مشرکوں سے مباہلہ۔
ان کافروں کو جو تمہیں ناحق پر اور اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں اور اپنی خوش حالی اور فارغ البالی پر اطیمنان کئے بیٹھے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ گمراہوں کی رسی دراز ہوتی ہے انہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل دی جاتی ہے جب تک کہ قیامت نہ آجائے یا ان کی موت نہ آجائے۔ اس وقت انہیں پورا پتہ چل جائے گا کہ فی الواقع برا شخص کون تھا اور کس کے ساتھی کمزور تھے دنیا تو ڈھلتی چڑھتی چھاؤں ہے نہ خود اس کا عتبار نہ اس کے سامان اسباب کا۔ یہ تو اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی رہیں گے۔ گویا اس آیت میں مشرکوں سے مباہلہ ہے جیسے یہودیوں سے سورة جمعہ میں مباہلہ کی آیت ہے کہ آؤ ہمارے مقابلہ میں موت کی تمنا کرو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
سورة مَرْیَم 45
یعنی ان کا استدلال یہ تھا کہ دیکھ لو، دنیا میں کون اللہ کے فضل اور اس کی نعمتوں سے نواز جا رہا ہے۔
کس کے گھر زیادہ شاندار ہیں ؟ کس کا معیار زندگی زیادہ بلند ہے ؟ کس کی محفلیں زیادہ ٹھاٹھ سے جمتی ہیں ؟ اگر یہ سب کچھ ہمیں میسر ہے اور تم اس سے محروم ہو تو خود سوچ لو کہ آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم باطل پر ہوتے اور یوں مزے اڑاتے اور تم حق پر ہوتے اور اس طرح خستہ و در ماندہ رہتے ؟ مزید تشریح کے لیئے ملاحظہ ہو تفہیم القران، جلد سوم، حواشی 38، 37۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
خلاصہ تفسیر
اور جب ان منکر لوگوں کے سامنے ہماری (وہ) کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں (جن میں مومنین کا حق پر ہونا اور کفار کا باطل پر ہونا مذکور ہوتا ہے) تو یہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ (یہ بتلاؤ ہم) دونوں فریقوں میں (یعنی ہم میں اور تم میں دنیا میں) مکان کس کا زیادہ اچھا ہے اور محفل کس کی اچھی ہے (یعنی ظاہر ہے کہ خانگی اور مجلسی ساز و سامان اور اہل و اعوان میں ہم بڑھے ہوئے ہیں۔ یہ مقدمہ تو محسوس ہے اور دوسرا مقدمہ عرفی ہے کہ انعام و احسان اور عطاء نعمت اس شخص کے لئے ہوتا ہے جو دینے والے کے نزدیک محبوب اور پسند ہو، ان دونوں مقدموں سے ثابت ہوا کہ ہم اللہ کے محبوب و مقبول ہیں اور تم مغضوب…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلالَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ إِمَّا الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضْعَفُ جُنْدًا
سرکشوں کے معاملہ میں سنت الٰہی : یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں اور سرکشوں کے معاملہ میں اختیار فرماتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ اپنی دنیوی برتری کے زعم میں جو لوگ تمہارے انذار کا مذاق ارا رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرنے کے بجائے ضلال ہی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ ان کے عیش و آرام کو چھین لے یا ان کو فوراً عذاب…
Read the full tafseer →75۔ 1 علاوہ ازیں یہ چیزیں گمراہوں اور کافروں کو مہلت کے طور پر بھی ملتی ہیں، اس لئے یہ کوئی معیار نہیں۔ اصل اچھے برے کا پتہ تو اس وقت چلے گا، جب مہلت عمل ختم ہوجائے گی اور اللہ کا عذاب انھیں آ گھیرے گا یا قیامت برپا ہوجائے گی۔ لیکن اس وقت کا علم، کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ وہاں ازالے اور تدارک کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
