Explained with ayahs 64–65
جبرائیل ؑ کی آمد میں تاخیر کیوں ؟
صحیح بخاری شریف میں ہے آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ سے فرمایا آپ جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ اس کے جواب پر یہ آیت اتری ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ کے آنے میں تاخیر ہوگئی جس سے حضور ﷺ غمگین ہوئے پھر آپ یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ روایت ہے کہ بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے جب آئے تو حضور ﷺ نے کہا اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟ مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ پس گو یہ یہ آیت سورة والضحی کی آیت جیسی ہے۔ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا میرا شوق تو بہت ہی بےچین کئے…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 39
یہ پورا پیراگراف ایک جملہ معترضہ جو ایک سلسلہ کلام کو ختم کر کے دوسرا سلسلہ کلام شروع کرنے سے پہلے ارشاد ہوا ہے۔ انداز کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ سورة بڑی دیر کے بعد ایسے زمانے میں نازل ہوئی ہے جبکہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ بڑے اضطراب انگیز حالات سے گزر رہے ہیں۔ حضور کو اور آپ کے صحابیوں کو ہر وقت وحی کا انتظار ہے تاکہ اس سے رہنمائی بھی ملے اور تسلی بھی حاصل ہو۔ جوں جوں وحی آنے میں دیر ہو رہی ہے اضطراب بڑھتا جاتا ہے۔ اس حالت میں جبریل ؑ فرشتوں کے جھرمٹ میں تشریف لاتے ہیں۔ پہلے وہ فرمان سناتے ہیں جو موقع کی ضرورت کے لحاظ سے فوراً درکار تھا۔ پھر آگے بڑھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اشارے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
شان نزول
صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل ؑ سے یہ آرزو ظاہر فرمائی کہ ذرا زیادہ آیا کرو، اس پر آیت نازم ہوئی اور (ہم آپ کی درخواست کا جبرئیل ؑ کی طرف سے جواب دیتے ہیں سنئے وہ یہ ہے کہ) ہم (یعنی فرشتے) بدون آپ کے رب کے حکم کے وقتاً فوقتاً نہیں آسکتے اسی کی (ملک) ہیں ہمارے آگے کی سب چیزیں (مکان ہو یا زمان، مکانی ہو یا زمانی) اور (اسی طرح) ہمارے پیچھے کی سب چیزیں اور جو چیزیں ان کے درمیان میں ہیں (آگے کا مکان تو جو منہ کے سامنے ہو اور پیچھے کا جو پشت کی طرف ہو اور مابین ذلک جو زمانہ حال ہو) اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں (چنانچہ یہ سب امور آپ کو پہلے سے معلوم ہیں مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
آگے کا مضمون۔ آیات 64 تا 98: خاتمہ : سورة : آگے خاتمۂ سورة کی آیات ہیں۔ پہلے نبی ﷺ کو حضرت جبرئیل امین کی زبانی مخالفین کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین ہے۔ پھر مخالفین کو ان کے انکارِ قیامت پر توبیخ ہے۔ خاص طور پر ان کی اس ذہنیت پر شدت کے ساتھ ضرب لگائی گئی ہے کہ آج اہل ایمان کے بالمقابل ان کو جو دنیوی برتری حاصل ہے اس کو وہ اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ بالفرض قیامت ہوئی تو وہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کی بدولت وہاں بھی اونچا مقام حاصل کریں گے۔ آخر میں حضور کو لوگوں کے مطالبہ عذاب سے بےپروا ہوکر، قرآن کے ذریعے سے انذار وتبشیر کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ یہ ہر مرحلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
64۔ 1 نبی ﷺ نے ایک مرتبہ جبرائیل ؑ سے زیادہ اور جلدی جلدی ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی جس پر یہ آیت اتری (صحیح بخاری) ، تفسیر سورة مریم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
