Explained with ayahs 77–80
عیار مقروض اور حضرت خباب۔
حضرت خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد ﷺ کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
سورة مَرْیَم 47
یعنی وہ کہتا ہے کہ تم مجھے خواہ کتنا ہی گمراہ و بدکار کہتے رہو اور عذاب الہی کے ڈراوے دیا کرو، میں تو آج بھی تم سے زیادہ خوشحال ہوں اور آئندہ بھی مجھ پر نعمتوں کی بارش ہوتی رہے گی۔ میری دولت دیکھو، میری وجاہت اور ریاست دیکھو، میرے نامور بیٹوں کو دیکھو، میری زندگی میں آخر تمہیں کہاں یہ آثار نظر آتے ہیں کہ خدا کا مغضوب ہوں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مکہ میں کسی ایک شخص کے خیالات نہ تھے بلکہ کفار مکہ کا ہر شیخ اور سردار اسی خبط میں مبتلا تھا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ بھلا آپ نے اس شخص (کی حالت) کو بھی دیکھا جو ہماری آیتوں کے ساتھ (جن کا حق یہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جاتا جن میں سے آیات بعث بھی ہیں) کفر کرتا ہے اور (علیٰ سبیل الاستہزاء) کہتا ہے کہ مجھ کو (آخرت میں) مال اور اولاد ملیں گے (مطلب یہ کہ اس کی حالت بھی قابل تعجب ہے آگے اس کا رد ہے کہ) کیا یہ شخص غیب پر مطلع ہوگیا ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد (اس بات کا) لے لیا ہے (یعنی اس دعوے کا علم آیا بلا واسطہ اسباب ہوا ہے کہ علم غیب ہے یا بواسطہ اسباب ہوا ہے پھر چونکہ وہ دعویٰ حکم عقلی تو ہے نہیں بلکہ امر نقلی ہے۔ اس لئے صرف دلیل نقلی کہ اخبار خداوندی ہے اس کی دلیل ہو سکتی ہے سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
تفسیر آیت 77 تا 78: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا۔ یہ قرآن نے ان جھٹلانے والوں کے ایک اور مغالطہ کا حوالہ دے کر اس کی تردید فرمائی ہے۔ اس مغالطہ کا ذکر افرءیت کے خطاب سے کیا ہے۔ عربی زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب اس خطاب سے بات کا آغآز ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد کسی بہت ہی برخود غلط شخص یا کسی نہایت بھونڈی بات کا حوالہ آئے گا۔
یہاں عربیت کے اس اسلوب کو بھی یاد رکھیے جس کا ذکر ہم بعض دوسرے مقامات میں بھی کرچکے ہیں کہ " الذی " ضروری نہیں کہ ہر جگہ معرفہ ہی کے لیے آئے بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
80۔ 1 ان آیات کی شان نزول میں بتلایا گیا ہے۔ کہ حضرت عمرو بن العاص ؓ کے والد عاص بن وائل، جو اسلام کے شدید دشمنوں میں سے تھا۔ اس کے ذمے حضرت خباب بن ارت کا قرضہ تھا جو آہن گری کا کام کرتے تھے۔ حضرت خباب ؓ نے اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہیں کرے گا میں تجھے تیری رقم نہیں دونگا۔ انہوں نے کہا یہ کام تو، تو مر کر دوبارہ زندہ ہوجائے تب بھی نہیں کرونگا۔ اس نے کہا اچھا پھر ایسے ہی سہی، جب مجھے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا اور وہاں بھی مجھے مال واولاد سے نوازا جائے گا تو میں وہاں رقم ادا کر دونگا (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو دعویٰ کر رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
35: صحیح بخاری میں حضرت خباب بن ارت ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ میں نے مکہ مکرمہ میں لوہار کا پیشہ اختیار کر رکھا تھا اور (اسی سلسلے میں) میرے کچھ پیسے مکہ مکرمہ کے ایک کافر سردار عاص بن وائل کے ذمے واجب ہوگئے تھے۔ میں اس سے اپنا حق مانگنے کے لیے گیا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ : میں تمہارے پیسے اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد ﷺ کو نہ جھٹلاؤ۔ میں نے کہا کہ تم مر کر دوبارہ زندہ ہوجاؤ تب بھی میں محمد ﷺ کو جھٹلا نہیں سکتا۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا۔ اچھا جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس بہت سا مال اور اولاد ہوگی، اس وقت میں تمہارے پیسے ادا کردوں گا۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئی…
