Explained with ayahs 66–70
منکرین قیامت کی سوچ۔
بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
سورة مَرْیَم 43
یعنی ہر باغی گروہ کا لیڈر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ ، لفظ شیعہ اصل لغت میں کسی خاص شخص یا خاص عقیدہ کے متبعین کو کہا جاتا ہے اس لئے بمعنی فرقہ بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اور مراد آیت کی یہ ہے کہ کفار کے مختلف فرقوں میں جو سب سے زیادہ سرکش ہوگا اس کو ان سب میں ممتاز کر کے مقدم کیا جاوے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جہنم میں اس ترتیب سے داخل کیا جائے گا کہ جس کا جرم سب سے زیادہ ہوگا وہ سب سے پہلے اس کے بعد دوسرے اور تیسرے درجے کے مجرمین داخل جہنم کئے جاویں گے۔ (مظہری)
Read the full tafseer →ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا۔ فرمایا کہ اس کے بعد ہم ہر گروہ اور ہر پارٹی کے ان لیڈروں کو ان کے اندر سے چھانٹ کر الگ کریں گے جو خدا اور اس کے رسول کے سب سے زیادہ مخالف اور اس کے خلاف تحریکیں چلانے والے رہے ہیں۔ ان کو چھانٹ کر اس لیے الگ کیا جائے گا کہ جس طرح انہوں نے دنیا میں لوگوں کو گمراہ کرنے کی مہم میں ان کی قیادت کی اسی طرح اب پیرو وں کو جہنم میں لے جانے کے لیے بھی ان کی پیشوائی کریں وہ آگے آگے ہوں گے اور ان کے پیرو پیچھے پیچھے اور جو جہنم کے جس طبقہ کا سزاوار ہوگا وہ اس میں داخل ہوگا۔
Read the full tafseer →69۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہر گمراہ فرقے کے بڑے بڑے سرکشوں اور لیڈروں کو ہم الگ کرلیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیں گے۔ کیونکہ یہ قائدین دوسرے جہنمیوں کے مقابلے میں سزا و عقوبت کے زیادہ سزا وار ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
33: یعنی ان شیطانوں کو جو انہیں گمراہ کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ہر انسان کے ساتھ وہ شیطان بھی لایا جائے گا جس نے اس انسان کو گمراہ کیا تھا (تفسیر عثمانی)
Read the full tafseer →ثم لننزعن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عتیا (91 : 96) ” پھر چھانٹ کر نکالیں گے ہم ہر گروہ سے ان لوگوں کو جو اللہ کے شدید نافرمان تھے “۔ چھانٹ لینے کے لئے نہایت ہی تاکیدی مشدولفظ استعمال ہوا ہے ‘ تاکہ لفظ کی سختی ‘ تشدید اور معنوی مبالغہ چھانٹ لینے کے عمل کو مزید خوفناک بنادے ‘ جس کے بعد پھر انا لوگوں کو جہنم میں پھینکنے کا عمل آتا ہے۔ خیال ان تمام حرکات کو عملی شکل دیتا ہے۔
اللہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ ان میں سے کوئی جہنم میں تپائے جانے کا مستحق ہے۔ اس لئے وہ ان لاتعداد اور ان گنت انسانوں کے سیلاب میں سے ان کو چن کر باہر نکال لائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
2 یعنی منکرین کے ہر فرقہ میں جو زیادہ بدمعاش، سرکش اور اکڑ باز تھے، انھیں عام مجرموں سے علیحدہ کرلیا جائے گا۔ پھر ان میں بھی جو بہت زیادہ سزا کے لائق اور دوزخ کا حقدار ہوگا وہ خدا کے علم میں ہے اس کو دوسرے مجرموں سے پہلے آگ میں جھونکا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
آیت 69 ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ اَیُّہُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا ”
اس اجتماع میں سے ہر ہر گروہ کے ایسے سرکردہ لیڈروں کو چن چن کر علیحدہ کیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے معاملے میں زیادہ اکڑنے والے تھے اور اس کے مقابلے میں سرکشی اور گستاخی میں پیش پیش رہتے تھے۔ چناچہ ابو جہل اور عقبہ بن ابی معیط جیسے بڑے بڑے مجرموں کو چھانٹ کر الگ کرلیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
63 یعنی وہ شیطان جن کے یہ فرمانبردار اور چیلے بنے ہوئے ہیں۔ انھیں یہ پٹی پڑھاتے رہتے ہیں۔ کہ کھاؤ، پیو اور عیش کرلو۔ کیونکہ یہ زندگی تو سب کے سامنے ہے مگر دوسری زندگی ایک موہوم خیال اور غیر یقینی ہے۔ کیونکہ جو مرگیا وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوگیا۔ ان میں سے آج تک کوئی بھی دوبارہ زندہ ہو کر واپس نہیں آیا۔
