Explained with ayahs 59–60
حدود الہٰی کے محافظ۔
نیک لوگوں کا خصوصا انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر کیا جو حدود الہٰی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے بدیوں سے بچتے ہیں۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بےپرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے ؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل وبہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ کئے انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑنا بیٹھنا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سورة مَرْیَم 35
یعنی نماز پڑھنی چھوڑ دی، یا نماز سے غفلت اور بےپروائی برتنے لگے۔ یہ ہر امت کے زوال و انحطاط کا پہلا قدم ہے۔ نماز وہ اولین رابطہ ہے جو مومن کا زندہ اور عملی تعلق خدا کے ساتھ شب و روز جوڑے رکھتا ہے اور اسے خدا پرستی کے مرکز و محور سے بچھڑنے نہیں دیتا۔ یہ بندھن ٹوٹتے ہی آدمی خدا سے دور اور دور تر ہوتا چلا جاتا ہے حتی کہ عملی تعلق سے گزر کر اس کا خیالی تعلق بھی خدا کے ساتھ باقی نہیں رہتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بات ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر بیان فرمائی ہے کہ پچھلے تمام انبیا کی امتوں کا بگاڑ نماز ضائع کرنے سے شروع ہوا ہے۔
سورة مَرْیَم 36
یہ تعلق باللہ کی کمی اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
خلاصہ تفسیر
پھر ان (مذکورین) کے بعد (بعض) ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا (خواہ اعتقاد کہ انکار کیا یا عملاً کہ اس کے ادا کرنے میں یا حقوق و آداب ضروریہ میں کوتاہی کی) اور (نفسانی جائز) خواہشوں کی پیروی کی (جو ضروری طاقت سے غافل کرنے والی تھیں) سو یہ لوگ عنقریب (آخرت میں) خرابی دیکھیں گے (خواہ ابدی ہو یا غیر ابدی) ہاں مگر جس نے (کفر و معصیت سے) توبہ کرلی (اور مطلب کفر سے توبہ کرنے کا یہ ہے کہ) ایمان لے آیا اور (معصیت سے توبہ کرنا یہ ہے کہ) نیک کام کرنے لگا سو یہ لوگ (بلاخرابی دیکھے) جنت میں جاویں گے اور (جزا ملنے کے وقت) ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا (یعنی ہر نیک عمل کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
تفسیر آیات 60 تا 63: إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (60) جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا (61) لا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلا سَلامًا وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (62) تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا (63)
آخرت میں کام آنے والی چیز : یعنی نسب و حسب تو کوئی کام آنے والی چیز ثابت نہیں ہوگا البتہ جو لوگ اپنی غلطیوں سے رجوع کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ اطمینان رکھیں کہ…
Read the full tafseer →60۔ 1 یعنی جو توبہ کر کے ترک صلٰوۃ اور جنسی خواہش کی پیروی سے باز آجائیں اور ایمان وعمل صالح کے تقاضوں کا اہتمام کرلیں تو ایسے لوگ مذکورہ انجام بد سے محفوظ اور جنت کے مستحق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
30: یعنی ان کی گمراہی کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ان کے سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
وہ توبہ جو ایمان اور عمل صالح پیدا کردیتی ہے ‘ وہی صحیح معنوں میں توبہ ہوتی ہے اور وہی برے انجام سے انسان کو بچاتی ہے۔ ایسے حقیقی تائب برے انجام تک پہچنے سے بچ جاتے ہیں۔ وہ تو جنت میں جاتے ہیں اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوتا۔ جنت میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوتے ہیں۔ وہ جنت مجس کا وعدہ اللہ نے اپنے بندوں سے کرر کھا ہے۔ وہ اس پر ایمان لائے اور دیکھنے سے قبل ہی اس پر یقین کیا۔ ہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
اہل جنت اور جنت کی تصویر کیا ہوگی ؟
Read the full tafseer →2 یعنی توبہ کا دروازہ ایسے مجرموں کے لیے بھی بند نہیں جو گناہ گار سچے دل سے توبہ کرکے ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرلے اور اپنا چال چلن درست رکھے بہشت کے دروازے اس کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ توبہ کے بعد جو نیک اعمال کرے گا سابق جرائم کی بنا پر اس کے اجر میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی نہ کسی قسم کا حق ضائع ہوگا۔ حدیث میں ہے۔ " اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنبِ کَمَن لَّا ذَنبَ لَہ،" (گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا) اللّٰهُمَّ تُبْ عَلَيْنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ
Read the full tafseer →آیت 60 اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْءًا ”
ان کے اعمال کا انہیں پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
56 نماز کا تارک ایماندار نہیں رہتا جب تک توبہ نہ کرے :۔ ان الفاظ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کو ضائع کرنے اور اپنی خواہش کے پیچھے لگنے والا ایماندار نہیں رہتا۔ ایسے گنہگاروں میں سے بھی جو شخص اللہ کے حضور رجوع کرے، توبہ کرے، آئندہ پھر وہ کام نہ کرے بلکہ اس کے بجائے اعمال صالحہ بجا لائے، تو ایسے لوگوں کے سابقہ گناہ تو بالکل معاف کردیئے جائیں گے۔ مگر ان کے سابقہ نیک اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور حدیث میں آیا ہے کہ جس نے توبہ کرلی وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے وہ گناہ کیا ہی نہ تھا (ابن ماجہ، ابو اب الزہد، باب ذکر التوبۃ)
Read the full tafseer →90۔ (بےغل وغش۔ بغیر اس خرابی سے دوچار ہوئے) (آیت) ” من تاب “۔ یعنی کفر ومعصیت سے توبہ کرے۔
91۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ ان کا کوئی عمل لکھنے سے رہ جائے، یا ان کے توبہ واصلاح کے بعد ان کے کفر سابق کے جرم ان پر برابر عائد ہوتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
آیت نمبر 60 تا 65
ترجمہ : عنقریب خرابی دیکھیں گے ہاں مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا یعنی ان کے اجرو ثواب میں (ذرہ برابر) کمی نہ کی جائے گی جَنَّتُ عدْنٍ ہمیشہ قیام کی جنت جنّٰتُ عَدْنٍ ، الجنۃ سے بدل ہے وہ جنت کہ جس کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے بالغیب حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ ان بندوں نے اس جنت کو دیکھا نہیں ہے اور اس کے موعود (وعدہ کی ہوئی چیز) کو یہ لوگ ضرور جنت میں پہنچیں گے ماتِیًّا بمعنی آتیاً ہے اس کی اصل مَاتویٌ تھی یا اس کا موعود یہا، جنت ہے یعنی جنت کے مستحق اس میں داخل ہوں گے اور وہ لوگ…
Read the full tafseer →الا من تاب وامن وعمل صالحاً فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون شیئا۔
ہاں اگر جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کرنے لگا سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی یعنی اتباع خواہشات اور ترک صلوٰۃ سے جس نے توبہ کرلی اور کفر چھوڑ کر ایمان لے آیا اور حسب تقاضائے ایمان نیک عمل کئے وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس کی بالکل حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ آیت میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ توبہ اور ایمان کے بعد سابق کفر کا کوئی مواخذہ اس سے نہیں ہوگا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام پچھلے (یعنی ایمان لانے سے پہلے جرائم) کو ڈھا دیتا ہے۔ رواہ مسلم من حدیث عمرو بن العاص۔
اِلاَّ مَنْ…
Read the full tafseer →(60) البتہ ان یہودیوں میں سے جس نے توبہ کرلی اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لے آیا اور نیک کام کرنے لگا تو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے کہ انکی نیکیوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ۔۔ : نماز ضائع کرنے اور خواہشات کی پیروی جیسی بیماریوں کے لیے نسخۂ شفا توبہ، ایمان اور عمل صالح ہے۔ توبہ، ایمان اور عمل صالح، یعنی نماز کی پابندی اور اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے والا شخص جنت میں داخل ہوگا اور اس کا کوئی اجر مارا نہ جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلتَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ) [ ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الذنوب : 4250، عن أبي عبداللہ بن مسعود ؓ و حسنہ الألباني ] ”گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا من تاب، یعنی نماز کے ضائع کرنے اور شہوات کی پیروی کرنے سے جس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ آیا۔ وامن، اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنۃ ابو جعفر، شیبہ، ابن کثیر، ابن محصین، ابو عمرو، یعقوب اور ابوبکر نے یدخلون خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ولا یظلمون شیئا۔ ان کے اعمال صالحہ میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی مگر ان کے لیے ہر نیکی کے بدلے دس سے لیکر سات سو تک نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جنت عدن یہ الجنۃ سے بدل ہے اس لیے منصوب ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : جنت عدن متبدا کی حیثیت سے مرفوع بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔
2:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے اس سے امت کے لوگ مراد ہیں جو راستوں میں جانوروں کی طرح سرعام بدکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے شرم کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن قریب یہ صورت حال ہوگی امت محمد ﷺ کے نیک لوگوں چلے جائیں گے (دنیا سے) اور پیچھے وہ لوگ رہ جائیں گے اور زانی لوگ گلیوں میں بدکاری کریں گے۔
نماز ترک کرنے والے برے جانشین ہیں۔
4:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[اِلَّا مَنْ : سوائے اس کے جس نے ] [تَابَ : توبہ کی ] [وَاٰمَنَ : اور ایمان لایا ] [وَعَمِلَ : اور عمل کیا ] [صَالِحًـا : نیک ] [فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [يَدْخُلُوْنَ : داخل ہوں گے ] [الْجَــنَّةَ : جنت میں ] [وَلَا يُظْلَمُوْنَ : اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] [شَـيْــــــًٔا : کچھ بھی ]
Read the full tafseer →صالحین کا تذکرہ اور ان سے جنت کا وعدہ
(اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْءًا) (مگر جس نے توبہ کرلی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کسی چیز کا ظلم نہیں کیا جائے گا) جو لوگ ناخلف تھے گناہ گاریوں میں لگ گئے حتیٰ کہ حدود کفر میں چلے گئے ان میں سے جس نے توبہ کرلی ایمان قبول کرلیا اور اعمال صالحہ میں لگا رہا اس کے لیے خوشخبری دی کہ یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ہر عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ان پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہ ہوگا۔ ان کا کوئی نیک عمل ضائع نہیں کیا جائے گا۔ کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
ذکر حال و مآل اہل سعادت و اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ فخلف من م بعدھم خلف اضاعوا الصلوٰۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ من کان تقیا
(ربط) گزشتہ آیات میں سلف صالحین اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ جو سب دین حق پر تھے۔ اور خدا کے برگزیدہ بندے تھے۔ اب ان آیات میں پچھلوں اور ان ناخلف لوگوں کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اتباع سے انحراف کیا اور دنیاوی شہوات اور لذات کے پیچھے ہو لیے۔ اور ہولناکیوں میں مبتلا ہوگئے اور نماز جیسی اہم العبادات کو ضائع کردیا۔ سو ایسے لوگ حال اور مآل کے اعتبار سے تباہ و برباد ہوئے۔ البتہ جو لوگ اپنی جہالت اور ضلالت سے تائب ہوئے اور انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
43:۔ یہاں سے لے کر ” مَنْ کَانَ تَقِیًّا “ تک بشارت اخروی ہے۔ یہ مستثنی منقطع ہے اور الا بمعنی لکن ہے۔ ” مَنْ تَابَ الخ “ موصول مع صلہ مبتدا ہے اور ” فَاُوْلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے۔ ” تِلْکَ الْجَنَّةُ الخ “ سے پہلے ” یقال لھم “ محذوف ہے۔ یعنی قیامت کے دن اہل جنت سے یہ بات کہی جائے گی۔ ” تَقِیًّا “ یعنی جو شرک سے بچتا رہا۔ اور اللہ کی توحید پر قائم رہا۔ اخرج ابن ابی حاتم عن داود ابن ابی ھندانہ الموحد فتذکرو لا تغفل (روح ج 16 ص 113) ۔ من کان تقیا عن الشرک (مدارک ج 3 ص 32)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے فرزند اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا ضمنا ذکر آیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے صادق الوعد ہونے کا ذکر کیا آپ کو نبی اور رسول بھی کہا گیا ہے رسول وہ ہوتا ہے جس پر مستقل کتاب یا شریت نازل ہو ، مگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق مفسرین کرام عام طور پر کسی کتاب کا ذکر نہیں کرتے ، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو رسول کس بناء…
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَــنَّۃَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔا 60ۙ
توب
التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار،
فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول :
فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع :
ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–63
تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔
واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ شَیْئًا۔ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدَالرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بِالْغَیْبِ ط اِنَّـہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا۔
