزت بناتے ہیں اور انہیں سے غلبہ اور نصرت مانگتے ہیں اور ان میں سے بعض لوگ تو ملائل کہ کی بندگی کرتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو جنوں کی پرستش کرتے ہیں ‘ ان سے نصرت طلب کرتے ہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا ‘ عنقریب وہ سب معبود ان سب کی عبادت ‘ بندگی اور پکارنے کا انکار کریں گے۔ ان کے اس فعل سے نفرت کریں گے اور اللہ کے سامنے ان سے پانی برائت کا اظہار کریں گے۔
Read the full tafseer →4 یعنی مال واولاد سے بڑھ کر اپنے جھوٹے معبودوں کی مدد کے امیدوار ہیں کہ وہ ان کو خدا کے ہاں بڑے بڑے درجے دلائیں گے۔ حالانکہ ہرگز ایسا ہونے والا نہیں۔ محض سودائے خام ہے جو اپنے دماغوں میں پکا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 81 وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَہُمْ عِزًّا ”
ان کا خیال ہے کہ ان کے یہ معبود ان کے لیے پشت پناہ ثابت ہوں گے اور انہیں اللہ کے عذاب سے چھڑا لیں گے۔
Read the full tafseer →74 عزکا لغوی مفہوم :۔ لفظ عز کا معنی یہ ہے کہ ان کے معبود ان کے لئے سبب عزت بن جائیں گے اور عزت سے مراد عربی زبان میں کسی شخص کا ایسا طاقتور اور بالا دست ہونا ہے جس پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔ ( ضد ذلت) اور ان کے معبودوں کا ان کے لئے سبب عزت ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ان کی حمایت پر ہوں گے جس کی وجہ سے ان کا کوئی مخالف ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے گا۔
Read the full tafseer →115۔ (دنیا میں اس طرح کی ان کی حاجتیں اور مرادیں پوری کریں، اور آخرت میں اس طرح کہ ان کی شفاعت کریں) مشرکین کا ایک طبقہ بعث بعد الموت کا اور اپنے دیوتاؤں کی شفاعت کا قائل تھا، باقی اگر (آیت) ” عزا “۔ کا مفہوم صرف دنیوی مدد ونصرت تک محدود رکھا جائے تو آیت کا مضمون سارے ہی مشرکین پر صادق آئے گا۔ بڑی غرض اس پوجا پاٹ سے ہر قوم کے مشرکوں کی یہی ہوتی ہے کہ ہم بیماری سے اچھے ہوجائیں، مقدمہ میں کامیاب ہوجائیں، جنگ جیت جائیں، روپیہ خوب ملنے لگے وقس علی ھذا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان آیات کے ذریعہ جن کو ان پر نازل کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تو وہ وہ طاعات ہیں جو طاعت گزار کے لئے باقی رہتی ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں یعنی وہ ثواب اور اجر جو اس کو حاصل ہوگا وہ بہتر ہوگا بخلاف اعمال کفار کے اور یہاں (اسم تفضیل) خیر کا استعمال ان کے قول اَیُّ الفریقین خیرٌ مقامًا کے مقابلہ میں ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ؟ جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ عاص ابن وائل ہے جس سے (حضرت) خباب ابن ارت نے کہا تھا کہ تو مرنے کے بعد (زندہ…
Read the full tafseer →واتخذوا من دون اللہ الہۃ لیکونوا لہم عزا۔ اور ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود تجویز کر رکھے
ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (عنداللہ) باعث عزت ہوں۔
اِتَّخَذُوْا کی ضمیر کفار قریش کی طرف راجع ہے آلہۃ سے بت مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ کفار قریش بتوں کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں ان بتوں کی سفارش یا وسیلہ سے ان کو عزت حاصل ہوجائے اور بت ان کی مدد کریں۔
Read the full tafseer →(81) اور یہ کفار مکہ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہیں تاکہ یہ بت ان کی عذاب الہی سے حفاظت کریں۔
Read the full tafseer →وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً۔۔ : حشر و نشر کے بیان کے بعد اب ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی نفی ہے، خواہ انسان ہوں یا فرشتے یا جن یا بت یا آستانے یا قبریں۔ یعنی اللہ کے سوا انھوں نے اس لیے معبود بنا رکھے ہیں کہ ضرورت اور حاجت کے وقت اللہ تعالیٰ سے سفارش کرکے کام کروا سکیں، مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے کہہ کر اسے ٹال دیں، یا وہ موت اور قیامت کے وقت ان کو عذاب سے بچا لیں اور اس طرح وہ ان کے لیے قوت و عزت کا باعث بن جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة یونس (18) اور سورة زمر (3) میں مشرکین کا یہی عقیدہ بیان فرمایا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(تفسیر 81-82) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتخذوا من دون اللہ الھۃ لیکونوا لھم عزا۔ اس سے مراد مشرکین ہیں۔ عزا اس کا معنی ہے مددگار اور محافظ، یعنی اولاد، العز موسلا دھار بارش کو بھی کہتے ہیں ؛ یہ ہر وی کا قول ہے۔ کلام کا ظاہر یہ ہے کہ عزاً ان بتوں کی طرف راجع ہے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے۔ اور اس کو واحد ذکر فرمایا کیونکہ یہ مصدر کے معنی میں ہے یعنی تاکہ وہ اس کے ساتھ عزت پائیں اور ان کے ذریعے اللہ کے عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کلا، معاملہ اس طرح نہیں جس طرح انہوں نے گمان کیا بلکہ وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے یعنی وہ انکار کریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ ہم اس کے مال اور اس کی اولاد کے وارث ہوں گے۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ ہم اس کے مال اور اس کی اولاد کے وارث ہوں گے اور جس شخص نے یہ گستاخی کی تھی وہ عاص بن وائل تھا۔
3:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ جو کچھ اس کے پاس ہے ہم اس کے وارث ہوں گے اور اس کا قول ہے (آیت) ” لاوتین مالاو ولدا “ (کہ میں ضرور مال اور اولاد دیا جاوں گا) اور ابن مسعود ؓ کے قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ونرثہ…
Read the full tafseer →[وَاتَّخَذُوْا : اور انھوں نے بنائے ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [اٰلِهَةً : کچھ الٰہ ] [لِيَكُوْنُوْا : تاکہ وہ ہوجائیں ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [عِزًّا : ایک پناہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
جنھوں نے غیر اللہ کی پرستش کی ان کے معبود اس بات کا انکار کریں گے کہ ہماری عبادت کی گئی اور اپنے عبادت کرنے والوں کے مخالف ہوجائیں گے
معبود حقیقی وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر جن لوگوں نے دوسرے معبود بنا لیے ہیں وہ یوں سمجھتے ہیں کہ یہ باطل معبود ہمارے لیے عزت کا باعث ہیں ان کی طرف منسوب ہونا ہمارے لیے فخر ہے جیسا کہ ابو سفیان نے غزوہ احد کے موقع پر فخر ظاہر کرتے یوں کہا تھا لنا عزی ولا عزی لکم (ہمارے لیے عزیٰ بت ہے اور تمہارے لیے عزیٰ نہیں ہے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو یہ جواب دے دو اللہ مولانا ولا مولی لکم (اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی مولیٰ نہیں) مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا
(ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔
نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →56:۔ یہ زجر ہے۔ ” عِزًّا “ سے مراد اعوان و انصار ہیں۔ جو دنیا وآخرت کے ہر میدان میں ان کے کام آئیں۔ ای لیعتزوا بالھتھم و یکونوا لھم شفعاء و انصارا ینقذونھم من العذاب (مدارک ج 3 ص 35) ۔ اس آیت میں مشرکین کے شرک کی اصل غرض وغایت بیان فرما دی کہ انہوں نے اللہ کے سوا جو معبود بنا رکھے ہیں اور جن کی عبادت کرتے اور جن کے نام کی نذریں منتیں دیتے ہیں اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان کی مدد کریں اور خدا کے یہاں ان کی سفارش کریں۔ یہ اس حصے کی مرکزی آیت ہے اور اس میں سورت کی ایک خصوصیت کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا جو اہل ایمان کو طعن دیتے تھے اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے پاس زندگی کا سارا سازو سامان ہے جب کہ مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں ہمارے گھر بہتر ہیں ، اور ہماری مجلسیں اچھی ہیں ، نوکر چاکر ہیں اور پشت پر دوست احباب ہیں ، پھر وہ اہل ایمان سے کہتے کہ بتاؤ ہماری حالت اچھی ہے یا تمہاری ، اللہ نے ایسے بیہودہ خیالات کا رد فرمایا اور اس کا الزامی اور حکیمانہ جواب بھی دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے ہدایت کے سامان کی زیادتی کا ذکر فرمایا ، اور باقی رہنے والی نیکیوں کے اچھے بدلے کا تذکزہ فرمایا اب آج کی آیات…
Read the full tafseer →وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اٰلِہَۃً لِّيَكُوْنُوْا لَہُمْ عِزًّا 81ۙ
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَہُمْ عِزًّا۔ کَلَّاط سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًّا۔ (مریم : 81، 82)
(اور انھوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے پشت پناہ بنیں۔ ہرگز نہیں، وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے دشمن ہوجائیں گے۔ )
مشرکین کا معبودانِ باطل پر اعتماد
