Explained with ayahs 56–57
حضرت ادریس ؑ کا تعارف۔
حضرت ادریس ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ آپ سچے نبی تھے اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ کو ہم نے بلند مکان پر اٹھالیا۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس ؑ سے ملاقات کی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام ابن جریر ؒ نے ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے حضرت کعب ؓ سے سوال کیا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت ادریس ؑ کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ نے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 33
حضرت ادریس کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بنی اسرائیل میں سے کوئی نبی تھے۔ مگر اکثریت اس طرف گئی ہے کہ وہ حضرت نوح سے بھی پہلے گزرے ہیں۔ نبی ﷺ سے کوئی صحیح حدیث ہم کو ایسی نہیں ملی جس سے ان کی شخصیت کے تعین میں کوئی مدد ملتی ہو۔ البتہ قرآن کا ایک اشارہ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ وہ حضرت نوح سے مقدم ہیں۔ کیونکہ بعد والی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ نبی (جن کا ذکر اوپر گزرا ہے) آدم کی اولاد، نوح کی اولاد، ابراہیم کی اولاد اور اسرائیل کی اولاد سے ہیں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ حضرت یحیی، عیسیٰ اور موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل میں سے ہیں، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ ، حضرت ادریس ؑ حضرت نوح ؑ سے ایک ہزار سال پہلے حضرت نوح ؑ کے اجداد میں سے ہیں (روح المعافی بحوالہ مستدرک حاکم) اور یہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی و رسول ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے تیس صحیفے نازل فرمائے (کمافی حدیث ابی ذر زمخشری) اور ادریس ؑ سب سے پہلے انسان ہیں جن کو علم نجوم اور حساب بطور معجزہ عطا کیا گیا (بحر محیط) اور سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے قلم سے لکھنا اور کپڑا سینا ایجاد کیا ان سے پہلے لوگ عموماً جانوروں کی کھال بجائے لباس استعمال کرتے تھے اور سب سے پہلے ناپ تول کے طریقے بھی آپ نے ہی ایجاد فرمائے اور اسلحہ کی ایجاد بھی آپ سے شروع ہوئی۔ آپ نے اسلحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
تفسیر آیت 56 تا 57:۔ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا (56) وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا (57)
حضرت ادریس : حضرت ادریس کے متعلق اسفار یہود اور بائیبل ہسٹری میں کوئی ایسی چیز مجھے نہیں مل سکی جس کی بنیاد پر ان کی نسبت میں کوئی بات اعتماد کے ساتھ کہہ سکوں۔ قدیم و جدید مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے ان کی بنیاد تمام تر قیاسات و مفروضات پر ہے اس وجہ سے اس کا حوالہ دینا بےفائدہ ہے۔ قرآن نے جس انداز سے ان کا ذکر فرمایا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے صحیفوں میں ان کا ذکر موجود تھا اور ان کی نسبت کچھ غلط صحیح روایات بھی ان کے ہاں مشہور تھیں۔ اب یا تو یہ ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
57۔ 1 حضرت ادریس علیہ السلام، کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی تھے اور حضرت نوح ؑ کے یا ان کے والد کے دادا تھے، انہوں نے ہی سب سے پہلے کپڑے سیئے، بلندی مکان سے مراد ؟ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم رُفِعَ اِلَی السَّمَآء سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح انھیں بھی آسمان پر اٹھا لیا گیا لیکن قرآن کے الفاظ اس مفہوم کے لئے صاف نہیں ہیں اور کسی صحیح حدیث میں بھی یہ بیان نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیلی روایات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے جو اس مفہوم کے اثبات کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مرتبے کی وہ بلندی ہے جو نبوت سے سرفراز کر کے انھیں عطا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
