Maryam 19:57

Maryam · from ayah 57

19:57

وَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا ۟وَّرَفَعۡنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا

اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اُٹھا لیا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We raised him to a high station.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:57

اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اُٹھا لیا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نےاسے بلند مقام پر اٹھا لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے انہیں رفعت دے کر ایک بلند مقام تک پہنچا دیا تھا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے بہت اونچے مقام پر بلند کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے انھیں بلند مقام پر اٹھا لیا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو رتبہ بلند پر پہنچایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے انھیں ایک بڑے بلند مرتبے تک پہنچا دیا تھا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انہیں بلند مرتبہ تک پہنچایا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے انہیں اٹھایا بلند مقام پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کو بلند مقام پر اٹھا لیا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and We exalted him to a lofty position.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We raised him to a high place.

— Muhammad Taqi Usmani

We raised him to a high place.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We raised him to a high station.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We raised him to a high station.

— Saheeh International

We granted him a high position.

— Muhammad Sarwar

And We raised him high in Heaven.

— Muhammad Habib Shakir

And We exalted him to a position lofty. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 19:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 56–57

حضرت ادریس ؑ کا تعارف۔ حضرت ادریس ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ آپ سچے نبی تھے اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ کو ہم نے بلند مکان پر اٹھالیا۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس ؑ سے ملاقات کی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام ابن جریر ؒ نے ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے حضرت کعب ؓ سے سوال کیا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت ادریس ؑ کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ نے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–58

سورة مَرْیَم 34 اس کا سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس کو بلند مرتبہ عطا کیا تھا، لیکن اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر یہ بات ہمارے ہاں بھی مشہور ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس کو آسمان پر اٹھا لیا۔ بائیبل میں تو صرف اسی قدر ہے کہ وہ غائب ہوگئے کیونکہ خدا نے ان کو اٹھا لیا " مگر تلمود میں اس کا ایک طویل قصہ بیان ہوا ہے جس کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ "۔ حنوک ایک بگولے میں آتش رتھ اور گھوڑوں سمیت آسمان پر چڑھ گئے۔ "

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ڎوَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا، یعنی ہم نے ادریس ؑ کو مقام بلند پر اٹھا لیا معنی یہ ہیں کہ ان کو نبوت و رسالت اور قرب الہٰی کا خاص مقام عطا فرمایا گیا۔ اور بعض روایات میں جو ان کا آسمان پر اٹھانا منقول ہے ان کے متعلق ابن کثیر نے فرمایا ھذا من اخبار کعب الاحبار الاسرائیلیات وفی بعضہ نکارة یہ کعب احبار کی اسرائیلی روایات میں سے ہے اور ان میں سے بعض میں نکارت و اجنبیت ہے۔ اور قرآن کریم کے الفاظ مذکورہ بہرحال اس معاملہ میں صریح نہیں کہ یہاں رفعت درجہ مراد ہے یا زندہ آسمان میں اٹھانا مراد ہے اس لئے ان کا رفع الی السماء قطعی نہیں اور تفسیر قرآن اس پر موقف نہیں۔ (بیان القرآن) فائدہ از بیان القرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 56–57

تفسیر آیت 56 تا 57:۔ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا (56) وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا (57) حضرت ادریس : حضرت ادریس کے متعلق اسفار یہود اور بائیبل ہسٹری میں کوئی ایسی چیز مجھے نہیں مل سکی جس کی بنیاد پر ان کی نسبت میں کوئی بات اعتماد کے ساتھ کہہ سکوں۔ قدیم و جدید مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے ان کی بنیاد تمام تر قیاسات و مفروضات پر ہے اس وجہ سے اس کا حوالہ دینا بےفائدہ ہے۔ قرآن نے جس انداز سے ان کا ذکر فرمایا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے صحیفوں میں ان کا ذکر موجود تھا اور ان کی نسبت کچھ غلط صحیح روایات بھی ان کے ہاں مشہور تھیں۔ اب یا تو یہ ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 52–57

57۔ 1 حضرت ادریس علیہ السلام، کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی تھے اور حضرت نوح ؑ کے یا ان کے والد کے دادا تھے، انہوں نے ہی سب سے پہلے کپڑے سیئے، بلندی مکان سے مراد ؟ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم رُفِعَ اِلَی السَّمَآء سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح انھیں بھی آسمان پر اٹھا لیا گیا لیکن قرآن کے الفاظ اس مفہوم کے لئے صاف نہیں ہیں اور کسی صحیح حدیث میں بھی یہ بیان نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیلی روایات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے جو اس مفہوم کے اثبات کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مرتبے کی وہ بلندی ہے جو نبوت سے سرفراز کر کے انھیں عطا کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

