Maryam 19:78

Maryam · from ayah 78

19:78

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا ۟ۙاَطَّلَعَ الۡغَيۡبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا

کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Has he looked into the unseen, or has he taken from the Most Merciful a promise?

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:78

کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا وه غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعده لے چکا ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا اس نے عالم غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے، یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ غیب پر مطلع ہے یا اس نے (خدائے) رحمان سے (کوئی) عہد لے رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے ؟ یا اس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے رکھا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لے رکھا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے یا خدائے رحمان سے کوئی عہد کرالیا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا اس نے غیب پر اطلاع پالی ؟ یا اس نے (خدائے) رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا یہ غیب پر مطلع ہوگیا ہے یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد لے لیا ہے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا وہ غیب پر مطلعّ ہوچکا ہے ؟ یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا اللہ سے عہد لے لیا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Has he obtained knowledge of the Unseen, or has he taken a covenant with the Most Compassionate Lord?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Has he peeped into the Unseen or taken a covenant with the All-Merciful (Allah)?

— Muhammad Taqi Usmani

Has he peeped into the Unseen or taken a covenant with the All-Merciful (Allah)?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Has he known the Unseen or has he taken a covenant from the Most Gracious

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hath he perused the Unseen, or hath he made a pact with the Beneficent?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Has he looked into the unseen, or has he taken from the Most Merciful a promise?

— Saheeh International

Has he the knowledge of the unseen or has the Beneficent God established such a binding agreement with Him?

— Muhammad Sarwar

Has he gained knowledge of the unseen, or made a covenant with the Beneficent Allah?

— Muhammad Habib Shakir

Hath he looked unto the Unseen, or hath he taken of the Compassionate a covenant? *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

Has he penetrated to the Unseen, or has he taken a contract with (Allah) Most Gracious?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–80

عیار مقروض اور حضرت خباب۔ حضرت خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد ﷺ کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 77–78

سورة مَرْیَم 47 یعنی وہ کہتا ہے کہ تم مجھے خواہ کتنا ہی گمراہ و بدکار کہتے رہو اور عذاب الہی کے ڈراوے دیا کرو، میں تو آج بھی تم سے زیادہ خوشحال ہوں اور آئندہ بھی مجھ پر نعمتوں کی بارش ہوتی رہے گی۔ میری دولت دیکھو، میری وجاہت اور ریاست دیکھو، میرے نامور بیٹوں کو دیکھو، میری زندگی میں آخر تمہیں کہاں یہ آثار نظر آتے ہیں کہ خدا کا مغضوب ہوں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مکہ میں کسی ایک شخص کے خیالات نہ تھے بلکہ کفار مکہ کا ہر شیخ اور سردار اسی خبط میں مبتلا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–79

قرآن کریم نے اس احمق کے جواب میں فرمایا کہ اسے یہ کیسے معلوم ہوا کہ دوبارہ زندہ ہونے کے وقت بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہوں گے، اَطَّلَعَ الْغَيْبَ ، کیا اس نے غیب کی باتوں کو جھانک کر معلوم کرلیا ہے، اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا، یا اللہ رحمٰن سے اس نے مال و اولاد کے لئے کوئی عہد اور وعدہ لے لیا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی بات ہوئی نہیں۔ پھر اس نے یہ خیال کیسے پکا لیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 77–78

تفسیر آیت 77 تا 78: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا۔ یہ قرآن نے ان جھٹلانے والوں کے ایک اور مغالطہ کا حوالہ دے کر اس کی تردید فرمائی ہے۔ اس مغالطہ کا ذکر افرءیت کے خطاب سے کیا ہے۔ عربی زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب اس خطاب سے بات کا آغآز ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد کسی بہت ہی برخود غلط شخص یا کسی نہایت بھونڈی بات کا حوالہ آئے گا۔ یہاں عربیت کے اس اسلوب کو بھی یاد رکھیے جس کا ذکر ہم بعض دوسرے مقامات میں بھی کرچکے ہیں کہ " الذی " ضروری نہیں کہ ہر جگہ معرفہ ہی کے لیے آئے بعض…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 77–80

