Explained with ayahs 61–63
اللہ تعالیٰ کے وعدے برحق ہیں۔
جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کرچکا ہے ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں وہ حقائق ہیں جو سامنے آکر ہی رہیں گے۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ ماتیا کے معنی اتیا کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں وہ ہمارے پاس آہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
سورة مَرْیَم 38
اصل میں لفظ " سلام " استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں عیب اور نقص سے محفوظ۔ جنت میں نعمتیں انسان کو میسر ہوں گی ان میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہوگی کہ وہاں بیہودہ اور فضول گندی بات سننے میں نہ آئے گی۔ وہاں کا پورا معاشرہ ایک ستھرا اور سنجیدہ اور پاکیزہ معاشرہ ہوگا جس کا ہر فرد سلیم الطبع ہوگا۔ وہاں کے رہنے والوں کو غیبتوں اور گالیوں اور فحش گانوں اور دوسری بری آوازوں کی سماعت سے پوری نجات مل جائے گی۔ وہاں آدمی جو کچھ سنے گا۔ اور معقول اور بجا باتیں ہی سنے گا۔ اس نعمت کی قدر وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اس دنیا میں فی الواقع ایک پاکیزہ اور ستھرا ذوق رکھتا ہو۔ کیونکہ وہی یہ محسوس کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا، لغو سے مراد کلام باطل فضول اور گالی گلوچ اور ایذاء دینے والا کلام ہے کہ اہل جنت اس سے پاک صاف رہیں گے کوئی کلمہ ان کے کان میں ایسا نہ پڑے گا جو ان کو رنج و تکلیف پہنچائے۔
اِلَّا سَلٰمًا، یہ استشناء منقطع ہے مراد یہ ہے کہ وہاں جس کا جو کلام سننے میں آوے گا وہ سلامتی اور بھلائی اور خوشی میں اضافہ کرے گا۔ اصطلاحی سلام بھی اس میں داخل ہے جو اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کو کریں گے اور اللہ کے فرشتے ان سب کو کریں گے۔ (قرطبی)
وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا، جنت میں یہ نظام شمسی اور طلوع و غروب باللیل والنہار تو نہ ہوگا، ایک قسم کی روشنی ہمہ وقت رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
تفسیر آیات 60 تا 63: إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (60) جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا (61) لا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلا سَلامًا وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (62) تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا (63)
آخرت میں کام آنے والی چیز : یعنی نسب و حسب تو کوئی کام آنے والی چیز ثابت نہیں ہوگا البتہ جو لوگ اپنی غلطیوں سے رجوع کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ اطمینان رکھیں کہ…
Read the full tafseer →62۔ 1 یعنی فرشتے بھی انھیں ہر طرف سے سلام کریں گے اور اہل جنت بھی آپس میں ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کیا کریں گے۔
62۔ 2 امام احمد نے اس کی تفسیر میں کہا کہ جنت میں رات اور دن نہیں ہونگے، صرف اجالا ہی اجالا اور روشی ہی روشنی ہوگی۔ حدیث میں ہے۔ جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی، وہاں انھیں تھوک آئے گا نہ رینٹ اور بول وبزاز۔ ان کے برتن اور کنگھیاں سونے کی ہونگی، ان کا بخور، خوشبودار (لکڑی) ہوگی۔ ان کا پسینہ کستوری (کی طرح) ہوگا۔ ہر جنتی کی دو بیویاں ہوں گی، ان کی پنڈلیوں کا گودا ان کے گوشت کے پیچھے نظر آئے گا، ان کے حسن جمال کی وجہ سے۔ ان میں باہم بغض اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
