Maryam 19:66

Maryam · from ayah 66

19:66

وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا ۟وَيَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَيًّا

اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the disbeliever says, "When I have died, am I going to be brought forth alive?"

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:66

انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زنده کر کے نکالا جاؤں گا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (کافر) انسان یہ کہتا ہے کہ : جب میں مرچکا ہوں گا تو کیا واقعی اس وقت مجھے زندہ کر کے نکالا جائے گا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انسان کہتا ہے: کیا جب میں مرجاؤں گا تو عنقریب زندہ کر کے نکالا جاؤں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انسان کہتا ہے کیا جب میں مرگیا تو کیا واقعی عنقریب مجھے زندہ کر کے نکالا جائے گا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انسان یہ کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر سے زندہ کرکے (قبر سے) نکال لایاجاؤں گا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آخرت کا منکر انسان کہتا ہے کہ کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو بھلا پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو پھر مجھے زندہ کر کے نکال لیا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کافر کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Man is prone to say: "Shall I be raised to life after I die?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Man says, :Is it that, once I die, I shall be brought forth alive?

— Muhammad Taqi Usmani

Man says, :Is it that, once I die, I shall be brought forth alive?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And man says: "When I am dead, shall I then be raised up alive"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And man saith: When I am dead, shall I forsooth be brought forth alive?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the disbeliever says, "When I have died, am I going to be brought forth alive?"

— Saheeh International

The human being says, "Shall I be brought to life again after I will die?"

— Muhammad Sarwar

And says man: What! when I am dead shall I truly be brought forth alive?

— Muhammad Habib Shakir

And man saith: when I am daed, Shall I be presently brought forth alive. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

Man says: "What! When I am dead, shall I then be raised up alive?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–70

منکرین قیامت کی سوچ۔ بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–67

سورة مَرْیَم 40 یعنی اس کی بندگی کے راستے پر مضبوطی کے ساتھ چلو اور اس راہ میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرو۔ اگر اس کی طرف سے یاد فرمائی اور مدد اور تسلی میں کبھی دیر لگ جایا کرے تو اس پر گھبراؤ نہیں۔ ایک مطیع فرمان بندے کی طرح ہر حال میں اس کی مشیت پر راضی رہو اور پورے عزم کے ساتھ وہ خدمت انجام دیے چلے جاؤ جو ایک بندے اور رسول کی حیثیت سے تمہارے سپرد کی گئی ہے۔ سورة مَرْیَم 41 اصل میں لفظ سمی استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی " ہم نام " کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تو الٰہ ہے۔ کیا کوئی دوسرا الٰہ بھی تمہارے علم میں ہے ؟ اگر نہیں ہے اور تم جانتے ہو کہ نہیں ہے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–67

معارف و مسائل وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ، لفظ اضطبار کے معنے مشقت و تکلیف پر ثابت قدم رہنا ہے اس میں اشارہ ہے کہ عبادت پر دوام و ثبات مشقت چاہتا ہے عبادت گزار کو اس کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا، لفظ سمی کے مشہور معنے ہم نام کے ہیں اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ مشرکین اور بت پرستوں نے اگرچہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بہت سے انسانوں، فرشتوں پتھروں اور بتوں کو شریک کر ڈالا تھا اور ان سب کو الٰہ یعنی معبود کہتے تھے مگر کسی نے لفظ اللہ معبود باطل کا نام کبھی نہیں رکھا۔ یہ ایک تکوینی اور تقدیری امر تھا کہ دنیا میں اللہ کے نام سے کوئی بت اور کوئی الٰہ باطل موسوم نہیں ہوا اس لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَيَقُولُ الإنْسَانُ أَئِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا۔ حضرت جبریل کا کلام تمام ہوا۔ اب یہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہورہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین کے بعد اب یہ مخالفین کے اصل سبب تکذیب کا خود ان کے الفاظ میں حوالہ دے کر آگے اس کی تردید آرہی ہے۔ یہاں لفظ انسان اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد مشرکین عرب ہی ہیں جو قیامت کو ایک مستبعد چیز سمجھ کر اس کی تکذیب کرتے تھے۔ عام لفظ سے بات کہنے یہ بلاغت ہے کہ گویا وہ لائق التفات نہیں اس وجہ سے عام صیغہ سے بات کہہ دی گئی۔ قیامت کے باب میں مشرکین عرب کا موقف، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں۔ صریح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 انسان سے مراد یہاں کافر باحیثیت جنس کے ہے، جو قیامت کے وقوع اور بعث بعد الموت کے قائل نہیں۔ 66۔ 2 استفہام، انکار کے لئے ہے۔ یعنی جب میں بوسیدہ اور مٹی میں رل مل جاؤں گا، تو مجھے دوبارہ کس طرح نیا وجود عطا کردیا جائے گا ؟ یعنی ایسا ممکن نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–66

