Maryam 19:70

Maryam · from ayah 70

19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰی بِهَا صِلِیًّا ۟ثُمَّ لَـنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِيۡنَ هُمۡ اَوۡلٰى بِهَا صِلِيًّا

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then, surely it is We who are most knowing of those most worthy of burning therein.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:70

پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیاده سزاوار ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر یہ بات ہم ہی خوب جانتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو سب سے پہلے اس دوزخ میں جھونکے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہم خوب جانتے ہیں جو اس آگ میں بھوننے کے زیادہ لائق ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جھونکے جانے کے زیادہ سزاوار ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر یقینا ہم ان لوگوں کو زیادہ جاننے والے ہیں جو اس میں جھونکے جانے کے زیادہ حقدار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم ان لوگوں کو بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم میں پہلے داخل ہونے کے زیادہ مستحق ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم ان لوگوں کے سب سے زیادہ جاننے والے ہوں گے جو اس جہنم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ سزاوار ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر یہ نہیں کہ اس چھانٹی کے سلسلہ میں ہمیں کسی تحقیق کی ضرورت ہوگی کہ ہم خود ہی خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو سب سے زیادہ حق دار ہوں گے دوزخ میں جھونک دئیے جانے کے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم ہی انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو اس میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو اس میں پہلے داخل ہونے کے لائق ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو اس میں داخل ہونے کے بہت لائق ہیں (زیادہ لائق ہیں)۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and then We shall know well all those most worthy to be cast in Hell.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then of course, We are most aware of those who are more deserving to enter it (the Jahannam ).

— Muhammad Taqi Usmani

Then of course, We are most aware of those who are more deserving to enter it (the Jahannam ).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then, verily, We know best those who are most worthy of being burnt therein.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And surely We are Best Aware of those most worthy to be burned therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then, surely it is We who are most knowing of those most worthy of burning therein.

— Saheeh International

We know best who deserves greater suffering in hell fire.

— Muhammad Sarwar

Again We do certainly know best those who deserve most to be burned therein.

— Muhammad Habib Shakir

Then surely it is We who are the Best Knower of these worthiest of being therein roasted. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

And certainly We know best those who are most worthy of being burned therein.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–70

منکرین قیامت کی سوچ۔ بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ ، لفظ شیعہ اصل لغت میں کسی خاص شخص یا خاص عقیدہ کے متبعین کو کہا جاتا ہے اس لئے بمعنی فرقہ بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اور مراد آیت کی یہ ہے کہ کفار کے مختلف فرقوں میں جو سب سے زیادہ سرکش ہوگا اس کو ان سب میں ممتاز کر کے مقدم کیا جاوے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جہنم میں اس ترتیب سے داخل کیا جائے گا کہ جس کا جرم سب سے زیادہ ہوگا وہ سب سے پہلے اس کے بعد دوسرے اور تیسرے درجے کے مجرمین داخل جہنم کئے جاویں گے۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ثُمَّ لَنَحْنُ أَعْلَمُ بِالَّذِينَ هُمْ أَوْلَى بِهَا صِلِيًّا۔ فرمایا کہ اس وقت اس بات کے جاننے والے کہ کون اس جہنم میں داخل ہونے کا سب سے زیادہ سزاوار ہے، کس کو سب سے پہلے داخل ہونا چاہیے اور کس طبقہ میں داخل ہونا چاہیے، صرف ہم ہوں گے۔ کوئی دوسرا ان باتوں کا ہم سے زیادہ جاننے والا نہیں ہوگا کہ ہمیں کسی کے بارے میں اس سے مشورہ لینے کی ضرورت پیش آئے، یا کوئی کسی کے باب میں یہ کہنے کی پوزیشن میں ہو کہ وہ اس سے زیادہ ہم سے باخبر ہے اس وجہ سے اس کے معاملے میں اس کی سفارش درخور اعتناء ہے۔ یہ مشرکین کے غلط عقیدہ شفاعت پر ایک لطیف تعریض ہے کہ خدا کے ہاں کسی کے لیے سفارش تو وہ کرسکے جو کسی کے بارے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