34: اس سے مراد پل صراط ہے جو دوزخ ہی پر بنا ہوا ہے، اور اس پل پر سے ہر شخص کو گذرنا ہوگا، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، نیک ہو یا بد عمل، پھر جیسے اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ نیک لوگ تو اس پل سے اس طرح گذر جائیں گے کہ انہیں دوزخ کی ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور کافر اور بد عمل لوگوں کو دوزخ میں گرا دیا جائے گا۔ پھر جن کے دلوں میں ایمان ہوگا۔ انہیں تو اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جن کے دلوں میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ وہ دوزخ میں پڑے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ اور نیک لوگوں کو دوزخ سے گذارنے کی حکمت یہ بھی ہے کہ جہنم کا ہولناک نظارہ دیکھنے کے بعد جنت کی…
Read the full tafseer →ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے معجبین سے زیادہ صحیح راستے پر ہیں ‘ محض اس لیے کہ وہ دولت مند ہیں ‘ شاو شوکت والے ہیں۔ اچھا ان کی دولت اور شان میں اور اضافہ ہو ‘ اور اے محمد ﷺ تم ان کو یہ بد دعا دو کہ گمراہی میں یہ اور دور نکل جائیں۔ اللہ ان کی رسی اور دراز کردے۔ اہل ہدایت کو مزید ہدایت دے تاکہ یہ لوگ اپنے انجام تک پہنچ جائیں اور ان کا انجام یہی ہو سکتا ہے کہ یا دنیا میں ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں سزادی جائے اور یا آخرت میں ان کو سزا دی جائے۔ اس وقت پھر ان کو صحیح صورت حالات کا علم ہوجائے گا ‘ کہ کس کا مقام و مرتبہ اچھا ہے اور کون کمزور اور ناتواں اور بےبس ہے۔ اس وقت مسلمان بہت خوش…
Read the full tafseer →6 یعنی جو خود گمراہی میں جا پڑا اسے گمراہی میں جانے دے۔ کیونکہ دنیا جانچنے کی جگہ ہے۔ یہاں ہر ایک کو عمل کی فی الجملہ آزادی دی گئی ہے، خدا تعالیٰ کی عادت اور حکمت کا اقتضاء یہ ہے کہ جو اپنے کسب و ارادہ سے کوئی راستہ اختیار کرلے اس کو نیک و بد سے خبردار کردینے کے بعد اسی راستہ پر چلنے کے لیے ایک حد تک آزاد چھوڑ دے۔ اسی لیے جو بدی کی راہ چل پڑا اس کے حق میں دنیا کی مرفّہ الحالی اور درازئی عمر وغیرہ تباہی کا پیش خیمہ سمجھنا چاہیے۔ نیک و بد یہاں رلے ملے ہیں آخرت میں پوری طرح جدا ہوں گے۔ اصلی بھلائی برائی وہاں ملے گی۔
7 یعنی کفار مسلمانوں کو ذلیل و کمزور اور اپنے کو معزز و طاقتور سمجھتے ہیں۔ اپنے…
Read the full tafseer →آیت 75 قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلْیَمْدُدْ لَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا ج ”
یہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ اور قانون ہے کہ جو شخص فہم و شعور کے باوجود گمراہی میں پڑنا پسند کرلیتا ہے تو وہ اس کی رسّی دراز کرتا ہے اور اسے دنیوی نعمتوں سے نوازتا چلا جاتا ہے۔
فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدًا ”
دُنیوی زندگی تو ایک سراب کی مانند ہے۔ یا اس کی مثال ایک سٹیج ڈرامے کی سی ہے جس میں مختلف کرداروں کے مختلف بہروپ نظر آتے ہیں۔ مگر جب آخرت میں حقیقت کھل کر سامنے آئے گی تب انہیں پتا چلے گا کہ اصل میں مقام و مرتبہ اور طاقت و قوت کے لحاظ سے کون بڑھ کر تھا ؟ محمد ﷺ یا ابو جہل ؟
Read the full tafseer →67 انعامات کی فراوانی سے آزمائش :۔ اسکے بجائے اصل صورت حال یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ دنیا کے سازوسامان میں دل لگا کر اس کی دلفریبیوں پر ریجھ گئے ہوں اللہ تعالیٰ ان پر مزید انعامات کی بارش کئے جاتے ہیں اور اس انداز سے ان کی آزمائش کرتے ہیں۔ پھر اس کی بھی ایک حد مقرر ہوتی ہے۔ اگر اس عرصہ میں وہ اللہ کی طرف رجوع کرلیں اور دین حق کی طرف لوٹ آئیں تو فبہا ورنہ انھیں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ایسا عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے جیسا کہ سابقہ اقوام پر آچکا ہے اور اگر دنیا میں بچ جائیں تو قیامت کو تو ضرور انھیں اس سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ اس وقت انھیں قدر عافیت معلوم ہوجائے گی اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ…
