Explained with ayahs 59–60
حدود الہٰی کے محافظ۔
نیک لوگوں کا خصوصا انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر کیا جو حدود الہٰی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے بدیوں سے بچتے ہیں۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بےپرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے ؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل وبہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ کئے انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑنا بیٹھنا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سورة مَرْیَم 35
یعنی نماز پڑھنی چھوڑ دی، یا نماز سے غفلت اور بےپروائی برتنے لگے۔ یہ ہر امت کے زوال و انحطاط کا پہلا قدم ہے۔ نماز وہ اولین رابطہ ہے جو مومن کا زندہ اور عملی تعلق خدا کے ساتھ شب و روز جوڑے رکھتا ہے اور اسے خدا پرستی کے مرکز و محور سے بچھڑنے نہیں دیتا۔ یہ بندھن ٹوٹتے ہی آدمی خدا سے دور اور دور تر ہوتا چلا جاتا ہے حتی کہ عملی تعلق سے گزر کر اس کا خیالی تعلق بھی خدا کے ساتھ باقی نہیں رہتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بات ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر بیان فرمائی ہے کہ پچھلے تمام انبیا کی امتوں کا بگاڑ نماز ضائع کرنے سے شروع ہوا ہے۔
سورة مَرْیَم 36
یہ تعلق باللہ کی کمی اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
خلاصہ تفسیر
پھر ان (مذکورین) کے بعد (بعض) ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا (خواہ اعتقاد کہ انکار کیا یا عملاً کہ اس کے ادا کرنے میں یا حقوق و آداب ضروریہ میں کوتاہی کی) اور (نفسانی جائز) خواہشوں کی پیروی کی (جو ضروری طاقت سے غافل کرنے والی تھیں) سو یہ لوگ عنقریب (آخرت میں) خرابی دیکھیں گے (خواہ ابدی ہو یا غیر ابدی) ہاں مگر جس نے (کفر و معصیت سے) توبہ کرلی (اور مطلب کفر سے توبہ کرنے کا یہ ہے کہ) ایمان لے آیا اور (معصیت سے توبہ کرنا یہ ہے کہ) نیک کام کرنے لگا سو یہ لوگ (بلاخرابی دیکھے) جنت میں جاویں گے اور (جزا ملنے کے وقت) ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا (یعنی ہر نیک عمل کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
تفسیر آیات 58 تا 59: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا (58) فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (59)
تمام انبیاء کا مشترک مشن : اب یہ ان تمام مذکورہ انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آدم کی ذریت، نوح کی ذریت، ابراہیم و اسرائیل کی ذریت کے گل سرسبد یہی انبیائے اولوالعزم ہیں۔ ان پر اللہ…
Read the full tafseer →59۔ 1 انعام یافتہ بندگان الٰہی کا تذکرہ کرنے کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، جو ان کے برعکس اللہ کے احکام سے غفلت و اعراض کرنے والے ہیں۔ نماز ضائع کرنے سے مراد یا تو بالکل نماز کا ترک ہے جو کفر ہے یا ان کے اوقات کو ضائع کرنا ہے یعنی وقت پر نماز نہ پڑھنا، جب جی چاہا، نماز پڑھ لی، یا بلا عذر اکٹھی کر کے پڑھنا کبھی دو ، کبھی چار، کبھی ایک اور کبھی پانچوں نمازیں۔ یہ بھی تمام صورتیں نماز ضائع کرنے کی ہیں جس کا مرتکب سخت گناہ گار اور آیت میں بیان کردہ وعید کا سزاوار ہوسکتا ہے۔ غیا کے معنی ہلاکت، انجام بد کے ہیں یا جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
30: یعنی ان کی گمراہی کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ان کے سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →اضاعوا الصلوۃ (91 : 95) ” جنہوں نے نمازوں کو ضائع کردیا “۔ نمازوں کو چھوڑ دیا اور ان کا انکار ہی کردیا۔