70۔ 1 یعنی جہنم میں داخل ہونے اور اس میں جلنے کے کون زیادہ مستحق ہیں، ہم ان کو خوب جانتے ہیں

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–70

33: یعنی ان شیطانوں کو جو انہیں گمراہ کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ہر انسان کے ساتھ وہ شیطان بھی لایا جائے گا جس نے اس انسان کو گمراہ کیا تھا (تفسیر عثمانی)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم لنحن ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھا صلیا (91 : 07) ” پھر ہم یہ جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے “۔ ان کو وہ نکال لائے گا اور وہ جہنم میں ڈالے جانے والوں کا ہر اول دستہ ہوں گے۔ اس منظر کو اہل ایمان دیکھ رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 69–70

2 یعنی منکرین کے ہر فرقہ میں جو زیادہ بدمعاش، سرکش اور اکڑ باز تھے، انھیں عام مجرموں سے علیحدہ کرلیا جائے گا۔ پھر ان میں بھی جو بہت زیادہ سزا کے لائق اور دوزخ کا حقدار ہوگا وہ خدا کے علم میں ہے اس کو دوسرے مجرموں سے پہلے آگ میں جھونکا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 69–70

آیت 69 ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ اَیُّہُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا ” اس اجتماع میں سے ہر ہر گروہ کے ایسے سرکردہ لیڈروں کو چن چن کر علیحدہ کیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے معاملے میں زیادہ اکڑنے والے تھے اور اس کے مقابلے میں سرکشی اور گستاخی میں پیش پیش رہتے تھے۔ چناچہ ابو جہل اور عقبہ بن ابی معیط جیسے بڑے بڑے مجرموں کو چھانٹ کر الگ کرلیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 یعنی ان شیطانوں میں سے بھی ان کے سرغنوں اور لیڈروں کو الگ نکال لیں گے اور انھیں سب سے پہلے جہنم رسید کریں گے اور زیادہ سزا دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے خود گمراہ ہونے کے علاوہ دوسروں کو بھی گمراہ کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

103۔ (سو پہلے وہی سرغنہ اور سردار ہی جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ اور عذاب کی شدت اور اشدیت وغیرہ کی ترتیب وہاں بھی ملحوظ رہے گی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 66–72

آیت نمبر 66 تا 75 ترجمہ : اور انسان کہتا ہے جو بعث بعد الموت کا منکر ہے یعنی ابی بن خلف یا ولید بن مغیر جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے کہ کیا جب ثانی ہمزہ کی تحقیق اور اس کی تسہیل کے ساتھ اور ثانی (ہمزہ) اور پہلے ہمزہ کے درمیان الف داخل کر کے دونوں صورتوں میں (یعنی تسہیل اور تحقیق کی صورت میں) میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں استفہام نفی کے معنی میں ہے (یعنی أئِذ َا میں استفہام انکاری ہے) یعنی میں مرنے کے بعد زندہ نہ کیا جاؤں گا مَا اور لام تاکید کے لئے زائدہ ہیں (اس انسان کافر کے قول کا جواب) اللہ تعالیٰ کے قول اَوَلاَ یَذَّکَّرُ (الآیۃ) سے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم لنحن اعلم بالذین ہم اولی بہا صلیا۔ پھر ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں گے جو دوزخ میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ مستحق ہوں گے۔ ایک شبہ لفظ ثُمَّکا استعمال بتارہا ہے کہ پہلے جہنم کے گرداگرد دوزخیوں کو حاضر کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہر گروہ میں سے سب سے بڑے نافرمانوں کو چھانٹا جائے گا ‘ پھر آخر میں اللہ کو علم ہوگا کہ آگ میں داخل ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ‘ حالانکہ اللہ کو اگر دوزخیوں کا علم پہلے سے نہ ہوگا تو دوزخ کے گرداگرد ان کو جمع کیسے کیا جائے گا اور سب سے بڑے نافرمانوں کو ہر گروہ میں سے چھانٹ کر کیسے نکالا جائے گا۔ ازالہ ثُمَّ اس جگہ تاخیر زمانی کے لئے مستعمل نہیں ہے بلکہ صرف ترتیب…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۚثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بالَّذِيْنَ هُمْ۔۔ : ”صِلِيًّا“ ”صَلِیَ یَصْلٰی“ بروزن ”رَضِیَ یَرْضَی“ کا مصدر ہے، آگ میں داخل ہو کر اس کی تپش کی تکلیف اٹھانا، یعنی پھر ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس جہنم میں جھونکے جانے کے زیادہ لائق کون ہے اور وہ گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے دونوں ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ) [ الأعراف : 38 ] ”اللہ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا (عذاب) ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“ کیونکہ گمراہ ہونے والوں نے بھی کئی لوگوں کو گمراہ کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–70

