Maryam 19:73

Maryam · from ayah 73

19:73

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا ۙ— اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِیًّا ۟وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ۙ اَىُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ خَيۡرٌ مَّقَامًا وَّاَحۡسَنُ نَدِيًّا

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who disbelieve say to those who believe, "Which of [our] two parties is best in position and best in association?"

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:73

اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں "بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیاده ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں، تو کافر لوگ مومنوں سے کہتے ہیں کہ : بتاؤ، ہم دونوں فریقوں میں سے کس کا مقام زیادہ بہتر ہے، اور کس کی مجلس زیادہ اچھی ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں: (اسی دنیا میں دیکھ لو! ہم) دونوں گروہوں میں سے کس کی رہائش گاہ بہتر اور مجلس خوب تر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان لوگوں سے کہتے ہیں جو ایمان لائے کہ دونوں گروہوں میں سے کون مقام میں بہتر اور مجلس کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ : بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کس کی حالت بہتر ہے اور کس کی مجلس اچھی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو ہماری واضح ٓیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کی راہ اختیار کر رکھی ہے وہ ایمان لانے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ فریقین میں سے اپنے مرتبہ اور سوسائٹی کے اعتبار سے کون بڑھ کر ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان لوگوں کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، ہماری آیتیں کھلی کھلی تو وہ لوگ جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر اپنے دنیاوی مال و اسباب کے بل بوتے پر ایسے لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ ذرا یہ تو بتاؤ کہ ہم دونوں گروہوں میں سے کس کی حالت زیادہ اچھی ہے ؟ اور کس کی مجلس زیادہ شاندار ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی نشانیاں سنائی جاتی ہیں۔ تو جو لوگ کافر ہیں وہ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ (ہم) دونوں فریقوں میں مکان کس کا بہتر ہے اور مجلس کس کی بہتر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو یہ کافر اہل ایمان سے کہتے ہیں کہ (دیکھو !) دونوں گروہوں میں سے کس کا مقام بہتر ہے اور کس کی مجلس اچھی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When Our clear revelations are recited to those who deny the Truth they are wont to say to those who have faith: "Which of the two groups has a better status and whose assemblies are grander?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When Our verses are recited to them in all their clarity, the disbelievers say to the believers, :Which of the two groups is superior in its place and better in its assembly?

— Muhammad Taqi Usmani

When Our verses are recited to them in all their clarity, the disbelievers say to the believers, :Which of the two groups is superior in its place and better in its assembly?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Our clear Ayat are recited to them, those who disbelieve say to those who believe: "Which of the two groups has the best dwellings and the finest Nadiyyan"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Our clear revelations are recited unto them, those who disbelieve say unto those who believe: Which of the two parties (yours or ours) is better in position, and more imposing as an army?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who disbelieve say to those who believe, "Which of [our] two parties is best in position and best in association?"

— Saheeh International

When Our revelations are recited to them, the unbelievers say to the faithful ones, "Which of us is more prosperous?"

— Muhammad Sarwar

And when Our clear communications are recited to them, those who disbelieve say to those who believe: Which of the two parties is best in abiding and best in assembly?

— Muhammad Habib Shakir

And when Our manifest revelations are rehearsed unto them, those who disbelieve say unto those who believe: which of the two portions is better in station and goodlier in company? *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

When Our Clear Signs are rehearsed to them, the Unbelievers say to those who believe, "Which of the two sides is best in point of position? Which makes the best show in council?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 73–74

کثرت مال فریب زندگی۔ اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل وبرہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان وشوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پر تکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی اور بارونق ہیں ؟ پس ہم جو کہ مال ودولت، شان وشوکت، عزت وآبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں ہم اللہ کے پیارے ہیں یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں ؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے، کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کافروں نے کہا (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 73–75

سورة مَرْیَم 45 یعنی ان کا استدلال یہ تھا کہ دیکھ لو، دنیا میں کون اللہ کے فضل اور اس کی نعمتوں سے نواز جا رہا ہے۔ کس کے گھر زیادہ شاندار ہیں ؟ کس کا معیار زندگی زیادہ بلند ہے ؟ کس کی محفلیں زیادہ ٹھاٹھ سے جمتی ہیں ؟ اگر یہ سب کچھ ہمیں میسر ہے اور تم اس سے محروم ہو تو خود سوچ لو کہ آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم باطل پر ہوتے اور یوں مزے اڑاتے اور تم حق پر ہوتے اور اس طرح خستہ و در ماندہ رہتے ؟ مزید تشریح کے لیئے ملاحظہ ہو تفہیم القران، جلد سوم، حواشی 38، 37۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–75

