گمراہوں کی گمراہی میں ترقی۔
جس طرح گمراہوں کی گمراہی بڑھتی رہتی ہے اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت بڑھتی رہتی ہے جیسے فرمان ہے کہ کوئی سورت اترتی ہے تو بعض لوگ کہنے لگتے ہیں تم میں سے کس کو اس نے ایمان میں زیادہ کردیا ؟ الخ، باقیات صالحات کی پوری تفسیر ان ہی لفظوں کی تشریح میں سورة کہف میں گزر چکی ہے۔ یہاں فرماتا ہے کہ یہی پائیدار نیکیاں جزا اور ثواب کے لحاظ سے اور انجام اور بدلے کے لحاظ سے نیکوں کے لئے بہتر ہیں۔ عبدالرزاق میں ہے کہ ایک دن حضور ﷺ ایک خشک درخت تلے بیٹھے ہوئے تھے اس کی شاخ پکڑ کر ہلائی تو سوکھے پتے جھڑنے لگے آپ نے فرمایا دیکھو اسی طرح انسان کے گناہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 46
یعنی ہر آزمائش کے موقع پر اللہ تعالیٰ ان کو صحیح فیصلے کرنے اور صحیح راستہ اختیار کرنے کی توفیق بخشتا ہے، ان کو برائیوں اور غلطیوں سے بچاتا ہے اور اس کی ہدایت و رہنمائی سے وہ برابر راہ راست پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ مَّرَدًّا، باقیات صالحات کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں جس کی تفصیل سورة کہف میں گزر چکی ہیں اور مختار قول یہی ہے کہ اس سے مراد وہ تمام طاعات اور نیک کام ہیں جن کے فوائد باقی رہنے والے ہیں۔ مردا کا لفظ بمعنے مرجع ہے مراد انجام و عاقبت ہے۔ مراد آیت کی واضح ہے کہ اعمال صالحہ ہی اصل دولت ہیں جن کا ثواب بڑا اور انجام دائمی راحت ہے۔
Read the full tafseer →وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَرَدًّا
اہل ایمان کو بشارت : یہ آیات اوپر کی آیات 75 کے مقابل میں ہے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ہدایت پر ضلالت کو ترجیح دینے والوں کی رسی دراز کرتا ہے اسی طرح ہدایت اختیار کرنے والوں کی ہدایت میں بھی، برابر اضافہ پر اضافہ فرماتا ہے اور عاقل کے نزدیک دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہوتی کہ کسی کام کا فوری نفع کیا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اپنے اجر وثواب اور اپنے انجام و مآل کار کے اعتبار سے کونسا کام بہتر ہے۔ دنیا کے پرستار صرف نفع عاجل کو دیکھتے ہیں انہیں اس سے بحث نہیں کہ مرنے کے بعد کیا…
Read the full tafseer →76۔ 1 اس میں ایک دوسرے اصول کا ذکر ہے جس طرح قرآن سے، جن کے دلوں میں کفر اور شرک و ضلالت کا روگ ہے۔ ان کی بدبختی و ضلالت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے، اسی طرح اہل ایمان کے دل ایمان و ہدایت میں اور پختہ ہوجاتے ہیں۔
76۔ 2 اس میں فقرا مسلمین کو تسلی ہے کہ کفار و مشرکین جن مال و اسباب پر فخر کرتے ہیں، وہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے اور تم جو نیک اعمال کرتے ہو، یہ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔ جن کا اجر وثواب تمہیں اپنے رب کے ہاں ملے گا۔ اور ان کا بہترین صلہ اور نفع تمہاری طرف لوٹے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
34: اس سے مراد پل صراط ہے جو دوزخ ہی پر بنا ہوا ہے، اور اس پل پر سے ہر شخص کو گذرنا ہوگا، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، نیک ہو یا بد عمل، پھر جیسے اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ نیک لوگ تو اس پل سے اس طرح گذر جائیں گے کہ انہیں دوزخ کی ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور کافر اور بد عمل لوگوں کو دوزخ میں گرا دیا جائے گا۔ پھر جن کے دلوں میں ایمان ہوگا۔ انہیں تو اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جن کے دلوں میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ وہ دوزخ میں پڑے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ اور نیک لوگوں کو دوزخ سے گذارنے کی حکمت یہ بھی ہے کہ جہنم کا ہولناک نظارہ دیکھنے کے بعد جنت کی…
