انبیاء کی جماعت کا ذکر۔
فرمان الہٰی ہے کہ یہ ہے جماعت انبیاء یعنی جن کا ذکر اس سورت میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں۔ پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے۔ یہ ہیں اولاد آدم سے یعنی حضرت ادریس صلوات اللہ وسلامہ علیہ اور اولاد سے ان کی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے اس سے مراد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں۔ اور ذریت ابراہیم ؑ سے مراد حضرت اسحاق، حضرت یعقوب حضرت اسماعیل ہیں اور ذریت اسرائیل سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ہیں علیہم السلام۔ یہی قول ہے حضرت سدی ؒ اور ابن جریر ؒ کا۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
سورة مَرْیَم 34
اس کا سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس کو بلند مرتبہ عطا کیا تھا، لیکن اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر یہ بات ہمارے ہاں بھی مشہور ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس کو آسمان پر اٹھا لیا۔ بائیبل میں تو صرف اسی قدر ہے کہ وہ غائب ہوگئے کیونکہ خدا نے ان کو اٹھا لیا " مگر تلمود میں اس کا ایک طویل قصہ بیان ہوا ہے جس کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ "۔ حنوک ایک بگولے میں آتش رتھ اور گھوڑوں سمیت آسمان پر چڑھ گئے۔ "
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ ، اس سے مراد صرف حضرت ادریس ؑ ہیں، وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اس سے مراد صرف ابراہیم ؑ ہیں، وَّمِنْ ذُرِّيَّةِ اِبْرٰهِيْمَ ، اس سے مراد اسماعیل و اسحٰق و یعقوب (علیہم السلام) ہیں، وَاِسْرَاۗءِيْلَ ۡ اس سے مراد حضرت موسیٰ و ہارون و حضرت زکریا و یحییٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔
اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا، سابقہ آیات میں چند اکابر انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے جس میں ان کی عظمت شان کو بیان کیا گیا ہے، چونکہ انبیاء کی عظمت میں عوام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
تفسیر آیات 58 تا 59: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا (58) فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (59)
تمام انبیاء کا مشترک مشن : اب یہ ان تمام مذکورہ انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آدم کی ذریت، نوح کی ذریت، ابراہیم و اسرائیل کی ذریت کے گل سرسبد یہی انبیائے اولوالعزم ہیں۔ ان پر اللہ…
Read the full tafseer →58۔ 1 گویا اللہ کی آیات کو سن کر وجد کی کیفیت کا طاری ہوجانا اور عظمت الٰہی کے آگے سجدہ ریز ہوجانا، بندگان الٰہی کی خاص علامت ہے۔ سجدہ تلاوت کی مسنوں دعا یہ ہے (وَ سَجَدَ وَ جْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَہُ ، وَصَوَّرَہُ ، وَ شَقَّ سَمْعَہُ وَ بَصَرَہَ بِحَوْلِہِ وَ قُوَّتِہِ) (ابو داؤد، ترمذی، نسائی۔ بحالہ مشکوۃ، باب سجود القرآن) بعض روایات میں اضافہ ہے۔
Read the full tafseer →29: یہ سجدے کی آیت ہے۔ جو کوئی شخص عربی میں یہ آیت پڑھے۔ یا سنے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔ْ
Read the full tafseer →انسانی تاریخ کے باب نبوت میں ‘ قرآن کریم نے یہاں ممتاز ترین لوگوں پر اکتفاء کیا ہے۔ یہ من ذریۃ ادم (91 : 85) ” اولاد آدم سے “ ہیں۔ وممن حملنا مع نوح (91 : 85) ” اور ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا “۔ اور ومن ذریۃ ابرھیم واسرائیل (91 : 85) ” اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے “۔ آدم تو سب کے جد امجد ہیں ‘ نوح بھی آدم ثانی ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) نبوت کی دو مشہور شاخوں کے باپ ہیں اور یعقوب بنی اسرائیل کے جد امجد ہیں جن میں بیشمار رسول اور نبی آئے اور اسماعیل کی طرف عربوں کی نسبت ہے جن کی اولاد میں نبی آخرالزمان مبعوث ہیں۔ یہ نبی اور انکا اتباع کرنے والے صالح…
