Maryam 19:61

Maryam · from ayah 61

19:61

جَنّٰتِ عَدْنِ ١لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ ؕ— اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا ۟جَنّٰتِ عَدۡنٍ اۨلَّتِىۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ‌ ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا

(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے)۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Therein are] gardens of perpetual residence which the Most Merciful has promised His servants in the unseen. Indeed, His promise has ever been coming.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:61

ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے در پردہ وعدہ کر رکھا ہے اور یقیناً یہ وعدہ پُورا ہو کر رہنا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے)۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہمیشگی والی جنتوں میں جن کا غائبانہ وعده اللہ مہربان نے اپنے بندوں سے کیا ہے۔ بیشک اس کا وعده پورا ہونے واﻻ ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان کا داخلہ) ایسے ہمیشہ باقی رہنے والے باغات میں (ہوگا) جن کا خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے ان کے دیکھے بغیر وعدہ کر رکھا ہے۔ یقینا اس کا وعدہ ایسا ہے کہ یہ اس تک ضرور پہنچیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں کیا بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ایسے سدا بہار باغات میں (رہیں گے) جن کا (خدائے) رحمان نے اپنے بندوں سے غیب میں وعدہ کیا ہے، بیشک اس کا وعدہ پہنچنے ہی والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہمیشگی کے باغات میں، جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے (ان کے) بن دیکھے وعدہ کیا ہے۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا وعدہ ہمیشہ سے پورا ہو کر رہنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ جنت ایسے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے اور انھیں کسی نے دیکھا نہیں۔ بلاشبہ اس کا وعدہ پیش آکے رہے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہمیشگی کے باغ جن کا خدائے رحمان نے اپنے بندوں سے عالم غیب میں وعدہ کر رکھا ہے بیشک اس کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی ہمیشہ رہنے والی ان عظیم الشان جنتوں میں جن کا وعدہ فرما رکھا ہے خدائے رحمان نے اپنے بندوں سے بن دیکھے، بلاشبہ اس کے وعدہ نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

وہ (جنت) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کا وعدہ غائبانہ خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے۔ بیشک اس کا وعدہ پورا ہو کر رہنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(انہیں ملیں گے) عیش دوام کے باغات جن کا وعدہ کیا تھا رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں یقیناً اس کا وعدہ تو پورا ہونے والا ہی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہمیشہ رہنے والی جنت جس کا اللہ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے۔ اور جو ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے بیشک اس کا وعدہ (نیک لوگوں کے سامنے) آنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Theirs shall be everlasting Gardens which the Most Compassionate Lord has promised His servants in a realm which is beyond the ken of perception. Surely His promise shall he fulfilled.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(They will enter) the Gardens of eternity, promised by the All-Merciful (Allah) to His servants, in the unseen world. They will surely reach (the places of) His promise.

— Muhammad Taqi Usmani

(They will enter) the Gardens of eternity, promised by the All-Merciful (Allah) to His servants, in the unseen world. They will surely reach (the places of) His promise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(They will enter) `Adn Gardens which the Most Gracious has promised to His servants in the unseen. Verily, His promise must come to pass.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Gardens of Eden, which the Beneficent hath promised to His slaves in the unseen. Lo! His promise is ever sure of fulfilment -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Therein are] gardens of perpetual residence which the Most Merciful has promised His servants in the unseen. Indeed, His promise has ever been coming.

— Saheeh International

They will be admitted to the garden of Eden which is the unseen promise of the Beneficent God to His servants. The promise of God will certainly come true.

— Muhammad Sarwar

The gardens of perpetuity which the Beneficent Allah has promised to His servants while unseen; surely His promise shall come to pass.