Read the full tafseer →والبقیت۔۔۔۔۔۔ وخیر مردا (91 : 67) ” اور باقی رہ جانے والی نیکایں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں “۔ ان تمام چیزوں سے بہتر ہیں جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں اور گمراہ ہوتے ہیں۔
اب کافروں کے فخر و مباہات کا ایک دوسرا نمونہ ملاحظہ ہو ۔ ان کی ایک دوسری بات جس پر تعجب کر کے سخت نکیر کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →8 یعنی جیسے گمراہوں کو گمراہی میں لنبا چھوڑ دیتا ہے، ان کے بالمقابل جو سوجھ بوجھ کی راہ ہدایت اختیار کرلیں ان کی سوجھ بوجھ اور فہم و بصیرت کو اور زیادہ تیز کردیتا ہے جس سے وہ حق تعالیٰ کی خوشنودی کے راستوں پر بگ ٹُٹ اڑے چلے جاتے ہیں۔
9 یعنی دنیا کی رونق رب کے ہاں کام کی نہیں۔ نیکیاں سب رہیں گی اور دنیا نہ رہے گی۔ آخرت میں ہر نیکی کا بہترین بدلہ اور بہترین انجام ملے گا۔
Read the full tafseer →وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ مَّرَدًّا ”
یہ مال و دولت دنیا سب یہیں کی چیزیں ہیں اور یہیں رہ جائیں گی۔ بقا اور دوام اگر کسی چیز کو ہے تو وہ نیک اعمال ہیں۔ انسان کے ساتھ عالم آخرت میں بھی نیک اعمال ہی جائیں گے۔ یہ بدلے کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور اس اعتبار سے بھی کہ بالآخر ہر کسی نے لوٹ کر اپنے انہی اعمال کے پاس ہی جانا ہے۔ جب کوئی نیک شخص جنت میں پہنچے گا تو اپنے نیک اعمال کو جنت کی نعمتوں کی شکل میں اپنا منتظر پائے گا۔ وہاں اسے بتایا جائے گا کہ یہ نعمتیں دراصل تمہارے وہ نیک اعمال ہیں جو تم نے دنیا میں سر انجام دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی…
Read the full tafseer →68 ہر واقعہ مومن کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے :۔ کافروں کی تو خوشحالی سے آزمائش ہوتی ہے اور ہر نعمت اور خوشحالی کے موقعہ پر ان کی گمراہی میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس مومنوں کے لئے ہر آزمائش مزیدہدایت کا سبب بن جاتی ہے۔ کوئی بھلائی اور نعمت ملے تو اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور دکھ پہنچے تو صبر و استقلال کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ غرض ہر حال میں وہ صابر و شاکر رہتے ہیں اور ہر نیا واقعہ وہ جیسا بھی ہو، ان کی مزید ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
69 اس کی تشریح کے لئے سورة کہف کی آیت نمبر 46 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →111۔ یعنی ایک تو وہ نعمتیں خود ہی اعلی درجہ کی، اور پھر باقی اور پائدار اور غیر منقطع۔ گویا آخری حالت اہل ایمان ہی کی بہتر ہوگی، بلحاظ کیفیت بھی بلحاظ کمیت بھی۔ (آیت) ” ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی “۔ تو مومن کا اصل سرمایہ تو یہی ہدایت خداداد ہے، اور اس پر کوئی حد مقرر نہ ہونے سے مفہوم یہ ہوا کہ باطنی ومعنوی ترقی کی کوئی حد نہیں۔ دوسرے عارفین نے کہا ہے کہ ایمان کے لیے مراتب متفاوت ہیں، جس جس طرح اصل مقصود غیر منتہی ہے، قصد ومنزل بھی غیر منتہی ہیں اور ہر سالک کے لیے ہادی کی ضرورت باقی ہے۔ (آیت) ” البقیت الصلحت “۔ سے مراد علاوہ ایمان کے کل اعمال صالحہ ہیں جن کا ثواب دائمی اور اجر غیر منقطع ہے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان آیات کے ذریعہ جن کو ان پر نازل کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تو وہ وہ طاعات ہیں جو طاعت گزار کے لئے باقی رہتی ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں یعنی وہ ثواب اور اجر جو اس کو حاصل ہوگا وہ بہتر ہوگا بخلاف اعمال کفار کے اور یہاں (اسم تفضیل) خیر کا استعمال ان کے قول اَیُّ الفریقین خیرٌ مقامًا کے مقابلہ میں ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ؟ جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ عاص ابن وائل ہے جس سے (حضرت) خباب ابن ارت نے کہا تھا کہ تو مرنے کے بعد (زندہ…