واتعوا الشھوت (91 : 95) ” انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی شروع کردی “۔ پیروی خواہشات میں غرق ہوگئے۔ ذرا غور کیجئے کہ اسلاف اور اخلاف کے درمیان کس قدر فرق ہوگیا ہے اور ان کے درمیان مشابہت کے عام خدو خال مٹ گئے۔
ایسے لوگوں کو قرآن کریم تہدید آمیز تنبیہ کرتا ہے کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘ انہوں نے اپنے صالح آباء کی پاک سیرتوں کو چھوڑ دیا ہے اس لیے فسوف یلقون غیا (91 : 95) ” پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں “۔ غی کا مفہوم ہے گمراہی یعنی وہ گمراہ ہوجائیں گے اور بےراہ روی کا شکار ہوجائیں…
Read the full tafseer →1 وہ تو اگلوں کا حال تھا یہ پچھلوں کا ہے کہ دنیا کے مزوں اور نفسانی خواہشات میں پڑھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہوگئے۔ نماز جو اہم العبادات ہے اسے ضائع کردیا۔ بعض تو فرضیت ہی کے منکر ہوگئے۔ بعض نے فرض جانا مگر پڑھی نہیں۔ بعض نے پڑھی تو جماعت اور وقت وغیرہ شروط و حقوق کی رعایت نہ کی ان میں سے ہر ایک درجہ بدرجہ اپنی گمراہی کو دیکھ لے گا کہ کیسے خسارہ اور نقصان کا سبب بنتی ہے اور کس طرح کی بدترین سزا میں پھنساتی ہے۔ حتی کہ ان میں سے بعض کو جہنم کی اس بدترین وادی میں دھکیلا جائے گا جس کا نام ہی " غیّ " ہے۔
Read the full tafseer →آیت 59 فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِہِمْ خَلْفٌ ”
”خَلْف“ کا لفظ جب ”ل“ ساکن کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ”نا خلف“ کے لیے جاتے ہیں۔ یعنی اپنے اسلاف کے کردار کے خلاف عمل کرنے والے اور ان کی نیک نامی اور بزرگی کوّ بٹہ لگانے والے لوگ۔
اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ”
یعنی عنقریب وہ گمراہی کے انجام سے دو چار ہوں گے۔
Read the full tafseer →55 نماز کی اہمیت اور تعلق باللہ :۔ ارکان اسلام میں سے سب سے اہم رکن نماز ہے۔ جس سے ایک مسلمان کا اللہ کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے۔ اگر نماز چھوڑ دی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ سے انسان کا تعلق منقطع ہوگیا۔ اسی لئے آپ نے فرمایا کہ جس نے نماز جان بوجھ کر چھوڑی وہ کافر ہوگیا اور اسی لئے نماز کو باقاعدگی کے ساتھ ادا کرنے کی کتاب و سنت میں بار بار تاکید آئی ہے۔ حتیٰ کہ نماز نہ مریض کو معاف ہوسکتی ہے نہ سفر میں اور نہ میدان جنگ کے مختلف حالات میں حالات کے مطابق شریعت نے رخصتیں تو دی ہیں مگر نماز کو کسی بھی حالت میں ترک نہیں کیا جاسکتا۔
نمازوں کے ضائع کرنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ انہوں نے نماز…
Read the full tafseer →89۔ (آخرت میں) (آیت) ’ خلف “۔ (بہ سکون لام) کے معنی ہیں بری اولاد، جسے ہمارے محاورہ میں ناخلف بھی کہتے ہیں یعبر عن الردی بخلف (راغب) یقال فی عقب الخیر خلف بالفتح وقیل فی عقب السوء خلف بالسکون (کشاف) (آیت) ” اضاعوالصلوۃ “۔ اضاعت عام ہے، خواہ اعتقادی بھی ہو، خواہ محض عملی۔ (آیت) ” الشھوت “۔ خواہشوں سے نفسانی ناجائز خواہشیں مراد ہیں ضروری طاعتوں سے غافل کرنے والی۔ (آیت) ” غیا “۔ غی ہر بڑی خرابی پر محیط اور حاوی ہے۔ کل شر عند العرب غی (کشاف) الغی عند العرب کل شر (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
آیت نمبر 51 تا 59
ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس…
Read the full tafseer →فخلف من بعدہم خلف اضاعوا الصلوۃ واتبعوا الشہوت پھر ان کے بعد کچھ ایسے
ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا اور (ناجائز) نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑگئے۔
