Explained with ayahs 73–74
کثرت مال فریب زندگی۔
اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل وبرہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان وشوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پر تکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی اور بارونق ہیں ؟ پس ہم جو کہ مال ودولت، شان وشوکت، عزت وآبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں ہم اللہ کے پیارے ہیں یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں ؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے، کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کافروں نے کہا (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
سورة مَرْیَم 45
یعنی ان کا استدلال یہ تھا کہ دیکھ لو، دنیا میں کون اللہ کے فضل اور اس کی نعمتوں سے نواز جا رہا ہے۔
کس کے گھر زیادہ شاندار ہیں ؟ کس کا معیار زندگی زیادہ بلند ہے ؟ کس کی محفلیں زیادہ ٹھاٹھ سے جمتی ہیں ؟ اگر یہ سب کچھ ہمیں میسر ہے اور تم اس سے محروم ہو تو خود سوچ لو کہ آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم باطل پر ہوتے اور یوں مزے اڑاتے اور تم حق پر ہوتے اور اس طرح خستہ و در ماندہ رہتے ؟ مزید تشریح کے لیئے ملاحظہ ہو تفہیم القران، جلد سوم، حواشی 38، 37۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
خلاصہ تفسیر
اور جب ان منکر لوگوں کے سامنے ہماری (وہ) کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں (جن میں مومنین کا حق پر ہونا اور کفار کا باطل پر ہونا مذکور ہوتا ہے) تو یہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ (یہ بتلاؤ ہم) دونوں فریقوں میں (یعنی ہم میں اور تم میں دنیا میں) مکان کس کا زیادہ اچھا ہے اور محفل کس کی اچھی ہے (یعنی ظاہر ہے کہ خانگی اور مجلسی ساز و سامان اور اہل و اعوان میں ہم بڑھے ہوئے ہیں۔ یہ مقدمہ تو محسوس ہے اور دوسرا مقدمہ عرفی ہے کہ انعام و احسان اور عطاء نعمت اس شخص کے لئے ہوتا ہے جو دینے والے کے نزدیک محبوب اور پسند ہو، ان دونوں مقدموں سے ثابت ہوا کہ ہم اللہ کے محبوب و مقبول ہیں اور تم مغضوب…
Read the full tafseer →وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثًا وَرِئْيًا۔ قرن کے معنی ایک دور کے لوگ، امت اور قوم، رءی کے معنی نمود، منظر، شان و شوکت۔
مغروروں کے معارضہ کا جواب : ان معارضہ کرنے والوں کے جواب میں فرمایا کہ اسباب و سامان اور شان و شوکت کی زیادتی نہ تو کسی قوم کے خدا کے چہیتی ہونے کی دلیل ہے اور نہ یہ چیزیں خدا کی پکڑ سے بچانے والی ہیں۔ تاریخ میں کتنی ایسی قوموں کی مثالیں موجود ہیں جو اپنے سروسامان اور اپنی ظاہری چمک دمک کے اعتبار سے ان سے کہیں بڑھ کر تھیں لیکن جب انہوں نے خدا سے سرکشی کی تو وہ تباہ کردی گئیں۔ یہاں صرف ان قوموں کی طرف اشارہ ہے۔ دوسری سورتوں میں ان کی تفصیل…
Read the full tafseer →74۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، دنیا کی یہ چیزیں ایسی نہیں ہیں کہ ان پر فخر اور ناز کیا جائے، یا ان کو دیکھ کر حق وباطل کا فیصلہ کیا جائے۔ یہ چیزیں تو تم سے پہلی امتوں کے پاس تھیں، لیکن تکذیب حق کی پاداش میں انھیں ہلاک کردیا گیا، دنیا کا یہ مال و اسباب انھیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