Read the full tafseer →حتی اذا راوما یوعدون اما العذاب واما الساعۃ فسیعلمون من ہو شر مکانا واضعف جندا یہاں تک کہ جس چیز کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے خواہ عذاب کو (دنیا میں) یا عذاب قیامت کو (مرنے کے بعد) جب وہ دیکھ لیں گے سو اس وقت جانیں گے کہ برا مقام اور کمزور مددگار کس کے ہیں۔
اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَۃَ مَا یُوْعَدُوْنَکی تفصیل ہے۔ عذاب سے مراد ہے دنیا میں قتل یاقید ہونا۔ الساعۃ سے مراد آخرت کی رسوائی اور عذاب ‘ حتیٰ کے بعد والا کلام ڈھیل دینے کی غایت ہے ‘ یعنی اللہ ڈھیل اس وقت تک دیتا ہے کہ عذاب دنیا یا عذاب آخرت (جو مرنے کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے۔ مترجم) سامنے آجاتا ہے جب عذاب کا وقت آجاتا ہے تو ڈھیل…
Read the full tafseer →(76) اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ دنیا میں شریعت کے ساتھ ہدایت بڑھاتا رہتا ہے یا یہ کہ جو حضرات ناسخ کے ذریعے سے ہدایت پر ہیں تو منسوخ کے ساتھ ان کو ہدایت عطا فرماتا ہے۔
اور پانچوں نمازیں جن پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ثواب عطا فرمائے گا وہ ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور آخرت میں انجام کے اعتبار سے بھی افضل ہیں۔
Read the full tafseer →وَيَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى : یعنی جس طرح گمراہوں کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ بدی کے راستے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اسی طرح ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی مزید نیک کام کرنے کی توفیق دیتا جاتا ہے، جس سے وہ اس کی خوشنودی کے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ایمان کے بعد اخلاص کی دولت سے نوازنا بھی ”زَادَھُمْ ھُدًی“ (انھیں ہدایت کی مزید توفیق دینا) میں داخل ہے۔ (کبیر)
وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة کہف کی آیت (46)۔
Read the full tafseer →(تفسیر 76) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویزید اللہ الذین اھتدواھدی اللہ تعالیٰ مومنین کو ہدایت پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ان کی نصرت میں اضافہ کرتا ہے اور ایسی آیات نازل فرماتا ہے جو یقین میں زیادتی کا سببب ہوتی ہیں یہ ان کے جزا کے لیے ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اور ناسخ و منسوخ کی تصدیق کی وجہ سے ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے جس کا دوسرے لوگ انکار کرتے ہیں ؛ یہ معنی کلبی اور مقاتل نھے بیان کیا ہے۔ ایک تیسرا احتمال بھی ہے ویزید اللہ الذین اھتدوا یعنی ہدایت یافتہ لوگوں کی جنت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ مفہوم پہلے مفہوم کے قریب ہی ہے۔ اعمال کی زیادتی اور ایمان و ہدایت کی زیادتی کا مفہوم سورة آل عمران…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–79
1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔
2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔
5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…
Read the full tafseer →[وَيَزِيْدُ : اور زیادہ کرتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [الَّذِينَ : ان لوگوں کو جنھوں نے ] [اهْتَدَوْا : ہدایت پائی ] [هُدًى: بلحاظ ہدایت کے ] [وَالْبٰقِيٰتُ : اور باقی رہنے والی ] [الصّٰلِحٰتُ : نیکیاں ] [خَيْرٌ: بہترین ] [عِنْدَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ] [ثَوَابًا : بلحاظ بدلے کے ] [وَّخَيْرٌ: اور بہتر ہیں ] [مَّرَدًّا : بلحاظ لوٹانے کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