Read the full tafseer →اس آیت کے شان نزول میں حضرت خباب ابن الارت کی یہ روایت آئی ہے :” میں ایک لوہار تھا۔ عاص ابن وائل پر میرا قرض تھا۔ میں اس کے پاس آیا اور اس سے اپنے قرضے کا تقاضا کیا تو اس نے کہا خدا کی قسم میں تجھے ہر گز تمہارا قرض نہ دوں گا جب تک تم محمد ﷺ پر ایمان لانے سے انکار نہ کردو۔ تو میں نے کہا خدا کی قسمایسا نہیں ہوسکتا۔ میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ تم ایک بار مرکر دوبارہ زندہ نہ ہو جائو۔ اس نے کہا اچھا پھر جب میں مر گیا اور دوبارہ زندہ ہوگیا تو وہ وہاں میرے پاس بہت مال ہوگا ‘ میری اولاد ہوگی ‘ وہاں آنا میرے پاس میں آپ کو قرض دے دوں گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →10 یعنی کفر کے باوجود آپ نے یہ جرأت دیکھی، ایک کافر مالدار ایک مسلمان لوہار کو کہنے لگا تو مسلمانی سے منکر ہو تو تیری مزدوری دوں۔ اس نے کہا اگر تو مرے اور پھر جئے تو بھی میں منکر نہ ہوں۔ اس نے کہا اگر مر کر پھر جیوں گا تو یہ ہی مال و اولاد بھی ہوگا، تجھ کو مزدوری وہاں دے دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی وہاں دولت ملتی ہے ایمان سے، کافر چاہے کہ یہاں کی دولت وہاں ملے، یا کفر کے باوجود اخروی عیش و تنعم کے مزے اڑائے یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →آیت 77 اَفَرَءَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا ”
یہ بھی وہی مضمون ہے جو سورة الکہف کے پانچویں رکوع میں دو اشخاص کے مکالمے کے سلسلے میں گزر چکا ہے۔ وہاں بھی بالکل اسی سوچ کے حامل مالدار شخص کا ذکر ہے جس نے اللہ کے نیک بندے کو مخاطب کر کے کہا تھا : وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآءِمَۃً لا وَّلَءِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْہَا مُنْقَلَبًا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ قیامت واقعی برپا ہوگی ‘ لیکن بالفرض اگر ایسا ہوا بھی تو میں دنیا کی طرح وہاں بھی نوازا جاؤں گا اور تم جو یہاں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہو وہاں بھی اسی حال میں رہو گے۔
آیت زیر…
Read the full tafseer →70 خباب بن ارت کی مزدوری آخرت کو دینے والا :۔ اس آیت کا روئے سخن ایک قریشی سردار عاص بن وائل سہمی سے ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا خباب بن ارت کہتے ہیں کہ میں مکہ میں لوہار کا پیشہ کیا کرتا تھا۔ میں نے عاص بن وائل سہمی کے لئے ایک تلوار بنائی۔ میں اس کی مزدوری مانگنے کے لئے عاص کے پاس گیا وہ کہنے لگا۔ میں اس وقت تک تجھے مزدوری نہیں دوں گا۔ جب تک تو محمد ﷺ سے پھر نہ جائے۔ میں نے کہا جب اللہ تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ کرے گا، میں تو اس وقت تک بھی محمد ﷺ کا انکار نہیں کروں گا ۔ وہ کہنے لگا : اچھا اگر اللہ مجھے مرنے کے بعد زندہ کرے گا تو پھر مجھے مال اور اولاد بھی دے گا (اس وقت میں…
Read the full tafseer →112۔ (آخرت میں) اس کا یہ قول بہ طریق تمسخر و استہزاء تھا صحاح کی حدیثوں میں یہ روایت آتی ہے کہ ایک صحابی کا قرضہ ایک مشرک کے ذمہ باقی تھا (اور یہ معلوم ہے کہ مشرکین مکہ آخرت کے منکر تھے) جب انہوں نے اس سے تقاضا زائد کیا تو اس نے کہا کہ تم جب تک محمد ﷺ کی صداقت سے انکار نہ کرو گے میں قرضہ نہ چکاؤں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہونے کا نہیں، چاہے تو مر کر بھی زندہ ہوجائے، وہ منکر از راہ تمسخر وتمرد بولا کہ اچھا جب یہ بات ہے کہ میں مر کر دوبارہ بھی آسکتا ہوں تو بس جبھی آنا اور اپنا قرضہ چکانا، میں تو اس وقت بھی صاحب مال واولاد ہوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان آیات کے ذریعہ جن کو ان پر نازل کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تو وہ وہ طاعات ہیں جو طاعت گزار کے لئے باقی رہتی ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں یعنی وہ ثواب اور اجر جو اس کو حاصل ہوگا وہ بہتر ہوگا بخلاف اعمال کفار کے اور یہاں (اسم تفضیل) خیر کا استعمال ان کے قول اَیُّ الفریقین خیرٌ مقامًا کے مقابلہ میں ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ؟ جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ عاص ابن وائل ہے جس سے (حضرت) خباب ابن ارت نے کہا تھا کہ تو مرنے کے بعد (زندہ…
