Maryam 19:72

Maryam · from ayah 72

19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا ۟ثُمَّ نُـنَجِّى الَّذِيۡنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيۡنَ فِيۡهَا جِثِيًّا

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We will save those who feared Allah and leave the wrongdoers within it, on their knees.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:72

پھر ہم اُن لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گرا ہُوا چھوڑ دیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، انہیں تو ہم نجات دے دیں گے، اور جو ظالم ہیں، انہیں اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ اس (دوزخ میں) گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو ڈر گئے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم پرہیزگاروں کو تو (جہنم سے) نجات دیں گے مگر ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم ان لوگوں کو نجات بخشیں گے جنہوں نے تقوی اختیار کیا ہوگا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کو اسی میں اکڑوں بیٹھے چھوڑ دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس گزرنے کے دوران ان لوگوں کو تو ہم بچا لیں گے جو دنیا میں پرہیزگار رہے ہوں گے اور ظالموں کو اسی میں پڑا ہوا چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل

— مولانا اسحاق مدنی

پھر انہیں ہم نجات دے دیں گے جو (اللہ سے) ڈرتے تھے اور ظالموں کو اسی میں پڑا رہنے دیں گے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم بچا لے جائیں گے انہیں جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی اور چھوڑ دیں گے ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then We shall deliver those that feared Allah and leave the wrong-doers there on their knees.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then We will save those who feared Allah, and will leave the wrongdoers in it, fallen on their knees.

— Muhammad Taqi Usmani

Then We will save those who feared Allah, and will leave the wrongdoers in it, fallen on their knees.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We shall save those who had Taqwa. And We shall leave the wrongdoers in it, Jithiyya.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We shall rescue those who kept from evil, and leave the evil-doers crouching there.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We will save those who feared Allah and leave the wrongdoers within it, on their knees.

— Saheeh International

We will save the pious ones from the hell fire and leave the unjust people therein in crowded groups.

— Muhammad Sarwar

And We will deliver those who guarded (against evil), and We will leave the unjust therein on their knees.

— Muhammad Habib Shakir

Then We shall deliver those who have feared, and shall have the wrong-doers therein kneeling. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

But We shall save those who guarded against evil, and We shall leave the wrong-doers therein, (humbled) to their knees.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–72

جہنم میں دخول یا ورود ؟ مسند امام احمد بن حنبل کی ایک قریب حدیث میں ہے ابو سمیہ فرماتے ہیں جس ورود کا اس آیت میں ذکر ہے اس بارے میں اختلاف ہوا کوئی کہتا تھا مومن اس میں داخل نہ ہوں گے، کوئی کہتا تھا داخل تو ہوں گے لیکن پھر بہ سبب اپنے تقوے کے نجات پاجائیں گے۔ میں نے حضرت جابر ؓ سے مل کر اس بات کو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وارد تو سب ہوں گے۔ اور روایت میں ہے کہ داخل تو سب ہوں کے ہر ایک نیک بھی اور ہر ایک بد بھی لیکن مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسے ابراہیم خلیل اللہ ؑ پر تھی یہاں تک کہ اس ٹھنڈک کی شکایت خود آگ کرنے لگے گی پھر ان متقی لوگوں کا وہاں سے چھٹکارا ہوجائے گا۔ خالد بن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–72

سورة مَرْیَم 44 وارد ہونے کے معنی روایات میں داخل ہونے کے بیان کیے گئے ہیں، مگر ان میں سے کسی کی سند بھی نبی ﷺ تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی۔ اور پھر یہ بات قرآن مجید اور ان کثیر تعداد صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں مومنین صالحین کے دوزخ میں جانے کی قطعی نفی کی گئی ہے۔ مزید برآں لغت میں بھی درود کے معنی دخول کے نہیں ہیں۔ اس لیئے اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ جہنم پر گزر تو سب کا ہوگا مگر، جیسا کہ بعد والی آیت بتارہی ہے، پرہیزگار لوگ اس سے بچا لیئے جائیں گے اور ظالم اس میں جھونک دیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–72

وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا، یعنی کوئی انسان مومن یا کافر ایسا نہ رہے گا جس کا ورود جہنم پر نہ ہو ورود سے مراد دخول نہیں بلکہ عبور ہے جیسا کہ ابن مسعود کی ایک روایت میں لفظ مرور بھی آیا ہے۔ اور اگر دخول مراد لیا جاوے تو مومنین متقین کا دخول اس طرح ہوگا کہ جہنم ان کے لئے برد وسلام بن جائے گی ان کو اس کی کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی جیسا کہ حضرت ابو سمیہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نیک آدمی یا فاجر آدمی باقی نہ رہے گا جو ابتداء جہنم میں داخل نہ ہو مگر اس وقت مومنین متقین کے لئے جہنم برد وسلام بن جائے گی جیسے ابراہیم ؑ کے لئے نار نمرود برد وسلام بنادی گئی تھی۔ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا۔ ثُمَّ ترتیب کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ پہلے ظالموں سے نمٹے گا، ان کو واصل جہنم کرنے کے بعد ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوگا جو اس سے ڈرتے رہے۔ فرمایا کہ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جو ہم سے ڈرتے رہے اور ظالموں کو اسی جہنم میں اکڑوں بیٹھے چھوڑ دیں گے۔ " نجات دیں گے " سے مراد یہ نہیں ہے کہ جہنم سے نجات دیں گے۔ جہنم کی تو اہل تقوی کو، جیسا کہ اوپر گزرا، ہوا بھی نہیں لگنے پائے گی۔ یہاں " نجات دینے " سے مراد ان تمام ہموم و افکار اور اس تشویش و انتظار سے نجات دینا ہے جن سے بہرحال منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے تک اہل حق کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 71–72

72۔ 1 اس کی تفسیر صحیح حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر پل بنایا جائے گا جس میں ہر مومن و کافر کو گزرنا ہوگا۔ مومن تو اپنے اعمال کے مطابق جلد یا بدیر گزر جائیں گے، کچھ تو پلک جھپکنے میں، کچھ بجلی اور کچھ ہوا کی طرح، کچھ پرندوں کی طرح اور کچھ عمدہ گھوڑوں اور دیگر سواریوں کی طرح گزر جائیں گے یوں کچھ بالکل صحیح سالم، کچھ زخمی تاہم پل عبور کرلیں گے کچھ جہنم میں گرپڑیں گے جنہیں بعد میں شفاعت کے ذریعے سے نکال لیا جائے گا۔ لیکن کافر اس پل کو عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہونگے اور سب جہنم میں گرپڑیں گے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ' جس کے تین بچے بلوغت سے پہلے وفات…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–76

34: اس سے مراد پل صراط ہے جو دوزخ ہی پر بنا ہوا ہے، اور اس پل پر سے ہر شخص کو گذرنا ہوگا، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، نیک ہو یا بد عمل، پھر جیسے اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ نیک لوگ تو اس پل سے اس طرح گذر جائیں گے کہ انہیں دوزخ کی ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور کافر اور بد عمل لوگوں کو دوزخ میں گرا دیا جائے گا۔ پھر جن کے دلوں میں ایمان ہوگا۔ انہیں تو اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جن کے دلوں میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ وہ دوزخ میں پڑے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ اور نیک لوگوں کو دوزخ سے گذارنے کی حکمت یہ بھی ہے کہ جہنم کا ہولناک نظارہ دیکھنے کے بعد جنت کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم ننجی الذین اتقوا (91 : 27) ” پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میں متقی تھے “۔ یہ دوزخ ان سے دور ہوجائے گی اور وہ اس میں ڈالے جانے سے بچا لئے جائیں گے اور ونذر الظلمین فیھا جثیا (91 : 27) ” اور ظالموں کو اس میں گہرا ہوا چھوڑ دیں گے “۔ اب روئے سخن اس ڈرائو نے منظر سے پھرجاتا ہے جس میں نافرمان نہایت ہی اہانت کے ساتھ گھٹنوں کے بل چلائے جارہے ہیں۔ جس میں متقی لوگ نجات پاجاتے ہیں اور ظالموں کو اوندھے منہ جہنم میں گرا ہوا چھوڑا جارہا ہے۔ یکایک ہم پھر دنیا میں آجاتے ہیں ‘ یہاں اہل کفر اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی بڑائی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کو ان کی بد حالی پر طعنے دیتے ہیں۔ اپنی دولت مندی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 71–72

