Maryam 19:80

Maryam · from ayah 80

19:80

وَّنَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَیَاْتِیْنَا فَرْدًا ۟وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوۡلُ وَيَاۡتِيۡنَا فَرۡدًا

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We will inherit him [in] what he mentions, and he will come to Us alone.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:80

جس سر و سامان اور لاؤ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے۔ اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس (مال اور اولاد) کا یہ حوالہ دے رہا ہے، اس کے وارث ہم ہوں گے، اور یہ ہمارے پاس تن تنہا آئے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو چیزیں کہہ رہا ہے ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (مرنے کے بعد) جو یہ کہہ رہا ہے اس کے ہم ہی وارث ہوں گے اور وہ ہمارے پاس تنہا آئے گا (اس کے مال و اولاد ساتھ نہ ہوں گے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم اس کے وارث ہوں گے ان چیزوں میں جو یہ کہہ رہا ہے اور یہ اکیلا ہمارے پاس آئے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن باتوں کے متعلق یہ کہہ رہا ہے (مال اور اولاد) ان کے وارث تو ہم ہوں گے اور یہ اکیلا ہی ہمارے پاس آئے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن چیزوں کا وہ مدعی ہے اس کے وارث ہم بنیں گے اور وہ ہمارے پاس یکہ و تنہا حاضر ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن کا یہ (اس قدر فخر و غرور سے) ذکر کرتا ہے، اور اسے تن تنہا ہمارے پاس آنا ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کی کہی ہوئی کی ہم ہی مالک رہ جائیں گے۔ اور وہ ہمارے پاس تنہا آئے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم وارث ہوں گے اس سب کچھ کے جس کا وہ ذکر کر رہا ہے اور وہ آئے گا ہمارے پاس اکیلاہی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and We shall inherit all the resources and hosts of which he boasts, and he will come to Us all alone.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We will inherit from him what he is talking about, and he will come to Us all alone.

— Muhammad Taqi Usmani

And We will inherit from him what he is talking about, and he will come to Us all alone.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We shall inherit from him all that he speaks of, and he shall come to Us alone.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We shall inherit from him that whereof he spake, and he will come unto Us, alone (without his wealth and children).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We will inherit him [in] what he mentions, and he will come to Us alone.

— Saheeh International

All that he speaks of will belong to Us, and he will come into Our presence all alone.

— Muhammad Sarwar

And We will inherit of him what he says, and he shall come to Us alone.

— Muhammad Habib Shakir

And We shall inherit from him that whereof he spake, and he shall come to us alone. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

To Us shall return all that he talks of and he shall appear before Us bare and alone.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–80

عیار مقروض اور حضرت خباب۔ حضرت خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد ﷺ کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 79–80

سورة مَرْیَم 48 یعنی اس کے جرائم کے ریکارڈ میں اس کا یہ کلمہ غرور بھی شامل کرلیا جائے گا اور اس کا مزا بھی اسے چکھنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 80–81

وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ ، یعنی جس مال اور اولاد کا یہ ذکر کر رہا ہے آخرت میں ملنے کا معاملہ تو بہت دور ہے دنیا میں بھی جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے اس کو بھی چھوڑنا پڑے گا اور اس کے وارث آخر کار ہم ہوں گے یعنی یہ مال و اولاد اس سے چھین کر بالآخر اللہ کی طرف لوٹ جائے گا۔ وَيَاْتِيْنَا فَرْدًا، اور قیامت کے روز یہ اکیلا ہمارے دربار میں حاضر ہوگا نہ کوئی اولاد ساتھ ہوگی نہ مال۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 79–80

تفسیر آیت 79 تا 80: كَلا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا (79) وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا (80) تردید غضب کے لہجہ میں : یہ غضب کے لہجے میں اس زعم باطل کی تردید ہے۔ فرمایا کہ ہم اس کی بکواس کو بھی نوٹ کر رکھیں گے اور اس کی پاداش میں بھی اس کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔ یعنی کفر و تکذیب کی جو سزا ملنی ہے وہ تو ملے ہی گی اس میں مزید اضافہ اس مغرورونہ ادعاء کے سبب سے بھی ہوجائے گا۔ نَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا، یعنی ان تمام چیزوں کے، جن کا یہ مدعی ہے اور جن پر اس کو فخر و ناز ہے، مالک و وارث ہم ہوں گے اور یہ قیامت کے دن ہمارے حضور میں تنہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 77–80

