Explained with ayahs 64–65
جبرائیل ؑ کی آمد میں تاخیر کیوں ؟
صحیح بخاری شریف میں ہے آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ سے فرمایا آپ جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ اس کے جواب پر یہ آیت اتری ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ کے آنے میں تاخیر ہوگئی جس سے حضور ﷺ غمگین ہوئے پھر آپ یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ روایت ہے کہ بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے جب آئے تو حضور ﷺ نے کہا اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟ مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ پس گو یہ یہ آیت سورة والضحی کی آیت جیسی ہے۔ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا میرا شوق تو بہت ہی بےچین کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
سورة مَرْیَم 40
یعنی اس کی بندگی کے راستے پر مضبوطی کے ساتھ چلو اور اس راہ میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرو۔ اگر اس کی طرف سے یاد فرمائی اور مدد اور تسلی میں کبھی دیر لگ جایا کرے تو اس پر گھبراؤ نہیں۔ ایک مطیع فرمان بندے کی طرح ہر حال میں اس کی مشیت پر راضی رہو اور پورے عزم کے ساتھ وہ خدمت انجام دیے چلے جاؤ جو ایک بندے اور رسول کی حیثیت سے تمہارے سپرد کی گئی ہے۔
سورة مَرْیَم 41
اصل میں لفظ سمی استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی " ہم نام " کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تو الٰہ ہے۔ کیا کوئی دوسرا الٰہ بھی تمہارے علم میں ہے ؟ اگر نہیں ہے اور تم جانتے ہو کہ نہیں ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
معارف و مسائل
وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ، لفظ اضطبار کے معنے مشقت و تکلیف پر ثابت قدم رہنا ہے اس میں اشارہ ہے کہ عبادت پر دوام و ثبات مشقت چاہتا ہے عبادت گزار کو اس کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا، لفظ سمی کے مشہور معنے ہم نام کے ہیں اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ مشرکین اور بت پرستوں نے اگرچہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بہت سے انسانوں، فرشتوں پتھروں اور بتوں کو شریک کر ڈالا تھا اور ان سب کو الٰہ یعنی معبود کہتے تھے مگر کسی نے لفظ اللہ معبود باطل کا نام کبھی نہیں رکھا۔ یہ ایک تکوینی اور تقدیری امر تھا کہ دنیا میں اللہ کے نام سے کوئی بت اور کوئی الٰہ باطل موسوم نہیں ہوا اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
آگے کا مضمون۔ آیات 64 تا 98: خاتمہ : سورة : آگے خاتمۂ سورة کی آیات ہیں۔ پہلے نبی ﷺ کو حضرت جبرئیل امین کی زبانی مخالفین کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین ہے۔ پھر مخالفین کو ان کے انکارِ قیامت پر توبیخ ہے۔ خاص طور پر ان کی اس ذہنیت پر شدت کے ساتھ ضرب لگائی گئی ہے کہ آج اہل ایمان کے بالمقابل ان کو جو دنیوی برتری حاصل ہے اس کو وہ اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ بالفرض قیامت ہوئی تو وہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کی بدولت وہاں بھی اونچا مقام حاصل کریں گے۔ آخر میں حضور کو لوگوں کے مطالبہ عذاب سے بےپروا ہوکر، قرآن کے ذریعے سے انذار وتبشیر کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ یہ ہر مرحلہ…
Read the full tafseer →65۔ 1 یعنی نہیں ہے، جب اس کی مثل کوئی اور نہیں تو پھر عبادت بھی کسی اور کی جائز نہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
31: صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل ؑ کو آنحضرت ﷺ کے پاس آئے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا، اس پر بعض کفار نے آپ کا مذاق بھی بنایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو (معاذاللہ) چھوڑدیا ہے، چنانچہ جب جبرئیل ؑ آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ آپ جلدی جلدی ہمارے پاس کیوں نہیں آتے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت جبرئیل ؑ کا جواب نقل فرمایا ہے کہ ہمارا اتر کر آنا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہوتا ہے، ساری کائنات کی مصلحتیں وہی جانتا ہے، کیونکہ آسمان، زمین اور ان کی درمیانی مخلوقات سب اسی کے قبضے میں ہیں، اور کسی وقت دیر ہوتی ہے تو کسی حکمت کی وجہ سے ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، اور…