3 یعنی ہر نیک و بد، مجرم و برَی، اور مومن و کافر کے لیے حق تعالیٰ قسم کھاچکا اور فیصلہ کرچکا ہے کہ ضرور بالضرور دوزخ پر اس کا گزر ہوگا، کیونکہ جنت میں جانے کا راستہ ہی دوزخ کو گیا ہے جسے عام محاورات میں " پل صراط " کہتے ہیں، اس پر لامحالہ سب کا گزر ہوگا خدا سے ڈرنے والے مومنین اپنے اپنے درجہ کے موافق وہاں سے صحیح سلامت گزر جائیں گے اور گنہگار الجھ کر دوزخ میں گرپڑیں گے۔ (العیاذ باللہ) پھر کچھ مدت کے بعد اپنے اپنے عمل کے موافق، نیز انبیاء ملائکہ اور صالحین کی شفاعت سے، اور آخر میں براہ راست ارحم الراحمین کی مہربانی سے وہ سب گنہگار جنہوں نے سچے اعتقاد کے ساتھ کلمہ پڑھا تھا۔ دوزخ سے نکالے جائیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا ” یعنی اہل ایمان اور اہل تقویُٰ پل پر سے گزرتے جائیں گے اور مجرم لوگ نیچے جہنم میں گرتے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 71–73

65 پل صراط سے ہر ایک کو گزرنا ہے :۔ یعنی ہر شخص کو خواہ وہ مسلم ہو، کافر، نیک ہو یا بد ایک دفعہ ضرور جہنم کے کنارے لا کھڑا کیا جائے گا اور یہ اللہ کی طرف سے ایسی طے شدہ بات ہے جس کا کبھی خلاف نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : (1) سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : سب لوگ دوزخ پر پہنچیں گے پھر اپنے اپنے اعمال لے لحاظ سے واپس ہوں گے۔ پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح نکل جائے گا، دوسرا ہوا کی طرح، تیسرا گھڑ سوار کی طرح، چوتھا اونٹ کی طرح، پانچواں دوڑنے والے کی طرح اور چھٹا جیسے آدمی پیدل چلتا ہو (ترمذی، ابو اب التفسیر) (2) اور سیدنا ابو سعید خدری فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

105۔ (اور ان ظالموں سے مراد کافر ہی ہیں) (آیت) ” الذین اتقوا “۔ اللہ سے ڈرتے تھے اور اس لیے مومن بھی تھے۔ درجہ ضروری میں متقی تو ہر مومن ہوتا ہے۔ اس لیے (آیت) ” الذین اتقوا “۔ سے مراد مومنین ہی لیے گئے ہیں۔ اے اتقوالشرک وھم المومنون (معالم) قال ابن عباس المتقی ھو الذی اتقی الشرک یقول لا الہ الا اللہ واعلم ان الذی قالہ ابن عباس ھو الحق الذی یشھد الدلیل بصحتہ (کبیر) جو مومن کامل ہیں انہیں تو کسی تکلیف کی ہوا بھی نہ لگنے پائے گی بلکہ دوزخ کی حالت کا معاینہ اور پھر اس سے اپنی محفوظیت کا تقابل تو اور زیادہ ان میں فرح و سرور کی کیفیت پیدا کرے گا۔ اذا شاھدو اذلک العذاب صار ذلک سببا لمزید التذاذھم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 66–72