31: صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل ؑ کو آنحضرت ﷺ کے پاس آئے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا، اس پر بعض کفار نے آپ کا مذاق بھی بنایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو (معاذاللہ) چھوڑدیا ہے، چنانچہ جب جبرئیل ؑ آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ آپ جلدی جلدی ہمارے پاس کیوں نہیں آتے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت جبرئیل ؑ کا جواب نقل فرمایا ہے کہ ہمارا اتر کر آنا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہوتا ہے، ساری کائنات کی مصلحتیں وہی جانتا ہے، کیونکہ آسمان، زمین اور ان کی درمیانی مخلوقات سب اسی کے قبضے میں ہیں، اور کسی وقت دیر ہوتی ہے تو کسی حکمت کی وجہ سے ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، اور…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 731 ایک نظر میں اس سورة میں حضرت ذکریا ﷺ کا قصہ گزر گیا ہے اور حضرت یحییٰ ﷺ کی ولادت کی بات بھی گزر گئی ہے۔ حضرت مریم ﷺ کا قصہ اور حضرت عیسیٰ ؐ کی پیدائش کا واقعہ بھی گزر گیا ہے۔ حضر ابراہیم ﷺ اور ان کی جانب سے باپ اور قوم کو چھوڑ دینے کا قصہ اور ان حضرات کے بعد آنے والے اہل ہدایت اور اہل ضلالت کا ذکر بھی گزرا ہے۔ ان سب قصوں کے بعد یہ ذکر آیا کہ اس کائنات کا رب وحدہ لاشریک ہے اور وہی بلاشریک عبادت کا مستحق ہے۔ یہ تمام قصص صرف اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی قابل عبادت و بندگی ہے۔ اس مضمون کے بعد اب یہ پورا سبق عقیدہ توحید اور عقیدہ بعث بعد الموت کے بارے میں ہے۔ ان عقائد کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 گذشتہ رکوع میں نیکوں اور بدوں کا انجام فرمایا تھا جو مرنے کے بعد ہوگا۔ جو لوگ مر کر زندہ ہونے کو محال یا مستبعد سمجھتے ہیں یہاں ان کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے۔ یعنی آدمی انکار و تعجب کی راہ سے کہتا ہے کہ مرگل کر جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں اور مٹی میں مل کر مٹی بن گئے۔ کیا اس کے بعد پھر ہم قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائیں گے۔ اور پردہ عدم سے نکل کر پھر منصہ وجود پر جلوہ گر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66 وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا ” یہ ان لوگوں کا قول نقل ہوا ہے جو بعث بعد الموت کے منکر تھے۔ مشرکین مکہ کے عقائد کے بارے میں پہلے بھی کئی بار بتایا جا چکا ہے کہ ان میں سے اکثر وبیشتر آخرت کے قائل تھے ‘ اسی لیے تو بتوں کے بارے میں ان کے اس عقیدے کا قرآن میں ذکر ہوا ہے : وَیَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 ”اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہوں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 66–69

63 یعنی وہ شیطان جن کے یہ فرمانبردار اور چیلے بنے ہوئے ہیں۔ انھیں یہ پٹی پڑھاتے رہتے ہیں۔ کہ کھاؤ، پیو اور عیش کرلو۔ کیونکہ یہ زندگی تو سب کے سامنے ہے مگر دوسری زندگی ایک موہوم خیال اور غیر یقینی ہے۔ کیونکہ جو مرگیا وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوگیا۔ ان میں سے آج تک کوئی بھی دوبارہ زندہ ہو کر واپس نہیں آیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

99۔” انسان “ سے مراد منکر آخرت انسان، یا آج کا ” روشن خیال “۔ دہری العقیدہ انسان ہے۔ یقول استفسار استفہام کے طور پر نہیں۔ بلکہ اعتراض استہزاء کے لہجہ میں کہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 66–72