Read the full tafseer →12 یعنی جن انبیاء کا ابتدائی سورت سے یہاں تک ذکر ہوا۔ اسی قسم کے لوگوں پر حق تعالیٰ نے اپنے انعامات کی بارش کی ہے۔ یہ سب آدم کی اولاد ہیں اور ادریس (علیہ السلام) کے سوا باقی سب ان کی اولاد بھی ہیں جنہیں نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ہم نے کشتی پر سوار کیا تھا۔ اور بعض ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں ہیں۔ مثلاً اسحق، یعقوب، اسماعیل (علیہم السلام) اور بعض اسرائیل (یعقوب) (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ مثلاً موسیٰ ، ہارون، زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ علیہم السلام۔
13 یعنی طریق حق کی طرف ہدایت کی اور منصب نبوت و رسالت کے لیے پسند کرلیا۔
14 یعنی باوجود اس قدر علو مقام اور معراج کمال پر پہنچنے کے شان عبودیت و…
Read the full tafseer →آیت 58 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ ”
سورۃ النساء کی آیت 69 میں مُنْعَمْ عَلَیھِم لوگوں کے جن چار طبقات کا بیان ہے ‘ ان میں سے اعلیٰ ترین طبقہ کے افراد یعنی انبیاء کرام علیہ السلام کا یہاں اللہ کے انعامات کے حوالے سے تذکرہ فرمایا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →54 سلسلہ نبوت کا اختصاص :۔ مذکورہ بالا انبیاء میں سے صرف سیدنا ادریس ہیں جو نوح (علیہ السلام) سے پہلے مبعوث ہوئے لہذا آپ صرف اولاد آدم سے ہوئے، باقی سب انبیاء یا تو نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے تھے یا ان لوگوں کی اولاد سے جو نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی میں سوار ہوئے تھے اور سلسلہ نبوت یوں چلتا ہے کہ آدم کی پیدائش سے پیشتر یہ سلسلہ نبوت جنوں میں تھا پھر چونکہ آدم اشرف المخلوقات تھے تو سلسلہ نبوت سیدنا آدم اور ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوگیا۔ پھر یہ سلسلہ نوح اور اولاد نوح سے مختص ہوا پھر سیدنا ابراہیم اور ان کی اولاد سے، پھر اس کے بعد یہ سلسلہ اسرائیل (یعقوب) کی اولاد سے مختص ہوا۔ صرف نبی…
Read the full tafseer →86۔ یعنی یہ سب کے سب آدمی ہی تھے۔ کوئی ان میں سے فوق البشر یا اولاد آدم سے باہر نہ تھا۔ نہ کوئی جن تھا، نہ فرشتہ، نہ کوئی دیوی دیوتا۔ (آیت) ” اولیک “۔ یعنی یہ سارے لوگ جن کا ذکر زکریا (علیہ السلام) سے لے کر ادریس (علیہ السلام) تک اب تک اس سورة میں آچکا ہے۔
87۔ مثلا حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) دونوں کی اولاد میں تھے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور خود حضرت اسرائیل (علیہ السلام) کہ تنہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
آیت نمبر 51 تا 59
ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس…
Read the full tafseer →اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ریۃ ادم و ممن حملنا مع نوح ومن ذریۃ ابراہیم وا سرا آئل وممن ہدینا واجتبینا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا منجملہ دیگر انبیاء کے (نوح سے پہلے) آدم ( علیہ السلام) کی نسل سے اور (آدم ( علیہ السلام) سے نیچے) ان لوگوں کی نسل سے جن کو نوح ( علیہ السلام) کے ساتھ ہم نے (کشتی میں) سوار کیا تھا اور (نوح ( علیہ السلام) سے بہت نیچے) ابراہیم ( علیہ السلام) و یعقوب ( علیہ السلام) کی نسل سے اور یہ سب لوگ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت کی اور ہم نے ہی ان کو برگزیدہ کیا۔
اُولٰءِکَیعنی زکریا سے ادریس تک جن انبیاء کا ذکر کیا گیا۔
اَنْعَمَ اللّٰہُ…
Read the full tafseer →(57) اور جن حضرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسمعیل ؑ ، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوب ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت ہارون ؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت زکریا ؑ حضرت یحییٰ ؑ ، حضرت ادریس ؑ ، اسی طرح دیگر تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت اور اسلام کے ساتھ خاص انعام فرمایا ہے یہ سب حضرت آدم ؑ کی نسل میں سے تھے اور کچھ ان میں سے ان لوگوں کی نسل میں سے تھے جن کو ہم نے نوح ؑ کے ساتھ ان کی اولاد میں سے کشتی میں سوار کیا تھا اور بعض ان میں سے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد یعنی حضرت اسماعیل ؑ و حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے تھے اور بعض ان میں سے حضرت یعقوب ؑ…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ۔۔ : مراد وہ انبیاء ہیں جن کا اس سورت میں ذکر ہے۔ یہ دس ہیں جن میں پہلے زکریا اور آخری ادریس ؑ ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا، سدی اور ابن جریر اور قرطبی (s) نے فرمایا : ”یہاں آدم کی اولاد سے مراد ادریس ہیں اور نوح کے ساتھ سوار ہونے والوں کی اولاد سے مراد ابراہیم ہیں اور ابراہیم کی اولاد سے مراد اسحاق، یعقوب اور اسماعیل ہیں اور اسرائیل کی اولاد سے مراد موسیٰ ، ہارون، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ابن مریم ہیں۔“ ابن جریر فرماتے ہیں : ”اسی لیے ان کے نسب الگ الگ ذکر فرمائے ہیں، ورنہ آدم کی اولاد تو سب ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں وہ بھی ہیں جو ان لوگوں کی اولاد…
Read the full tafseer →(تفسیر 58) اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ذریۃ ادم اس سے مراد صرف حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ وممکن حملنا مع نوح سے مراد صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ ومن ذریۃ ابرھیم سے مراد حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور (اسرائیل) کی ذریت سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ حضرت ادریس اور حضرت نوح کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے قرب کا شرف تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) سے قرب کا شرف تھا اور حضرت اسماعیل، حضرت…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ انبیاء کے نام ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ادریس (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) تھے اور نوح (علیہ السلام) کے ساتھ جو کشتی میں سوار کئے گئے وہ ابراہیم (علیہ السلام) تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اسماعیل اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) ہیں اور اسرائیل کی اولاد میں سے موسیٰ (علیہ السلام) ، ہارون (علیہ السلام) ، زکریا (علیہ السلام) ، یحییٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت)…
Read the full tafseer →[اُولٰۗىِٕكَ الَّذِينَ : یہ وہ لوگ ہیں ] [انعَمَ : انعام کیا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [عَلَيْهِمْ : جن پر ] [مِّنَ النَّبِيّٖنَ : نبیوں میں سے ] [مِنْ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ] ۤ[ وَمِمَنْ : اور ان میں سے جن کو ] [حَمَلْنَا : ہم نے سوار کیا ] [مَعَ نُوْحٍ : نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ] [وَّمِنْ ذُرِّيَّةِ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْرَاۗءِيْلَ : اور ابراہیم (علیہ السلام) اور اسرائیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ] [وَمِمَنْ : اور ان میں سے جن کو ] [هَدَيْنَا : ہم نے ہدایت دی ] [وَاجْتَبَيْنَا : اور ہم نے منتخب کیا ] [اِذَا : جب ] [تُتْلٰى عَلَيْهِمْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے باہمی رشتے اور ان کے منتسبین کے دو گروہ
ابتدائے سورت سے یہاں تک متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے اب آیت بالا میں فرمایا کہ یہ سب وہ حضرات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ان کو نبوت سے سرفراز کیا اور یہ تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل سے تھے اور ان میں سے بعض وہ حضرات تھے جو ان لوگوں کی نسل سے تھے جنھیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔
عموماً حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد دنیا میں جو بھی آبادی ہے انھیں کی نسل سے ہے۔ لہٰذا اس کے بعد آنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) انھیں کی نسل سے ہوئے البتہ ادریس (علیہ…
Read the full tafseer →قال اللہ تعالیٰ ۔ اولٰٓئک الذین انعم اللہ علیھم من النبیٖن۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ خروا سجدا و بکیا