آیت نمبر 66 تا 75 ترجمہ : اور انسان کہتا ہے جو بعث بعد الموت کا منکر ہے یعنی ابی بن خلف یا ولید بن مغیر جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے کہ کیا جب ثانی ہمزہ کی تحقیق اور اس کی تسہیل کے ساتھ اور ثانی (ہمزہ) اور پہلے ہمزہ کے درمیان الف داخل کر کے دونوں صورتوں میں (یعنی تسہیل اور تحقیق کی صورت میں) میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں استفہام نفی کے معنی میں ہے (یعنی أئِذ َا میں استفہام انکاری ہے) یعنی میں مرنے کے بعد زندہ نہ کیا جاؤں گا مَا اور لام تاکید کے لئے زائدہ ہیں (اس انسان کافر کے قول کا جواب) اللہ تعالیٰ کے قول اَوَلاَ یَذَّکَّرُ (الآیۃ) سے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم ننجی الذین اتقوا ونذر الظلمین فیہا جثیا۔ پھر (جہنم پر اتارنے کے بعد) ان لوگوں کو ہم بچالیں گے جو (شرک سے) بچتے رہے تھے (عذاب دے کر یا بغیر سزا دیئے بہرحال اہل توحید و ایمان کو دوزخ سے نجات دے دی جائے گی) اور کافروں کو دوزخ کے اندر سب کو چھوڑ دیں گے۔ جِثِیًّا یعنی سب کو۔ یعنی دو زانو یا زانو کے بل بیٹھا چھوڑ دیں گے ‘ ورود سے مراد ہے داخل ہونا ‘ پل صراط جہنم کے اوپر ہوگا اور اس پر سے سب کو گزرنا ہی ہوگا۔ بعض اہل ہوٰی (یعنی فرقۂ مرجۂ والے جو ایمان صحیح کے بعد کسی گناہ کو ضرر رساں نہیں خیال کرتے اور کہتے ہیں اگر ایمان دل میں موجود ہے تو پھر کسی مؤمن کا داخلہ جہنم میں نہ ہوگا) ۔ کہتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(72) پھر ہم ان لوگوں کو جو کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والے تھے نجات دے دیں گے اور تمام مشرکین کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہنے دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۚثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔۔ : یعنی پھر ہم پرہیزگاروں کو جہنم سے بچا لیں گے (صراط سے سلامت گزار کر یا صراط سے جہنم میں گرنے کے بعد) اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے اسی میں گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین اور عام مسلمان جہنم کے اوپر صراط سے اپنے اعمال کے مطابق تیزی سے یا گرتے پڑتے گزر جائیں گے اور کافر اور زیادہ گناہ گار مسلمان پل پر سے جہنم میں گرپڑیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو سزا پوری ہونے کے بعد یا شفاعت سے یا محض اپنے فضل سے جہنم سے نکال لے گا اور صرف کافر و مشرک ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ اس کی دلیل ابوسعید خدری ؓ کی حدیث ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے آخرت میں رب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم ننجی الذین اتقوا ونذر الظلمین فیھا جثیا۔ ابو عمر نے کتاب ” التمہید “ میں اپنی سند کے ساتھ یہ ذکر کیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ خالد بن معدان، ابن جریج وغیر ہم کا یہی قول ہے۔ یونس نے حسین سے روایت کیا ہے کہ وہ ان منکم الا واردھا پڑھے تو الورود کی تفسیر الدخول سے بیان کرتے۔ بعض راویوں سے اس میں غلطی ہوئی اور انہوں نے الورود، الدخول کے الفاظ کو قرآن کے ساتھ لاحق کردیا ہے۔ مسند دارمی میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا ” لوگ آگ پر وارد ہوں گے پھر وہ اس سے اپنے اعمال کے ساتھ نکلیں گے پہلے لوگ بجلی کی چمک کی طرح تیزی سے نکلیں گے پھر (بعد والے)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–79

1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔ 5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ : پھر ] [نُـنَجِّي : ہم بچا لیں گے ] [الَّذِينَ : ان کو جنھوں نے ] [اتَّقَوْا : تقویٰ اختیار کیا ] [وَّنَذَرُ : اور ہم چھوڑ دیں گے ] [الظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کو ] [فِيْهَا : اس میں ] [جِثِيًّا : گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 72–73

کافروں کا سوال کہ دونوں میں مقام اور مجلس کے اعتبار سے کون بہتر ہے اور ان کے سوال کا جواب رسول اللہ ﷺ پر جب آیات تلاوت کی جاتی تھیں جو اپنے معانی کے اعتبار سے واضح ہیں اور جن کے معانی ظاہر ہیں تو انھیں سن کر ایمان لانے کے بجائے معاندین مزید سرکشی پر تل جاتے تھے اور جنھوں نے ایمان قبول کیا ان سے کہتے تھے کہ دیکھو ایک فریق ہمارا ہے اور ایک فریق تمہارا ہے اب بتاؤ کہ دونوں میں سے کون سا فریق مقام اور مرتبہ کے اعتبار سے اور مجلس کے اعتبار سے بہتر اور اچھا ہے ؟ ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم لوگ دنیا میں اچھے حال میں ہیں اچھا کھاتے پیتے اور اچھا پہنتے ہیں ہماری مجلسیں بھی اچھی ہیں بن سنور کر خوشبو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–80

اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔ اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 72–73

50:۔ ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے کیونکہ یہ مطلب نہیں کہ جب سب لوگ جہنم کے اوپر سے گذریں گے اس سے کچھ عرصہ بعد متقین کو نجات دی جائیگی بلکہ یہ کام گذرنے سے بالکل متصل ہوگا لہذا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے بعد پھر یہ بات بھی سن لو کہ جو لوگ شرک سے بچتے رہے ان کو جہنم سے بچالیں گے۔ اور مشرکین کو گھٹنوں کے بل آتش جہنم میں چھوڑ دیں گے۔ ” و اِذَ اتُتْلیٰ الخ “ یہ شکوی ہے۔ ” نَدِیًّا اي مجلسا و مجتمعا “ یعنی مشرکین کو جب قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتیں تو وہ جواب میں کہتے ان مسلمانوں نے ان آیتوں کو مان کر کیا حاصل کیا ہے۔ ہماری محفلیں کس قدر پرشوکت اور شاہانہ ہیں اور دنیا میں جاہ و جلال حاصل ہے مگر مسلمان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 66–72

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے انعام کا ذکر کیا کہ وہ بہشتوں میں رہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان بہشتوں کی خوبی اور فضیلت بھی بیان فرمائی ، یہ بہشت ان لوگوں کو ملے گی جو متقی یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بداعتقادی ، اور گناہوں سے بچنے والے ہوں گے ، پھر اللہ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے بلکہ پروردگار کے حکم کے مطابق ہی ہمارا نزول ہوتا ہے اور ہم اللہ کی طرف سے مفوضہ کام پورا کرتے ہیں وہی پروردگار جو ارض وسما اور تمام چیزوں کا رب ہے اسی کی عبادت پر قائم رہنا چاہئے ، وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِـمِيْنَ فِيْہَا جِثِيًّا۝ 72 نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–72

تفسیر : ویقول الانسان یہاں سے ان ناخلفوں کے عقائد بیان فرماتا ہے کہ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان سے کسی شخص خاص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموماً حشر کے منکر مراد ہیں وہ تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو محال اور خدا کی قدرت سے باہر جانتے تھے اس لیے رسول کی تکذیب کرتے تھے اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ تھا ہم نے اس کو موجود کردیا پس جو نیست محض کو موجود کردیتا ہے اس کے نزدیک دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ اس دلیل کے بعد قسم کھا کر وعدہ مستحکم کرتا ہے کہ ہم ان کو مرنے کے بعد ضرور جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی جو انہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–72

وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُھَا ج کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُالظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا۔ (مریم : 71، 72) (اور بیشک تم میں سے ہر شخص ضرور دوزخ پر وارد ہوگا، یہ آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ایک طے شدہ امر واجب ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا، اور ظالموں کو اس میں اوندھا گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ ) قیامت کے دن کی ہولناکی اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ” مِنْکُمْ “ کی ضمیر خطاب اور ” وارد “ کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ مفسرین کا یہ اختلاف بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق کوئی صحیح روایت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–72

فہم القرآن ربط کلام : جس جہنم میں مجرموں کو پھینکا جائے گا اس پر متقین کو بھی گزرنا ہوگا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ وہ کفار، مشرکین کو جہنم میں داخل کرے گا اسی طرح ہی اس کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ نیک لوگوں کو بھی جہنم میں وارد کرے گا۔ پھر انہیں جہنم سے محفوظ فرمائے گا۔ جس جہنم میں مجرم گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ وَارِدْ کا معنی گرنا ہے سورة القصص آیت 23 میں وارِدْ کا معنی کسی کنویں یا گھاٹ کے قریب آنا ہے۔ حدیث میں وارِدْ سے مراد پل صراط سے گزرنا ہے۔ جس کی کیفیت رسول اکرم ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ (عَنْ حُذَیْفَۃَ ہُرَیْرَۃَ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَا قَالَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