31: صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل ؑ کو آنحضرت ﷺ کے پاس آئے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا، اس پر بعض کفار نے آپ کا مذاق بھی بنایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو (معاذاللہ) چھوڑدیا ہے، چنانچہ جب جبرئیل ؑ آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ آپ جلدی جلدی ہمارے پاس کیوں نہیں آتے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت جبرئیل ؑ کا جواب نقل فرمایا ہے کہ ہمارا اتر کر آنا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہوتا ہے، ساری کائنات کی مصلحتیں وہی جانتا ہے، کیونکہ آسمان، زمین اور ان کی درمیانی مخلوقات سب اسی کے قبضے میں ہیں، اور کسی وقت دیر ہوتی ہے تو کسی حکمت کی وجہ سے ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، اور…
Read the full tafseer →اس بارے میں کافی روایات ہیں کہ
وما نتزل الا بامر ربک (91 : 46) ” اے محمد ﷺ ‘ ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے “۔ اللہ کے حکم کے مطابق جبرائیل نے یہ بات اپنی زبان میں کہی کیونکہ کسی موقع پر جب وحی نہ آئی تو آپ کو وحشت اور پریشانی لاحق ہوگئی اور آپ کا شوق بڑھ گیا کہ کیوں اس قدر طویل عرصہ عالم بالا سے رابطہ نہیں ہوا۔ چناچہ اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ تم یہ پیغام دے دو اور کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے مطابق نازل ہوتے ہیں اور حکم دینا اللہ کا کام ہے۔
لہ مابین۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلک (91 : 46) ” جو کچھ ہمارے آگے ہے ‘ جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے “۔ وہ کسی…
Read the full tafseer →7 ایک مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) کئی روز تک نہ آئے۔ آپ منقبض تھے۔ کفار نے کہنا شروع کیا کہ محمد ﷺ کو اس کے رب نے خفا ہو کر چھوڑ دیا ہے۔ اس طعن سے آپ اور زیادہ دل گیر ہوئے۔ آخر جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے۔ آپ نے اتنے روز تک نہ آنے کا سبب پوچھا۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا " مَایَمْنَعُکَ اَنْ تَزُوْرَنَا اَکْثَرَ مِمَّا تَزُوْرُنَا " (جتنا تم آتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ ) اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو سکھلایا کہ جواب میں یوں کہو۔ (وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ) 19 ۔ مریم :64) یہ کلام ہوا اللہ کا جبرائیل کی طرف سے۔ جیسا " اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ "…
Read the full tafseer →آیت 64 وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ج ”
یہاں سے ایک بہت اہم مضمون کا آغاز ہو رہا ہے اور یہ بات اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے ساتھ جو والہانہ محبت تھی ‘ جو عشق تھا ‘ اس کا جو شغف اور شوق تھا ‘ اس کی بنا پر وحی میں وقفہ آپ ﷺ پر بہت شاق گزرتا تھا۔ آپ ﷺ کی خواہش ہوتی تھی کہ وحی جلد از جلد آتی رہے تاکہ اس سے آپ ﷺ اپنے وجودُِ پر نور کو مزید منور کرتے رہیں۔ اس حوالے سے آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے شکوہ کیا کہ آپ کی آمد وقفے وقفے سے ہوتی ہے ‘ ہم انتظار کرتے رہتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اس شکوہ کا یہاں جبرائیل کی طرف سے جواب دیا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ہم اپنی مرضی…
Read the full tafseer →60 فرشتوں کا نزول اللہ کے حکم کے تحت :۔ اس آیت کے شان نزول اور تفسیر کے لئے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمایئے :
(1) سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے جبریل سے پوچھا : تم ہمارے پاس جیسے آیا کرتے ہو اس سے زیادہ دفعہ کیوں نہیں آتے ؟ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ 64ۚ ) 19 ۔ مریم :64) (بخاری، کتاب التفسیر، ترمذی، ابو اب التفسیر)
(2) اللہ سے کوئی بات بھولی ہوئی نہیں :۔ سیدنا ابو درداء کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو چیز اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردی وہ حلال ہے اور جو حرام کی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت اختیار کیا وہ معاف ہے۔ لہذا تم اللہ کی دی ہوئی معافی…