Read the full tafseer →رب السموت والارض وما بینھما (91 : 56) ” وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان ساری چیزوں کا “۔ اس کے سوا کوئی رب نہیں ‘ اس عظیم کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔
فاعبدہ واصبر لعبادتہ (91 : 56) ” اسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو “۔ اسلام میں عبادت صرف مراسم پرستش کا نام نہیں ہے۔ ہر تصور ‘ ہر ارادہ ‘ ہر ہر حرکت اور ہر سرگرمی عبادت کے دائرے میں آتی ہے اور یہ نہایت ہی مشکل کام ہے کہ انسان زندگی کے پورے معاملات میں صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے ‘ اس لیے اس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے اور بڑے صبر اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے اس لیے ضروری ہے اس زمین کی تمام سرگرمیوں میں انسان آسمان کی طرف متوجہ رہے۔…
Read the full tafseer →8 یعنی کسی کے کہنے سننے کی پروا مت کر۔ اپنے دل کو خدا کی بندگی پر جمائے رکھ جو سارے جہان کا رب ہے اور سب سے نرالی صفات رکھتا ہے۔
9 اللہ کے نام اس کی صفات ہیں۔ یعنی کوئی ہے اس کی صفت کا ؟ جس میں اس جیسی صفات موجود ہوں ؟ جب کوئی نہیں تو بندگی کے لائق اور کون ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →آیت 65 رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا فَاعْبُدْہُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہٖط ہَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا ”
ظاہر ہے جو اللہ کی صفات ہیں ‘ جو اس کی شان ہے ‘ ایسی صفات اور ایسی شان رکھنے والی کوئی ہستی کائنات میں موجود نہیں۔
Read the full tafseer →61 اس کا ایک مطلب تو ترجمہ میں بیان ہوا ہے کہ پورے عزم و استقلال سے اس کی عبادت کرتے رہئے اور اس کے احکام بجا لاتے رہئے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرنے کی راہ میں جو مشکلات پیش آئیں انھیں صبرو استقلال اور ثابت قدمی سے برداشت کیجئے۔
62 کوئی چیز اللہ کی ہم نام نہیں :۔ یعنی اللہ کسی دوسری ہستی یا چیز کا نام نہیں۔ اللہ صرف اس ہستی کا نام ہے جو خالق ومالک ارض و سماوات ہے۔ کوئی دوسرا اس کا ہم نام نہیں اور اگر لفظ اسم کو صفت کے معنی میں لیا جائے جیسے کہ (وللہ الاسماء الحسنیٰ ) میں لیا جاسکتا ہے اور اللہ کے جتنے اچھے اچھے نام ہیں وہ ایک دو کے سوا سب صفاتی ہی ہیں تو اس صورت میں اس کا معنی…
Read the full tafseer →97۔ (اگر چہ اس راہ میں مشکلات بھی پیش آئیں) یہاں خطاب عام ہے۔ محض رسول اللہ ﷺ مخاطب نہیں۔ بعض نے خطاب کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ آپ تاخیر وحی سے گھبرائیے نہیں اور کافروں کے تمسخر کی کچھ پروانہ کیجئے۔ بلکہ بدستور عبادت میں لگے رہئے۔ اے لاتتشوش بابطاء الوحی وھزأ الکفرۃ (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں مجاہدات طریق کی طرف اشارہ ہے اور ان پر صبر وثبات کی تعلیم ہے۔
98۔ یعنی ذات کی طرف صفات باری میں بھی کوئی شریک نہیں۔ (آیت) ” سمیا “۔ سمی کے معنی محض ہم نام کے نہیں۔ ہم صفات کے بھی ہیں اور وہی یہاں مراد ہیں۔ اے نظیرا لہ یستحق اسمہ وموصوفا یستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
آیت نمبر 60 تا 65
ترجمہ : عنقریب خرابی دیکھیں گے ہاں مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا یعنی ان کے اجرو ثواب میں (ذرہ برابر) کمی نہ کی جائے گی جَنَّتُ عدْنٍ ہمیشہ قیام کی جنت جنّٰتُ عَدْنٍ ، الجنۃ سے بدل ہے وہ جنت کہ جس کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے بالغیب حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ ان بندوں نے اس جنت کو دیکھا نہیں ہے اور اس کے موعود (وعدہ کی ہوئی چیز) کو یہ لوگ ضرور جنت میں پہنچیں گے ماتِیًّا بمعنی آتیاً ہے اس کی اصل مَاتویٌ تھی یا اس کا موعود یہا، جنت ہے یعنی جنت کے مستحق اس میں داخل ہوں گے اور وہ لوگ…
Read the full tafseer →رب السموت والارض وما بینہما فاعبدہ واصطبر لعبادتہ وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان دونوں کے درمیان ہیں سو اسی کی عبادت کر اور اسکی عبادت پر قائم رہ۔
