Maryam 19:63

Maryam · from ayah 63

19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا ۟تِلۡكَ الۡجَـنَّةُ الَّتِىۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا‏

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is Paradise, which We give as inheritance to those of Our servants who were fearing of Allah.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:63

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ہے وه جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو متقی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اسے وارث بنائیں گے جو متقی ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو متقی ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ان کو بنائیں گے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث بنادیں گے ہم اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو جو پرہیزگار رہے ہوں گے۔

— مولانا اسحاق مدنی

یہ جنت ایسی ہے کہ ہم اپنے بندوں میں اس کا وارث اس کو بنادیں گے جو (اللہ سے) ڈرنے والا ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ہے وہّ جنت جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں میں سے ان کو جو متقی ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو مالک بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Such is the Paradise which We shall cause those of Our servants who have been God-fearing to inherit.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is the Paradise We will give as inheritance to those of Our servants who have been God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani

That is the Paradise We will give as inheritance to those of Our servants who have been God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Such is the Paradise which We shall give as an inheritance to those of Our servants who had Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Such is the Garden which We cause the devout among Our bondmen to inherit.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is Paradise, which We give as inheritance to those of Our servants who were fearing of Allah.

— Saheeh International

Such are the gardens which We will give to Our God-fearing servants as their inherited property.

— Muhammad Sarwar

This is the garden which We cause those of Our servants to inherit who guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

Such is the Garden which We shall cause those of Our bondmen to inherit who have been God-fearing. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

Such is the Garden which We give as an inheritance to those of Our servants who guard against Evil.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–63

اللہ تعالیٰ کے وعدے برحق ہیں۔ جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کرچکا ہے ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں وہ حقائق ہیں جو سامنے آکر ہی رہیں گے۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ ماتیا کے معنی اتیا کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں وہ ہمارے پاس آہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–63

سورة مَرْیَم 38 اصل میں لفظ " سلام " استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں عیب اور نقص سے محفوظ۔ جنت میں نعمتیں انسان کو میسر ہوں گی ان میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہوگی کہ وہاں بیہودہ اور فضول گندی بات سننے میں نہ آئے گی۔ وہاں کا پورا معاشرہ ایک ستھرا اور سنجیدہ اور پاکیزہ معاشرہ ہوگا جس کا ہر فرد سلیم الطبع ہوگا۔ وہاں کے رہنے والوں کو غیبتوں اور گالیوں اور فحش گانوں اور دوسری بری آوازوں کی سماعت سے پوری نجات مل جائے گی۔ وہاں آدمی جو کچھ سنے گا۔ اور معقول اور بجا باتیں ہی سنے گا۔ اس نعمت کی قدر وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اس دنیا میں فی الواقع ایک پاکیزہ اور ستھرا ذوق رکھتا ہو۔ کیونکہ وہی یہ محسوس کرسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–63

لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا، لغو سے مراد کلام باطل فضول اور گالی گلوچ اور ایذاء دینے والا کلام ہے کہ اہل جنت اس سے پاک صاف رہیں گے کوئی کلمہ ان کے کان میں ایسا نہ پڑے گا جو ان کو رنج و تکلیف پہنچائے۔ اِلَّا سَلٰمًا، یہ استشناء منقطع ہے مراد یہ ہے کہ وہاں جس کا جو کلام سننے میں آوے گا وہ سلامتی اور بھلائی اور خوشی میں اضافہ کرے گا۔ اصطلاحی سلام بھی اس میں داخل ہے جو اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کو کریں گے اور اللہ کے فرشتے ان سب کو کریں گے۔ (قرطبی) وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا، جنت میں یہ نظام شمسی اور طلوع و غروب باللیل والنہار تو نہ ہوگا، ایک قسم کی روشنی ہمہ وقت رہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 60–63