27: پیچھے آیت نمبر 49 میں حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں حضرت اسماعیل ؑ کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا تھا کہ ان کی اہمیت کے پیش نظر ان کا تذکرہ علیحدہ کرنا مقصود تھا جو اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یوں تو سارے انبیاء (علیہم السلام) ہی وعدے کے سچے ہوتے ہیں، لیکن حضرت اسماعیل ؑ کے لیے خاص طور پر یہ صفت اس لیے بیان فرمائی گئی ہے کہ جب انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا کہ ذبح کے وقت وہ انہیں صبر کرنے والا پائیں گے (جس کا ذکر سورة صافات میں آئے گا)۔ موت کو سامنے دیکھ کر بھی انہیں اپنا یہ وعدہ یاد رہا، اور انہوں نے مثالی صبر و ضبط کا مظاہرہ فرمایا۔ اس کے علاوہ بھی وعدے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
حضرت ادریس کے زمانے کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں اور انبیائے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں۔ اس لئے بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کو صدیق اور نبی کہتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ ایک عالی مقام شخص تھے ان کا ذکر دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔
بعض لوگوں کی رائے صہم نہ اس کی تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ انکار) یہ ہے کہ مصر کیماہرین آثار قدیمہ نے یہ لکھا ہے کہ ادریس دراصل ” اوزریس “ کے لفظ کا عربی تلفظ ہے اور یہ قدیم مصری زبان کا لفظ ہے جس طرح یحیٰ یوحنا کا عربی سلفظ ہے اور السیع الشیع کا عربی تلفظ ہے۔ ان کے بارے…
Read the full tafseer →10 راجح یہ ہے کہ ادریس (علیہ السلام) حضرت آدم اور نوح (علیہما السلام) کے درمیانی زمانہ میں گزرے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں نجوم و حساب کا علم، قلم سے لکھنا، کپڑا سینا، ناپ تول کے آلات اور اسلحہ کا بنانا اول ان سے چلا۔ واللہ اعلم۔ شب معراج میں نبی کریم ﷺ کی چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات ہوئی۔
Read the full tafseer →آیت 56 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ اِدْرِیْسَز ”
حضرت ادریس علیہ السلام ‘ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد اور حضرت نوح علیہ السلام سے قبل زمانے میں مبعوث ہوئے۔ ان سے پہلے ذریت آدم علیہ السلام میں حضرت شیث علیہ السلام گزر چکے تھے۔ تورات میں ان کا نام ”حنوک“ مذکور ہے۔ ان کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ حضرت ادریس اور حضرت شیث علیہ السلام دونوں نبی تھے ‘ جبکہ ان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول کے طور پر مبعوث ہوئے۔
اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا ”
اس سے پہلے آیت 41 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ”صِدِّیْقًا نَّبِیًّا“ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یعنی مزاج کے اعتبار سے حضرت ادریس علیہ السلام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
53 سیدنا ادریس کا زمانہ اور مرکز تبلیغ :۔ سیدنا ادریس سیدنا نوح سے بہت پہلے مبعوث ہوئے تھے آپ کا مرکز تبلیغ بابل تھا۔ آپ کی قوم ستارہ پرست اور مظاہر پرست تھی۔ آپ علم ہندسہ، حساب اور نجوم میں ماہر تھے۔ نیز قلم سے لکھنا، کپڑاسینا، ناپ تول کے آلات اور اسلحہ کا بنانا انہی کے دور میں شروع ہوا۔ آپ بلند پایہ خطیب تھے اور ہرمس الہرامسہ کا خطاب پایا۔ آپ کی قوم نے آپ کی دعوت ماننے سے انکار کردیا اور مخالفت پر اتر آئے۔ آخر آپ ہجرت کرکے مصر چلے آئے۔ جہاں بہت سے لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔ معراج کی رات رسول اللہ کی آپ سے چوتھے آسمان پر ملاقات ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →84۔ صدیق کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 60، 62۔ (آیت) ” ادریس “۔ اغلب یہ ہے کہ یہ وہی نبی ہیں، جن کا نام توریت میں حنوک آیا ہے، یہ قابیل کے فرزند اکبر تھے۔ (پیدائش۔ 4: 17) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کے پوتے۔ توریت سے ان کے مزید حالات یہ ملتے ہیں :۔” اور حنوک 65 برس کا ہوا کہ اس سے متوسلح پیدا ہوا۔ اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک 300 برس خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا، اور اس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں اور حنوک کی ساری عمر 365 برس کی ہوئی۔ اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا (پیدائش 5: 21۔ 23) بعض مورخین نے ان کا زمانہ 3284 تا 3017 ق، م۔ متعین کیا ہے واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