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہ عدم نسیان کی علت ہے۔ فَاعْبُدْہُاور واصْطَبِرْ میں رسول اللہ ﷺ : کو خطاب ہے مطلب یہ ہے کہ جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ اللہ کی رحمت و فضل آپ پر کامل طور پر ہے اور اللہ کی شان سے بعید ہے کہ وہ آپ کو بھول جائے لہٰذا بطور شکر نعمت آپ اس کی عبادت کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجائیں اور عبادت کی پابندی کریں۔ تاخیر وحی اور استہزاء کفار سے پریشان خاطر نہ ہوں۔
(صبر کے بعد عربی میں علیٰ آتا ہے لیکن) یہاں اصطبر کے…
Read the full tafseer →(65) اور وہ آسمانوں اور زمین کا اور ان کے در میان جو مخلوقات اور عجائبات ہیں سب کا خالق ہے سوا سی کی عبادت کیا کرو اور اسی کی عبادت پر قائم رہو۔ بھلا آپ کسی کو اللہ تعالیٰ کے مانند اور اس کا ہم صفت پاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ : ”نَنْزِلُ“ کے بجائے ”نَتَنَزَّلُ“ اس لیے فرمایا کہ باب تفعّل میں ٹھہر ٹھہر کر کام کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہم وقفے وقفے سے، ٹھہر ٹھہر کر تیرے رب ہی کے حکم سے اترتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : (قَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِیْلَ : مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَزُوْرَنَا أَکْثَرَ مِمَّا تَزُوْرَنَا فَنَزَلَتْ : (وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ۚ لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْــنَا وَمَا خَلْفَنَا) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (وما نتنزل إلا بأمر ربک۔۔) : 4731 ]”ایک مرتبہ نبی ﷺ نے جبریل ؑ سے کہا : ”آپ ہماری ملاقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا من تاب، یعنی نماز کے ضائع کرنے اور شہوات کی پیروی کرنے سے جس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ آیا۔ وامن، اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنۃ ابو جعفر، شیبہ، ابن کثیر، ابن محصین، ابو عمرو، یعقوب اور ابوبکر نے یدخلون خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ولا یظلمون شیئا۔ ان کے اعمال صالحہ میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی مگر ان کے لیے ہر نیکی کے بدلے دس سے لیکر سات سو تک نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جنت عدن یہ الجنۃ سے بدل ہے اس لیے منصوب ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : جنت عدن متبدا کی حیثیت سے مرفوع بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔
2:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے اس سے امت کے لوگ مراد ہیں جو راستوں میں جانوروں کی طرح سرعام بدکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے شرم کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن قریب یہ صورت حال ہوگی امت محمد ﷺ کے نیک لوگوں چلے جائیں گے (دنیا سے) اور پیچھے وہ لوگ رہ جائیں گے اور زانی لوگ گلیوں میں بدکاری کریں گے۔
نماز ترک کرنے والے برے جانشین ہیں۔
4:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] [وَمَا : اور اس کا جو ] [بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان ہے ] [فَاعْبُدْهُ : پس آپ ﷺ بندگی کریں اس کی ] [وَاصْطَبِرْ : اور آپ ﷺ ڈٹے رہیں ] [لِعِبَادَتِهٖ : اس کی بندگی کے لئے ] [هَلْ : کیا ] [تَعْلَمُ : آپ ﷺ جانتے ہیں ] [لَهٗ : اس کے ] [سَمِيًّا : کسی ہم نام کو ]
نوٹ۔ 2: یہ عجیب اتفاق ہے کہ مشرکین اور بت پرستوں نے اگرچہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بہت سے انسانوں، فرشتوں، پتھروں اور بتوں کو شریک کر ڈالا تھا اور ان سب کو الٰہ یعنی معبود کہتے تھے مگر کسی نے لفظ اللہ، کسی معبود باطل کا نام کبھی نہیں رکھا۔ یہ ایک تکوینی اور تقدیری…
Read the full tafseer →مزید فرمایا (رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا) (وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے) وہ اپنی مخلوق کے احوال کو پوری طرح جانتا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق تصرف فرماتا ہے۔
(فَاعْبُدْہُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہٖ ) جب وہ آسمان کا اور ان کے درمیان ہر چیز کا رب ہے تو اسی کی عبادت کرنا لازم ہے اسی کی عبادت کیجیے اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہیے اس بارے میں جو مشقتیں آئیں انھیں برداشت کیجیے وحی جو دیر میں آئی اس سے رنجیدہ نہ ہوجایئے اور کافروں کی باتوں کا خیال نہ کیجیے قال صاحب الروح ص 115 ج 16 فاقبل علی عبادتہ واصطبر علی مشاقھا ولا تحزن بابطاء الوحی و کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ذکراحاطہء علم وقدرت و اثبات وحدانیت و بیان
عبودیت ملائکہ برائے ترغیب عبادت و طاعت
قال اللہ تعالیٰ ۔۔۔ وما نتنزل الا بامرربک۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ھل تعلم لہ سمیا۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں انبیاء کرام کی عبودیت اور بندگی کو بیان فرمایا تھا۔ اب ان آیات میں ملائکہ کرام کی عبودیت اور بندگی کو بیان کرتے ہیں کہ فرشتے بھی اللہ کے حکم بردار بندے ہیں۔ ان کا آسمان سے زمین پر اترنا اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ بخاری وغیرہ میں ابن عباسی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے پاس جلد جلد کیوں نہیں آتے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم خدا کے حکم سے نازل ہوتے ہیں اور آپ ﷺ…
Read the full tafseer →46:۔ شبہات دور کرنے کے بعد دعوی سورت کو بیان فرمایا کہ زمین و آسمان یعنی ساری کائنات کا مالک و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لہذا اسی کی عبادت کرو اور صرف اسی ہی کو پکارو۔ ” وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ “ اور اسی کی عبادت اور پکار پر پابند ہوجاؤ۔ کیونکہ متصرف اور کارساز وہی ہے۔ اور کوئی نہیں۔ ” ھَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا “ یعنی ہم صفت اور مثل۔ استفہام انکار کے لیے ہے یعنی وہ اپنی صفات کارسازی میں یکتا اور بےمثل ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ربط آیات :
حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق عقیدہ الوہیت کے بطلان کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا اور پھر آخر میں ان سب کا مشترکہ مسلک بیان فرمایا یہ سب اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ اور برگزیدہ بندے تھے ابتداء میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور یحی (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کا تذکرہ ہوا ، ان سب پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدائے رحمان کے ان برگزیدہ بندوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کی جائیں تو یہ روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ، یہ تمام حضرات اللہ کے سامنے عاجزی کرتے تھے اور اسی کو اپنا حاجت روا…
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا فَاعْبُدْہُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہٖ 0ۭ ہَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِيًّا 65ۧ
سما
سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه،
قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ،
( س م و ) سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
تفسیر : واذکر فی الکتاب اور یہ چھٹا قصہ حضرت ادریس ( علیہ السلام) کا ہے جو نوح (علیہ السلام) کے پردادا تھے (نوح بن ملک بن متوسلح بن حنوک) یا اخنوخ ان کا نام اور ادریس لقب تھا بوجہ کثرت درس صحف ِ آسمانی کے۔ وہ صدیق نبی تھے یعنی بہت برگزیدہ۔ اس لیے رفعناہ مکانا علیا اس کے معنی بعض مفسرین کے نزدیک یہ ہیں کہ ان کو بلند مرتبہ کیا۔ وہ رفعت منزلت مراد لیتے ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت آیا ہے ورفعنا لک ذکرک اور ایک گروہ کہتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو بلند مکان میں اٹھا لیا۔ اول تقدیر میں یوں کہا جائے گا کہ خدا نے ادریس ( علیہ السلام) کا بلند مرتبہ کیا تیس صحیفے ان پر نازل کئے بہت سے علوم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ ج لَہٗ مَابَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ ج وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا فَاعْبُدْہُ وَاصْطَبِرْلِعِبَادَتِـہٖ ط ھَلْ تَعْلَمُ لَـہٗ سَمِیًّا۔ (مریم : 46، 65)