Read the full tafseer →ویزید اللہ الذین اہتدوا ہدی اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ ان کے ایمان میں مزید ترقی دیتا ہے۔ ان کے مراتب قرب میں اضافہ کرتا ہے ‘ آیات مذکورہ کا خلاصہ یہ ہے کہ کافروں کی دنیا میں مالداری اور راحت اندوزی اور مؤمنوں کی ناداری و بدحالی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ کافر اللہ کے محبوب ہیں اور مؤمن مردود بلکہ مؤمنوں کے لئے دنیوی عیش و دولت کی کمی کو اللہ ان کی ہدایت و مراتب قرب کی ترقی کا ذریعہ بنا دیتا ہے اور کافروں کی گمراہی کے باوجود خوش حالی اللہ کی طرف سے ایک ڈھیل ہوتی ہے تاکہ ان کی گمراہی میں مزید اضافہ ہو۔
والبقیت الصلحت خیر عند ربک ثوابا وخیر مردا۔ اور جو نیک کام ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں…
Read the full tafseer →(77) اور کیا آپ نے عاص بن وائل کی حالت کو بھی دیکھا جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ محمد ﷺ آخرت کے بارے میں جو بیان کرتے ہیں اگر وہ ٹھیک ہے تو مجھے وہاں بھی مال واولاد ملے گا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ افرء یت الذی کفر بایتنا“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حضرت خباب بن ارت سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس اپنے قرض کی واپسی کے لیے آیا تو عاص کہنے لگا کہ جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہ کرے گا تیرے قرض نہ ادا کروں گا، حضرت خباب نے فرمایا کہ اگر تو مر کر پھر زندہ ہوجائے گا تب بھی کفر نہ کروں گا اس پر عاص نے کہا کہ میں مروں گا پھر زندہ ہوں گا، حضرت…
Read the full tafseer →اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا۔۔ : اوپر کی آیات میں حشر کے یقینی ہونے کے دلائل بیان فرمائے اور کفار کے شبہات کا جواب دیا تھا، اب ان لوگوں کا قول نقل فرمایا جو حشر میں طعن کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ صحیحین میں ہے، خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں : (کُنْتُ قَیْنًا فِي الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ لِيْ عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَاءِلٍ دَیْنٌ فَأَتَیْتُہُ أَتَقَاضَاہٗ ، قَالَ : لاَ أُعْطِیْکَ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لاَ أَکْفُرُ حتّٰی یُمِیْتَکَ اللّٰہُ ثُمَّ تُبْعَثَ ، قَالَ دَعْنِيْ حتّٰی أَمُوْتَ وَ أُبْعَثَ فَسَأُوْتِیْ مَالًا وَوَلدًا…
Read the full tafseer →(تفسیر 77-80) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افرء یت الذی کفر بایتنا، آئمہ حدیث نے یہ الفاظ مسلم شریف کے ہیں، حضرت خباب سے روایت کیا ہے (1) ( فرمایا : میرا عاص بن وائل پر قرض تھا میں اس سے وہ قرض طلب کرنے کے لیے آیا، تو اس نے مجھے کہا : میں تجھے قرض ادا نہیں کروں گا حتیٰ کہ تو محمد ﷺ کا انکار کرے۔ حضرت خباب نے فرمایا : میں حضرت محمد ﷺ کا انکار نہیں کروں گ اس حتیٰ کہ تو مر جائے پھر اٹھایا جائے گا۔ عاص نے کہا میں مرنے کے بعد اٹھایا جائوں گا ؟ تو پھر میں اس وقت تجھے قرضہ ادا کروں گا جب میں اپنھے مال اور اولاد کی طرف لوٹوں گا۔ وکیع نے کہا : اعمش نے اسی طرح کہا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی : افرء یت الذی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–79