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ یعنی ان کے بعد (ان کے جانشین ہوئے) ان کے پیچھے آئے۔ خَلْفَ (برے جانشین ‘ خلف اچھے جانشین۔ اَضَاعُو الصَّلٰوۃ یعنی انہوں نے نماز ترک کردی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے ترجمہ کیا نماز وقت کو ٹال کر پڑھی۔ سعید بن مسیب نے اس کی تشریح میں فرمایا جیسے ظہر کی نماز عصر کا وقت آنے سے پہلے نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جائے جب سورج غروب ہونے لگے۔ حضرت مفسر نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ کسی مکروہ طریقے سے نماز پڑھنی اور نماز…
Read the full tafseer →(59) پھر ان انبیاء کرام اور صالحین کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور دنیا میں نفسانی لذتوں اور خواہشات کی پیروی کی اور سگی بہنوں سے شادی کرنا شروع کردی، یہ نالائق یہود ہیں سو یہ لوگ عنقریب غیتی وادی جہنم میں گریں گے۔
Read the full tafseer →فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ : لفظ ”خَلْفٌ“ لام کے سکون کے ساتھ ”اولاد“ ، واحد و جمع دونوں کے لیے ایک ہی لفظ آتا ہے اور اکثر بری اولاد اور مذمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور لام کے فتحہ کے ساتھ ”خَلَفٌ“ ”جانشین“ کے معنی میں آتا ہے، وہ چاہے اولاد ہو یا کوئی اور۔ اس کا استعمال اکثر مدح و تعریف کے لیے ہوتا ہے اور دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔
اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ : نماز ضائع کرنے میں سب سے پہلے اس عقیدے کی ایجاد ہے کہ ایمان صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے اور ان دونوں چیزوں سے ایمان مکمل ہوجاتا ہے۔ عمل کرے تو اچھا ہے، درجہ بڑھ جائے گا، ورنہ ایمان میں نہ کمی ہوتی…
Read the full tafseer →(تفسیر 59-63) اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فخلف من بعدھم خلف اس سے مراد بری اولاد ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہمیں حجاج نے بیان کیا انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے مجاہد سے روایت کیا ہے فرمایا : یہ قیامت کے قیام کے وقت ہوگا اور اس امت کے نیک لوگوں کے چلے جانے کے وقت ہوگا، لوگ گلیوں میں زنا کریں گے۔ خلف کے متعلق کلام سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اضاعوا الصلوٰۃ۔ حضرت عبدالللہ اور حسن نے اضاعوا الصلوات، پڑھا ہے یہ مذمت ہے اور نص ہے کہ نماز کا ضائع کرنا ان کبائر میں سے ہے جو انسان کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔
2:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے اس سے امت کے لوگ مراد ہیں جو راستوں میں جانوروں کی طرح سرعام بدکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے شرم کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن قریب یہ صورت حال ہوگی امت محمد ﷺ کے نیک لوگوں چلے جائیں گے (دنیا سے) اور پیچھے وہ لوگ رہ جائیں گے اور زانی لوگ گلیوں میں بدکاری کریں گے۔
نماز ترک کرنے والے برے جانشین ہیں۔
4:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[فَخَــلَفَ : پھر جانشین ہوئے ] [مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ] [خَلْفٌ: کچھ ایسے جانشین جنھوں نے ] [اَضَاعُوا : ضائع کیا ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [وَاتَّـبَعُوا : اور انھوں نے پیروی کی ] [الشَّهَوٰتِ : خواہشات کی ] [فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [يَلْقَوْنَ : وہ لوگ ملیں گے ] [غَيًّا : گمراہی سے ]