— Muhammad Habib Shakir

Gardens Everlasting, which the Compassionate hath promised unto his bondmen, unseen; verily His premise is ever to be fulfilled. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

Gardens of Eternity, those which (Allah) Most Gracious has promised to His servants in the Unseen: for His promise must (necessarily) come to pass.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–63

اللہ تعالیٰ کے وعدے برحق ہیں۔ جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کرچکا ہے ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں وہ حقائق ہیں جو سامنے آکر ہی رہیں گے۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ ماتیا کے معنی اتیا کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں وہ ہمارے پاس آہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 37 یعنی جس کا وعدہ رحمان نے کیا وہ جنتیں ان کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–61

خلاصہ تفسیر پھر ان (مذکورین) کے بعد (بعض) ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا (خواہ اعتقاد کہ انکار کیا یا عملاً کہ اس کے ادا کرنے میں یا حقوق و آداب ضروریہ میں کوتاہی کی) اور (نفسانی جائز) خواہشوں کی پیروی کی (جو ضروری طاقت سے غافل کرنے والی تھیں) سو یہ لوگ عنقریب (آخرت میں) خرابی دیکھیں گے (خواہ ابدی ہو یا غیر ابدی) ہاں مگر جس نے (کفر و معصیت سے) توبہ کرلی (اور مطلب کفر سے توبہ کرنے کا یہ ہے کہ) ایمان لے آیا اور (معصیت سے توبہ کرنا یہ ہے کہ) نیک کام کرنے لگا سو یہ لوگ (بلاخرابی دیکھے) جنت میں جاویں گے اور (جزا ملنے کے وقت) ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا (یعنی ہر نیک عمل کی جزا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 60–63

تفسیر آیات 60 تا 63: إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (60) جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا (61) لا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلا سَلامًا وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (62) تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا (63) آخرت میں کام آنے والی چیز : یعنی نسب و حسب تو کوئی کام آنے والی چیز ثابت نہیں ہوگا البتہ جو لوگ اپنی غلطیوں سے رجوع کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ اطمینان رکھیں کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

61۔ 1 یعنی یہ ان کے ایمان و یقین کی پختگی ہے کہ انہوں نے جنت کو دیکھا بھی نہیں، صرف اللہ کے غائبانہ وعدے پر ہی اس کے حصول کے لئے ایمان وتقویٰ کا راستہ اختیار کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–63

30: یعنی ان کی گمراہی کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ان کے سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–61

وہ توبہ جو ایمان اور عمل صالح پیدا کردیتی ہے ‘ وہی صحیح معنوں میں توبہ ہوتی ہے اور وہی برے انجام سے انسان کو بچاتی ہے۔ ایسے حقیقی تائب برے انجام تک پہچنے سے بچ جاتے ہیں۔ وہ تو جنت میں جاتے ہیں اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوتا۔ جنت میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوتے ہیں۔ وہ جنت مجس کا وعدہ اللہ نے اپنے بندوں سے کرر کھا ہے۔ وہ اس پر ایمان لائے اور دیکھنے سے قبل ہی اس پر یقین کیا۔ ہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اہل جنت اور جنت کی تصویر کیا ہوگی ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 جب یہ بندے اَن دیکھی چیزوں پر پیغمبروں کے فرمانے سے ایمان لائے، بن دیکھے خدا کی عبادت کی، تو اللّٰہ نے ان سے جنت کی اَن دیکھی نعمتوں کا وعدہ فرما لیا۔ جو ضرور بالضرور پورا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ خدا کے وعدے بالکل حتمی اور اٹل ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بالْغَیْبِ ط ” اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن میں ایسے وعدے جگہ جگہ کیے گئے ہیں۔ دنیوی زندگی میں نہ تو کسی نے جنت کو دیکھا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو۔ یہ سارا معاملہ غیب ہی کا ہے۔ چناچہ جو شخص اللہ کو اور اس کے ایسے تمام وعدوں کو مانتا ہے وہ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیب کے مصداق غیب پر ایمان لاتا ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا ” وہ اپنے وقت پر پورا ہو کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 60–61