80۔ 1 ان آیات کی شان نزول میں بتلایا گیا ہے۔ کہ حضرت عمرو بن العاص ؓ کے والد عاص بن وائل، جو اسلام کے شدید دشمنوں میں سے تھا۔ اس کے ذمے حضرت خباب بن ارت کا قرضہ تھا جو آہن گری کا کام کرتے تھے۔ حضرت خباب ؓ نے اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہیں کرے گا میں تجھے تیری رقم نہیں دونگا۔ انہوں نے کہا یہ کام تو، تو مر کر دوبارہ زندہ ہوجائے تب بھی نہیں کرونگا۔ اس نے کہا اچھا پھر ایسے ہی سہی، جب مجھے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا اور وہاں بھی مجھے مال واولاد سے نوازا جائے گا تو میں وہاں رقم ادا کر دونگا (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو دعویٰ کر رہا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 77–80

35: صحیح بخاری میں حضرت خباب بن ارت ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ میں نے مکہ مکرمہ میں لوہار کا پیشہ اختیار کر رکھا تھا اور (اسی سلسلے میں) میرے کچھ پیسے مکہ مکرمہ کے ایک کافر سردار عاص بن وائل کے ذمے واجب ہوگئے تھے۔ میں اس سے اپنا حق مانگنے کے لیے گیا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ : میں تمہارے پیسے اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد ﷺ کو نہ جھٹلاؤ۔ میں نے کہا کہ تم مر کر دوبارہ زندہ ہوجاؤ تب بھی میں محمد ﷺ کو جھٹلا نہیں سکتا۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا۔ اچھا جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس بہت سا مال اور اولاد ہوگی، اس وقت میں تمہارے پیسے ادا کردوں گا۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ونرثہ مایقول (91 : 08) ” جس سرو سامان اور لائو لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا “۔ یہ جو مال واولاد چھوڑے گا اسے ہم اس طرح لے لیں گے جس طرح وارث اپنی موروثہ اشیاء کو لے لیتا ہے۔ ویاتینا فردا (91 : 08) ” یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا “۔ اس کے پاس نہ مال ہوگا ‘ نہ اولاد ہوگی اور نہ کوئی مدد گار ہوگا ‘ نہ کوئی سند و ثبوت ہوگا۔ یہ اکیلا ‘ ضعیف و ناتواں ہمارے سامنے ہوگا۔ تو کیا تو نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتا ہے ‘ وہ اس دن کے ساتھمذاق کرتا ہے جس دن یہ تہی دست ہوگا۔ اس دنیا میں اس کے تمام مملوکات اس کے ہاتھ سے چلے جائیں گے۔ یہ شخص ہے نمونہ کفر اور مثال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 " جو بتلا رہا ہے " یعنی مال اور اولاد۔ چناچہ اس کافر کے دونوں بیٹے مسلمان ہوئے (کذافی الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ یہ چیزیں اس سے الگ کرلی جائیں گی۔ قیامت میں اکیلا حاضر ہوگا نہ مال کام آئے گا نہ اولاد ساتھ دے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80 وَنَرِثُہٗ مَا یَقوْلُ وَیَاْتِیْنَا فَرْدًا ” اس کا دنیوی مال و متاع تو سب ہماری وراثت میں آجائے گا اور جب اسے ہماری عدالت میں پیش ہونے کے لیے لایا جائے گا تو وہ بالکل یکہ و تنہا ہوگا۔ مال و اولاد ‘ خدم و حشم ‘ قوم و قبیلہ ‘ ہم مشرب و حاشیہ نشین وغیرہ میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

73 یعنی جس مال و دولت کی یہ اب بات کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ یہیں دنیا میں ہی دھرا رہ جائے گا اور با لآخر یہ سب کچھ ہماری ہی ملکیت میں آجائے گا اور یہ شخص بالکل خالی ہاتھ ہمارے پاس حاضر ہوگا۔ البتہ اس کے گستاخانہ کلمات اور بدکرداریاں ضرور اس کے ساتھ آئیں گی۔ جن کی اسے قرار واقعی سزا ملے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 78–80

113۔ یعنی وہ منکر تو دنیا سے گزر جائے گا، اور اس کا اختیار نہ مال پر رہ جائے گا نہ اولاد پر۔ ہم ہی سب چیزوں کے مالک رہیں گے۔ 114۔ یعنی مال واولاد سب سے معری، بےسازوسامان، بےیارو مددگار۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 76–82