30: یعنی ان کی گمراہی کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ان کے سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →لایسمعون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الاسلما (91 : 26) ” وہاں وہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے ‘ جو بات بھی سنیں گے صحیح سنیں گے “۔ کوئی فضول بات وہاں نہ ہوگی ‘ نہ شور و شغب ہوگا۔ وہاں ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ اس جنت میں ضروریات اور رزق ہر وقت مطابق خواہش دستیاب ہوگا۔ کسی نفس کو کوئی قلق نہ ہوگا ‘ کوئی خوف نہ ہوگا۔ کسی چیز کی کمی کا خطرہ نہ ہوگا۔
ولھم۔۔۔۔۔ وعشیا (91 : 26) ” اور ان کا رزق انہیں صبح و شام پہیم ملتارہ گا “۔ مطابق خواہش۔۔۔۔ غرض نہایت ہی خوشگوار ماحول ہوگا اور اللہ کی نعمتوں کا ہر سوا علان ہوگا۔
Read the full tafseer →4 یعنی جنت میں لغو و بیکار اور بیہودہ شورو شغب نہ ہوگا۔ ہاں فرشتوں اور مومنین کی طرف سے " سَلَامٌ عَلَیْکَ " کی آوازیں بلند ہوں گی۔
5 صبح و شام سے جنت کی صبح و شام مراد ہے۔ وہاں دنیا کی طرح طلوع و غروب نہ ہوگا جس سے رات دن اور صبح شام مقرر کی جائے۔ بلکہ خاص قسم کی انوار کا توارد و تنوع ہوگا۔ جس کے ذریعہ سے صبح و شام کی تحدید و تعیین کی جائے گی۔ حسب عادت و معمول صبح و شام جنت کی روزی پہنچے گی۔ ایک منٹ کے لیے بھوک کی تکلیف نہیں ستائے گی۔ وہ روزی کیا ہوگی ؟ اس کی کیفیت خدا ہی جانے۔ حدیث میں ہے۔ " یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیّاً " (اجنبی صبح و شام حق تعالیٰ کی تسبیح کہیں گے) گویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت 62 لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ط ”
جنت میں ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آرہی ہوں گی۔ ہر طرف سے فرشتوں کا ورود ہوگا اور وہ اہل جنت کو سلام کہہ رہے ہوں گے۔ سورة الواقعہ میں اس مضمون کو ایسے بیان فرمایا گیا ہے : لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ”وہ اس میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے ‘ مگر ایک ہی بات : سلام ! سلام !“
Read the full tafseer →57 لغو سے مراد :۔ بیہودہ بات سے مراد جھوٹی بات، غیبت، چغلی، تمسخر، فتنہ و فساد، یا شرارت کی بات، بےمعنی بات یا گندی اور شہوانیت کی بات اور گالی گلوچ سب کچھ شامل ہے۔ گویا جنت کا معاشرہ ایسا پاکیزہ معاشرہ ہوگا کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی وہاں نہ پائی جائے گی اور لفظ سلٰما کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے۔ اور اس لفظ کا دوسرا مطلب لفظ لغو کی ضد کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یعنی اہل جنت آپس میں ایسے پیار، محبت اور خلوص سے رہیں گے جو ہر طرح کے معاشرتی عیوب و نقائص سے پاک ہوگا۔ اور ایسے پاکیزہ معاشرہ کی قدروقیمت صرف وہ آدمی جان سکتا ہے جو خود تو پاکیزہ خصلت ہو لیکن اسے کسی گندے معاشرے…
Read the full tafseer →93۔ یعنی برابر اور علی الدوام۔ (آیت) ” لا یسمعون فیھا لغوا الا سلما “۔ اہل جنت کے کانوں میں کوئی بات بےتکی یا نکمی پڑنے ہی نہ پائے گی، جتنی آوازیں بھی آئیں گی، سب خوشگوار اور دل پسند ہی ہوں گی۔ خواہ یہ آوازیں فرشتوں کی ہوں یا دوسرے جنتوں کی۔ اے لا یسمعون فیھا الا قولا یسلمون فیہ من العیب والنقیصۃ (مدارک) (آیت) ” بکرۃ وعشیا “۔ اردو محاورہ میں بھی صبح وشام سے ایک مراد دوام ہوتی ہے، نہ کہ طلوع و غروب آفتاب کے دو متعین وقت۔
ع : چسکا پڑا ہے جام کا، شغل ہے صبح وشام کا :
عربی محاورہ میں بھی مراد یہی ہے بلکہ اس سیاق میں تو اس کے سوا کوئی اور مراد ہو ہی نہیں سکتی۔ جنت میں ظلمت ہی سرے سے کہاں ہوگی، جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
