Explained with ayahs 77–80
عیار مقروض اور حضرت خباب۔
حضرت خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد ﷺ کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
سورة مَرْیَم 48
یعنی اس کے جرائم کے ریکارڈ میں اس کا یہ کلمہ غرور بھی شامل کرلیا جائے گا اور اس کا مزا بھی اسے چکھنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
قرآن کریم نے اس احمق کے جواب میں فرمایا کہ اسے یہ کیسے معلوم ہوا کہ دوبارہ زندہ ہونے کے وقت بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہوں گے، اَطَّلَعَ الْغَيْبَ ، کیا اس نے غیب کی باتوں کو جھانک کر معلوم کرلیا ہے، اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا، یا اللہ رحمٰن سے اس نے مال و اولاد کے لئے کوئی عہد اور وعدہ لے لیا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی بات ہوئی نہیں۔ پھر اس نے یہ خیال کیسے پکا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
تفسیر آیت 79 تا 80: كَلا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا (79) وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا (80)
تردید غضب کے لہجہ میں : یہ غضب کے لہجے میں اس زعم باطل کی تردید ہے۔ فرمایا کہ ہم اس کی بکواس کو بھی نوٹ کر رکھیں گے اور اس کی پاداش میں بھی اس کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔ یعنی کفر و تکذیب کی جو سزا ملنی ہے وہ تو ملے ہی گی اس میں مزید اضافہ اس مغرورونہ ادعاء کے سبب سے بھی ہوجائے گا۔ نَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا، یعنی ان تمام چیزوں کے، جن کا یہ مدعی ہے اور جن پر اس کو فخر و ناز ہے، مالک و وارث ہم ہوں گے اور یہ قیامت کے دن ہمارے حضور میں تنہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
80۔ 1 ان آیات کی شان نزول میں بتلایا گیا ہے۔ کہ حضرت عمرو بن العاص ؓ کے والد عاص بن وائل، جو اسلام کے شدید دشمنوں میں سے تھا۔ اس کے ذمے حضرت خباب بن ارت کا قرضہ تھا جو آہن گری کا کام کرتے تھے۔ حضرت خباب ؓ نے اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہیں کرے گا میں تجھے تیری رقم نہیں دونگا۔ انہوں نے کہا یہ کام تو، تو مر کر دوبارہ زندہ ہوجائے تب بھی نہیں کرونگا۔ اس نے کہا اچھا پھر ایسے ہی سہی، جب مجھے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا اور وہاں بھی مجھے مال واولاد سے نوازا جائے گا تو میں وہاں رقم ادا کر دونگا (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو دعویٰ کر رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
35: صحیح بخاری میں حضرت خباب بن ارت ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ میں نے مکہ مکرمہ میں لوہار کا پیشہ اختیار کر رکھا تھا اور (اسی سلسلے میں) میرے کچھ پیسے مکہ مکرمہ کے ایک کافر سردار عاص بن وائل کے ذمے واجب ہوگئے تھے۔ میں اس سے اپنا حق مانگنے کے لیے گیا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ : میں تمہارے پیسے اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد ﷺ کو نہ جھٹلاؤ۔ میں نے کہا کہ تم مر کر دوبارہ زندہ ہوجاؤ تب بھی میں محمد ﷺ کو جھٹلا نہیں سکتا۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا۔ اچھا جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس بہت سا مال اور اولاد ہوگی، اس وقت میں تمہارے پیسے ادا کردوں گا۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئی…
Read the full tafseer →کلا سنکتب۔۔۔۔۔۔ مدا (91 : 97) ” ہر گز نہیں ‘ جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لئے سزا میں اور اضافہ کریں گے “۔ یعنی وہ جو کچھ کہتا ہے اسے لکھیں گے کہ یوم الحساب کے لئے حسب معمول اس کا ریکارڈ تیار ہوتا کہ نہ وہ بھولے اور نہ مغالتہ ہو ‘ یہ تہدید اور ڈراوی کی نہایت ہی بہتر ین تصویر کشی ہے۔ حالانکہ مغالطہ تو وہاں ہو نہیں سکتا۔ اللہ کا علم تو نہ صغیرہ کو چھوڑتا ہے اور نہ کبیرہ کو۔ یعنی ہم اس کے عذاب کو طویل و عریض کرتے چلے جائیں گے۔ اس میں کوئی کمی اور کوئی انقطاع نہ ہوگا۔ مزید ڈر اور اتصویر کشی کے انداز میں ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →2 یعنی یہ قول بھی شامل مسل کرلیا جائے گا۔ اور مال و اولاد کی جگہ اس کی سزا بڑھا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →آیت 79 کَلَّاطسَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ ”