Read the full tafseer →102۔ یعنی ہر فرقہ، ہر گروہ سے اس کے شریر ترین، سرکش ترین افراد چن کر الگ کرلیے جائیں گے۔ (آیت) ” من کل شیعۃ “۔ یعنی جس جس گمراہ گروہ کی طرف وہ اپنے کو منسوب کرتے رہے ہیں۔ المراد بالشیعۃ الطائفۃ التی شاعت اے تبعت نادیا من الغواۃ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
آیت نمبر 66 تا 75
ترجمہ : اور انسان کہتا ہے جو بعث بعد الموت کا منکر ہے یعنی ابی بن خلف یا ولید بن مغیر جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے کہ کیا جب ثانی ہمزہ کی تحقیق اور اس کی تسہیل کے ساتھ اور ثانی (ہمزہ) اور پہلے ہمزہ کے درمیان الف داخل کر کے دونوں صورتوں میں (یعنی تسہیل اور تحقیق کی صورت میں) میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں استفہام نفی کے معنی میں ہے (یعنی أئِذ َا میں استفہام انکاری ہے) یعنی میں مرنے کے بعد زندہ نہ کیا جاؤں گا مَا اور لام تاکید کے لئے زائدہ ہیں (اس انسان کافر کے قول کا جواب) اللہ تعالیٰ کے قول اَوَلاَ یَذَّکَّرُ (الآیۃ) سے دیا…
Read the full tafseer →ثم لننزعن من کل شیعۃ ایہم اشد علی الرحمن عتیا۔ پھر (ان کفار کے) ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو علیحدہ کریں گے جو ان میں سب سے زیادہ اللہ سے سرکشی کرتا تھا کُلِّ شِیْعَۃٍیعنی ہر امت اور ہر مذہب والوں میں سے۔ شیعۃ جدا گروہ۔ متبعین مددگار ‘ اس لفظ کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور دو پر بھی اور جمع پر بھی مذکر پر بھی اور مؤنث پر بھی۔ اصل ماخذ شاع یَشِیْعُ (ضرب یضرب) ہے مصدر شَیْعًا شَیَعًا ‘ شُیوعًا مُشَاعًا ‘ شَیْعُوْعَۃً ہے شاعکا معنی ہے پھیل گیا ‘ مشہور ہوگیا (قاموس) میں کہتا ہوں متبعین اور انصار کو شیعہ اس لئے کہتے ہیں کہ شیوع اور پھیلاؤ کا لازمی نتیجہ تقویت اور مددگاروں کے پھیلاؤ سے بھی متبوع…
Read the full tafseer →(69) پھر ان گناہ گاروں کی ہر ایک جماعت میں سے ان لوگوں کو جدا کرلیں گے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن کریم کی نافرمانی اور اس پر دلیری کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →ۚثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ۔۔ : ”عِتِيًّا“ ”عَتَا یَعْتُوْ“ سے ”عُتُوًّا“ کی طرح مصدر ہے، تکبر، سرکشی، حد سے گزرنا۔ ”شِيْعَةٍ“ وہ گروہ جو ایک ہی قسم کا ہو، یعنی پھر ہم ہر باغی گروہ میں سے اس کے سب سے بڑے سرکش اور پیشوا کو، جس نے انھیں کفر و شرک میں پھنسایا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی کی راہ دکھائی، نکال کر الگ کھڑا کریں گے اور ایسے لوگوں کو سب سے پہلے جہنم میں جھونکیں گے، کیونکہ انھوں نے دو جرم کیے، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، پھر درجہ بدرجہ ان کے پیروکاروں کی باری آئے گی۔ دیکھیے سورة اعراف (38، 39) ، نحل (25) اور عنکبوت (13)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم لنز عن من کل شیعۃ، یعنی ہم ہر امت اور ہر اہل دین سے نکالیں گے۔ ایھم اشد علی الرحمن عنیا۔ نحاس نے کہا : یہ آیت ترکیب کے اعتبار سے بہت مشکل ہے کیونکہ تمام قراء ایھم کو رفع کے ساتھ پڑھتے ہیں سوائے ہارون قاری اعور کے۔ سیبویہ نے اس سے ایھم پر نصب دی ہے کیونکہ اس پر لنزعن کو واقع کیا ہے۔ ابواسحق نے کہا : ایھم کے رفع میں تین اقوال ہیں۔ خلیل بن احمد نے کہا : یہ سیبویہ نے اس سے حکایت کیا ہے کہ یہ حکایت یر مرفوع ہے اس کا مفہوم یہ ہے : ثم لنزعن من کل شیعۃ الذی یقال من اجل عتوہ ایھم اشد علی الرحمن عتیا۔ اور خلیل نے بطور دلیل یہ شعر پیش کیا ہے :
ولقد ابیت من الفتاۃ بمنزل فابیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–79
1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔
2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔
5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر ] [لَنَنْزِعَنَّ : ہم لازماً کھینچ نکالیں گے ] [مِنْ كُلِ شِيْعَةٍ : ہر فرقے سے ] [اَيُّهُمْ : ان کا کون (یعنی جو)] [اَشَدُّ : زیادہ سخت ہے ] [عَلَي الرَّحْمٰنِ : رحمن پر ] [عِتِيًّا : بیباک ہونے کے لحاظ سے ]