بعض منکرین کے اس دعوے کی تردید کہ مجھے قیامت کے دن بھی اموال دیے جائیں گے
پہلی آیت کا سبب نزول حضرت خباب بن ارت ؓ سے یوں مروی ہے کہ میں ایک سنار تھا اور عاص بن وائل مشرک پر میرا قرضہ تھا۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے کے لیے آیا اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک تیرا قرضہ ادا نہیں کروں گا جب تک کہ تو محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہ کر دے، میں نے جواب میں کہا کہ اللہ کی قسم میں کبھی بھی محمد ﷺ کے ماننے سے منکر نہ ہوں گا یہاں تک کہ تو مرجائے پھر دوبارہ اٹھایا جائے اس پر عاص بن وائل نے کہا کہ کیا میں مرنے کے بعد اٹھایا جاؤں گا میں نے کہا ہاں تو ضرور اٹھایا جائے گا اس پر وہ کہنے لگا کہ اگر میں مرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–80
اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔
اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →53:۔ اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ایمان پر ثبات و استقلال عطا فرماتا ہے، و یثبت اللہ المومنین علی الھدی ویزیدھم فی النصرۃ الخ (قرطبی ج 11 ص 144) ۔ ” وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ “ مشرکین اور کفار دنیوی مال و زر پر مغرور اور ظاہری جاہ و جلال پر نازاں ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں فانی اور زوال پذیر ہیں۔ البتہ ایمان اور اعمال صالحہ باقی رہنے والی چیزیں ہیں۔ آخرت میں جن کا اچھا بدلہ ملے گا۔ اور نیک انجام ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ربط آیات :
گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جو لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ، غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہیں ، قیامت اور محاسبہ اعمال کے متعلق شک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے سرکشوں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیاطین کو اکٹھا کرے گا ، پھر تمام نافرمانوں کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ سب کے حالات کو بہتر جانتا ہے اور اس نے یہ قطعی فیصلہ کر رکھا ہے کہ تمام انسان جہنم پر سے گزریں گے مشرک اور کافر تو جہنم میں گر جائیں گے لیکن اہل ایمان اسے عبور کرکے جنت میں پہنچ جائیں گے ، اب آج کی آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ، ان آیات میں بھی کفار ومشرکین اور جزائے عمل کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور…
Read the full tafseer →وَيَزِيْدُ اللہُ الَّذِيْنَ اہْتَدَوْا ہُدًى 0ۭ وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ مَّرَدًّا 76
زاد
الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65]
( زی د ) الزیادۃ
اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی وجاہت اور سامان جس پر کافروں کو ناز ہے کچھ بھی نہیں چند روزہ ہے ہاں نیک اعمال ہی تادیر باقی رہتے ہیں اور خدا کے پاس جزا اور بدلہ کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں نیکوں کو آخرت میں نیک بدلہ اور عمدہ مرتبہ اور بہتر مکان ملے گا جو سدا رہے گا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَیَزِیْدُاللّٰہُ الَّذِیْنَ اھْتَدَوْا ھُدًیط وَالْبٰـقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌعِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ مَّرَدًّا۔ (مریم : 76)
(اور اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان لوگوں کی ہدایت میں جو ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اور باقی رہنے والے اعمالِ صالحہ تیرے رب کے نزدیک اجر کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور انجام کار کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں۔ )
ایک اور سنت اللہ کا بیان