تفسیر آیات 60 تا 63: إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (60) جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا (61) لا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلا سَلامًا وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (62) تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا (63) آخرت میں کام آنے والی چیز : یعنی نسب و حسب تو کوئی کام آنے والی چیز ثابت نہیں ہوگا البتہ جو لوگ اپنی غلطیوں سے رجوع کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ اطمینان رکھیں کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 63–64

64۔ 1 نبی ﷺ نے ایک مرتبہ جبرائیل ؑ سے زیادہ اور جلدی جلدی ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی جس پر یہ آیت اتری (صحیح بخاری) ، تفسیر سورة مریم)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–63

30: یعنی ان کی گمراہی کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ان کے سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تلک الجنۃ التی۔۔۔۔۔۔۔ کان تقیا (91 : 36) ” یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیز گا ررہا ہے “۔ جو شخص جنت کی وراثت چاہتا ہے ‘ اسے اللہ نے راہ بتادی ہے۔ یعنی توبہ ‘ ایمان ‘ عمل صالح۔ نسبی ورراثت کو یہاں ذریعہ استحقاق نہیں بنایا ہے۔ نسبی لحاظ سے ایک قوم نے ان برگزیدہ صالحین کیوراثت پائی تھی مگر انہوں نے نماز اور زکوۃ کو ضائع کردیا اور شہوات نفسانیہ کے پیچھے پڑگئے۔ ان کو نسبی وراثت نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ ایسے لوگ جلد ہی فسوف یلقون غیا (91 : 95) ” برے انجام تک پہنچ جائیں گے “۔ اس سبق کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ رب مطلق ہے۔ اس کی عبادت اور بندگی کرو اور اس راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی میراث آدم کی کہ اول ان کو بہشت ملی ہے۔ اور شاید لفظ میراث اس لیے اختیار فرمایا کہ اقسام تملیک میں یہ سب سے زیادہ اتم و احکم قسم ہے جس میں نہ فسخ کا احتمال نہ لوٹائے جانے کا نہ ابطال و اقالہ کا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 62–63

آیت 62 لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ط ” جنت میں ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آرہی ہوں گی۔ ہر طرف سے فرشتوں کا ورود ہوگا اور وہ اہل جنت کو سلام کہہ رہے ہوں گے۔ سورة الواقعہ میں اس مضمون کو ایسے بیان فرمایا گیا ہے : لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ”وہ اس میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے ‘ مگر ایک ہی بات : سلام ! سلام !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

59 یعنی ہمارے باپ سیدنا آدم (علیہ السلام) کا اصل مسکن تو جنت ہی تھا۔ لیکن اس کی وارث آدم کی صرف وہ اولاد ہوگی جس نے یہ دنیا کی زندگی اللہ سے ڈر کر گزاری ہوگی اور کفر و شرک سے بچتے رہے ہوں گے۔ وراثت تو دور کی بات ہے۔ اللہ کے نافرمانوں اور مشرکوں کو جنت میں داخل بھی نہ ہونے دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ایسے لوگوں پر حرام کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

94۔ (کہ خوف خدا ہی ایمان اور عمل صالح کا مبنی اور منبع ہے) تقیا من الکفر والشرک (ابن عباس ؓ (آیت) ” نورث “۔ اہل لطائف نے لکھا ہے کہ کلمہ میراث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جنت انعام وتفضل محض ہے، نہ کہ صلہ عمل، جس طرح میراث کے لیے محض صحت نسب کافی ہے۔ وراثت جنت کے لیے صحت ایمانی کافی ہے۔۔ حسن بصری تابعی سے ایسے ہی معنی منقول ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 60–65