(ربط) شروع سورت سے یہاں تک خاص خاص انبیاء کے خاص خاص اوصاف بیان کیے گئے۔ اب تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا وصف عام بیان کرتے ہیں جو تمام انبیاء میں مشترک ہے۔ اور مقصود یہ ہے کہ جنس انبیاء کے تمام افراد اور تمام اشخاص خدائے تعالیٰ کے فرمانبردار اور برگزیدہ بندے تھے جن کو حق تعالیٰ نے اپنی خاص ہدایت اور خاص نعمت اور کرامت اور قرب منزلت سے سرفراز فرمایا۔ مگر باوجود اس قدر علو مقام اور رفعت شان کے غایت درجہ متواضع تھے اور عبودیت اور بندگی میں کامل تھے کہ خدا تعالیٰ کی آیتوں کو سن کر خشوع اور خضوع کے ساتھ…
Read the full tafseer →41:۔ یہ اشارہ مذکورہ چھ پیغمبروں کی طرف ہے۔ یعنی ان تمام پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ نے انعام و اکرام سے نوازا۔ حضرت آدم کی اولاد سے جیسا کہ ادریس (علیہ السلام) اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے آباء و اجداد کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ طوفان سے بچایا جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور کچھ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے یعنی اسمعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے یعنی حضرت زکریا، عیسیٰ اور موسیٰ علیہم السلام، اس آیت میں چھ طریقوں سے ان انبیاء (علیہم السلام) سے الوہیت کی نفی کی گئی ہے۔ اول ” اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْھِمْ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے انعامات سے نوازا۔ دوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے فرزند اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا ضمنا ذکر آیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے صادق الوعد ہونے کا ذکر کیا آپ کو نبی اور رسول بھی کہا گیا ہے رسول وہ ہوتا ہے جس پر مستقل کتاب یا شریت نازل ہو ، مگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق مفسرین کرام عام طور پر کسی کتاب کا ذکر نہیں کرتے ، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو رسول کس بناء…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّۃِ اٰدَمَ 0ۤ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ 0ۡوَّمِنْ ذُرِّيَّۃِ اِبْرٰہِيْمَ وَاِسْرَاۗءِيْلَ 0ۡوَمِمَّنْ ہَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا 0ۭ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا 58۞
نعم
النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–63
تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔
واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…
Read the full tafseer →اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّـۃِ اٰدَمَ ق وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ز وَّمِنْ ذُرِّیَّـۃِ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْرَآئِ یْلَ ز وَمِمَّنْ ھَدَیْنَا وَاجْتَبَیْنَا ط اِذَاتُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا۔ (مریم : 58)
(یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے نبیوں میں سے اپنا فضل فرمایا، آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے حضرت نوح کے ساتھ سوار کیا اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسرائیل کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور جن کو برگزیدہ کیا جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کے اختتام پر انبیاء اور ان کی صالح اولاد کی خاص الخاص خوبی کا ذکر۔
چند انبیاء اور ان کی اولادوں میں ممتاز اور پسندیدہ شخصیات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ لوگ تھے۔ جو آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) کے بعد ان کا نسب حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ کشتی میں نجات پانے والوں کے ساتھ ملتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا اور اپنی جناب میں برگزیدہ بنایا۔ یہ ایسے باوفا اور صاحب تقویٰ لوگ تھے۔ جب ان کے سامنے ان کے رب کے…