34: اس سے مراد پل صراط ہے جو دوزخ ہی پر بنا ہوا ہے، اور اس پل پر سے ہر شخص کو گذرنا ہوگا، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، نیک ہو یا بد عمل، پھر جیسے اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ نیک لوگ تو اس پل سے اس طرح گذر جائیں گے کہ انہیں دوزخ کی ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور کافر اور بد عمل لوگوں کو دوزخ میں گرا دیا جائے گا۔ پھر جن کے دلوں میں ایمان ہوگا۔ انہیں تو اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جن کے دلوں میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ وہ دوزخ میں پڑے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ اور نیک لوگوں کو دوزخ سے گذارنے کی حکمت یہ بھی ہے کہ جہنم کا ہولناک نظارہ دیکھنے کے بعد جنت کی…
Read the full tafseer →ہوا یہ کہ ان کی اس شان و شوکت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ ان کے زیب وزینت نے ان کو عذاب الہٰی سے نہ بچا یا۔ جب ان پر ہلاکت آئی تو یہ سب ظاہر داریاں مٹ گئیں۔
یادرکھو ‘ انسان بہت جلد بھول جاتا ہے۔ اگر وہ ذرا بھی تاریخ کے اسباق یاد کرتا اور ذرا بھی غور کرتا تو وہ ان ظاہر داریوں پر کبھی غرور نہ کرتا حالانکہ انسانی تاریخ میں جو اقوام ہلاک ہوئیں ‘ ان کی ہلاکتوں اور بربادیوں میں بہت بڑا سامان عبرت ہے۔ تاریخ انسانی انسان کے دامن کو پکڑ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتی ہے کہ ذرا دیکھو ‘ خدا کے عذاب سے ڈرو ‘ اللہ کی پکڑ سے خوف کھائو۔ لیکن انسان ہے کہ سر نیچے کئے ہوئے اپنی غلط روش پر چل رہا ہے۔ وہ پیچھے کی طرف…
Read the full tafseer →5 یہ ان کی بات کا جواب دیا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو دنیا کے سازو سامان اور شان و ونمود میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلہ میں سرکشی کی اور تکبرو تفاخر کو اپنا شعار بنا لیا، خدا تعالیٰ نے ان کی جڑ کاٹ دی اور دنیا کے نقشہ میں ان کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ پس آدمی کو چاہیے کہ دنیا کی فانی ٹیپ ٹاپ اور عارضی بہار سے دھوکہ نہ کھائے۔ عموماً متکبر دولت مند ہی حق کو ٹھکرا کر نہنگ ہلاکت کا لقمہ بنا کرتے ہیں۔ مال اولاد یا دنیاوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 74 وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْیًا ”
قریش مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ قوم ہود علیہ السلام ‘ قوم صالح علیہ السلام اور قوم شعیب علیہ السلام جو اپنے اپنے رسول کی دعوت کو ٹھکرا کر ہلاکت سے دو چار ہوئیں وہ دنیوی شان و شوکت اور مال و اسباب کے اعتبار سے ان سے کہیں بڑھ کر تھیں۔
Read the full tafseer →66 مال ودولت کے پیمانوں سے دوسروں کی قدرو قیمت متعین کرنا۔ مال ودولت کی فراوانی اللہ کی رضا کی دلیل نہیں :۔ یوم آخرت کا انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کسی مقام پر تو کافر قرار دیا ہے اور کسی پر مشرک، مشرکین مکہ بھی آخرت کے منکر تھے۔ اس قسم کے منکروں اور دنیا دار لوگوں کا عمومی نظریہ یہی رہا ہے کہ اس دنیا میں مال و دولت کا مہیا ہونا اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی دلیل ہے اور اسی مال و دولت اور جاہ کے پیمانوں سے لوگوں کی قیمت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔ مشرکین مکہ کا بھی یہی انداز فکر تھا۔ انھیں جب ان کے انجام سے مطلع کیا جاتا تو ان کا یہ جواب ہوتا تھا کہ ہمارے مکانات،…
Read the full tafseer →108۔ جواب ملتا ہے کہ یہ ظاہری سازوسامان، یہ دولت و حکومت، یہ زرق برق لباس تہذیب و تمدن ہی اگر دلیل حقانیت و ثبوت صداقت ہوتا تو آخر بڑی بڑی پرشوکت، پر قوت، پر ثروت نافرمان قومیں کیوں غارت ہوگئیں ؟ بابل وکلدانیہ کا تمدن کیا ہوگیا ؟ اہرام مصر والی عمارتیں کیوں زمین کے برابر ہوگئیں ؟ شاہان عجم کا کروفردہ کیا ہوا ؟ یونانیوں کا دم خم کہاں چلا گیا۔ قیصروکسری کے تاج وتخت کیوں تاراج ہو کر رہے ؟ اور آج آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے زار روس کی حکومت قاہرہ کا تختہ کیسا الٹ کررہا۔ قیصر ولیم اور اس کے آہنی ارادے کیوں گمناہی کی نذر ہوگئے ؟ ہٹلر مع اپنے سارے سامان چنگیزی اور اتنے دم داعیہ کے کیوں فنا کے گھاٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