1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔
2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔
5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…
Read the full tafseer →[اَفَرَءَيْتَ : تو کیا آپ ﷺ نے دیکھا ] [الَّذِي : اس کو جس نے ] [كَفَرَ : انکار کیا ] [بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کا ] [وَقَالَ : اور کہا ] [لَاُوْتَيَنَّ : مجھ کو لازماً دیا جائے گا ] [مَالًا : مال ] [وَّوَلَدًا : اور اولاد ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
بعض منکرین کے اس دعوے کی تردید کہ مجھے قیامت کے دن بھی اموال دیے جائیں گے
پہلی آیت کا سبب نزول حضرت خباب بن ارت ؓ سے یوں مروی ہے کہ میں ایک سنار تھا اور عاص بن وائل مشرک پر میرا قرضہ تھا۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے کے لیے آیا اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک تیرا قرضہ ادا نہیں کروں گا جب تک کہ تو محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہ کر دے، میں نے جواب میں کہا کہ اللہ کی قسم میں کبھی بھی محمد ﷺ کے ماننے سے منکر نہ ہوں گا یہاں تک کہ تو مرجائے پھر دوبارہ اٹھایا جائے اس پر عاص بن وائل نے کہا کہ کیا میں مرنے کے بعد اٹھایا جاؤں گا میں نے کہا ہاں تو ضرور اٹھایا جائے گا اس پر وہ کہنے لگا کہ اگر میں مرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–80
اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔
اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →54:۔ شکوی مع تخویف۔ ائمہ ستہ نے حضرت خباب ؓ سے روایت کیا ہے کہ عاص بن وائل کے ذمہ ان کی کچھ مزدوری تھی وہ ایک دن اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرنے کے لیے گئے تو عاص نے کہا۔ جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہیں کرے گا اور خدا کے ساتھ شریک نہیں بنائے گا۔ اس وقت تک میں تمہیں مزدوری نہیں دوں گا۔ جوابا حضرت خباب نے کہا میں تو کبھی کفر نہیں کروں گا۔ اگرچہ کہ تو مرجائے اور پھر دوبارہ زندہ ہوجائے۔ عاص بول اٹھا۔ کیا مرنے کے بعد مجھے پھر زندہ کیا جائے گا ؟ اگر ایسا ہے تو میں وہیں تمہارا قرض ادا کردوں گا۔ کیونکہ یہاں کی طرح وہاں بھی میرے پاس آل و اولاد اور مال و زر کی کثرت ہوگی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا جو اہل ایمان کو طعن دیتے تھے اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے پاس زندگی کا سارا سازو سامان ہے جب کہ مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں ہمارے گھر بہتر ہیں ، اور ہماری مجلسیں اچھی ہیں ، نوکر چاکر ہیں اور پشت پر دوست احباب ہیں ، پھر وہ اہل ایمان سے کہتے کہ بتاؤ ہماری حالت اچھی ہے یا تمہاری ، اللہ نے ایسے بیہودہ خیالات کا رد فرمایا اور اس کا الزامی اور حکیمانہ جواب بھی دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے ہدایت کے سامان کی زیادتی کا ذکر فرمایا ، اور باقی رہنے والی نیکیوں کے اچھے بدلے کا تذکزہ فرمایا اب آج کی آیات…
Read the full tafseer →اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا 77ۭ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَبِاٰیٰـتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالاً وَّوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَعِنْدَالرَّحْمٰنِ عَہْدًا۔ کَلَّا ط سَنَکْتُبُ مَایَقُوْلُ وَنَمُدُّلَـہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا۔ وَّنَرِثُـہٗ مَایَقُوْلُ وَیَاْ تِیْنَا فَرْدًا۔ (مریم : 77، 78، 79، 80)