آیت نمبر 60 تا 65 ترجمہ : عنقریب خرابی دیکھیں گے ہاں مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا یعنی ان کے اجرو ثواب میں (ذرہ برابر) کمی نہ کی جائے گی جَنَّتُ عدْنٍ ہمیشہ قیام کی جنت جنّٰتُ عَدْنٍ ، الجنۃ سے بدل ہے وہ جنت کہ جس کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے بالغیب حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ ان بندوں نے اس جنت کو دیکھا نہیں ہے اور اس کے موعود (وعدہ کی ہوئی چیز) کو یہ لوگ ضرور جنت میں پہنچیں گے ماتِیًّا بمعنی آتیاً ہے اس کی اصل مَاتویٌ تھی یا اس کا موعود یہا، جنت ہے یعنی جنت کے مستحق اس میں داخل ہوں گے اور وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیا۔ یہ جنت ایسی ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کا مالک ایسے لوگوں کو بنائیں گے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں۔ نُوْرِثُیعنی ہم جنت کو ان کے تقوے کا ثمرہ بنا کر ان کے لئے باقی رکھیں گے ‘ جیسے مورث کا مال وارث کے لئے باقی رہتا ہے (مطلب یہ کہ وارث کرنے سے مراد ہے باقی رکھنا ‘ یہ مطلب نہیں کہ پہلے جنت کا کوئی اور مالک تھا اس کے مرنے کے بعد نیک بندوں کو اس کا وارث بنایا گیا۔ وارث بنانے سے مراد مالک بنانا بھی ہوسکتا ہے ‘ محاورات عربیہ اور بعض آیات اس کی شاہد ہیں اس وقت کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ (مترجم) ۔ وراثت کا لفظ (بجائے تملیک کے) اس لئے اختیار کیا کہ ملکیت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) اور یہ جنت ایسا مقام ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے ایسے لوگوں کو اس میں داخل کریں گے جو کفر وشرک سے بچنے والے ہوں گے اور اپنے پروردگار کی اطاعت کرنے والے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ۔۔ : یعنی جنت کا وارث وہ ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کفر و شرک اور گناہوں سے بہت بچنے والا ہو۔ اس آیت میں متقی لوگوں کو جنت کا وارث بنانے کا ذکر ہے۔ یہی بات سورة مومنون (1 تا 10) اور اعراف (42، 43) میں بیان کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہل جنت کس کے وارث بنیں گے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ان کے باپ آدم کو جنت ملی تھی اور اولاد اپنے باپ کی جائداد کی وارث ہوتی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم دونوں میں بنی آدم کی جگہ بنائی ہے۔ اہل جہنم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جنت میں اپنی جگہ سے محروم ہوجائیں گے تو اس کے وارث جنتی ہوں گے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 60–65

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا من تاب، یعنی نماز کے ضائع کرنے اور شہوات کی پیروی کرنے سے جس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ آیا۔ وامن، اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنۃ ابو جعفر، شیبہ، ابن کثیر، ابن محصین، ابو عمرو، یعقوب اور ابوبکر نے یدخلون خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ولا یظلمون شیئا۔ ان کے اعمال صالحہ میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی مگر ان کے لیے ہر نیکی کے بدلے دس سے لیکر سات سو تک نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جنت عدن یہ الجنۃ سے بدل ہے اس لیے منصوب ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : جنت عدن متبدا کی حیثیت سے مرفوع بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 59–65

1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔ 2:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے اس سے امت کے لوگ مراد ہیں جو راستوں میں جانوروں کی طرح سرعام بدکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے شرم کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ 3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن قریب یہ صورت حال ہوگی امت محمد ﷺ کے نیک لوگوں چلے جائیں گے (دنیا سے) اور پیچھے وہ لوگ رہ جائیں گے اور زانی لوگ گلیوں میں بدکاری کریں گے۔ نماز ترک کرنے والے برے جانشین ہیں۔ 4:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ : یہ وہ جنت ہے جس کا ] [نُوْرِثُ : ہم وارث بنائیں گے ] [مِنْ عِبَادِنَا : اپنے بندوں میں سے ] [مَنْ : اس کو جو ] [كَان : تھا ] [تَقِيًّا : پرہیزگار ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرْثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا) (یہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اسے وارث بنائیں گے جو متقی تھا) جنت کی بعض نعمتیں بیان فرمانے کے بعد جنت کے مستحقین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جنت اہل تقویٰ کو ملے گی اہل تقویٰ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں سب سے بڑا تقویٰ تو شرک اور کفر سے بچنا ہے کوئی کافر مشرک جنت میں داخل نہ ہوگا اہل ایمان ہی جنت میں جائیں گے پھر چونکہ اہل ایمان میں درجات کا تفاوت ہے۔ تقویٰ کے اعتبار سے بھی فرق مراتب ہے اس لیے وہاں بھی تقویٰ اور اعمال صالحہ کے اعتبار سے فرق مراتب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–63