(اور ہم نازل نہیں ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے، اسی کی ملکیت (اور اختیار میں) ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہیں اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب کسی چیز کو بھولنے والا نہیں۔ وہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، پس آپ اسی کی بندگی کریں اور اسی کی بندگی پر ثابت قدم رہیں، کیا آپ جانتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں موجود ہے اور جو وہ پیدا کرنے والا ہے، سب کو جانتا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ ! مخالفوں کی مخالفت اور دشمنوں کی دشمنی کی طرف توجہ کرنے کی بجائے میری عبادت میں مصروف رہیے۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رسول کریم ﷺ کی ڈھارس بندھانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ جب بھی کفار اور مشرکین کی مخالفت اور ہٹ دھرمی کا ذکر ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی رسول کریم ﷺ کو نماز پڑھنے یا ذکر و اذکار کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ جس کا صاف معنٰی ہے کہ ان لوگوں سے الجھنے اور پریشان ہونے کی بجائے آپ اپنے رب کے ذکر و فکر میں مصروف ہوجایا کریں۔ تاکہ آپ پر اس کی…
Read the full tafseer →65: رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ( وہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا رب ہے)
نحو : رب السمٰوٰت (1) یہ رَبُّکَ سے بدل ہے۔ (2) یہ مبتدا محذوف ھُوَ کی خبر ہے۔
پھر اپنے رسول ﷺ کو فرمایا کہ جب آپ نے جان لیا کہ وہ ان صفات سے متصف ہے تو فَاعْبُدْہُ (پس تم اسی ہی کی عبادت کرو) یعنی اس کی عبادت پر قائم رہو۔ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہٖ (اور اس کی عبادت پر مضبوطی سے جمے رہو) یعنی معبود کی عبادت پر حاسدوں کی تکالیف پر صبر کیجئے اور خالق کائنات کی عبادت کیلئے مشقتوں کو برداشت کیجئے تاکہ اس عبادت پر آپ کو جمائو حاصل ہو اس صورت میں لام اجلیہ ہے۔ ھَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا…
Read the full tafseer →تفسیر۔
65۔ رب السموات والارض ومابینھما فاعبدہ واصطبر لعبادتہ، آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے اس پر صبر کریں اور جس سے روکا گیا ہے ، ھل تعلم لہ سمیا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد مثال ہے۔ سعید بن جبیرؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی عدل ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ کیا تم کسی کو جانتے ہو ، اللہ کے سوا جو اس کا ایسانام ہو، یا ایسامثل عبادت کیے جانے اور الہ کہلانے کا مصداق ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
64۔ 65:۔ صحیح بخاری میں 1 ؎ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ وحی لے کر آنے میں جبرئیل (علیہ السلام) کو کچھ دیر لگی اس کے بعد جب وحی لے کر جبرئیل (علیہ السلام) آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے دیر کی شکایت کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس شکایت کا یہ جواب جبرئیل (علیہ السلام) کو بتایا کہ اللہ کے فرشتے آسمان پر سے زمین پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے جبرئیل کی طرف کا یہ کلام قرآن شریف میں اس طرح داخل ہے جس طرح ایاک نعبد وایاک نستعین بنی آدم کی طرف کا کلام قرآن شریف میں داخل ہے پھر فرمایا آسمان و زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیات 65
ایک دفعہ جبرئیل رسول اللہ ﷺ پر دیر سے نازل ہوئے آپ ﷺ نے جبرئیل سے فرمایا ’ آپ جتنی بار ہمارے پاس آتے ہیں، کاش اس سے زیادہ ہمارے پاس آئیں “ آپ نے یہ بات جبرئیل کی طرف اشتیاق اور اس کی جدائی سے وحشت محسوس کرتے ہوئے کہی تاکہ اس کے نزول سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبرئیل کی زبانی فرمایا : (وما نتنزل الا بامر ربک) ” ہم تو اپنے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں “ یعنی اس معاملے میں ہمیں کوئی اختیار نہیں اگر ہمیں نازل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ہم اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرسکتے جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لایعصون اللہ مآ امرھم ویفعلون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