آیت نمبر 76 تا 82 ترجمہ : اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان آیات کے ذریعہ جن کو ان پر نازل کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تو وہ وہ طاعات ہیں جو طاعت گزار کے لئے باقی رہتی ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں یعنی وہ ثواب اور اجر جو اس کو حاصل ہوگا وہ بہتر ہوگا بخلاف اعمال کفار کے اور یہاں (اسم تفضیل) خیر کا استعمال ان کے قول اَیُّ الفریقین خیرٌ مقامًا کے مقابلہ میں ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ؟ جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ عاص ابن وائل ہے جس سے (حضرت) خباب ابن ارت نے کہا تھا کہ تو مرنے کے بعد (زندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونرثہ ما یقول اور اس کی کہی ہوئی چیزوں کے ہم مالک رہ جائیں گے۔ یعنی جس مال و اولاد کی ملکیت کا یہ مدعی ہے اس کو ہلاک کر کے وہ مال و اولاد ہم اپنے قبضہ میں لے لیں گے۔ ویاتینا فردا۔ اور (قیامت کے دن) یہ ہمارے پاس تنہا آئے گا جو مال و اولاد دنیا میں اس کے پاس تھا وہ بھی قیامت کے دن اس کے ساتھ نہ ہوگا آخرت میں جدید مال و اولاد ملنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(80) اور جنت میں جن چیزوں کو یہ اپنے لیے کہہ رہا ہے اس کے ہم مالک رہ جائیں گے اور وہ ہم مومنین کو دیں گے اور یہ قیامت کے دن ہمارے پاس مال واولاد اور دیگر چیزوں سے تنہا ہو کر آئے گا، حضرت خباب بن ارت ؓ کا عاص بن وائل پر کچھ قرض تھا جس کے تقاضا پر اس نے ایسا کہا تھا اس کے متعلق یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۙوَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ : یعنی جس مال و اولاد پر یہ فخر کر رہا ہے اس کے ہلاک ہونے کے بعد ان سب کے وارث ہم بنیں گے، جیسا کہ اسی سورت میں ارشاد فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ) [ مریم : 40 ] ”بیشک ہم، ہم ہی اس زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔“ وَيَاْتِيْنَا فَرْدًا : یعنی قیامت کے دن جب ہمارے پاس آئے گا تو اس کے ساتھ نہ اولاد ہوگی، نہ مال اور نہ کوئی جتھا۔ دیکھیے سورة انعام (94)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 79–80

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کلا قرآن کے نصف اوّل میں کلا کا ذکر نہیں ہے۔ نصف ثانی میں اس کا ذکر آیا ہے۔ اس کے دو معانی ہیں۔ ایک اس کا معنی ہے حقاً اور دوسرا اس کا معنی ہے نہیں۔ جب یہ حقا کے معنی میں ہو تو اس کے ماقبل پر وقف جائز ہے پھر کلا سے آغاز ہوگا اور جب یہ لا کے معنی میں ہوگا تو کلا پر وقف جائز ہوگا جیسا کہ اس آیت میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نہیں معاملہ اس طرح نہیں ہے اور عھداً پر وقف جائز ہوگا جیسا کہ اس آیت میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نہیں معاملہ اس طرح نہیں ہے اور عھداً پر وقف کرنا اور کلا سے آغاز کرنا بھی جائز ہے یعنی کلا سنکتب ما یقول اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : لعلی اعمل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 80–82

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ ہم اس کے مال اور اس کی اولاد کے وارث ہوں گے۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ ہم اس کے مال اور اس کی اولاد کے وارث ہوں گے اور جس شخص نے یہ گستاخی کی تھی وہ عاص بن وائل تھا۔ 3:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ جو کچھ اس کے پاس ہے ہم اس کے وارث ہوں گے اور اس کا قول ہے (آیت) ” لاوتین مالاو ولدا “ (کہ میں ضرور مال اور اولاد دیا جاوں گا) اور ابن مسعود ؓ کے قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ونرثہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّنَرِثُهٗ : اور ہم وارث ہوں گے اس کے ] [مَا : اس چیز میں جو ] [يَقُوْلُ : وہ کہتا ہے ] [وَيَاْتِيْنَا : اور وہ آئے گا ہمارے پاس ] [فَرْدًا : تنہا ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 80–81

