Maryam 19:71

Maryam · from ayah 71

19:71

وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ— كَانَ عَلٰی رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ۟ۚوَاِنۡ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ‌ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتۡمًا مَّقۡضِيًّا‌

اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there is none of you except he will come to it. This is upon your Lord an inevitability decreed.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:71

تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے واﻻ ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جس کا اس (دوزخ) پر گزر نہ ہو۔ اس بات کا تمہارے پروردگار نے حتمی طور پر ذمہ لے رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے مگر اس کا اس (دوزخ) پر سے گزر ہونے والا ہے، یہ (وعدہ) قطعی طور پر آپ کے رب کے ذمہ ہے جو ضرور پورا ہوکر رہے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تم میں سے جو بھی ہے اس پر وارد ہونے والا ہے۔ یہ ہمیشہ سے تیرے رب کے ذمے قطعی بات ہے، جس کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا جہنم پر گزر نہ ہو۔ یہ ایک قطعی طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا آپ کے پروردگار کے ذمہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(اور ان کو حکم دیں گے) کہ تم میں سے ہر ایک کو بہرحال اس میں داخل ہونا ہے۔ یہ تیرے رب کے اوپر ایک طے شدہ امر واجب ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم میں سے کوئی بھی نہیں جس کا دوزخ پر سے گزر نہ ہو، تمہارے رب کے ذمے ایک لازم اور طے شدہ امر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا گزر اس تک نہ ہو یہ آپ کے پروردگار پر لازم ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس پر وارد نہ ہو۔ یہ آپ کے رب کا حتمی فیصلہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم میں سے کوئی شخص نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا، یہ تمہارے رب پر لازم اور مقرر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There is not one of you but shall pass by Hell. This is a decree which your Lord will fulfil.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There is none among you who does not have to arrive at it. This is undertaken by your Lord as an absolute decree, bound to be enforced.

— Muhammad Taqi Usmani

There is none among you who does not have to arrive at it. This is undertaken by your Lord as an absolute decree, bound to be enforced.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There is not one of you but will pass over it (Hell); this is with your Lord, a decree which must be accomplished.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There is not one of you but shall approach it. That is a fixed ordinance of thy Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there is none of you except he will come to it. This is upon your Lord an inevitability decreed.

— Saheeh International

It is the inevitable decree of your Lord that every one of you will be taken to hell.

— Muhammad Sarwar

And there is not one of you but shall come to it; this is an unavoidable decree of your Lord.

— Muhammad Habib Shakir

And not one of you but shall pass over it: it is for thy Lord an ordinance decreed. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

Not one of you but will pass over it: this is, with thy Lord, a Decree which must be accomplished.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–72

جہنم میں دخول یا ورود ؟ مسند امام احمد بن حنبل کی ایک قریب حدیث میں ہے ابو سمیہ فرماتے ہیں جس ورود کا اس آیت میں ذکر ہے اس بارے میں اختلاف ہوا کوئی کہتا تھا مومن اس میں داخل نہ ہوں گے، کوئی کہتا تھا داخل تو ہوں گے لیکن پھر بہ سبب اپنے تقوے کے نجات پاجائیں گے۔ میں نے حضرت جابر ؓ سے مل کر اس بات کو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وارد تو سب ہوں گے۔ اور روایت میں ہے کہ داخل تو سب ہوں کے ہر ایک نیک بھی اور ہر ایک بد بھی لیکن مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسے ابراہیم خلیل اللہ ؑ پر تھی یہاں تک کہ اس ٹھنڈک کی شکایت خود آگ کرنے لگے گی پھر ان متقی لوگوں کا وہاں سے چھٹکارا ہوجائے گا۔ خالد بن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–72

سورة مَرْیَم 44 وارد ہونے کے معنی روایات میں داخل ہونے کے بیان کیے گئے ہیں، مگر ان میں سے کسی کی سند بھی نبی ﷺ تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی۔ اور پھر یہ بات قرآن مجید اور ان کثیر تعداد صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں مومنین صالحین کے دوزخ میں جانے کی قطعی نفی کی گئی ہے۔ مزید برآں لغت میں بھی درود کے معنی دخول کے نہیں ہیں۔ اس لیئے اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ جہنم پر گزر تو سب کا ہوگا مگر، جیسا کہ بعد والی آیت بتارہی ہے، پرہیزگار لوگ اس سے بچا لیئے جائیں گے اور ظالم اس میں جھونک دیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–72

وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا، یعنی کوئی انسان مومن یا کافر ایسا نہ رہے گا جس کا ورود جہنم پر نہ ہو ورود سے مراد دخول نہیں بلکہ عبور ہے جیسا کہ ابن مسعود کی ایک روایت میں لفظ مرور بھی آیا ہے۔ اور اگر دخول مراد لیا جاوے تو مومنین متقین کا دخول اس طرح ہوگا کہ جہنم ان کے لئے برد وسلام بن جائے گی ان کو اس کی کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی جیسا کہ حضرت ابو سمیہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نیک آدمی یا فاجر آدمی باقی نہ رہے گا جو ابتداء جہنم میں داخل نہ ہو مگر اس وقت مومنین متقین کے لئے جہنم برد وسلام بن جائے گی جیسے ابراہیم ؑ کے لئے نار نمرود برد وسلام بنادی گئی تھی۔ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا۔ حتم کے معنی واجب اور لازم کے ہیں۔ اور ضمیر خطاب کے مخاطب وہی مجرمین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ اوپر کی بات بصیغہ غائب کہی گئی ہے اور یہ بات ان کو مخاطب کرکے ارشاد ہوئی۔ ان دونوں اسلوبوں کے الگ الگ فائدے ہیں۔ جس طرح غائب کا اسلوب عدم التفات پر دلیل ہوتا ہے اسی طرح خطاب کا اسلوب شدت عتاب پر دلیل ہوتا ہے۔ قرآن مجید اور کلام عرب میں اس کی مثالیں بہت ہیں کہ غائب کا اسلوب کلام دفعۃً خطاب کے اسلوب میں بدل گیا ہے۔ یہاں بھی اسی نوع کی تبدیلی ہوئی ہے۔ چونکہ مقصود شدت غضب کا اظہار ہے اس وجہ اللہ تعالیٰ ان مجرموں کو خطاب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 71–72

72۔ 1 اس کی تفسیر صحیح حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر پل بنایا جائے گا جس میں ہر مومن و کافر کو گزرنا ہوگا۔ مومن تو اپنے اعمال کے مطابق جلد یا بدیر گزر جائیں گے، کچھ تو پلک جھپکنے میں، کچھ بجلی اور کچھ ہوا کی طرح، کچھ پرندوں کی طرح اور کچھ عمدہ گھوڑوں اور دیگر سواریوں کی طرح گزر جائیں گے یوں کچھ بالکل صحیح سالم، کچھ زخمی تاہم پل عبور کرلیں گے کچھ جہنم میں گرپڑیں گے جنہیں بعد میں شفاعت کے ذریعے سے نکال لیا جائے گا۔ لیکن کافر اس پل کو عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہونگے اور سب جہنم میں گرپڑیں گے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ' جس کے تین بچے بلوغت سے پہلے وفات…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–76

34: اس سے مراد پل صراط ہے جو دوزخ ہی پر بنا ہوا ہے، اور اس پل پر سے ہر شخص کو گذرنا ہوگا، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، نیک ہو یا بد عمل، پھر جیسے اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ نیک لوگ تو اس پل سے اس طرح گذر جائیں گے کہ انہیں دوزخ کی ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور کافر اور بد عمل لوگوں کو دوزخ میں گرا دیا جائے گا۔ پھر جن کے دلوں میں ایمان ہوگا۔ انہیں تو اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جن کے دلوں میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ وہ دوزخ میں پڑے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ اور نیک لوگوں کو دوزخ سے گذارنے کی حکمت یہ بھی ہے کہ جہنم کا ہولناک نظارہ دیکھنے کے بعد جنت کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان منکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقضیا (91 : 17) ” اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر واردنہ ہو ‘ یہ تو ایک طے شدہ بات ہے ‘ جسے پورا کرنا تیرے رب کے ذمہ ہے “۔ تمام لوگ جہنم کے قریب کئے جائیں گے اور جب وہ جہنم کو دیکھیں گی تو اس کی آگ کے شعلے بلند ہوں گے ‘ جوش میں ہوں گے اور پھٹ رہے ہوں گے۔ وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ نافرمان بندے لوگوں میں سے نکالے جائیں گے اور اسمیں گرائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 71–72

