Explained with ayahs 66–70
منکرین قیامت کی سوچ۔
بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
سورة مَرْیَم 40
یعنی اس کی بندگی کے راستے پر مضبوطی کے ساتھ چلو اور اس راہ میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرو۔ اگر اس کی طرف سے یاد فرمائی اور مدد اور تسلی میں کبھی دیر لگ جایا کرے تو اس پر گھبراؤ نہیں۔ ایک مطیع فرمان بندے کی طرح ہر حال میں اس کی مشیت پر راضی رہو اور پورے عزم کے ساتھ وہ خدمت انجام دیے چلے جاؤ جو ایک بندے اور رسول کی حیثیت سے تمہارے سپرد کی گئی ہے۔
سورة مَرْیَم 41
اصل میں لفظ سمی استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی " ہم نام " کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تو الٰہ ہے۔ کیا کوئی دوسرا الٰہ بھی تمہارے علم میں ہے ؟ اگر نہیں ہے اور تم جانتے ہو کہ نہیں ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
معارف و مسائل
وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ، لفظ اضطبار کے معنے مشقت و تکلیف پر ثابت قدم رہنا ہے اس میں اشارہ ہے کہ عبادت پر دوام و ثبات مشقت چاہتا ہے عبادت گزار کو اس کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا، لفظ سمی کے مشہور معنے ہم نام کے ہیں اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ مشرکین اور بت پرستوں نے اگرچہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بہت سے انسانوں، فرشتوں پتھروں اور بتوں کو شریک کر ڈالا تھا اور ان سب کو الٰہ یعنی معبود کہتے تھے مگر کسی نے لفظ اللہ معبود باطل کا نام کبھی نہیں رکھا۔ یہ ایک تکوینی اور تقدیری امر تھا کہ دنیا میں اللہ کے نام سے کوئی بت اور کوئی الٰہ باطل موسوم نہیں ہوا اس لئے…
Read the full tafseer →أَوَلا يَذْكُرُ الإنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا
ایک بدیہی تناقض ذہنی : یہ اسی تناقض ذہنی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب یہ انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ خدا نے اس کو عدم محض سے وجود بخشا تو آخر اس کو یہ بات کیوں مستبعد معلوم ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد وہ اس کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے۔ جب وہ " کچھ نہیں " سے پیدا کرسکتا ہے تو " کچھ ہے " سے دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیوں مشکل ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →67۔ 1 اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ جب پہلی مرتبہ بغیر نمونے کے ہم نے انسان پیدا کردیا، تو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے کیوں کر مشکل ہوگا ؟ پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہے یا دوبارہ اسے پیدا کرنا ؟ انسان کتنا نادان اور خود فراموش ہے اسی خود فراموشی نے اسے خدا فراموش بنادیا ہے۔
Read the full tafseer →32: یعنی جب انسان کا وجود بالکل تھا ہی نہیں، تب اللہ تعالیٰ نے اسے محض اپنی قدرت سے پیدا فرمایا تھا اب مرنے کے بعد تو انسان کے جسم کے کچھ نہ کچھ حصے کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتے ہیں۔ ان کو دوبارہ زندگی دے دینا اس کے لیے کیا مشکل ہے جو بالکل عدم سے انسان کو پیدا کرچکا ہے۔
Read the full tafseer →اولا یذکرالانسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولم یک شیئا (91 : 67) ” کیا انسان کو یان نہیں آتا کہ ہم نے پہلے اس کو پیدا کرچکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟ “
آگے جا کر اس انکار اور زبردستی کی انکار پر ذرا تہدید آمیز لہجے میں بات کی جاتی ہے۔ اللہ اپنی ذات کی قسم اٹھاتے ہیں اور ذات باری کی قسم ایک قسم ہے کہ لازماً ان لوگوں کو اور تمام لوگوں کو اٹھایا جائیگا۔ ان کو اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا اور یہ ایک فیصلہ شدہ اور طے شدہ امر ہے۔