28: اس سے مراد نبوت و رسالت اور تقویٰ اور بزرگی کا اعلیٰ مرتبہ ہے جو ان کے زمانے میں انہی کو عطا ہوا۔ بائبل میں ان کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ تفسیر کی بعض کتابوں میں بھی ایسی کچھ روایتیں آئی ہیں جن کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ اس آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن یہ روایتیں سند کے اعتبار سے نہایت کمزور اور ناقابل اعتبار ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–57

حضرت ادریس کے زمانے کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں اور انبیائے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں۔ اس لئے بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کو صدیق اور نبی کہتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ ایک عالی مقام شخص تھے ان کا ذکر دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ بعض لوگوں کی رائے صہم نہ اس کی تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ انکار) یہ ہے کہ مصر کیماہرین آثار قدیمہ نے یہ لکھا ہے کہ ادریس دراصل ” اوزریس “ کے لفظ کا عربی تلفظ ہے اور یہ قدیم مصری زبان کا لفظ ہے جس طرح یحیٰ یوحنا کا عربی سلفظ ہے اور السیع الشیع کا عربی تلفظ ہے۔ ان کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی قرب و عرفان کے بہت بلند مقام اور اونچی جگہ پر پہنچا۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی طرح وہ بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اب تک زندہ ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ آسمان پر لے جا کر روح قبض کی گئی۔ ان کے متعلق بہت سی اسرائیلیات مفسرین نے نقل کی ہیں۔ ابن کثیر نے ان پر تنقید کی ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57 وَّرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا ” اسرائیلی روایات کے زیر اثربعض لوگوں نے اس سے رفع سماوی مراد لیا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ اٹھا لیا تھا۔ معراج کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کی چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں الفاظ قرآنی بہت واضح ہیں : رَافِعُکَ اِلَیَّ آل عمران : 55 کہ میں آپ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ ان الفاظ سے رفع سماوی کا مفہوم متعین ہوجاتا ہے ‘ جبکہ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں آیت زیر نظر میں لفظ ”رفع“ کے ساتھ ”اِلٰی“ کی عدم موجودگی میں یہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 56–57

53 سیدنا ادریس کا زمانہ اور مرکز تبلیغ :۔ سیدنا ادریس سیدنا نوح سے بہت پہلے مبعوث ہوئے تھے آپ کا مرکز تبلیغ بابل تھا۔ آپ کی قوم ستارہ پرست اور مظاہر پرست تھی۔ آپ علم ہندسہ، حساب اور نجوم میں ماہر تھے۔ نیز قلم سے لکھنا، کپڑاسینا، ناپ تول کے آلات اور اسلحہ کا بنانا انہی کے دور میں شروع ہوا۔ آپ بلند پایہ خطیب تھے اور ہرمس الہرامسہ کا خطاب پایا۔ آپ کی قوم نے آپ کی دعوت ماننے سے انکار کردیا اور مخالفت پر اتر آئے۔ آخر آپ ہجرت کرکے مصر چلے آئے۔ جہاں بہت سے لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔ معراج کی رات رسول اللہ کی آپ سے چوتھے آسمان پر ملاقات ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

85۔ (کمالات و مراتب روحانی کے لحاظ سے) یہودی ومسیحی عقیدہ کے لحاظ سے حضرت ادریس یا حنوک آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے ہیں۔ چناچہ توریت میں ہے :۔ ” اور حنوک کی ساری عمر 365 برس کی ہوئی اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا اور غائب ہوگیا اس لیے کہ خدا نے اسے لے لیا۔ “ (پیدائش 5: 24) اور انجیل میں ہے :۔” ایمان سے حنوک اٹھالیا گیا تاکہ موت کو نہ دیکھے اور چونکہ خدا نے اسے اٹھالیا تھا، اس لیے اس کا پتہ نہ ملا “۔ (عبرانیوں 11: 5) قرآن مجید اس باب میں کوئی تصریح نہیں کرتا اور نہ کوئی حدیث صحیح ہی آپ کے رفع جسمانی کے باب میں وارد ہوئی ہے، بعض مفسرین نے اسرائیلیات سے اسی قصہ رفع جسمانی کو نقل کیا ہے۔ لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–59

