Maryam 19:55

Maryam · from ayah 55

19:55

وَكَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ ۪— وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا ۟وَ كَانَ يَاۡمُرُ اَهۡلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِۖ وَكَانَ عِنۡدَ رَبِّهٖ مَرۡضِيًّا

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he used to enjoin on his people prayer and zakah and was to his Lord pleasing.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:55

وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰة کاحکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاه میں پسندیده اور مقبول

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے، اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے، اور وہ اپنے رب کے حضور مقام مرضیّہ پر (فائز) تھے (یعنی ان کا رب ان سے راضی تھا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسند کیا ہوا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتے تھے اور اپنے پروردگار کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ اپنے گھر والوں کو خاص طور پر حکم دیا کرتے تھے نماز اور زکوٰة کا، اور وہ اپنے رب کے یہاں ایک پسندیدہ انسان تھے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے رہتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ حکم دیتے تھے اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے رب کے پسندیدہ اور برگزیدہ تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He enjoined his household to observe Prayer and to give Zakah (purifying alms); and his Lord was well pleased with him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He used to enjoin Salah and Zakah upon his family, and was favourite to his Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

He used to enjoin Salah and Zakah upon his family, and was favourite to his Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he would enjoin on his family and his people the Salah and the Zakah, and his Lord was pleased with him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He enjoined upon his people worship and almsgiving, and was acceptable in the sight of his Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he used to enjoin on his people prayer and zakah and was to his Lord pleasing.

— Saheeh International

He would order his people to worship God and pay the religious tax. His Lord was pleased with him.

— Muhammad Sarwar

And he enjoined on his family prayer and almsgiving, and was one in whom his Lord was well pleased.

— Muhammad Habib Shakir

And he was wont to command his household to the Prayer and the poor-rate, and he was with his Lord an approved one. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

He used to enjoin on his people Prayer and Charity, and he was most acceptable in the sight of his Lord.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–55

ابو الحجاز ؑ۔ حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے آپ سارے حجاز کے باپ ہیں جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے پوری ہی کرتے تھے۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آجانا۔ حسب وعدہ حضرت اسماعیل ؑ وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھیرے رہے یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا اب اس شخص کو یاد آیا اس نے آکر دیکھا کہ آپ وہیں انتظار میں ہیں پوچھا کہ کیا آپ کل سے یہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب وعدہ ہوچکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–55

سورة مَرْیَم 31 کوہ طور کے داہنی جانب سے مراد اس کا مشرقی دامن ہے۔ چونکہ حضرت موسیٰ مدین سے مصر جاتے ہوئے اس راستہ سے گزر رہے تھے جو کوہ طور کے جنوب سے جاتا ہے، اور جنوب کی طرف سے اگر کوئی شخص طور کو دیکھے تو اس کے دائیں جانب مشرق اور بائیں جانب مغرب ہوگا، اس لئے حضرت موسیٰ کی نسبت سے طور کے مشرقی دامن کو " داہنی جانب " فرمایا گیا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بجائے خود پہاڑ کا کوئی دایاں یا بایاں رخ نہیں ہوتا۔ سورة مَرْیَم 32 تشریح کے لیئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء حاشیہ 206۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مصلح کا فرض ہے کہ اصلاح کا کام اپنے اہل و عیال سے شروع کرے كَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ ، حضرت اسماعیل ؑ کے خصوصی اوصاف میں ایک یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ اپنے اہل و عیال کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتے تھے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو ہر مومن مسلمان کے ذمہ واجب ہے کہ اپنے اہل و عیال کو نیک کاموں کی ہدایت کرتا رہے قرآن حکیم میں عام مسلمانوں کو خطاب ہے قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا، یعنی بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے، پھر اس میں حضرت اسماعیل کی خصوصیت کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ یہ حکم اگرچہ عام ہے اور سبھی مسلمان اس کے مکلف ہیں لیکن حضرت اسماعیل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا۔ حضرت اسماعیل کا خاص مشن : ایمان و اسلام میں حضرت اسمعیل کا جو مرتبہ تھا وہ تو اوپر کے ایک ہی لفظ " صادق الوعد " سے واضح ہوگیا۔ اب ان کے نام لیواؤں کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے۔ نماز اور زکوۃ، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، تمام حقوق اللہ اور تمام حقوق العباد کی ایک جامع تعبیر ہے۔ انہی دو چیزوں پر تمام شرائع کی بنیاد ہے جس نے ان کا اہتمام کیا اس نے تمام دین و شریعت کو قائم کیا اور جس نے ان کو ہدم کیا اس نے پورے دین کو ہدم کیا۔ خدا کا کامل الحیاء بندہ :…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 52–57