80۔ 1 ان آیات کی شان نزول میں بتلایا گیا ہے۔ کہ حضرت عمرو بن العاص ؓ کے والد عاص بن وائل، جو اسلام کے شدید دشمنوں میں سے تھا۔ اس کے ذمے حضرت خباب بن ارت کا قرضہ تھا جو آہن گری کا کام کرتے تھے۔ حضرت خباب ؓ نے اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہیں کرے گا میں تجھے تیری رقم نہیں دونگا۔ انہوں نے کہا یہ کام تو، تو مر کر دوبارہ زندہ ہوجائے تب بھی نہیں کرونگا۔ اس نے کہا اچھا پھر ایسے ہی سہی، جب مجھے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا اور وہاں بھی مجھے مال واولاد سے نوازا جائے گا تو میں وہاں رقم ادا کر دونگا (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو دعویٰ کر رہا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 77–80

35: صحیح بخاری میں حضرت خباب بن ارت ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ میں نے مکہ مکرمہ میں لوہار کا پیشہ اختیار کر رکھا تھا اور (اسی سلسلے میں) میرے کچھ پیسے مکہ مکرمہ کے ایک کافر سردار عاص بن وائل کے ذمے واجب ہوگئے تھے۔ میں اس سے اپنا حق مانگنے کے لیے گیا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ : میں تمہارے پیسے اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد ﷺ کو نہ جھٹلاؤ۔ میں نے کہا کہ تم مر کر دوبارہ زندہ ہوجاؤ تب بھی میں محمد ﷺ کو جھٹلا نہیں سکتا۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا۔ اچھا جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس بہت سا مال اور اولاد ہوگی، اس وقت میں تمہارے پیسے ادا کردوں گا۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اطلع الغیب (91 : 87) ” کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے “۔ کیا اسے قبل ازوقت معلوم ہے کہ وہاں کیا ہوگا۔ ام اتخذ۔۔۔۔۔۔۔۔ عھدا (91 : 87) ” یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے “ اور اسے یقین ہے کہ اللہ اپنے عہد کا پابند ہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے۔ کلا ” ہر گز نہیں “ کلا نفی اور زجر کا لفظ ہے۔ نہ اسے غیب کا علم ہے اور نہ اس نے اللہ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے بلکہ یہکفر پر تل گیا ہے اور محض مذاق کرتا ہے۔ ایسے مقامات پر ایسے کافروں کے لائق یہی ہے کہ انہیں تہدیدآمیز تنبیہ کردی جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ایسے یقین و وثوق سے جو دعویٰ کر رہا ہے کیا غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا سے کوئی وعدہ لے چکا ہے ؟ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک بات بھی نہیں۔ ایک گندے کافر کی کیا بساط کہ وہ اس طرح کی غیبیات تک رسائی حاصل کرلے ؟ رہا خدا کا وعدہ، وہ ان لوگوں سے ہوسکتا ہے جنہوں نے اپنا عہد پورا کر کے " لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ " اور عمل صالح کی امانت خدا کے پاس رکھ دی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 78 اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا ” جو شخص ایسے دعوے کرتا ہے آخر اس کے ان دعو وں کی دلیل کیا ہے ؟ کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے ؟ یا اللہ تعالیٰ سے وہ کوئی قول و اقرار لے چکا ہے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 یعنی کیا اسے غیب کے حالات پر، جو دوسری زندگی میں پیش آنے والے ہیں۔ یہ اطلاع ہوگئی ہے کہ واقعی اسے اس دوسرے عالم میں بھی ایسے ہی مال و دولت ملے گا۔ جیسا اس دنیا میں اس کے پاس موجود ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے کہ وہ اسے دوسرے عالم میں ضرور مال و دولت عطا کرے گا اور وہاں وہ اپنے قرض خواہ کا حساب بےباق کرسکے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 78–80

113۔ یعنی وہ منکر تو دنیا سے گزر جائے گا، اور اس کا اختیار نہ مال پر رہ جائے گا نہ اولاد پر۔ ہم ہی سب چیزوں کے مالک رہیں گے۔ 114۔ یعنی مال واولاد سب سے معری، بےسازوسامان، بےیارو مددگار۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 76–82