خلاصہ تفسیر اور جب ان منکر لوگوں کے سامنے ہماری (وہ) کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں (جن میں مومنین کا حق پر ہونا اور کفار کا باطل پر ہونا مذکور ہوتا ہے) تو یہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ (یہ بتلاؤ ہم) دونوں فریقوں میں (یعنی ہم میں اور تم میں دنیا میں) مکان کس کا زیادہ اچھا ہے اور محفل کس کی اچھی ہے (یعنی ظاہر ہے کہ خانگی اور مجلسی ساز و سامان اور اہل و اعوان میں ہم بڑھے ہوئے ہیں۔ یہ مقدمہ تو محسوس ہے اور دوسرا مقدمہ عرفی ہے کہ انعام و احسان اور عطاء نعمت اس شخص کے لئے ہوتا ہے جو دینے والے کے نزدیک محبوب اور پسند ہو، ان دونوں مقدموں سے ثابت ہوا کہ ہم اللہ کے محبوب و مقبول ہیں اور تم مغضوب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَيُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا۔ یہ ان مغروروں کی ذہنیت واضح کی جا رہی ہے کہ جب ان کو جزا و سزا اور عذاب دنیا و آخرت سے آگاہ کرنے والی نہایت واضح، مبنی بر دلائل آیتیں، پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو بڑی دیدہ دلیری سے وہ اہل ایمان سے یہ معارضہ کرتے ہیں کہ بتاؤ، مرتبہ و مقام، جاہ و منصب، اعوان و انصار، مجلس اور سوسائٹی کے اعتبار سے تمہارا درجہ اونچا ہے یا ہمارا ؟ اگر ہمارا درجہ اونچا ہے اور بالبداہت اونچا ہے، تو ہم کیونکہ باور کرلیں کہ ہم خدا کے غضب کے سزاوار ہیں اور ہم پر کوئی عذاب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

73۔ 1 یعنی قرآنی دعوت کا مقابلہ یہ کفار مکہ فقرا مسلمین اور اغنیائے قریش اور ان کی مجلسوں اور مکانوں کے باہمی موازنے سے کرتے ہیں، کہ مسلمانوں میں عمار، بلال، صہیب ؓ جیسے فقیر لوگ ہیں، انکا دار الشوریٰ دار ارقم ہے۔ جب کہ کافروں میں ابو جہل، نفر بن حارث، عتبہ، شیبہ وغیرہ جیسے رئیس اور ان کی عالی شان کوٹھیاں اور مکانات ہیں، ان کی اجتماع گاہ بہت عمدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–76