57۔ 1 حضرت ادریس علیہ السلام، کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی تھے اور حضرت نوح ؑ کے یا ان کے والد کے دادا تھے، انہوں نے ہی سب سے پہلے کپڑے سیئے، بلندی مکان سے مراد ؟ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم رُفِعَ اِلَی السَّمَآء سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح انھیں بھی آسمان پر اٹھا لیا گیا لیکن قرآن کے الفاظ اس مفہوم کے لئے صاف نہیں ہیں اور کسی صحیح حدیث میں بھی یہ بیان نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیلی روایات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے جو اس مفہوم کے اثبات کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مرتبے کی وہ بلندی ہے جو نبوت سے سرفراز کر کے انھیں عطا کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–56

27: پیچھے آیت نمبر 49 میں حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں حضرت اسماعیل ؑ کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا تھا کہ ان کی اہمیت کے پیش نظر ان کا تذکرہ علیحدہ کرنا مقصود تھا جو اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یوں تو سارے انبیاء (علیہم السلام) ہی وعدے کے سچے ہوتے ہیں، لیکن حضرت اسماعیل ؑ کے لیے خاص طور پر یہ صفت اس لیے بیان فرمائی گئی ہے کہ جب انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا کہ ذبح کے وقت وہ انہیں صبر کرنے والا پائیں گے (جس کا ذکر سورة صافات میں آئے گا)۔ موت کو سامنے دیکھ کر بھی انہیں اپنا یہ وعدہ یاد رہا، اور انہوں نے مثالی صبر و ضبط کا مظاہرہ فرمایا۔ اس کے علاوہ بھی وعدے کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 54–55

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے صادق الوعد کی صفت لائی گئی ہے۔ ہر نبی اور صالح شخص کو صادق الوعد ہونا چاہیے اور ہوتا ہے۔ لیکن حضرت اسماعیل میں یہ صفت بہت ہی نمایاں تھی اس لئے انکی خصوصی صفات میں سے یہاں اس صفت کو بیان کردیا گیا۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ” رسول نبی “ تھے ‘ لہٰذا ان کی مخصوص دعوت ہوگئی۔ عرب میں حضور کے زمانے تک بعض موحدیں پائے جاتے تھے۔ یہ انہی کی دعوت کے آثار باقیہ تھے۔ ان کے دین اور دعوت کے ارکان بھی یہاں گنوائے گئے ہیں ‘ زکوۃ اور صلوۃ اور تظہیراہل خانہان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ اللہ کی بار گاہ میں وہ پسندیدہ انسان تھے۔ رضائے خداوندی بھی اس سورة کی خصوصیات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 کیونکہ گھر والے قریب ہونے کی وجہ سے ہدایت کے اول مستحق ہیں، ان سے آگے کو سلسلہ چلتا ہے۔ اسی لیے دوسری جگہ فرمایا (وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا) 20 ۔ طہ :132) اور (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا) 66 ۔ التحریم :6) خود نبی کریم ﷺ کو بھی یہ ہی ارشاد ہوا (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ) 26 ۔ الشعرآء :214) بعض کہتے ہیں کہ یہاں " اہل " سے ان کی ساری قوم مراد ہے۔ چناچہ عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں " اَہْلَہ،" کی جگہ " قَوْمَہ،" تھا۔ واللہ اعلم۔ 9 یعنی دوسروں کو ہدایت کرنا اور خود اپنے اقوال و افعال میں پسندیدہ مستقیم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 وَکَانَ یَاْمُرُ اَہْلَہٗ بالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِص وَکَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِیًّا ” آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہت منظور نظر تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 اصلاح کا آغاز گھر سے ہونا چاہئے :۔ اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اصلاح اور دین کی دعوت کا آغاز اپنے بعد اپنے گھر سے کرنا چاہئے پھر بتدریج اس کا حلقہ وسیع کرتے جانا چاہئے۔ اور یہی سب پیغمبروں اور سلف صالحین کا دستور رہا ہے۔ دوسری یہ کہ نماز اور زکوٰۃ ایسے اہم ارکان اسلام ہیں۔ جن کا حکم تمام انبیاء کی شریعتوں میں موجود رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