جنھوں نے غیر اللہ کی پرستش کی ان کے معبود اس بات کا انکار کریں گے کہ ہماری عبادت کی گئی اور اپنے عبادت کرنے والوں کے مخالف ہوجائیں گے معبود حقیقی وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر جن لوگوں نے دوسرے معبود بنا لیے ہیں وہ یوں سمجھتے ہیں کہ یہ باطل معبود ہمارے لیے عزت کا باعث ہیں ان کی طرف منسوب ہونا ہمارے لیے فخر ہے جیسا کہ ابو سفیان نے غزوہ احد کے موقع پر فخر ظاہر کرتے یوں کہا تھا لنا عزی ولا عزی لکم (ہمارے لیے عزیٰ بت ہے اور تمہارے لیے عزیٰ نہیں ہے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو یہ جواب دے دو اللہ مولانا ولا مولی لکم (اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی مولیٰ نہیں) مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–80

اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔ اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–80

55:۔ ” اَطَّلَعَ “ اصل میں ” ءَ اِطْتَلَعَ “ بروزن افتعل تھا۔ فائے افتعال کے مقابلے میں طاء واقعہ ہونے کی وجہ سے تائے افتعال کو طاء سے بدل دیا گیا۔ اور اول کو ثانی میں ادغام کردیا گیا۔ اور ہمزہ وصل مابین سے ساقط ہوگیا۔ تو ” اَطَّلَعَ “ ہوگیا۔ یعنی جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ اگر قیامت آئی تو اس وقت بھی اس کے پاس دولت بکثرت ہوگی۔ کیا وہ غیب جانتا ہے کہ اسے یہ بات معلوم ہے یا خدا سے اس نے کوئی اس بات کا عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی اس لیے اس کا دعوی غلط ہے۔ ” سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ “ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ہم اسے لکھوا رہی ہیں اور کفر و انکار کے علاوہ ہمارے احکام سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–82

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا جو اہل ایمان کو طعن دیتے تھے اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے پاس زندگی کا سارا سازو سامان ہے جب کہ مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں ہمارے گھر بہتر ہیں ، اور ہماری مجلسیں اچھی ہیں ، نوکر چاکر ہیں اور پشت پر دوست احباب ہیں ، پھر وہ اہل ایمان سے کہتے کہ بتاؤ ہماری حالت اچھی ہے یا تمہاری ، اللہ نے ایسے بیہودہ خیالات کا رد فرمایا اور اس کا الزامی اور حکیمانہ جواب بھی دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے ہدایت کے سامان کی زیادتی کا ذکر فرمایا ، اور باقی رہنے والی نیکیوں کے اچھے بدلے کا تذکزہ فرمایا اب آج کی آیات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّنَرِثُہٗ مَا يَقُوْلُ وَيَاْتِيْنَا فَرْدًا۝ 80 ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي : أصله وبقيّته، قال الشاعر : 461- فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ «3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن زيد، ووَرِثْتُ زيداً : قال تعالی: وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ [ النمل/ 16] ، وَوَرِثَهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 77–95

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 77–80

اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَبِاٰیٰـتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالاً وَّوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَعِنْدَالرَّحْمٰنِ عَہْدًا۔ کَلَّا ط سَنَکْتُبُ مَایَقُوْلُ وَنَمُدُّلَـہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا۔ وَّنَرِثُـہٗ مَایَقُوْلُ وَیَاْ تِیْنَا فَرْدًا۔ (مریم : 77، 78، 79، 80) (بھلا آپ نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیات کا منکر ہوا اور کہا کہ مجھے مل کر رہے گا مال اور اولاد۔ کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے۔ ہرگز نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔ اور جن چیزوں کا وہ مدعی ہے اس کے وارث ہم بنیں گے اور وہ ہمارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 77–80

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں کفر اور سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کی جا رہی تھی۔ جس میں یہ کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ظالموں کو مہلت دیتا ہے اس کے بعد مختصر طور پر ہدایت یافتہ لوگوں کا ذکر اور ان کے بہترین انجام کا بیان فرمایا۔ اب پھر کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ ذہن کی ترجمانی کی جا رہی ہے۔ کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ خیال رکھنے والا شخص یہ سوچتا ہے کہ جس طرح دنیا میں اسے نوازا گیا ہے اسی طرح ہی آخرت میں اسے نوازا جائے گا۔ مکہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو نہ صرف یہ ذہن رکھتے تھے بلکہ اس بات کا برملا اظہار کرتے تھے جس بنا پر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کیا آپ نے اس شخص کی گفتگو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80: وَّ نَرِثُہٗ مَایَقُوْلُ (اور ہم مالک رہ جائیں گے ان چیزوں کے جو وہ کہتا ہے ہم اس سے دور کردیں گے اس چیز کو جن کے پالینے کا آخرت میں یہ خیال کرتا ہے۔ اور مراد وہ چیز ہے جو یہ کہتا ہے یعنی مال اور اولاد۔ وَیَاْتِیْنَا فَرْدًا ( یہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا) نحو : یہ حال ہے یعنی بغیر مال اولاد کے آئے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ولقد جئتمونا فرادی ] الانعام : 94[ پس اس کا تمنا کرنا اور قسمیں اٹھانا کچھ کام نہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