72: ثُمَّ نُنَجِّی ( پھر ہم نجات دیں گے) قراءت : علی نے اسکو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا ( وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا) اتَّقَوْا سے مراد شرک سے بچنا ہے۔ اور مراد اس سے مومن ہیں۔ وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا ( اور ہم چھوڑ دیں گے ظالموں کو اس میں زانوں کے بل بیٹھا ہوا) ۔ نکتہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ تمام داخل ہونگے اس لئے آگے ونذر فرمایا اور ندخُلُ نہیں فرمایا اہل السنت کا مسلک یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ممکن ہے اپنے گناہوں کی مقدار کے مطابق سزا پاکر پھر بچالیا جائے اور یہ نجات پانا اس کا یقینی ہے۔ مرجیہ کا قول ہے کہ اس کو سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ اسلام کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

72۔ ثم ننجی الذین اتقوا، ، شرک سے بچو۔ کسائی نے تنجی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقی نے تشدید کے ساتھ دلیل ہے اس میں سب داخل ہوں گے۔ پھر اس سے متقین کو نکالاجائے گا اور دوزخ میں ظالمین اور مشرکین کو چھوڑ دیاجائے گا۔ سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید کا قول ہے کہ حضرت ابوہریرہ کو ان دونوں نے خبر دی کہ لوگ کہتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! کہ کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھ سکیں گے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو جب کوئی بادل نہیں ہوتا، لوگوں نے کہاجی ہاں اے اللہ کے رسول۔ پھر فرمایا کہ کیا تم سورج کو دیکھتے ہو جب بادل نہ ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم اسی طرح قیامت کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–72

71۔ 72:۔ فرقہ معتزلہ نے اس آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ کبیرہ گناہوں کے گناہ گار ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سب آدمیوں کا پل صراط پر سے گزرنے کا ذکر فرما کر فقط متقیوں کی نجات پانے کا ذکر فرمایا ہے اور کبیرہ گناہ کے گناہ گار کو متقی کوئی نہیں کہہ سکتا اس لیے پل صراط پر سے جب وہ کٹ کٹ کر دوزخ میں گریں گے تو ان کی نجات کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اہل سنت نے جواب دیا ہے کہ صحیح حدیثوں سے گناہ گار کلمہ گو لوگوں کا ملائکہ انبیاء صالحین کی شفاعت کے سبب سے دوزخ سے نکل کر جنت میں جانا ثابت ہوچکا ہے 1 ؎۔ اس لیے آیت میں لفظ متقی کی تفسیر شرک سے بچنے کی ہے گناہ کے بچنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 72 یہ خطاب نیک و بد، مومن اور کافر، تمام خلائق کے لئے ہے، خلائق میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ہے اور اس نے اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے اس کا نفاذ البدی اور اس کا وقوع حتمی ہے۔ البتہ وارد ہونے کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ تمام مخلوق جہنم میں حاضر ہوگی حتی کہ تمام لوگ گھبرا اٹھیں گے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو نجات دے دے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ وارد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ مگر اہل ایمان پر جہنم کی آگ سلامتی والی اور ٹھنڈی ہوجائے گی۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ’ دوارد ہونے “ سے مراد پل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 72–73

80 منکرین کا ایک زعم باطل : کہ چونکہ ہمیں دنیا ملی ہوئی ہے اس لیے ہم ٹھیک ہیں۔ سو کفار کا اپنے دنیاوی ساز و سامان کی بناء پر یہ گھمنڈ ان کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ سو کفار کا کہنا تھا کہ ہم دونوں گروہوں میں سے کس کی شان بڑی ہے اور کس کی مجلس شاندار۔ اور صاف ظاہر ہے کہ وہ ہم ہی ہیں کہ ہماری حالت بھی تم سے اچھی ہے اے ایمان والو۔ اور ہماری مجلس بھی تم لوگوں سے کہیں عمدہ اور شاندار ہے۔ سو اگر آخرت ہوئی بھی جیسا کہ تم لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے تو وہاں بھی ہمارے ہی ٹھاٹھ باٹھ ہوں گے۔ اور ہمیں وہاں بھی یہ سب کچھ ملے گا جو آج یہاں ملا ہوا ہے۔ کیونکہ اگر ہم غلط ہوتے جیسا کہ تمہارا کہنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 66–72