56 نماز کا تارک ایماندار نہیں رہتا جب تک توبہ نہ کرے :۔ ان الفاظ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کو ضائع کرنے اور اپنی خواہش کے پیچھے لگنے والا ایماندار نہیں رہتا۔ ایسے گنہگاروں میں سے بھی جو شخص اللہ کے حضور رجوع کرے، توبہ کرے، آئندہ پھر وہ کام نہ کرے بلکہ اس کے بجائے اعمال صالحہ بجا لائے، تو ایسے لوگوں کے سابقہ گناہ تو بالکل معاف کردیئے جائیں گے۔ مگر ان کے سابقہ نیک اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور حدیث میں آیا ہے کہ جس نے توبہ کرلی وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے وہ گناہ کیا ہی نہ تھا (ابن ماجہ، ابو اب الزہد، باب ذکر التوبۃ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

92۔ آیت میں خاص طور پر قابل لحاظ لفظ (آیت) ” بالغیب “۔ ہے ان صالحین ومومنین نے حق تعالیٰ کی آواز کو براہ راست تو سنا ہے نہیں، ان تک وعدہ الہی صرف واسطہ درواسطہ، فرشتوں اور پیغمبروں کی دوہری منزلیں طے کرتا ہوا پہنچا ہے۔ وہ اسی پر اعتماد کامل کیے ہوئے ہیں، اور یہ اعتقاد و ایمان کا درجہ اعلی ہے، جنت اور نعمائے جنت سب اسی ایمان بالغیب کا صلہ ہیں۔ (آیت) ” عدن “۔ عدن کے معنی اقامۃ کے ہیں۔ بہشت کا اصلی وصف یہ ہوگا کہ وہ فانی نہیں، باقی اور قائم رہنے والا باغ ہے، جس کا دنیا کے فانی باغوں سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 60–65

آیت نمبر 60 تا 65 ترجمہ : عنقریب خرابی دیکھیں گے ہاں مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا یعنی ان کے اجرو ثواب میں (ذرہ برابر) کمی نہ کی جائے گی جَنَّتُ عدْنٍ ہمیشہ قیام کی جنت جنّٰتُ عَدْنٍ ، الجنۃ سے بدل ہے وہ جنت کہ جس کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے بالغیب حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ ان بندوں نے اس جنت کو دیکھا نہیں ہے اور اس کے موعود (وعدہ کی ہوئی چیز) کو یہ لوگ ضرور جنت میں پہنچیں گے ماتِیًّا بمعنی آتیاً ہے اس کی اصل مَاتویٌ تھی یا اس کا موعود یہا، جنت ہے یعنی جنت کے مستحق اس میں داخل ہوں گے اور وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جنت عدن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب (اور) ہمیشہ رہنے کے باغوں میں جن کا رحمن نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ کیا ہے (رہیں گے) عَدْن یا مصدر ہے بمعنی قیام یا ایک جنت یا جنت کی زمین کا نام ہے بالغیب ان لوگوں کے لئے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے جو جنت سے غائب اور اس کو نہ دیکھنے کی حالت میں بھی اللہ کی بندگی کرنے والے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ غیب پر ایمان لانے اور تصدیق کرنے کی وجہ سے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ اوّل مطلب پر بالغیب کا تعلق متلبسین محذوف سے ہوگا اور دوسرے مطلب پر وعد سے۔ انہ کان وعدہ ماتیا۔ بیشک اللہ کی وعدہ کی ہوئی چیز کو وہ ضرور پہنچیں گے۔ مَاتِیًّا (اسم ظرف) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 61–62