ذکر حال و مآل اہل سعادت و اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ فخلف من م بعدھم خلف اضاعوا الصلوٰۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ من کان تقیا (ربط) گزشتہ آیات میں سلف صالحین اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ جو سب دین حق پر تھے۔ اور خدا کے برگزیدہ بندے تھے۔ اب ان آیات میں پچھلوں اور ان ناخلف لوگوں کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اتباع سے انحراف کیا اور دنیاوی شہوات اور لذات کے پیچھے ہو لیے۔ اور ہولناکیوں میں مبتلا ہوگئے اور نماز جیسی اہم العبادات کو ضائع کردیا۔ سو ایسے لوگ حال اور مآل کے اعتبار سے تباہ و برباد ہوئے۔ البتہ جو لوگ اپنی جہالت اور ضلالت سے تائب ہوئے اور انبیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 60–63

43:۔ یہاں سے لے کر ” مَنْ کَانَ تَقِیًّا “ تک بشارت اخروی ہے۔ یہ مستثنی منقطع ہے اور الا بمعنی لکن ہے۔ ” مَنْ تَابَ الخ “ موصول مع صلہ مبتدا ہے اور ” فَاُوْلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے۔ ” تِلْکَ الْجَنَّةُ الخ “ سے پہلے ” یقال لھم “ محذوف ہے۔ یعنی قیامت کے دن اہل جنت سے یہ بات کہی جائے گی۔ ” تَقِیًّا “ یعنی جو شرک سے بچتا رہا۔ اور اللہ کی توحید پر قائم رہا۔ اخرج ابن ابی حاتم عن داود ابن ابی ھندانہ الموحد فتذکرو لا تغفل (روح ج 16 ص 113) ۔ من کان تقیا عن الشرک (مدارک ج 3 ص 32)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–65

ربط آیات : حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق عقیدہ الوہیت کے بطلان کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا اور پھر آخر میں ان سب کا مشترکہ مسلک بیان فرمایا یہ سب اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ اور برگزیدہ بندے تھے ابتداء میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور یحی (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کا تذکرہ ہوا ، ان سب پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدائے رحمان کے ان برگزیدہ بندوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کی جائیں تو یہ روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ، یہ تمام حضرات اللہ کے سامنے عاجزی کرتے تھے اور اسی کو اپنا حاجت روا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تِلْكَ الْجَــــنَّۃُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا۝ 63 جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–63

تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔ واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا۔ (مریم : 63) (یہ وہ جنت ہے جن کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ان کو بنائیں گے جو پرہیزگار ہوں گے۔ ) یہ تعریض ہے ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اس خوش فہمی میں زندگی گزار رہے تھے کہ جس طرح ہمیں دنیا میں دولت و ثروت میسر ہے اور ہم اپنی دولت کے زور سے جو چاہتے ہیں حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح سے ہماری دنیا ہی ہماری جنت ہے۔ تو قیامت کے دن بھی اسی طرح ہمیں اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائیں گے۔ اور کچھ لوگ اس امت میں بھی ہیں جو قرآن و سنت کو اپنے پاس رکھتے ہوئے بھی نجات کے لیے انھوں نے کچھ خودساختہ راہیں نکال رکھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–63