Read the full tafseer →95۔ (ہم کوئی خود مختار تو ہیں نہیں، جو اپنے ارادہ سے آتے جاتے رہیں۔ ہم تو تمامتر امر الہی کے تابع و محکوم ہیں) یہ قول حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے ادا کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر محبوب حقیقی کے پیامات کا جو اشتیاق غالب رہتا تھا اس کے تقاضا سے ایک روز آپ (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا کہ اور زیادہ کیوں نہیں آتے ہو۔ اس کا جواب یہاں جبرئیل (علیہ السلام) کی زبان سے ادا ہورہا ہے۔ حدیث صحیح میں یہی تفسیر آئی ہے۔ قال النبی ﷺ لجبریل ما یمنعک ان تزورنا اکثر مما تزورنا فنزلت وما نتنزل الا الخ (بخاری۔ عن ابن عباس ؓ ۔ کتاب التفسیر) (آیت) ” بامر “۔ امر کے معنی آیت میں اذن کے بھی لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
آیت نمبر 60 تا 65
ترجمہ : عنقریب خرابی دیکھیں گے ہاں مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا یعنی ان کے اجرو ثواب میں (ذرہ برابر) کمی نہ کی جائے گی جَنَّتُ عدْنٍ ہمیشہ قیام کی جنت جنّٰتُ عَدْنٍ ، الجنۃ سے بدل ہے وہ جنت کہ جس کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے بالغیب حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ ان بندوں نے اس جنت کو دیکھا نہیں ہے اور اس کے موعود (وعدہ کی ہوئی چیز) کو یہ لوگ ضرور جنت میں پہنچیں گے ماتِیًّا بمعنی آتیاً ہے اس کی اصل مَاتویٌ تھی یا اس کا موعود یہا، جنت ہے یعنی جنت کے مستحق اس میں داخل ہوں گے اور وہ لوگ…
Read the full tafseer →وما نتنزل الا بامر ربک اور ہم نہیں اترتے مگر آپ کے رب کے حکم سے۔ اصل کلام اس طرح تھا ‘
جبرئیل ( علیہ السلام) محمد ﷺ سے کہہ دو کہ ہم بغیر رب کے حکم کے نہیں اترا کرتے۔ تنزل (باب تفعل) کے بمعنی نزول بھی آتا ہے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اترنا بھی تنزل کا مفہوم ہے کیونکہ باب تفعل باب تفعیل کا مطاوع ہوتا ہے اور تنزیل کا معنی ہے تھوڑا تھوڑا اتارنا پس تنزل کا معنی ہوا وقفہ وقفہ کے بعد اترنا۔ کبھی تنزیل انزال (اتارنا) کا ہم معنی بھی آتا ہے یعنی اس کے معنی میں آہستہ آہستہ اور قدرے قدرے کا مفہوم نہیں ہوتا۔
ابن ابی حاتم نے عکرمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک بار جبرئیل ( علیہ السلام) کے آنے میں چالیس…
Read the full tafseer →(64) اور اے محمد ﷺ ہم آسمان سے وقتا فوقتا سوائے آپ کے رب کے حکم کے نہیں آسکتے، قریش نے جب آپ سے روح، ذوالقرنین اور اصحاب کہف کے بارے میں دریافت کیا تھا اور وحی اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں کے لیے روک لی تھی تو جب جبریل امین وحی لے کر آئے تب آپ نے ان سے تاخیر کی وجہ دریافت کی اس وقت انہوں نے یہ جواب دیا امور آخرت اور امور دنیا اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہوگا وہ سب چیزیں اسی کی ملکیت میں داخل ہیں اور جب سے آپ کے رب نے وحی کا سلسلہ شروع کیا ہے، آپ کا پروردگار آپ کو بھولنے والا نہیں۔
شان نزول : (آیت) ”وما نتنزل الا بامر ربک“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ : ”نَنْزِلُ“ کے بجائے ”نَتَنَزَّلُ“ اس لیے فرمایا کہ باب تفعّل میں ٹھہر ٹھہر کر کام کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہم وقفے وقفے سے، ٹھہر ٹھہر کر تیرے رب ہی کے حکم سے اترتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : (قَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِیْلَ : مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَزُوْرَنَا أَکْثَرَ مِمَّا تَزُوْرَنَا فَنَزَلَتْ : (وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ۚ لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْــنَا وَمَا خَلْفَنَا) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (وما نتنزل إلا بأمر ربک۔۔) : 4731 ]”ایک مرتبہ نبی ﷺ نے جبریل ؑ سے کہا : ”آپ ہماری ملاقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا من تاب، یعنی نماز کے ضائع کرنے اور شہوات کی پیروی کرنے سے جس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ آیا۔ وامن، اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنۃ ابو جعفر، شیبہ، ابن کثیر، ابن محصین، ابو عمرو، یعقوب اور ابوبکر نے یدخلون خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ولا یظلمون شیئا۔ ان کے اعمال صالحہ میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی مگر ان کے لیے ہر نیکی کے بدلے دس سے لیکر سات سو تک نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جنت عدن یہ الجنۃ سے بدل ہے اس لیے منصوب ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : جنت عدن متبدا کی حیثیت سے مرفوع بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔
2:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے اس سے امت کے لوگ مراد ہیں جو راستوں میں جانوروں کی طرح سرعام بدکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے شرم کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن قریب یہ صورت حال ہوگی امت محمد ﷺ کے نیک لوگوں چلے جائیں گے (دنیا سے) اور پیچھے وہ لوگ رہ جائیں گے اور زانی لوگ گلیوں میں بدکاری کریں گے۔
نماز ترک کرنے والے برے جانشین ہیں۔
4:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[وَمَا نَتَنَزَّلُ : اور ہم نہیں اترتے ] [اِلَّا : مگر ] [بِاَمْرِ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے حکم سے ] [لَهٗ : اس کا ہی ہے ] [مَا : وہ جو ] [بَيْنَ اَيْدِيْــنَا : ہمارے سامنے ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [خَلْفَنَا : ہمارے پیچھے ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [بَيْنَ ذٰلِكَ : اس کے درمیان ہے ] [وَمَا كَان : اور نہیں ہے ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [نَسِـيًّا : بھولنے والا ]
Read the full tafseer →حضرت رسول کریم ﷺ کے سوال فرمانے پر جبرائیل (علیہ السلام) کا جواب کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں
سبب نزول کے بارے میں امام بخاری (رح) (ص 691 ج 2) نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا تمہیں اس سے کیا مانع ہے کہ ہمارے پاس جتنی مرتبہ آتے ہو اس سے زیادہ آیا کرو۔ اس پر آیت شریفہ (وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ) نازل ہوئی جس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا جواب ذکر فرمایا انھوں نے جواب میں کہا کہ ہم خود نہیں آتے جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے ہم اسی وقت آتے ہیں اور صاحب روح المعانی (ص 113 ج 12) میں کہتے ہیں کہ اصحاب کہف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ذکراحاطہء علم وقدرت و اثبات وحدانیت و بیان
عبودیت ملائکہ برائے ترغیب عبادت و طاعت
قال اللہ تعالیٰ ۔۔۔ وما نتنزل الا بامرربک۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ھل تعلم لہ سمیا۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں انبیاء کرام کی عبودیت اور بندگی کو بیان فرمایا تھا۔ اب ان آیات میں ملائکہ کرام کی عبودیت اور بندگی کو بیان کرتے ہیں کہ فرشتے بھی اللہ کے حکم بردار بندے ہیں۔ ان کا آسمان سے زمین پر اترنا اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ بخاری وغیرہ میں ابن عباسی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے پاس جلد جلد کیوں نہیں آتے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم خدا کے حکم سے نازل ہوتے ہیں اور آپ ﷺ…