Read the full tafseer →ان کی یہ حاضری مذکورہ حالت میں ذلیل کرنے کے لیے ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں اہل باطل تھے کفر پر جمے رہتے تھے اور کفر پر جمنے اور جمانے کے لیے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے ان میں چھوٹے بھی تھے اور بڑے بھی علم بردار بھی تھے اور ان کے فرمانبردار بھی، جب یہ سب حاضر ہوں گے تو ان میں سے جو شدید ترین سرکش ہوں گے جو رحمن جل مجدہ کی نافرمانی پر مضبوطی سے جمے رہے اور دوسروں کو بھی نافرمانی پر لگاتے رہے انھیں علیحدہ کرلیا جائے گا اس کو (ثُمَّ لَنَنْزِ عَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ اَیُّھُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا) میں بیان فرمایا۔
(صاحب روح المعانی ص 119 ج 16) اس آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے لکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–80
اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔
اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
48:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الشیاطین “ اس سے شیاطین الجن والانس مراد ہیں۔ یعنی جنوں کے علاوہ وہ مولوی اور پیر جو ان کو گمراہ کرتے رہے یا ان کے ہمزاد جو انہیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یعنی کفار و مشرکین اپنے ہمزادوں کے ساتھ میدانِ حشر میں لائے جائیں گے۔ والمعنی انھ یحشرون مع قرنائہم من الشیاطین الذین اغو وھم یقرنون کل کافر مع شیطان فی سلسلۃ (قرطبی ج 11 ص 132) ۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد جمع کیا جائے گا۔ ” ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ الخ “ پھر تمام سرکش جماعتوں کو کفر و انکار اور سرکشی کے اعتبار سے اس طرح مرتب کریں گے کہ ہر جماعت کے سب سے زیادہ سرکش اور معاندین کو پہلی صف میں کھڑا کیا جائے گا۔ اس کے بعد ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے انعام کا ذکر کیا کہ وہ بہشتوں میں رہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان بہشتوں کی خوبی اور فضیلت بھی بیان فرمائی ، یہ بہشت ان لوگوں کو ملے گی جو متقی یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بداعتقادی ، اور گناہوں سے بچنے والے ہوں گے ،
پھر اللہ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے بلکہ پروردگار کے حکم کے مطابق ہی ہمارا نزول ہوتا ہے اور ہم اللہ کی طرف سے مفوضہ کام پورا کرتے ہیں وہی پروردگار جو ارض وسما اور تمام چیزوں کا رب ہے اسی کی عبادت پر قائم رہنا چاہئے ، وہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَۃٍ اَيُّہُمْ اَشَدُّ عَلَي الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا 69ۚ
نزع
نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی:
وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43]
( ن زع ) نزع
الشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کام ن کو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
تفسیر : ویقول الانسان یہاں سے ان ناخلفوں کے عقائد بیان فرماتا ہے کہ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان سے کسی شخص خاص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموماً حشر کے منکر مراد ہیں وہ تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو محال اور خدا کی قدرت سے باہر جانتے تھے اس لیے رسول کی تکذیب کرتے تھے اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ تھا ہم نے اس کو موجود کردیا پس جو نیست محض کو موجود کردیتا ہے اس کے نزدیک دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ اس دلیل کے بعد قسم کھا کر
وعدہ مستحکم کرتا ہے کہ ہم ان کو مرنے کے بعد ضرور جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی جو انہیں…
Read the full tafseer →ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ اَیُّھُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا۔ (مریم : 69)
(پھر ہم چھانٹ کر الگ کرلیں گے ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو جو خدائے رحمن سے سب سے زیادہ سرکش رہے ہوں گے۔ )
کفار کے لیڈروں پر ضرب