(بھلا آپ نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیات کا منکر ہوا اور کہا کہ مجھے مل کر رہے گا مال اور اولاد۔ کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے۔ ہرگز نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔ اور جن چیزوں کا وہ مدعی ہے اس کے وارث ہم بنیں گے اور وہ ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں کفر اور سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کی جا رہی تھی۔ جس میں یہ کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ظالموں کو مہلت دیتا ہے اس کے بعد مختصر طور پر ہدایت یافتہ لوگوں کا ذکر اور ان کے بہترین انجام کا بیان فرمایا۔ اب پھر کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ ذہن کی ترجمانی کی جا رہی ہے۔
کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ خیال رکھنے والا شخص یہ سوچتا ہے کہ جس طرح دنیا میں اسے نوازا گیا ہے اسی طرح ہی آخرت میں اسے نوازا جائے گا۔ مکہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو نہ صرف یہ ذہن رکھتے تھے بلکہ اس بات کا برملا اظہار کرتے تھے جس بنا پر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کیا آپ نے اس شخص کی گفتگو…
Read the full tafseer →کافروں کے بڑے بول کا جواب :
77: اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُ وْتَیَنَّ مَالاً وَّ وَلَدًا ( کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے ضرور مال اور اولاد دیا جائے گا) وَلَدَ کا لفظ وائو کے ضمہ اور لام کے سکون کے ساتھ چار مقام پر حمزہ اور علی نے پڑھا ہے (1) اس آیت میں (2) سورة زخرف میں (3) سورة نوح میں اس سورت میں یہ ولد کی جمع ہے جیسے اسد اسد میں یا بمعنی ولد کے ہے جیسے عُرب اور عَرب۔
فائدہ : اشیاء کو آنکھوں سے دیکھنا علم کا راستہ ہے اور اس سے صحیح اطلاع حاصل ہوتی ہے اس لئے اہل عرب نے ارئیت کو اخبر کے معنی میں استعمال کیا ہے اور فاء جو ہے…
Read the full tafseer →77۔ افرائیت الذی کفر بایاتنا وقال لاتین مالاو ولدا، ، مسروق سے روایت ہے کہ وہ خباب نے بیان کیا۔ حضرت خباب نے بیان کیا کہ میں لوہاری کا کام کرتا تھا۔ میں نے عاص بن وائل کا کچھ کام بنایا، اور میری مزدوری اس کے پاس جمع ہوگئی۔ ایک روز مزدوری مانگنے میں اس کے پاس گیا ۔ عاص نے جواب دیا، خدا کی قسم جب تک تو محمد ﷺ کا انکار نہیں کرے گا میں تیراقرض ادا نہیں کروں گا، میں نے کہا خوب سن لے خدا کی قسم جب تک تومرکردوبارہ زندہ ہوکراٹھے گا اس وقت تک میں بھی کفر نہیں کروں گا۔ عاص بولا کہ کیا مرنے کے بعددوبارہ زندہ کرکے اٹھایاجاؤں گا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، افرائیت الذی کفر بایاتنا وقال لاوتین مالاو ولدا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
77۔ 82:۔ صحیح بخاری ومسلم میں خباب بن ارت ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس میں خباب ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں کے ایک شخص عاص بن وائل پر میرا کچھ قرضہ آتا تھا میں جب اپنا قرضہ مانگنے کو اس کے پاس گیا تو اس نے کہا ادا کردوں گا، عاص بن دائل نے یہ سن کر کہا کہ اگر مر کر پھر جان سچ ہے تو تم مسلمانوں کے عقیدہ کے موافق وہاں جنت میں میرے پاس مال و اولاد سب کچھ ہوگا پھر وہیں میں تمہارا قرضہ ادا کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے ان منکرین قرآن کا حال دیکھا اور ان کی باتیں سنیں کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
آیت 76