آیت نمبر 51 تا 59
ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس…
Read the full tafseer →واذکر فی الکتب ادریس انہ کان صدیقا نبیا۔ اور کتاب میں ادریس کا تذکرہ پڑھو ‘ بلاشبہ وہ صدیق
نبی تھے ‘ ادریس حضرت نوح ( علیہ السلام) کے پردادا اور حضرت شیث ( علیہ السلام) کے نواسے تھے ‘ آپ کا نام اخنوخ تھا درس کتب کی وجہ سے آپ کو ادریس کہا جاتا تھا (بہت پڑھنے والے) بیضاوی نے لکھا ہے ادریس غیر منصرف ہے (اس سے معلوم ہوا کہ یہ عربی نام نہیں) پھر درس سے مشتق ہونے کا کوئی معنی نہیں ہاں یہ ممکن ہے کہ جس زبان کا یہ لفظ ہو اس میں بھی لفظ ادریس کا معنی (کثیر الدرس یا اس کے قریب کوئی معنی ہو اور اسی بنا پر ادریس کو ادریس کہا جاتا ہو) عربی معنی کے موافق ہو۔ اللہ نے حضرت ادریس پر تیس صحیفے نازل فرمائے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(56۔ 57) اور قرآن کریم میں حضرت ادریس ؑ کا بھی ذکر کیجیے بیشک وہ اپنے ایمان میں بڑے سچے نبی تھے اور ہم نے ان کو جنت میں بلند مرتبہ تک پہنچایا۔
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ۔۔ : یہ چھٹا قصہ ادریس ؑ کا ہے، بعض مفسرین نے ادریس ؑ کو بنی اسرائیل کے انبیاء میں شمار کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ معراج کے موقع پر جب نبی ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے نبی ﷺ کو ”مَرْحَبًا بالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ“ (صالح نبی اور صالح بھائی کو مرحبا) کہہ کر خطاب کیا اور آدم اور ابراہیم ؑ کی طرح ”مَرْحَبًا بالْوَلَدِ الصَّالِحِ“ (صالح بیٹے کو مرحبا) نہیں کہا۔ حافظ ابن حجر ؓ کے مطابق امام بخاری ؓ کی یہی رائے ہے، کیونکہ ”بَابُ ذِکْرِ إِدْرِیْسَ عَلَیْہِ السَّلاَم“ میں وہ حدیث معراج لائے ہیں۔ دیکھیے فتح الباری ”بَابُ ذِکْرِ اِدْرِیْسَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(تفسیر 54-55) اس میں چھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکر فی الکتب اسمعیل اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : اس اسماعیل سے مراد اسماعیل بن حزقیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا تھا تو انہوں نے ان کے سر کی جلد اتار لی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قوم کو عذاب دینے میں اختیار دیا تھا تو انہوں نے عفو طلب کیا اور اللہ تعالیٰ کے ثواب پر راضی ہوئے اور ان کا معاملہ، معاف کرنے یا عذاب دینے میں اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ یہ اسماعیل ذبیح ابوالعربب ابن ابراہیم ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : ذبیح حضرت اسحاق تھے۔ پہلا قول اظہر ہے جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
1:۔ حکم نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ ادریس (علیہ السلام) سفید لمبے قد کے آدمی تھے پیٹ موٹا، سینہ چوڑا، جسم پر تھوڑے بال اور سر پر زیادہ بال تھے ایک آنکھ دوسری آنکھ سے بڑی تھی اور ان کے سینے پر ایک سفید داغ تھا برص کے علاوہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کا ظلم اور احکام الہی میں حدود سے تجاوز کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹے آسمان پر اٹھا لیا اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ورفعنہ مکانا علیا “۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ سے روایت کیا کہ ادریس (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف بھیجا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا…
Read the full tafseer →[وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [اِدْرِيْسَ : ادریس (علیہ السلام) کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [صِدِّيْقًا نَّبِيًّا : سچے نبی ]