آیت نمبر 51 تا 59 ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ورفعنہ مکانا علیا۔ اور ہم نے (کمالات میں) ان کو اونچی جگہ تک پہنچایا ‘ بعض علماء نے کہا مکاناً علیاً سے مراد ہے نبوت اور قرب خدا کا اونچا درجہ ‘ بعض کے نزدیک جنت ‘ بعض کے نزدیک چھٹا یا چوتھا آسمان مراد ہے۔ حضرت انس بن مالک نے حضرت مالک بن صعصعہ کی روایت سے بیان کیا کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس کو چوتھے آسمان پر دیکھا تھا ‘ یہ حدیث سورت بنی اسرائیل اور سورة النجم میں بیان کردی گئی ہے۔ حضرت ادریس کے آسمان پر اٹھائے جانے کا قصہ کعب الاحبار وغیرہ نے بیان کیا کہ حضرت ادریس ایک روز دن بھر چلے اور دھوپ کی تیزی اور تپش سے آپ کو تکلیف ہوئی بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا میرے رب ایک روز دھوپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 56–57

(56۔ 57) اور قرآن کریم میں حضرت ادریس ؑ کا بھی ذکر کیجیے بیشک وہ اپنے ایمان میں بڑے سچے نبی تھے اور ہم نے ان کو جنت میں بلند مرتبہ تک پہنچایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا : حدیث معراج میں رسول اللہ ﷺ کی چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات مذکور ہے۔ حافظ ابن حجر ؓ نے فرمایا کہ اس مقام کے ”مَكَانًا عَلِيًّا“ (بہت اونچا مقام) ہونے میں کوئی شک نہیں۔ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ انھیں زندہ آسمان پر اٹھایا گیا، تو یہ رسول اللہ ﷺ سے کسی قوی سند کے ساتھ ثابت نہیں بلکہ صرف کعب کا قول ہے جو اسرائیلی روایات بیان کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ورفعنہ مکانا علیا۔ حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو سعید وغیرہما نے کہا (1): مکانا علیا سے مراد چوتھا آسما چھٹا آسمان ہے (2) یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : بخاری میں شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے مروی ہے فرمایا میں نے حضرت انس کو یہ فرماتے ہوئے سنا : وہ رات جس میں نبی پاک ﷺ کو کعبہ کی مسجد سے سیر کرائی گئی۔ اس حدیث میں ہے ” ہر آسمان میں انبیاء تھے۔ “ آپ نے نام بیان کیے ان میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کا دوسرے آسمان میں ہونے کا ذکر کیا۔ یہ وہم ہے صحیح یہ ہے کہ چوتھے آسمان پر تھے۔ اسی طرح ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے : یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–57

1:۔ حکم نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ ادریس (علیہ السلام) سفید لمبے قد کے آدمی تھے پیٹ موٹا، سینہ چوڑا، جسم پر تھوڑے بال اور سر پر زیادہ بال تھے ایک آنکھ دوسری آنکھ سے بڑی تھی اور ان کے سینے پر ایک سفید داغ تھا برص کے علاوہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کا ظلم اور احکام الہی میں حدود سے تجاوز کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹے آسمان پر اٹھا لیا اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ورفعنہ مکانا علیا “۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ سے روایت کیا کہ ادریس (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف بھیجا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّرَفَعْنٰهُ : اور ہم نے بلند کیا ان (علیہ السلام) کو ] [مَكَانا عَلِيًّا : ایک بالا تر مقام پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–58

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے باہمی رشتے اور ان کے منتسبین کے دو گروہ ابتدائے سورت سے یہاں تک متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے اب آیت بالا میں فرمایا کہ یہ سب وہ حضرات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ان کو نبوت سے سرفراز کیا اور یہ تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل سے تھے اور ان میں سے بعض وہ حضرات تھے جو ان لوگوں کی نسل سے تھے جنھیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔ عموماً حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد دنیا میں جو بھی آبادی ہے انھیں کی نسل سے ہے۔ لہٰذا اس کے بعد آنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) انھیں کی نسل سے ہوئے البتہ ادریس (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–57