Read the full tafseer →44:۔ جواب شبہہ رابعہ :۔ یہ فرشتوں کے بارے میں شبہہ کا جواب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا حال تو تم نے سن لیا کہ وہ سب عاجز اور خدا کے محتاج تھے۔ اب فرشتوں کا حال بھی سن لو۔ جن کو تم مختار و متصرف سمجھتے ہو وہ تو اللہ کے حکم کے اس قدر پابند ہیں۔ کہ اس کے حکم کے بغیر زمین پر بھی نہیں آسکتے تو متصرف کس طرح بن سکتے ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جب مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے اصحاب کہف، ذو القرنین اور روح کے بارے میں سوال کیا۔ تو اس کے جواب میں آپ نے کل آئندہ جواب دینے کا وعدہ فرمایا۔ مگر اس کے ساتھ آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ اللہ کی طرف سے وحی کی آمد کا سلسلہ کئی روز کے لیے رک گیا۔ جب عرصہ دو ہفتے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ربط آیات :
حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق عقیدہ الوہیت کے بطلان کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا اور پھر آخر میں ان سب کا مشترکہ مسلک بیان فرمایا یہ سب اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ اور برگزیدہ بندے تھے ابتداء میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور یحی (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کا تذکرہ ہوا ، ان سب پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدائے رحمان کے ان برگزیدہ بندوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کی جائیں تو یہ روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ، یہ تمام حضرات اللہ کے سامنے عاجزی کرتے تھے اور اسی کو اپنا حاجت روا…
Read the full tafseer →وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ 0ۚ لَہٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْــنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذٰلِكَ 0ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِـيًّا 64ۚ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
تفسیر : واذکر فی الکتاب اور یہ چھٹا قصہ حضرت ادریس ( علیہ السلام) کا ہے جو نوح (علیہ السلام) کے پردادا تھے (نوح بن ملک بن متوسلح بن حنوک) یا اخنوخ ان کا نام اور ادریس لقب تھا بوجہ کثرت درس صحف ِ آسمانی کے۔ وہ صدیق نبی تھے یعنی بہت برگزیدہ۔ اس لیے رفعناہ مکانا علیا اس کے معنی بعض مفسرین کے نزدیک یہ ہیں کہ ان کو بلند مرتبہ کیا۔ وہ رفعت منزلت مراد لیتے ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت آیا ہے ورفعنا لک ذکرک اور ایک گروہ کہتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو بلند مکان میں اٹھا لیا۔ اول تقدیر میں یوں کہا جائے گا کہ خدا نے ادریس ( علیہ السلام) کا بلند مرتبہ کیا تیس صحیفے ان پر نازل کئے بہت سے علوم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ ج لَہٗ مَابَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ ج وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا فَاعْبُدْہُ وَاصْطَبِرْلِعِبَادَتِـہٖ ط ھَلْ تَعْلَمُ لَـہٗ سَمِیًّا۔ (مریم : 46، 65)
(اور ہم نازل نہیں ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے، اسی کی ملکیت (اور اختیار میں) ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہیں اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب کسی چیز کو بھولنے والا نہیں۔ وہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، پس آپ اسی کی بندگی کریں اور اسی کی بندگی پر ثابت قدم رہیں، کیا آپ جانتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز
مکہ معظمہ میں رسول کریم ﷺ تن تنہا کفار اور مشرکین کا مقابلہ کر رہے تھے۔ حضرت عمر اور حضرت حمزہ کے اسلام لانے سے پہلے جتنے لوگ مسلمان ہوئے تھے وہ شخصی قوت کے لحاظ سے انتہائی کمزور تھے دوسری طرف آپ ﷺ کے سب سے بڑے پشتی بان جناب ابو طالب بھی دنیا سے چل بسے تھے۔ گھریلو حالات یہ تھے کہ آپ ﷺ کی غم خوار بیوی حضرت خدیجہ ؓ بھی داغ مفارقت دے چکی تھیں۔ ان حالات میں ایک انسان ہونے کے ناطے سے آپ کا دل پسیج جاتا۔ جس پر اللہ تعالیٰ جبرئیل امین (علیہ السلام) کو بھیج کر تسلی دیتے۔ جب کبھی جبرئیل امین (علیہ السلام) کی آمد کا وقفہ زیادہ ہوجاتا تو آپ انتہائی رنجیدہ ہوجاتے…