Read the full tafseer →109۔ یہ اصل قانون تکوینی کا بیان ہے۔ یعنی کوئی قوم حکومت الہی سے متعلق کیسے ہی غلط سلط نظریے قائم کرے، دنیا میں اسے مہلت تو بہرحال ملتی ہی رہتی ہے اور گرفت اسی پر فورا نہیں ہوتی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت کے عموم میں اہل باطل کے احوال کا بقاء بھی داخل ہے پس احوال پر (جب وہ اعمال سے خالی ہوں) مغرور نہ ہونا چاہیے۔
110۔ یعنی آج جنہیں اپنی مجلسی قوت پر فخر اور اپنے تمدن پر ناز ہے، اور اسی کو وہ دلیل اپنی صداقت وحقانیت کی بنائے ہوئے، کل کشف حقائق کے وقت انہیں خود نظر آجائے گا کہ ان کے حمایتی اور ان کے جتھے والے بودے اور بےبس ہیں ! مکان اور جند اس آیت میں آیت نمبر 73 کے مقام اور ندی کے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
واذا تتلی علیھم آیتنا جب ان منکروں اور کافروں کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں مومنین کا حق پر ہونا مدلل اور معقول طریقہ سے ثابت کردیا جاتا ہے اور کافر کھسیانے اور لاجواب ہوجاتے ہیں تو (کھسیانی بلی کھمبا نوچے) کے مطابق اپنی کھسیاہٹ مٹانے کے لئے بےجوڑ اور بےتکی باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں یعنی قرآنی دعوت کا مقابلہ یہ کفار مکہ فقراء مسلمین اور اغنیاء اقریش اور ان کی مجلسوں اور مکانوں کے باہمی موازنے سے کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں عمار، بلال، صہیب ؓ جیسے لوگ ہیں ان کا دار المشورہ دار ارقم ہے جن کہ کافروں میں ابو جہل، نضر بن حارث، عتبہ، شیبہ جیسے رئیس اور ان کی عالی شان کوٹھیاں اور مکانات…
Read the full tafseer →قل من کان فی الضللۃ فلیمددلہ الرحمن مدا (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں (یعنی تم) تو رحمن ان کو ڈھیل دیتا چلا جا رہا ہے۔
فَلْیَمدُدْاگرچہ امرکا صیغہ ہے لیکن خبر کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ جو شخص گمراہی میں اندھا ہوا ہوتا ہے ‘ اللہ اس کو اور ڈھیل دیتا ہے اور گمراہی کے اندر اس کو بڑھاتا اور مہلت دیتا رہتا ہے۔ بجائے خبر کے لفظ امر ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کے لئے مناسب بھی یہی ہے کہ اس کو ڈھیل دیتا رہے تاکہ کسی طور پر اس کو معذرت پیش کرنے کا موقع نہ رہے۔ (اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اللہ نے فرمایا ہے اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَا یَتَذَکَرُّ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ ۔
Read the full tafseer →(75) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجئے کہ جو کفر وشرک میں مبتلا ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کے مال واولاد میں اضافہ کرتا رہتا ہے آپ ان کی حالت کو کہ جب یہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے کہ جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ غزوہ بدر میں تلواروں کو یا قیامت کے دن دوزخ کے عذاب کو، تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں برا اور دنیا میں تنگ مکان کس کا ہے اور کمزور و مددگار کس کے ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ۔۔ : اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار سے کیا کہیں ؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو، آؤ ! مباہلہ کرلیں اور ہم تم دونوں مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم دونوں میں سے جو فریق گمراہی پر ہے اسے اللہ تعالیٰ ایک مدت تک مہلت دے اور اسے اس کی اسی حالت میں رکھے، تاکہ کفار جب اس استدراج اور مہلت کی وجہ سے کفر کی حالت میں فوت ہوں تو انھیں پتا چل جائے کہ کس کے رہنے کی جگہ بد ترین اور کس کا لشکر اور جتھا کمزور ترین ہے۔ اس تفسیر میں ”فَلْيَمْدُدْ“ کو اصل معنی ”امر“ پر رکھا گیا ہے۔ ابن کثیر اور ابن جریر نے صرف یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال سورة آل عمران کی آیت (61) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکم اھلکنا قبلہم من قرن، قرن سے مراد امت اور جماعت ہے، ھم احسن اثاثاً زیادہ مال و متاع مراد ہے۔ شاعر نے کہا :
وفرع یزین المتن اسود فاحم اثیث کفنو النخلۃ المستعثکل
الاثاث سے مراد گھر کا سازوسامان ہوتا ہے۔ بعض علما نے فرمایا : اثاث جو بچھایا جاتا ہے۔ الحرثی جو پہنا جاتا ہے۔ حسن بن علی طوسی نے یہ شعر کہا ہے :
تقادیم العھد من ام الولید بنا دھراً وصار اثاث البیت خرثیا
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ا ثاث سے مراد ہئیت ہے۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد کپڑے ہیں، وریاء یا خوبصورت منظر، اس میں پانچ قراتیں ہیں : اہل مدینہ نے وریا، بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے۔ اہل کوفہ نے ورئیا ہمزہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–79
1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔
2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔
5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [مَنْ : وہ جو ] [كَان : ہے ] [فِي الضَّلٰلَةِ : گمراہی میں ] [فَلْيَمْدُدْ : تو چاہیے کہ مہلت دے ] [لَهُ : اس کو ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن ] [مَدًّا : جیسے مہلت دیتے ہیں ] [حَتّٰٓی : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [رَاَوْا : وہ لوگ دیکھیں ] [مَا : اس کو جو ] [يُوْعَدُوْنَ : ان سے وعدہ کیا جاتا ہے ] [اِمَا : خواہ ] [الْعَذَابَ : عذاب کو ] [وَاِمَا السَّاعَةَ : اور یا قیامت کو ] [فَسَيَعْلَمُوْنَ : پھر وہ لوگ جان لیں گے ] [مَنْ : کون ہے (کہ)] [هُوَ : وہ ہی ] [شَرٌّ: برا ہے ] [مَّكَانا : بلحاظ جگہ کے ] [وَّاَضْعَفُ : اور زیادہ کمزور ہے ] [جُنْدًا : بلحاظ لائو لشکر کے ]
ترکیب : (آیت۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
کافروں کو ڈھیل دی جاتی ہے بعد میں وہ اپنا انجام دیکھ لیں گے
مال و اسباب پر فخر کرنے والوں کو اول تو یہ جواب دیا کہ ان سے پہلے کتنی جماعتیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور زیب وزینت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں انھیں ہلاک کردیا گیا پھر ارشاد فرمایا (قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلْیَمْدُدْلَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا) اس میں یہ بتایا کہ گمراہی پر ہوتے ہوئے سازو سامان نعمت نہیں ہے بلکہ یہ استدراج یعنی ڈھیل ہے اس ڈھیل کی وجہ سے اور زیادہ گمراہی میں ترقی کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی عذاب دنیوی کو یا موت کے وقت کی تکلیف کو تو اس وقت انھیں پتہ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–80
اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔
اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →52:۔ یہ زجر ہے۔ جو لوگ دنیوی مال و جاہ پر مغرور ہو کر گمراہی اور ضد وعناد میں منہمک ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور ڈھیل دے دیتا ہے یہاں تک کہ وعدہ کے مطابق اللہ کا عذاب آجائے۔ یا قیامت قائم ہوجائے۔ ” فَسَیَعْلَمُوْنَ الخ “ اب تو نہیں مانتے۔ لیکن اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ فریقین (مومنین اور کفار) میں سے برا ٹھکانا کس کا ہے اور کس کے انصار و اعوان کمزور ہیں دنیا میں مشرکین جن بزرگوں کو متصرف و کارساز سمجھ کر پوجتے اور پکارتے ہیں۔ ان کے بارے میں انکا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر آڑے وقت میں ان کے کام آئیں گے۔ لیکن خدا کا عذاب آنے پر کوئی کام نہیں آتا۔ اللہ کے سوا تمام سہارے بیکار اور کمزور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ربط آیات :
گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جو لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ، غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہیں ، قیامت اور محاسبہ اعمال کے متعلق شک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے سرکشوں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیاطین کو اکٹھا کرے گا ، پھر تمام نافرمانوں کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ سب کے حالات کو بہتر جانتا ہے اور اس نے یہ قطعی فیصلہ کر رکھا ہے کہ تمام انسان جہنم پر سے گزریں گے مشرک اور کافر تو جہنم میں گر جائیں گے لیکن اہل ایمان اسے عبور کرکے جنت میں پہنچ جائیں گے ، اب آج کی آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ، ان آیات میں بھی کفار ومشرکین اور جزائے عمل کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَۃِ فَلْيَمْدُدْ لَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا 0ۥۚ حَتّٰٓي اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَۃَ 0ۭ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَشَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدًا 75
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
1 ؎ یعنی ہم تم سے بلحاظ اعوان و انصار کے بہتر ہیں ہماری مجلسیں اعزہ و انصار سے بھری رہتی ہیں تم ذلیل و بیکس ہو پھر آخرت میں کیا تم ہم سے بڑھ کر ہو گے اور یہ معنی بھی ہیں کہ ہمارے مکانات عمدہ اور مجلسیں شاندار ہماری ہیں یا تمہاری۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰـلَۃِ فَلْیَمْدُدْلَـہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا 5 ج حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَۃَ ط فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ ھُوَشَرٌّمَّکَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدًا (مریم : 75)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں تو اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ ان کی رسی اچھی طرح دراز کرے حتیٰ کہ جب وہ دیکھ لیں اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے خواہ عذاب دنیا یا قیامت۔ تو وہ جان لیں گے کون مرتبے کے اعتبار سے بدتر ہے اور کون لائولشکر کے اعتبار سے کمزور تر ہے۔ )
اسلوب کی تبدیلی سے ایک حکمت کی طرف اشارہ
تشریح سے پہلے ترجمے کے حوالے سے ایک ضروری بات۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کو دنیوی وسائل ملنے کی وجہ۔
حق والوں کی اکثریت دنیا کی ترقی کے اعتبار سے منکرین حق سے پیچھے رہتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حق والے شریعت کی حدود وقیود کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں حق اور سچ کی پرواہ نہ کرنے والے دنیا کی ترقی میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس ترقی کی وجہ سے وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال اور معاملات پر راضی ہے جس وجہ سے اس نے ہمیں ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں نبی ﷺ کو فرمایا ہے کہ انھیں متنبہ فرما دیں۔ رب رحمٰن انھیں اس لیے ڈھیل دیے جا رہا ہے تاکہ قیامت یا اس سے پہلے ان سے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے انہیں اس…