قصہ ششم حضرت ادریس (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ادریس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و رفعنٰہ مکانا (ربط) یہ چھٹا قصہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جد امجد تھے۔ آپ (علیہ السلام) کا صل نام اخنوخ ہے اور ادریس لقب ہے چونکہ آپ کتابوں کو بکثرت پڑھتے تھے اس لیے آپ کا یہ لقب ہوا۔ آپ (علیہ السلام) درزی کا کام کرتے تھے سب سے پہلے آپ (علیہ السلام) ہی نے کپڑا سیا ہے اور سلا ہوا کپڑا سب سے پہلے آپ ہی نے پہنا ہے۔ آپ سے پہلے لوگ حیوانات کی کھالیں پہنا کرتے تھے۔ کتابت اور قلم حساب اور ترازو، پیمانہ اور ہتھیار کے موجد بھی آپ (علیہ السلام) ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–57

40:۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) بھی بہت ہی سچے اور اللہ کے نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت بلند مرتبہ عطا فرمایا تھا۔ لیکن وہ متصرف و کارساز نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–57

ربط آیات : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے انکے اور انکے والد کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت نرم طریقے سے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی مگر والد نے بڑی سختی سے ڈانٹ دیا ، اور کہا کہ یہاں سے چلا جا ورنہ تمہیں سنگسار کر دوں گا ، چناچہ آپ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر گئے ، اس دوران میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی آپ کے شامل حال ہوئی اللہ آپ کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا عظیم المرتب پوتا عطا فرمایا ، یہ دونوں اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے تھے ، کفر وشرک کی تردید کرتے تھے اور لوگوں کو ان سے باز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّرَفَعْنٰہُ مَكَانًا عَلِيًّا۝ 57 رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( رع ) الرفع کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–63

تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔ واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 56–57

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ ز اِنَّـہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔ وَّرَفَعْنٰـہُ مَکَانًا عَلِیًّا۔ (مریم : 56، 57) (اور کتاب میں حضرت ادریس کو یاد کیجیے، بیشک وہ صدیق اور نبی تھے۔ اور ہم نے انھیں رتبہ بلند پر پہنچایا۔ ) حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر یہاں جس اہتمام کے ساتھ سلسلہ انبیاء کی تاریخ بیان کرتے ہوئے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر انھیں جن خطابات سے نوازا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول تھے اور ان کی زندگی میں یقینا ایثار و قربانی، تبلیغ و دعوت سرفروشی کے عظیم کارنامے درخشندہ تھے۔ انھیں دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 56–57

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) کی سیرت کا بیان۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں کافی حد تک اہل علم کا خیال ہے کہ آپ نوح (علیہ السلام) سے پہلے مبعوث کیے گئے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نسل اور مدت کے اعتبار سے حضرت آدم (علیہ السلام) کے قریب تر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی سچے نبی ہونے کے لقب سے نوازا ہے اور ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو بلند مقام پر اٹھا لیا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے دو اوصاف بالخصوص ذکر کیے گئے ہیں۔ مسائل 1۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نہایت ہی سچے اللہ کے پیغمبر تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مرادِ رفع : 57: وَّ رَفَعْنٰـہُ مَکَانًا عَلِیًّا (اور ان کو ہم نے بلند کیا اونچے مکان پر) مکان سے مراد یہاں شرف نبوت اور اللہ کے ہاں مرتبہ ہے بعض نے کہا کہ رفع مکان سے مراد چوتھے آسمان کی طرف اٹھانا ہے اور فرشتے ان کو اٹھا کرلے گئے تھے نبی اکرم ﷺ نے معراج کی رات ان کو دیکھا۔ حضرت حسن رحمۃ اللہ (رح) کا قول ہے کہ رفع سے مراد جنت کی طرف اٹھانا ہے کیونکہ کوئی چیز جنت سے اعلی نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کثرت عبادت کی وجہ سے وہ ملائکہ کے محبوب بن گئے انہوں نے موت کے فرشتے کو کہا کہ مجھے موت چکھائو تاکہ وہ مجھ پر آسان ہوجائے اس نے ایسا کیا پھر اللہ کے حکم سے وہ دوبارہ زندہ کئے گئے پھر اس کو کہا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

57۔ ورفعناہ مکاناعلیا، اس سے مراد جنت ہے اور بعض حضرات کے نزدیک دنیا میں بلند مرتبہ کا حاصل ہوجانا ہے بعضنے کہ اس سے مراد چوتھے آسمان پر اٹھایا گیا یہ ہے۔ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ شب معراج میں رسول اللہ نے حضرت ادریس کو چو تھے آسمان پر دیکھا تھا، یہ حدیث سورة بنی اسرائیل اور سو رہ نجم میں بیان کردی گئی۔ کعب بن احبار کا بیان ہے کہ حضرت ادریس ایک روز دن بھرچلے اور دھوپ کی تیزی اور تپش سے آپ کو تکلیف ہوئی بارگاہ الٰہی میں عرض کیا میرے رب ایک روز دھوپ کی تپش میں چلنے سے مجھے اتنی تکلیف ہوئی پانچ سوبرس کی مسافت جو ایک دن میں چلنے پر مجبور ہوا اس کی کیا حالت ہوگی ؟ اے میرے رب اس سورج کی گرمی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–57