34: اس سے مراد پل صراط ہے جو دوزخ ہی پر بنا ہوا ہے، اور اس پل پر سے ہر شخص کو گذرنا ہوگا، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، نیک ہو یا بد عمل، پھر جیسے اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ نیک لوگ تو اس پل سے اس طرح گذر جائیں گے کہ انہیں دوزخ کی ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور کافر اور بد عمل لوگوں کو دوزخ میں گرا دیا جائے گا۔ پھر جن کے دلوں میں ایمان ہوگا۔ انہیں تو اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جن کے دلوں میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ وہ دوزخ میں پڑے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ اور نیک لوگوں کو دوزخ سے گذارنے کی حکمت یہ بھی ہے کہ جہنم کا ہولناک نظارہ دیکھنے کے بعد جنت کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بڑی بڑی مجلسیں اور عیش و طرب کی محفلیں اور وہ قدریں جن پر کبراء اور مترفین زمانہ اخلاقی فساد میں عمل پیرا ہوا کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بظاہر نچلے درجے کی سوسائٹیاں اور غربت و افلاس والوں کی محفلیں جن میں ایمان کے سوا اور کوئی سازو سامان کم ہی ہوتا ہے۔ نیز ان میں زیب وزینت اور شان و شوکت کم ہوتی ہے۔ نہ قیمتی لباس ہوتے ہیں اور نہ قیمتی جائے قیام۔ اس دنیا میں لوگ ان ہی چیزوں میں باہم مقابلہ کرتے ہیں اور ان ہی کی بنیاد پر طبقاتی امتیازات قائم ہوتے ہیں۔ اس مقابلے اور نمایش گاہ میں ‘ پہلے طبقے کے اسٹال پر بڑا بڑا دنیاوی سازو سامان ‘ مال و جمال ‘ قوت اور مرتبہ ‘ بڑے بڑے معاذات ‘ بڑی بڑی آمدنیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی کفار قرآن کی آیتیں سن کر جن میں ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے ہنستے ہیں اور بطور استہزاء و تفاخر غریب مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تمہارے زعم کے موافق آخرت میں جو کچھ پیش آئے گا دونوں فریق کی موجود حالت اور دنیاوی پوزیشن پر منطبق نہیں ہوتا۔ کیا آج ہمارے مکانات، فرنیچر، اور بودوباش کے سامان تم سے بہتر نہیں اور ہماری مجلس (یا سوسائٹی) تمہاری سوسائٹی سے معزز نہیں یقینا ہم جو تمہارے نزدیک باطل پر ہیں، تم اہل حق سے زیادہ خوشحال اور جتھے والے ہیں۔ جو لوگ آج ہم سے خوف کھا کر کوہ صفا کی گھاٹی میں نظر بند ہوں، کیا گمان کیا جاسکتا ہے کہ کل وہ چھلانگ مار کر جنت میں جا پہنچیں گے ؟ اور ہم دوزخ میں پڑے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓالا اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِیًّا ” کفار مکہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے تضحیک و استہزاء کے انداز میں سوال کرتے تھے کہ ذرا دیکھو تو سہی مجلسی شان و شوکت اور معاشرتی مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ہم دونوں گروہوں میں سے کون ساگروہ بہتر ہے۔ ایک طرف محمد ﷺ چند فقراء و مساکین کو لے کر بیٹھے ہیں تو دوسری طرف ابو جہل اور ولید بن مغیرہ کی چوپالوں میں امراء و رؤساء کی چہل پہل ہے۔ ان دونوں گروہوں کی حیثیت و اہمیت کا بھلا آپس میں کیا تقابل اور موازنہ ! کہاں فرش خاک پر بیٹھے بلال ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 71–73

65 پل صراط سے ہر ایک کو گزرنا ہے :۔ یعنی ہر شخص کو خواہ وہ مسلم ہو، کافر، نیک ہو یا بد ایک دفعہ ضرور جہنم کے کنارے لا کھڑا کیا جائے گا اور یہ اللہ کی طرف سے ایسی طے شدہ بات ہے جس کا کبھی خلاف نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : (1) سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : سب لوگ دوزخ پر پہنچیں گے پھر اپنے اپنے اعمال لے لحاظ سے واپس ہوں گے۔ پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح نکل جائے گا، دوسرا ہوا کی طرح، تیسرا گھڑ سوار کی طرح، چوتھا اونٹ کی طرح، پانچواں دوڑنے والے کی طرح اور چھٹا جیسے آدمی پیدل چلتا ہو (ترمذی، ابو اب التفسیر) (2) اور سیدنا ابو سعید خدری فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

106۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ مومنین کے لیے طرح طرح کی نعمتوں اور راحتوں کے وعدے ہیں اور منکرین کے لیے طرح طرح کی وعیدیں۔ 107۔ (اور اسی سے ظاہر ہے کہ ہم دونوں میں سے حق پر کون ہے ؟ ) یہ جاہلی استدلال آج جس زور وشور سے پیش کیا جارہا ہے، پیشتر شاید کبھی نہ ہوا ہو۔ صرف اہل باطل ہی نہیں، بلکہ ان سے مرعوب بہت سے مسلمان بھی مسیحی قوموں، مشرک قوموں، لامذہب قوموں کی مثالیں پیش کر کرکے پکار پکار کر مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں۔ کہ ان کی ترقیاں دیکھو، ان کی دولت، حکومت، عظمت، جاہ و ثروت دیکھو، ان کی اقبال مندی پر نظر کرو، اور تم اگر اپنی ترقی اور رفاہ چاہتے ہو تو انہیں کے طریقہ اختیار کرو، انہیں کی روش پر چلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–75