آیت نمبر 76 تا 82 ترجمہ : اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان آیات کے ذریعہ جن کو ان پر نازل کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تو وہ وہ طاعات ہیں جو طاعت گزار کے لئے باقی رہتی ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں یعنی وہ ثواب اور اجر جو اس کو حاصل ہوگا وہ بہتر ہوگا بخلاف اعمال کفار کے اور یہاں (اسم تفضیل) خیر کا استعمال ان کے قول اَیُّ الفریقین خیرٌ مقامًا کے مقابلہ میں ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ؟ جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ عاص ابن وائل ہے جس سے (حضرت) خباب ابن ارت نے کہا تھا کہ تو مرنے کے بعد (زندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اطلع الغیب کیا اس کو غیب کا علم ہوگیا ہے۔ یہاں الٰی محذوف ہے جیسے اطلع الجبل وہ پہاڑ کی چوٹی کی طرف چڑھا ‘ اس صورت میں آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا کیا وہ غیب کی طرف چڑھا ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا ‘ کیا اس نے لوح محفوظ میں دیکھ لیا ہے ‘ مجاہد نے کہا کیا اس کو علم غیب حاصل ہوگیا ہے کہ وہ آخرت میں مال و اولاد حاصل ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ ام اتخذ عند الرحمن عہدا۔ یا اس نے اللہ سے کوئی عہد (اس بات کا) لے لیا ہے ‘ یعنی کیا وہ لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگیا ہے ‘ قتادہ نے کہا یعنی کیا اس نے نیک کام کر چھوڑے ہیں کلبی نے کہا کیا اللہ نے اس سے وعدہ کرلیا ہے کہ اس کو جنت میں ضرور داخل کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(78) اللہ تعالیٰ اس کی تردید فرما رہا ہے کہ کیا اس نے لوح محفوظ کو دیکھ لیا ہے کہ اس کو مال واولاد ملے گا، یا اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ“۔ کا یقین کر کے اللہ تعالیٰ سے اس چیز کا وعدہ لے لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ۔۔ : یعنی یہ بات تو ”کہ وہ جنت میں جائے گا اور خوب مال و دولت پائے گا“ وہی کرسکتا ہے جس نے غیب پر اطلاع پائی ہو، یا اس بیحد رحم والی ذات پاک سے کوئی عہد لے رکھا ہو جس نے اپنی بیحد رحمت کی بنا پر اپنے فرماں بردار بندوں سے انعام کا عہد کر رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ علم غیب جب پوری مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں تو اسے کیسے حاصل ہوگیا ؟ رہا قیامت کے دن نعمتوں کا عہد، تو وہ رحمت کے حق داروں ہی سے ہے، جو ایمان دار ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (218) اس کافر سے وہ عہد کب اور کیسے ہوا ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اطلع الغیب اس کا الف، الف استفہام ہے کیونکہ اس کے بعد أم آیا ہے اس کا معنی تو بیخ ہے۔ اس کی اصل أاطلع ہے۔ پھر دوسرے الف کو حذف کیا گیا کیونکہ الف وصل ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ الف کے بعد مدّکو کیوں نہیں لائے اور کہتے : اطلع جس طرح کہا : اللہ خیر (النمل :59) ء الذین کرین حرم (الانعام :143) تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیات میں اصل اللہ، الذکرین ہے پس دوسرے الف کو مد سے بدلا تاکہ استفہام اور خبر کے درمیان فرق ہوجائے اگر اللہ خیر بغیر مد کے کہتے تو استفہام خبر کے ساتھ ملتبس ہوجاتا اور اطلع میں اس مد کی ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ الف استفہام میں مفتوح ہے اور خبر کا الف مکسور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–79

1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔ 5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَطَّلَعَ : کیا وہ آگاہ ہوا ] [الْغَيْبَ : غیب سے ] [اَمِ : یا ] [اتَّخَذَ : اس نے پکڑا ] [عِنْدَ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے پاس ] [عَهْدًا : کوئی عہد ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ چند صحابہ کا عاص بن وائل پر قرضہ تھا اور وہ اس کے پاس تقاضا کرنے کے لیے آئے تو اس نے کہا کہ آپ لوگ یوں کہتے ہیں کہ جنت میں سونا ہے چاندی ہے اور ریشم ہے اور ہر طرح کے پھل ہیں صحابہ کرام ؓ نے جواب کہا کہ ہاں ہم تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں، کہنے لگا بس تو میں تمہارے قرضے آخرت میں ہی چکاؤں گا اللہ کی قسم ! مجھے مال بھی دیا جائے گا اور اولاد بھی اور جو کتاب تمہیں دی گئی ہے مجھے بھی مل جائے گی اس پر آیت بالا نازل ہوئی، بات یہ ہے کہ ایسی باتیں وہی شخص کیا کرتا ہے جو ایمان کا مذاق بناتا ہے اور جو اپنے بارے میں یہ خیال کرتا ہے میں اللہ کا مقبول بندہ ہوں چونکہ اس نے مجھے یہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–80

اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔ اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–80

55:۔ ” اَطَّلَعَ “ اصل میں ” ءَ اِطْتَلَعَ “ بروزن افتعل تھا۔ فائے افتعال کے مقابلے میں طاء واقعہ ہونے کی وجہ سے تائے افتعال کو طاء سے بدل دیا گیا۔ اور اول کو ثانی میں ادغام کردیا گیا۔ اور ہمزہ وصل مابین سے ساقط ہوگیا۔ تو ” اَطَّلَعَ “ ہوگیا۔ یعنی جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ اگر قیامت آئی تو اس وقت بھی اس کے پاس دولت بکثرت ہوگی۔ کیا وہ غیب جانتا ہے کہ اسے یہ بات معلوم ہے یا خدا سے اس نے کوئی اس بات کا عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی اس لیے اس کا دعوی غلط ہے۔ ” سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ “ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ہم اسے لکھوا رہی ہیں اور کفر و انکار کے علاوہ ہمارے احکام سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–82

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا جو اہل ایمان کو طعن دیتے تھے اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے پاس زندگی کا سارا سازو سامان ہے جب کہ مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں ہمارے گھر بہتر ہیں ، اور ہماری مجلسیں اچھی ہیں ، نوکر چاکر ہیں اور پشت پر دوست احباب ہیں ، پھر وہ اہل ایمان سے کہتے کہ بتاؤ ہماری حالت اچھی ہے یا تمہاری ، اللہ نے ایسے بیہودہ خیالات کا رد فرمایا اور اس کا الزامی اور حکیمانہ جواب بھی دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے ہدایت کے سامان کی زیادتی کا ذکر فرمایا ، اور باقی رہنے والی نیکیوں کے اچھے بدلے کا تذکزہ فرمایا اب آج کی آیات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا۝ 78ۙ طلع طَلَعَ الشمسُ طُلُوعاً ومَطْلَعاً. قال تعالی: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ [ طه/ 130] ، حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] ، والمَطْلِعُ : موضعُ الطُّلُوعِ ، حَتَّى إِذا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ [ الكهف/ 90] ، وعنه استعیر : طَلَعَ علینا فلانٌ ، واطَّلَعَ. قال تعالی: هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ [ الصافات/ 54] ، فَاطَّلَعَ [ الصافات/ 55] ، قال : فَأَطَّلِعَ إِلى إِلهِ مُوسی[ غافر/ 37] ، وقال : أَطَّلَعَ الْغَيْبَ [ مریم/ 78] ، لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلى إِلهِ مُوسی[ القصص/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 77–95

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 77–80

اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَبِاٰیٰـتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالاً وَّوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَعِنْدَالرَّحْمٰنِ عَہْدًا۔ کَلَّا ط سَنَکْتُبُ مَایَقُوْلُ وَنَمُدُّلَـہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا۔ وَّنَرِثُـہٗ مَایَقُوْلُ وَیَاْ تِیْنَا فَرْدًا۔ (مریم : 77، 78، 79، 80) (بھلا آپ نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیات کا منکر ہوا اور کہا کہ مجھے مل کر رہے گا مال اور اولاد۔ کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے۔ ہرگز نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔ اور جن چیزوں کا وہ مدعی ہے اس کے وارث ہم بنیں گے اور وہ ہمارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 77–80

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں کفر اور سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کی جا رہی تھی۔ جس میں یہ کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ظالموں کو مہلت دیتا ہے اس کے بعد مختصر طور پر ہدایت یافتہ لوگوں کا ذکر اور ان کے بہترین انجام کا بیان فرمایا۔ اب پھر کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ ذہن کی ترجمانی کی جا رہی ہے۔ کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ خیال رکھنے والا شخص یہ سوچتا ہے کہ جس طرح دنیا میں اسے نوازا گیا ہے اسی طرح ہی آخرت میں اسے نوازا جائے گا۔ مکہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو نہ صرف یہ ذہن رکھتے تھے بلکہ اس بات کا برملا اظہار کرتے تھے جس بنا پر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کیا آپ نے اس شخص کی گفتگو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