واذا تتلی علیھم آیتنا جب ان منکروں اور کافروں کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں مومنین کا حق پر ہونا مدلل اور معقول طریقہ سے ثابت کردیا جاتا ہے اور کافر کھسیانے اور لاجواب ہوجاتے ہیں تو (کھسیانی بلی کھمبا نوچے) کے مطابق اپنی کھسیاہٹ مٹانے کے لئے بےجوڑ اور بےتکی باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں یعنی قرآنی دعوت کا مقابلہ یہ کفار مکہ فقراء مسلمین اور اغنیاء اقریش اور ان کی مجلسوں اور مکانوں کے باہمی موازنے سے کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں عمار، بلال، صہیب ؓ جیسے لوگ ہیں ان کا دار المشورہ دار ارقم ہے جن کہ کافروں میں ابو جہل، نضر بن حارث، عتبہ، شیبہ جیسے رئیس اور ان کی عالی شان کوٹھیاں اور مکانات…
Read the full tafseer →وکم اہلکنا قبلہم من قرن ہم احسن اثاثا ورئیا۔ اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے قرن والوں کو تباہ کردیا جو دنیوی سامان اور ظاہری دکھاوٹ میں ان سے اعلیٰ تھے۔
ہر زمانہ والوں کو قرن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب زمانہ میں باہم مقارن ہوتے ہیں ‘ بغوی نے اثاثاً کا ترجمہ کیا ہے سروسامان اور مال ‘ مقاتل نے کہا کپڑے اور لباس۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے اثاث گھر کا سامان (اس وقت یہ لفظ اسم جنس ہوگا) اس کا واحد نہیں آتا اور اثاث کا معنی مال بھی ہے اس وقت اس کا واحد اثاثأ آتا ہے۔
رِیْءًاروایت سے ماخوذ ہے ‘ منظر ‘ دکھاوٹ ‘ بعض قراءتوں میں رِیًّا سیرابی آیا ہے۔ یعنی نعمتوں سے سیری۔
Read the full tafseer →(74) اور ہم نے ان قریش سے پہلے ایسی بہت سی جماعتیں ہلاک کی ہیں جو مال و اولاد اور مجالس ومحافل میں ان سے کہیں زیادہ اچھے تھے۔
Read the full tafseer →وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ۔۔ : ”اَثَاثًا“ گھر کا سازو سامان جس میں اونٹ، گھوڑے، بھیڑ بکریاں اور غلام وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ”رِءْیاً“ ”رَأَیَ یَرَی“ (ف) کا مصدر ہے، بمعنی مفعول یعنی دیکھنے کی چیزیں۔ مصدری معنی بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ ترجمہ میں کیا گیا ہے۔ یعنی جب نافرمانی کے بعد ان سے کہیں بڑھ کر سازو سامان اور شان و شوکت والوں کو ان کی دنیوی خوش حالی ہمارے عذاب سے نہ بچا سکی تو یہ بےچارے کس شمار و قطار میں ہیں ؟ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹھ باٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پرلے درجے کی حماقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکم اھلکنا قبلہم من قرن، قرن سے مراد امت اور جماعت ہے، ھم احسن اثاثاً زیادہ مال و متاع مراد ہے۔ شاعر نے کہا :
وفرع یزین المتن اسود فاحم اثیث کفنو النخلۃ المستعثکل
الاثاث سے مراد گھر کا سازوسامان ہوتا ہے۔ بعض علما نے فرمایا : اثاث جو بچھایا جاتا ہے۔ الحرثی جو پہنا جاتا ہے۔ حسن بن علی طوسی نے یہ شعر کہا ہے :
تقادیم العھد من ام الولید بنا دھراً وصار اثاث البیت خرثیا