3 یعنی ہر نیک و بد، مجرم و برَی، اور مومن و کافر کے لیے حق تعالیٰ قسم کھاچکا اور فیصلہ کرچکا ہے کہ ضرور بالضرور دوزخ پر اس کا گزر ہوگا، کیونکہ جنت میں جانے کا راستہ ہی دوزخ کو گیا ہے جسے عام محاورات میں " پل صراط " کہتے ہیں، اس پر لامحالہ سب کا گزر ہوگا خدا سے ڈرنے والے مومنین اپنے اپنے درجہ کے موافق وہاں سے صحیح سلامت گزر جائیں گے اور گنہگار الجھ کر دوزخ میں گرپڑیں گے۔ (العیاذ باللہ) پھر کچھ مدت کے بعد اپنے اپنے عمل کے موافق، نیز انبیاء ملائکہ اور صالحین کی شفاعت سے، اور آخر میں براہ راست ارحم الراحمین کی مہربانی سے وہ سب گنہگار جنہوں نے سچے اعتقاد کے ساتھ کلمہ پڑھا تھا۔ دوزخ سے نکالے جائیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 71 وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَاج کانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ” اس آیت کا جو مفہوم عام طور پر سمجھا گیا ہے مجھے اس سے اتفاق ہے اور وہ یہ ہے کہ نوع انسانی کے تمام افراد کو جہنم کے اوپر ”پل صراط“ پر سے گزرنا ہوگا۔ گویا یہ وہی ”الصراط“ ہوگا جسے ”صراط مستقیم“ کہا گیا ہے ‘ جس پر گامزن ہونے کے ہم دعوے دار ہیں۔ یہی صراط مستقیم قیامت کے دن ”پل صراط“ بن جائے گا۔ اہل جنت اس روشنی میں چلتے ہوئے جو انہیں عطا کی جائے گی بڑی سرعت اور آسانی کے ساتھ پل صراط کو پار کر کے جنت میں داخل ہوجائیں گے ‘ جبکہ اہل جہنم اندھیرے میں ٹھوکریں کھا کھا کر نیچے آگ میں گرتے جائیں گے۔ یہ مضمون سورة الحدید…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 71–73

65 پل صراط سے ہر ایک کو گزرنا ہے :۔ یعنی ہر شخص کو خواہ وہ مسلم ہو، کافر، نیک ہو یا بد ایک دفعہ ضرور جہنم کے کنارے لا کھڑا کیا جائے گا اور یہ اللہ کی طرف سے ایسی طے شدہ بات ہے جس کا کبھی خلاف نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : (1) سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : سب لوگ دوزخ پر پہنچیں گے پھر اپنے اپنے اعمال لے لحاظ سے واپس ہوں گے۔ پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح نکل جائے گا، دوسرا ہوا کی طرح، تیسرا گھڑ سوار کی طرح، چوتھا اونٹ کی طرح، پانچواں دوڑنے والے کی طرح اور چھٹا جیسے آدمی پیدل چلتا ہو (ترمذی، ابو اب التفسیر) (2) اور سیدنا ابو سعید خدری فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

104۔ (اے نوع انسان ! ) خطاب عام نوع انسانی سے ہے۔ ایھا الناس (ابن جریر) واولی الاقوال فی ذلک بالصواب قول من قال یردھا الجمیع (ابن جریر) التفات الی الانسان (بیضاوی) قال الاکثرون انہ عام فی کل مومن و کافر (کبیر) یعنی دوزخ سے گزر تو بہرحال سب ہی کا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ مومنین کو اس سے ضرر ذرا بھی نہ پہنچے۔ جس طرح خود ملائکہ دوزخ کو دوزخ سے تکلیف مطلق نہ ہوگی، دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یہ خطاب صرف اہل طغیان سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ بمعنی الکفار لا یردھا مومن (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ قال عکرمۃ الایۃ فی الکفار (معالم) قال بعضھم المراد من تقدم ذکرہ من الکفار (کبیر) (آیت) ” واردھا “۔ ورود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 66–72