یہ اس تصویر کا دوسرا منظر ہے کہ جب سب کافر جہنم کے گرد نہایت بیچارگی کے ساتھ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اپنے انجام کے انتظار میں ہوں گے تو اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا کہ ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جائے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کی رسول کے مخالف رہے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف تحریکیں چلاتے رہے اور قدم قدم پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہدایت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
فہم القرآن
ربط کلام : کوئی قیامت کا انکار کرے یا اقرار کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب کو اپنی بارگاہ میں جمع کرے گا۔
مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہونے کی حقیقت اس قدر عقلی اور شرعی دلائل پر مبنی ہے جس کا انکار کرنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کے حوالے سے اسے سمجھایا ہے کہ انسان اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا جس رب نے اسے عدم سے وجود بخشا ہے کہ وہ دوبارہ اسے کیونکہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ اس لیے رب ذوالجلال نے اپنی ذات کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی آپ کا رب نہ صرف انھیں اپنے حضور اکٹھا کرے گا بلکہ جس شیطان نے انسان کو گمراہ کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →بڑے سرکش :
69: ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ (پھر ہم ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو علیحدہ کریں گے) شیعہ پیروگروپ کو کہتے ہیں جس نے گمراہوں میں سے کسی گمراہ کی پیروی کی ہو۔ اَیُّھُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا (جو ان میں سے سب سے زیادہ رحمان کی سرکشی کرتا تھا) جو زیادہ تھا جرأت میں یا فجور و فسق میں۔ مطلب یہ ہے گمراہوں کے گروہوں میں سے پہلے سب سے زیادہ سرکش (سرغنے) گروہ کو ہم نکالیں گے اور پھر ان کے بعددرجہ بدرجہ۔ جب وہ جمع ہوجائیں گے تو ہم ان کو بالترتیب آگ میں ڈال دیں گے عذاب کے اولین حقداروں کو اولًا ان کے بعد والوں کو بعد میں۔ دوسراقول یہ ہے کہ : اشدھم عتیًا سے مراد ان کے…
Read the full tafseer →69۔ ثم لننزعن، ، پھر ہم ان کو ضرور بضرور نکالیں گے۔
” من کل شیعۃ، ، ہر امت میں سے اور کفار میں سے سب اسی میں شامل ہوں گے ، ، ایھم اشد علی الرحمن عتیا، ، بےجاغرور کو کہاجاتا ہے ، یہ اصل میں عتوا تھا، ابن عباس کا قول ہے کہ اس کا معنی جرات ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ فجور ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ ان کا قائد اور ان کے سردار شریر ہوں گے، ان کو جہنم میں داخل کریں گے اور آخر میں بہت سخت ہیں، اور بعض آثار میں آیا ہے کہ وہ سب کے سب جہنم کے کنارے پر حاضر ہوں گے۔ پھر کافر پھر ان کے بعد کافر جمع کیے گئے ، (یعنی کفر کے بقدر ان کو جہنم کے باہر کھڑا کیا جائے گا) ایھم، کا معنی ، الذی، ہے ان کو کہاجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
68۔ 70:۔ اوپر منکرین حشر کو عقلی طور پریوں قائل کیا گیا تھا کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام بدل نہیں سکتا جس نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ ضرور سزا وجزا کے لیے ایک دن سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے اور جن جن شیاطینوں کے بہکانے سے یہ منکر حشر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ ان کو بھی زندہ کیا جائے ان میں سے بڑے بڑے سرکشوں کو چھانٹا جا کر دوزخ میں پہلے جھونکا جائے گا اور جو سرکش لوگ دوزخ کے پہلے جھونکے کے قابل ہیں ان کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو شخص خود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
(آیت 67)
یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چناچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے : (ء اذا ما مت لسوف اخرج حیاً ) یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہوچکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا ؟ ایسا نہیں ہوسکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا اس بھی غور و فکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔ بناء بریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →76 مجرموں کی جہنم کے گرد مجرمانہ شکل میں حاضری ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب کو حاضر ہونا ہے جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل "۔ کہ شدت ہول و خوف کی بناء وہ کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً } ۔ (الجاثیۃ : 28) ۔ یا ان کا یہ حشر ان کی تذلیل کیلئے ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں تکبر اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑا تھا۔ تو اس کے بدلے میں ان کو اس ذلت اور رسوائی سے دوچار کیا جائے گا کہ جزا جنس عمل سے ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ " جثی " جمع ہے " جاث " کی جو کہ مشتق و ماخوذ ہے " جثوا " سے۔ جس کے معنیٰ دوزانو اور اکڑوں بیٹھنے کے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
دوبارہ زندہ ہونا، قیامت اور پل صراط کا بیان
تشریح : جب کفار نے دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے بارے میں سنا تو بولے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا آسان سا جواب ہے اگر اللہ نے ہمیں یہاں زندگی دی ہے جو کہ یقینی طور پر موت آنے پر ختم ہوجائے گی تو سوچنے کی بات ہے کیا اللہ نے ہمیں بےمقصد پیدا کیا ہے ؟ ہرگز نہیں ہمیں ضرور پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کیا کیا ؟ اور یہی حساب کا دن ہوگا۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ “ (مریم آیت :72 )
یہ سب غائب کی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں پہلے سے بتا دیا گیا اور مہلت بھی دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–82
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ف 11 یعنی ہر باغی گروہ میں سے اس کے لیڈر اور پیشوا کو جس نے اسے کفر و شرک میں پھنسایا اور خدا کے مقابلے میں سرکشی کی راہ دکھائی، نکال کر الگ کھڑا کرینگے اور ایسے لوگوں کو سب سے پہلے جہنم میں جھونکیں گے۔ ان کے بعد ان کے متبعین کی باری آئے گی۔ یاد رہے کہ یہاں ” عتیا “ کا لفظ ” عتو “ کے مثل مصدر ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(19:69) لننزعن۔ مضارع جمع متکلم بلام تاکید نون ثقیلہ ۔ نزع مصدر (باب ضرب) ہم ضرور کھینچ لیں گے۔ ہم ضرور الگ کردیں گے۔ نزع الشیء کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچ لینا۔ دل سے عداوت اور نفرت کو کھینچ لینے کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً ونزعنا ما فی صدورہم من غل (7:43) اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم ان سب کو نکال ڈالیں گے۔ اور چھین لینے کے معنی میں مثلاً وتنزع الملک ممن تشائ (3:26) اور تو چھین لیتا ہے بادشاہی جس سے تو چاہے۔
شیعۃ۔ فرقہ ۔ گروہ ۔ الشیاع کے معنی منتشر ہونا اور تقویت دینے کے ہیں۔ الشیعۃ۔ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے اردگرد پھیلے رہتے ہیں۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 72
مت میں مر گیا۔ نحشرن ہم ضرور جمع کریں گے۔ نحضرن ہم ضرور حاضر کریں گے۔ حول اردگرد۔ جثی گھٹنوں کے بل۔ ننزعن ہم ضرور نکالیں گے۔ شیعۃ فرقہ، گروہ۔ عتی سرکش، نافرمان۔ صلی اندر داخل ہونا۔ وارد آنے والا۔ مقضی مقرر کیا ہوا۔ نذر ہم چھوڑ دیں گے۔
تشریح : آیت نمبر 66 تا 72
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر کفار و مشرکین کے متعلق بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کو سن کر بڑے تعجب اور حیرت سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے ۔ ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہو کر ہمارا وجود کائنات میں بکھر جائے گا تو کیا دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ ہمارے وجود کے اجزاء جمع ہو سکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
دوبارہ زندہ ہونے کا ذکر