دوبارہ زندہ ہونا، قیامت اور پل صراط کا بیان تشریح : جب کفار نے دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے بارے میں سنا تو بولے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا آسان سا جواب ہے اگر اللہ نے ہمیں یہاں زندگی دی ہے جو کہ یقینی طور پر موت آنے پر ختم ہوجائے گی تو سوچنے کی بات ہے کیا اللہ نے ہمیں بےمقصد پیدا کیا ہے ؟ ہرگز نہیں ہمیں ضرور پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کیا کیا ؟ اور یہی حساب کا دن ہوگا۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ “ (مریم آیت :72 ) یہ سب غائب کی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں پہلے سے بتا دیا گیا اور مہلت بھی دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–82

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب پچھلی آیت میں رود “ کے معنی دخول کے لئے جائیں اور اگر وارد ہونے کے معنی اوپر سے گزرنا لئے جائیں تو اس آیت کا ترجمہ یوں ہوگا، پھر ہم پرہیز گاروں کو (دوزخ میں گرنے سے) بچا لیں گے اور کافروں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:72) ننجی۔ مضارع جمع متکلم تنجیۃ (تفعیل) سے مصدر۔ ہم نجات دیں گے ہم بچا لیں گے۔ نجو مادہ۔ نذر۔ مضارع جمع متکلم۔ وذرمصدر (باب سمع) ہم ناقابل پرواہ سمجھ کر چھوڑ دیں گے اس کا صرف مضارع وامر مستعمل ہے اس کا ماضی مستعمل نہیں ہے۔ جثیا۔ (ملاحظہ ہو۔ 19:68)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–72

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 72 مت میں مر گیا۔ نحشرن ہم ضرور جمع کریں گے۔ نحضرن ہم ضرور حاضر کریں گے۔ حول اردگرد۔ جثی گھٹنوں کے بل۔ ننزعن ہم ضرور نکالیں گے۔ شیعۃ فرقہ، گروہ۔ عتی سرکش، نافرمان۔ صلی اندر داخل ہونا۔ وارد آنے والا۔ مقضی مقرر کیا ہوا۔ نذر ہم چھوڑ دیں گے۔ تشریح : آیت نمبر 66 تا 72 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر کفار و مشرکین کے متعلق بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کو سن کر بڑے تعجب اور حیرت سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے ۔ ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہو کر ہمارا وجود کائنات میں بکھر جائے گا تو کیا دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ ہمارے وجود کے اجزاء جمع ہو سکیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–72

پل صراط پر سے گزرنے کا بیان ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پل صراط پر سے تمام لوگوں کا گزرنا انتظام الہی میں قطعی طور پر ٹھہر چکا ہے۔ لیکن پرہیز گار لوگ تو صحیح سلامت اس پر سے گزر کر جنت میں چلے جائیں گے، اور گناہ گاہ لوگ اوندھے منہ دوزخ میں گر ُ پڑیں گے۔ صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا، وہ حضور ﷺ کی شفاعت سے ضرور دوزخ سے نکل کر جنت میں جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 71–72

[27] اس آیت میں خطاب تمام بنی نوع انسان سے نہیں بلکہ ان منکرین حق سے ہے جن کا ذکر پہلے سے چلا آ رہا ہے لیکن بعض مفسرین نے آیت کا مخاطب تمام بنی نوع انسان کو مان لیا ہے۔ چناچہ وہ ہر شخص کے لئے خواہ وہ نیک ہو یا بد، جہنم پر سے گزرنا ضروری قرار دیتے ہیں لیکن یہ تفسیر ان کی غلط فہمی کی بنا پر ہے کیونکہ سورة انبیاء میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے جہنم سے دور رکھے جائیں گے اور اس کی بھنک بھی نہ سنیں گے (آیات 102-101)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–74