آیت نمبر 66 تا 75 ترجمہ : اور انسان کہتا ہے جو بعث بعد الموت کا منکر ہے یعنی ابی بن خلف یا ولید بن مغیر جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے کہ کیا جب ثانی ہمزہ کی تحقیق اور اس کی تسہیل کے ساتھ اور ثانی (ہمزہ) اور پہلے ہمزہ کے درمیان الف داخل کر کے دونوں صورتوں میں (یعنی تسہیل اور تحقیق کی صورت میں) میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں استفہام نفی کے معنی میں ہے (یعنی أئِذ َا میں استفہام انکاری ہے) یعنی میں مرنے کے بعد زندہ نہ کیا جاؤں گا مَا اور لام تاکید کے لئے زائدہ ہیں (اس انسان کافر کے قول کا جواب) اللہ تعالیٰ کے قول اَوَلاَ یَذَّکَّرُ (الآیۃ) سے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویقول الانسان ءاذا ما مت لسوف اخرج حیا۔ اور انسان (منکر قیامت) یوں کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے (قبر سے) نکالا جاؤں گا۔ الْاِنْسَانُیعنی جنس انسان (الف لام جنسی) یا بعض معین انسان (الف لام عہدی) بغوی نے لکھا ہے الانسان سے مراد ابی بن خلف جمحی ہے یہ قیامت جسمانی کا منکر تھا۔ روایت میں آیا کہ اس نے ایک بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لے کر اس کا چورا کردیا اور کہنے لگا محمد کا خیال ہے کہ ہم مرنے کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ‘ اس کے قول کو اللہ نے اس آیت میں نقل کیا ہے۔ اُخْرَجُمیں نکالا جاؤں گا ‘ زمین سے یا حالت موت سے۔ حَیًّا زندہ ہو کر ‘ چونکہ وہ شخص مرنے کے بعد دوبارہ زندگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 66–67

(66۔ 67) ابی بن خلف حجمی منکر بعث یوں کہتا ہے کہ کیا مرنے کے بعد جب کہ میں کچھ بھی نہیں رہوں گا پھر زندہ کرکے قبر سے نکالا جاؤں گا۔ کیا ابی بن خلف اس چیز سے نصیحت حاصل نہیں کرتا کہ اس سے پہلے ہم اس کو بدبودار نطفہ سے پیدا کرچکے ہیں تو پھر دوبارہ اس کو زندہ کرنے پر تو ہم اس ادنی طریقے پر قادر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۧوَيَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَ اِذَا مَا مِتُّ۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یس (77 تا 79)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 66–67

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔ انسان سے مراد یہاں ابی بن بن خلف ہے اس نے پرانی ہڈیاں پائیں پھر انہیں اپنے ہاتھ سے مسل دیا اور کہا : محمد ﷺ کا خیال ہے کہ ہم مرنے کے بعد اٹھائے جائیں گے ؛ یہ کلبی کا قول ہے، یہ واحدی، ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ اور مہدوی نے کہا : یہ ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھیوں کے ببارے میں نازل ہوئی ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ لسوف میں لام تاکید کے لیے ہے گویا اسے کہا گیا : جب تو مرے گا تو یقینا زندہ کر کے اٹھایا جائئے گا تو اس نے کہا : کیا جب میں مر جائوں گا تو مجھے پھر زندہ کر کے نکالا جائے گا ؟ یہ اس نے انکار کرتے ہوئے کہا۔ پس لام اس کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–79

1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔ 5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَقُوْلُ : اور کہتا ہے ] [الْانسَان : انسان ] [ءَ : کیا ] [اِذَا مَا : جب کبھی ] [مِتُّ : میں مر جائوں گا ] [لَسَوْفَ : تو عنقریب (پھر)] [اُخْرَجُ : میں نکالا جائوں گا ] [حَيًّا : زندہ ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

انسانوں کا قیامت کے دن زندہ ہونے سے انکار کرنا اور منکرین کا شیطان کے ساتھ حشر ہونا اللہ جل شانہ کی توحید اور اس کا قدرت و اختیار والا اور وحدہ لا شریک ہونا بیان فرمانے کے بعد معاد یعنی قیامت کا دن واقع ہونے اور میدان آخرت میں لوگوں کے جمع ہونے کا تذکرہ فرمایا، اول تو انسان کی اس جاہلانہ اور معاندانہ بات کا تذکرہ فرمایا کہ میں جب مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ ہو کر اٹھوں گا ؟ انسان کا یہ کہنا بطور تعجب اور انکار کے ہے، یہ لوگ قیامت کو نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ یہ مر کر جی اٹھنا سمجھ میں نہیں آتا مر کھپ گئے ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں اب کیسے جئیں گے اور کیسے اٹھیں گے، قرآن مجید میں منکروں یہ بات کئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–80

اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔ اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 66–67

47:۔ حصہ دوم :۔ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے پہلے حصے میں چاروں شبہات کا جواب دینے کے بعد اس حصے میں شکوے، زجریں، تخویفیں، بشارتیں اور تسلی برائے آنحضرت ﷺ ذکر کی گئی ہے۔ یہ شکوی ہے۔ یعنی نادان انسان کہتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ ” اَوَلَا یَذْکُرُ الْاِنْسَانُ “ یہ شکوے کا جواب ہے، یعنی انسان کو یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ نہیں تھا، نیست اور معدوم تھا، تو ہم نے اسے نیست سے ہست اور معدوم سے موجود کردیا تو کیا اب ہم اس کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 66–72

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے انعام کا ذکر کیا کہ وہ بہشتوں میں رہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان بہشتوں کی خوبی اور فضیلت بھی بیان فرمائی ، یہ بہشت ان لوگوں کو ملے گی جو متقی یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بداعتقادی ، اور گناہوں سے بچنے والے ہوں گے ، پھر اللہ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے بلکہ پروردگار کے حکم کے مطابق ہی ہمارا نزول ہوتا ہے اور ہم اللہ کی طرف سے مفوضہ کام پورا کرتے ہیں وہی پروردگار جو ارض وسما اور تمام چیزوں کا رب ہے اسی کی عبادت پر قائم رہنا چاہئے ، وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا۝ 66 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–72

تفسیر : ویقول الانسان یہاں سے ان ناخلفوں کے عقائد بیان فرماتا ہے کہ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان سے کسی شخص خاص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموماً حشر کے منکر مراد ہیں وہ تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو محال اور خدا کی قدرت سے باہر جانتے تھے اس لیے رسول کی تکذیب کرتے تھے اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ تھا ہم نے اس کو موجود کردیا پس جو نیست محض کو موجود کردیتا ہے اس کے نزدیک دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ اس دلیل کے بعد قسم کھا کر وعدہ مستحکم کرتا ہے کہ ہم ان کو مرنے کے بعد ضرور جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی جو انہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 66–67

وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ئَ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا۔ اَوَلاَ یَذْکُرُالْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ یَکُ شَیْئًا۔ (مریم : 66، 67) (اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا۔ اور کیا انسان یہ یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ ) منکرینِ قیامت کے دلائل کی تردید حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی معذرت کے بعد اب پھر اصل سلسلہ بیان شروع ہورہا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف سے پیش کردہ کلام میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا شدت سے انتظار رہتا تھا کیونکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–67

فہم القرآن ربط کلام : انسان اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی عبادت سے قولاً یا فعلاً تبھی انکار کرتا ہے جب وہ آخرت کے عقیدہ کو بھول جاتا ہے۔ اسی بنا پر مکہ کے کافر نبی اکرم ﷺ سے بحث کرتے تھے کہ ہماری عقل نہیں مانتی کہ انسان جب مر کر مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر دوبارہ کس طرح اٹھایا جائے گا۔ اس عقیدہ کی تائید میں ایک دن ایک آدمی نے ایک بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں ملتے ہوئے کہا کہ اس کو کس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا ؟ جس کا ان الفاظ میں جواب دیا گیا۔ ” ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہتا ہے کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا۔ کہہ دو کہ ان کو وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

66: شان نزول : ابی بن خلف جمنی نے ایک بوسیدہ ہڈی کو ہاتھ سے چورا کرتے ہوئے کہا کیا ہم اس طرح ہوجانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے پس یہ آیت نازل ہوئی۔ وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ئَ اِذَا مَامِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا (کیا انسان یوں کہتا ہے کہ جب میں مرجائوں گا تو کیا پھر زندہ کرکے نکالا جائوں گا) ۔ نحو : اذا میں عامل دلالت کلام کے مطابق البعث ہے تقدیر کلام یہ ہے : اِذَامَامِتُ أبعثُ اس کو اخرجْ کی وجہ سے منصوب قرار دینا درست نہیں کیونکہ لام ابتدائیہ کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا اس طرح نہیں کہا جاسکتا : الیوم لزید قائم۔ مضارع پر جو لام ابتدائی داخل ہوتی ہے وہ حال کا معنی دیتی ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