اس آیت کریمہ میں ایک اور سنت الٰہی کا ذکر ہے وہ یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ نافرمانوں اور سرکشوں کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائیں یا پھر اپنے انجام کو بدتر سے بدتر بنالیں۔ اسی طرح وہ ان لوگوں کی ہدایت میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو ہدایت میں زیادہ کرتا ہے۔
منکرین حق کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت میں زیادہ کرتا ہے اچھے اعمال کرنے کی مزید توفیق عطا فرماتا ہے اچھے اعمال ہی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ایسے لوگ ہی آپ کے رب کے نزدیک اجر وثواب اور نتیجہ کے اعتبار سے بہتر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ منکرین حق کے مقابلہ میں نہ صرف ہدایت میں اپنے بندوں کو مضبوط اور زیادہ کرتا ہے۔ بلکہ انھیں صالح اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
(مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْآخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤتِہِ مِنْہَا…
Read the full tafseer →76: وَیَزِیْدُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اھْتَدَوْا ھُدًی ( اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کیلئے ہدایت کو بڑھا دیتا ہے جنہوں نے ہدایت پائی)
نحو : اس جملے کا عطف فلیمدد پر ہے کیونکہ یہ خبر کی جگہ واقع ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے من کان فی الضلالۃ مدًا او یَمُدّلَہُ الرحمٰن ویزید فی ضلال الضلاَّل بخذلانہ و یزید المھتدی ای المؤمنین ھدًا۔ (جو آدمی گمراہی میں ہو اس کی گمراہی میں دراز کردیا جاتا ہے یا رحمٰن اس کی گمراہی کو دراز کرتے اور بڑھاتے ہیں اور گمراہ کی گمراہی میں اضافہ اس کو رسوا کرنے کے ذریعے ہوتا ہے اور ہدایت والوں یعنی مؤمنین کی ہدایت میں اضافہ کردیتے ہیں) ھدی مصدر سے مراد ہدایت پر ثابت قدمی یا یقین…
Read the full tafseer →76۔ ویزیداللہ الذین اھتدوا ھدی، ، اللہ ان کے ایمان اور یقین میں مزید اضافہ کریں گے۔ والباقیات الصالحات، ، ا س سے مراد اذکار اور اعمال صالحہ ہیں جن کا فائدہ کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ پہنچتا رہے گا، یعنی کافروں کو جو نعمتیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں وہ فانی بھی ہیں ۔ خیر عندربک ثوابا وخیرامردا، ، ان کا انجام اور ان کاٹھکانا۔
Read the full tafseer →76:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جن کی گمراہی قرآن شریف کی آیتیں سن کر دن بدن اور بڑھتی جاتی تھی اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے قرآن کی نصیحت سے دن بدن زیادہ نیک ہدایت پائی جیسے مثلا ہجرت سے پہلے مکہ میں فقط نماز فرض تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اچھی طرح ادا کرنے کی انہیں توفیق دی تھی ہجرت کے بعد جس زکوٰۃ روزوں اور حج کی آیتیں نازل ہوئیں تو ان لوگوں کے نیک عمل توفیق الٰہی کے سبب سے اور بڑھ گئے پھر فرمایا یہی نیک عمل ایسی چیز ہیں جن کا بدلہ بارگاہ الٰہی سے بڑھ جائیں گے اور عقبیٰ میں ایسے لوگوں کو بہت مذامت ہوگی اور بےوقت کی ندامت ان کے کچھ کام نہ آئے گی۔ معتبر سند سے مسند بزار میں ابوہریرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
آیت 76