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ا ثاث سے مراد ہئیت ہے۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد کپڑے ہیں، وریاء یا خوبصورت منظر، اس میں پانچ قراتیں ہیں : اہل مدینہ نے وریا، بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے۔ اہل کوفہ نے ورئیا ہمزہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–79
1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔
2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔
5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…
Read the full tafseer →[وَكَمْ اَهْلَكْنَا : اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں ] [قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے ] [مِّنْ قَرْنٍ : قومیں ] [هُمْ : وہ لوگ ] [اَحْسَنُ : زیادہ اچھے تھے ] [اَثَاثًا : بلحاظ سازو سامان کے ] [وَّرِءْيًا : اور بلحاظ ظاہری دکھاوے (Appearance) کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
کافروں کو ڈھیل دی جاتی ہے بعد میں وہ اپنا انجام دیکھ لیں گے
مال و اسباب پر فخر کرنے والوں کو اول تو یہ جواب دیا کہ ان سے پہلے کتنی جماعتیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور زیب وزینت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں انھیں ہلاک کردیا گیا پھر ارشاد فرمایا (قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلْیَمْدُدْلَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا) اس میں یہ بتایا کہ گمراہی پر ہوتے ہوئے سازو سامان نعمت نہیں ہے بلکہ یہ استدراج یعنی ڈھیل ہے اس ڈھیل کی وجہ سے اور زیادہ گمراہی میں ترقی کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی عذاب دنیوی کو یا موت کے وقت کی تکلیف کو تو اس وقت انھیں پتہ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–80
اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔
اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →51:۔ تخویف دنیوی۔ ” اَثَاثًا “ سازو سامان۔ ” رِءْيًا “ منظر۔ یہ دنیوی شان و شوکت پر ناز کرنے والے مشرکین مغرور نہ ہوں۔ ہم ان سے بھی زیادہ مال و دولت اور شان و شوکت والے قرنوں کے قرن تباہ و برباد کرچکے ہیں یہ بیچارے ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ربط آیات :
گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جو لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ، غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہیں ، قیامت اور محاسبہ اعمال کے متعلق شک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے سرکشوں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیاطین کو اکٹھا کرے گا ، پھر تمام نافرمانوں کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ سب کے حالات کو بہتر جانتا ہے اور اس نے یہ قطعی فیصلہ کر رکھا ہے کہ تمام انسان جہنم پر سے گزریں گے مشرک اور کافر تو جہنم میں گر جائیں گے لیکن اہل ایمان اسے عبور کرکے جنت میں پہنچ جائیں گے ، اب آج کی آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ، ان آیات میں بھی کفار ومشرکین اور جزائے عمل کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور…
Read the full tafseer →وَكَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا 74
هلك
الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه :
افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29]
- وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله :
وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام .
والثالث :
الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار :
وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] .