Read the full tafseer →استدراج اور اس کا طریقہ :
75: قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰـلَۃِ (آپ کہہ دیں کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں) ضلالت سے یہاں کفر مراد ہے۔ فَلْیَمْدُ دْ لَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا (تو رحمٰن اس کو ڈھیل دیتا جار ہا ہے)
نحو : یہ مَنْ شرطیہ کا جواب ہے اور یہ امر خبر کے معنی میں ہے یعنی من کفر مَدَّلہ الرحمٰن یعنی اس کو مہلت دیتا ہے اور عمر بڑھا دیتا ہے تاکہ سرکشی اور گمراہی بڑھ جائے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ انما نُمْلِی لھم لیزدا دوا اثما البتہ امر کا صیغہ یہاں لایا گیا تاکہ اس کے لازم ہونے کو واضح کردیا جائے اور اس بات کو واضح کرنے کیلئے کہ یہ ہر صورت میں ہو کر رہے گا۔ جس طرح کہ مامور بہٖ انجام پذیر ہوتا…
Read the full tafseer →75۔ قل من کان فی الضلالۃ فلیمددلہ الرحمن مدا، ، یہ امر بمعنی خبر کے ہے مطلب یہ ہے کہ جو شخص گمراہی میں اندھا ہوا ہوتا ہے ، اللہ اس کو اورڈھیل دیتا ہے اور گمراہی کے اندر اس کو بڑھاتا ہے اور مہلت دیتا رہتا ہے۔ حتی اذا روامایوعدون اما العذاب، ، ان کو قید کرنا اور دنیا میں قتل کرنا ہے۔ واماالساعۃ ، ، اس سے قیامت مراد ہے وہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔ فسیعلمون ، ، اس وقت وہ جان لیں گے ، من ھو شرمکانا، ، وہ جگہ ، واضعف جندا، ، ان کے مددگار کم ہوں گے اور مومنین امن میں ہوں گے کیونکہ کفار تو دوزخ میں اور مومنین جنت میں ہوں گے ۔ یہ ان پر رد ہے۔ ، ای الفریقین خیرمقاما واحسن ندیا، ،۔
Read the full tafseer →75:۔ منکرین حشر اپنی دنیا کی خوشحالی کو اپنے حق میں بہتر جو سمجھتے تھے اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ دنیا کی خوشحالی ان لوگوں کے حق میں کچھ بھلائی کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ان کی حق میں ایک وبال کی چیز ہے کیونکہ اس خوشحالی کی حالت میں جس قدر ان کی عمر بڑھے گی اپنی خوشحالی کے نشہ میں اسی قدر یہ لوگ گمراہی کے کام زیادہ کریں گے جس کے وبال میں یا تو دنیا کا کوئی عذاب ان پر آجائے گا یا اگر ایسے حال میں یہ لوگ مرگئے تو قیامت کے دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ جن تنگ دست ایمانداروں سے اپنے آپ کو یہ لوگ اچھا جانتے تھے ان کا کیا انجام ہوا صحیح مسلم کے…
Read the full tafseer →آیت 75
جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی باطل دلیل کا ذکر کیا جو ان کے عناد کی شدت اور گمراہی کی قوت پر دلالت کرتی ہے، وہاں اس نے یہ بھی آگاہ فرما دیا کہ جو کوئی گمراہمی میں مستغرق اور اس پر راضی ہے اور گمراہی کے لئے کوشاں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی کو اور زیادہ کردیتا ہے اور گمراہی کے لئے اس کی چاہت میں اضافہ کردیتا ہے۔ یہ اس کے لئے اس جرم کی سزا ہے کہ اس نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ونقلب افدتھم وابصارھم کما لم یومنوا بہ اول مرۃ ونذر ھم فی طغیانھم یعمھون) (الانعام :11/6) ” اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے تو جیسے یہ پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →82 سرکشوں کے لیے خدائے رحمان کی سنت امہال کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خدائے رحمان گمراہوں کو فورا نہیں پکڑتا بلکہ ان کو ڈھیل دیئے جاتا ہے۔ جو کہ تقاضا ہے اس کے بےنہایت حلم اور بےپایاں کرم کا۔ تاکہ جس نے حق کی طرف رجوع کرنا ہو وہ رجوع کرلے اور اپنا معاملہ درست کرلے۔ اور جس نے رجوع نہ کرنا ہو وہ اپنا پلڑا برائیوں سے بھرلے تاکہ آخری اور حتمی انجام کو پہنچ سکے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدُادُوْا اِثْمًا وَّلہُمْ عَذَابٌ مُّھِیْن } ۔ (آل عمران : 178) ۔ اور تاکہ ان پر حجت پوری ہوجائے اور ان کیلئے عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ جیسا کہ دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–82