83۔ یعنی آپ اللہ کے مقبول و برگزیدہ بندہ تھے، نہ کہ خدانخواستہ مردود وغیر مقبول، جیسا کہ یہود اور نصرانیوں نے گڑھ لیا ہے، اللہ کے ہاں پسندیدہ تو وہی ہوسکتا ہے، جو ادائے طاعات و عبادات میں درجہ کمال پر ہو۔ وھو فی نھایۃ المدح لان المرضی عند اللہ ھو الفائز فی کل طاعاتہ باعلی الدرجات (کبیر) (آیت) ” اھلہ “۔ آپ کی بیوی صاحبہ بھی مصر ہی کی ایک خاتون تھیں، توریت میں ہے :۔” اور وہ فاران کے بیابان میں رہا، اور اس کی ماں نے ملک مصر سے ایک عورت اس کے بیاہنے کو لی “۔ (پیدائش۔ 21: 21) اھل سے مراد محض گھروالے بھی ہوسکتے ہیں، جیسا کہ امام رازی اور صاحب کشاف وصاحب بیضاوی نے لیا ہے۔ اور تمام امت بھی مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–59

آیت نمبر 51 تا 59 ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکان یامر اہلہ بالصلوۃ والزکوۃ وکان عند ربہ رضیا۔ اور وہ اپنے گھر والوں کو (خصوصیت کے ساتھ) نماز پڑھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے ہاں وہ برگزیدہ پسندیدہ تھے حضرت اسماعیل خصوصیت کے ساتھ اپنے گھر والوں کو صلوٰۃ و زکوٰۃ کا حکم اس لئے دیتے تھے کہ گھر والوں کی اصلاح سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی آدمی کو چاہئے کہ سب سے پہلے اپنی درستی کی طرف توجہ کرے پھر اقرب ترین لوگوں کی طرف اصلاح کا رخ موڑے پھر دوسرے لوگوں کی اصلاح کی فکر کرے) اللہ نے فرمایا ہے وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ وَأْمُرْ اَہْلَکَ بالصَّلٰوۃِ ۔ قُوْا اَنْفَسُکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًابعض علماء کا قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) اور وہ اپنی قوم کو نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ وصدقات دینے کا بھی حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ : اسماعیل ؑ کے اس عمل کی پابندی کا حکم ہمارے نبی ﷺ کو اور ان کے ذریعے سے ہمیں بھی دیا گیا، چناچہ فرمایا : (وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۭ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۭ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى) [ طٰہٰ : 132 ] ”اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچانے کا حکم دیا۔ دیکھیے سورة تحریم (6)۔ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 54–56

(تفسیر 54-55) اس میں چھ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکر فی الکتب اسمعیل اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : اس اسماعیل سے مراد اسماعیل بن حزقیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا تھا تو انہوں نے ان کے سر کی جلد اتار لی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قوم کو عذاب دینے میں اختیار دیا تھا تو انہوں نے عفو طلب کیا اور اللہ تعالیٰ کے ثواب پر راضی ہوئے اور ان کا معاملہ، معاف کرنے یا عذاب دینے میں اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ یہ اسماعیل ذبیح ابوالعربب ابن ابراہیم ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : ذبیح حضرت اسحاق تھے۔ پہلا قول اظہر ہے جیسا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 54–55

1:۔ حاکم نے سمرہ کے طریق سے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اسماعیل (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے صادق الوعد کی صفت سے ذکر فرمایا اور وہ ایک ایسے آدمی تھے جن کی طبیعت میں تیزی تھی اللہ کے دشمنوں سے ہر وقت جہاد میں مصروف رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو دشمنوں پر فتح عطا فرمائی اور کافروں کے خلاف سخت لڑائی کرنے والے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرتے تھے چھوٹا سر تھا گردن موٹی تھی ہاتھ اور پاوں لمبے تھے جب آپ کھڑے ہوتے تو آپ کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچتے چھوٹی آنکھوں اور لمبے ناک چوڑے کندھے انگلیاں والے تھے کفار پر نہایت سخت اور شدید تھے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَكَان يَاْمُرُ : اور حکم کرتے تھے ] [اَهْلَهٗ : اپنے گھر والوں کو ] [بِالصَّلٰوةِ : نماز کا ] [وَالزَّكٰوةِ : اور زکٰوۃ کا ] [وَكَان : اور وہ تھے ] [عِنْدَ رَبِهٖ : اپنے رب کے پاس ] [مَرْضِيًّا : پسند کئے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَکَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ ) (اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے) (وَکَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِیًّا) (اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–55