(مگر جس نے توبہ کی اور ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کی، یہی لوگ ہیں جو جائیں گے جنت میں، اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ ہمیشگی کے باغ جن کا خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے عالم غیب میں وعدہ کر رکھا ہے، بیشک اس کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ ) (مریم : 60، 61)
جنت میں جانے کا ذریعہ ایمان و عمل ہے
کفر، شرک اور اتباع شہوات کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ قیامت کے دن ایسے لوگ جہنم کی اس وادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام کی اولاد میں ان کے خلف الرشید بھی ہوئے اور ناخلف بھی ہوئے۔ ناخلف اولاد کا انجام۔
اللہ تعالیٰ اپنے اصول کے مطابق دین کی نعمت اور حقیقی احترام اسی شخص دیتا ہے جو دین کی قدر اور اس پر عمل کرتا ہے۔ بیشک وہ کسی غیر معروف باپ کا بیٹا اور غریب کیوں نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں کوئی نبی کا صاحبزادہ ہو کر اللہ اور اس کے نبی کی اطاعت کا انکاری ہے تو وہ دنیا و آخرت کی رسوائی سے نہیں بچ سکتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وہ پانی میں ڈبکیاں لینے لگا تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پدرانہ شفقت کی بناء پر اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ یہ میرا بیٹا ہے اور آپ…
Read the full tafseer →تائبین کیلئے خصوصی انعام :
60: اِلَّا مَنْ تَابَ (مگر وہ شخص جس نے توبہ کرلی) یعنی کفر سے لوٹ آیا۔ وَاٰمَنَ (اور ایمان لے آیا) اس کی شرائط کے ساتھ وَعَمِلَ صَالِحًا (اور اس نے نیک عمل کئے) اپنے ایمان لانے کے بعد فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ (پس ایسے لوگ جنت میں جائیں گے)
قراءت : مکی ‘ بصری اور ابوبکر نے یدخلون کو یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی یُدخَلُوْنَ پڑھا ہے۔
وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیئًا (اور ان کی ذرا بھر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی) یعنی ان کے اعمال کی جزاء میں ذرا بھر بھی چیز کم نہ کی جائے گی اور نہ اس سے روکے جائیں گے بلکہ ان کیلئے بدلے کو بڑھا دیا جائے گا۔ (2)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
تفسیر۔
59۔ فخلف من بعدھم خلف، پھر ان مذکورہ انبیاء کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوں گے برے لوگ آئیں گے ، خلف، لام کے فتحہ کے ساتھ اچھا جانشین اور لام کے جزم کے ساتھ براجانشین مراد ہے۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں ۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس امت کے لوگ ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس امت کے لوگ ہیں۔ اضاعو الصلوۃ، ، جنہوں نے فرض نماز چھوڑ دی تھی ابن مسعود نے اس کا ترجمہ کیا ہے نماز وقت کو ٹال کرپڑھی، سعید بن مسیب نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ ظہر کی نماز عصر کی نماز آنے سے پہلے نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جائے جب سورج غروب ہونے لگے۔ واتبعوا الشھوات، ، اس کا مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60:۔ اوپر انبیاء اور نیک لوگوں کا ذکر تھا اس آیت میں فرمایا کہ ان نیک لوگوں کی جگہ ایسے ناخلف آئے کہ نماز جیسی چیز کو جس کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے انہوں نے یا تو بالکل چھوڑ دیا یا بعضوں نے ان کو ادا بھی کیا تو شریعت کے حکم کے موافق ادا نہیں کیا اور دنیا کے عیش و آرام کے پیچھے ایسے سرگرداں ہوئے کہ نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی کچھ پروا نہ کی پھر فرمایا ایسے لوگ عقبیٰ میں بڑا نقصان اٹھائیں گے کیونکہ علم الٰہی میں ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ قرار پاچکا ہے۔ ہاں ان میں سے جو لوگ عقبیٰ کی باتوں کا پورا یقین کرکے اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ اور آگے کو نیک عمل کریں تو وہ لوگ بہشت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انہوں نے امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انہوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا، انہوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کردیا۔ جب انہوں نے نماز کو ضائع کردیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لئے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے، تو نماز کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