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد، کہ وہ ظالموں کی گمراہی کو اور زیادہ کردیتا ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں، اپنے فضل و کرم اور رحمت سے مزید اضافہ کردیتا ہے۔۔۔ اور ہدایت، علم نافع اور عمل صالح دونوں کو شامل ہے۔ پس ہر وہ شخص جو علم و ایمان اور عمل صالح کے راستے پر گامزن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور زیادہ علم و ایمان عطا کرتا ہے اور اس راستے میں اس کے لئے آسانی کردیتا ہے اور اسے بعض ایسے امور عطا کرتا ہے جو اس کے اپنے کسب کے تحت نہیں آتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے جی اس کہ سلف صالح کا قول ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →83 راہ راست والوں کی ہدایت میں ترقی و اضافہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ راہ راست اپنانے والوں کو اللہ ان کی ہدایت میں مزید اضافہ کرتا اور ترقی دیتا ہے۔ جس سے وہ ہمیشہ خیر کی طرف بڑھتے اور ترقی کرتے جاتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں وہ دنیا میں امن و سکون والی پاکیزہ زندگی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور آخرت میں دائمی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے اپنے خالق ومالک کے فضل و کرم سے۔ سو یہ ہے وہ اصل اور انمول دولت جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ اس دنیا میں اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے نہ کہ دنیا کا وہ فانی مال و دولت جس پر ابنائے دنیا مست و مغرور ہیں۔ اور وہ اس کے کمانے اور جوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور وہ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–82
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…
Read the full tafseer →ف 5 ایمان اور جمیع اعمال صالحہ ان میں داخل ہیں کیونکہ ان کا نفع دائمی ہے باقیات صالحات سے مراد ہیں وہ اعمال جن کا ثواب مرنے کے بعد قائم رہتا ہے حدیث میں ہے کہ ” لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ بھی الہاقیات الصالحات میں سے ہیں۔ (دیکھیے سورة کہف آیت 3)6 لہٰذا فکر بھی انہی کی ہونی چاہیے نہ کہ دنیا کے چند روز عیش و آرام کی۔
Read the full tafseer →(19:76) اھتدوا۔ اھتداء (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے سیدھی راہ پائی۔ انہوں نے ہدایت پائی۔ اھتداء کا استعمال کبھی ہدایت طلب کرنے یا اس کے لئے کوشش کرنے یا کسی ہدایت یافتہ کی پیروی کے متعلق بھی ہوتا ہے۔
ھدی۔ اسم ومصدر (باب ضرب) ہدایت۔ ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی۔ اور اللہ ہدایت والوں کی ہدایت کو بڑھاتا ہے (جیسا کہ اس کے بالمخالف من کان فی الضللۃ فلیمدد لہ الرحمن مدا آیا ہے) ۔
البقیت الصلحت۔ موصوف، صفت، باقی رہنے والی نیکیاں۔ اس سے مراد ایمان کے علاوہ کل اعمال صالحہ ہیں جن کا ثواب دائمی اور اجر غیر منقطع ہے اس سے کوئی خاص و متعین عبادت نہیں ہے۔
مردا۔ ای مرجعا وعاقبۃ۔ مرجع۔ انجام۔ لوٹنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80
تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 80
انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان…
Read the full tafseer →مرنے کے بعد سوائے نیک عمل کے کچھ کام نہ آوے گا، خدا کا بیٹا بنانے کا جواب
اس آیت میں اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ وجاہت اور سامان جس پر کافروں کو ناز ہے ، کچھ بھی نہیں چند روزہ ہے۔ ہاں نیک اعمال ہی تادیر باقی رہتے ہیں، اور خدا کے پاس جزاء اور بدلہ کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں ۔ نیکوں کو آخرت میں نیک بدلہ اور عمدہ مرتبہ اور بہتر مکان ملے گا، جو سدا رہے گا۔ معتبر سند سے مسند بزاز میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" مال اور اولاد دنیا میں چھوڑ کر جانے کی چیزیں ہیں۔ ہاں جو عمل آدمی نے عمر بھر کئے ہیں، وہ مرنے کے بعد اس کے ساتھ جانے کی چیز ہے "۔ مسند امام احمد اور ابو داؤد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
[29] یہ ان کی باتوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور شان و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلے میں سرکشی کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ مال و اولاد یا دنیوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–86