( ھ ل ک ) الھلاک
یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے
ایک یہ کہ
کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
1 ؎ یعنی ہم تم سے بلحاظ اعوان و انصار کے بہتر ہیں ہماری مجلسیں اعزہ و انصار سے بھری رہتی ہیں تم ذلیل و بیکس ہو پھر آخرت میں کیا تم ہم سے بڑھ کر ہو گے اور یہ معنی بھی ہیں کہ ہمارے مکانات عمدہ اور مجلسیں شاندار ہماری ہیں یا تمہاری۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَکَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ھُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِئْـیًا۔ (مریم : 74)
(اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چھوڑیں جو ان سے سازوسامان اور شان و شوکت میں کہیں بہتر تھیں۔ )
مغروروں کے معارضہ کا جواب
” قَرْن “ کے معنی ہیں ایک دور کے لوگ، امت اور قوم۔ ” الاثاث “ متاع البیت، یعنی گھر کے سامان کو کہتے ہیں۔ رِئْـیًا خوش منظر اور شان و شوکت پر بولا جاتا ہے۔ تاج العروس میں اس کی تشریح ان الفاظ سے کی گئی ہے۔ وھومارأتہ العین من حالۃ حسنۃ وکسوۃ ظاہرۃ ” وہ دلکش حالت اور ظاہری لباس جو آنکھوں سے دکھائی دے۔ “
اشرافِ قریش کی دلیل اور ان کے معارضہ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کو دنیوی وسائل ملنے کی وجہ۔
حق والوں کی اکثریت دنیا کی ترقی کے اعتبار سے منکرین حق سے پیچھے رہتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حق والے شریعت کی حدود وقیود کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں حق اور سچ کی پرواہ نہ کرنے والے دنیا کی ترقی میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس ترقی کی وجہ سے وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال اور معاملات پر راضی ہے جس وجہ سے اس نے ہمیں ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں نبی ﷺ کو فرمایا ہے کہ انھیں متنبہ فرما دیں۔ رب رحمٰن انھیں اس لیے ڈھیل دیے جا رہا ہے تاکہ قیامت یا اس سے پہلے ان سے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے انہیں اس…
Read the full tafseer →74: وَکَمْ اَھْلَکْنَاقَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ (ہم نے ان سے پہلے بہت سے قرن والوں کو تباہ کردیا)
نحو : کَمْ اھلکنا کا مفعول ہے اور مِنْ ابہام کی وضاحت کیلئے ہے مطلب یہ ہے بہت سے اہل زمانہ کو ہم نے ہلاک کیا اور ہر زمانے والے بعد والوں کیلئے اہل قرن ہیں۔ ھُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا ( جو کہ ان سے زیادہ اچھے تھے دنیوی سامان کے اعتبار سے )
نحو : یہ محل نصب میں کَمْ کی صفت ہے ذرا توجہ فرمائیں اگر تم ھُمْ کو چھوڑ دو تو اَحْسَن صفت کی وجہ سے منصوب ہوگا۔ اثاثا گھر کے سامان کو کہتے ہیں یا جو گھر کا بستر وغیرہ میں سے جو عمدہ ہو۔ وَّ رِئْ یًا (اور ظاہری دکھاوت میں) یعنی منظر وہیئت میں۔
نحو : فعیل کا وزن ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
تفسیر۔
73۔ واذا تتلی علیھم آیاتنا بینات، ، اس سے مراد واضح آیات ہیں۔ قال الذین کفروا ، ، اس سے مراد نضر بن حارث اور قریش کے بڑے سردار ہیں۔ للذین آمنو، ، آپ ﷺ کے غرباء صحابہ جو پراگندہ خشک بال ، زندگی بدحالی ، فرسودہ لباس اور مشرک مال دار تھے ۔ بالوں میں تیل ڈالتے ، کنگھا کرتے اور اعلی لباس و عمدہ لباس پہنتے ۔ ان لوگوں نے مومنین سے کہا، ای الفریقین خیر مقاما، ، ان کی جگہ اور ان کا مقام اور اقامت کی جگہ بہتر ہے۔ ابن کثیر نے مقاما ، میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ جائے اقامت ، واحسن ندیا، ندیا بمعنی مجلس کے ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے جواب دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
73۔ 74:۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ دنیا کا پیدا کیا جانا بلا نتیجہ گنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انتظام میں دنیا کے فنا ہونے کے بعد نیک وبد کی جزاو سزا کا فیصلہ جو ضروری ٹھہرا ہے اس کو یہ لوگ جھٹلاتے ہیں اسی واسطے جزا وسزا کی قرآن کی آیتیں جب ان کو سنائی جاتی ہیں تو تنگ دست ایماندار لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم حق پر ہوتے اور ہم ناحق پر ہوتے تو تم دنیا میں ایسے تنگدست اور ہم اس طرح کے خوشحال نہ ہوتے کیونکہ دنیا کی خوشحالی اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی نشانی ہے اللہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ ان سے پہلے بڑے بڑے خوشحال منکر حشر لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیے جا چکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73