نماز کو ضائع کرنا کیسے ہے ؟
قول باری ہے (اضاعوا الصلوۃ جنہوں نے نماز کو ضائع کیا) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ نمازوں کو ان کے اصل اوقات سے موئخر کر کے انہوں نے نمازوں کو ضائع کیا۔ اس تاویل کی حضور ﷺ کے اس ارشاد سے بھی تائید ہوتی ہے کہ (لیس التفریط فی التوم انما التفریط ان یدعھا حتی یدخل وقت الاخریٰ نماز میں کوتاہی سوتے رہنے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ اس کی ادائیگی کو مئوخر رکھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ انہوں نے نمازوں کی ادائیگی نہ کر کے انہیں ضائع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
68 نیکو کاروں کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتوں کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جنہوں نے توبہ اور رجوع الی اللہ کی راہ کو اپنایا ان کے لیے خدائے رحمان نے بن دیکھی جنتوں سے سرفرازی کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ یعنی ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ارشادات کے مطابق ان کو مانتے اور ان پر ایمان رکھتے ہیں کہ اصل مطلوب و معتبر یہی ایمان بالغیب ہی ہے۔ (المراغی، المحاسن، المعارف وغیرہ) ۔ اور غیب کی وہ جنتیں ایسی عظیم الشان اور بےمثال ہونگی کہ اس دنیا میں ان کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ نہ کمیت میں اور نہ کیفیت میں اور نہ کسی بھی صفت اور شان کے اعتبار سے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
نیک لوگوں کے لیے انعامات
تشریح : ان آیات میں ایسے لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوئے اور پوری شرائط کے ساتھ توبہ کرلی اور پھر کبھی غلط راستوں کا رخ نہ کیا تو ان لوگوں سے ایسی بہشت کا وعدہ کیا گیا ہے جو بہترین زندگی کا نمونہ ہوگی یہ تو راز کی بات ہے کیونکہ کسی نے اپنی آنکھوں سے اسے نہیں دیکھا یہ تو اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اور اس جنت کو حاصل کرنا آسان کام نہیں اس کے لیے پوری زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنی ضروری ہے۔ جس سے جنت حاصل ہوگی۔
جنت کا تصور ہی انسان کو باغ و بہار کردیتا ہے۔ اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ یہ دنیاوی عیش و آرام کی طرح نہ ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
ف 2 یعنی ان کا کوئی اجر مارانہ جائے گا جیسا کہ حدیث میں ہے التائب من الذنب کمن لاذنب لہ کہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ (کذافی ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
(19:59) خلف ماضی واحد مذکر غائب خلافۃ سے باب نصر۔ جس کے معنی جانشین ہونے کے ہیں یا پیچھے آنے کے۔ خلف وہ جانشین ہوا۔ وہ پیچھے آیا۔ خلف۔ ناخلف۔ برے جانشین۔ اضاعوا ماضی جمع مذکر غائب (باب افعال) انہوں نے ضائع کردیا۔ انہوں نے کھو دیا۔
الشھوات۔ شھو سے مشتق ہے الشھوۃ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کی طرف کھینچے چلے جانا جسے وہ چاہتا ہے۔ خواہشات دنیوی دو قسم پر ہیں صادقہ اور کاذبہ۔ سچی خواہش وہ ہے جس کے حصول کے بغیر بدن کا نظام مختل ہوجاتا ہے جیسے بھوک کے وقت کھانے کی اشتہائ۔ اور جھوٹی خواہش وہ ہے جس کے عدم حصول سے بدن میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ پھر شہوۃ کا لفظ کبھی اس چیز پر بولا جاتا ہے جس کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 65
خلف قائم مقام ہوا۔ خلف نالائق، ناخلف۔ اضاعوا انہوں نے برباد کیا، ضائع کردیا۔ اتبعوا پیچھے لگ گئے، انہوں نے پیروی کی۔ یلقون وہ ڈالیں گے۔ غی گمراہی۔ عدن ہمیشہ رہنے کی جگہ، ایک بہت کا نام۔ ماتی آنے والا، آنے کی جگہ۔ لغو بےہودہ۔ فضول۔ مانتنزل ہم نہیں اترتے۔ نسی بھول جانا۔ اصطبر ثابت قدم رہو۔ سمی ہم نام، ہم پلہ
تشریح : آیت نمبر 59 تا 65
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کی امتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے بعد آنے والوں نے نیک لوگوں کا راستہ چھوڑ کر ان کے قائم مقام ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی خواہشات نفس اور دنیا کے وقتی فائدوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