72 اللہ کا کوئی ہمسر نہیں ۔ سبحانہ وتعالی : سو استفہام انکاری کے طور پر فرمایا گیا کہ " ہے تمہارے علم میں اس کا کوئی ہمسر "۔ اور جب نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کی کرو کہ اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کا پیدا کردہ اور اسی کا دیا بخشا ہے۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جب اس کا کوئی نظیر و مثیل اور شریک و ہمسر نہیں تو پھر کون ہے جو اس کے ارادے میں اس کا مزاحم ہو سکے ؟ یا اس کا ہاتھ پکڑ سکے ؟ پس آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
فرشتے حکم الٰہی کے پابند ہیں
تشریح : فرشتوں کا ذکر یہاں اچانک آرہا ہے۔ حدیث صحیح بخاری میں اس کا شان نزول (نازل ہونے کا مقصد) یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے یہ آرزوظاہر فرمائی کہ ذرا زیادہ آیا کرو، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی حیثیت، اپنا کام اور اللہ کی حاکمیت اور قدرت کا اظہار پوری طرح سے کردیا کہ میں آپ اور سب چیزیں تمام مخلوقات صرف اسی کے حکم کی پابند ہیں، اس لیے اس پر مکمل بھروسہ رکھو۔ دل و جان سے صرف اسی کی ہی عبادت کرو۔ اور غور کرو تو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کا نام اور اس کے تمام صفاتی نام صرف اسی کے ہی ہیں۔ کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اس کی بندگی کرتے رہیے اور اس راہ میں جو مصائب و مشکلات پیش آئیں ان کا پورے صبر کے ساتھ مقابلہ کیجیے اگر ہماری طرف سے کبھی یاد فرمای یا مدد اور تسلی دینے میں کچھ تاخیر ہوجائے تو گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔9 اور جب اس کے جوڑ کا آپ کسی کو نہیں سمجھتے تو پھر اس کے سوا چارہ کیا ہے کہ اس کی بندگی کے راستے پر چلتے رہیے
Read the full tafseer →(19:65) رب السموت والارض وما بینہما۔ میں ربخبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے۔ یعنی ھو رب السموتالخ یا یہ ربک (آیہ 64) کا بدل ہے۔ اصطبر۔ امر۔ واحد مذکر حاضر۔ اصطبار (افتعال) مصدر۔ تو قائم رہ۔ تو سہتا رہ تو صبر کر۔
سمیا۔ نظیر ۔ ہمنام۔ ھل تعلم لہ سمیا۔ (کیا تم کوئی اس کا ہمنام جانتے ہو) میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں جو اس نام کی مستحق ہو اور حقیقۃً اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ متصف ہو۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ کیا تم کسی کو ایسا بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہو کیونکہ ایسے تو اللہ کے بہت سارے نام ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان سے معنی بھی وہی مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 65
خلف قائم مقام ہوا۔ خلف نالائق، ناخلف۔ اضاعوا انہوں نے برباد کیا، ضائع کردیا۔ اتبعوا پیچھے لگ گئے، انہوں نے پیروی کی۔ یلقون وہ ڈالیں گے۔ غی گمراہی۔ عدن ہمیشہ رہنے کی جگہ، ایک بہت کا نام۔ ماتی آنے والا، آنے کی جگہ۔ لغو بےہودہ۔ فضول۔ مانتنزل ہم نہیں اترتے۔ نسی بھول جانا۔ اصطبر ثابت قدم رہو۔ سمی ہم نام، ہم پلہ
تشریح : آیت نمبر 59 تا 65
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کی امتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے بعد آنے والوں نے نیک لوگوں کا راستہ چھوڑ کر ان کے قائم مقام ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی خواہشات نفس اور دنیا کے وقتی فائدوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
شان نزول : بخاری شریف میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جبرائیل علیہ اسلام سے یوں فرمایا کہ آپ میرے پاس جلدی جلدی کیوں نہیں آیا کرتے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی گویا خدا تعالیٰ نے جبرائیل کی طرف سے ان کی زبان سے یہ جواب دیا کہ ہم تمہارے رب کے حکم سے آیا کرتے ہیں ۔ وہ مصلحت وقت سے خوب واقف ہے۔ اس کو آگے پیچھے کا حال خوب معلوم ہے۔ وہ مصلحت سمجھتا ہے ہم کو بھیجتا ہے۔ دیر کر کے آنے میں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھول گیا۔ جس کو اس قدر علم ہو وہ کب بھول سکتا ہے۔ پس تم کو چاہئے کہ اسی کی عبادت کرو، اور اس کی عبادت میں جو تکلیف ہو اس کو تحمل سے براداشت کرو۔ کیونکہ وہ یکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