واذا تتلی علیھم آیتنا جب ان منکروں اور کافروں کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں مومنین کا حق پر ہونا مدلل اور معقول طریقہ سے ثابت کردیا جاتا ہے اور کافر کھسیانے اور لاجواب ہوجاتے ہیں تو (کھسیانی بلی کھمبا نوچے) کے مطابق اپنی کھسیاہٹ مٹانے کے لئے بےجوڑ اور بےتکی باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں یعنی قرآنی دعوت کا مقابلہ یہ کفار مکہ فقراء مسلمین اور اغنیاء اقریش اور ان کی مجلسوں اور مکانوں کے باہمی موازنے سے کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں عمار، بلال، صہیب ؓ جیسے لوگ ہیں ان کا دار المشورہ دار ارقم ہے جن کہ کافروں میں ابو جہل، نضر بن حارث، عتبہ، شیبہ جیسے رئیس اور ان کی عالی شان کوٹھیاں اور مکانات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا تتلی علیہم ایتنا بینت اور جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو کھلی ہوئی ہیں ‘ یعنی جن کا مطلب واضح ہے خواہ خود ہی ان کا مطلب کھلا ہوا سمجھ میں آجاتا ہے یا رسول اللہ ﷺ کے بیان سے ان کا مطلب واضح ہوجاتا ہے۔ یا بینات کا یہ مطلب ہے کہ چونکہ آیات معجزہ ہیں اس لئے رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر واضح طور پر دلالت کر رہی ہیں اور آپ کی نبوت کو ثابت کر رہی ہیں۔ قال الذین کفروا للذین امنوا تو کافر ‘ اہل ایمان سے کہتے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی غریب تھے پراگندہ خشک بال ‘ زندگی بدحال ‘ فرسودہ لباس اور مشرک مالدار تھے بالوں میں تیل ڈالتے کنگھا کرتے اور اعلیٰ و عمدہ لباس پہنتے تھے پس ان خوش حال چکنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(73) اور جب نضر اور اس کے ساتھیوں کے سامنے ہمارے اوامرو نواہی کے بیان میں واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو یہ کافر ان لوگوں سے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والے ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ ہم میں اور تم میں مکان کس کا زیادہ اچھا ہے اور محفل کس کی اچھی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ۔۔ : ”مَّقَامًا“ جائے قیام، یعنی رہنے کی جگہ، گھر وغیرہ۔ ”نَدِيًّا“ ”نَدَوْتُ الْقَوْمَ أَنْدُوْھُمْ“ (میں نے قوم کو جمع کیا) سے ہے۔ ”اَلنَّادِیْ“ ”اَلنَّدِیُّ“ اور ”اَلْمُنْتَدَی“ کا معنی لوگوں کی مجلس، اکٹھے ہونے کی جگہ۔ کفار جب اللہ تعالیٰ کی واضح آیات سنتے اور ان کا حق ہونا اس قدر واضح ہوتا کہ وہ کسی صورت نہ ان کا جواب دے پاتے اور نہ غلط کہہ سکتے، تو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لیے دنیوی لحاظ سے کمزور ایمان والوں سے کہتے کہ اپنی حالت اور ہماری حالت دیکھو ! کس کے رہنے کے مکانات بہتر اور کس کی مجلس زیادہ شان و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(تفسیر 73-75) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واذا تتلی علیہم ایتنا بینت، یعنی ان کفار پر جب ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جن کا ذکرء اذا مامت لسوف اخرج حیا۔ میں گزر چکا ہے اور ان کے بارے میں فرمایا : ونذر الظلمین فیھا جثیا۔ جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو دنیا کی وجہ سے عزت والے بنتے ہیں اور کہتے ہیں : ہمیں کیا ہے اگر ہم باطل پر ہوئے ہم مال کے اعتبار سے زیادہ ہیں، نفری کے اعتبار سے معزز ہیں ؟ ان کا مقصود کمزور لوگوں پر شبہ کو زائل کرنا اور ان کو وہم دلانا تھا کہ جس کا مال زیادہ ہوتا ہے یہ دلیل ہے کہ وہ اپنے دین میں حق پر ہے، گویا انہوں نے کفار میں کوئی فقیر نہیں دیکھا اور مسلمانوں میں کوئی غنی نہیں دیکھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–79

1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔ 5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا : اور جب ] [تُتْلٰى عَلَيْهِمْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] [اٰيٰتُنَا : ہماری آیتیں ] [بَيِّنٰتٍ : واضح ہوتے ہوئے ] [قَالَ : تو کہتے ہیں ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : انکار کیا ] [لِلَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [اَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ : دونوں فرقوں کا کون ] [خَيْرٌ: بہتر ہے ] [مَّقَامًا : بلحاظ مقام و مرتبہ کے ] [وَّاَحْسَنُ : اور زیادہ اچھا ہے ] [نَدِيًّا : بلحاظ مجلس کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 72–73