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا جس طرح یہ قانون ہے کہ مجرموں کو اس وقت تک نہیں پکڑتا ، جب تک وہ گمراہی وہلاکت کی آخری منزلوں میں نہیں پہنچ جاتے اسی طرح اس کا یہ بھی قانون ہے کہ پاکباز لوگ جب اس کی ہدایت قبول کرلیتے ہیں تو وہ مزید توفیق واستعداء کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں کو معارف وحکم سے معمور کردیتا ہے ، وہ نیکی اور تقوی کی صحیح قدروقیمت سے آگاہ ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی کا نصب العین یہی قرار پاتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو کر رہیں انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو دنیائے فانی میں باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز مال و دولت نہیں سیم وزر ۔ تمہیں اولاد کی فراوانی نہیں ،…
Read the full tafseer →-76 اور جو لوگ ہدایت یافتہ اللہ تعالیٰ ان کو ازروئے ہدایت اور ترقی دیتا ہے اور جو نیک اعمال ہمیشہ کو باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک با عتبار ثواب کے بھی بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں۔ ہدایت یافتہ یعنی مسلمان تو ان کی ہدایت میں ترقی ہوتی رہتی ہے دنیا کی دولت نہ ہو تو نہ ہو جو اصل دولت ہے وہ ان کے پاس ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ ترقی اور بڑھوتری کرتا رہتا ہے ہدایت کی ترقی یہی کہ دین کی راہیں کھیلتی رہتی ہیں۔ عبادت میں لطف آتا ہے اور مزید ریاضت کو جی چاہتا ہے۔ یہی ان کے پاس سرمایہ ہے اور آخرت میں ان کے نیک اعمال جو باقیات الصالحات ہیں ان کا ثواب ملنے والا ہے اور ان اعمال کا…
Read the full tafseer →ف 5۔ پس ان کو ثواب میں بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی جن میں مکانات اور باغات سب کچھ ہوں گے، اور انجام ان اعمال کا ابدیت ہے ان نعمتوں کی، پس کیفیة و کمیة مسلمانوں ہی کی حالت اخیرہ بہتر ہوگی، اور اخیر ہی کا اعتبار ہے۔
Read the full tafseer →ہاں ! جو لوگ سیدھی راہ اختیار کرلیتے ہیں اللہ ان کی مدد کرتا ہے :
76۔ یہ آیت گذشتہ آیت کے مقابلہ میں نازل ہوئی جس نے قومی ترقی کے دونوں باوؤں کی وضاحت فرما دی اور تاریک پہلو کے ساتھ اس کا روشن پہلو بھی دکھا دیا ، فرمایا جہاں اللہ تعالیٰ ضلالت اختیار کرنے والوں کی رسی دراز کرتا ہے وہاں ہدایت اختیار کرنے والوں کی ہدایت میں بھی برابر اضافہ فرماتا ہے اور عقل وفکر رکھنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ کام کا فوی نفع کتنا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ مآل و انجام کے لحاظ سے فائدہ کس میں ہے ، دنیا کے بچاری وقتی فوائد کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ ان کو ایک بات اچھی طرح ازبر ہے کہ ” نو نقد چنگے تیرا ادھار مندے “…
Read the full tafseer →وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَّرَدًّا
''And the everlasting virtues are better with your Lord in respect of reward and better in their return". - 19:76
These words have been interpreted differently by different scholars as has been explained at some length in the commentary of Sarah Al-Kahf (سورۃ کھف). The more plausible interpretation, however, is that the words refer to submission to the commands of Allah and to good deeds, the benefits of which are everlasting.
مَّرَدًّا by means consequences, and the sense of this verse is that good deeds…
Read the full tafseer →46. That is, On every critical occasion, Allah guides them to make right decisions and helps them to adopt the right way, and protects them from evil and wrong things; thus they go on making more and more progress on the right way.
Read the full tafseer →