[26] یعنی کسی کو اس کے ساتھ اسمی شرکت بھی نہیں، اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبود کا نام اللہ نہیں رکھا۔ پس جب اس کا کوئی شریک نہیں تو بندگی بھی اسی کی ہونی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے ، جو گناہوں سے توبہ کرلیتے ہیں ، اور ایمان وعمل کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو خواہشات وشہوات کی پیروی نہیں کرتے ، اور اپنے دلوں میں تقوی و پرہیز گاری کے جذبات پیدا کرلیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے وا ہیں یہ لوگ اطمینان وسل امتی کے ساتھ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔
حل لغات :
اسرآئیل : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے ، عربی زبان میں اسرائیل کے معنے برگزیدہ خدا یا بندہ خدا کے ہیں ۔
غیا : گمراہی کی سزا ، گمراہی ، ہر بری بات ۔
Read the full tafseer →-65 وہ تمام آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے اس کا پروردگار بھی وہی ہے پس تو اس کی عبادت اور اطاعت کیا کر اور اس کی عبادت پر قائم اور ثابت قدم رہ بھلا آپ کے علم میں اس کا ہم صفت اور ہم نام کوئی اور بھی ہے۔
یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب عام ہو اور ہر مخاطب مراد ہو۔ بہرحال وہی ہر چیز کا مالک ہے صرف اسی کی عبادت کر اور اسی کی عبادت و بندگی پر قائم رہ کسی کے کہنے سننے او اعتراض کرنے کا خیال نہ کرو اور پرواہ مت کرو بھلا تم کسی اور کو بھی اس کا ہم صفات جانتے ہو جب ان صفات کا کوئی دوسرا مالک ہی نہیں تو عبادت کا بھی اس کے سوا کوئی مستحق…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی کوئی اس کا ہم صفت نہیں تو لائق عبادت بھی کوئی نہیں، پس اسی کی عبادت کرنا ضرور ہوا۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا پروردگار وہی اللہ ہے :
65۔ زہر نظر آیت کا بیان جبریل (علیہ السلام) کے بیان کا جزو بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مستقل بیان بھی اس کو کہا جاسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں مدعا میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے متکلم میں فرق تسلیم کیا جائے اور یہ فرق بھی ظاہری ہوگا حقیقت میں تو کلام اللہ تعالیٰ ہی کا ہے کیونکہ جبریل اپنے ارادہ سے تو کوئی بات کر ہی نہیں سکتے ، جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا فرمایا ” آسمان و زمین کا پروردگار اور ان سب کا پروردگار جو آسمان و زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی بندگی و عبادت کے لائق ہے اس کی بندگی و عبادت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
Commentary
وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ("and-persevere in His worship." - 19:65) The word اِصطِبَار ' means perseverance in the face of acute distress and hardship. The point here is that anyone who wishes to be constant and steadfast in. his prayers must be prepared to undergo pain and suffering.
هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا ("Do you know any one worthy of His name?" - 19:65). In the generally accepted sense the word applies to persons bearing the same name. The polytheists and idolaters had included many humans, angels, stones and idols along with Allah Ta` ala in their worship and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
40. That is, you should not only follow strictly the way of service and face all the obstacles and afflictions with patience, but also should not get uneasy, if there is a delay in revelation and help. You should rest content with His service as an obedient servant and perform persistently the duties and responsibilities entrusted to you as a servant and Messenger.
41. The word Samiya literally means a name sake. Here it implies: Allah is the only Deity. Do you know of any other deity besides Him? If there is none, and you know that there is none, then you do not have any alternative but to…
Read the full tafseer →