Read the full tafseer →اعلیٰ جماعت کا ذکر :
58: اُولٰٓىِٕكَ (یہ) اُولٰٓىِٕكَ اسم اشارہ سے حضرت زکریا سے لے کر ادریس (علیہ السلام) تک جو مذکورہ ہیں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ (وہ لوگ جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیاء (علیہم السلام) میں سے) یہ مِنْ بیانیہ ہے کیونکہ تمام انبیاء انعام یافتہ ہیں۔ مِنْ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ (آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے) یہ من تبعیض کیلئے ہے ادریس (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کے قرب کیوجہ سے ان کی اولاد میں سے تھے یہ نوح (علیہ السلام) کے والد کے دادا لگتے تھے۔
وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ (اور ان میں سے جن کو ہم نے نوح…
Read the full tafseer →تفسیر۔
58۔ اولئک الذین انعم اللہ علیھم من النبین من ذریۃ آدم، ، یعنی حضرت ادریس (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) ، وممن حملنا مع نوح، میری ذرتی جو میرے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے خصوصا خود نوح (علیہ السلام) کی نسل سے جیسے ابراہیم واسرائیل جو سام بن نوح کی نسل سے تھے۔
، ، ومن ذریۃ ابراہیم، ، اس سے مراد حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق اور یعقوب علیہماالسلام ہیں ، واسرائیل، اسرائیل کی اولاد میں سے موسی، ہارون، زکریا اور یحییٰ علیہماالسلام ہیں ، وممن ھدینا واجتبینا، یہ وہ شخصیات ہیں جن کو ہم نے چنا اور ہم نے ان کو اعزاز نبوت سے نوازا۔
، ، اذاتتلی علیہم آیات الرحمن خرواسجداوب کیا، ، سجداساجد کی جمع…
Read the full tafseer →58:۔ یوں تو سب اولاد آدم (علیہ السلام) ہیں مگر شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے دس پیغمبروں کا ذکر جو فرمایا ہے نوح کے سلسلہ میں ہیں جیسے حضرت ابراہیم بعضے پھر حضرت ابراہیم کے سلسلہ میں ہیں جیسے حضرت موسیٰ اور ہارون اور زکریا و یحییٰ عیسیٰ اس سلسلہ کا ذکر اس آیت میں ہے اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ صحیح بخاری میں معلق اور پھر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری سند تفسیر جو یلبہ میں ضحاک کے سلسلہ سے ہے جو بالکل ضعیف ہے 1 ؎۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے قول کی پوری سند تفسیر ابن ابی حاتم اور مسند عبد بن حمید میں ہے یہ سند بھی قوی نہیں ہے 2 ؎۔ اس واسطے جس طرح اکثر مفسرین…
Read the full tafseer →آیت 58
جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے مکرمین اور خواص مرسلین کا ذکر فرمایا اور ان کے فضائل و مراتب کا تذکرہ کیا، تو فرمایا : (اولئک الذین انعم اللہ علیھم من النبین) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی نعمت عطا کی ہے جسے کوئی اور حاصل نہیں کرسکتا، نبوت اور راسلت عطا کر کے ان پر ایاس احاسن کیا ہے جس میں کوئی سبقت نہیں کرسکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان لوگوں کے راستے کی طرف ہماری راہنمائی کرے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، نیز یہ کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا (مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین و الصدیقین…
Read the full tafseer →آیت سجدہ قاری اور سامع دونوں کے لئے یکساں حکم رکھتی ہے
قول باری ہے (اذا یتلی علیھم ایات الرحمٰن خروا سجداً ویکیاً ۔ ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے روتے سجدے میں گرجاتے تھے) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ آیت سجدہ کو سننے والا اور اسے پڑھنے والا دونوں کی حیثیت یکساں ہے نیز یہ کہ سب پر سجدہ کرنا لازم ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت سجدہ سن کر سجدہ کرنے والوں کی تعریف کی ہے ۔ نیز حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ جمعہ کے خطبہ کے دوران منبر پر سجدے کی آیت تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد آپ منبر سے نیچے اترے اور سجدہ کیا نیز تمام حاضرین نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ عطیہ نے…