اس آیت میں فرمایا کہ ان نیک لوگوں کی جگہ ایسے ناخلف آئے کہ نماز جیسی چیز کو جس کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے، انہوں نے یا تو بلکل چھوڑ دیا، یا بعضوں نے اس کو ادا بھی کیا تو شریعت کے حکم کے موافق ادا نہیں کیا۔ اور دنیا کے عیش و آرام کے پیچھے ایسے سرگرداں ہوئے کہ نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی کچھ پرواہ نہ کی۔ پھر فرمایا ایسے لوگ عقبیٰ میں بڑا نقصان اٹھاویں گے۔ ہاں ان میں سے جو لوگ عقبیٰ کی باتوں کا پورا یقین کر کے اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ کریں ، اور آگے کو نیک عمل کریں تو وہ بہشت میں جاویں گے، اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں کچھ کمی نہ کی جائے گی ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
[21] یعنی نماز پڑھنی چھوڑ دی یا نماز سے غفلت برتنے لگے۔ یہ ہر امت کے زوال کا پہلا قدم ہے۔ نماز وہ اولین رابطہ ہے جو مومن کا تعلق اللہ کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے اور اسے توحید پرستی کے مرکز سے بچھڑنے نہیں دیتا۔ یہ بندھن ٹوٹتے ہی آدمی اللہ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
نااہل جانشین !:
(ف 2) خلف : سے مراد برے جانشین ہیں جو سلف کی روایات کے حامل نہ ہوں لبید کہتا ہے ۔
ذھب الذین یعاش فی اکنافہم وبقیت فی خلف کجلد الاجوب :
یعنی ان پاکباز لوگوں کے کچھ ایسے نااہل پیدا ہوئے جو ہوائے نفس کی پیروی اور خواہشات کی تکمیل میں دینی ومذہبی فرائض کو بھول گئے اور تم کو یا انہیں لوگوں کے نقش قدم پر ہو ۔ (آیت) ” اضاعوا الصلوۃ “۔ کے بعد ” واتبعوا الشھوت “۔ کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو قوم اپنے مذہبی فرائض سے غفلت پر تتی ہے ، اور جس کے دل سے عبادت ونیاز مندی کے جذبات خارج ہوجاتے ہیں ، وہ شہوات کی جانب جھک پڑتی ہے ، اور اس کے دل و دماغ پر مادی وجنسی خیالات مسؤل ہوجاتے…
Read the full tafseer →-60 مگر ہاں جس نے معصیت سے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کرنے لگا تو ایسے لوگ جنت میں ہوں گے اور ان کو ذرا سا نقصان بھی نہ پہونچے گا۔
مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ناخلف لوگ جنہوں نے نماز ک ضائع کیا اور ناجائز شہوات کی پیروی کی تائب ہوجائیں اور ایمان لے آئیں اور نیک اعمال کی پابندی کرنے لگیں تو یہ اپنی گمراہی کا پھل پانے والوں سے مستثنیٰ ہوں گے اور یہ لوگ جنتی ہوں گے اور جزا دیتے وقت ان کا نقصان اور کوئی حق تلفی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی ہر نیک عمل کی جزاء ملے گی۔
Read the full tafseer →صلوۃ کی ادائیگی کے بعد اس کی اضاعت سے جو باز آگیا اس نے مقصد حاصل کرلیا :
60۔ ہاں ! جس شخص نے سچے دل سے توبہ کی اور صلوۃ کی ادائیگی کے اس کی حفاظت کی اور اس کو ضائع ہونے سے بچایا وہ یقینا اس مقصد کو پاگئے اور دنیا کی زندگی کے بعد وہ اخروی زندگی میں بھی کامیاب وکامران ہوئے اور جنت کو انہوں نے حاصل کرلیا ان کو اطمینان رکھنا چاہئے کہ ان کی ہمارے ہاں بھی حق تلفی نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنی ہر ایک نیکی کا صلہ ضرور پائیں گے اور انکو ان کے اعمال کے صلہ میں ہمیشگی کے باغ ملیں گے ، یہ رب کریم کا ان سے وعدہ ہے اور اس احکم الحاکمین کا وعدہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا ، بلاشبہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
Commentary
فَخَلَفَ (Khalf) means bad successors, while فَخَلَفَ (Khalaf) means good successors. (Mazhari) Mujahid (رح) has reported that when the Day of Judgment would be near and the pious people would all be dead and gone, people will lose interest in prayers and indulge in all sort of vices and evil deeds.
Offering prayers outside fixed time or not with congregation (جَمَاعَت) is a default and of no avail, and is a great sin.
Most exegetes / commentators are of the view that offering prayers after its time has lapsed is a default of prayers (اضَاعُوا الصَّلٰوۃَ ). Among them are Sayyidna…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
35. It appears that the degenerate people totally discarded Salat, or they had become neglectful and careless in its observance. This is the first evil that is committed by a degenerate people. For, after this there remains no connection whatever between them and God. Here it has been stated as a universal principle that the degeneration of the people of all the former Prophets started with the abandonment of Salat by them.
36. This was the inevitable result of the loss of the connection with Allah. As they became more and more neglectful of their Salat, their lusts took complete hold of them…
Read the full tafseer →