ہم ایسے شخص کی ایک ایک بات کو لکھ کر محفوظ کرلیں گے تاکہ اس سے پوری طرح جوابدہی کی جاسکے۔
Read the full tafseer →72 یعنی اس کے نامہ اعمال میں اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ضرور درج کرلیا جائے گا اور اس کے گناہوں کی سزا پر اس کی اس جسارت کے گناہ کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
113۔ یعنی وہ منکر تو دنیا سے گزر جائے گا، اور اس کا اختیار نہ مال پر رہ جائے گا نہ اولاد پر۔ ہم ہی سب چیزوں کے مالک رہیں گے۔
114۔ یعنی مال واولاد سب سے معری، بےسازوسامان، بےیارو مددگار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان آیات کے ذریعہ جن کو ان پر نازل کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تو وہ وہ طاعات ہیں جو طاعت گزار کے لئے باقی رہتی ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں یعنی وہ ثواب اور اجر جو اس کو حاصل ہوگا وہ بہتر ہوگا بخلاف اعمال کفار کے اور یہاں (اسم تفضیل) خیر کا استعمال ان کے قول اَیُّ الفریقین خیرٌ مقامًا کے مقابلہ میں ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ؟ جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ عاص ابن وائل ہے جس سے (حضرت) خباب ابن ارت نے کہا تھا کہ تو مرنے کے بعد (زندہ…
Read the full tafseer →کلا ہرگز نہیں ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
سنکتب ما یقول ونمد لہ من العذاب مدا۔ ہم اس کا کہا ہوا لکھ لیتے ہیں اور اس کے لئے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔
ایک شبہ ہر بات جو منہ سے نکلتی ہے فوراً لکھ لی جاتی ہے اللہ نے فرمایا ہے مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ الاَّ لَدَیْہ رَقیْبٌ عَتِیْدٌ۔ لیکن اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عاص بن وائل نے جو بات حضرت خباب سے کہی تھی اللہ اس کو آئندہ لکھے گا۔
ازالہ لکھنے سے مراد ہے محفوظ رکھنا نظر انداز نہ کردینا یا اس امر کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہم نے اس کا قول لکھ لیا ہے یا اس کی بات کا انتقام لینا مقصود ہے بہرحال محفوظ رکھیں گے یا اس بات کو ظاہر کریں گے کہ ہم نے تیری کہی ہوئی…
Read the full tafseer →(79) ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا جو یہ بکتا ہے، ہم اس کا یہ جھوٹ بھی لکھے لیتے ہیں اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →”كَلَّا“ یہ لفظ انکار اور ڈانٹ کے لیے آتا ہے، یعنی یہ دونوں باتیں ہرگز نہیں ہیں، تو پھر ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ اس نے اپنے پاس سے ایک جھوٹی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دی ہے۔ یہاں سورة مریم میں اس تیسری بات کا ذکر نہیں، کیونکہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے یہ بات گزر چکی ہے اور قرآن کی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں، فرمایا : ( وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً ۭ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) [ البقرۃ : 80 ] ”اور انھوں نے کہا ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کلا قرآن کے نصف اوّل میں کلا کا ذکر نہیں ہے۔ نصف ثانی میں اس کا ذکر آیا ہے۔ اس کے دو معانی ہیں۔ ایک اس کا معنی ہے حقاً اور دوسرا اس کا معنی ہے نہیں۔ جب یہ حقا کے معنی میں ہو تو اس کے ماقبل پر وقف جائز ہے پھر کلا سے آغاز ہوگا اور جب یہ لا کے معنی میں ہوگا تو کلا پر وقف جائز ہوگا جیسا کہ اس آیت میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نہیں معاملہ اس طرح نہیں ہے اور عھداً پر وقف جائز ہوگا جیسا کہ اس آیت میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نہیں معاملہ اس طرح نہیں ہے اور عھداً پر وقف کرنا اور کلا سے آغاز کرنا بھی جائز ہے یعنی کلا سنکتب ما یقول اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : لعلی اعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–79
1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔
2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔
5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…