آیت نمبر 60 تا 65
ترجمہ : عنقریب خرابی دیکھیں گے ہاں مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا یعنی ان کے اجرو ثواب میں (ذرہ برابر) کمی نہ کی جائے گی جَنَّتُ عدْنٍ ہمیشہ قیام کی جنت جنّٰتُ عَدْنٍ ، الجنۃ سے بدل ہے وہ جنت کہ جس کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے بالغیب حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ ان بندوں نے اس جنت کو دیکھا نہیں ہے اور اس کے موعود (وعدہ کی ہوئی چیز) کو یہ لوگ ضرور جنت میں پہنچیں گے ماتِیًّا بمعنی آتیاً ہے اس کی اصل مَاتویٌ تھی یا اس کا موعود یہا، جنت ہے یعنی جنت کے مستحق اس میں داخل ہوں گے اور وہ لوگ…
Read the full tafseer →لایسمعون فیہا لغوا الا سلما اس جنت میں وہ لوگ کوئی فضول بات نہ سننے پائیں گے بجز سلام کے ‘ یعنی جنت کے اندر اہل جنت کوئی بےہودہ لفظ نہیں سنیں گے بلکہ اللہ کی طرف سے اور ملائکہ کی طرف سے اور باہم ایک دوسرے کی طرف سے سلام (کی آواز) سنیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اہل جنت ایسا کلام ہی سنیں گے جو عیب اور نقص سے پاک ہوگا۔
ولہم رزقہم فیہا بکرۃ وعشیا۔ اور ان کو ان کا کھانا صبح و شام ملا کرے گا۔ یعنی ہر طرح کا رزق با فراغت اور سکھ حاصل ہوگا ‘ حسن بصری نے کہا ‘ عرب کے نزدیک زندگی کا عیش اس سے بڑھ کر اور کوئی نہ تھا کہ صبح و شام کھانے کو غذا (پیٹ بھر کر) مل جائے اللہ نے عرب ہی کے محاورہ کے مطابق اہل جنت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(61۔ 62) اب اللہ تعالیٰ جس جنت میں یہ لوگ جائیں گے اس کے اوصاف بیان فرما رہا ہے یعنی ان ہمیشہ رہنے والے باغوں میں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا اور یہ لوگ جنت میں فضول جھوٹی قسمیں نہ سننے پائیں گے سوائے اکرام و اعزاز کے طور پر ایک دوسرے کو سلام کرنے کے اور ان کو جنت میں دنیا کے انداز سے صبح وشام کھانا ملا کرے گا۔
Read the full tafseer →لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا : اہل ایمان کے لیے دنیا میں ایک شدید تکلیف لغو کلام سننا ہے، جسے وہ سننا نہیں چاہتے۔ اس تکلیف کا اندازہ اور اس سے بچے رہنے کی نعمت کی قدر صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جنھیں اس سے سابقہ پڑا ہو۔ جنت میں انھیں ایسی باتوں کے بجائے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا فرشتوں کی طرف سے یا ایک دوسرے کی طرف سے سلام کی آواز آئے گی۔ دیکھیے سورة یس (58) اور سورة رعد (23، 24) یا ایسی بات سنائی دے گی جو ہر طرح کی تکلیف سے پاک اور سراسر سلامتی والی ہوگی، یعنی کوئی لغو یا تکلیف دہ بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی۔
بُكْرَةً وَّعَشِيًّا : بظاہر معنی یہ ہے کہ اتنی دیر کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا من تاب، یعنی نماز کے ضائع کرنے اور شہوات کی پیروی کرنے سے جس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ آیا۔ وامن، اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنۃ ابو جعفر، شیبہ، ابن کثیر، ابن محصین، ابو عمرو، یعقوب اور ابوبکر نے یدخلون خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ولا یظلمون شیئا۔ ان کے اعمال صالحہ میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی مگر ان کے لیے ہر نیکی کے بدلے دس سے لیکر سات سو تک نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جنت عدن یہ الجنۃ سے بدل ہے اس لیے منصوب ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : جنت عدن متبدا کی حیثیت سے مرفوع بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔
2:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے اس سے امت کے لوگ مراد ہیں جو راستوں میں جانوروں کی طرح سرعام بدکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے شرم کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن قریب یہ صورت حال ہوگی امت محمد ﷺ کے نیک لوگوں چلے جائیں گے (دنیا سے) اور پیچھے وہ لوگ رہ جائیں گے اور زانی لوگ گلیوں میں بدکاری کریں گے۔
نماز ترک کرنے والے برے جانشین ہیں۔
4:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[لَا يَسْمَعُوْنَ : وہ نہیں سنیں گے ] [فِيْهَا : اس میں ] [لَغْوًا : کوئی بیہودہ بات ] [اِلَّا : مگر ] [سَلٰمًا : سلام ] [وَلَهُمْ : اور ان کے لئے ] [رِزْقُـهُمْ : ان کی روزی ہے ] [فِيْهَا : اس میں ] [بُكْرَةً : صبح کے وقت ] [وَّعَشِيًّا : اور شام کے وقت ]
Read the full tafseer →(لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْواً اِلَّا سَلَامًا) (جنت میں سلام ہی کی آوازیں سنیں گے کوئی لغو اور فضول اور بےفائدہ بات نہیں سنیں گے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر سلام آئے گا (وَسَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ ) اور آپس میں بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ (تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلاَمٌ) اور فرشتے جب ان کے پاس آئیں گے تو وہ بھی سلام کریں گے۔ (سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارْ ) (تم اس وجہ سے باسلامت رہو گے کہ تم نے صبر کیا سو اس جہاں میں تمہارا اچھا انجام ہوا) (وَلَھُمْ رْزْقُھُمْ فِیْھَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا) (اور انھیں اس میں صبح شام رزق ملے گا) ۔
حافظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
ذکر حال و مآل اہل سعادت و اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ فخلف من م بعدھم خلف اضاعوا الصلوٰۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ من کان تقیا
(ربط) گزشتہ آیات میں سلف صالحین اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ جو سب دین حق پر تھے۔ اور خدا کے برگزیدہ بندے تھے۔ اب ان آیات میں پچھلوں اور ان ناخلف لوگوں کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اتباع سے انحراف کیا اور دنیاوی شہوات اور لذات کے پیچھے ہو لیے۔ اور ہولناکیوں میں مبتلا ہوگئے اور نماز جیسی اہم العبادات کو ضائع کردیا۔ سو ایسے لوگ حال اور مآل کے اعتبار سے تباہ و برباد ہوئے۔ البتہ جو لوگ اپنی جہالت اور ضلالت سے تائب ہوئے اور انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
43:۔ یہاں سے لے کر ” مَنْ کَانَ تَقِیًّا “ تک بشارت اخروی ہے۔ یہ مستثنی منقطع ہے اور الا بمعنی لکن ہے۔ ” مَنْ تَابَ الخ “ موصول مع صلہ مبتدا ہے اور ” فَاُوْلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے۔ ” تِلْکَ الْجَنَّةُ الخ “ سے پہلے ” یقال لھم “ محذوف ہے۔ یعنی قیامت کے دن اہل جنت سے یہ بات کہی جائے گی۔ ” تَقِیًّا “ یعنی جو شرک سے بچتا رہا۔ اور اللہ کی توحید پر قائم رہا۔ اخرج ابن ابی حاتم عن داود ابن ابی ھندانہ الموحد فتذکرو لا تغفل (روح ج 16 ص 113) ۔ من کان تقیا عن الشرک (مدارک ج 3 ص 32)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے فرزند اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا ضمنا ذکر آیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے صادق الوعد ہونے کا ذکر کیا آپ کو نبی اور رسول بھی کہا گیا ہے رسول وہ ہوتا ہے جس پر مستقل کتاب یا شریت نازل ہو ، مگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق مفسرین کرام عام طور پر کسی کتاب کا ذکر نہیں کرتے ، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو رسول کس بناء…