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم لنز عن من کل شیعۃ، یعنی ہم ہر امت اور ہر اہل دین سے نکالیں گے۔ ایھم اشد علی الرحمن عنیا۔ نحاس نے کہا : یہ آیت ترکیب کے اعتبار سے بہت مشکل ہے کیونکہ تمام قراء ایھم کو رفع کے ساتھ پڑھتے ہیں سوائے ہارون قاری اعور کے۔ سیبویہ نے اس سے ایھم پر نصب دی ہے کیونکہ اس پر لنزعن کو واقع کیا ہے۔ ابواسحق نے کہا : ایھم کے رفع میں تین اقوال ہیں۔ خلیل بن احمد نے کہا : یہ سیبویہ نے اس سے حکایت کیا ہے کہ یہ حکایت یر مرفوع ہے اس کا مفہوم یہ ہے : ثم لنزعن من کل شیعۃ الذی یقال من اجل عتوہ ایھم اشد علی الرحمن عتیا۔ اور خلیل نے بطور دلیل یہ شعر پیش کیا ہے : ولقد ابیت من الفتاۃ بمنزل فابیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–79

1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔ 5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ : پھر ] [لَنَحْنُ : یقینا ہم بھی ] [اَعْلَمُ : زیادہ جاننے والے ہیں ] [بِالَّذِينَ : ان کو جو (کہ)] [هُمْ : وہ لوگ ہی ] [اَوْلٰى: زیادہ حقدار ہیں ] [بِهَا : اس (جہنم) کے ] [صِلِيًّا : بلحاظ تپش جھیلنے کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بالَّذِیْنَ ھُمْ اَوْلٰی بِھَا صِلِیًّا) (پھر ہم ہی ان لوگوں کو خوب جاننے والے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں) نافرمانی اور سرکشی کے اعتبار سے جب جدا کرلیے جائیں گے تو پھر ان میں سے اسی ترتیب کے مطابق دوزخ میں داخل ہونے کا کون زیادہ مستحق ہے اس کو ہم خوب جانتے ہیں جس درجہ کا کوئی کافر ہوگا اسی درجہ کے اعتبار سے داخلہ کی ترتیب میں بھی مقدم ہوگا اس پر عذاب کی سختی بھی اسی اعتبار سے ہوگی۔ قال صاحب الروح فکانہ قیل ثم لنحن اعلم بتصلیۃ ھولاء وھم اولی بالصلی من بین سائر الصالین ودرکاتھم اسفل وعذابھم اشد۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–80

اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔ اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 70–71