Read the full tafseer →64: : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اے جبرئیل تمہیں ہماری زیادہ ملاقات سے کون سی چیز روکنے والی ہے جتنی کہ اب تم ملاقات کرتے ہو تو اس پر یہ آیت اتری :
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ( اور ہم نہیں اترتے مگر آپکے رب کے حکم سے) ] رواہ البخاری[ التنزل کے دو معنے ہیں۔ (ا) تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اترنا (2) مطلقاً اترنا۔ یہاں پہلا معنی زیادہ مناسب ہے یعنی ہمارا اترنا وقتًا فوقتًا اللہ کے حکم ہی سے ہوتا ہے۔ لَہٗ مَابَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا (اور اسی کی ملک ہیں ہمارے سامنے کی سب چیزیں اور ہمارے پیچھے…
Read the full tafseer →، ، ومانتنزل الابامرربک، ، سعید بن جبیر ؓ عنہابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ اے جبرائیل (علیہ السلام) کس چیز نے آپ کو ہم سے زیارت کرنے سے روکا، آپ تو ہماری کثرت سے زیارت کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ومانتزل الابامرربک لہ مابین ایدینا وماخلفنا، یہی جواب حضرت محمد ﷺ کے لیے فرمایا، ضحاک عکرمہ، مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ جب قوم والوں نے رسول اللہ سے اصحاب کہف اور ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوال کیا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ میں کل کو بتاؤں گا، اس وعدے کے ساتھ انشاء اللہ نہیں فرمایا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کافی مدت تک نہیں آئے، حضور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
64۔ 65:۔ صحیح بخاری میں 1 ؎ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ وحی لے کر آنے میں جبرئیل (علیہ السلام) کو کچھ دیر لگی اس کے بعد جب وحی لے کر جبرئیل (علیہ السلام) آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے دیر کی شکایت کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس شکایت کا یہ جواب جبرئیل (علیہ السلام) کو بتایا کہ اللہ کے فرشتے آسمان پر سے زمین پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے جبرئیل کی طرف کا یہ کلام قرآن شریف میں اس طرح داخل ہے جس طرح ایاک نعبد وایاک نستعین بنی آدم کی طرف کا کلام قرآن شریف میں داخل ہے پھر فرمایا آسمان و زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انہوں نے امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انہوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا، انہوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کردیا۔ جب انہوں نے نماز کو ضائع کردیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لئے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے، تو نماز کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
نماز کو ضائع کرنا کیسے ہے ؟
قول باری ہے (اضاعوا الصلوۃ جنہوں نے نماز کو ضائع کیا) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ نمازوں کو ان کے اصل اوقات سے موئخر کر کے انہوں نے نمازوں کو ضائع کیا۔ اس تاویل کی حضور ﷺ کے اس ارشاد سے بھی تائید ہوتی ہے کہ (لیس التفریط فی التوم انما التفریط ان یدعھا حتی یدخل وقت الاخریٰ نماز میں کوتاہی سوتے رہنے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ اس کی ادائیگی کو مئوخر رکھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ انہوں نے نمازوں کی ادائیگی نہ کر کے انہیں ضائع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
72 اللہ کا کوئی ہمسر نہیں ۔ سبحانہ وتعالی : سو استفہام انکاری کے طور پر فرمایا گیا کہ " ہے تمہارے علم میں اس کا کوئی ہمسر "۔ اور جب نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کی کرو کہ اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کا پیدا کردہ اور اسی کا دیا بخشا ہے۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جب اس کا کوئی نظیر و مثیل اور شریک و ہمسر نہیں تو پھر کون ہے جو اس کے ارادے میں اس کا مزاحم ہو سکے ؟ یا اس کا ہاتھ پکڑ سکے ؟ پس آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