Read the full tafseer →لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْہَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا 0ۭ وَلَہُمْ رِزْقُـہُمْ فِيْہَا بُكْرَۃً وَّعَشِـيًّا 62
لغو
اللَّغْوُ من الکلام : ما لا يعتدّ به، وهو الذي يورد لا عن رويّة وفكر، فيجري مجری اللَّغَا، وهو صوت العصافیر ونحوها من الطّيور، قال أبو عبیدة : لَغْوٌ ولَغًا، نحو : عيب وعاب وأنشدهم :
407-
عن اللّغا ورفث التّكلّم
«5» يقال : لَغِيتُ تَلْغَى. نحو : لقیت تلقی، وقد يسمّى كلّ کلام قبیح لغوا . قال : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا كِذَّاباً [ النبأ/ 35] ، وقال : وَإِذا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ [ القصص/ 55] ، لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً [ الواقعة/ 25] ، وقال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–63
تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔
واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…
Read the full tafseer →لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا اِلاَّ سَلٰمًا ط وََلَھُمْ رِزْقُھُمْ فِیْھَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا۔ (مریم : 62)
(وہ اس جنت میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے، بس سلام سنیں گے، اس میں ان کے لیے صبح و شام رزق مہیا ہوگا۔ )
جنت میں اہل جنت کو جو بیش بہا نعمتیں میسر آئیں گی آج تو ان کا تصور بھی ممکن نہیں لیکن قرآن و سنت سے ایسا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو وہاں وہ سب کچھ ملے گا، اس کا نفس جس کی خواہش کرے گا۔ اور یہ نعمت ایسی ہے جو دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ بڑے سے بڑا حکمران بھی اپنی خواہشات کی تکمیل سے ہمیشہ عاجز رہتا ہے۔ جب کوئی شخص طاقت اور اقتدار میں بگٹٹ ہوجاتا ہے تو اس کا جی چاہتا ہے کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کو جس جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے چند اوصاف کا تذکرہ۔
جنت کی جمع جنات ہے۔ جس کا معنٰی باغات ہیں۔ جنت وہ مقام ہے جس کے حسن و جمال اور نعمتوں کا کوئی شخص تصور نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اس میں اپنے بندوں کو داخل فرمائے گا۔ جس کا وعدہ ہر صورت مومنوں کے ساتھ پورا ہو کر رہے گا۔ اس جنت میں کسی قسم کا لغو، پریشانی اور تکلیف نہیں ہوگی۔ اس میں ہر جنتی ہر اعتبار سے سلامت اور خوش ہوگا۔ جنتی ایک دوسرے کو سلام کہیں گے اور اس کی نعمتیں بھی سلامت رہیں گی۔ ان کے لیے صبح و شام اللہ تعالیٰ کی نعمتیں وافر ہوں گی۔ جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ جنتیوں کے لیے اعلان ہوگا جہاں چاہو…
Read the full tafseer →62: لَایَسْمَعُوْنَ فِیْھَا (وہ لوگ اس میں نہیں سنیں گے) یعنی جنت میں لَغْوًا (کوئی فضول بات) یعنی فحش یا جھوٹ یا فضول کلام لغو اس کو کہا جاتا ہے جس کو کلام میں سے نکال دیا جائے۔
نحو : اس میں متنبہ کردیا کہ لغو سے پرہیز کرنا اور بچنا لازم ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو لغو سے پاک قرار دیا جس میں کوئی تکلیف نہیں۔