آیت نمبر 66 تا 75 ترجمہ : اور انسان کہتا ہے جو بعث بعد الموت کا منکر ہے یعنی ابی بن خلف یا ولید بن مغیر جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے کہ کیا جب ثانی ہمزہ کی تحقیق اور اس کی تسہیل کے ساتھ اور ثانی (ہمزہ) اور پہلے ہمزہ کے درمیان الف داخل کر کے دونوں صورتوں میں (یعنی تسہیل اور تحقیق کی صورت میں) میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں استفہام نفی کے معنی میں ہے (یعنی أئِذ َا میں استفہام انکاری ہے) یعنی میں مرنے کے بعد زندہ نہ کیا جاؤں گا مَا اور لام تاکید کے لئے زائدہ ہیں (اس انسان کافر کے قول کا جواب) اللہ تعالیٰ کے قول اَوَلاَ یَذَّکَّرُ (الآیۃ) سے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان منکم الا واردہا اور تم میں سے ہر ایک دوزخ پر اترنے والا ہے۔ (یعنی اللہ نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ہر شخص کو دوزخ پر ضرور اترنا ہوگا) کان علی ربک حتما مقضیا۔ یہ آپ کے رب پر (اس کے وعدے کے موافق) لازم ہے ‘ جو ضرور پورا ہو کررہے گا۔ خَتْممصدر (بمعنی صفت) ہے یعنی لازم ہے اللہ نے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے ‘ اللہ نے یہ امر طے کردیا ہے اور قطعی فیصلہ کردیا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا ‘ اس کے خلاف ہونا ممکن نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(71) اور انبیاء کرام ومرسلین کے علاوہ تم میں سے کوئی بھی نہیں جس کا دوزخ پر سے گزر نہ ہو (خواہ داخل ہوں یا اس کو یاد کریں) یہ فیصلہ لازم تاکید کیا ہوا ہے جو ضرور ہو کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا۔۔ : لغت کے اعتبار سے ”وارد ہونے“ کے معنی ”داخل ہونا“ اور ”اوپر سے گزرنا“ دونوں ہوسکتے ہیں، اس لیے ترجمہ ”وارد ہونے والا“ ہی کردیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ”وارد ہونے“ سے مراد جسر (پل) سے گزرنا ہے، جسے بعض احادیث میں ”صراط“ بھی کہا گیا ہے۔ عام لوگوں نے فارسی اور عربی کو جمع کرکے اس کا نام ”پل صراط“ رکھ لیا ہے۔ یہ پل چونکہ جہنم کے اوپر رکھا جائے گا، اس لیے یہ جہنم پر سے گزرنا ہی ہے۔ متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ہر نیک و بد اور ہر کافر و مومن کو اس پل پر سے گزرنا پڑے گا۔ جن مفسرین نے اس کے معنی ”داخل ہونا“ کیے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حدیث کے مطابق…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتماً مقضیا۔ اس میں پانچ مسائل ہیں :۔ مسئلہ نمبر 1:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان منکم یہ قسم ہے اور وائو قسم کو مضتمن ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث اس کی تفسیر بیان کرتی ہے۔ لا یموت لاحد من المسلمین ثلاثت من الولد فتمسہ النار الا تحلۃ القسم۔ جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجاتے ہیں اسے آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری ہونے کی مقدار۔ زہری نے کہا : گویا یہ آیت مراد لے رہے ہیں وان منکم الا واردھا۔ یہ ابو دائود طیالسی نے ذکر کیا ہے اور حدیث میں الا تحلۃ القسم کا قول تفسیر مسند میں نکلتا ہے، کیونکہ اس حدیث میں جو قسم مذکور ہے اہل علم کے نزدیک اس کا معنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–79

1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔ 5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان : اور نہیں ہے ] [مِّنْكُمْ : تم میں سے (کوئی)] [اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [وَارِدُهَا : (وہ) پہنچنے والا ہے اس (جہنم) تک ] [كَان : یہ ہے ] [عَلٰي رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب پر ] [حَتما مَّقْضِيًّا : فیصلہ کی ہوئی پکی بات ] ح ث م [حَثْمًا : (ض) ] مضبوط کرنا۔ واجب کرنا۔ حَثْمٌ قطعی۔ پکی بات۔ زیر مطالعہ آیت۔ 71 نوٹ۔ 1: آیت۔ 71 ۔ میں وارد ہونے کے معنی بعض روایات میں داخل ہونے کے بیان کئے گئے ہیں۔ مگر ان میں سے کسی کی بھی سند نبی ﷺ تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی۔ اور پھر یہ بات قرآن مجید اور ان کثیر التعداد احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں مومنین صالحین کے دوزخ میں جانے کی قطعی نفی کی گئی ہے۔ جن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تمام بنی آدم دوزخ پر وارد ہوں گے، اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو نجات کی نعمت سے نوازے گا ان دونوں آیتوں میں یہ ارشاد فرمایا کہ بنی آدم میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جس کا دوزخ پر ورود نہ ہو عبور تو سبھی کا ہوگا لیکن متقی اس سے نجات پاجائیں گے اور ظالم لوگ اسی میں گھٹنوں کے بل گرجائیں گے اور پھر اسی میں رہیں گے۔ وارد سے کیا مراد ہے اس کی مشہور تفسیر تو یہی ہے کہ تمام مومن اور کافر اور نیک و بد پل صراط سے گزریں گے جو دوزخ پر قائم ہوگی اللہ سے ڈرنے والے مومنین اپنے اپنے درجہ کے موافق صحیح سلامت اس پر سے گزر جائیں گے۔ اور بد عمل چل نہ سکیں گے اور دوزخ کے اندر سے بھی بڑی بڑی سنڈاسیاں نکلی ہوئی ہوں گی جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–80

اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔ اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 70–71