(61۔ 62) اب اللہ تعالیٰ جس جنت میں یہ لوگ جائیں گے اس کے اوصاف بیان فرما رہا ہے یعنی ان ہمیشہ رہنے والے باغوں میں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا اور یہ لوگ جنت میں فضول جھوٹی قسمیں نہ سننے پائیں گے سوائے اکرام و اعزاز کے طور پر ایک دوسرے کو سلام کرنے کے اور ان کو جنت میں دنیا کے انداز سے صبح وشام کھانا ملا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ۔۔ : ہمیشگی کی جنتوں کا وعدہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اپنے رحمٰن ہونے اور بندوں کو اپنا بندہ کہنے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی رحمت کس قدر بےحساب و بےکنار ہے اور فرماں بردار بندوں سے اس کا تعلق کتنا گہرا اور پیارا ہے۔ ”بن دیکھے“ کا مطلب یہ ہے کہ بندوں سے اس رحمٰن نے وعدہ کیا ہے جس رحمٰن کو انھوں نے نہیں دیکھا، یعنی بن دیکھے اس پر ایمان لائے ہیں۔ دوسرا معنی ہے کہ رحمٰن نے ان سے ایسی جنتوں کا وعدہ کیا ہے جو انھوں نے دیکھی نہیں مگر انھیں دیکھے بغیر ہی ان کے ملنے کا یقین ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ رحمٰن کا وعدہ ہمیشہ پورا ہو کر رہنے والا ہے۔ ”اِنَّ“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 60–65

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا من تاب، یعنی نماز کے ضائع کرنے اور شہوات کی پیروی کرنے سے جس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ آیا۔ وامن، اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنۃ ابو جعفر، شیبہ، ابن کثیر، ابن محصین، ابو عمرو، یعقوب اور ابوبکر نے یدخلون خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ولا یظلمون شیئا۔ ان کے اعمال صالحہ میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی مگر ان کے لیے ہر نیکی کے بدلے دس سے لیکر سات سو تک نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جنت عدن یہ الجنۃ سے بدل ہے اس لیے منصوب ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : جنت عدن متبدا کی حیثیت سے مرفوع بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 59–65

1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔ 2:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے اس سے امت کے لوگ مراد ہیں جو راستوں میں جانوروں کی طرح سرعام بدکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے شرم کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ 3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن قریب یہ صورت حال ہوگی امت محمد ﷺ کے نیک لوگوں چلے جائیں گے (دنیا سے) اور پیچھے وہ لوگ رہ جائیں گے اور زانی لوگ گلیوں میں بدکاری کریں گے۔ نماز ترک کرنے والے برے جانشین ہیں۔ 4:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[جَنّٰتِ عَدْنِۨ : عدن کے باغات ] [الَّتِيْ : جن کا ] [وَعَدَ : وعدہ کیا ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن نے ] [عِبَادَهٗ : اپنے بندوں سے ] [بِالْغَيْبِ : غیب میں ] [انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [كَان : ہے ] [وَعْدُهٗ : اس کا وعدہ ] [مَاتِيًّا : پورا کیا ہوا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ (جَنَّاتُ عَدْنِنِ الَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بْالْغَیْبْ ) یعنی ہمیشہ رہنے کے باغوں میں داخل ہوں گے جس کا رحمن نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا اور یہ وعدہ بالغیب ہے یہ حضرات جنت کے وعدہ پر بغیر دیکھے ایمان لائے دنیا میں جنت کو دیکھا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ جو خبر دی ہے اور جو وعدہ فرمایا ہے اس کی تصدیق کی ہے اس پر پورا پورا یقین کیا۔ (اِنَّہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–63

ذکر حال و مآل اہل سعادت و اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ فخلف من م بعدھم خلف اضاعوا الصلوٰۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ من کان تقیا (ربط) گزشتہ آیات میں سلف صالحین اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ جو سب دین حق پر تھے۔ اور خدا کے برگزیدہ بندے تھے۔ اب ان آیات میں پچھلوں اور ان ناخلف لوگوں کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اتباع سے انحراف کیا اور دنیاوی شہوات اور لذات کے پیچھے ہو لیے۔ اور ہولناکیوں میں مبتلا ہوگئے اور نماز جیسی اہم العبادات کو ضائع کردیا۔ سو ایسے لوگ حال اور مآل کے اعتبار سے تباہ و برباد ہوئے۔ البتہ جو لوگ اپنی جہالت اور ضلالت سے تائب ہوئے اور انبیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 60–63