کافروں کا سوال کہ دونوں میں مقام اور مجلس کے اعتبار سے کون بہتر ہے اور ان کے سوال کا جواب رسول اللہ ﷺ پر جب آیات تلاوت کی جاتی تھیں جو اپنے معانی کے اعتبار سے واضح ہیں اور جن کے معانی ظاہر ہیں تو انھیں سن کر ایمان لانے کے بجائے معاندین مزید سرکشی پر تل جاتے تھے اور جنھوں نے ایمان قبول کیا ان سے کہتے تھے کہ دیکھو ایک فریق ہمارا ہے اور ایک فریق تمہارا ہے اب بتاؤ کہ دونوں میں سے کون سا فریق مقام اور مرتبہ کے اعتبار سے اور مجلس کے اعتبار سے بہتر اور اچھا ہے ؟ ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم لوگ دنیا میں اچھے حال میں ہیں اچھا کھاتے پیتے اور اچھا پہنتے ہیں ہماری مجلسیں بھی اچھی ہیں بن سنور کر خوشبو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–80

اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔ اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 72–73

50:۔ ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے کیونکہ یہ مطلب نہیں کہ جب سب لوگ جہنم کے اوپر سے گذریں گے اس سے کچھ عرصہ بعد متقین کو نجات دی جائیگی بلکہ یہ کام گذرنے سے بالکل متصل ہوگا لہذا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے بعد پھر یہ بات بھی سن لو کہ جو لوگ شرک سے بچتے رہے ان کو جہنم سے بچالیں گے۔ اور مشرکین کو گھٹنوں کے بل آتش جہنم میں چھوڑ دیں گے۔ ” و اِذَ اتُتْلیٰ الخ “ یہ شکوی ہے۔ ” نَدِیًّا اي مجلسا و مجتمعا “ یعنی مشرکین کو جب قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتیں تو وہ جواب میں کہتے ان مسلمانوں نے ان آیتوں کو مان کر کیا حاصل کیا ہے۔ ہماری محفلیں کس قدر پرشوکت اور شاہانہ ہیں اور دنیا میں جاہ و جلال حاصل ہے مگر مسلمان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 73–76

ربط آیات : گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جو لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ، غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہیں ، قیامت اور محاسبہ اعمال کے متعلق شک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے سرکشوں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیاطین کو اکٹھا کرے گا ، پھر تمام نافرمانوں کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ سب کے حالات کو بہتر جانتا ہے اور اس نے یہ قطعی فیصلہ کر رکھا ہے کہ تمام انسان جہنم پر سے گزریں گے مشرک اور کافر تو جہنم میں گر جائیں گے لیکن اہل ایمان اسے عبور کرکے جنت میں پہنچ جائیں گے ، اب آج کی آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ، ان آیات میں بھی کفار ومشرکین اور جزائے عمل کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا۝ 0ۙ اَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِيًّا۝ 73 تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–75