Read the full tafseer →[كَلَّا : ہرگز نہیں ] [سَنَكْـتُبُ : ہم لکھ لیں گے ] [مَا : اس کو جو ] [يَقُوْلُ : وہ کہتا ہے ] [وَنَمُدُّ : اور ہم دراز کریں گے ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [مِنَ الْعَذَابِ : عذاب میں سے ] [مَدًّا : جیسے دراز کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →(سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ ) (وہ جو باتیں کہتا ہے ہم انھیں عنقریب لکھ لیں گے) (وَ نَمُدُّلَہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا) (یعنی ہم اس کے لیے عذاب میں اضافہ کریں گے) کفر پر تو عذاب ہوتا ہی ہے اس کے لیے عذاب پر مزید عذاب ہے کیونکہ اس نے اللہ پر جرأت کی اور یوں کہا مجھے وہاں بھی مال اور اولاد دیے جائیں گے، اس نے استہزاء کے انداز میں ایمان کا انکار کیا اور اللہ کے رسول ﷺ کی تکذیب کی (وَّ وَرِثُہٗ مَا یَقُوْلُ ) (اور جو کچھ وہ کہہ رہا ہے ہم اس کے وارث ہوں گے) یعنی دنیا میں ہم نے جو کچھ اسے دیا ہے مال ہو یا اولاد یہ ہماری ملکیت ہے اور جب وہ مرجائے گا تو اس کی مجازی ملکیت بھی ختم ہوجائے گی جن چیزوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–80
اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔
اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
55:۔ ” اَطَّلَعَ “ اصل میں ” ءَ اِطْتَلَعَ “ بروزن افتعل تھا۔ فائے افتعال کے مقابلے میں طاء واقعہ ہونے کی وجہ سے تائے افتعال کو طاء سے بدل دیا گیا۔ اور اول کو ثانی میں ادغام کردیا گیا۔ اور ہمزہ وصل مابین سے ساقط ہوگیا۔ تو ” اَطَّلَعَ “ ہوگیا۔
یعنی جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ اگر قیامت آئی تو اس وقت بھی اس کے پاس دولت بکثرت ہوگی۔ کیا وہ غیب جانتا ہے کہ اسے یہ بات معلوم ہے یا خدا سے اس نے کوئی اس بات کا عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی اس لیے اس کا دعوی غلط ہے۔ ” سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ “ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ہم اسے لکھوا رہی ہیں اور کفر و انکار کے علاوہ ہمارے احکام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا جو اہل ایمان کو طعن دیتے تھے اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے پاس زندگی کا سارا سازو سامان ہے جب کہ مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں ہمارے گھر بہتر ہیں ، اور ہماری مجلسیں اچھی ہیں ، نوکر چاکر ہیں اور پشت پر دوست احباب ہیں ، پھر وہ اہل ایمان سے کہتے کہ بتاؤ ہماری حالت اچھی ہے یا تمہاری ، اللہ نے ایسے بیہودہ خیالات کا رد فرمایا اور اس کا الزامی اور حکیمانہ جواب بھی دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے ہدایت کے سامان کی زیادتی کا ذکر فرمایا ، اور باقی رہنے والی نیکیوں کے اچھے بدلے کا تذکزہ فرمایا اب آج کی آیات…
Read the full tafseer →كَلَّا 0ۭ سَنَكْـتُبُ مَا يَقُوْلُ وَنَمُدُّ لَہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا 79ۙ
مد
أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . وأكثر ما جاء الإمْدَادُ في المحبوب والمدُّ في المکروه نحو : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَبِاٰیٰـتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالاً وَّوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَعِنْدَالرَّحْمٰنِ عَہْدًا۔ کَلَّا ط سَنَکْتُبُ مَایَقُوْلُ وَنَمُدُّلَـہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا۔ وَّنَرِثُـہٗ مَایَقُوْلُ وَیَاْ تِیْنَا فَرْدًا۔ (مریم : 77، 78، 79، 80)
(بھلا آپ نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیات کا منکر ہوا اور کہا کہ مجھے مل کر رہے گا مال اور اولاد۔ کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے۔ ہرگز نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔ اور جن چیزوں کا وہ مدعی ہے اس کے وارث ہم بنیں گے اور وہ ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں کفر اور سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کی جا رہی تھی۔ جس میں یہ کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ظالموں کو مہلت دیتا ہے اس کے بعد مختصر طور پر ہدایت یافتہ لوگوں کا ذکر اور ان کے بہترین انجام کا بیان فرمایا۔ اب پھر کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ ذہن کی ترجمانی کی جا رہی ہے۔
کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ خیال رکھنے والا شخص یہ سوچتا ہے کہ جس طرح دنیا میں اسے نوازا گیا ہے اسی طرح ہی آخرت میں اسے نوازا جائے گا۔ مکہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو نہ صرف یہ ذہن رکھتے تھے بلکہ اس بات کا برملا اظہار کرتے تھے جس بنا پر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کیا آپ نے اس شخص کی گفتگو…
Read the full tafseer →79: کَلَّا سَنَکْتُبُ مَایَقُوْلُ (ہرگز نہیں ہم اس کا کہنا لکھتے ہیں) کَلّا یہاں ردعیہ ہے اور غلطی پر تنبیہ کیلئے آیا ہے۔ یعنی جو
صورت وہ اپنے نفس کیلئے تجویز کر رہا ہے۔ اس میں وہ خطا کار ہے اس کو اس میں باز رہنا چاہیے۔
سنکتب مایقول یعنی (اس نے جو بات کہی ہے وہ ہم نے لکھ لی ہے) مقصدیہ ہے کہ اس کے سامنے عنقریب ہم ظاہر کریں گے اور اس کو بتلادیں گے کہ اس کی بات ہم نے لکھ لی ہے کیونکہ جیسے ہی اس نے کہی بغیر تاخیر کے لکھ لی گئی۔ جیسا کہ دوسری آیت میں خود فرمایا : ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید ] سورة ق : 18[ اور یہ اسی طرح ہے جیسے کسی نے کہا : اذ ما انتسبنالم تلدنی لئیمۃ (یعنی یہ جان لیا جائے…
Read the full tafseer →79۔ کلا، ، ہرگز ایسا نہیں ہے۔ سنکتب، ہم اس کو محفوظ کریں گے ۔ مایقول، ، ہم اس کو آخرت میں بدلہ دیں گے اور بعض نے کہا کہ ہم ملائکہ کو حکم دیا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں ان کو لکھ دو ۔ ونمدلہ من العذاب مدا، ، ہم ان کے لیے عذاب کو مزیدزیادہ کریں گے اور بعض نے کہا کہ ہم ان کے مدت عذاب کو مزید طویل کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
77۔ 82:۔ صحیح بخاری ومسلم میں خباب بن ارت ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس میں خباب ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں کے ایک شخص عاص بن وائل پر میرا کچھ قرضہ آتا تھا میں جب اپنا قرضہ مانگنے کو اس کے پاس گیا تو اس نے کہا ادا کردوں گا، عاص بن دائل نے یہ سن کر کہا کہ اگر مر کر پھر جان سچ ہے تو تم مسلمانوں کے عقیدہ کے موافق وہاں جنت میں میرے پاس مال و اولاد سب کچھ ہوگا پھر وہیں میں تمہارا قرضہ ادا کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے ان منکرین قرآن کا حال دیکھا اور ان کی باتیں سنیں کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
آیت 76
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد، کہ وہ ظالموں کی گمراہی کو اور زیادہ کردیتا ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں، اپنے فضل و کرم اور رحمت سے مزید اضافہ کردیتا ہے۔۔۔ اور ہدایت، علم نافع اور عمل صالح دونوں کو شامل ہے۔ پس ہر وہ شخص جو علم و ایمان اور عمل صالح کے راستے پر گامزن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور زیادہ علم و ایمان عطا کرتا ہے اور اس راستے میں اس کے لئے آسانی کردیتا ہے اور اسے بعض ایسے امور عطا کرتا ہے جو اس کے اپنے کسب کے تحت نہیں آتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے جی اس کہ سلف صالح کا قول ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
87 منکرین کے عذاب میں اضافے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور ایسے لوگوں کے لیے کسی طرح کی کوئی چھوٹ نہیں۔ بلکہ ان کی اس طرح کی تمام باغیانہ اور سرکشانہ باتوں کو ہم لکھتے اور ان کے نامہ ہائے اعمال میں درج کیے جا رہے ہیں۔ اور اس نتیجے میں ہم ایسے لوگوں کیلئے عذاب کو بڑھاتے جائیں گے جو اس کے کفر و انکار پر اڑے اور جمے رہنے کا لازمی نتیجہ اور طبعی تقاضا ہے۔ پس اگر کفر و شرک اور ذنوب و معاصی کے باوجود کسی کو دنیاوی مال و دولت ملتا جائے تو یہ اس کے لئے کوئی انعام و اکرام نہیں بلکہ عذاب میں اضافہ و بڑھاوا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و باطل کی راہ کو اپنانا اور اس پر اڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–82
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…
Read the full tafseer →ف 9 یہ کلمہ اجر ہے اور اسے اس کی غلطی پر متنبہ کیا ہے یعنی یہ دونوں باتیں نہیں ہیں10 یعنی اسے دوہرا عذاب دیں گے ایک عذاب کفر کا دوسرا استہزا اور مذاق اڑانے کا