Read the full tafseer →66 حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت و خشیت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان قدسی صفات حضرات کی شان عبدیت و بندگی کا عالم یہ تھا کہ جب ان کو خدائے رحمان کی آیات کریمہ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو یہ سنتے ہی اپنے رب کے حضور روتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے تھے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین ۔ اس کے خوف و خشیت اور شوق ورغبت کی بناء پر۔ اسی لئے اس آیت کریمہ پر سجدئہ تلاوت واجب ہے ہر پڑھنے والے اور سننے والے پر۔ بہرکیف اس سے حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی شان عبدیت اور خشیت خداوندی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ حضرات اس قدر شرف و مقام اور درجہ و فضیلت رکھنے کے باوجود اپنے رب کی آیات سنتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
مختلف انبیاء کا مختصر ذکر
تشریح : سیدنا اسحق، سیدنا موسیٰ ، سیدنا ہارون اور سیدنا اسمعٰیل (علیہم السلام) کا ذکر بڑے پیارے انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ سب انبیاء بڑے ہی نیک، مستقل مزاج اور مقبول الٰہی بندے تھے ان میں سے ایک اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ اللہ نے ان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ” اور بیشک وہ وعدے کے سچے اور ہمارے نبی تھے ! اور اپنے گھر والوں کو نمازو زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے رب کے پسندیدہ تھے۔ “
سیدنا ادریس (علیہ السلام) کا زمانہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سیدنا نوح (علیہ السلام) کے درمیان کا زمانہ تھا۔ آپ کو بھی رب العزت نے ایک خاص مقام دیا تھا آپ بڑے سچے متقی اور علوم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 11 نماز کے گنوانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسے صحیح وقت اور صحیح طریقہ سے پڑھنا چھوڑ دیا۔
1 یعنی ضرور اس کے انجام بد سے دوچار ہونگے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ غی جہنم میں ایک وادی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(19:58) اولئک۔ یہ اشارہ ہے ان تمام انبیاء کی جانب جن کا ذکر حضرت زکریا سے لے کر۔ حضرت ادریس (علیہم السلام) تک اوپر اس سورت میں آچکا ہے۔
سجدا وب کیا۔ دونوں خروا کی ضمیر فاعل کے حال ہیں۔ اور بدیں وجہ منصوب ہیں۔ سجدا جمع ہے ساجد کی۔ اور بکی جمع ہے با کی کی۔ (رونے والا۔ غم و اندوہ سے آنسو بہانے والا) اصل میں بروزن فعول جیسے ساجد سے سجود۔ راکع سے رکوع اور قاعد سے قعود، بکی بھی بکوی تھا۔ وائو اور یاء کے اجتماع کے سبب وائو کو یاء سے بدلا۔ یاء کو یا میں مدغم کیا۔ اور یا کی مناسبت سے کاف کو کسرہ کی حرکت دی۔ بکی ہوگیا۔
اذا تتلی علیہم۔۔ سجدا او ب کیا۔ جب ان کے سامنے خدائے رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58
مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 58
سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و…
Read the full tafseer →اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جن انبیا کا ذکر اس سورة میں کیا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بنانے کے لئے پسند کیا ہے، اور ان کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ مکہ کے مشرک یہ جو کہتے ہیں کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہو سکتا، یہ ان کی نادانی ہے۔ کیونکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ پھر بنی آدم کی ہدایت کے لئے فرشتہ رسول کیونکر ہو سکتا ہے۔ آخر کو فرمایا اللہ کی وہ عظمت ہے کہ باوجود نبی کے اپنے صحیفوں اور کتابوں میں جب یہ عذاب کی آیتیں سنتے ہیں، تو عذاب سے ڈر کر سچدہ میں گر پڑتے ہیں، اور روتے ہیں، مگر مشرک عذاب کی آیتوں کو اس کان سے سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