43:۔ یہاں سے لے کر ” مَنْ کَانَ تَقِیًّا “ تک بشارت اخروی ہے۔ یہ مستثنی منقطع ہے اور الا بمعنی لکن ہے۔ ” مَنْ تَابَ الخ “ موصول مع صلہ مبتدا ہے اور ” فَاُوْلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے۔ ” تِلْکَ الْجَنَّةُ الخ “ سے پہلے ” یقال لھم “ محذوف ہے۔ یعنی قیامت کے دن اہل جنت سے یہ بات کہی جائے گی۔ ” تَقِیًّا “ یعنی جو شرک سے بچتا رہا۔ اور اللہ کی توحید پر قائم رہا۔ اخرج ابن ابی حاتم عن داود ابن ابی ھندانہ الموحد فتذکرو لا تغفل (روح ج 16 ص 113) ۔ من کان تقیا عن الشرک (مدارک ج 3 ص 32)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–62

ربط آیات : گذشتہ دروس میں بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے فرزند اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا ضمنا ذکر آیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے صادق الوعد ہونے کا ذکر کیا آپ کو نبی اور رسول بھی کہا گیا ہے رسول وہ ہوتا ہے جس پر مستقل کتاب یا شریت نازل ہو ، مگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق مفسرین کرام عام طور پر کسی کتاب کا ذکر نہیں کرتے ، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو رسول کس بناء…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بِالْغَيْبِ۝ 0ۭ اِنَّہٗ كَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِيًّا۝ 61 عدن قال تعالی: جَنَّاتِ عَدْنٍ [ النحل/ 31] ، أي : استقرار وثبات، وعَدَنَ بمکان کذا : استقرّ ، ومنه المَعْدِنُ : لمستقرّ الجواهر، وقال عليه الصلاة والسلام : «المَعْدِنُ جُبَارٌ» «2» . ( ع د ن ) عدن ( ن ض ) کے معنی کسی جگہ قرار پکڑنے اور ٹہر نے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ عدن بمکان کذا یعنی اس نے فلاں جگہ قیام کیا قرآن میں ہے : ۔ جَنَّاتِ عَدْنٍ [ النحل/ 31] یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات ۔ اسی سے المعدن ( کان ) ہے کیونکہ کا ن بھی جواہرات کے ٹھہر نے اور پائے جانے کی جگہ ہوتی ہے حدیث میں ہے ۔ المعدن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–63

تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔ واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 60–61

اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ شَیْئًا۔ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدَالرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بِالْغَیْبِ ط اِنَّـہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا۔ (مگر جس نے توبہ کی اور ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کی، یہی لوگ ہیں جو جائیں گے جنت میں، اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ ہمیشگی کے باغ جن کا خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے عالم غیب میں وعدہ کر رکھا ہے، بیشک اس کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ ) (مریم : 60، 61) جنت میں جانے کا ذریعہ ایمان و عمل ہے کفر، شرک اور اتباع شہوات کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ قیامت کے دن ایسے لوگ جہنم کی اس وادی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–63

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کو جس جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے چند اوصاف کا تذکرہ۔ جنت کی جمع جنات ہے۔ جس کا معنٰی باغات ہیں۔ جنت وہ مقام ہے جس کے حسن و جمال اور نعمتوں کا کوئی شخص تصور نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اس میں اپنے بندوں کو داخل فرمائے گا۔ جس کا وعدہ ہر صورت مومنوں کے ساتھ پورا ہو کر رہے گا۔ اس جنت میں کسی قسم کا لغو، پریشانی اور تکلیف نہیں ہوگی۔ اس میں ہر جنتی ہر اعتبار سے سلامت اور خوش ہوگا۔ جنتی ایک دوسرے کو سلام کہیں گے اور اس کی نعمتیں بھی سلامت رہیں گی۔ ان کے لیے صبح و شام اللہ تعالیٰ کی نعمتیں وافر ہوں گی۔ جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ جنتیوں کے لیے اعلان ہوگا جہاں چاہو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