Read the full tafseer →11 یعنی آدمی ہو کر اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتا کہ چند روز پہلے وہ کوئی چیز نہ تھا۔ حق تعالیٰ نے نابود سے بود کیا۔ کیا وہ ذات جو لاشئی کو شئی اور معدوم محض کو موجود کر دے، اس پر قادر نہیں کہ ایک چیز کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کرسکے۔ آدمی کو اپنی پہلی ہستی کی کیفیت یاد نہیں رہی جو دوسری ہستی کا مذاق اڑاتا ہے (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ ) 30 ۔ الروم :27)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
آیت 67 اَوَلَا یَذْکُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ یَکُ شَیْءًا۔ ”
آج جو انسان حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ بھلا مرجانے کے بعد میں پھر سے کیسے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جاؤں گا ‘ کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ نے اسے اس وقت ایک انسان کی صورت میں پیدا کیا تھا جب وہ کچھ بھی نہیں تھا۔ تو اب اللہ کے لیے اسے دوبارہ زندہ کردینا کیونکر مشکل ہوگا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
63 یعنی وہ شیطان جن کے یہ فرمانبردار اور چیلے بنے ہوئے ہیں۔ انھیں یہ پٹی پڑھاتے رہتے ہیں۔ کہ کھاؤ، پیو اور عیش کرلو۔ کیونکہ یہ زندگی تو سب کے سامنے ہے مگر دوسری زندگی ایک موہوم خیال اور غیر یقینی ہے۔ کیونکہ جو مرگیا وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوگیا۔ ان میں سے آج تک کوئی بھی دوبارہ زندہ ہو کر واپس نہیں آیا۔
Read the full tafseer →100۔ (تو جب عدم محض سے وجود میں لا چکے ہیں تو حیات ثانی تو اس سے کہیں آسان تر ہے) (آیت) ” ولم یک شیئا “ اس میں ردان فلاسفہ جاہلین اور معقولین نامعقولین کا بھی آگیا جو خلقت انسان سے قبل ہیولی وغیرہ کا وجود فرض کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
آیت نمبر 66 تا 75
ترجمہ : اور انسان کہتا ہے جو بعث بعد الموت کا منکر ہے یعنی ابی بن خلف یا ولید بن مغیر جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے کہ کیا جب ثانی ہمزہ کی تحقیق اور اس کی تسہیل کے ساتھ اور ثانی (ہمزہ) اور پہلے ہمزہ کے درمیان الف داخل کر کے دونوں صورتوں میں (یعنی تسہیل اور تحقیق کی صورت میں) میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں استفہام نفی کے معنی میں ہے (یعنی أئِذ َا میں استفہام انکاری ہے) یعنی میں مرنے کے بعد زندہ نہ کیا جاؤں گا مَا اور لام تاکید کے لئے زائدہ ہیں (اس انسان کافر کے قول کا جواب) اللہ تعالیٰ کے قول اَوَلاَ یَذَّکَّرُ (الآیۃ) سے دیا…
Read the full tafseer →اولا یذکر الانسان انا خلقنہ من قبل ولم یک شیئا۔ کیا یہ شخص اس بات کو نہیں سمجھتا کہ ہم اس سے قبل اس کو عدم سے وجود میں لا چکے ہیں اور اس وقت تو یہ کچھ بھی نہ تھا ‘ یعنی جو شے بالکل معدوم ہو کبھی اس کا نام و نشان بھی نہ ہوا ہو اس کو موجود کردینا زیادہ دشوار اور تعجب انگیز ہے مختلف مواد اور احوال و اعراض کا مجموعہ اگر موجود ہو کر فناہو گیا تو اس کو دوبارہ جمع کر کے موجود کردینا اور جوڑ کر یکجا کردینا اتنا دشوار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(66۔ 67) ابی بن خلف حجمی منکر بعث یوں کہتا ہے کہ کیا مرنے کے بعد جب کہ میں کچھ بھی نہیں رہوں گا پھر زندہ کرکے قبر سے نکالا جاؤں گا۔