نوٹ۔ 1: نماز کو ضائع کرنے سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک نماز کو اس کے وقت سے تاخیر کر کے پڑھنا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نماز کے آداب و شرائط میں سے کسی میں کوتاہی کرنا، جس میں وقت بھی شامل ہے، نماز کو ضائع کرنا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اضاعتِ صلٰوۃ سے مراد ہے جماعت کے گھر میں نماز پڑھ لینا…
Read the full tafseer →شہوتوں کا اتباع ہر گناہ پر آمادہ کردیتا ہے
(وَاتَّبَعُوا الشَّھَوَاتِ ) اس میں انسانوں کے اصل روگ کو بیان فرمایا اور وہ ہے خواہشوں کے پیچھے چلنا، نفسانی خواہشوں کا اگر مقابلہ نہ کیا جائے اور انسان ہمت اور جرأت سے کام نہ لے اور جو نفس چاہے وہی کرتا رہے تو یہ بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور بربادی کا سبب بن جاتا ہے، جانی عبادات نماز روزہ اور مالی عبادات زکوٰۃ صدقات کی ادائیگی میں جو غفلت اور کوتاہی ہوتی ہے یا زندگی میں گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے اس میں اصل یہی خواہشات نفس کا اتباع ہوتا ہے، روح المعانی (ص 109 ج 17) میں ہے : الشھوات عام فی کل مشتھی یشغل عن الصلوۃ وعن ذکر اللہ تعالیٰ انسان نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
ذکر حال و مآل اہل سعادت و اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ فخلف من م بعدھم خلف اضاعوا الصلوٰۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ من کان تقیا
(ربط) گزشتہ آیات میں سلف صالحین اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ جو سب دین حق پر تھے۔ اور خدا کے برگزیدہ بندے تھے۔ اب ان آیات میں پچھلوں اور ان ناخلف لوگوں کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اتباع سے انحراف کیا اور دنیاوی شہوات اور لذات کے پیچھے ہو لیے۔ اور ہولناکیوں میں مبتلا ہوگئے اور نماز جیسی اہم العبادات کو ضائع کردیا۔ سو ایسے لوگ حال اور مآل کے اعتبار سے تباہ و برباد ہوئے۔ البتہ جو لوگ اپنی جہالت اور ضلالت سے تائب ہوئے اور انبیاء…
Read the full tafseer →42:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) صرف اللہ ہی کو متصرف جان کر پکارتے تھے تو پھر ان کو کیوں متصرف سمجھ کر پکارا گیا۔ تو اس کا جواب دیا گیا کہ ان کے بعد برے لوگوں نے ان کے دین اور توحید کو ضائع کردیا اور اللہ کی پکار کو چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارنے لگے یہ حق اور مسئلہ توحید سے باغیوں کی جماعت تھی۔ ” خَلْفٌ“ ناخلف اور برے لوگ۔ الخلف الردی (مفردات) ۔ ان ناخلف لوگوں نے نماز جیسی اہم اور تمام عبادات کی جامع عبادت کو چھوڑ دیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی میں منہمک ہوگئے۔ اضاعت صلوۃ سے یا تو ترک نماز مراد ہے یا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خالص اللہ کی دعا اور پکار کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے فرزند اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا ضمنا ذکر آیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے صادق الوعد ہونے کا ذکر کیا آپ کو نبی اور رسول بھی کہا گیا ہے رسول وہ ہوتا ہے جس پر مستقل کتاب یا شریت نازل ہو ، مگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق مفسرین کرام عام طور پر کسی کتاب کا ذکر نہیں کرتے ، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو رسول کس بناء…
Read the full tafseer →فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّـبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا 59ۙ
خلف
والخِلافةُ النّيابة عن الغیر إمّا لغیبة المنوب عنه، وإمّا لموته، وإمّا لعجزه، وإمّا لتشریف المستخلف . وعلی هذا الوجه الأخير استخلف اللہ أولیاء ه في الأرض، قال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلائِفَ فِي الْأَرْضِ [ فاطر/ 39] ،