78: اَطَّلَعَ الْغَیْبَ ( کیا اس کو غیب کا علم ہوگیا) یہ عربوں کے محاورہ اطّلع الجبل (وہ پہاڑ کی چوٹی کی طرف چڑھا) اس سے لیا گیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہے کہ کیا وہ غیب کی طرف چڑھا ہے یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا ہے یہ ہمزہ استفہام کا ہے اور ہمزہ وصل کا محذوف ہے مطلب یہ ہوا کہ اس نے لوح محفوظ کو دیکھا کہ جس میں اس نے اپنی تمنا کو دیکھ لیا۔ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا ( یا اس نے رحمٰن کے ہاں کوئی عہدلے لیا ہے) یعنی پکا وعدہ کہ وہ اس کو ضرور دیں گے۔ یا عہد شہادت و گواہی والی بات کو کہتے ہیں۔ حضرت حسن کا قول کہ یہ ولیدبن مغیرہ کے بارے میں اتری مشہور یہ ہے کہ عاص بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 78۔ اطلع الغیب، ، ابن عباس کا قول ہے کہ کیا اس نے لوح محفوظ میں دیکھ لیا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ کیا اس کو علم غیب حاصل ہوگیا ہے کہ وہ آخرت میں مال واولاد حاصل ہونے کا دعوی کررہا ہے۔ ” ام اتخذ عندالرحمن عھدا، ، عہد سے مراد لاالہ الا اللہ، ہے قتادہ نے کہا کہ عہد سے مراد ہے کہ اس نے جو نیک عمل کیا اور اس کو آگے بھیجا ، کلبی کا قول ہے کہ عہد سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–82

77۔ 82:۔ صحیح بخاری ومسلم میں خباب بن ارت ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس میں خباب ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں کے ایک شخص عاص بن وائل پر میرا کچھ قرضہ آتا تھا میں جب اپنا قرضہ مانگنے کو اس کے پاس گیا تو اس نے کہا ادا کردوں گا، عاص بن دائل نے یہ سن کر کہا کہ اگر مر کر پھر جان سچ ہے تو تم مسلمانوں کے عقیدہ کے موافق وہاں جنت میں میرے پاس مال و اولاد سب کچھ ہوگا پھر وہیں میں تمہارا قرضہ ادا کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے ان منکرین قرآن کا حال دیکھا اور ان کی باتیں سنیں کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 76–79

آیت 76 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد، کہ وہ ظالموں کی گمراہی کو اور زیادہ کردیتا ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں، اپنے فضل و کرم اور رحمت سے مزید اضافہ کردیتا ہے۔۔۔ اور ہدایت، علم نافع اور عمل صالح دونوں کو شامل ہے۔ پس ہر وہ شخص جو علم و ایمان اور عمل صالح کے راستے پر گامزن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور زیادہ علم و ایمان عطا کرتا ہے اور اس راستے میں اس کے لئے آسانی کردیتا ہے اور اسے بعض ایسے امور عطا کرتا ہے جو اس کے اپنے کسب کے تحت نہیں آتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے جی اس کہ سلف صالح کا قول ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 78–79

87 منکرین کے عذاب میں اضافے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور ایسے لوگوں کے لیے کسی طرح کی کوئی چھوٹ نہیں۔ بلکہ ان کی اس طرح کی تمام باغیانہ اور سرکشانہ باتوں کو ہم لکھتے اور ان کے نامہ ہائے اعمال میں درج کیے جا رہے ہیں۔ اور اس نتیجے میں ہم ایسے لوگوں کیلئے عذاب کو بڑھاتے جائیں گے جو اس کے کفر و انکار پر اڑے اور جمے رہنے کا لازمی نتیجہ اور طبعی تقاضا ہے۔ پس اگر کفر و شرک اور ذنوب و معاصی کے باوجود کسی کو دنیاوی مال و دولت ملتا جائے تو یہ اس کے لئے کوئی انعام و اکرام نہیں بلکہ عذاب میں اضافہ و بڑھاوا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و باطل کی راہ کو اپنانا اور اس پر اڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–87

غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم) سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–82