49:۔ ” ثُمَّ “ تعقیب ذکری کے لیے ہے۔ یعنی ہمیں معلوم ہے کہ ان میں سب سے پہلے جہنم میں داخل کیے جانے کا مستحق کون ہے۔ ” وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا الخ “ ورود سے یہاں دخول مراد نہیں بلکہ اس سے پلصراط پر سے گذرنا مراد ہے جو دوزخ کے اوپر ہوگی۔ عن الھسن الورود المرور علیھا من غیر دخول وروی ذلک عن قتادۃ وزلک المرور علی الصراط الموضوع علی متنھا الخ (روح ج 16 ص 122) ۔ الورود الممر علی الصراط وروی عن ابن عباس وابن مسعود و کعب الاحبار والسدی (قرطبی ج 11 ص 136) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 66–72

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے انعام کا ذکر کیا کہ وہ بہشتوں میں رہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان بہشتوں کی خوبی اور فضیلت بھی بیان فرمائی ، یہ بہشت ان لوگوں کو ملے گی جو متقی یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بداعتقادی ، اور گناہوں سے بچنے والے ہوں گے ، پھر اللہ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے بلکہ پروردگار کے حکم کے مطابق ہی ہمارا نزول ہوتا ہے اور ہم اللہ کی طرف سے مفوضہ کام پورا کرتے ہیں وہی پروردگار جو ارض وسما اور تمام چیزوں کا رب ہے اسی کی عبادت پر قائم رہنا چاہئے ، وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُہَا۝ 0ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْـمًا مَّقْضِيًّا۝ 71ۚ ورد الوُرُودُ أصله : قصد الماء، ثمّ يستعمل في غيره . يقال : وَرَدْتُ الماءَ أَرِدُ وُرُوداً ، فأنا وَارِدٌ ، والماءُ مَوْرُودٌ ، وقد أَوْرَدْتُ الإبلَ الماءَ. قال تعالی: وَلَمَّا وَرَدَ ماءَ مَدْيَنَ [ القصص/ 23] والوِرْدُ : الماءُ المرشّحُ للوُرُودِ ، والوِرْدُ : خلافُ الصّدر، ( ور د ) الورود ۔ یہ اصلی میں وردت الماء ( ض ) کا مصدر ہے جس کے معنی پانی کا قصد کرنے کے ہے ۔ پھر ہر جگہ کا قصد کرنے پر بولا جاتا ہے اور پانی پر پہنچنے والے کو ورود اور پانی کو مردود کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَلَمَّا وَرَدَ ماءَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–72

تفسیر : ویقول الانسان یہاں سے ان ناخلفوں کے عقائد بیان فرماتا ہے کہ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان سے کسی شخص خاص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموماً حشر کے منکر مراد ہیں وہ تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو محال اور خدا کی قدرت سے باہر جانتے تھے اس لیے رسول کی تکذیب کرتے تھے اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ تھا ہم نے اس کو موجود کردیا پس جو نیست محض کو موجود کردیتا ہے اس کے نزدیک دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ اس دلیل کے بعد قسم کھا کر وعدہ مستحکم کرتا ہے کہ ہم ان کو مرنے کے بعد ضرور جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی جو انہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–72

وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُھَا ج کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُالظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا۔ (مریم : 71، 72) (اور بیشک تم میں سے ہر شخص ضرور دوزخ پر وارد ہوگا، یہ آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ایک طے شدہ امر واجب ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا، اور ظالموں کو اس میں اوندھا گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ ) قیامت کے دن کی ہولناکی اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ” مِنْکُمْ “ کی ضمیر خطاب اور ” وارد “ کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ مفسرین کا یہ اختلاف بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق کوئی صحیح روایت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–72

فہم القرآن ربط کلام : جس جہنم میں مجرموں کو پھینکا جائے گا اس پر متقین کو بھی گزرنا ہوگا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ وہ کفار، مشرکین کو جہنم میں داخل کرے گا اسی طرح ہی اس کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ نیک لوگوں کو بھی جہنم میں وارد کرے گا۔ پھر انہیں جہنم سے محفوظ فرمائے گا۔ جس جہنم میں مجرم گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ وَارِدْ کا معنی گرنا ہے سورة القصص آیت 23 میں وارِدْ کا معنی کسی کنویں یا گھاٹ کے قریب آنا ہے۔ حدیث میں وارِدْ سے مراد پل صراط سے گزرنا ہے۔ جس کی کیفیت رسول اکرم ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ (عَنْ حُذَیْفَۃَ ہُرَیْرَۃَ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَا قَالَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جہنم پر ورود : 71: وَّاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا ( اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر کہ اس نے دوزخ پر وارد ہونا ہے) وارد کا معنی یہاں داخل ہے اور ھا سے مراد نار ہے جمہور اہلسنّت کے نزدیک ورود کا معنی یہاں دخول ہے جیسا کہ یہ حضرت علی اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس لئے کہ دوسرے ارشاد میں فرمایا :اور دھم النار ] سورة ہود : 98[ اور ایک اور ارشاد میں ہے : لو کان ھٰؤلاء الھۃ ما وردوھا [ الانبیاء : 99] اور ایک اور ارشاد میں اس طرح فرمایا : ثم نُنَجِّی الذی اتقوا ] مریم : 72[ کیونکہ نجات کا تصور داخلے کے بعد ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی جس کو امام احمد نے روایت کیا الورود کا معنی دخول ہے۔ لا یبقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