Read the full tafseer →(19:79) کلا۔ حرف ردع وزجر ہے۔ اور اکثر انکار ومنع کے لئے آتا ہے جیسے کوئی کہے کفر زید تو اس کے جواب میں کہا جائے کلا ہرگز نہیں۔ یہاں انہی معنوں میں آیا ہے۔ کبھی کلا۔ حقا۔ بیشک کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جیسے کلا سوف تعلمون (102:3) بیشک تم عنقریب جان جائو گے۔
سنکتب۔ س فعل مضارع کو مستقبل قریب کے معنی کے لئے مخصوص کردیتا ہے۔ سنکتب کے اگر ” ہم عنقریب لکھ لیں گے “ معنی لئے جائیں تو یہ قولہ تعالیٰ ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50:18) وہ کوئی لفظ منہ سے نکالنے نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کے آس پاس ہی ایک تاک میں لگا رہنے والا تیار ہے (جو اسے اس وقت لکھ لیتا ہے) کے خلاف جاتا ہے۔ اس لئے یہاں سننظر لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80
تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 80
انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
شان نزول : بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت حباب بن ارت ؓ کا زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا۔ وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض ادا نہ کروں گا جب تک تم سید عالم محمد مصطفیٰ کے منکر نہ ہوجاؤ، اور کفر اختیار نہ کرو۔ خباب نے فرمایا :" ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے "۔ وہ کہنے لگا کہ کیا مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا، وہ کہنے لگا " ہاں !" ۔ عاص نے کہا :" تو پھر مجھے چھوڑیئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں، اور مجھے مال و اولاد ملے۔ جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا " اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ :" وہ جو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
[29] یہ ان کی باتوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور شان و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلے میں سرکشی کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ مال و اولاد یا دنیوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–86
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…
Read the full tafseer →-79 ہرگز نہیں جو کچھ یہ کہتا ہے ہم اس کو لکھ لیں گے اور ہم اس پر عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔ یعنی جو کچھ اس نے کہا ہے یہ ہم اس کے اعمال بد کی فہرست میں لکھ دیں گے اور شامل کردیں گے اور سزا دینے میں اس کا عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔
Read the full tafseer →ہم نے اس کی باتوں کو لکھ لیا ہے اور اس کو ایک وقت تک ڈھیل دے دی ہے :
79۔ فرمایا ہم نے اس کی بکواسات کو لکھ ہے اور ان بکواسات کے نتیجہ سے بھی اس کو دو چار کریں گے ، گویا کفر وتکذیب کی جو سزا اس کو ملنا ہے وہ تو ملے گی ہی لیکن اس میں مزید اضافہ اس کے غرور کا بھی ہوجائے گا اور اس طرح جب اس کو دوگنی تگنی ہو کر سزا ملی اس کو سمجھ آئے گی کہ میرے غرور کا نتیجہ کیا رہا ۔ پنجابی کی مثل ہے کہ ” اج ہسنی ایں کل رو ویں گی گھر جا کے جھاٹا کھو ویں گی ۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
This verse is an answer to ` As Ibn Wa’ ils boastful claim. How does he know that when he is brought back to life he will still have his wealth and children?
أَطَّلَعَ الْغَيْبَ (Has he peeped in the unseen - 19:78) It is obvious that nothing of this kind has happened. Then why has he considered it as a surety?
أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَـٰنِ عَهْدًا
“ Or taken a covenant with The Rahman (All-Mercifull)”
Or has he entered into a covenant with Allah Ta` ala and obtained a promise from Him for his wealth and his children?
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
48. That is, the boastful words of his shall also be included in the record of his crimes and he shall have to bear the consequences of his arrogant claim.
Read the full tafseer →