جب ان کفار کے سامنے ہماری آیات بینات کی تلاوت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی صداقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں اور جو کوئی ان کو سنتا ہے اس کے لئے صدق ایمان اور شدت ایقان کا موجب بنتی ہیں۔۔۔ تو یہ ان آیات کا متضاد امور اور استہزا کے ساتھ اسمنا کرتے ہیں اور ان پر ایمان لانے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور دنیا میں اپنی خوش حالی سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اہل ایمان سے بہتر ہیں۔ پس وہ حق سے معارضہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (ای الفریقین) ” دونوں فریقوں میں سے کون۔ “ یعنی مومنین اور کفار میں سے (خیر مقاماً ) ” زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے “ یعنی دنیا میں کثرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →81 دنیاوی مال و دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک معیار قبول نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نہ تو دنیاوی مال و دولت کا ملنا اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہونے کی دلیل بن سکتا ہے اور نہ ہی یہ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے چھڑا سکتا ہے۔ سو اس سے پہلے کتنی ہی مالدار اور ترقی یافتہ قوموں کو ہلاک اور ملیامیٹ کردیا گیا مگر جب ان پر عذاب آیا تو اس وقت ان لوگوں کو ان کا مال اور ان کی شان و شوکت اس عذاب کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکے۔ سو معلوم ہوا کہ دنیاوی مال و دولت اور شان و شوکت نہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہونے کی دلیل ہے اور نہ ہی یہ اس کی پکڑ سے چھڑا سکتے ہیں۔ بلکہ کام آنے والی اصل اور حقیقی دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–87
غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا
تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–82
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ف 3 تو یہ کس شمارقطار میں ہیں۔ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹ بھاٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پر لے درجے کی حماقت ہے۔
Read the full tafseer →(19:74) کم من قرب۔ کتنی ہی قومیں۔ یعنی بہت سی قومیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ۔ کم من فئۃ قلیلۃ (2:249) کتنے ہی چھوٹے گروہ غالب آئے کثیر التعداد گروہوں پر یا وکم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ (21:11) اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر ڈالا۔
اثاثا۔ گھر کا اسباب ومال۔ گھر کا سازو سامان۔ رء یا۔ نمود۔ خود منظر۔ سامان آرائش وزیبائش رؤیۃ سے مشتق ہے بروزن فعل جیسے طحن۔ احسن اثاثا ورء یا۔ مال و اسباب اور نمائش و آرائش کے سازوسامان میں بڑھ چڑھ کر۔ بوجہ تمیز ہونے کے اثاثا و رء یا۔ منصوب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80
تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 80
انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ جب ہماری روشن دلیلیں کفار کو سنا دی جاتی ہیں ، تو ان دلائل کو سن کر یہ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ یہاں کس کو زیادہ مرتبہ اور دولت حاصل ہے اور راحت ہے۔ اسی کو آخرت میں بھی عزت اور راحت حاصل ہوگی، اور چونکہ تم یہاں تکلیف میں ہو، اس لئے وہاں پر بھی تکلف اٹھاؤ گے۔ اللہ پاک فرماتا ہے :" ہم نے بھی بلت سے کافروں کی جماعتوں کو ہلاک کیا جو اسباب اور نمود میں ان سے بہتر تھے۔ اس لئے لیہ ان کی دلیل غلط ہوگئی کیونکہ دینا پر آخرت کا قیاس کرنا حماقت ہے۔ دنیا میں کافروں کے لئے ڈھیل چھوڑتے ہیں اور جلدی مواخذہ نہیں لیتے ، لیکن جب ہم چاہتے ہیں عذاب دیتے ہں، وہ اس سے بچ نہیں سکتے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