فرشتے حکم الٰہی کے پابند ہیں
تشریح : فرشتوں کا ذکر یہاں اچانک آرہا ہے۔ حدیث صحیح بخاری میں اس کا شان نزول (نازل ہونے کا مقصد) یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے یہ آرزوظاہر فرمائی کہ ذرا زیادہ آیا کرو، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی حیثیت، اپنا کام اور اللہ کی حاکمیت اور قدرت کا اظہار پوری طرح سے کردیا کہ میں آپ اور سب چیزیں تمام مخلوقات صرف اسی کے حکم کی پابند ہیں، اس لیے اس پر مکمل بھروسہ رکھو۔ دل و جان سے صرف اسی کی ہی عبادت کرو۔ اور غور کرو تو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کا نام اور اس کے تمام صفاتی نام صرف اسی کے ہی ہیں۔ کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی جب اس کا حکم ہوتا ہے تو زمین پر یا آپ پر وحی لے کر اترتے ہیں اور اس کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) آنحضرت نے حضرت جبریل سے فرمایا آپ ہمارے پاس جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کئی روز تک حضرت جبرئیل نہ آئے۔ نبی ﷺ کو بڑی فکر ہوئی۔ اس پر حضرت جبریل یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد جبریل فرمایا :” آپ ہمارے پاس جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کئی روز تک حضرت جبریل نہ آئے نبی ﷺ کو…
Read the full tafseer →(19:64) ما نتنزل۔ مضارع منفی جمع متکلم۔ تنزل (تفعل) مصدر۔ ہم نہیں اترتے ہیں۔ نسیا۔ نسیان سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بھولنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 65
خلف قائم مقام ہوا۔ خلف نالائق، ناخلف۔ اضاعوا انہوں نے برباد کیا، ضائع کردیا۔ اتبعوا پیچھے لگ گئے، انہوں نے پیروی کی۔ یلقون وہ ڈالیں گے۔ غی گمراہی۔ عدن ہمیشہ رہنے کی جگہ، ایک بہت کا نام۔ ماتی آنے والا، آنے کی جگہ۔ لغو بےہودہ۔ فضول۔ مانتنزل ہم نہیں اترتے۔ نسی بھول جانا۔ اصطبر ثابت قدم رہو۔ سمی ہم نام، ہم پلہ
تشریح : آیت نمبر 59 تا 65
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کی امتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے بعد آنے والوں نے نیک لوگوں کا راستہ چھوڑ کر ان کے قائم مقام ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی خواہشات نفس اور دنیا کے وقتی فائدوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
شان نزول : بخاری شریف میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جبرائیل علیہ اسلام سے یوں فرمایا کہ آپ میرے پاس جلدی جلدی کیوں نہیں آیا کرتے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی گویا خدا تعالیٰ نے جبرائیل کی طرف سے ان کی زبان سے یہ جواب دیا کہ ہم تمہارے رب کے حکم سے آیا کرتے ہیں ۔ وہ مصلحت وقت سے خوب واقف ہے۔ اس کو آگے پیچھے کا حال خوب معلوم ہے۔ وہ مصلحت سمجھتا ہے ہم کو بھیجتا ہے۔ دیر کر کے آنے میں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھول گیا۔ جس کو اس قدر علم ہو وہ کب بھول سکتا ہے۔ پس تم کو چاہئے کہ اسی کی عبادت کرو، اور اس کی عبادت میں جو تکلیف ہو اس کو تحمل سے براداشت کرو۔ کیونکہ وہ یکتا…
Read the full tafseer →[25] وحی کے آنے میں دیر ہوتی تو رسول اکرم ﷺ پریشان رہتے۔ ایک روز آپ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ زیادہ مرتبہ کیوں نہیں آتے ؟ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو سکھلایا کہ جواب میں یوں کہو کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر وحی نہیں لاسکتے اور اللہ کسی چیز سے غافل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے ، جو گناہوں سے توبہ کرلیتے ہیں ، اور ایمان وعمل کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو خواہشات وشہوات کی پیروی نہیں کرتے ، اور اپنے دلوں میں تقوی و پرہیز گاری کے جذبات پیدا کرلیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے وا ہیں یہ لوگ اطمینان وسل امتی کے ساتھ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔
حل لغات :
اسرآئیل : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے ، عربی زبان میں اسرائیل کے معنے برگزیدہ خدا یا بندہ خدا کے ہیں ۔
غیا : گمراہی کی سزا ، گمراہی ، ہر بری بات ۔
Read the full tafseer →-64 اور ہم آپ کے پروردگار کے حکم دیتے بدون نہیں اتر سکتے جو زماں و مکاں ہمارے آگے ہے اور جو زماں و مکاں ہمارے پیچھے ہے اور جو ان دونوں کے مابین ہے سب اسی کی ملک ہے یعنی جملہ مکان و زمان میں اسی کی فرمائی روائی ہے اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے بار بار آنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے جواب فرمایا اور ایک ضابطہ فرما دیا کہ یہ فرشتے اپنے اختیار سے نہیں آتے جاتے بلکہ آپ کے پروردگار کے حکم سے اترتے چڑھتے ہیں اس لئے آپ کی اس خواہش کو بغیر ہمارے حکم کے نہیں پورا کرسکتے آگے کا مکان جو منہ کے سامنے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
ف 7۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تکوینا یا تشریعا مسخرا امر ہیں، اپنی رائے سے ایک مکان سے دوسرے مکان میں یا جس زمان میں ہم چاہیں کہیں آجا نہیں سکتے، لیکن جب ہمارا بھیجنا مصلحت ہوتا ہے تو حق تعالیٰ بھیج دیتے ہیں، یہ احتمال نہیں کہ شاید کسی مصلحت کے وقت میں بھول جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →فرشتوں کی معذرت کہ ہم اپنی مرضی سے نہیں اترتے بلکہ حکم الہی کے تحت اترتے ہیں :
64۔ فرشتہ کیا ہے ؟ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ فرشتہ سے مراد اور قوت ہے ، جس طرح سارے قوی مخلوق ہیں اسی طرح یہ بھی مخلوق ہیں ‘ جس طرح کسی بھی طاقت وقوت کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا بالکل اسی طرح ان کا بھی اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا ‘ جس طرح ہر طاقت وقوت کسی دوسرے وجود کی مرہون منت ہے فرشتہ بھی ہے ‘ جس طرح ہر طاقت وقوت کسی دوسری طاقت کو جنم نہیں دے سکتی فرشتہ بھی نہیں دے سکتا ، جس طرح ہر طاقت وقوت فی نفسہ مادی چیز نہیں فرشتہ بھی نہیں لیکن جب تک اس کو مثال سے نہ سمجھا جائے شاید تفہیم ممکن نہیں ہے ، اس کی مثال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلَّا سَلَامًا
"They will not hear anything absurd therein but a word of peace." - 19:62.
(لَغو) means idle, absurd, frivolous and abusive talk, which will not reach the ears of good people who have been admitted to Paradise.
إِلَّا سَلَامًا means that whatever one will hear in Paradise will add to his happiness, peace and tranquility. It includes the customary greetings (سَلَام), which the dwellers of Paradise will exchange among themselves and the angels of God will offer them all. (Qurtubi)
وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا
"And there they…
Read the full tafseer →39. This paragraph is a parenthesis, which has been inserted at the end of one theme and before the commencement of the other. It is obvious from this that this Surah was sent down after a long delay. At that time the Prophet (peace be upon him) and his companions were passing through very hard times and were always expecting a revelation to guide and comfort them. When Angel Gabriel came with other angels with this revelation, he at first delivered that part of the message which was immediately needed. Then before proceeding further, he said these words by the leave of Allah as an…
Read the full tafseer →