61: جَنّٰتِ عَدْنِ اڑلَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ (ہمیشہ رہنے کے وہ باغات جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے) نحو : جنّٰت یہ الجنت سے بدل ہے کیونکہ جنت جنّٰتِ عدن پر مشتمل ہے اور جنت جنس ہے۔ (2) یا یہ مدح کی بنا پر منصوب ہے اور عدن یہ معرفہ ہے کیونکہ معرفہ ہونے کی وجہ سے العدن کے معنی میں ہے جس کا معنی اقامت ہے۔ (3) یا یہ جنت کی زمین کا نام ہے کیونکہ وہ اقامت کی جگہ ہے عبادہ سے مراد رجوع کرنے والے مؤمنین ہیں جو کہ اعمال صالحہ کرتے رہیں جیسا کہ ان کا تذکرہ بھی گزرا اور اس لئے بھی کہ ان کی اضافت اپنی طرف فرمائی جو کہ اختصاص کی دلیل ہے پس یہ خاص لوگ ہوئے۔ بِالْغَیْبِ (غائبانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

61۔ جنات عدن التی وعدالرحمن عبادہ بالغیب، جو انہوں نے نہیں دیکھی، انہ کان وعدہ ماتیا، مفعول بمعنی فاعل کے ہے۔ یہاں اتیاذکر نہیں کیا کیوں کہ جو آتا ہے وہ پہنچ ہی جاتا ہے۔ عرب کے ہاں بھی کہنے والے کا قول کے اعتبار میں کوئی فرق نہیں جیسے کوئی کہے ، اتت علی خمسون سنۃ، اور اس قول کے درمیان کہ وہ کہے ، اتیت علی خمسین کہ مجھ پر پچاس سال گزر گئے یا میں پچاس سال پر گزر گیا، اور اس طرح کوئی کہے ، وصل الی الخیر ووصلت الی الخبر، ابن جریر کا قول ہے کہ ودعدہ کا معنی ہے موعود پورا کیا ہوا، اور وہ جنگ ہے جس میں اولیاء اور فرمانبردار آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–63

61۔ 63:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ان آیتوں میں جنت کو بن دیکھیں نہ جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں بعض بن دیکھی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگرچہ آدمی ان کو آنکھوں سے نہیں دیکھتا لیکن ان کا حال کانوں سے سنا ہوا ہوتا ہے یا کبھی دل میں ان کا خیال آجاتا ہے جنت ایسی انوکھی چیز ہے جو دیکھی نہ سنی نہ کبھی اس کا خیال کسی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–64

آیت 59 جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انہوں نے امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انہوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا، انہوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کردیا۔ جب انہوں نے نماز کو ضائع کردیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لئے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے، تو نماز کے علاوہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–64

نماز کو ضائع کرنا کیسے ہے ؟ قول باری ہے (اضاعوا الصلوۃ جنہوں نے نماز کو ضائع کیا) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ نمازوں کو ان کے اصل اوقات سے موئخر کر کے انہوں نے نمازوں کو ضائع کیا۔ اس تاویل کی حضور ﷺ کے اس ارشاد سے بھی تائید ہوتی ہے کہ (لیس التفریط فی التوم انما التفریط ان یدعھا حتی یدخل وقت الاخریٰ نماز میں کوتاہی سوتے رہنے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ اس کی ادائیگی کو مئوخر رکھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ انہوں نے نمازوں کی ادائیگی نہ کر کے انہیں ضائع کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–61