قصۂ پنجم حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ و السلام قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب اسمٰعیل۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وکان عندربہٖ مرضیا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اول فرزند ہیں اور عرب حجاز کے جد اعلیٰ ہیں اور خاتم الانبیاء ﷺ کا ظہور ان کے صلب سے ہوا اور ان کی شریعت بھی مستقل تھی اور عشق اور فدائیت میں ان کی خاص شان ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قصہ کو ان کے باپ کے قصہ کے ذیل میں ذکر نہیں فرمایا بلکہ جداگانہ طریقہ سے ان کا ذکر فرمایا اور اس سلسلہ میں ان کی چار صفتیں ذکر فرمائیں۔ (1) صادق الوعد تھے۔ (2) رسول اور نبی تھے۔ (3) اہل و عیال کو جانی اور مالی عبادت کا حکم دیتے تھے اصلاح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 54–55

39:۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) وعدے کے سچے اور اللہ کے رسول تھے۔ ” وَ کَانَ یَامُرُ الخ “ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قدر فرمانبردار تھے کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھی تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں بجا لانے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ جو خود اس حد تک اللہ کا فرمانبردار ہو۔ وہ کس طرح متصرف ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–57

ربط آیات : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے انکے اور انکے والد کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت نرم طریقے سے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی مگر والد نے بڑی سختی سے ڈانٹ دیا ، اور کہا کہ یہاں سے چلا جا ورنہ تمہیں سنگسار کر دوں گا ، چناچہ آپ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر گئے ، اس دوران میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی آپ کے شامل حال ہوئی اللہ آپ کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا عظیم المرتب پوتا عطا فرمایا ، یہ دونوں اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے تھے ، کفر وشرک کی تردید کرتے تھے اور لوگوں کو ان سے باز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَانَ يَاْمُرُ اَہْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ۝ 0۠ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِيًّا۝ 55 كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] فذلک تنبيه علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–63

تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔ واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 54–55

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ ز اِنَّـہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلاً نَّبِیًّا۔ وَکَانَ یَاْمُرُاَھْلَـہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ ص وَکَانَ عِنْدَ رَبِّـہٖ مَرْضِیًّا۔ (مریم : 54، 55) (اور کتاب میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی سرگزشت کو ذکر کیجیے، بیشک وہ وعدے کے پکے اور رسول نبی تھے۔ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے۔ ) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ قرائن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے مراد حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعوت کا خلاصہ : اللہ کی توحید کے بعد دین میں سب سے پہلے جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ نماز اور زکوٰۃ ہے انھی سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ ان کا اہتمام اور ابلاغ کرنے کی بناء پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اپنے رب کے مقرب ترین بندے بن گئے۔ نماز اللہ اور بندے کے درمیان عابد اور معبود ہونے کی ترجمان ہے۔ نماز سے بڑھ کر انسان کا اپنے رب کے قریب ہونے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ پنجگانہ نماز سے قلبی اطمینان، جسمانی طہارت اور یہ مسلمانوں کا آپس میں رابطے کا قریب ترین ذریعہ ہے۔ زکوٰۃ طبیعت کے بخل اور سرمایہ داری کے خلاف ایک طرح کی سالانہ مہم ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

55: وَکَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ (وہ اپنے اہل کو نماز اور زکوۃ کا حکم کیا کرتے تھے) اھلہؔ سے ان کی امت مراد ہے۔ کیونکہ پیغمبرامت کا باپ ہوتا ہے اور امت والے اس کے اہل بیت ہوتے ہیں۔ اس میں دلیل ہے کہ وہ دوسروں کے متعلق مدافعت کرنے والے نہ تھے۔ صلوۃ ٗزکوۃ کا خاص طور پر اسلئے ذکر کیا کیونکہ یہ دونوں عبادتیں تمام عبادات بدنیہ اور مالیہ کی بنیاد ہیں۔ وَکَانَ عِنْدَرَبِّہٖ مَرْضِیًّا (وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھا) قراءت : مَرْضِیًّا کو مَرْضُوًّا اصل کی بنیاد پر پڑھا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

55۔ وکان یامر اھلہ، انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا، بعض نے کہا کہ آپ نے اپنے اہل و عیال اور پوری امت کو حکم دیا۔ ، بالصلوۃ والزکوۃ ، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جو شریعت فرض کی ہے اور جس کی تعمیل اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، پر فرض کی تھی اور وہی ملت حنفیہ ہم پر بھی فرض ہے۔ وکان عندربہ مرضیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم اور اعمال و افعال کی استقامت کے پابند تھے، اس لیے اللہ ان سے راضی تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–55