80۔ ونرثہ مایقول ، ، ان کے پاس جو مال واولاد ہے اور جن کی ملکیت کا دعوی کررہے ہیں ہم اس کو ہلاک کرکے وہ مال واولاد ہم اپنے قبضہ میں کرلیں گے کیونکہ ان کا یہ گمان تھا کہ یہ مال واولاد ہمیں آخرت میں کام آئیں گے ۔ ہم نہ قیامت کے دن ان کو یہ مال عطا کری گے اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی کو دیں گے اور بعض نے کہا کہ ان کے اس قول کا معنی ، ونرثہ مایقول، ، کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں ہم اس کو اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں ۔ یہاںں تک کہ ہم ان کو بدلہ دیں گے۔ ویاتینا فردا، ، ان کو قیامت کے دن اکیلے اکیلے لائیں گے نہ تو ان کے پاس مال ہوگا اور نہ ہی اولاد۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–82

77۔ 82:۔ صحیح بخاری ومسلم میں خباب بن ارت ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس میں خباب ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں کے ایک شخص عاص بن وائل پر میرا کچھ قرضہ آتا تھا میں جب اپنا قرضہ مانگنے کو اس کے پاس گیا تو اس نے کہا ادا کردوں گا، عاص بن دائل نے یہ سن کر کہا کہ اگر مر کر پھر جان سچ ہے تو تم مسلمانوں کے عقیدہ کے موافق وہاں جنت میں میرے پاس مال و اولاد سب کچھ ہوگا پھر وہیں میں تمہارا قرضہ ادا کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے ان منکرین قرآن کا حال دیکھا اور ان کی باتیں سنیں کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 80 کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کردیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعویٰ کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے : (اطلع الغیب) ” کیا وہ غیب پر مطلع پر گیا ہے ؟ “ یعنی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

88 منکرین و متکبرین کے کبر و غرور پر ایک تازیانہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکر انسان کو تن تنہا ہمارے یہاں آنا ہوگا اور اس کے اس مال و دولت، اہل و اولاد اور پارٹی و گروہ میں سے کچھ بھی اس کے ساتھ نہیں ہوگا جس کا آج اس کو اس قدر گھمنڈ ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کس طرح قرآن کریم حق اور حقیقت کو پھیر پھیر کر صاف وصریح طور پر واضح کرتا اور بیان فرماتا ہے۔ مگر غافل انسان ہے کہ پھر بھی اس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ الاماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی مال و دولت جس کا مادہ پرست انسان کو بڑا زعم اور گھمنڈ ہے سب یہیں رہ جائے گا۔ کچھ بھی اس کے ساتھ نہیں جائے گا۔ اور اس کو خالی ہاتھ اور تنہا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–87

غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم) سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–82

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی قیامت کے دن جب اس کے پاس نہ مال ہوگا اور نہ اولاد (دیکھیے سورة کہف آیت 8)12 یعنی انکی سفارش کر کے اللہ کے عذاب سے ان کے بچائو کا سبب بنیں۔ مسئلہ حشر و نشر بیان کرنے کے بعد اب ان کے بتوں کی پرستش کی تردید ہے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:80) نرثہ مضارع جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب باب حسب یحسب سے۔ الوارثہ والارث کے معنی ہیں کسی چیز کا ایک شخص کی ملکیت سے نکل کر دوسرے کی ملکیت میں چلے جانا بلا بیع وشرائ۔ بلا ہبہ وغیرہ۔ اللہ کے وارث ہونے کا معنی ہے مالک حقیقی ہونا۔ اس کو ہر چیز پر ظاہری۔ باطنی۔ صوری اور حقیقی اختیار ہونا۔ جیسے آیا ہے وللہ میراث السموت والارض (3:180) اور اللہ ہی حقیقی مالک ہے آسمانوں کا اور زمین کا ونرثہ ما یقول۔ اور اس کی کہی ہوئی بات کے ہم ہی مالک رہ جائیں گے۔ یعنی جن مال واولاد کا وہ ذکر کر رہا ہے اس کے مرنے کے بعد ہی ان کے مالک رہ جائیں گے۔ ویاتینا فردا۔ اور وہ ہمارے پاس تنہا ہی آئے گا۔ یاتینا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 73–80

لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80 تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔ تشریح : آیت نمبر 73 تا 80 انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 77–82

شان نزول : بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت حباب بن ارت ؓ کا زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا۔ وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض ادا نہ کروں گا جب تک تم سید عالم محمد مصطفیٰ کے منکر نہ ہوجاؤ، اور کفر اختیار نہ کرو۔ خباب نے فرمایا :" ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے "۔ وہ کہنے لگا کہ کیا مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا، وہ کہنے لگا " ہاں !" ۔ عاص نے کہا :" تو پھر مجھے چھوڑیئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں، اور مجھے مال و اولاد ملے۔ جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا " اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ :" وہ جو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–83

[30] صحیحین میں یہ روایت آئی ہے کہ ایک صحابی کا قرضہ ایک مشرک کے ذمے باقی تھا۔ جب انہوں نے اس سے تقاضا کیا تو اس نے کہا کہ جب تک محمد ﷺ کی صداقت سے انکار نہ کروگے میں قرضہ نہ چکاؤں گا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہونے کا نہیں چاہے تو مر کر بھی زندہ ہوجائے۔ وہ مشرک ازراہ تمسخر و تمرد بولا کہ اچھا جب یہ بات ہے کہ میں مر کر دوبارہ آسکتا ہوں تو جبھی آنا اور قرضہ چکانا۔ میں تو اس وقت بھی صاحب مال و اولاد ہوں گا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 76–86

(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-80 اور یہ جس مال و اولاد کو کہتا ہے اس کے ہم وارث اور مالک ہوں گے اور وہ ہمارے حضور میں بغیر مال و اولاد کے تنہا اور اکیلا حاض رہو گا۔ یعنی جس مال و اولاد کے ملنے کا متوقع ہے اس مال و اولاد کے ہم مالک ہوں گے اور قیامت میں اس کے پاس نہ مال ہوگا اور نہ اولاد بلکہ یہ بدون مال و اولاد کے تنہا ہماری حضور میں حاضر ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جو بتاتا تھا یعنی مال اور اولاد اس کافر کے دونوں بیٹے مسلمان ہوئے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–87

ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن چیزوں پر وہ نازاں ہے ان سب کے وارث تو ہم ہیں ، کل بات کھل جائے گی : 80۔ جن چیزوں کے بل بوتے یہ ڈینگیں مار رہا ہے اس کو معلوم نہیں ‘ یہ اس کی ملکیت کب ہیں ؟ ان سب چیزوں کے وارث حقیقی تو ہم ہیں اور یہ عاریتا دی گئی چیزوں پر اس حد تک مفتون بیٹھا ہے ۔ آج جن چیزوں پر اس کو ناز ہے آنے والے کل ان میں سے ایک بھی اس کو نظر نہیں آئے گی اس لئے کہ یہ سب تو عاریتا اس کے پاس تھیں اور مانگے کی چیز پر فخر کرنا کسی عقل مند کا کام نہیں ہوسکتا ، یہ دنیا فانی ہے اور یہاں اسے آخرت کو بنانے کے لئے لایا گیا تھا اور اس کو اس نے بھلا دیا اور جب یہ آخرت سے دوچار ہوگا تو نہ اس کے ساتھ اس کا سروسامان ہوگا اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–81

وَنَرِ‌ثُهُ مَا يَقُولُ "And We will inherit from him what he is talking about" - 19:80. It is foolish of him to talk about retaining his wealth and children in the Hereafter because he will have to leave behind even these things which he possesses in this world, and his wealth and children will all revert to Allah Ta’ ala. وَيَأْتِينَا فَرْ‌دًا "And he.will come to Us all alone" - 19:80. And on the Day of Judgment he will appear in God's presence one without his wealth and his children.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 79–80

48. That is, the boastful words of his shall also be included in the record of his crimes and he shall have to bear the consequences of his arrogant claim.

Read the full tafseer →