[20] رسول۔ صاحب شریعت ہوتا ہے لیکن نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ شریعت نہیں لاتا بلکہ پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء شریعت موسوی کی تبلیغ کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →پاکباز اسلاف :
(ف 1) یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان کے دریا موجزن تھے ، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق مرحمت فرمائی تھی ، اور جو سب مقبول بندے تھے ، ان لوگوں کی کیفیت یہ تھی کہ جب ان کے سامنے ان کے مہربان خدا کا کلام پڑھا جاتا ، تو یہ فرط عقیدت سے اس کے سامنے جھک جاتے ، اور رقت وانفعال کے جذبات ان پر طاری ہوجاتے ، اللہ کے حضور میں سجدہ کناں روت ، اور کمال عجز و محبت کا اظہار کرتے ۔
غرض یہ ہے کہ وہ لوگ جو ان حضرات سے تعلق وارادت رکھتے ہیں ان کو چاہئے کہ ان کے دلوں میں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت کا جوش ہو اور وہ بھی انہیں پاکیزہ جذبات کے حامل ہوں ، وہ بھی خدا کے احکام کو نیاز…
Read the full tafseer →-58 یہ لوگ جن کا ذکر ہوا یعنی حضرت زکریا سے لیکر حضرت ادریس تک یہ وہ لوگ ہیں جن پر منجملہ دیگر انبیاء کے اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و انعام فرمایا یہ سب مذکورین آدم (علیہ السلام) کی نسل سے تھے اور کچھ ان میں سے ان لوگوں کی نسل سے تھے جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا اور کچھ ان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی ذریت اور نسل سے تھے۔
یہ سب حضرات ان لوگوں میں سے تھے جن کی رہنمائیہم نیف رمائی تھی اور جن کو ہم نے منتخب فرمایا تھا اور جن کو مقبولیت کے لئے چن لیا تھا ان حضرات کا حال باوجود اس بزرگی اور مقبولیت کے یہ تھا کہ جب ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
ف 3۔ یعنی جن کا ذکر شروع سورت سے یہاں تک ہوا یعنی زکر یا (علیہ السلام) سے ادریس (علیہ السلام) تک۔
4۔ یعنی باوجود اس مقبولیت و اختصاص کے ان سب حضرات موصوفین کی عبدیت کی یہ کیفیت تھی۔
Read the full tafseer →یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا اور ہدایت کے لئے منتخب کیا :
58۔ یہی مقدس ہستیاں ہیں جن کا ذکر اوپر مذکور ہوا اور ان سب کا تعلق آدم (علیہ السلام) کی ذریت ‘ نوح (علیہ السلام) کی ذریت ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت اور اسرائیل (علیہ السلام) کی ذریت سے تھا اور یہ سب کے سب اولوالعزم انبیائے کرام (علیہم السلام) تھے جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہوا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی ہدایت بخشی اور ان کا نبوت و رسالت کے لئے انتخاب کیا ۔ یہی وہ لوگ تھے کہ جب ان کے سامنے آیات الہی پڑھی جاتی تھیں تو ان پر رقت طاری ہوجاتی تھی اور وہ اللہ کی یاد میں مصروف رہتے تھے ۔ ان کے…
Read the full tafseer →أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ
"Those are the people whom Allah has blessed with bounties, the prophets from the progeny of Adam." - 19.58.
This relates only to Sayyidna Idris (علیہ السلام) .
وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ
"And from those whom We boarded (the Ark) along with Nuh." - 19:58.
This relates to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) only,
وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ
"and from the progeny of Ibrahim" - 19:58.
This relates to Ismail, Ishaq and Ya` qub (علیہ السلام) .
وَإِسْرَائِيلَ
"and Isra'il" - 19:58.
This points out to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
34. The plain meaning is that God had favored Idris with a high rank, but according to the Israelite traditions, God took up Idris (Enoch) to heavens. The Bible says: And he was not; for God took him, but the Talmud has a long story to tell, which ends with the words: Enoch ascended to heaven in a whirlwind, with chariot and horses of fire.
Read the full tafseer →