71۔ وان منکم الاواردھا، ، نہیں ہے کوئی جو اس کے اوپر سے نہ گزرے اور بعض نے کہا کہ اس میں قسم پوشیدہ ہے اس کا معنی ہے ، واللہ مامنکم من احد الاواردھا، ،۔ وان منکم الاواردھا کی مختلف تفسیریں۔ وارد کہتے ہیں کہ مکان کا موافق آجانا، ورد کے معنی میں آئمہ مفسرین کا آپس میں اختلاف ہے ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ ورد کا معنی دخول ہے اور کنایہ یہ راجع ہے۔ آگ میں دخول کے ساتھ اور ان لوگوں نے کہا کہ معنی یہ ہوگا کہ اس آگ میں نیک اورفاجر سب داخل ہوں گے۔ پھر اللہ متقین کو نجات دے دیں گے اور اس آگ سے نکال دیں گے اس دلیل کا حاصل یہ ہوگا کہ ورد سے مراد دخول ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–72

71۔ 72:۔ فرقہ معتزلہ نے اس آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ کبیرہ گناہوں کے گناہ گار ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سب آدمیوں کا پل صراط پر سے گزرنے کا ذکر فرما کر فقط متقیوں کی نجات پانے کا ذکر فرمایا ہے اور کبیرہ گناہ کے گناہ گار کو متقی کوئی نہیں کہہ سکتا اس لیے پل صراط پر سے جب وہ کٹ کٹ کر دوزخ میں گریں گے تو ان کی نجات کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اہل سنت نے جواب دیا ہے کہ صحیح حدیثوں سے گناہ گار کلمہ گو لوگوں کا ملائکہ انبیاء صالحین کی شفاعت کے سبب سے دوزخ سے نکل کر جنت میں جانا ثابت ہوچکا ہے 1 ؎۔ اس لیے آیت میں لفظ متقی کی تفسیر شرک سے بچنے کی ہے گناہ کے بچنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 70–71

(ایٓت 70) اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی قسم اٹھائی اور وہ سب سے سچی ہستی ہے کہ وہ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں کو ضرور اکٹھا کرے گا، ان کو اور ان کے شیطانوں کو ایک مقررہ روز جمع کرے گا۔ (ثم لنحضرنھم حول جھنم جثیاً ) یعنی ہولناکیوں کی شدت، زلزلے کی کثرت اور احوال کی خوفناک کی وجہ سے وہ اپنے گھٹنوں کے بل آئیں گے اور بلندو برتر اللہ کے حکم کے منتظر ہوں گے، اس لئے ارشاد فرمایا : (ثم لننزعن من کل شیعۃ ایھم اشد علی الرحمٰن عتیاً ) یعنی ہم ہر گروہ اور ہر فرقے سے ظالموں سے زیادہ سرکش، سب سے بڑا ظالم اور سب سے بڑا کافر ہے۔ پس اس کو عذاب کی طرف ان سب میں مقدم کیا جائے گا، پھر اسی طرح عذاب کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

79 ہر کسی کو دوزخ کے اوپر سے گزرنا ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا دوزخ پر سے گزرنا ہو " کہ اہل جنت کو بھی اس کے اوپر سے گزرنا پڑے گا۔ کیونکہ پل صراط کو دوزخ کے اوپر قائم کیا گیا ہوگا مگر مومن صادق کے لئے وہ آگ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ اور وہ اس کیلئے اسی طرح برد وسلام بن جائے گی جس طرح کہ نمرود کی آگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بن گئی تھی۔ اور اہل ایمان اس سے بحفاظت پار ہوجائیں گے اور ان کے گزرنے کی رفتار بھی ان کے ایمان و یقین کی قوت و ضعف اور اعمال کے درجات کی بناء پر مختلف ہوگی۔ کوئی بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا۔ کوئی تیز ہوا کی طرح۔ کوئی تیز گھوڑے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 66–72