اِلَّا سَلٰمًا (مگر سلام) یعنی وہ ملائکہ سے سلام سنیں گے (2) ایک دوسرے سے سلام سنیں گے (3) وہ اس میں کوئی ایسی بات نہ سنیں گے مگر وہ بات کہ جو عیب اور نقص سے پاک ہو جمہور علماء کے نزدیک یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ اور ایک اور قول کے مطابق سلام کا معنی سلامتی کی دعا ہے جبکہ دارالسلام…
Read the full tafseer →62۔ لایسمعون فیھا، اس جنت میں نہیں سنیں گے ، لغوا باطل فحش کلام لغو کلام۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ جھوٹی بات نہیں سنیں گے۔
الاسلاما، ، غیرجنس سے استثناء ہے۔ صرف جنت میں سلام ہی سنیں گے اور ان کا قول سلام ہوگا، سلام خیر کے لیے جامع نام ہے کیونکہ یہ سلامتی کو متضمن ہے ۔ معنی یہ ہوگا کہ جنتی لوگ گناہ کی کوئی بات نہیں سنیں گے بلکہ وہ سنیں گے جوان کو سلام کرے گے وہ اللہ کی طرف فرشتوں کی طرف سے اور باہم ایک دوسرے کی طرف سے سلام کی آواز سنیں گے ۔ ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ جنت میں رات نہیں ہوگی ، اور بعض نے کہا جنتی وقت کا ادراک کرلیں گے پردے کے اٹھنے کے بعد اور رات کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
61۔ 63:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ان آیتوں میں جنت کو بن دیکھیں نہ جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں بعض بن دیکھی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگرچہ آدمی ان کو آنکھوں سے نہیں دیکھتا لیکن ان کا حال کانوں سے سنا ہوا ہوتا ہے یا کبھی دل میں ان کا خیال آجاتا ہے جنت ایسی انوکھی چیز ہے جو دیکھی نہ سنی نہ کبھی اس کا خیال کسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انہوں نے امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انہوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا، انہوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کردیا۔ جب انہوں نے نماز کو ضائع کردیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لئے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے، تو نماز کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
نماز کو ضائع کرنا کیسے ہے ؟
قول باری ہے (اضاعوا الصلوۃ جنہوں نے نماز کو ضائع کیا) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ نمازوں کو ان کے اصل اوقات سے موئخر کر کے انہوں نے نمازوں کو ضائع کیا۔ اس تاویل کی حضور ﷺ کے اس ارشاد سے بھی تائید ہوتی ہے کہ (لیس التفریط فی التوم انما التفریط ان یدعھا حتی یدخل وقت الاخریٰ نماز میں کوتاہی سوتے رہنے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ اس کی ادائیگی کو مئوخر رکھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ انہوں نے نمازوں کی ادائیگی نہ کر کے انہیں ضائع کردیا۔
Read the full tafseer →69 جنت میں سلامتی ہی سلامتی کا دور دورہ ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ کوئی لغو اور بیکار بات نہیں سنیں گے سوائے سلام کے "۔ سو وہاں پر سلامتی ہی سلامتی ہوگی اور وہ سلام ہی کے کلمات سنیں گے۔ وہ آپس میں خود بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { تَحِیَّتُہُمْ فِیْہَا سَلامٌ } ۔ (ابراہیم : 23) فرشتے بھی ان کو سلام کر رہے ہوں گے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَالْمَلَئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ علیہم من کل باب، سلام علیکم بما صبرتم } ۔ (الرعد :13-14) اور اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے بھی ان کو سلام کا شرف نصیب ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { سَلامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
نیک لوگوں کے لیے انعامات