49:۔ ” ثُمَّ “ تعقیب ذکری کے لیے ہے۔ یعنی ہمیں معلوم ہے کہ ان میں سب سے پہلے جہنم میں داخل کیے جانے کا مستحق کون ہے۔ ” وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا الخ “ ورود سے یہاں دخول مراد نہیں بلکہ اس سے پلصراط پر سے گذرنا مراد ہے جو دوزخ کے اوپر ہوگی۔ عن الھسن الورود المرور علیھا من غیر دخول وروی ذلک عن قتادۃ وزلک المرور علی الصراط الموضوع علی متنھا الخ (روح ج 16 ص 122) ۔ الورود الممر علی الصراط وروی عن ابن عباس وابن مسعود و کعب الاحبار والسدی (قرطبی ج 11 ص 136) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 66–72

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے انعام کا ذکر کیا کہ وہ بہشتوں میں رہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان بہشتوں کی خوبی اور فضیلت بھی بیان فرمائی ، یہ بہشت ان لوگوں کو ملے گی جو متقی یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بداعتقادی ، اور گناہوں سے بچنے والے ہوں گے ، پھر اللہ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے بلکہ پروردگار کے حکم کے مطابق ہی ہمارا نزول ہوتا ہے اور ہم اللہ کی طرف سے مفوضہ کام پورا کرتے ہیں وہی پروردگار جو ارض وسما اور تمام چیزوں کا رب ہے اسی کی عبادت پر قائم رہنا چاہئے ، وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِيْنَ ہُمْ اَوْلٰى بِہَا صِلِيًّا۝ 70 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا أَوْلَى ويقال : فلان أَوْلَى بکذا . أي أحری، قال تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ [ الأحزاب/ 6] ، إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ [ آل عمران/ 68] ، فَاللَّهُ أَوْلى بِهِما [ النساء/ 135] ، وَأُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ [ الأنفال/ 75] وقیل : أَوْلى لَكَ فَأَوْلى[ القیامة/ 34] من هذا، معناه : العقاب أَوْلَى لک وبك، وقیل : هذا فعل المتعدّي بمعنی القرب، وقیل : معناه انزجر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–72

تفسیر : ویقول الانسان یہاں سے ان ناخلفوں کے عقائد بیان فرماتا ہے کہ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان سے کسی شخص خاص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموماً حشر کے منکر مراد ہیں وہ تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو محال اور خدا کی قدرت سے باہر جانتے تھے اس لیے رسول کی تکذیب کرتے تھے اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ تھا ہم نے اس کو موجود کردیا پس جو نیست محض کو موجود کردیتا ہے اس کے نزدیک دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ اس دلیل کے بعد قسم کھا کر وعدہ مستحکم کرتا ہے کہ ہم ان کو مرنے کے بعد ضرور جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی جو انہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ ھُمْ اَوْلٰی بِھَا صِلِیًّا۔ (مریم : 70) (پھر بیشک ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو جہنم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ سزاوار ہوں گے۔ ) صِلِیًّا … علامہ قرطبی نے جوہری کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب کسی چیز کو تم آگ میں جھونک دو تو عرب کہتے ہیں : صلیت الرجل نارا اذا ادخلتہ النار وجعلتہ یصلاھا۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ کفار کی جہنم پر ایسی بھیڑ ہوگی جس کا شمار ہی ممکن نہیں ہوگا، تو ایسی افراتفری میں کون جان سکے گا کہ کون جہنم کے کس حصے اور کس وادی میں داخل کیے جانے کا مستحق ہے اور ممکن ہے اس بھیڑ میں ایسے لوگ بھی دھر لیے جائیں جو سرے سے جہنم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–70

فہم القرآن ربط کلام : کوئی قیامت کا انکار کرے یا اقرار کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب کو اپنی بارگاہ میں جمع کرے گا۔ مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہونے کی حقیقت اس قدر عقلی اور شرعی دلائل پر مبنی ہے جس کا انکار کرنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کے حوالے سے اسے سمجھایا ہے کہ انسان اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا جس رب نے اسے عدم سے وجود بخشا ہے کہ وہ دوبارہ اسے کیونکہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ اس لیے رب ذوالجلال نے اپنی ذات کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی آپ کا رب نہ صرف انھیں اپنے حضور اکٹھا کرے گا بلکہ جس شیطان نے انسان کو گمراہ کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