دوبارہ زندہ ہونا، قیامت اور پل صراط کا بیان تشریح : جب کفار نے دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے بارے میں سنا تو بولے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا آسان سا جواب ہے اگر اللہ نے ہمیں یہاں زندگی دی ہے جو کہ یقینی طور پر موت آنے پر ختم ہوجائے گی تو سوچنے کی بات ہے کیا اللہ نے ہمیں بےمقصد پیدا کیا ہے ؟ ہرگز نہیں ہمیں ضرور پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کیا کیا ؟ اور یہی حساب کا دن ہوگا۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ “ (مریم آیت :72 ) یہ سب غائب کی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں پہلے سے بتا دیا گیا اور مہلت بھی دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–82

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 70–71

ف 1 لغت کے اعتبار سے ” وارد “ ہونے ” کے معنی “ داخل ہونا “ اور ” اوپر سے گزرنا “ دونوں ہوسکتے ہیں اس لئے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ” ورود “ سے مراد ” پل صراط “ سے گزرنا ہے اور یہ ” پل صراط “ چونکہ جہنم کے اوپر رکھی جائے گی اس لئے یہ جہنم پر سے گزرنا ہی ہے اور متعدد صحیح روایات سے ثابت ہے کہ ہر نیک و بد اور ہر کافر و مومن کو اسی سے گزرنا پڑے گا اور جن مفسرین نے اس کے معنی داخل ہونے کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تحلتہ القسم “ کے طور پر ہر مومن و کافر ایک مرتبہ جہنم میں داخل ہوگا مگر مومنوں پو ہآگ ٹھنڈی اور باعث رحمت بنادی جائے گی۔ بعض روایات اس معنی کی بھی تائید ہوتی ہے مگر پہلے معنی اولیٰ ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:71) وان منکم الا واردھا۔ میں ان نافیہ ہے منکم میں ضمیر جمع مذکر حاضر کا مرجع یا تو جمیع الناس ہیں یا وہ کفار جن کا ذکر اوپرہوا ہے۔ اوپر ان کفار سے جمع مذکر غائب کے صیغہ میں خطاب ہو رہا تھا۔ اب صیغہ جمع مذکر حاضر استعمال ہوا ہے۔ یہ التفات ضمائر اسلوب قرآن ہے۔ واردھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کے لئے ہے۔ و درود کے متعلق بھی اختلاف ہے کہ آیا اس سے مراد جہنم میں داخل ہونا ہے یا اس پر سے گذر جانا مراد ہے۔ ہر دو صورت ممکن ہیں اگر اول الذکر معنی مراد لئے جائیں تو بھی درست ہے اس صورت میں جہنم کی آگ مؤمنوں کے لئے ٹھنڈی اور بےضرر ہوجاوے گی۔ جس طرح حضرت ابراہیم پر ہوئی تھی۔ اور اگر مؤخر الذکر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–72

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 72 مت میں مر گیا۔ نحشرن ہم ضرور جمع کریں گے۔ نحضرن ہم ضرور حاضر کریں گے۔ حول اردگرد۔ جثی گھٹنوں کے بل۔ ننزعن ہم ضرور نکالیں گے۔ شیعۃ فرقہ، گروہ۔ عتی سرکش، نافرمان۔ صلی اندر داخل ہونا۔ وارد آنے والا۔ مقضی مقرر کیا ہوا۔ نذر ہم چھوڑ دیں گے۔ تشریح : آیت نمبر 66 تا 72 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر کفار و مشرکین کے متعلق بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کو سن کر بڑے تعجب اور حیرت سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے ۔ ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہو کر ہمارا وجود کائنات میں بکھر جائے گا تو کیا دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ ہمارے وجود کے اجزاء جمع ہو سکیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–72

پل صراط پر سے گزرنے کا بیان ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پل صراط پر سے تمام لوگوں کا گزرنا انتظام الہی میں قطعی طور پر ٹھہر چکا ہے۔ لیکن پرہیز گار لوگ تو صحیح سلامت اس پر سے گزر کر جنت میں چلے جائیں گے، اور گناہ گاہ لوگ اوندھے منہ دوزخ میں گر ُ پڑیں گے۔ صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا، وہ حضور ﷺ کی شفاعت سے ضرور دوزخ سے نکل کر جنت میں جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 71–72

[27] اس آیت میں خطاب تمام بنی نوع انسان سے نہیں بلکہ ان منکرین حق سے ہے جن کا ذکر پہلے سے چلا آ رہا ہے لیکن بعض مفسرین نے آیت کا مخاطب تمام بنی نوع انسان کو مان لیا ہے۔ چناچہ وہ ہر شخص کے لئے خواہ وہ نیک ہو یا بد، جہنم پر سے گزرنا ضروری قرار دیتے ہیں لیکن یہ تفسیر ان کی غلط فہمی کی بنا پر ہے کیونکہ سورة انبیاء میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے جہنم سے دور رکھے جائیں گے اور اس کی بھنک بھی نہ سنیں گے (آیات 102-101)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–74