نوٹ۔ 2: حضرت ادریس (علیہ السلام) کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بنی اسرائیل سے بھی پہلے گزرے ہیں۔ کوئی حدیث ایسی نہیں ملی جس سے ان کی شخصیت کے تعین میں کوئی مدد ملتی ہو۔ البتہ قرآن کا ایک اشارہ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ وہ نوح (علیہ السلام) سے پہلے ہیں۔ کیونکہ بعد والی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ انبیاء جن کا ذکر گزرا ہے، آدم (علیہ السلام) کی اولاد، نوح (علیہ السلام) کی اولاد، ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور اسرائیل…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابْ اِدْرِیْسَ ) (اور کتاب میں ادریس کا ذکر کیجیے) (اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبْیًّا) (بلاشبہ وہ بڑے سچے تھے نبی تھے) (وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا) (اور ہم نے ان کو بلند مرتبہ پر اٹھا دیا) اس میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کو صدیق اور نبی بتایا اور یہ بتایا کہ ہم نے انھیں بلند مرتبہ پر اٹھا دیا بلند مرتبہ کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں عام طور سے مشہور ہے کہ انھیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور ایک قول یہ ہے کہ آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کے بعد وہاں ان کی موت ہوگئی مفسر ابن کثیر ؓ نے صفحہ 126 ج 3 پر حضرت مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ ادریس رفع لم یمت کما رفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
قصہ ششم حضرت ادریس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ادریس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و رفعنٰہ مکانا
(ربط) یہ چھٹا قصہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جد امجد تھے۔ آپ (علیہ السلام) کا صل نام اخنوخ ہے اور ادریس لقب ہے چونکہ آپ کتابوں کو بکثرت پڑھتے تھے اس لیے آپ کا یہ لقب ہوا۔ آپ (علیہ السلام) درزی کا کام کرتے تھے سب سے پہلے آپ (علیہ السلام) ہی نے کپڑا سیا ہے اور سلا ہوا کپڑا سب سے پہلے آپ ہی نے پہنا ہے۔ آپ سے پہلے لوگ حیوانات کی کھالیں پہنا کرتے تھے۔ کتابت اور قلم حساب اور ترازو، پیمانہ اور ہتھیار کے موجد بھی آپ (علیہ السلام) ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
40:۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) بھی بہت ہی سچے اور اللہ کے نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت بلند مرتبہ عطا فرمایا تھا۔ لیکن وہ متصرف و کارساز نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے انکے اور انکے والد کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت نرم طریقے سے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی مگر والد نے بڑی سختی سے ڈانٹ دیا ، اور کہا کہ یہاں سے چلا جا ورنہ تمہیں سنگسار کر دوں گا ، چناچہ آپ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر گئے ، اس دوران میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی آپ کے شامل حال ہوئی اللہ آپ کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا عظیم المرتب پوتا عطا فرمایا ، یہ دونوں اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے تھے ، کفر وشرک کی تردید کرتے تھے اور لوگوں کو ان سے باز…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ 0ۡاِنَّہٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا 56ۤۙ
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ،
( ک ت ب ) الکتب ۔
الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–63
تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔
واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ ز اِنَّـہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔ وَّرَفَعْنٰـہُ مَکَانًا عَلِیًّا۔
(مریم : 56، 57)
(اور کتاب میں حضرت ادریس کو یاد کیجیے، بیشک وہ صدیق اور نبی تھے۔ اور ہم نے انھیں رتبہ بلند پر پہنچایا۔ )
حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر
یہاں جس اہتمام کے ساتھ سلسلہ انبیاء کی تاریخ بیان کرتے ہوئے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر انھیں جن خطابات سے نوازا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول تھے اور ان کی زندگی میں یقینا ایثار و قربانی، تبلیغ و دعوت سرفروشی کے عظیم کارنامے درخشندہ تھے۔ انھیں دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) کی سیرت کا بیان۔
حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں کافی حد تک اہل علم کا خیال ہے کہ آپ نوح (علیہ السلام) سے پہلے مبعوث کیے گئے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نسل اور مدت کے اعتبار سے حضرت آدم (علیہ السلام) کے قریب تر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی سچے نبی ہونے کے لقب سے نوازا ہے اور ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو بلند مقام پر اٹھا لیا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے دو اوصاف بالخصوص ذکر کیے گئے ہیں۔
مسائل
1۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نہایت ہی سچے اللہ کے پیغمبر تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند…
Read the full tafseer →56: وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ (اور کتاب میں ادریس کا تذکرہ کرو) انہیں کا نام اخنوخ تھا یہ آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے رسول ہیں اور پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا اور لباس کو سیا۔ یہ علم نجوم اور حساب میں گہری نظر رکھتے تھے آپ نے سب سے پہلے ترازو اور ماپ کے آلات اور اسلحہ ایجاد کیا اور قابیل کی اولاد سے قتال کیا۔
ایک تحقیق :
بعض لوگوں نے ان کے متعلق یہ بات کہی ہے کہ ان کو ادریس اسلئے کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کے بہت زیادہ پڑھنے والے تھے یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہ افعیل کے وزن پر درس کے لفظ سے لیا جائے تو اس میں ایک ہی سبب بنتا ہے۔ اور وہ علمیت ہے اور یہ منصرف بنے گا حالانکہ…
Read the full tafseer →56۔ واذکر فی الکتاب ادریس، ، یہ حضرت نوح کے پردادا تھے ، ان کا نام اخنوح تھا کتب کے زیادہ پڑھنے کی وجہ سے ان کا نام ادریس پڑگیا، حضرت ادریس (علیہ السلام) قلم سے لکھنے اور کپڑے سینے اور سلاہوا کپڑا پہننے کے موجد ہیں آپ سے پہلے لوگ کھالوں کو بطور لباس استعمال کرتے تھے، آپ ہی نے سب سے پہلے ہتھیار بنائے اور کافروں سے جنگ کی ، علم نجوم اور اس کے حساب کے بھی آپ ہی موجد تھے ، ان کان صدیقا نبیا۔
مکانا علیا کی مختلف تفسیریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
56۔ 57:۔ حضرت ادریس ( علیہ السلام) کے نسب میں علماء کا بڑا اختلاف ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول جو بغیر سند کے معلق طور پر بیان کیا گیا ہے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادریس ( علیہ السلام) اور الیاس ایک ہی پیغمبر کے نام ہیں اس صورت میں حضرت ادریس گویا بنی اسرائیل میں کے ایک پیغمبر ہیں کیونکہ حضرت الیاس تو حضرت ہارون کے پڑپوتے ہیں بعضے مفسر کہتے ہیں کہ حضرت ادریس حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پوتے ہیں اس آخری قول کو اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے کیونکہ اس معلق قول کی سند قوی نہیں ہے اسی طرح حضرت ادریس کے زندہ آسمان پر جانے میں اور اب ان کے زندہ ہونے میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
آیت 54
یعنی قرآن کریم میں اس عظیم نبی (حضرت اسماعیل) کا ذکر کیجیے جس سے عربی قبیلے کی نسلی چلی جو سب سے افضل اور جلیل قبیلہ ہے، جس سے اولاد آدم کے سردار، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے۔ (انہ کان صادق الوعد) یعنی وہ جو بھی وعدہ کرتے تھے اسے پورا کرتے تھے۔ اس میں وہ تمام وعدے شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے گئے اور وہ جو بندوں سے کئے گئے۔۔۔ اسی لئے جب ان کے والد نے ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے آپ سے صبر کرنے کا وعدہ کیا، چانچہ انہوں نے اپنے والد سے کہا (ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین) (الصفت :102/38) ” اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ انہوں نے یہ وعدہ پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–57