( خ ل) خلف ( پیچھے )
الخلافۃ کے معنی دوسرے کا نائب بننے کے ہیں ۔ خواہ وہ نیابت اس کی غیر حاضری کی وجہ سے ہو یا موت کے سبب ہو اور ریا اس کے عجز کے سبب سے ہوا دریا محض نائب کو شرف بخشے کی غرض سے ہو اس آخری معنی کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کو زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–63
تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔
واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…
Read the full tafseer →فَخَلَفَ مِنْ م بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا۔
(پھر ان کے بعد ان کی جگہ آئے نا خلف جنھوں نے نماز ضائع کردی اور خواہشوں کے پیچھے پڑگئے تو یہ لوگ عنقریب اپنی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ ) (مریم : 59)
خَلْفٌ … لام کے سکون کے ساتھ، ناخلف یعنی برے جانشین کو کہتے ہیں۔ اور خلف لام کے فتحہ کے ساتھ، اچھے اور صالح جانشین پر بولا جاتا ہے۔
ناخلف جانشینوں کا تذکرہ
سابقہ آیت کریمہ میں چند اولوالعزم اور برگزیدہ رسولوں اور انہی کے راستے پر چلنے والے چنیدہ لوگوں کا ذکر فرماتے ہوئے بطور خاص یہ بات فرمائی کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام کی اولاد میں ان کے خلف الرشید بھی ہوئے اور ناخلف بھی ہوئے۔ ناخلف اولاد کا انجام۔
اللہ تعالیٰ اپنے اصول کے مطابق دین کی نعمت اور حقیقی احترام اسی شخص دیتا ہے جو دین کی قدر اور اس پر عمل کرتا ہے۔ بیشک وہ کسی غیر معروف باپ کا بیٹا اور غریب کیوں نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں کوئی نبی کا صاحبزادہ ہو کر اللہ اور اس کے نبی کی اطاعت کا انکاری ہے تو وہ دنیا و آخرت کی رسوائی سے نہیں بچ سکتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وہ پانی میں ڈبکیاں لینے لگا تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پدرانہ شفقت کی بناء پر اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ یہ میرا بیٹا ہے اور آپ…
Read the full tafseer →نالائق لوگ :
59: فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِ ھِمْ خَلْفٌ (پھر آئے ان کے بعد کچھ ایسے نالائق) ان فضیلت والے لوگوں کے بعد بری اولاد آئی۔ خَلْفَ یہ لام کے فتح کے ساتھ لائق اولاد کیلئے آتا ہے۔ اور جزم کے ساتھ نالائق کیلئے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد یہود ہیں۔ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ (جنہوں نے نماز کو برباد کیا) یعنی فرضی نماز کو چھوڑ دیا۔ وَاتَّبَعُوا الشَّھَوٰتِ (اور انہوں نے نفسانی خواہشات کی پیروی کی) شہوات سے مراد نفوس کی لذتیں ہیں۔ حضرت علی المرتضی ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ آدمی ہے جس نے مضبوط مکانات بنائے اور جس چیز کو دیکھا اسی کے پیچھے پڑگیا اور جس نے شہرت والا لباس پہنا۔ قتادۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
تفسیر۔
59۔ فخلف من بعدھم خلف، پھر ان مذکورہ انبیاء کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوں گے برے لوگ آئیں گے ، خلف، لام کے فتحہ کے ساتھ اچھا جانشین اور لام کے جزم کے ساتھ براجانشین مراد ہے۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں ۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس امت کے لوگ ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس امت کے لوگ ہیں۔ اضاعو الصلوۃ، ، جنہوں نے فرض نماز چھوڑ دی تھی ابن مسعود نے اس کا ترجمہ کیا ہے نماز وقت کو ٹال کرپڑھی، سعید بن مسیب نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ ظہر کی نماز عصر کی نماز آنے سے پہلے نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جائے جب سورج غروب ہونے لگے۔ واتبعوا الشھوات، ، اس کا مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60:۔ اوپر انبیاء اور نیک لوگوں کا ذکر تھا اس آیت میں فرمایا کہ ان نیک لوگوں کی جگہ ایسے ناخلف آئے کہ نماز جیسی چیز کو جس کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے انہوں نے یا تو بالکل چھوڑ دیا یا بعضوں نے ان کو ادا بھی کیا تو شریعت کے حکم کے موافق ادا نہیں کیا اور دنیا کے عیش و آرام کے پیچھے ایسے سرگرداں ہوئے کہ نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی کچھ پروا نہ کی پھر فرمایا ایسے لوگ عقبیٰ میں بڑا نقصان اٹھائیں گے کیونکہ علم الٰہی میں ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ قرار پاچکا ہے۔ ہاں ان میں سے جو لوگ عقبیٰ کی باتوں کا پورا یقین کرکے اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ اور آگے کو نیک عمل کریں تو وہ لوگ بہشت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انہوں نے امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انہوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا، انہوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کردیا۔ جب انہوں نے نماز کو ضائع کردیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لئے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے، تو نماز کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
نماز کو ضائع کرنا کیسے ہے ؟
قول باری ہے (اضاعوا الصلوۃ جنہوں نے نماز کو ضائع کیا) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ نمازوں کو ان کے اصل اوقات سے موئخر کر کے انہوں نے نمازوں کو ضائع کیا۔ اس تاویل کی حضور ﷺ کے اس ارشاد سے بھی تائید ہوتی ہے کہ (لیس التفریط فی التوم انما التفریط ان یدعھا حتی یدخل وقت الاخریٰ نماز میں کوتاہی سوتے رہنے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ اس کی ادائیگی کو مئوخر رکھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ انہوں نے نمازوں کی ادائیگی نہ کر کے انہیں ضائع کردیا۔
Read the full tafseer →67 برے جانشینوں کا برا انجام ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کے بعد ان کے ایسے ناخلف جانشیں بنے جنہوں نے ضائع کردیا نماز کو اور وہ پیچھے لگ گئے اپنی خواہشات کے۔ سو وہ پہنچ کر رہیں گے اپنی گمراہی کے انجام کو۔ سو برے جانشیں اپنی گمراہی کا انجام پاکر رہیں گے۔ آخرت کے عذاب الیم میں مبتلا ہو کر۔ حالانکہ یہ سب تھے انبیائے کرام کی نسل میں سے۔ پس معلوم ہوا کہ جب تک اپنا ایمان و عقیدہ صحیح اور کردار و عمل درست نہ ہو تو محض بڑوں کی اولاد ہونے سے کچھ نہیں بنتا۔ جس طرح کہ آج کے اہل زیغ و ضلال کا کہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " خلف " کا لفظ جب لام کے سکون کے ساتھ آتا ہے تو اچھے معنوں…
Read the full tafseer →نماز چھوڑنے اور گمراہ ہونے والے
تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا محمد ﷺ تک لوگوں کا یہی دستور رہا ہے کہ اپنے بھیجے ہوئے نبی کی تعلیمات کو اتنی دیر پا رکھا جتنی دیر نبی موجود رہے سوائے آخری نبی اور آخری کتاب قرآن پاک کے باقی تمام انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں کو ہی بدل دیا گیا اور پھر فسق و فجور میں ایسے گم ہوئے کہ آخرت کا خیال ہی نہ رہا۔ نماز کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایسی عبادت ہے کہ جو زندگی کی مصروفیات میں اعتدال پیدا کرتی ہے اور دن کے ہر اہم حصہ میں یاد دلاتی ہے کہ اپنے رب کو یاد کرو۔ اس سے ملاقات کرو۔ اس سے مدد مانگو (کسی اور سے مدد مت مانگو) وہ تم پر رحمتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 11 نماز کے گنوانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسے صحیح وقت اور صحیح طریقہ سے پڑھنا چھوڑ دیا۔