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد، کہ وہ ظالموں کی گمراہی کو اور زیادہ کردیتا ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں، اپنے فضل و کرم اور رحمت سے مزید اضافہ کردیتا ہے۔۔۔ اور ہدایت، علم نافع اور عمل صالح دونوں کو شامل ہے۔ پس ہر وہ شخص جو علم و ایمان اور عمل صالح کے راستے پر گامزن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور زیادہ علم و ایمان عطا کرتا ہے اور اس راستے میں اس کے لئے آسانی کردیتا ہے اور اسے بعض ایسے امور عطا کرتا ہے جو اس کے اپنے کسب کے تحت نہیں آتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے جی اس کہ سلف صالح کا قول ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →85 منکرین آخرت کے ایک زعم باطل کا ذکر وبیان : کہ اگر بالفرض آخرت ہوتی بھی تو وہاں بھی اسی کو مال و اولاد سے نوازا جائے گا۔ سو اس کا حال تعجب کے لائق اور عبرت کے قابل ہے کہ آخرت کے انکار سے آدمی کس درجہ ڈھیٹ، کتنا لاپرواہ اور کس قدر غافل و لا ابالی بن جاتا ہے کہ وہ اپنے انجام کار کی فکر کرنے کی بجائے حق اور حقیقت کا اس طرح مذاق اڑاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ صحیح بخاری (رح) ومسلم وغیرہ کی روایت کے مطابق یہ آیتیں عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئیں کہ جب حضرت خباب ؓ نے اس سے اپنا حق مانگا تو اس پر اس ملعون نے کہا کہ میں تمہیں تمہارا حق نہیں دوں گا۔ یہاں تک کہ تم محمد کا انکار کرو۔ تو اس کے جواب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–82
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ف 7 اوپر کی آیات میں صحت حشر کے دلائل بیان فرمائے اور ان ن کے شبہات کا ازالہ فرمایا اب ان کا قوال نقل فرمایا جو حشر میں طعن کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے تھے صحیحین میں ہے کہ حضرت خباب بن ادت لوہار کا کام کرنے تھے اور ان کا عاص بن وائل (ایک ملدار کافر) پر کچھ قرض تھا۔ وہ ایک روز) تقاضے کے لئے اس کے پاس گئے کافر کہنے لگا ” میں تمہارا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک تم محمد (ﷺ) کی رسالت سے انکار نہ کردو “ خباب نے کہا ” اللہ کی قسم میں محمد ﷺ کی رسالت سے ہرگز انکار نہ کروں گا یہاں تک کہ تم مر کردو بد “ زندہ ہوجائو ” کافر کہنے لگا “ جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو تم میرے پاس آنا، اس وقت میرے…
Read the full tafseer →(19:77) افرأیت۔ أ استفہام کے لئے ہےتعقیب کے لئے ہے یعنی ازاں بعد۔کے استعمال برائے تعقیب کی مثال حسبہ فقتلہ۔ اس نے اس کو قید کیا پھر اس نے اس کو قتل کردیا۔ یا دخلت البصرۃ فبغداد میں بصرہ میں داخل ہوا پھر بغداد میں۔ یہاں اس آیت میں اس سے یہ مطلب لیا جائے گا۔ اخبر بقصۃ ھذا الکافر عقیب حدیث اولئک الذین قالوا : ای الفریقین خیر مقاما (آیۃ 73) وعقیب من قال : ء اذا ما مت الخ (آیۃ 66) یعنی ان لوگوں کے قصہ کے بعد جنہوں نے کہا : ای الفریقینالخ یا اس شخص کے قصہ کے بعد جا نے کہا۔ ء اذا ما متالخ اب اس شخص کا قصہ بتائیے (الذی کفر بایتنا) جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا
صاحب الاتقان فرماتے ہیں : جب ہمزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80
تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 80
انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
شان نزول : بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت حباب بن ارت ؓ کا زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا۔ وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض ادا نہ کروں گا جب تک تم سید عالم محمد مصطفیٰ کے منکر نہ ہوجاؤ، اور کفر اختیار نہ کرو۔ خباب نے فرمایا :" ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے "۔ وہ کہنے لگا کہ کیا مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا، وہ کہنے لگا " ہاں !" ۔ عاص نے کہا :" تو پھر مجھے چھوڑیئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں، اور مجھے مال و اولاد ملے۔ جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا " اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ :" وہ جو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