1 ؎ یعنی ہم تم سے بلحاظ اعوان و انصار کے بہتر ہیں ہماری مجلسیں اعزہ و انصار سے بھری رہتی ہیں تم ذلیل و بیکس ہو پھر آخرت میں کیا تم ہم سے بڑھ کر ہو گے اور یہ معنی بھی ہیں کہ ہمارے مکانات عمدہ اور مجلسیں شاندار ہماری ہیں یا تمہاری۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا لا اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌمَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا۔ (مریم : 73) ( جب ان پر ہماری آیات وضاحت سے تلاوت کی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایمان والوں سے سوال کرتے ہیں کہ فریقین میں سے کس کی رہائش گاہ آرام دہ ہے اور کس کی نشست گاہ خوبصورت ہے۔ ) مقام اور ندی کا مفہوم ” مقام “ اور ” ندی “ کا ہم نے ترجمہ رہائش گاہ اور نشست گاہ کیا ہے۔ قرطبی نے اسی کو علامہ جوہری سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ” مقام “ مرتبہ کے معنی میں اور ” ندی “ سوسائٹی پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مجرم اس لیے بھی جہنم میں پھینکے جائیں گے کیونکہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دیتے اور اس پر اتراتے تھے۔ مجرموں کا جہنم میں داخل ہونے کا بنیادی سبب یہ بھی ہوگا کہ وہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دیتے ہوئے اس پر اتراتے ہیں۔ انبیاء کرام ( علیہ السلام) کے مخالفین کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ جب ان کے سامنے ٹھوس اور واضح دلائل اور اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے لوگ رعونت کی بنا پر ایمانداروں سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ کہ دنیوی مقام و مرتبہ، اور رہنے سہنے میں ہم میں سے کون بہتر ہے ؟ یہی نبی ﷺ کے مخالفین کا رویہ تھا ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کیا انھیں معلوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مشرکین کا فقرائے صحابہ ؓ کو استہزاء : 73: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُنَا ( جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتیں) آیات سے مراد یہاں قرآن ہے۔ بَیِّنٰتٍ واضح یعنی جن کا معجزہ ہونا ظاہر ہے۔ یا بینات کا معنی دلائل وبراہین۔ نحو : یہ حال موکدہ ہے جیسا کہ اس آیت میں : وَھُوَ الحَقُّ مصدقًا ] البقرہ : 91[ اس لئے کہ آیات اللہ تو واضح ہی ہوتی ہیں اور دلیل ہی ہوتیں ہیں۔ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (تو کافر کہتے ہیں) یعنی کافروں سے یہاں مشرکین قریش مراد ہیں جو کہ مالدار اور اپنے بالوں کو کنگھی کرنے والے اور زینت میں تکلف کرنے والے تھے۔ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ( ان لوگوں کو جو ایمان لائے یعنی فقرائے صحابہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 73–74

تفسیر۔ 73۔ واذا تتلی علیھم آیاتنا بینات، ، اس سے مراد واضح آیات ہیں۔ قال الذین کفروا ، ، اس سے مراد نضر بن حارث اور قریش کے بڑے سردار ہیں۔ للذین آمنو، ، آپ ﷺ کے غرباء صحابہ جو پراگندہ خشک بال ، زندگی بدحالی ، فرسودہ لباس اور مشرک مال دار تھے ۔ بالوں میں تیل ڈالتے ، کنگھا کرتے اور اعلی لباس و عمدہ لباس پہنتے ۔ ان لوگوں نے مومنین سے کہا، ای الفریقین خیر مقاما، ، ان کی جگہ اور ان کا مقام اور اقامت کی جگہ بہتر ہے۔ ابن کثیر نے مقاما ، میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ جائے اقامت ، واحسن ندیا، ندیا بمعنی مجلس کے ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے جواب دیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–74

73۔ 74:۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ دنیا کا پیدا کیا جانا بلا نتیجہ گنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انتظام میں دنیا کے فنا ہونے کے بعد نیک وبد کی جزاو سزا کا فیصلہ جو ضروری ٹھہرا ہے اس کو یہ لوگ جھٹلاتے ہیں اسی واسطے جزا وسزا کی قرآن کی آیتیں جب ان کو سنائی جاتی ہیں تو تنگ دست ایماندار لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم حق پر ہوتے اور ہم ناحق پر ہوتے تو تم دنیا میں ایسے تنگدست اور ہم اس طرح کے خوشحال نہ ہوتے کیونکہ دنیا کی خوشحالی اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی نشانی ہے اللہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ ان سے پہلے بڑے بڑے خوشحال منکر حشر لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیے جا چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 73–74

آیت 73 جب ان کفار کے سامنے ہماری آیات بینات کی تلاوت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی صداقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں اور جو کوئی ان کو سنتا ہے اس کے لئے صدق ایمان اور شدت ایقان کا موجب بنتی ہیں۔۔۔ تو یہ ان آیات کا متضاد امور اور استہزا کے ساتھ اسمنا کرتے ہیں اور ان پر ایمان لانے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور دنیا میں اپنی خوش حالی سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اہل ایمان سے بہتر ہیں۔ پس وہ حق سے معارضہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (ای الفریقین) ” دونوں فریقوں میں سے کون۔ “ یعنی مومنین اور کفار میں سے (خیر مقاماً ) ” زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے “ یعنی دنیا میں کثرت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 72–73