ملیاً کے معانی
قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
65 حضرت ادریس کے رفع کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو ایک بڑے بلند مرتبے تک پہنچا دیا تھا "۔ یعنی اس رفع سے مراد حسی رفع نہیں بلکہ معنوی رفع ہے۔ جس طرح کہ کئی اصحاب علم و فضل کا کہنا ہے۔ سو اس " علوّ " سے مراد مراتب و درجات کی وہ بلندی ہے جس سے آنجناب کو شرف نبوت و رسالت اور قرب و زلفیٰ کے ذریعے نوازا اور سرفراز کیا گیا تھا۔ ( مدارک التنزیل، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ جبکہ بعض دوسرے حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد حسی اور جسمانی رفع ہی ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو جسمانی طور پر آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اور اسی دوسرے قول کی تائید صحیحین کی اس روایت سے ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
مختلف انبیاء کا مختصر ذکر
تشریح : سیدنا اسحق، سیدنا موسیٰ ، سیدنا ہارون اور سیدنا اسمعٰیل (علیہم السلام) کا ذکر بڑے پیارے انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ سب انبیاء بڑے ہی نیک، مستقل مزاج اور مقبول الٰہی بندے تھے ان میں سے ایک اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ اللہ نے ان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ” اور بیشک وہ وعدے کے سچے اور ہمارے نبی تھے ! اور اپنے گھر والوں کو نمازو زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے رب کے پسندیدہ تھے۔ “
سیدنا ادریس (علیہ السلام) کا زمانہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سیدنا نوح (علیہ السلام) کے درمیان کا زمانہ تھا۔ آپ کو بھی رب العزت نے ایک خاص مقام دیا تھا آپ بڑے سچے متقی اور علوم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ف 9 یہ چھوٹا قصہ حضرت ادریس کا ہے بعض مفسرین نے حضرت ادریس کو بنی اسرائیل کے انبیاء میں شمار کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ معراج کے موقع پر جب نبی ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے نبی ﷺ کو مرحبا بالنبی الصلاح وارمغ الصالح “ کہہ کر خطاب کیا اور حضرت آدم اور ابراہیم کی طرح ” مرحبا بالنبی الصالح والامغ الصالح کہہ کر خطاب کیا اور حضرت آدم اور ابراہیم کی طرح ” مرحبا بالوالد الصالح نہیں کہا اور امام بخاری کا خیال بھی یہی ہے (فتح الباری ج 13، ص 224) لیکن اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ ان کا زمانہ حضرت نوح سے بھی پہلے کا ہے بلکہ ان کو حضرت نوح کا جد اعلیٰ قرار دیا ہے ابن جریر اور ابن کثیر نے اسی رائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(19:55) مرضیا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب۔ پسند کیا ہوا۔ پسندیدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58
مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 58
سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
حضرت ادریس (علیہ السلام) کا بیان اور ان سے شروع ہونے والے علوم وفنون کا بیان
حضرت ادریس (علیہ السلام) کا نام اخنوخ ہے، اور آپ حضرت نوح (علیہ السلام) کے والد کے دادا ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد آپ ہی پہلے رسول ہیں۔ آپ کے والد حضرت شیث بن آدم ہیں۔ سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں۔ کپڑوں کے سینے اور سلے ہوئے کپڑوں کے پہننے کی ابتدا بھی آپ ہی سے ہوئی۔ آپ سے پہلے لوگ کھالیں پہنتے تھے۔ سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے ، ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے، اور علم نجوم و حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں۔ یہ سب کام آپ ہی سے شروع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تیس صحیفے نازل کئے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