(ف 2) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے تاویل کے تین پہلو اختیار کئے ہیں ۔ 1۔ اس سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ سیاق وسباق کا تقاضا ہے یعنی وہ لوگ جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں چلا آ رہا ہے کہ انہیں موت کے بعد اٹھایا جائے گا ، اور مکافات عمل کے اصول کے مطابق مناسب وموزوں سزا دی جائے گی ، سابقہ آیات اور اس میں صرف انداز بیان کا فرق ہے اس آیتوں میں تمام صیغے غائب کے ہیں ، اور اس آیت میں صیغہ خطاب کا ہے ، اور محض یہ تفاوت اس آیت کو دوسری آیتوں سے علیحدہ نہیں کرسکتا کیونکہ اس نوع کا اختلاف قرآن کی بیشمار آیتوں میں موجود ہے ، بلکہ بلاغت پر مبنی ہے ، ان کا تعلق ماسبق کی آیتوں سے منقطع نہیں ہوتا ، بات صرف یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-7 1 اور تم میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس کا گذر جہنم پر نہ ہو یہ درد و مذکور اور یہ جہنم سے گذر آپ کے پر ورگدار پر حسب وعدہ لازم شدہ ہے جو ضور پورا ہو کر رہے گا۔ چونکہ اس نے وعدہ فرمایا ہے اس لئے اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کو پورا کرے گا اور جب وہ پورا کرے گا تو یقین کرو کہ یہ بات پوری ہو کر رہے گی۔ کوئی دخول جہنم کے لیء گذرے گا اور کوئی محض عبور کے لئے گرنے والوں کی بھی دو قسمیں ہیں ۔ کوئی ہمیشہ کے لئے اور کوئی کچھ عرصہ کے لئے جیسے مومن گنہگار۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–71

ف 2۔ گزر کسی کا دخولا کسی عبورا۔ جہنم کا وجود ایسا یقینی ہے کہ اس کا معائنہ سب مومن و کافر کو کرایا جائے گا، گو صورت اور غرض معائنہ کی مختلف ہوگی، کفار کو بطور دخول کے اور تعذیب ابدی کے واسطے، اور مومنین کو بطور عبور پل صراط کے اور زیادت شکر اور فرح کے واسطے۔ اور بعض عصاة کو سزائے محدود کے لئے جو کہ تطہیر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تیرے رب کے حتمی فیصلہ سے کون ہے جو روگردانی کرے ؟ 71۔ (حتمامقضیا) فیصلہ شدہ بات کو کہا جاتا ہے جس میں ترمیم وتنسیخ کا امکان باقی نہ رہے ۔ (حتم) ایک بات کا لازم کرنا اور ضروری قرار دینا ۔ یہ فیصلہ شدہ بات کیا ہے ؟ یہی کہ تم میں سے شیاطین تھے جن کا ذکر اوپر گزر چکا ان کے متعلق جو کچھ بیان گیا وہ یقینا ہو کر رہے گا اور کوئی نہیں جو اس سے روک سکے گویا کوئی بھی ان کے لیکھ میں میخ نہیں مار سکے گا اور سارے بگڑی بنانے والے اپنے اپنے حال میں مصروف ہوں گے اور اس وقت کسی کی طرف وہ آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہ سکیں گے اور اسی طرح تمام کے تمام تعلقات منقطع ہو کر رہ جائیں گے ۔ زیر نظر آیت میں لفظ (منکم) اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا "And there is none among you who is not to arrive at it." - 19:71. This means that everybody - be he a believer or an infidel - will go across Hell. However, this does not mean that they would go to stay in it; they would only go across it. But even if the word means "entry", then the pious believers on entry into Hell will feel no discomfort because its fires will cool down and will do no harm to them. Sayyidna Abu Sumayya ؓ has related that The Holy Prophet ﷺ once said that: "Everybody whether he is a pious man or a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

44. According to some traditions,“pass over it (Hell)”means to enter Hell, but none of these traditions is authentic. Then this interpretation goes against the Quran and a great many authentic traditions, which clearly state that the true believers will never be cast into Hell. Lexically also, variduha (being presented unto) is not synonymous with dukhul (causing to enter). Therefore, the correct meaning would be that every human being will be presented before Hell, but then, as the next verse clarifies, the pious people will be rescued and the transgressors left therein on their knees.

Read the full tafseer →