70: ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ ھُمْ اَوْلٰی بِھَا (پھر ہم ضرور اچھی طرح جانتے ہیں ان لوگوں کو جو دوزخ میں داخلے کے سب سے زیادہ مستحق ہونگے) بھاؔ کی ضمیر نار کی طرف ہے یعنی آگ کے زیادہ حقدار صلیًا تمیز ہے اور اس کا معنی داخلہ ہے باء ؔ یہ اولٰی کے متعلق ہے ( ثُمّ یہاں تراخی زمان کیلئے نہیں بلکہ تراخی مرتبہ کیلئے ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : ثم کان من الذین امنوا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70۔ ثم لنحن اعلم بالذین ھم اولی بھاصلیا، ، آگ میں داخل ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔ کہاجاتا ہے ، صلی یصلی صلیا، یہ ایسے ہے، لقی یلقی لقیا، اور صلی یصلی صلیا، جیسے معنی ، یمضی مضیا، جب وہ آگ میں داخل ہوں گے اور جل جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–70

68۔ 70:۔ اوپر منکرین حشر کو عقلی طور پریوں قائل کیا گیا تھا کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام بدل نہیں سکتا جس نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ ضرور سزا وجزا کے لیے ایک دن سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے اور جن جن شیاطینوں کے بہکانے سے یہ منکر حشر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ ان کو بھی زندہ کیا جائے ان میں سے بڑے بڑے سرکشوں کو چھانٹا جا کر دوزخ میں پہلے جھونکا جائے گا اور جو سرکش لوگ دوزخ کے پہلے جھونکے کے قابل ہیں ان کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو شخص خود بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 70–71

(ایٓت 70) اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی قسم اٹھائی اور وہ سب سے سچی ہستی ہے کہ وہ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں کو ضرور اکٹھا کرے گا، ان کو اور ان کے شیطانوں کو ایک مقررہ روز جمع کرے گا۔ (ثم لنحضرنھم حول جھنم جثیاً ) یعنی ہولناکیوں کی شدت، زلزلے کی کثرت اور احوال کی خوفناک کی وجہ سے وہ اپنے گھٹنوں کے بل آئیں گے اور بلندو برتر اللہ کے حکم کے منتظر ہوں گے، اس لئے ارشاد فرمایا : (ثم لننزعن من کل شیعۃ ایھم اشد علی الرحمٰن عتیاً ) یعنی ہم ہر گروہ اور ہر فرقے سے ظالموں سے زیادہ سرکش، سب سے بڑا ظالم اور سب سے بڑا کافر ہے۔ پس اس کو عذاب کی طرف ان سب میں مقدم کیا جائے گا، پھر اسی طرح عذاب کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

78 دوزخیوں کے بارے میں پورا علم اللہ ہی کو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ہم خوب جانتے ہوں گے کہ کون زیادہ حقدار ہے دوزخ میں جھونکے جانے کا " کہ ہم اپنے علم کامل کے مطابق ان کے ظاہر و باطن کو ایک برابر جانتے ہیں اور ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ کس کا ظلم کتنا ہے اور کس کی سرکشی کس قدر ہے ؟ اور کون کس قدر عذاب و سزا کا مستحق ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس وحدہ لاشریک سے کوئی انسان اور اس کا کوئی عمل اور اس کے ظاہر و باطن کی کوئی کیفیت کسی بھی طرح مخفی نہیں رہ سکتی کہ اس کی شان ہے ۔ { علیم بذات الصدور } ۔ یعنی " سینوں کے بھیدوں کو بھی پوری طرح جاننے والا " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کو چاہیئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 66–72