کیا ابی بن خلف اس چیز سے نصیحت حاصل نہیں کرتا کہ اس سے پہلے ہم اس کو بدبودار نطفہ سے پیدا کرچکے ہیں تو پھر دوبارہ اس کو زندہ کرنے پر تو ہم اس ادنی طریقے پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →اَوَلَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ۔۔ : تو کیا جس ذات پاک نے اس وقت اسے پیدا فرمایا جب یہ کچھ بھی نہ تھا، اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی دے سکے ؟ دوبارہ زندہ کرنے کی یہ سب سے قوی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة دہر (1، 2) ، واقعہ (43 تا 62) ، روم (27) ، حج (5) ، بنی اسرائیل (51) اور انبیاء (104) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِيْ ابْنُ آدَمَ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ ذٰلکَ ، وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ ذٰلِکَ ، فَأَمّا تَکْذِیْبُہُ إِیَّايَ فَقَوْلُہُ : لَنْ یُعِیْدَنِيْ کَمَا بَدأَنِيْ ، وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔ انسان سے مراد یہاں ابی بن بن خلف ہے اس نے پرانی ہڈیاں پائیں پھر انہیں اپنے ہاتھ سے مسل دیا اور کہا : محمد ﷺ کا خیال ہے کہ ہم مرنے کے بعد اٹھائے جائیں گے ؛ یہ کلبی کا قول ہے، یہ واحدی، ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ اور مہدوی نے کہا : یہ ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھیوں کے ببارے میں نازل ہوئی ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ لسوف میں لام تاکید کے لیے ہے گویا اسے کہا گیا : جب تو مرے گا تو یقینا زندہ کر کے اٹھایا جائئے گا تو اس نے کہا : کیا جب میں مر جائوں گا تو مجھے پھر زندہ کر کے نکالا جائے گا ؟ یہ اس نے انکار کرتے ہوئے کہا۔ پس لام اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–79
1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔
2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔
5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور…
Read the full tafseer →[اَوَ : تو کیا ] [لَا يَذْكُرُ : یاد نہیں کرتا ] [الْانسَان : انسان ] [انا : کہ ] [خَلَقْنٰهُ : ہم نے پیدا کیا اس کو ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَمْ يَكُ : وہ نہیں تھا ] [شَـيْـــــًٔـا : کوئی چیز ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
انسان کا انکار معاد پھر اس کی تردید فرمانے کے بعد منکرین کا قیامت کے دن حاضر ہونا اور بدحال ہونا اور دوزخ میں داخل کیا جانا بیان فرمایا (فَوَرَبِّکَ لَنَحْشُرَنَّھُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ) (سو قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان لوگوں کو اور شیاطین کو ضرور جمع کریں گے) منکرین کافرین قیامت کے دن حاضر ہوں گے اور شیاطین بھی حاضر ہوں گے شیاطین کا دنیا میں یہ کام تھا کہ انسان کو بہکاتے اور ورغلاتے تھے اور انھیں کفر اور شرک پر ڈالتے تھے اور یہ شیاطین خود بھی کافر تھے میدان قیامت میں یہ گمراہ ہونے والے اور گمراہ کرنے والے سب جمع کیے جائیں گے، مفسرین نے فرمایا کہ یہ بہکانے والے اور بہکاؤ میں آنے والے باہم ملا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–80
اثبات معاد وبیان حال و مآل اہل طاعت و اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ و یقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویاتینا فردا۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں اہل طاعت اور اہل معصیت یعنی نیکوں اور بدوں کا انجام ذکر فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستعبد سمجھتے ہیں۔
اہل غفلت اور ارباب شہوت کا عموما یہ طریقہ ہے کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوتے ہیں۔ اور تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کو محال اور خدا کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