54۔ 55:۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں معتبر سند سے ابن شہاب زہری کا قول ہے کہ اسمعیل (علیہ السلام) نے ایک شخص سے کچھ وعدہ کیا تھا پھر وہ شخص وعدہ پر نہیں آیا تو اسماعیل (علیہ السلام) ایک برس تک اس کا انتظار کرتے رہے 1 ؎ ان آیتوں میں اسماعیل (علیہ السلام) کو وعدہ کا سچا جو فرمایا اس کی تفسیر اس قصہ سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے یہ محمد بن مسلم ابن شہاب سبا میں آئے گا کہ پانی کا بند ٹوٹ جانے کی آفت سے جب قوم سبا کے یمنی عرب تباہ ہوگئے تو ان میں کے کچھ قبیلے یمن سے اٹھ کر مدینہ منورہ میں آن بسے یہ وہی لوگ ہیں جن کا لقب خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ میں انصار قرار پایا۔ صحیح بخاری میں سلمۃ بن الاکوع سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–56

آیت 54 یعنی قرآن کریم میں اس عظیم نبی (حضرت اسماعیل) کا ذکر کیجیے جس سے عربی قبیلے کی نسلی چلی جو سب سے افضل اور جلیل قبیلہ ہے، جس سے اولاد آدم کے سردار، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے۔ (انہ کان صادق الوعد) یعنی وہ جو بھی وعدہ کرتے تھے اسے پورا کرتے تھے۔ اس میں وہ تمام وعدے شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے گئے اور وہ جو بندوں سے کئے گئے۔۔۔ اسی لئے جب ان کے والد نے ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے آپ سے صبر کرنے کا وعدہ کیا، چانچہ انہوں نے اپنے والد سے کہا (ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین) (الصفت :102/38) ” اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ انہوں نے یہ وعدہ پورا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–57

ملیاً کے معانی قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 55–57

65 حضرت ادریس کے رفع کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو ایک بڑے بلند مرتبے تک پہنچا دیا تھا "۔ یعنی اس رفع سے مراد حسی رفع نہیں بلکہ معنوی رفع ہے۔ جس طرح کہ کئی اصحاب علم و فضل کا کہنا ہے۔ سو اس " علوّ " سے مراد مراتب و درجات کی وہ بلندی ہے جس سے آنجناب کو شرف نبوت و رسالت اور قرب و زلفیٰ کے ذریعے نوازا اور سرفراز کیا گیا تھا۔ ( مدارک التنزیل، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ جبکہ بعض دوسرے حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد حسی اور جسمانی رفع ہی ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو جسمانی طور پر آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اور اسی دوسرے قول کی تائید صحیحین کی اس روایت سے ہوتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–58

مختلف انبیاء کا مختصر ذکر تشریح : سیدنا اسحق، سیدنا موسیٰ ، سیدنا ہارون اور سیدنا اسمعٰیل (علیہم السلام) کا ذکر بڑے پیارے انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ سب انبیاء بڑے ہی نیک، مستقل مزاج اور مقبول الٰہی بندے تھے ان میں سے ایک اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ اللہ نے ان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ” اور بیشک وہ وعدے کے سچے اور ہمارے نبی تھے ! اور اپنے گھر والوں کو نمازو زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے رب کے پسندیدہ تھے۔ “ سیدنا ادریس (علیہ السلام) کا زمانہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سیدنا نوح (علیہ السلام) کے درمیان کا زمانہ تھا۔ آپ کو بھی رب العزت نے ایک خاص مقام دیا تھا آپ بڑے سچے متقی اور علوم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–65

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔ (حفاظت الہیہ) یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 55–56

ف 9 یہ چھوٹا قصہ حضرت ادریس کا ہے بعض مفسرین نے حضرت ادریس کو بنی اسرائیل کے انبیاء میں شمار کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ معراج کے موقع پر جب نبی ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے نبی ﷺ کو مرحبا بالنبی الصلاح وارمغ الصالح “ کہہ کر خطاب کیا اور حضرت آدم اور ابراہیم کی طرح ” مرحبا بالنبی الصالح والامغ الصالح کہہ کر خطاب کیا اور حضرت آدم اور ابراہیم کی طرح ” مرحبا بالوالد الصالح نہیں کہا اور امام بخاری کا خیال بھی یہی ہے (فتح الباری ج 13، ص 224) لیکن اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ ان کا زمانہ حضرت نوح سے بھی پہلے کا ہے بلکہ ان کو حضرت نوح کا جد اعلیٰ قرار دیا ہے ابن جریر اور ابن کثیر نے اسی رائے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 55–56