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 77–78

ف 7 اوپر کی آیات میں صحت حشر کے دلائل بیان فرمائے اور ان ن کے شبہات کا ازالہ فرمایا اب ان کا قوال نقل فرمایا جو حشر میں طعن کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے تھے صحیحین میں ہے کہ حضرت خباب بن ادت لوہار کا کام کرنے تھے اور ان کا عاص بن وائل (ایک ملدار کافر) پر کچھ قرض تھا۔ وہ ایک روز) تقاضے کے لئے اس کے پاس گئے کافر کہنے لگا ” میں تمہارا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک تم محمد (ﷺ) کی رسالت سے انکار نہ کردو “ خباب نے کہا ” اللہ کی قسم میں محمد ﷺ کی رسالت سے ہرگز انکار نہ کروں گا یہاں تک کہ تم مر کردو بد “ زندہ ہوجائو ” کافر کہنے لگا “ جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو تم میرے پاس آنا، اس وقت میرے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:78) اطلع۔ اس میں أ اطلع ہمزہ وصل کو تخفیفاً حذف کیاء ہمزہ استفہام قائم رہا۔ اطلع ہوا۔ کیا اس کو اطلاع ہوگئی ہے (غیب کی) کیا وہ مطلع ہوگیا ہے۔ کیا اس نے جھانک لیا ہے۔ (یعنی جھانک کر دیکھ لیا ہے) اطلاع (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اطلاع مصدر بمعنی جھانکنا۔ مطلع ہونا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 73–80

لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80 تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔ تشریح : آیت نمبر 73 تا 80 انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 77–82

شان نزول : بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت حباب بن ارت ؓ کا زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا۔ وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض ادا نہ کروں گا جب تک تم سید عالم محمد مصطفیٰ کے منکر نہ ہوجاؤ، اور کفر اختیار نہ کرو۔ خباب نے فرمایا :" ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے "۔ وہ کہنے لگا کہ کیا مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا، وہ کہنے لگا " ہاں !" ۔ عاص نے کہا :" تو پھر مجھے چھوڑیئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں، اور مجھے مال و اولاد ملے۔ جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا " اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ :" وہ جو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–79

[29] یہ ان کی باتوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور شان و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلے میں سرکشی کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ مال و اولاد یا دنیوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 76–86

(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-78 کیا اس نے غیب کی اطلاع پا لی ہے اور غیب پر مطلع ہوگیا ہے اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد حاصل کرلیا ہے اور خدا سے کوئی وعدہ لے لیا ہے۔ یعنی اس نے کیا غیب کا حال معلوم کرلیا ہے کہ اس کو مال اور اولاد ملے گی یا اس نے خدا سے کوئی وعدہ اور قارار لے لیا ہے کہ قیامت میں تجھ کو مال اور اولاد عطا کروں گا دونوں باتیں عقلاً منتقی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–87

ف 1۔ وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ۔ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اس نے کوئی غیب سے اطلاع پائی ہے یا رحمن سے عہد لیا ہے ؟ : 78۔ یہ ان مغروروں اور جھٹلانے والوں کی تردید میں بات کہی جا رہی ہے اور (افرء یت) سے خطاب کیا جا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس خطاب کے بعد نہایت ہی کوئی بےعقلی یا بیوقوفی کی بات کا ذکر آنے والا ہے اور یہی بات یہاں بھی مذکور ہوئی فرمایا وہ جو کہتا ہے مجھے یہاں مال و دولت اور خدام واولاد ملی ہے تو وہاں بھی مجھے یہ سب کچھ اسی طرح ملے گا گویا کہ یہ کسی تبادلہ میں وہاں جارہا ہے ‘ اگر ایسا نہیں تو کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے ؟ کہ اس کے نام کا انتقال وہاں موجود ہے ‘ اگر یہ بھی نہیں تو کیا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

This verse is an answer to ` As Ibn Wa’ ils boastful claim. How does he know that when he is brought back to life he will still have his wealth and children? أَطَّلَعَ الْغَيْبَ (Has he peeped in the unseen - 19:78) It is obvious that nothing of this kind has happened. Then why has he considered it as a surety? أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّ‌حْمَـٰنِ عَهْدًا “ Or taken a covenant with The Rahman (All-Mercifull)” Or has he entered into a covenant with Allah Ta` ala and obtained a promise from Him for his wealth and his children?

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 77–78

47. The boastful person was not a particular man but a typical chief of the disbelievers of Makkah. Everyone of them claimed: Howsoever you may call me an erroneous and un-righteous person and threaten me with the divine scourge, the fact is that I am more prosperous than you today and shall continue being blessed with favors in future as well. Just have a look at my riches, at my grandeur and at my estate, and at my well-known sons, and then say where you see any signs of the wrath of God.

Read the full tafseer →