(ف 2) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے تاویل کے تین پہلو اختیار کئے ہیں ۔ 1۔ اس سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ سیاق وسباق کا تقاضا ہے یعنی وہ لوگ جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں چلا آ رہا ہے کہ انہیں موت کے بعد اٹھایا جائے گا ، اور مکافات عمل کے اصول کے مطابق مناسب وموزوں سزا دی جائے گی ، سابقہ آیات اور اس میں صرف انداز بیان کا فرق ہے اس آیتوں میں تمام صیغے غائب کے ہیں ، اور اس آیت میں صیغہ خطاب کا ہے ، اور محض یہ تفاوت اس آیت کو دوسری آیتوں سے علیحدہ نہیں کرسکتا کیونکہ اس نوع کا اختلاف قرآن کی بیشمار آیتوں میں موجود ہے ، بلکہ بلاغت پر مبنی ہے ، ان کا تعلق ماسبق کی آیتوں سے منقطع نہیں ہوتا ، بات صرف یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-72 پھر ہم ان لوگوں کو خدا سے ڈرتے رہتے تھے نجات دے دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا وندھا پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ یعنی مومنین کا ملین کو تو پہلے ہی نجات مل جائے گی اور وہ سلامتی کے ساتھ گذر جائیں گے اور مومن گنہگار کچھ عرصہ کے بعد نجات حاصل کرلیں گے اور دین حق کے منکرین اس میں ہمیشہ کے لئے رہ جائیں گے اور گھٹنوں کے بل اوندھے گرپڑیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بہشت کو راہ نہیں مگر دوزخ کے منہ میں دوزخ تنور کی شکل ہے منہ اس کا دنیا سے بڑا کنارے سے کنارے تک راہ پڑی ہے بال برابر تیز جیسے تلوار کانپتی ایمان والے اس پر سلامت گذر جائیں گے اور گنہگار گرپڑیں گے پھر موافق عمل بعد کئی روز…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 72–75

ف 3۔ یعنی اس نعمت دنیوی میں یہ حکمت ہے کہ مہلت دے کر اتمام حجت کردے اور یہ مہلت چند روزہ ہے۔ 4۔ یعنی دنیا میں جو اپنے اہل مجلس کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں وہاں معلوم ہوگا کہ ان میں کتنا زور ہے، کیونکہ وہاں تو زور میں اتنی کمی ہوگی کہ اصلا زور نہ ہوگا، اسی کو اضعف فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

متقی کامیاب ہوں گے اور مشرکین کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا : 72۔ کامیابی کن لوگوں کے قدم چومے گی ؟ فرمایا متقین کے گویا تقوی سارے اسلامی احکام کی غایت ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہم صرف ایک لفظ میں ادا کرنا چاہیں تو بلاشبہ ہم اس کو ” تقوی “ سے ادا کرسکتے ہیں ۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصد اپنے ہر عمل کے قالب میں اس تقوی کی روح کو پیدا کرنا ہے ۔ قرآن کریم نے اپنی دوسری ہی سورت میں یہ اعلان کیا ہے کہ اس کی تعلیم سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو تقوی والے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم سے مستفید وہی ہوتے ہیں جو متقی ہیں ۔ قرآن کریم متقین کے لئے ہے یا قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا "And there is none among you who is not to arrive at it." - 19:71. This means that everybody - be he a believer or an infidel - will go across Hell. However, this does not mean that they would go to stay in it; they would only go across it. But even if the word means "entry", then the pious believers on entry into Hell will feel no discomfort because its fires will cool down and will do no harm to them. Sayyidna Abu Sumayya ؓ has related that The Holy Prophet ﷺ once said that: "Everybody whether he is a pious man or a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

44. According to some traditions,“pass over it (Hell)”means to enter Hell, but none of these traditions is authentic. Then this interpretation goes against the Quran and a great many authentic traditions, which clearly state that the true believers will never be cast into Hell. Lexically also, variduha (being presented unto) is not synonymous with dukhul (causing to enter). Therefore, the correct meaning would be that every human being will be presented before Hell, but then, as the next verse clarifies, the pious people will be rescued and the transgressors left therein on their knees.

Read the full tafseer →