مشرکین نے قیامت کے بارے میں جو غلط تصورات بنا رکھے تھے اور اسی طرح دنیوی مشکلات پر قابو پانے کے لیے جو سہارے تراش رکھے تھے ان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے علاوہ کچھ اور بھی معبود بنا رکھے ہیں جن کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کرنے کا بنیادی سبب یہ ہوتا ہے کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ کو کارساز، خود مختار اور ایک جاننے کی بجائے دوسروں کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے مشرک اور کافر اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے سامنے ہاتھ جوڑتے، جھکتے، سجدے کرتے اور نذ ونیاز پیش کرتے ہیں۔ ذات کبریا کا اصل نام ” اللہ “ ہے اس کا متبادل نام الٰہ ہے۔ جو متبادل نام ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تمام بڑی بڑی صفات کا ترجمان ہے۔ اس کا ایک معنٰی حاجت روا، مشکل کشا ہے۔ (النمل : 62)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اس بات سے منع کیا ہے کہ لوگو ! اللہ کے سوا نہ کسی کی عبادت کرو اور نہ کسی کو پکارو اور نہ…
Read the full tafseer →81: وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ٰالِھَۃً (اور انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود تجویز کر رکھے ہیں) یعنی ان مشرکین نے بت بنائے ہوئے ہیں جن کی یہ پوجا کرتے ہیں : لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزًّا ( تاکہ ان کو عزت حاصل ہو) یعنی وہ اپنے الٰہوں کے ذریعے عزت حاصل کریں۔ اور وہ معبود ان کیلئے سفارشی اور معاون بن جائیں اور وہ ان کو عذاب سے چھڑا لیں۔
Read the full tafseer →81۔ واتخذوا من دون اللہ آلھہ، ، اس سے مراد مشرکین قریش ہیں جنہوں نے بتوں کو اپنا معبود بنارکھا ہے۔ ،، لیکونوالھم عزا، ، ان کو روکنے والے ، یہ لوگ ان بتوں کی اس وجہ سے پوجا کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کو سفارشی بنایا ہوا ہے کہ قیامت کے دن یہ بت ان کے گمان کے مطابق ان کی سفارش کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
77۔ 82:۔ صحیح بخاری ومسلم میں خباب بن ارت ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس میں خباب ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں کے ایک شخص عاص بن وائل پر میرا کچھ قرضہ آتا تھا میں جب اپنا قرضہ مانگنے کو اس کے پاس گیا تو اس نے کہا ادا کردوں گا، عاص بن دائل نے یہ سن کر کہا کہ اگر مر کر پھر جان سچ ہے تو تم مسلمانوں کے عقیدہ کے موافق وہاں جنت میں میرے پاس مال و اولاد سب کچھ ہوگا پھر وہیں میں تمہارا قرضہ ادا کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے ان منکرین قرآن کا حال دیکھا اور ان کی باتیں سنیں کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
آیت 81
یہ کفار کی سزا ہے۔ اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی، تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کردیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کردیا۔ وہ انہیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں، انہیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں، ان پر القاء کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہوجاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
90 مشرکوں کے اس مشرکانہ زعم و گھمنڈ کی صریح تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا بلکہ فیصلے کے اس روز وہ ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے "۔ اور ان کے دشمن بن جائیں گے۔ اور ان کی پوجا پاٹ کا وہ صاف وصریح طور پر انکار کردیں گے ۔ { ویکونون علیہم ضدا } ۔ نیز جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَائً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتَہِمْ کَافِرِیْنَ } ۔ (الاحقاف : 6) ۔ تب ان لوگوں کی حسرت دیکھنے کے قابل ہوگی کہ زندگی بھر کے تمام سہارے اس وقت ٹوٹ چکے ہوں گے۔ سو کتنا کرم و احسان ہے ہم پر اور پوری بنی نوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–82
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…
Read the full tafseer →ف 1 انکار اس معنی میں کرینگے کہ وہ کہیں گے ہم نے کبھی ان سے نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ وہ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(19:81) عزا۔ عزت۔ قوت۔ دبدبہ۔ مدد۔ عز یعزکا مصدر ہے۔ جس کے معنی قوی ہونے کے ہیں۔ لیکونوا لہم عزا۔ کہ وہ ان کے لئے باعث قوت و باعث مدد بن سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 87