تشریح : ان آیات میں ایسے لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوئے اور پوری شرائط کے ساتھ توبہ کرلی اور پھر کبھی غلط راستوں کا رخ نہ کیا تو ان لوگوں سے ایسی بہشت کا وعدہ کیا گیا ہے جو بہترین زندگی کا نمونہ ہوگی یہ تو راز کی بات ہے کیونکہ کسی نے اپنی آنکھوں سے اسے نہیں دیکھا یہ تو اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اور اس جنت کو حاصل کرنا آسان کام نہیں اس کے لیے پوری زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنی ضروری ہے۔ جس سے جنت حاصل ہوگی۔
جنت کا تصور ہی انسان کو باغ و بہار کردیتا ہے۔ اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ یہ دنیاوی عیش و آرام کی طرح نہ ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
ف 3 یعنی اتنی اتنی دیر کے بعد جتنی دیر دنیا میں صبح سے شام تک ہوتی ہے یا ہر آن جب بھی انہیں کھانے کی خواہش ہو کیونکہ جنت میں دنیا کی طرح نہ دن ہوگا اور نہ رات، بلکہ ہمیشہ ایک سا وقت رہے گا۔ (ابن کثیر)4 یعنی اللہ و رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور کفر و شرک اور گناہ سے بچتے ہیں۔
Read the full tafseer →(19:62) فیھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنت عدن کے لئے ہے۔ بکرۃ وعشیا۔ صبح وشام۔ یہاں صبح وشام سے مراد ہمیشگی اور دوام ہے۔ کیونکہ جنت میں شام جو تاریکی کو مستلزم ہے اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہاں تو نور ہی نور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 65
خلف قائم مقام ہوا۔ خلف نالائق، ناخلف۔ اضاعوا انہوں نے برباد کیا، ضائع کردیا۔ اتبعوا پیچھے لگ گئے، انہوں نے پیروی کی۔ یلقون وہ ڈالیں گے۔ غی گمراہی۔ عدن ہمیشہ رہنے کی جگہ، ایک بہت کا نام۔ ماتی آنے والا، آنے کی جگہ۔ لغو بےہودہ۔ فضول۔ مانتنزل ہم نہیں اترتے۔ نسی بھول جانا۔ اصطبر ثابت قدم رہو۔ سمی ہم نام، ہم پلہ
تشریح : آیت نمبر 59 تا 65
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کی امتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے بعد آنے والوں نے نیک لوگوں کا راستہ چھوڑ کر ان کے قائم مقام ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی خواہشات نفس اور دنیا کے وقتی فائدوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
جنت اور اہل جنت کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں سے بن دیکھی جنت کے دینے کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، ایک دن اس وعدہ کا ظہور بلا شک ہونے والا ہے۔ پھر فرمایا :" یہ جنت وہ ہے جہاں سوائے السلام علیک کی آواز کے اور کوئی ایسی آواز جنتیوں کے کام میں نہ آوے گی، جو ان کے کانون کو بری لگے "۔ پھر فرمایا :" وہاں صبح وشام ان کو طرح طرح کی نعمتیں کھانے کو ملیں گی۔ جنت میں اگرچہ صبح وشام نہیں ہے، صبح صادق نہیں ہے، صبح صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک کا جیسا ٹھنڈا وقت ہوتا ہے، وہاں ہمیشہ ایسا وقت رہے گا۔ پھر فرمایا یہ جنت ان لوگوں کی میراث ہے جو دنیا میں نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے…
Read the full tafseer →[23] اردو کی طرح عربی محاورے میں بھی صبح شام سے مراد دوام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے ، جو گناہوں سے توبہ کرلیتے ہیں ، اور ایمان وعمل کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو خواہشات وشہوات کی پیروی نہیں کرتے ، اور اپنے دلوں میں تقوی و پرہیز گاری کے جذبات پیدا کرلیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے وا ہیں یہ لوگ اطمینان وسل امتی کے ساتھ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔
حل لغات :
اسرآئیل : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے ، عربی زبان میں اسرائیل کے معنے برگزیدہ خدا یا بندہ خدا کے ہیں ۔
غیا : گمراہی کی سزا ، گمراہی ، ہر بری بات ۔
Read the full tafseer →-62 یہ جنتی لوگ اس جنت میں کوئی لغو اور فضول بات نہیں سنیں گے مگر سلام کی آواز اور ان لوگوں کو ان کی روزی صبح اور شام ملا کرے گی۔ یعنی وہاں سوائے سلام کے اور کوئی لغو اور بیہودہ بات یا بک بک نہیں ہوگی۔ یہ سلام یا تو فرشتے کریں گے اور یا آپس میں ایک دوسرے کو السلام علیکم کہتے ہوں گے۔
صبح شام کا یہ مطلب ہے کہ مقدار صبح و شام یعنی اندازے سے ورنہ وہاں یہ دنیا کی صبح وشام کہاں اور جہاں نور ہی نور ہو وہاں تاریکی کہاں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بک بک نہ سنیں گے سلام علیک کی آواز بلند سنیں گے 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
ف 7۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تکوینا یا تشریعا مسخرا امر ہیں، اپنی رائے سے ایک مکان سے دوسرے مکان میں یا جس زمان میں ہم چاہیں کہیں آجا نہیں سکتے، لیکن جب ہمارا بھیجنا مصلحت ہوتا ہے تو حق تعالیٰ بھیج دیتے ہیں، یہ احتمال نہیں کہ شاید کسی مصلحت کے وقت میں بھول جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وہ ایسی زندگی ہے کہ ناشائستہ بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی :
62۔ یہ گویا جنتی زندگی کی حقیقت بتائی جا رہی ہے کہ جس طرح دنیوی زندگی میں آسائش و آرام حاصل ہوتے ہیں ، بہت ہی واہیات چیزیں بھی ساتھ ہی نکل آتی ہیں اور شوروشغب اور شغل ومیلہ سے انسان کو واسطہ پڑنے لگتا ہے وہاں بلاشبہ عیش و آرام ہوگا لیکن لغو وواہیات باتیں نہیں ہوں گی اس لئے کہ انسانوں سے وہ طاقت ہی رخصت ہوچکی ہوگی جس کے تقاضا سے ایسی باتیں جنم لیتی ہیں ، ہاں جو کچھ انسان سنیں گے وہ سلامتی ہی سلامتی ہوگی اور صبح وشام ان کو برابر پاکیزہ رزق ملے گا اور اس رزق میں ” اج آن کد آن “ نہیں ہوگا اور نہ ہی ” دب کے واہ تے رج کے کھا “ کی مثل اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلَّا سَلَامًا
"They will not hear anything absurd therein but a word of peace." - 19:62.
(لَغو) means idle, absurd, frivolous and abusive talk, which will not reach the ears of good people who have been admitted to Paradise.
إِلَّا سَلَامًا means that whatever one will hear in Paradise will add to his happiness, peace and tranquility. It includes the customary greetings (سَلَام), which the dwellers of Paradise will exchange among themselves and the angels of God will offer them all. (Qurtubi)
وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا
"And there they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
38. The word used is salam, which means free from defect and fault. It implies to mean that the greatest blessing that man will enjoy in Paradise will be that there he will hear no idle, vile or indecent talk. All the dwellers of Paradise will be neat and clean and pure people and every individual will be gentle and right minded by nature. Everybody will be secure against backbiting, slander and indecent songs and other ugly sounds. Whatever men will hear will be good, sensible and right.
This is indeed a great blessing which only that person can fully appreciate, who possesses a neat and…
Read the full tafseer →