دوبارہ زندہ ہونا، قیامت اور پل صراط کا بیان تشریح : جب کفار نے دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے بارے میں سنا تو بولے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا آسان سا جواب ہے اگر اللہ نے ہمیں یہاں زندگی دی ہے جو کہ یقینی طور پر موت آنے پر ختم ہوجائے گی تو سوچنے کی بات ہے کیا اللہ نے ہمیں بےمقصد پیدا کیا ہے ؟ ہرگز نہیں ہمیں ضرور پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کیا کیا ؟ اور یہی حساب کا دن ہوگا۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ “ (مریم آیت :72 ) یہ سب غائب کی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں پہلے سے بتا دیا گیا اور مہلت بھی دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–82

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 70–71

ف 1 لغت کے اعتبار سے ” وارد “ ہونے ” کے معنی “ داخل ہونا “ اور ” اوپر سے گزرنا “ دونوں ہوسکتے ہیں اس لئے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ” ورود “ سے مراد ” پل صراط “ سے گزرنا ہے اور یہ ” پل صراط “ چونکہ جہنم کے اوپر رکھی جائے گی اس لئے یہ جہنم پر سے گزرنا ہی ہے اور متعدد صحیح روایات سے ثابت ہے کہ ہر نیک و بد اور ہر کافر و مومن کو اسی سے گزرنا پڑے گا اور جن مفسرین نے اس کے معنی داخل ہونے کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تحلتہ القسم “ کے طور پر ہر مومن و کافر ایک مرتبہ جہنم میں داخل ہوگا مگر مومنوں پو ہآگ ٹھنڈی اور باعث رحمت بنادی جائے گی۔ بعض روایات اس معنی کی بھی تائید ہوتی ہے مگر پہلے معنی اولیٰ ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:70) لنحن۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ پھر ہم ہی ہیں (جو بہتر جانتے ہیں) ۔ اعلم۔ خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ افعل التفضیل کا صیغہ علم سے۔ اولی بھا۔ اولی افعل التفضیل کا صیغہ ولی مادہ۔ الولاء والتوالی کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا اس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ خواہ وہ قرب بلحاظ مکان یا نسبت یا بلحاظ دین یا دوستی یا بلحاظ اعتقاد کے ہو۔ اولی۔ زیادہ مستحق۔ زیادہ لائق۔ زیادہ قریب۔ اولی کا صلہ اگر لام واقع ہو تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے اور اس صورت میں خرابی اور برائی سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–72

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 72 مت میں مر گیا۔ نحشرن ہم ضرور جمع کریں گے۔ نحضرن ہم ضرور حاضر کریں گے۔ حول اردگرد۔ جثی گھٹنوں کے بل۔ ننزعن ہم ضرور نکالیں گے۔ شیعۃ فرقہ، گروہ۔ عتی سرکش، نافرمان۔ صلی اندر داخل ہونا۔ وارد آنے والا۔ مقضی مقرر کیا ہوا۔ نذر ہم چھوڑ دیں گے۔ تشریح : آیت نمبر 66 تا 72 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر کفار و مشرکین کے متعلق بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کو سن کر بڑے تعجب اور حیرت سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے ۔ ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہو کر ہمارا وجود کائنات میں بکھر جائے گا تو کیا دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ ہمارے وجود کے اجزاء جمع ہو سکیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–70

دوبارہ زندہ ہونے کا ذکر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تاکید کے طور پر اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ ضرور سزا وجزا کے لئے ایک دن سب کو دوبارہ زندہ کای جاوے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے، اور جن شیاطینوں کے بہکانے سے منکرین حشر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں، ان کے ساتھ ان کو بھی زندہ کیا جاوے گا، اور دوزخ کے کنارہ پر ان سب کو کھڑا کیا جاوے گا۔ جہاں دوزخ کی دہشت سے گھٹنوں میں سر ڈال کر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ان میں سے بڑے بڑے سر کشوں کو چھانٹ کر دوزخ میں جھونکا جاوے گا، اور جو پہلے جھونکنے کا قابل ہیں ان کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 65–70