47:۔ حصہ دوم :۔ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے پہلے حصے میں چاروں شبہات کا جواب دینے کے بعد اس حصے میں شکوے، زجریں، تخویفیں، بشارتیں اور تسلی برائے آنحضرت ﷺ ذکر کی گئی ہے۔ یہ شکوی ہے۔ یعنی نادان انسان کہتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ ” اَوَلَا یَذْکُرُ الْاِنْسَانُ “ یہ شکوے کا جواب ہے، یعنی انسان کو یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ نہیں تھا، نیست اور معدوم تھا، تو ہم نے اسے نیست سے ہست اور معدوم سے موجود کردیا تو کیا اب ہم اس کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے انعام کا ذکر کیا کہ وہ بہشتوں میں رہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان بہشتوں کی خوبی اور فضیلت بھی بیان فرمائی ، یہ بہشت ان لوگوں کو ملے گی جو متقی یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بداعتقادی ، اور گناہوں سے بچنے والے ہوں گے ،
پھر اللہ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے بلکہ پروردگار کے حکم کے مطابق ہی ہمارا نزول ہوتا ہے اور ہم اللہ کی طرف سے مفوضہ کام پورا کرتے ہیں وہی پروردگار جو ارض وسما اور تمام چیزوں کا رب ہے اسی کی عبادت پر قائم رہنا چاہئے ، وہ…
Read the full tafseer →اَوَلَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَـيْـــــًٔـا 67
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
شيء
الشَّيْءُ قيل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
تفسیر : ویقول الانسان یہاں سے ان ناخلفوں کے عقائد بیان فرماتا ہے کہ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان سے کسی شخص خاص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموماً حشر کے منکر مراد ہیں وہ تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو محال اور خدا کی قدرت سے باہر جانتے تھے اس لیے رسول کی تکذیب کرتے تھے اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ تھا ہم نے اس کو موجود کردیا پس جو نیست محض کو موجود کردیتا ہے اس کے نزدیک دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ اس دلیل کے بعد قسم کھا کر
وعدہ مستحکم کرتا ہے کہ ہم ان کو مرنے کے بعد ضرور جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی جو انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ئَ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا۔ اَوَلاَ یَذْکُرُالْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ یَکُ شَیْئًا۔ (مریم : 66، 67)
(اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا۔ اور کیا انسان یہ یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ )
منکرینِ قیامت کے دلائل کی تردید
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی معذرت کے بعد اب پھر اصل سلسلہ بیان شروع ہورہا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف سے پیش کردہ کلام میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا شدت سے انتظار رہتا تھا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
فہم القرآن
ربط کلام : انسان اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی عبادت سے قولاً یا فعلاً تبھی انکار کرتا ہے جب وہ آخرت کے عقیدہ کو بھول جاتا ہے۔
اسی بنا پر مکہ کے کافر نبی اکرم ﷺ سے بحث کرتے تھے کہ ہماری عقل نہیں مانتی کہ انسان جب مر کر مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر دوبارہ کس طرح اٹھایا جائے گا۔ اس عقیدہ کی تائید میں ایک دن ایک آدمی نے ایک بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں ملتے ہوئے کہا کہ اس کو کس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا ؟ جس کا ان الفاظ میں جواب دیا گیا۔
” ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہتا ہے کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا۔ کہہ دو کہ ان کو وہ…
Read the full tafseer →منکرین بعثت کو جواب :
67: اَوَلَا یَذْکُرُ الْاِنْسَانُ (کیا یہ شخص اس بات کو نہیں سمجھتا کہ )