80 منکرین کا ایک زعم باطل : کہ چونکہ ہمیں دنیا ملی ہوئی ہے اس لیے ہم ٹھیک ہیں۔ سو کفار کا اپنے دنیاوی ساز و سامان کی بناء پر یہ گھمنڈ ان کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ سو کفار کا کہنا تھا کہ ہم دونوں گروہوں میں سے کس کی شان بڑی ہے اور کس کی مجلس شاندار۔ اور صاف ظاہر ہے کہ وہ ہم ہی ہیں کہ ہماری حالت بھی تم سے اچھی ہے اے ایمان والو۔ اور ہماری مجلس بھی تم لوگوں سے کہیں عمدہ اور شاندار ہے۔ سو اگر آخرت ہوئی بھی جیسا کہ تم لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے تو وہاں بھی ہمارے ہی ٹھاٹھ باٹھ ہوں گے۔ اور ہمیں وہاں بھی یہ سب کچھ ملے گا جو آج یہاں ملا ہوا ہے۔ کیونکہ اگر ہم غلط ہوتے جیسا کہ تمہارا کہنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–87

غلط لوگوں کی اچھی امیدیں باندھنا تشریح : ان آیات میں فخر و غرور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ رب العلمین ہے، رازق ہے، وہ ہر کسی کو چاہے کوئی مومن ہو چاہے کافر سب کو رزق دیتا ہے اور رزق تقسیم کرنے کا اس کا اپنا ہی انداز ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ رزق، مال اور اولاد صرف فخر کرنے کی چیز نہیں بلکہ شکر کرنے کی چیز ہے۔ اور یہ دنیا میں بڑی آزمائش کی چیزیں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ “ (صحیح مسلم) سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–82

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 73–74

ف 3 تو یہ کس شمارقطار میں ہیں۔ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹ بھاٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پر لے درجے کی حماقت ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:73) مقاما۔ ظرف مکان۔ کھڑے ہونے کی جگہ۔ مکان۔ منزل۔ خیر کی تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ندیا۔ وہ محفل جہاں لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ ندی بمعنی مجلس اس کی جمع انداء واندیۃ ہے۔ دارالندوہ۔ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر باتیں کرتے ہیں۔ مجلس کو النادی بھی کہا جاتا ہے اور نادی بمعنی ہم مجلس بھی آیا ہے۔ قرآن پاک میں آیا ہے فلیدع نادیہ (96:17) تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلا لے۔ ندیا احسن کی تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 73–80

لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80 تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔ تشریح : آیت نمبر 73 تا 80 انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 73–74

ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ جب ہماری روشن دلیلیں کفار کو سنا دی جاتی ہیں ، تو ان دلائل کو سن کر یہ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ یہاں کس کو زیادہ مرتبہ اور دولت حاصل ہے اور راحت ہے۔ اسی کو آخرت میں بھی عزت اور راحت حاصل ہوگی، اور چونکہ تم یہاں تکلیف میں ہو، اس لئے وہاں پر بھی تکلف اٹھاؤ گے۔ اللہ پاک فرماتا ہے :" ہم نے بھی بلت سے کافروں کی جماعتوں کو ہلاک کیا جو اسباب اور نمود میں ان سے بہتر تھے۔ اس لئے لیہ ان کی دلیل غلط ہوگئی کیونکہ دینا پر آخرت کا قیاس کرنا حماقت ہے۔ دنیا میں کافروں کے لئے ڈھیل چھوڑتے ہیں اور جلدی مواخذہ نہیں لیتے ، لیکن جب ہم چاہتے ہیں عذاب دیتے ہں، وہ اس سے بچ نہیں سکتے ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[28] کفار مکہ قرآن کی آیتیں سن کر جن میں ان کا برا انجام بتایا گیا ہے ہنستے اور بطور استہزا و تفاخر غریب مسلمانوں سے کہتے کہ تمہارے زعم کے مطابق آخرت میں جو کچھ پیش آئے گا وہ ہماری اور تمہاری موجودہ حالت اور دنیوی پوزیشن پر منطبق نہیں ہوتا۔ کیا آج ہمارے مکانات اور سازوسامان تم سے بہتر نہیں اور ہماری مجلس (یا سوسائٹی) تمہاری سوسائٹی سے معزز نہیں۔ یقینا ہم جو تمہارے نزدیک باطل پر ہیں تم اہل حق سے زیادہ خوشحال اور جتھے والے ہیں۔ لہذا یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ تم جنت میں جاؤ گے اور ہم دوزخ میں ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–74