[26] یعنی کسی کو اس کے ساتھ اسمی شرکت بھی نہیں، اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبود کا نام اللہ نہیں رکھا۔ پس جب اس کا کوئی شریک نہیں تو بندگی بھی اسی کی ہونی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–70

حشر کا ثبوت اور لفظ درود کی تشریح : (ف 1) اس سے قبل کی آیت میں عبادت و استقلال کی تلقین کی گئی تھی اس میں اس شبہ کا ذکر ہے جو منکرین کے دل میں پیدا ہوتا ہے ، اور جس کی وجہ سے وہ اللہ کی عبادت سے روگردان رہتے ہیں ، وہ شبہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد کیونکر ہم دوبارہ جی اٹھیں گے ، اور یہ کسی طرح ممکن ہے ، کہ بوسیدہ ہڈیاں پھر سے لحم وشحم کی حامل ہوجائیں ، اور رگوں میں زندگی کا خون ڈوڑنے لگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم اپنی پیدائش پر غور کرو کیا اس سے پہلے تمہارا کہیں وجود تھا آج تم کبر و غرور کی وجہ سے اللہ کے سامنے سر نیاز نہیں جھکاتے ہو مگر کیا اسی خدا نے تمہیں خلعت وجود نہیں بخشا ؟ سمجھو اور یقین…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-70 اور ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں اور ان سے اچھی طرح واقف ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں یعنی دوزخ میں جانے کو تو سب ہی جائیں گے یہ جدا کرنا کسی خاص تحقیق کے لئے نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان اسقیا کو تو وہ خوب جانتا ہی ہے بلکہ یہ چھٹائی اس لئے کی جائے گی کہ پہلے جہنم میں ان سرکشوں کو اور اکڑنے والوں کو ڈالا جائے گا یعنی یہ چھٹائی پہلے ڈالنے کے لئے ہوگی نہ کسی مزید تحقیقات اور معلومات میں اضافہ کی غرض سے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–71

ف 2۔ گزر کسی کا دخولا کسی عبورا۔ جہنم کا وجود ایسا یقینی ہے کہ اس کا معائنہ سب مومن و کافر کو کرایا جائے گا، گو صورت اور غرض معائنہ کی مختلف ہوگی، کفار کو بطور دخول کے اور تعذیب ابدی کے واسطے، اور مومنین کو بطور عبور پل صراط کے اور زیادت شکر اور فرح کے واسطے۔ اور بعض عصاة کو سزائے محدود کے لئے جو کہ تطہیر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہمارے علم میں ہے کہ دوزخ میں جانے کا زیادہ سزاوار کون ہے ؟ 70۔ بلاشبہ دوزخیوں کے بھی درجات ہوں گے ، جہاں کچھ لوگوں کو عذاب دینے کے لئے دوزخ میں ڈالا جائے گا وہاں کچھ ایسے بھی ہوں گے جو بطور ایندھن کام دیں گے اور آگ کے شعلے بھڑکانے کے لئے ان کو استعمال کیا جائے گا ، فرمایا ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کون جہنم میں پہلے جھونکے جانے کا مستحق ہے اور یقینا وہی پہلے گرایا جائے گا خواہ وہ دنیا کی کتنی ہی معتبر ہستی کیوں نہ ہوگا گویا جو شرارتوں میں پیش پیش تھے وہ ان شرارتوں میں انعام حاصل کرنے کے لئے بھی پہلے نمبر پر ہی رکھے جائیں گے اور وہ انعام وہی ہے جس کو اسلام کی زبان میں جہنم اور دنیوی زبان میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شِيعَةٍ "Then We will certainly draw out from every group." - 19:69. The word is applied to a particular person or the followers of a particular faith, and it also means a sect. The meaning of the verse is that the most rebellious from amongst the different sects of the infidels will be picked out. Some commentators say that the sinners will be committed to Hell in the order of the intensity of their sins, i.e. those sinners will be driven in first whose sins are most intense and those with less intense sins, will follow them, and so on.

Read the full tafseer →