66۔ ویقول الانسان ، ، اس سے مراد ابی بن کعب جحمی ہے جو بعثت کامنکر تھا، یہ کہتا تھا کہ ، ء اذا مامت لسوف اخرج حیا، ، قبر سے زندہ کرکے اٹھایاجائے گا، یہ بطور استہزاء اور بعثت کی تکزیب کے طور پر کہی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 66–67

66۔ 67:۔ منکرین حشر میں سے جس کسی کو صاحب عقل ہونے کا دعویٰ ہو اس سے مثال کے طور پر پوچھا جائے کہ جب دنیا میں مثلا ریل نہیں تھی تو پہلے پہل جس نے ریل نکالی اس کو یہ سوچنا پڑا ہوگا کہ انجن کس طرح بنایا جائے پانی کا اندازہ اتنا ہو اور آگ کا صحیح تجربہ میں آگیا اور ایک مدت سے ریل چلتی ہے اب اگر فرض کیا جائے کہ دنیا بھر کی ریل ناپید ہوجائے تو جن لوگوں کے اندازہ میں ریل کی باتیں ہیں ان کو پھر ریل کے بنا دینے میں کیا ایسی مشکل پیش آئے گی جیسے نئے سرے سے ریل کے بنانے میں پیش آئی تھی کوئی صاحب عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ صحیح اندازہ سے ایک کام ہو کر مدت تک اس کام کی شد بد رہ چکی ہو اور کام کرنے والوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 65–66

آیات 65 ایک دفعہ جبرئیل رسول اللہ ﷺ پر دیر سے نازل ہوئے آپ ﷺ نے جبرئیل سے فرمایا ’ آپ جتنی بار ہمارے پاس آتے ہیں، کاش اس سے زیادہ ہمارے پاس آئیں “ آپ نے یہ بات جبرئیل کی طرف اشتیاق اور اس کی جدائی سے وحشت محسوس کرتے ہوئے کہی تاکہ اس کے نزول سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبرئیل کی زبانی فرمایا : (وما نتنزل الا بامر ربک) ” ہم تو اپنے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں “ یعنی اس معاملے میں ہمیں کوئی اختیار نہیں اگر ہمیں نازل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ہم اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرسکتے جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لایعصون اللہ مآ امرھم ویفعلون…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–91

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

73 منکرین کا بعث بعد الموت پر تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر انسان بعث بعد الموت پر تعجب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو کیا واقعی مجھے پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ یعنی یہ بہت عجیب امر ہے کہ جب میں مرمٹ کر ختم ہوجاؤنگا تو نئے سرے سے زندہ کرکے پھر اٹھایا جاؤنگا۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا۔ سو منکر انسان چونکہ اپنی محدود قدرت اور ناقص علم کے اعتبار سے دیکھتا اور سوچتا ہے اس لیے اس کو یہ تعجب اور اچنبھا ہوتا ہے کہ مرمٹ جانے کے بعد ان کو دوبارہ کس طرح زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ ورنہ حقیقت کے اعتبار سے اس میں تعجب اور اچنبھے کی کوئی وجہ نہیں کہ اس خالق ومالک کی شان ۔ { علی کل شئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 66–72

دوبارہ زندہ ہونا، قیامت اور پل صراط کا بیان تشریح : جب کفار نے دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے بارے میں سنا تو بولے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا آسان سا جواب ہے اگر اللہ نے ہمیں یہاں زندگی دی ہے جو کہ یقینی طور پر موت آنے پر ختم ہوجائے گی تو سوچنے کی بات ہے کیا اللہ نے ہمیں بےمقصد پیدا کیا ہے ؟ ہرگز نہیں ہمیں ضرور پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کیا کیا ؟ اور یہی حساب کا دن ہوگا۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ “ (مریم آیت :72 ) یہ سب غائب کی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں پہلے سے بتا دیا گیا اور مہلت بھی دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–82

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 66–67

ف 10 تو کیا جو ذات پاک اسے عدم سے وجود میں لے آئی ہے اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی دے سکے۔ یہ بعث یعنی دوبارہ زندہ کرنے کی سب سے قومی دلیل ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–72