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کو جس جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے چند اوصاف کا تذکرہ۔ جنت کی جمع جنات ہے۔ جس کا معنٰی باغات ہیں۔ جنت وہ مقام ہے جس کے حسن و جمال اور نعمتوں کا کوئی شخص تصور نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اس میں اپنے بندوں کو داخل فرمائے گا۔ جس کا وعدہ ہر صورت مومنوں کے ساتھ پورا ہو کر رہے گا۔ اس جنت میں کسی قسم کا لغو، پریشانی اور تکلیف نہیں ہوگی۔ اس میں ہر جنتی ہر اعتبار سے سلامت اور خوش ہوگا۔ جنتی ایک دوسرے کو سلام کہیں گے اور اس کی نعمتیں بھی سلامت رہیں گی۔ ان کے لیے صبح و شام اللہ تعالیٰ کی نعمتیں وافر ہوں گی۔ جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ جنتیوں کے لیے اعلان ہوگا جہاں چاہو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعمال کی میراث : 63: تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا (یہ جنت ایسی ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ایسے لوگوں کو بنائیں گے) یعنی ان کے اعمال کی میراث اس کو قرار دیں گے میراث سے مراد پھل اور انجام ہے دوسرا قول یہ ہے وہ ایسی اقامت گاہوں کے وارث ہونگے جو اہل نار کی ہونگی۔ اگر وہ ایمان لاتے کیونکہ کفر حکماً موت ہے۔ مَنْ کَانَ تَقِیًّا ( جو خدا سے ڈرنے والے ہوں) تقیًّا سے یہاں مراد شرک سے بچنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 63۔ تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا، ، جو ہم ان کو دیتے ہیں اور جوان پر نازل کرتے ہیں۔ بعض علماء کا بیان ہے کہ مومنوں کو جنت کے اندر بعض ایسے مکان ملیں گے جو واقع میں ان دوزخیوں کے لیے تھے۔ اگر وہ کفر نہ کرتے تو ان مکانوں کے مالک و قابض ہوتے ، من کان تقیا، اس سے مراد اپنے متقین بندے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–63

61۔ 63:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ان آیتوں میں جنت کو بن دیکھیں نہ جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں بعض بن دیکھی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگرچہ آدمی ان کو آنکھوں سے نہیں دیکھتا لیکن ان کا حال کانوں سے سنا ہوا ہوتا ہے یا کبھی دل میں ان کا خیال آجاتا ہے جنت ایسی انوکھی چیز ہے جو دیکھی نہ سنی نہ کبھی اس کا خیال کسی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–64

آیت 59 جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انہوں نے امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انہوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا، انہوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کردیا۔ جب انہوں نے نماز کو ضائع کردیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لئے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے، تو نماز کے علاوہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–64

نماز کو ضائع کرنا کیسے ہے ؟ قول باری ہے (اضاعوا الصلوۃ جنہوں نے نماز کو ضائع کیا) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ نمازوں کو ان کے اصل اوقات سے موئخر کر کے انہوں نے نمازوں کو ضائع کیا۔ اس تاویل کی حضور ﷺ کے اس ارشاد سے بھی تائید ہوتی ہے کہ (لیس التفریط فی التوم انما التفریط ان یدعھا حتی یدخل وقت الاخریٰ نماز میں کوتاہی سوتے رہنے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ اس کی ادائیگی کو مئوخر رکھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ انہوں نے نمازوں کی ادائیگی نہ کر کے انہیں ضائع کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–65

72 اللہ کا کوئی ہمسر نہیں ۔ سبحانہ وتعالی : سو استفہام انکاری کے طور پر فرمایا گیا کہ " ہے تمہارے علم میں اس کا کوئی ہمسر "۔ اور جب نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کی کرو کہ اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کا پیدا کردہ اور اسی کا دیا بخشا ہے۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جب اس کا کوئی نظیر و مثیل اور شریک و ہمسر نہیں تو پھر کون ہے جو اس کے ارادے میں اس کا مزاحم ہو سکے ؟ یا اس کا ہاتھ پکڑ سکے ؟ پس آپ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–63