1 یعنی ضرور اس کے انجام بد سے دوچار ہونگے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ غی جہنم میں ایک وادی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
(19:59) خلف ماضی واحد مذکر غائب خلافۃ سے باب نصر۔ جس کے معنی جانشین ہونے کے ہیں یا پیچھے آنے کے۔ خلف وہ جانشین ہوا۔ وہ پیچھے آیا۔ خلف۔ ناخلف۔ برے جانشین۔ اضاعوا ماضی جمع مذکر غائب (باب افعال) انہوں نے ضائع کردیا۔ انہوں نے کھو دیا۔
الشھوات۔ شھو سے مشتق ہے الشھوۃ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کی طرف کھینچے چلے جانا جسے وہ چاہتا ہے۔ خواہشات دنیوی دو قسم پر ہیں صادقہ اور کاذبہ۔ سچی خواہش وہ ہے جس کے حصول کے بغیر بدن کا نظام مختل ہوجاتا ہے جیسے بھوک کے وقت کھانے کی اشتہائ۔ اور جھوٹی خواہش وہ ہے جس کے عدم حصول سے بدن میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ پھر شہوۃ کا لفظ کبھی اس چیز پر بولا جاتا ہے جس کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 65
خلف قائم مقام ہوا۔ خلف نالائق، ناخلف۔ اضاعوا انہوں نے برباد کیا، ضائع کردیا۔ اتبعوا پیچھے لگ گئے، انہوں نے پیروی کی۔ یلقون وہ ڈالیں گے۔ غی گمراہی۔ عدن ہمیشہ رہنے کی جگہ، ایک بہت کا نام۔ ماتی آنے والا، آنے کی جگہ۔ لغو بےہودہ۔ فضول۔ مانتنزل ہم نہیں اترتے۔ نسی بھول جانا۔ اصطبر ثابت قدم رہو۔ سمی ہم نام، ہم پلہ
تشریح : آیت نمبر 59 تا 65
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کی امتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے بعد آنے والوں نے نیک لوگوں کا راستہ چھوڑ کر ان کے قائم مقام ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی خواہشات نفس اور دنیا کے وقتی فائدوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
اس آیت میں فرمایا کہ ان نیک لوگوں کی جگہ ایسے ناخلف آئے کہ نماز جیسی چیز کو جس کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے، انہوں نے یا تو بلکل چھوڑ دیا، یا بعضوں نے اس کو ادا بھی کیا تو شریعت کے حکم کے موافق ادا نہیں کیا۔ اور دنیا کے عیش و آرام کے پیچھے ایسے سرگرداں ہوئے کہ نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی کچھ پرواہ نہ کی۔ پھر فرمایا ایسے لوگ عقبیٰ میں بڑا نقصان اٹھاویں گے۔ ہاں ان میں سے جو لوگ عقبیٰ کی باتوں کا پورا یقین کر کے اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ کریں ، اور آگے کو نیک عمل کریں تو وہ بہشت میں جاویں گے، اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں کچھ کمی نہ کی جائے گی ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
[21] یعنی نماز پڑھنی چھوڑ دی یا نماز سے غفلت برتنے لگے۔ یہ ہر امت کے زوال کا پہلا قدم ہے۔ نماز وہ اولین رابطہ ہے جو مومن کا تعلق اللہ کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے اور اسے توحید پرستی کے مرکز سے بچھڑنے نہیں دیتا۔ یہ بندھن ٹوٹتے ہی آدمی اللہ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
نااہل جانشین !:
(ف 2) خلف : سے مراد برے جانشین ہیں جو سلف کی روایات کے حامل نہ ہوں لبید کہتا ہے ۔
ذھب الذین یعاش فی اکنافہم وبقیت فی خلف کجلد الاجوب :