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تاکید کے طور پر اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ ضرور سزا وجزا کے لئے ایک دن سب کو دوبارہ زندہ کای جاوے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے، اور جن شیاطینوں کے بہکانے سے منکرین حشر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں، ان کے ساتھ ان کو بھی زندہ کیا جاوے گا، اور دوزخ کے کنارہ پر ان سب کو کھڑا کیا جاوے گا۔ جہاں دوزخ کی دہشت سے گھٹنوں میں سر ڈال کر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ان میں سے بڑے بڑے سر کشوں کو چھانٹ کر دوزخ میں جھونکا جاوے گا، اور جو پہلے جھونکنے کا قابل ہیں ان کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
[26] یعنی کسی کو اس کے ساتھ اسمی شرکت بھی نہیں، اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبود کا نام اللہ نہیں رکھا۔ پس جب اس کا کوئی شریک نہیں تو بندگی بھی اسی کی ہونی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
حشر کا ثبوت اور لفظ درود کی تشریح :
(ف 1) اس سے قبل کی آیت میں عبادت و استقلال کی تلقین کی گئی تھی اس میں اس شبہ کا ذکر ہے جو منکرین کے دل میں پیدا ہوتا ہے ، اور جس کی وجہ سے وہ اللہ کی عبادت سے روگردان رہتے ہیں ، وہ شبہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد کیونکر ہم دوبارہ جی اٹھیں گے ، اور یہ کسی طرح ممکن ہے ، کہ بوسیدہ ہڈیاں پھر سے لحم وشحم کی حامل ہوجائیں ، اور رگوں میں زندگی کا خون ڈوڑنے لگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم اپنی پیدائش پر غور کرو کیا اس سے پہلے تمہارا کہیں وجود تھا آج تم کبر و غرور کی وجہ سے اللہ کے سامنے سر نیاز نہیں جھکاتے ہو مگر کیا اسی خدا نے تمہیں خلعت وجود نہیں بخشا ؟ سمجھو اور یقین…
Read the full tafseer →-69 پھر ہم ہرگوہ میں ان لوگوں کو کھینچ کر جدا کرلیں گے جو ان میں سب سے زیادہ رحمان سے سرکشی کیا کرتے تھے اور جو رحمان کے مقابلہ میں اکڑ رکھنے میں سخت تھے۔ یعنی دین حق کے منکروں میں خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ یا مجوس اور بت پرست ان تمام گروہوں میں سے ان لوگوں کو علیحدہ کرلیا جائے گا جو دین حق کی مخالفت میں زیادہ سرگرم تھے اور رحمان سے اکڑ رکھنے میں زیادہ سخت تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
ف 2۔ گزر کسی کا دخولا کسی عبورا۔ جہنم کا وجود ایسا یقینی ہے کہ اس کا معائنہ سب مومن و کافر کو کرایا جائے گا، گو صورت اور غرض معائنہ کی مختلف ہوگی، کفار کو بطور دخول کے اور تعذیب ابدی کے واسطے، اور مومنین کو بطور عبور پل صراط کے اور زیادت شکر اور فرح کے واسطے۔ اور بعض عصاة کو سزائے محدود کے لئے جو کہ تطہیر ہے۔
Read the full tafseer →دنیا میں گمراہی کے قائد ہی آخرت میں جہنم کے قائد ہوں گے گویا ان کی قیادت بحال رہے گی :
69۔ اس سے پہلی آیت میں شیاطین من الانس کا ذکر تھا اور وہ وہی تھے جو عوام کے سردار و راہنما کہلاتے تھے ۔ زیر نظر آیت میں ان سرداروں کے سرداروں یا ان شیطانوں کے شیطانوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جس طرح آج کل کی زبان میں بی ڈی پر ایم پی اے پر ایم این اے کا مقام ہے پھر ان کے بعد وفاقی وزراء کا فرمایا پھر وہ وقت کہ جب ہم ہر پارٹی کے ان لیڈروں کو ان کے اندر سے چھانٹ لیں گے اور ان سب کو ایک الگ الگ مقام پر جو راولپنڈی کا ہوٹل یقینا نہیں ہوگا ایک جگہ اکٹھا کرلیں گے ‘ یہ کون ہیں ؟ وہی جو اللہ اور اس کے رسول کے قانون کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شِيعَةٍ
"Then We will certainly draw out from every group." - 19:69.
The word is applied to a particular person or the followers of a particular faith, and it also means a sect. The meaning of the verse is that the most rebellious from amongst the different sects of the infidels will be picked out. Some commentators say that the sinners will be committed to Hell in the order of the intensity of their sins, i.e. those sinners will be driven in first whose sins are most intense and those with less intense sins, will follow them, and so on.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
43. The leader of every rebel band.
Read the full tafseer →