نیک لوگوں کے لیے انعامات تشریح : ان آیات میں ایسے لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوئے اور پوری شرائط کے ساتھ توبہ کرلی اور پھر کبھی غلط راستوں کا رخ نہ کیا تو ان لوگوں سے ایسی بہشت کا وعدہ کیا گیا ہے جو بہترین زندگی کا نمونہ ہوگی یہ تو راز کی بات ہے کیونکہ کسی نے اپنی آنکھوں سے اسے نہیں دیکھا یہ تو اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اور اس جنت کو حاصل کرنا آسان کام نہیں اس کے لیے پوری زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنی ضروری ہے۔ جس سے جنت حاصل ہوگی۔ جنت کا تصور ہی انسان کو باغ و بہار کردیتا ہے۔ اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ یہ دنیاوی عیش و آرام کی طرح نہ ختم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–65

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔ (حفاظت الہیہ) یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 62–63

ف 3 یعنی اتنی اتنی دیر کے بعد جتنی دیر دنیا میں صبح سے شام تک ہوتی ہے یا ہر آن جب بھی انہیں کھانے کی خواہش ہو کیونکہ جنت میں دنیا کی طرح نہ دن ہوگا اور نہ رات، بلکہ ہمیشہ ایک سا وقت رہے گا۔ (ابن کثیر)4 یعنی اللہ و رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور کفر و شرک اور گناہ سے بچتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:63) نورث۔ مضارع جمع متکلم۔ ایراث (افعال) مصدر۔ ورث مادہ۔ ہم وارث بنائیں گے۔ ہم مالک بنادیں گے۔ تقیا۔ پرہیزگار۔ متقی ۔ وقایۃ (افعال) مصدر جس کے معنی ہر اس چیز سے حفاظت کرنے کے ہیں جو ایذاء دے۔ یا ضرر پہنچائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 59–65

لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 65 خلف قائم مقام ہوا۔ خلف نالائق، ناخلف۔ اضاعوا انہوں نے برباد کیا، ضائع کردیا۔ اتبعوا پیچھے لگ گئے، انہوں نے پیروی کی۔ یلقون وہ ڈالیں گے۔ غی گمراہی۔ عدن ہمیشہ رہنے کی جگہ، ایک بہت کا نام۔ ماتی آنے والا، آنے کی جگہ۔ لغو بےہودہ۔ فضول۔ مانتنزل ہم نہیں اترتے۔ نسی بھول جانا۔ اصطبر ثابت قدم رہو۔ سمی ہم نام، ہم پلہ تشریح : آیت نمبر 59 تا 65 اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کی امتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے بعد آنے والوں نے نیک لوگوں کا راستہ چھوڑ کر ان کے قائم مقام ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی خواہشات نفس اور دنیا کے وقتی فائدوں کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 61–63

جنت اور اہل جنت کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں سے بن دیکھی جنت کے دینے کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، ایک دن اس وعدہ کا ظہور بلا شک ہونے والا ہے۔ پھر فرمایا :" یہ جنت وہ ہے جہاں سوائے السلام علیک کی آواز کے اور کوئی ایسی آواز جنتیوں کے کام میں نہ آوے گی، جو ان کے کانون کو بری لگے "۔ پھر فرمایا :" وہاں صبح وشام ان کو طرح طرح کی نعمتیں کھانے کو ملیں گی۔ جنت میں اگرچہ صبح وشام نہیں ہے، صبح صادق نہیں ہے، صبح صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک کا جیسا ٹھنڈا وقت ہوتا ہے، وہاں ہمیشہ ایسا وقت رہے گا۔ پھر فرمایا یہ جنت ان لوگوں کی میراث ہے جو دنیا میں نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[24] اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کر کے جنت ان کے رہنے کے لئے عنایت فرمائی تھی۔ اسی لحاظ سے متقیوں کو جنت کا وارث بنایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–68