[29] یہ ان کی باتوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور شان و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلے میں سرکشی کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ مال و اولاد یا دنیوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(ف 2) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے تاویل کے تین پہلو اختیار کئے ہیں ۔
1۔ اس سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ سیاق وسباق کا تقاضا ہے یعنی وہ لوگ جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں چلا آ رہا ہے کہ انہیں موت کے بعد اٹھایا جائے گا ، اور مکافات عمل کے اصول کے مطابق مناسب وموزوں سزا دی جائے گی ، سابقہ آیات اور اس میں صرف انداز بیان کا فرق ہے اس آیتوں میں تمام صیغے غائب کے ہیں ، اور اس آیت میں صیغہ خطاب کا ہے ، اور محض یہ تفاوت اس آیت کو دوسری آیتوں سے علیحدہ نہیں کرسکتا کیونکہ اس نوع کا اختلاف قرآن کی بیشمار آیتوں میں موجود ہے ، بلکہ بلاغت پر مبنی ہے ، ان کا تعلق ماسبق کی آیتوں سے منقطع نہیں ہوتا ، بات صرف یہ…
Read the full tafseer →-74 اور ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں اور گروہوں کو ہلاک و برباد کرچکے ہیں۔ جو باعتبار ساز و سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور نمود کے اعتبار سے ان سے کہیں اچھے تھے۔ یعنی دنیوی ساز و سامان اور سوسائٹی کی بلندی اور ظاہری نمود و نمائش عذاب الٰہی کو نہیں روک سکتی جس طرح پہلی جماعتیں برباد ہوگئی ہیں اسی طرح تم بھی برباد کردیئے جائو گے حالانکہ وہ جماعتیں ان سے کہیں اچھی اور بہتر تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
ف 3۔ یعنی اس نعمت دنیوی میں یہ حکمت ہے کہ مہلت دے کر اتمام حجت کردے اور یہ مہلت چند روزہ ہے۔
4۔ یعنی دنیا میں جو اپنے اہل مجلس کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں وہاں معلوم ہوگا کہ ان میں کتنا زور ہے، کیونکہ وہاں تو زور میں اتنی کمی ہوگی کہ اصلا زور نہ ہوگا، اسی کو اضعف فرمایا۔
Read the full tafseer →ان مغرور لوگوں کے غرور کا جواب بھی ان کو سنایا جائے گا :
74۔ فرمایا وہ سلوک جو اوپر ذکر کیا گیا وہ تو عملی ہوگا لیکن ان کے اس غرور کا ان جواب یقینا سنایا جائے گا کہ اب دیکھ لیا تم نے دنیا کی شان و شوکت اور مال واسباب کی زیادتی کس کام آئی ‘ اس نے تم کو خدا کا چہیتا بنا دیا ؟ یا ان ساری چیزوں نے جن پر تم کو بہت نازل تھا انہوں نے تم کو عذاب الہی سے نجات دے دی اور جو تمہارا خیال تھا وہ بالکل صحیح نکلا ؟ دنیاوی زندگی کی جو چمک تم نے دیکھی تھی اور جس مال و دولت پر تم ناز کرتے تھے آج وہ سب کچھ تمہارے کام آیا ؟ دنیا میں تو تم مربعوں کے مالک تھے اور مزید خریدنے کی تم کو ایسی دھن لگی تھی کہ دن رات تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
Commentary
خَيْرٌ مَّقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا
"Superior in respect of its place and better in respect of its assembly" - 19:73.
The infidels never relaxed their efforts to confuse and perplex the believers. They were very rich and possessed material wealth in great abundance. They had their retinues, their followers, friends and supporters. In contrast, the believers were poor and lacking in worldly assets. However, it is a common experience that material wealth turns people's heads and makes them unduly proud and arrogant, so that even the sensible and wise among them are led to believe…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
45. In response to the recital of clear revelations, instead of accepting their message, the unbelievers put such questions as these to the believers to show that they were in the right: Who has grander houses to live in? Who has a higher standard of life? Who enjoys splendid meetings? If we are enjoying all these things while you are deprived of them, you may decide for yourselves whether we, who are enjoying happy worldly lives, are in the wrong, or you who are living miserable lives of indigence are in the right? Also see (Surah Al-Kahf E.Ns 37-38).
Read the full tafseer →