(19:55) مرضیا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب۔ پسند کیا ہوا۔ پسندیدہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–58

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58 مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 58 سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا ہے کہ تمام عرب کے باپ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تو یہ حال تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کرتے کیا کرتے تھے۔ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ نماز کے وقت یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے، اور زکوٰۃ کو جرمانہ جانتے ہیں۔ اور پھر اپنے آپ کو اولاد اسماعیل کہتے ہیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی عادتیں اللہ تعالیٰ کو بہت پسن تھیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 51–58

[20] رسول۔ صاحب شریعت ہوتا ہے لیکن نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ شریعت نہیں لاتا بلکہ پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء شریعت موسوی کی تبلیغ کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یہودی اور عیسائی حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی بزرگی کے قائل نہ تھے اس لئے قرآن حکیم نے خصوصیت سے انکا ذکر فرمایا اور بتایا کہ وہ کردار میں ایک اعلی پایہ کے بزرگ تھے ، مذہبی اور دینی جوش کا یہ عالم تھا کہ گھر کے تمام لوگوں کو نماز اور زکوۃ کی تلقین کرتے ، اس لئے ان اوصاف حسنہ کی وجہ سے وہ اللہ کے محبوب پیغمبر تھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-55 اور وہ اپنے متعلقین کو خاص طور پر نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا کرتا تھا اور اپنے رب کی بارگاہ میں بڑا پسندیدہ اور مقبول تھا۔ یعنی یوں تو عموماً تمام احکام کی بجا آوری کا حکم دیتے تھے اور خاص طور سے نماز و زکوۃ کی تاکید فرمایا کرتے تھے یہ تاکید محض نماز و زکوۃ کے اہتمام کی وجہ سے تھی بطور انحصار نہ تھی اور وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول تھا لفظ اہل کا ترجمہ ہم نے متعلقین کے ساتھ کیا ہے خواہ وہ ان کے گھر والے ہوں یا ان کی قوم ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 55–58

ف 3۔ یعنی جن کا ذکر شروع سورت سے یہاں تک ہوا یعنی زکر یا (علیہ السلام) سے ادریس (علیہ السلام) تک۔ 4۔ یعنی باوجود اس مقبولیت و اختصاص کے ان سب حضرات موصوفین کی عبدیت کی یہ کیفیت تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) رضائے الہی کا متلاشہ اور اپنے لوگوں کو صلوۃ وزکوۃ ادا کرنے کی ہدایت کرتا تھا : 55۔ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کا دوسرا امتیازی وصف یہ تھا کہ وہ خود توصلوۃ وزکوۃ کے عادی تھے اور اپنے اہل و عیال کو بھی تلقین کرتے تھے کہ وہ نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں ، اس کا طریقہ ونصاب کچھ بھی ہو لیکن ان دونوں چیزوں کا تصور ہر نبی کی قوم میں پایا جاتا ہے کیونکہ ہر نبی ورسول کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے پیغام میں ان دونوں چیزوں کی سختی سے پابندی کریں اور اللہ کی رضا مجھ پر ایمان لانے والوں کا امتیازی نشان ہونا چاہئے اور صلوۃ وزکوۃ ہی وہ چیز ہے جو تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

A reformer must begin his mission with his own family كَانَ يَأْمُرُ‌ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ "And he used to bid Salah and Zakah to his family." - 19:55. A special attribute of Sayyidna Ismail (علیہ السلام) is that he used to direct his family members to offer prayers and pay obligatory charity (الزَّكَاةِ ). Here the question arises that all Muslims are required to advise their family members to perform good deeds as the Qur'an addresses the believers قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارً‌ا "Save yourself and your family members from the Fire (of Hell)." - 66:6. Then why has a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–55

31.“The right side of the Mount”means the eastern side of the mountain. As Prophet Moses (peace be upon him), on his way from Midian to Egypt, was passing from the southern side of Mountt Toor, the eastern side would lie on his right and the western on his left if he faced the mountain, otherwise a mountain by itself cannot have a right or a left side. 32. See(E.N. 206 of Surah An-Nisa).

Read the full tafseer →