68 نیکو کاروں کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتوں کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جنہوں نے توبہ اور رجوع الی اللہ کی راہ کو اپنایا ان کے لیے خدائے رحمان نے بن دیکھی جنتوں سے سرفرازی کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ یعنی ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ارشادات کے مطابق ان کو مانتے اور ان پر ایمان رکھتے ہیں کہ اصل مطلوب و معتبر یہی ایمان بالغیب ہی ہے۔ (المراغی، المحاسن، المعارف وغیرہ) ۔ اور غیب کی وہ جنتیں ایسی عظیم الشان اور بےمثال ہونگی کہ اس دنیا میں ان کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ نہ کمیت میں اور نہ کیفیت میں اور نہ کسی بھی صفت اور شان کے اعتبار سے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–63

نیک لوگوں کے لیے انعامات تشریح : ان آیات میں ایسے لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوئے اور پوری شرائط کے ساتھ توبہ کرلی اور پھر کبھی غلط راستوں کا رخ نہ کیا تو ان لوگوں سے ایسی بہشت کا وعدہ کیا گیا ہے جو بہترین زندگی کا نمونہ ہوگی یہ تو راز کی بات ہے کیونکہ کسی نے اپنی آنکھوں سے اسے نہیں دیکھا یہ تو اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اور اس جنت کو حاصل کرنا آسان کام نہیں اس کے لیے پوری زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنی ضروری ہے۔ جس سے جنت حاصل ہوگی۔ جنت کا تصور ہی انسان کو باغ و بہار کردیتا ہے۔ اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ یہ دنیاوی عیش و آرام کی طرح نہ ختم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–65

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔ (حفاظت الہیہ) یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 60–61

ف 2 یعنی ان کا کوئی اجر مارانہ جائے گا جیسا کہ حدیث میں ہے التائب من الذنب کمن لاذنب لہ کہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ (کذافی ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:61) جنت عدن۔ سدا بہار باغات۔ یا ہمیشہ رہنے کے باغات۔ عدن (باب نصر۔ ضرب) کے معنی کسی جگہ ٹھہرنے اور قرار پانے کے ہیں۔ المعدن (کان ) جواہرات یا دیگر معدنیات کے ٹھہرنے اور پائے جانے کی جگہ۔ جنت عدن۔ میں الجنۃ کا بدل ہے۔ ماتیا۔ اسم مفعول بمعنی اسم فاعل ہے منصوب بوجہ کان کی خبر ہے۔ ماتی اصل میں ماتوی تھا وائو اور یا اکٹھے ہوئے وائو کو یاء سے بدلا۔ یاء کو یاء میں مدغم کیا تاء کو یاء کی مناسبت سے کسرہ دیا۔ ماتی ہوگیا۔ بمعنی آنے والا۔ ہوکر رہنے والا۔ ضرور آکر رہنے والا۔ اتیان مصدر۔ اتی مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 59–65

لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 65 خلف قائم مقام ہوا۔ خلف نالائق، ناخلف۔ اضاعوا انہوں نے برباد کیا، ضائع کردیا۔ اتبعوا پیچھے لگ گئے، انہوں نے پیروی کی۔ یلقون وہ ڈالیں گے۔ غی گمراہی۔ عدن ہمیشہ رہنے کی جگہ، ایک بہت کا نام۔ ماتی آنے والا، آنے کی جگہ۔ لغو بےہودہ۔ فضول۔ مانتنزل ہم نہیں اترتے۔ نسی بھول جانا۔ اصطبر ثابت قدم رہو۔ سمی ہم نام، ہم پلہ تشریح : آیت نمبر 59 تا 65 اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کی امتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے بعد آنے والوں نے نیک لوگوں کا راستہ چھوڑ کر ان کے قائم مقام ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی خواہشات نفس اور دنیا کے وقتی فائدوں کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 61–63