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 72 مت میں مر گیا۔ نحشرن ہم ضرور جمع کریں گے۔ نحضرن ہم ضرور حاضر کریں گے۔ حول اردگرد۔ جثی گھٹنوں کے بل۔ ننزعن ہم ضرور نکالیں گے۔ شیعۃ فرقہ، گروہ۔ عتی سرکش، نافرمان۔ صلی اندر داخل ہونا۔ وارد آنے والا۔ مقضی مقرر کیا ہوا۔ نذر ہم چھوڑ دیں گے۔ تشریح : آیت نمبر 66 تا 72 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر کفار و مشرکین کے متعلق بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کو سن کر بڑے تعجب اور حیرت سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے ۔ ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہو کر ہمارا وجود کائنات میں بکھر جائے گا تو کیا دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ ہمارے وجود کے اجزاء جمع ہو سکیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 66–67

ان آیتوں کی تفسیر ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے پانی جیسی پتلی چیز سے ماں کے پیٹ میں انسان کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ، اس کو آدم کے پتلے کی طرح انسان کو دوبارہ پیدا کرنے کے وقت مٹی کا پتلا بنانا اور اس پتلے میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے ؟ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 65–70

[26] یعنی کسی کو اس کے ساتھ اسمی شرکت بھی نہیں، اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبود کا نام اللہ نہیں رکھا۔ پس جب اس کا کوئی شریک نہیں تو بندگی بھی اسی کی ہونی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–68

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے ، جو گناہوں سے توبہ کرلیتے ہیں ، اور ایمان وعمل کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو خواہشات وشہوات کی پیروی نہیں کرتے ، اور اپنے دلوں میں تقوی و پرہیز گاری کے جذبات پیدا کرلیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے وا ہیں یہ لوگ اطمینان وسل امتی کے ساتھ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔ حل لغات : اسرآئیل : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے ، عربی زبان میں اسرائیل کے معنے برگزیدہ خدا یا بندہ خدا کے ہیں ۔ غیا : گمراہی کی سزا ، گمراہی ، ہر بری بات ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-66 اب منکرین قیامت اور منکرین بعث کے بعض شبہات کا جواب فرماتے ہیں اور انسان یوں کہتا ہے کہ جب میں مر جائوں گا تو کیا واقعی دوبارہ زندہ کر کے پھر زمین سے نکالا جائوں گا یہ شبہ وہ لوگ کرتے تھے جو دوبارہ زندہ ہونے کا منکر تھے آسمانی مذاہب میں یہ مسئلہ نہایت اہم ہے اور اسی عقیدے پر اسلام کا مدار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–67

ف 1۔ جب ایسی حالت سے حیات تک لانا آسان ہے تو دوبارہ حیات دینا تو بدرجہ اولی آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منکرین قیامت کے متناقض خیالات اور ان کی تردید : 66۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تلقین صبر و استقامت کے بعد اب مخالفین کی تکذیب کا باعث بیان کیا جا رہا ہے ۔ (الانسان) سے مراد وہ خاص انسان ہیں جو ایسی ایسی باتیں کہنے والے ہیں اور اس وقت کے لحاظ سے وہ مشرکین عرب ہی تھے جو قیامت کا نام سنتے ہی تعجب کا اظہار کرنے لگتے تھے کہ یہ کیسا آدمی ہے اور کس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ۔ مشرکین عرب ہوں یا دوسری اقوام وہ زبانی طور پر مانتے اور تسلیم کرتے تھے لیکن اس بات پر ان کے دلوں کو اطمینان نہیں تھا کہ مرکھپ جانے کے بعد حساب کتاب کے لئے دوبارہ پیدا بھی کئے جائیں گے ، آج کل کی طرح ان کے امراء اور اغنیاء اس غلط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–67

Commentary وَاصْطَبِرْ‌ لِعِبَادَتِهِ ("and-persevere in His worship." - 19:65) The word اِصطِبَار ' means perseverance in the face of acute distress and hardship. The point here is that anyone who wishes to be constant and steadfast in. his prayers must be prepared to undergo pain and suffering. هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا ("Do you know any one worthy of His name?" - 19:65). In the generally accepted sense the word applies to persons bearing the same name. The polytheists and idolaters had included many humans, angels, stones and idols along with Allah Ta` ala in their worship and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–67

40. That is, you should not only follow strictly the way of service and face all the obstacles and afflictions with patience, but also should not get uneasy, if there is a delay in revelation and help. You should rest content with His service as an obedient servant and perform persistently the duties and responsibilities entrusted to you as a servant and Messenger. 41. The word Samiya literally means a name sake. Here it implies: Allah is the only Deity. Do you know of any other deity besides Him? If there is none, and you know that there is none, then you do not have any alternative but to…

Read the full tafseer →