یعنی ان پاکباز لوگوں کے کچھ ایسے نااہل پیدا ہوئے جو ہوائے نفس کی پیروی اور خواہشات کی تکمیل میں دینی ومذہبی فرائض کو بھول گئے اور تم کو یا انہیں لوگوں کے نقش قدم پر ہو ۔ (آیت) ” اضاعوا الصلوۃ “۔ کے بعد ” واتبعوا الشھوت “۔ کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو قوم اپنے مذہبی فرائض سے غفلت پر تتی ہے ، اور جس کے دل سے عبادت ونیاز مندی کے جذبات خارج ہوجاتے ہیں ، وہ شہوات کی جانب جھک پڑتی ہے ، اور اس کے دل و دماغ پر مادی وجنسی خیالات مسؤل ہوجاتے…
Read the full tafseer →-59 پھر ان حضرات مذکورین کے بعد کچھ ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز کو ضائع کیا اور نفسانی اور ناجائز خواہشات کی پیروی کی اور نفسانی خواہشات کے پیچھے ہو لئے تو ایسے لوگ عنقریب اپنی گمراہی کو دیکھ لیں گے اور پانی گمراہی سے ملاقی ہوں گے۔ نماز کا ضائع کرنا یہ کہ نماز چھوڑ دی یا بےوقت پڑھی یا جماعت ترک کردی۔ یا نماز کے ضروری آداب اور خشوع و خضوع ترک کردیا۔ ناجائز خواہشات وہ خواہشیں جو اطاعت الٰہی سے روکنے والی ہوں۔ غتی ایک دوزخ کی وادی ہے یا تو وہ مراد ہے یا یہ کہ ان کی گمراہی اور بےراہ روی سامنے آئے گی اور دوزخ میں داخل ہوں گے خواہ دوزخ کا داخل ہنا ابدی نہ ہو اور اگر نماز کی فرضیت کا…
Read the full tafseer →ف 5۔ نماز کو برباد کیا خواہ اعتقادا کہ انکار کیا، یا عملا کہ اس کے ادا کرنے میں یا حقوق و آداب ضروریہ میں کوتاہی کی۔
Read the full tafseer →جب ایسے لوگ اسلاف ہوگئے تو اخلاف نے کیا کیا کہ وہ ناخلف ہو کر رہ گئے :
59۔ فرمایا ان کے بعد ایسے لوگ آئے جو ان ہی لوگوں کی ذریت تھے لیکن انہوں نے حقیقت ضائع کردی اور اپنی خواہشوں کے پرستار ہوگئے اور اب ان کے نام لیواؤں کے جتنے گروہ ہیں سب کا یہی حال ہے اور سب کو اپنی بدعملیوں کا نتیجہ بھگتنا ہے ہاں ! جو گمراہیوں سے باز آجائیں گے اور دعوت حق پر عمل کریں گے ان پر ہر طرح کی کامرانیوں کی راہ کھل جائے گی اسی طرح جس طرح پہلوں پر کھل چکی ہے ۔
زیر نظر آیت میں گزشتہ گمراہیاں بیان کرتے ہوئے صرف (اضاعوا الصلوۃ واتبعوالشھوات “ فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ نماز یعنی عبادت جوہر ایمان ہے اس کی حقیقت گئی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
Commentary
فَخَلَفَ (Khalf) means bad successors, while فَخَلَفَ (Khalaf) means good successors. (Mazhari) Mujahid (رح) has reported that when the Day of Judgment would be near and the pious people would all be dead and gone, people will lose interest in prayers and indulge in all sort of vices and evil deeds.
Offering prayers outside fixed time or not with congregation (جَمَاعَت) is a default and of no avail, and is a great sin.
Most exegetes / commentators are of the view that offering prayers after its time has lapsed is a default of prayers (اضَاعُوا الصَّلٰوۃَ ). Among them are Sayyidna…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
35. It appears that the degenerate people totally discarded Salat, or they had become neglectful and careless in its observance. This is the first evil that is committed by a degenerate people. For, after this there remains no connection whatever between them and God. Here it has been stated as a universal principle that the degeneration of the people of all the former Prophets started with the abandonment of Salat by them.
36. This was the inevitable result of the loss of the connection with Allah. As they became more and more neglectful of their Salat, their lusts took complete hold of them…
Read the full tafseer →