جنت اور اہل جنت کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں سے بن دیکھی جنت کے دینے کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، ایک دن اس وعدہ کا ظہور بلا شک ہونے والا ہے۔ پھر فرمایا :" یہ جنت وہ ہے جہاں سوائے السلام علیک کی آواز کے اور کوئی ایسی آواز جنتیوں کے کام میں نہ آوے گی، جو ان کے کانون کو بری لگے "۔ پھر فرمایا :" وہاں صبح وشام ان کو طرح طرح کی نعمتیں کھانے کو ملیں گی۔ جنت میں اگرچہ صبح وشام نہیں ہے، صبح صادق نہیں ہے، صبح صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک کا جیسا ٹھنڈا وقت ہوتا ہے، وہاں ہمیشہ ایسا وقت رہے گا۔ پھر فرمایا یہ جنت ان لوگوں کی میراث ہے جو دنیا میں نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–68

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے ، جو گناہوں سے توبہ کرلیتے ہیں ، اور ایمان وعمل کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو خواہشات وشہوات کی پیروی نہیں کرتے ، اور اپنے دلوں میں تقوی و پرہیز گاری کے جذبات پیدا کرلیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے وا ہیں یہ لوگ اطمینان وسل امتی کے ساتھ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔ حل لغات : اسرآئیل : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے ، عربی زبان میں اسرائیل کے معنے برگزیدہ خدا یا بندہ خدا کے ہیں ۔ غیا : گمراہی کی سزا ، گمراہی ، ہر بری بات ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-6 1 وہ جس میں داخل ہوں گے وہ دائمی اور ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے بن دیکھے اور غائبانہ وعدہ فرمایا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کوے وعدہ پر ہے پہنچنا۔ غیب پر ایمان لانے کا صلہ یہ ملا کر اللہ تعالیٰ نے ان دیکھی جنت کا وعدہ فرما لیا اور اللہ تعالیٰ نے جس جس چیز کا وعدہ فرمایا ہے بندے اس کو ضرور پہنچیں گے اور ضرور حاصل کر کے رہیں گے۔ ماتیا کا ترجمہ ہم نے دونوں طرح کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 61–64

ف 7۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تکوینا یا تشریعا مسخرا امر ہیں، اپنی رائے سے ایک مکان سے دوسرے مکان میں یا جس زمان میں ہم چاہیں کہیں آجا نہیں سکتے، لیکن جب ہمارا بھیجنا مصلحت ہوتا ہے تو حق تعالیٰ بھیج دیتے ہیں، یہ احتمال نہیں کہ شاید کسی مصلحت کے وقت میں بھول جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگرچہ یہ وعدہ ایک ان دیکھی چیز کا ہے لیکن اس کا پورا ہونا لازم ہے : 61۔ جنت بلاشبہ ایک ان دیکھی چیز ہے لیکن یہ انعام جن لوگوں نے حاصل کرلیا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جیت گئے اور پھر یہ ایک ایسی جیت ہے جن کے بعد ہار جانے کا خطرہ جاتا رہا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ اس کا وعدہ فرمایا ہے جو صحیح معنوں میں اس کے بندے ہیں اور انہوں نے وہ محنت کی ہے جس کے صلہ میں جنت کے مستحق قرار پائے ہیں اور استحقاق ایک ایسی چیز ہے جس کا دیا جانا لازم اور ضروری ہے کوئی وعدہ فردا سمجھ کر اس معاملہ میں شک نہ کرے بلا شبہ پروردگار عالم کا وعدہ ایسا ہے جیسے گویا ایک بات وقوع میں آگئی ، رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–61

Commentary فَخَلَفَ (Khalf) means bad successors, while فَخَلَفَ (Khalaf) means good successors. (Mazhari) Mujahid (رح) has reported that when the Day of Judgment would be near and the pious people would all be dead and gone, people will lose interest in prayers and indulge in all sort of vices and evil deeds. Offering prayers outside fixed time or not with congregation (جَمَاعَت) is a default and of no avail, and is a great sin. Most exegetes / commentators are of the view that offering prayers after its time has lapsed is a default of prayers (اضَاعُوا الصَّلٰوۃَ ). Among them are Sayyidna…

Read the full tafseer →