[29] یہ ان کی باتوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور شان و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلے میں سرکشی کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ مال و اولاد یا دنیوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–86
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…
Read the full tafseer →-77 اے پیغمبر ! بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری آیات کے ساتھ کفر و انکار کی روش اختیار کرتا یعنی جن آیات الٰہی پر ایمان لانا چاہئے یہ ان کا انکار کرتا ہے اور باوجود کفر کے یوں کہتا ہے کہ مجھ کو یقینا مال اور اولاد مل کر رہے گا۔
یہ عاص بن وائل کا قول ہے جو اس نے ایک مسلمان جناب بن ارت کی مزدوری مانگنے پر بطور استہزاء کہا تھا یا مشروط طور پر کہا ہوگا کہ اگر دوبارہ زندگی ہوئی اور قیامت میں اٹھنا ہوا تو وہاں میرا سب کچھ مل جائے گا وہاں تجھ کو مزدوری دیدوں گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک کافرمال دار ایک لوہار کو کہنے لگا تو مسلمانی سے منکر ہو تو میں تیری مزدوری دوں اس نے کہا کہ تو مرے پھر…
Read the full tafseer →ف 6۔ خباب بن ارت صحابی لوہار کا کام کرتے تھے، ان کا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمہ رہ گیا تھا، انہوں نے ایک بار تقاضا کیا تو عاص نے جواب دیا کہ جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہ کرے گا تیرے دام نہ دوں گا، انہوں نے کہا کہ اگر تو مر کر بھی زندہ ہوگا جب بھی کفر نہ کروں گا، اس نے کہا پس جب یہ بات ہے کہ میں مر کر بھی زندہ ہونے والا ہوں تو میرے پاس جب ہی آنا، میرے پاس اس وقت بھی مال اولاد سب کچھ ہوگا۔ تیرے دام بھگتا دوں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →وہ جو مال و دولت اور نفرواولاد کے نشہ میں مبتلا ہے اور آیات الہی کو جھٹلاتا ہے :
77۔ مضمون ایک بار پیچھے کی طرف چلایا جا رہا ہے اور گزشتہ مغروروں کی بات دو بار کی جا رہی مثل ہے کہ شرم آنکھوں میں ہے آنکھیں بند کرکے جو چاہئے کہے جاؤ ، جب تم نہیں دیکھ رہے تو تمہاری بلا سے کہ تم کو کون کون دیکھ رہا ہے ؟ فرمایا مغرور ہے جو ہے لیکن ڈھیٹ کتنا ہے کہتا ہے کہ تم مجھے خواہ کتنا ہی گمراہ و بدکار کہتے رہو اور عذاب الہی کے ڈراوے دیا کرو میں تو آج بھی تم سے زیادہ خوشحال ہوں اور آئندہ بھی مجھ پر نعمتوں کی بارش ہوتی رہے گی میری دولت دیکھو ‘ میری وجاہت اور ریاست دیکھو ‘ میرے نامور بیٹوں کو دیکھو ‘ میری زندگی…
Read the full tafseer →Commentary
لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا ("I shall certainly be given wealth and children". - 19:77) Bukhari and Muslim relate the story of Sayyidna Khabab Ibn Al-'Aratt ؓ who had lent some money to ` As Ibn Wa’ il. When pressed to return the loan, ` As Ibn Wa’ il said that he would not make the payment until he (Sayyidna Khabab ؓ dissociated himself from the Holy Prophet ﷺ . Sayyidna Khabab ؓ replied that he would never do that - not until ` As was dead and rose to life again. At this ` As Ibn Wa’ il said, "What? Will I be brought to life again after I am dead? If so I will repay the loan…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
47. The boastful person was not a particular man but a typical chief of the disbelievers of Makkah. Everyone of them claimed: Howsoever you may call me an erroneous and un-righteous person and threaten me with the divine scourge, the fact is that I am more prosperous than you today and shall continue being blessed with favors in future as well. Just have a look at my riches, at my grandeur and at my estate, and at my well-known sons, and then say where you see any signs of the wrath of God.
Read the full tafseer →