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی جس طرح گمراہوں کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ بدی کے راستے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اس طرح ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی مزید نیک کام کرنے کی توفیق دیتا جاتا ہے جس سے وہ اس کی خوشنودی کے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے ہیں پھر ایمان کے بعد اخلاص کی دولت سے نوازنا بھی ” زادھم ھدی “ میں داخل ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(19:75) من۔ یہاں شرطیہ ہے۔ جیسے من یعمل سوءا یجز بہ۔ (4:132) اگر کوئی برائی کرے گا اس کو اس کی سزا ملے گی۔ من کان فی الضللۃ اگر کوئی گمراہی میں پڑا رہتا ہے۔ اور جواب شرط میں فرمایا فلیمدد لہ الرحمن مدا الخ ۔
فلیمدد۔ جواب من۔ لیمدد۔ فعل امر واحد مذکر غائب۔ چاہیے کہ وہ ڈھیل دے لیکن یہاں امر بمعنی مضارع یعنی انشا بمعنی خبر آیا ہے۔ اور ترجملہ ہوگا۔ وہ اس کو ڈھیل دیتا رہتا ہے۔ ای من کفر مدلہ الرحمن یعنی امھلہ واملی لہ فی العمر۔ اگر کوئی کفر کرتا ہے تو رحمن اسے عمر میں مہلت دیتا ہے اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ کفر میں اپنی من مانی کرے اور اس پر حجت تمام ہوجائے اور بوقت گرفت اس کے پاس کوئی عذر نہ رہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80
تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 80
انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان…
Read the full tafseer →اے محبوب ﷺ ! آپ ان سے فرمادیجئے جو گمراہی میں پڑا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اسے مال و دولت اور ترقی دیتا ہے ۔ کیونکہ دنیا کے اسباب جس قدر زیادہ ہوں گے، اسی قدر نافرمانی بھی زیادہ ہوگی۔ اس لئے اس نافرمانی کی سزا بھی زیادہ ہوگی۔ واضح ہو کہ عذاب الہیٰ کبھی دنیا میں آیا کرتا ہے اور کبھی قبر میں، اور کبھی قیامت میں بھی ہوتا ہے، اور بعض کو تینوں جگہ عذاب دیا جائے گا۔ اور بعض کو دو جگہ، اور بعض کو ایک جگہ۔ اور جو سب سے زیادہ شقی ہیں، ان کو تینوں ہی جگہ عذاب ہوگا بلکہ دنیا میں تو سرتا پا راحت ہی میں بسر کریں گے، اور مرنے کے بعد عذاب سخت میں مبتلا رہیں گے، جو ابدالاآباد تک رہے گا یعنی ان پر سے عذاب ختم نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
[29] یہ ان کی باتوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور شان و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلے میں سرکشی کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ مال و اولاد یا دنیوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) کفار مکہ کے سامنے جب اللہ کی واضح تین آیتیں پڑھی ہوئیں اور ان کو اسلام کی طرف رعیت دی جاتی تو وہ کہتے کہ ہمارے لئے اسلام کیونکر خیروبرکت کا سبب ہو سکتا ہے ، جب کہ تم خود اچھی حالت میں نہیں ہو ، تم مفلس ہو ، کمزور وناتوان ہو ، اور ہمیں اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے ، ہماری حیثیت تم سے کہیں بلند ہے ہم شان و شوکت اور نام ونمود کے لحاظ سے تم سے بہت بڑھ کر ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کوتاہ نظر ہو ، تمہاری نگائیں ہمیشہ واقعات کی سطح پر رہتی ہیں ، تم نے کبھی اقوام کی تاریخ اٹھا کر دیکھی ہے ؟ تم نے کبھی قوموں کے عروج وزوال کی داستان سنی ہے اور تم نے کبھی کوشش کی ہے ، کہ ان تباہیوں اور ہلاکتوں…