(ف 2) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے تاویل کے تین پہلو اختیار کئے ہیں ۔ 1۔ اس سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ سیاق وسباق کا تقاضا ہے یعنی وہ لوگ جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں چلا آ رہا ہے کہ انہیں موت کے بعد اٹھایا جائے گا ، اور مکافات عمل کے اصول کے مطابق مناسب وموزوں سزا دی جائے گی ، سابقہ آیات اور اس میں صرف انداز بیان کا فرق ہے اس آیتوں میں تمام صیغے غائب کے ہیں ، اور اس آیت میں صیغہ خطاب کا ہے ، اور محض یہ تفاوت اس آیت کو دوسری آیتوں سے علیحدہ نہیں کرسکتا کیونکہ اس نوع کا اختلاف قرآن کی بیشمار آیتوں میں موجود ہے ، بلکہ بلاغت پر مبنی ہے ، ان کا تعلق ماسبق کی آیتوں سے منقطع نہیں ہوتا ، بات صرف یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-73 اور جب ان دین حق کے منکروں کے سامنے ہماری واضح اور کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو لوگ منکر ہیں اور جن کی کافرانہ روش ہے وہ اہل ایمان اور حضرات مومنین سے یوں کہتے ہیں بتائو دونوں فریقوں میں سے کس کی حالت اچھی ہے یعنی ہم میں اور تم میں سے کون سا فریق خوشحال ہے اور باعتبار مکان و مسکن کے کون بہتر اور بلحاظ محفل و مجلس کے کون عمدہ اور اچھا ہے۔ یعنی جب قرآن کریم کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور ان آیتوں میں مومنین کی نجات اور کافروں کے عذاب کا حال سنتے ہیں تو منکرین مومنین سے کہت یہیں اور دنیوی عیش و تنعم پر آخرت کو قیاس کرتے ہیں اور بطور طعن کہتے ہیں ۔ مسلمانو ! بتائو دنیا میں ہم تم میں سے کون…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 72–75

ف 3۔ یعنی اس نعمت دنیوی میں یہ حکمت ہے کہ مہلت دے کر اتمام حجت کردے اور یہ مہلت چند روزہ ہے۔ 4۔ یعنی دنیا میں جو اپنے اہل مجلس کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں وہاں معلوم ہوگا کہ ان میں کتنا زور ہے، کیونکہ وہاں تو زور میں اتنی کمی ہوگی کہ اصلا زور نہ ہوگا، اسی کو اضعف فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوزخ میں گرائے جانے کی وجہ بتائی جارہی ہے کہ ان کو کیوں گرایا جائے گا : 73۔ فرمایا ان کو دھکے دے کر اس لئے گرایا جائے گا کہ یہ بہت مغرور تھے کہ جب انکو جزاوسزا اور عذاب آخرت کی اطلاع دی جاتی تھی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں اور آفاق کی آیات کی طرف انکی توجہ مبذول کرائی جاتی تھی تو وہ بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ ایمان سے معارضہ کرتے تھے اور ان پر پھبتیاں کسے ہوئے کہتے تھے کہ وہ وقت کب آئے گا جس کی نشاندہی تم کر رہے ہو اور انکا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے پوچھتے تھے کہ بتاؤ یہ مرتبہ ومقام جاہ منصب ‘ اعوان وانصار اور یہ مجلس وسوسائٹی ہم کو میسر ہے یا تم کو ؟ پھر جب یہ سب کچھ ہمارے پاس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–75

Commentary خَيْرٌ‌ مَّقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا "Superior in respect of its place and better in respect of its assembly" - 19:73. The infidels never relaxed their efforts to confuse and perplex the believers. They were very rich and possessed material wealth in great abundance. They had their retinues, their followers, friends and supporters. In contrast, the believers were poor and lacking in worldly assets. However, it is a common experience that material wealth turns people's heads and makes them unduly proud and arrogant, so that even the sensible and wise among them are led to believe…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–75

45. In response to the recital of clear revelations, instead of accepting their message, the unbelievers put such questions as these to the believers to show that they were in the right: Who has grander houses to live in? Who has a higher standard of life? Who enjoys splendid meetings? If we are enjoying all these things while you are deprived of them, you may decide for yourselves whether we, who are enjoying happy worldly lives, are in the wrong, or you who are living miserable lives of indigence are in the right? Also see (Surah Al-Kahf E.Ns 37-38).

Read the full tafseer →