توز وہ ابھارتا ہے۔ از ابھارنا، ہلانا۔ نعد ہم گن رہے ہیں۔ عد گنتی۔ وفد مہمان بنانا۔ نسوق ہم چلائیں گے۔ ورد پیاسا۔ عھد عہد، وعدہ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 87
ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
(1) پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور بہت سے معبود گھڑ رکھے ہیں تاکہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے ان کو عزت و سربلندی کے مقام پر بٹھائیں گے ان کی حمایت کریں گے، کوئی مصیبت پڑی تو وہ ان کو بچا لیں گے فرمایا کہ یہ جھوٹے معبود تمہاری عزت و سربلندی کا ذریعہ نہیں بلکہ تمہاری ذلت، رسوائی اور محرومی کا سبب بنیں گے کیونکہ وہ قیامت کے دن صاف انکار کردیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
شان نزول : بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت حباب بن ارت ؓ کا زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا۔ وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض ادا نہ کروں گا جب تک تم سید عالم محمد مصطفیٰ کے منکر نہ ہوجاؤ، اور کفر اختیار نہ کرو۔ خباب نے فرمایا :" ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے "۔ وہ کہنے لگا کہ کیا مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا، وہ کہنے لگا " ہاں !" ۔ عاص نے کہا :" تو پھر مجھے چھوڑیئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں، اور مجھے مال و اولاد ملے۔ جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا " اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ :" وہ جو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
[30] صحیحین میں یہ روایت آئی ہے کہ ایک صحابی کا قرضہ ایک مشرک کے ذمے باقی تھا۔ جب انہوں نے اس سے تقاضا کیا تو اس نے کہا کہ جب تک محمد ﷺ کی صداقت سے انکار نہ کروگے میں قرضہ نہ چکاؤں گا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہونے کا نہیں چاہے تو مر کر بھی زندہ ہوجائے۔ وہ مشرک ازراہ تمسخر و تمرد بولا کہ اچھا جب یہ بات ہے کہ میں مر کر دوبارہ آسکتا ہوں تو جبھی آنا اور قرضہ چکانا۔ میں تو اس وقت بھی صاحب مال و اولاد ہوں گا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–86
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…
Read the full tafseer →-8 1 اور ان دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ باطل معبود ان کے لئے باعث عزت اور موجب مدد ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔
Read the full tafseer →اللہ کے سوا انہوں نے مددگار بنارکھے ہیں تاکہ ان کی مدد کریں :
81۔ آج سے نہیں بلکہ شروع سے جب سے انسانیت نے اس دنیا میں قدم رکھا اور راہ راست سے بھٹکی تو اس نے ہمیشہ مالک حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کا سہارا تلاش کیا ‘ آخر ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ اصل مالک اس کو نظر نہ آیا اور بغیر دیکھے ماننے کے لئے وہ تیار نہ ہوئی ۔ اسلام کی زبان میں ایسے لوگوں کو مشرک کہا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوئے ، ایک ذات سے جب ان کا اعتماد ٹوٹا تو یہی تعلق انہوں نے مختلف جگہوں پر جوڑنے کی کوشش کی ، کہیں انہوں نے بت تراشے تو کہیں قبریں بنائیں پھر چل سو چل کا معاملہ ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ
"And We will inherit from him what he is talking about" - 19:80.
It is foolish of him to talk about retaining his wealth and children in the Hereafter because he will have to leave behind even these things which he possesses in this world, and his wealth and children will all revert to Allah Ta’ ala.
وَيَأْتِينَا فَرْدًا
"And he.will come to Us all alone" - 19:80.
And on the Day of Judgment he will appear in God's presence one without his wealth and his children.
Read the full tafseer →49. The Arabic word Izzan (from Izat) implies a powerful and strong person whom nobody may dare do any harm; here it means a person’s having such a strong supporter that no enemy or opponent of his may even cherish an evil intention against him.
Read the full tafseer →