Read the full tafseer →-75 اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے جو لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں رحمان ان کو ڈھیل اور طویل مہلت دیتا چلا جا رہا ہے ہیاں تک کہ جب وہ اس چیز کا معائنہ کرلیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ دنیا کا عذاب ہو یا قیامت کا تو وہ معلوم کرلیں گے اور ان کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ مکان و مسکن کے لحاظ سے کونسا فریق برا اور گروہ بندی اور حمایتیوں کے اعتبار سے کون سا فریق کمزور اور ضعیف ہے۔ یعنی کفار کے اعتراض اور طعن کا ایک جواب تو الزامی تھا جو پہلی آیت میں گزرا دوسرا تحقیقی تھا جو اس آیت میں فرمایا کہ مجرموں کو موقعہ دیا جاتا ہے۔ ڈھیل ملتی ہے سمجھ دار ڈھیل سے فائدہ اٹھا کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
ف 3۔ یعنی اس نعمت دنیوی میں یہ حکمت ہے کہ مہلت دے کر اتمام حجت کردے اور یہ مہلت چند روزہ ہے۔
4۔ یعنی دنیا میں جو اپنے اہل مجلس کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں وہاں معلوم ہوگا کہ ان میں کتنا زور ہے، کیونکہ وہاں تو زور میں اتنی کمی ہوگی کہ اصلا زور نہ ہوگا، اسی کو اضعف فرمایا۔
Read the full tafseer →فرمایا سنت اللہ یہی ہے کہ جو لوگ گمراہی کی طرف بڑھتے ہیں ان کو ڈھیل دی جاتی ہے ۔
75۔ فرمایا ان گمراہوں کے کانوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ نافرمانوں اور سرکشوں کے معاملہ میں سنت اللہ ہمیشہ یہی رہی ہے کہ ان کو عیش و آرام اور آسائش وفراوانی بہم پہنچائی جاتی ہے اور ان کو ڈھیل پر ڈھیل دی جاتی رہی ہے اور کبھی بھی ان کو فورا نہیں پکڑا گیا یہاں تک کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر نہ لیں اور خدائے رحمن کی حجت ان پر تمام ہوجائے ۔ رب ذوالجلال والاکرام کوئی کمزور ہستی نہیں ہے کہ اس کو کبھی اندیشہ لاحق ہو کہ اس کو فورا پکڑ لو تاکہ یہ شکار کہیں نکل نہ جائے نہیں نہیں ، اس اس کی تدبیر نہایت محکم اور پختہ ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
Commentary
خَيْرٌ مَّقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا
"Superior in respect of its place and better in respect of its assembly" - 19:73.
The infidels never relaxed their efforts to confuse and perplex the believers. They were very rich and possessed material wealth in great abundance. They had their retinues, their followers, friends and supporters. In contrast, the believers were poor and lacking in worldly assets. However, it is a common experience that material wealth turns people's heads and makes them unduly proud and arrogant, so that even the sensible and wise among them are led to believe…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
45. In response to the recital of clear revelations, instead of accepting their message, the unbelievers put such questions as these to the believers to show that they were in the right: Who has grander houses to live in? Who has a higher standard of life? Who enjoys splendid meetings? If we are enjoying all these things while you are deprived of them, you may decide for yourselves whether we, who are enjoying happy worldly lives, are in the wrong, or you who are living miserable lives of indigence are in the right? Also see (Surah Al-Kahf E.Ns 37-38).
Read the full tafseer →