56۔ 57:۔ حضرت ادریس ( علیہ السلام) کے نسب میں علماء کا بڑا اختلاف ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول جو بغیر سند کے معلق طور پر بیان کیا گیا ہے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادریس ( علیہ السلام) اور الیاس ایک ہی پیغمبر کے نام ہیں اس صورت میں حضرت ادریس گویا بنی اسرائیل میں کے ایک پیغمبر ہیں کیونکہ حضرت الیاس تو حضرت ہارون کے پڑپوتے ہیں بعضے مفسر کہتے ہیں کہ حضرت ادریس حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پوتے ہیں اس آخری قول کو اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے کیونکہ اس معلق قول کی سند قوی نہیں ہے اسی طرح حضرت ادریس کے زندہ آسمان پر جانے میں اور اب ان کے زندہ ہونے میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 57 یعنی اس کتاب کریم میں تعظیم و اجلال اور صفات کمال سے متصف ہونے کے اعتبار سے ادریس کا ذکر کرو ! (انہ کان صدیقاً نبی تاً ) اللہ تعالیٰ نے ان کو بیک وقت صدیقیت۔۔۔ جو تصدیق تام، علم کامل، یقین ثابت اور عمل صالح کی جامع ہے۔۔۔ اور اپنی وحی اور راسلت کے لئے چن لیا۔ (ورفعنہ مکاناً علیاً ) یعنی اللہ تعالیٰ نے جہانوں میں ان کا ذکر اور مقربین کے درمیان ان کا درجہ بلند کیا۔ پس وہ ذکر کے لحاظ سے بھی بلند تھے اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بھی بلند۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–57

ملیاً کے معانی قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 55–57

65 حضرت ادریس کے رفع کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو ایک بڑے بلند مرتبے تک پہنچا دیا تھا "۔ یعنی اس رفع سے مراد حسی رفع نہیں بلکہ معنوی رفع ہے۔ جس طرح کہ کئی اصحاب علم و فضل کا کہنا ہے۔ سو اس " علوّ " سے مراد مراتب و درجات کی وہ بلندی ہے جس سے آنجناب کو شرف نبوت و رسالت اور قرب و زلفیٰ کے ذریعے نوازا اور سرفراز کیا گیا تھا۔ ( مدارک التنزیل، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ جبکہ بعض دوسرے حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد حسی اور جسمانی رفع ہی ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو جسمانی طور پر آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اور اسی دوسرے قول کی تائید صحیحین کی اس روایت سے ہوتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–58

مختلف انبیاء کا مختصر ذکر تشریح : سیدنا اسحق، سیدنا موسیٰ ، سیدنا ہارون اور سیدنا اسمعٰیل (علیہم السلام) کا ذکر بڑے پیارے انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ سب انبیاء بڑے ہی نیک، مستقل مزاج اور مقبول الٰہی بندے تھے ان میں سے ایک اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ اللہ نے ان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ” اور بیشک وہ وعدے کے سچے اور ہمارے نبی تھے ! اور اپنے گھر والوں کو نمازو زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے رب کے پسندیدہ تھے۔ “ سیدنا ادریس (علیہ السلام) کا زمانہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سیدنا نوح (علیہ السلام) کے درمیان کا زمانہ تھا۔ آپ کو بھی رب العزت نے ایک خاص مقام دیا تھا آپ بڑے سچے متقی اور علوم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–65

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔ (حفاظت الہیہ) یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے جیسا کہ حدیث معراج میں ہے کہ چاہیے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں رونا جائز ہے (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:57) مکانا علیا۔ بلند مقام ۔ یعنی شان ومرتبت میں بلند ۔ یعنی مرتبہ نبوت و تقرب الی اللہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–58

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58 مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 58 سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–57