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے ، جو گناہوں سے توبہ کرلیتے ہیں ، اور ایمان وعمل کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو خواہشات وشہوات کی پیروی نہیں کرتے ، اور اپنے دلوں میں تقوی و پرہیز گاری کے جذبات پیدا کرلیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے وا ہیں یہ لوگ اطمینان وسل امتی کے ساتھ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔ حل لغات : اسرآئیل : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے ، عربی زبان میں اسرائیل کے معنے برگزیدہ خدا یا بندہ خدا کے ہیں ۔ غیا : گمراہی کی سزا ، گمراہی ، ہر بری بات ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-63 یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اش صخ کو وارث اور مالک بنائیں گے جو بندہ خدا سے ڈرنے والا ہوگا۔ یعنی متقی اور پرہیز گار بندے اس جنت کے مالک ہوں گے جس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ شرک سے بچتا ہو اور مشرک نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں میراث آدم (علیہ السلام) کی کہ اول ان کو بہشت ملی ہے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ آدم (علیہ السلام) کو جنت عطا ہوئی تھی لہٰذا آدم کی وہی اولاد ان کی میراث پائے گی جو ان کی ہم مشرب اور ہم عقیدہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 61–64

ف 7۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تکوینا یا تشریعا مسخرا امر ہیں، اپنی رائے سے ایک مکان سے دوسرے مکان میں یا جس زمان میں ہم چاہیں کہیں آجا نہیں سکتے، لیکن جب ہمارا بھیجنا مصلحت ہوتا ہے تو حق تعالیٰ بھیج دیتے ہیں، یہ احتمال نہیں کہ شاید کسی مصلحت کے وقت میں بھول جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنت ایسا ٹھکانا ہے کہ ہم متقین کو اس کا وارث قرار دیتے ہیں ۔ 63۔ جنت میں سب سے پہلے کس کو رکھا گیا ؟ وہ آدم ہی تو تھے ، آدم اس جنت سے نکلے تو ان کو بھوک بھی لگی ‘ ننگے بھی ہوئے پیاس بھی محسوس کی اور دھوپ کی تپش سے تکلیف بھی پائی کیوں ؟ اس لئے کہ انہی چیزوں سے نجات کے لئے ان کو جنت میں رکھا گیا چناچہ ارشاد ہوا تھا کہ ” جنت میں تجھے یہ ملے گا کہ اس میں نہ تو بھوکا ہوگا اور نہ ننگا ‘ نہ پیاسا ہوگا اور نہ دھوپ کی تپش اٹھائے گا ۔ “ (طہ) جب وہ جنت سے نکلے تو چار چیزون کی مشقت میں وہ گرفتار ہوئے کھانا ‘ پینا ‘ پہننا اور رہنا یہی انسان کی چار مختصر ضروریات ہیں ان ہی کو اس نے اپنی ہوا ہوس سے پھیلا کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلَّا سَلَامًا "They will not hear anything absurd therein but a word of peace." - 19:62. (لَغو) means idle, absurd, frivolous and abusive talk, which will not reach the ears of good people who have been admitted to Paradise. إِلَّا سَلَامًا means that whatever one will hear in Paradise will add to his happiness, peace and tranquility. It includes the customary greetings (سَلَام), which the dwellers of Paradise will exchange among themselves and the angels of God will offer them all. (Qurtubi) وَلَهُمْ رِ‌زْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَ‌ةً وَعَشِيًّا "And there they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–63

38. The word used is salam, which means free from defect and fault. It implies to mean that the greatest blessing that man will enjoy in Paradise will be that there he will hear no idle, vile or indecent talk. All the dwellers of Paradise will be neat and clean and pure people and every individual will be gentle and right minded by nature. Everybody will be secure against backbiting, slander and indecent songs and other ugly sounds. Whatever men will hear will be good, sensible and right. This is indeed a great blessing which only that person can fully appreciate, who possesses a neat and…

Read the full tafseer →