[20] رسول۔ صاحب شریعت ہوتا ہے لیکن نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ شریعت نہیں لاتا بلکہ پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء شریعت موسوی کی تبلیغ کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(ف 3) حضرت ادریس (علیہ السلام) کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں درس وتعلیم سے بہت زیادہ شغف تھا ، چناچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے ضروریات ادلیہ میں بہت سی چیزیں ایجاد کیں ، ان کا زمانہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلا ہے رفعت مکانی سے مراد درجات میں برتری ہے ۔
حل لغات :
مخلصا : خالص کرلیا گیا ، خالص کیا ہوا ، برگزیدہ ،
اھلہ : ہو سکتا ہے اس کے معنی علاوہ اپنے گھروں کے جاننے والوں اور معتقد بن گئے ہوں ۔
Read the full tafseer →-56 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں اور ادریس (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیجیے بلاشبہ وہ بڑا سچا تھا نبی تھا۔
حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت نوح (علیہ السلام) کے جد میں اور حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیانی پیغمبروں میں سے ہیں۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے متعلق مشہور ہے کہ دنیا میں حساب کا طریقہ اور قلم سے لکھنا ستاروں کی گردش نجوم کا حساب درزی یعنی خیاطی کا کام ناپنے اور تولنے کے طریقے۔ آلات حرب اور اسلحہ سازی یہ کام سب ان سے چلے اور جاری ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے معراج کی شب چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات کی وہ صدیق یعنی راست باز اور بڑا سچا تھا اور اس خوبی کے ساتھ نبی بھی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
ف 3۔ یعنی جن کا ذکر شروع سورت سے یہاں تک ہوا یعنی زکر یا (علیہ السلام) سے ادریس (علیہ السلام) تک۔
4۔ یعنی باوجود اس مقبولیت و اختصاص کے ان سب حضرات موصوفین کی عبدیت کی یہ کیفیت تھی۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ال کتاب میں ادریس کا ذکر کیجئے وہ صدیق نبی تھا :
56۔ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے اور ادریس (علیہ السلام) کی بھی سچائی کی صفت ہی اجاگر کی گئی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے متعلق یقینا قوم میں اس وقت کوئی غلط نظریہ قائم تھا جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق تین جھوٹ کی بات بنائی گئی تھی ، ادریس (علیہ السلام) کے متعلق آج بھی مشہور ہے کہ وہ ایک منجم تھے اور علم تنجیم میں جھوٹ کی آمیزش اس وقت بھی تھی آج بھی ہے اور کسی نبی کا منجم ہونا نہ روایتا صحیح ہے اور نہ ہی درایتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہی جھوٹ آپ کی…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ
"And mention in the Book (the story of) Idris." - 19:56.
Sayyidna Idris (علیہ السلام) lived one thousand years before Sayyidna Nuh (علیہ السلام) and was among his ancestors. (Ruh ul-Ma` ani with reference to Mustadrak al-Hakim). He was the first Prophet after Sayyidna Adam (علیہ السلام) and Allah Ta’ ala bestowed upon him thirty books. (Abi zar- Zamkhashari). Sayyidna Idris (علیہ السلام) was the first man who was given the knowledge of astrology and mathematics through a miracle, (Bahr ul-Muhit). He was also the first man who learnt how to write with a…
Read the full tafseer →33. There is a difference of opinion as to who Prophet Idris (peace be upon him) was. Some commentators opine that he was a Prophet from among the Israelites, but the majority of them are inclined to the view that he was a Prophet before Noah (peace be upon him). There is no authentic tradition which may help determine his identity. The next (verse 58), however, supports the view that he appeared before Prophet Noah (peace be upon him). For of all the Prophets mentioned, he alone was the one who may be said to be from the descendants of Adam.
The commentators are of the opinion that Idris was…
Read the full tafseer →