حضرت ادریس (علیہ السلام) کا بیان اور ان سے شروع ہونے والے علوم وفنون کا بیان حضرت ادریس (علیہ السلام) کا نام اخنوخ ہے، اور آپ حضرت نوح (علیہ السلام) کے والد کے دادا ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد آپ ہی پہلے رسول ہیں۔ آپ کے والد حضرت شیث بن آدم ہیں۔ سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں۔ کپڑوں کے سینے اور سلے ہوئے کپڑوں کے پہننے کی ابتدا بھی آپ ہی سے ہوئی۔ آپ سے پہلے لوگ کھالیں پہنتے تھے۔ سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے ، ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے، اور علم نجوم و حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں۔ یہ سب کام آپ ہی سے شروع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تیس صحیفے نازل کئے، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 51–58

[20] رسول۔ صاحب شریعت ہوتا ہے لیکن نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ شریعت نہیں لاتا بلکہ پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء شریعت موسوی کی تبلیغ کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–57

(ف 3) حضرت ادریس (علیہ السلام) کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں درس وتعلیم سے بہت زیادہ شغف تھا ، چناچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے ضروریات ادلیہ میں بہت سی چیزیں ایجاد کیں ، ان کا زمانہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلا ہے رفعت مکانی سے مراد درجات میں برتری ہے ۔ حل لغات : مخلصا : خالص کرلیا گیا ، خالص کیا ہوا ، برگزیدہ ، اھلہ : ہو سکتا ہے اس کے معنی علاوہ اپنے گھروں کے جاننے والوں اور معتقد بن گئے ہوں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-57 اور ہم نے اس کو بلند مقام پر پہنچایا اور اس کو مقام عالی پر اٹھا لیا۔ مکان اعلیٰ کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ اکثر ا ن میں سے اسرائیلی ہیں جن پر علما نے سخت تنقید کی ہے خصوصاً ابن کثیر سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ان کے درجات عالیہ اور مراتب علیا کا ذکر فرمایا ہے اور اس بلندی سے ان کی معنوی بلندی مراد ہے ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں لکھا ہے کہ حضرت ادریس پہلے تھے حضرت نوح سے حساب ستاروں کی چال کا اور لکھنا اور سینا کہتے ہیں انہیں سے سکیھا خلق نے ملک الموت ان سے آشنا تھا ایک بار آزمانے کو اپنی جان بدن سے نکلوائی پھر ڈال دی اور بہشت کی سیر مانگی پھر وہاں رہ گئے اللہ کے حکم سے، حضرت سے ملنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 55–58

ف 3۔ یعنی جن کا ذکر شروع سورت سے یہاں تک ہوا یعنی زکر یا (علیہ السلام) سے ادریس (علیہ السلام) تک۔ 4۔ یعنی باوجود اس مقبولیت و اختصاص کے ان سب حضرات موصوفین کی عبدیت کی یہ کیفیت تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ادریس (علیہ السلام) کے درجات کو بلند کرنے کا اشارہ قرآن کریم میں : 57۔ فرمایا ” ہم نے اس کو بڑے ہی بلند مقام پر پہنچا دیا تھا “ یہی وہ اشارہ ہے جس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ ادریس (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا چناچہ نقل ہے کہ ایک بار ادریس (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی کہ ’ اے ادریس ! تمام اہل دنیا جس قدر روزانہ نیک عمل کریں گے ان سب کے برابر میں تجھ کو ہر روز اجر عطا کروں گا ، ادریس (علیہ السلام) نے یہ سنا تو ان کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میرے اعمال میں روز افزوں اضافہ ہو اور اس لئے عمر کا حصہ طویل ہوجائے تو بہت ہی اچھا ہے ۔ انہوں نے وحی الہی اور اپنے خیال کو ایک رفیق فرشتہ پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَرَ‌فَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا "And We raised him to a high place." - 19:57. It means that he was granted a special position among prophets and was close to Allah Ta` ala. There are also other versions about his ascent to the sky, about which Ibn-e-Kathir has said ھٰذا من اخبار کعب الاحبار الاسرایٔلیات وفی بعضہ نکارۃ "This is taken from the traditions of the Israelites as reported by Ka'ab Al-Ahbar, some of which are disputed, and unfamiliar." The Qur'anic words are not specific on the subject whether he was given a sublime position or was physically lifted to the sky. Therefore, his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

34. The plain meaning is that God had favored Idris with a high rank, but according to the Israelite traditions, God took up Idris (Enoch) to heavens. The Bible says: And he was not; for God took him, but the Talmud has a long story to tell, which ends with the words: Enoch ascended to heaven in a whirlwind, with chariot and horses of fire.

Read the full tafseer →