قراءت : شامی، نافع وعاصم نے الذکر سے قراردے کر تخفیف سے پڑھا ہے۔ اور باقی قراء نے ذالؔ اور کاف کی تشدید سے پڑھا ہے اور اس کی اصل یتذکر ہے جیسا کہ حضرت ابی ؓ کی قراءت ہے تاء کا ذال میں ادغام کردیا۔ اس کا معنی اَوْلَایَتَدَبَّرُ ؟ (کیا وہ تدبر نہیں کرتے) وائو عاطفہ ہے اور یقول پر اس کا عطف ہے۔ اور ہمزہ انکار معطوف علیہ اور معطوف کے درمیان لائے ہیں۔ مطلب یہ ہے : ایقول ذلک ولا یتذکر حال النشأۃ الاولی حتی لا ینکر النشأۃ الاخری ؟ کیا وہ یہ بات کہتے ہوئے پہلی پیدائش کا حال یاد نہیں کرتا تاکہ وہ دوسری کا…
Read the full tafseer →67۔ اولایذکر، ، اس کو یاد کرو اور اس پر غور و فکر کرو۔ یذکرتخفیف کیساتھ ہے۔ الانسان، اس سے ابی بن خلف مراد ہے ، اناخلقناہ من قبل ولم یک شیئا، ، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس پر غور و فکر نہیں کرتے کہ تم اس کے پیدا کرنے پر انکار کرتے ہو، جس نے ابتداء پیدا کیا کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ پھر اپنے نفس کی قسم کھائی اور پھر ارشاد فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
66۔ 67:۔ منکرین حشر میں سے جس کسی کو صاحب عقل ہونے کا دعویٰ ہو اس سے مثال کے طور پر پوچھا جائے کہ جب دنیا میں مثلا ریل نہیں تھی تو پہلے پہل جس نے ریل نکالی اس کو یہ سوچنا پڑا ہوگا کہ انجن کس طرح بنایا جائے پانی کا اندازہ اتنا ہو اور آگ کا صحیح تجربہ میں آگیا اور ایک مدت سے ریل چلتی ہے اب اگر فرض کیا جائے کہ دنیا بھر کی ریل ناپید ہوجائے تو جن لوگوں کے اندازہ میں ریل کی باتیں ہیں ان کو پھر ریل کے بنا دینے میں کیا ایسی مشکل پیش آئے گی جیسے نئے سرے سے ریل کے بنانے میں پیش آئی تھی کوئی صاحب عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ صحیح اندازہ سے ایک کام ہو کر مدت تک اس کام کی شد بد رہ چکی ہو اور کام کرنے والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
(آیت 67)
یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چناچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے : (ء اذا ما مت لسوف اخرج حیاً ) یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہوچکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا ؟ ایسا نہیں ہوسکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا اس بھی غور و فکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔ بناء بریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–91
قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “
قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →74 انسان کا خود اپنا وجود بعث بعد الموت کے لیے ایک ٹھوس دلیل : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کا خود اپنا وجود بعث الموت کیلئے ایک ٹھوس، قوی اور واضح دلیل ہے۔ سو جب ہم معدوم سے موجود اور نیست سے ہست کرسکتے ہیں، پردہ عدم سے نکال کر خلعت وجود سے نواز سکتے ہیں، تو پھر دوبارہ پیدا کردینا ہمارے لئے کیا اور کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو انسان اگر صحیح طریقے سے خود اپنی ذات اور اپنی جان ہی کے بارے میں غور و فکر سے کام لے تو اس کو بعث بعد الموت کی قوی، واضح اور ٹھوس دلیل خود اپنے وجود ہی سے مل سکتی ہے۔ سو اسکا وجود خود اس کی دلیل ہے۔ بشرطیکہ انسان اپنے بارے میں صحیح طور پر غور وفکر سے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
دوبارہ زندہ ہونا، قیامت اور پل صراط کا بیان
تشریح : جب کفار نے دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے بارے میں سنا تو بولے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا آسان سا جواب ہے اگر اللہ نے ہمیں یہاں زندگی دی ہے جو کہ یقینی طور پر موت آنے پر ختم ہوجائے گی تو سوچنے کی بات ہے کیا اللہ نے ہمیں بےمقصد پیدا کیا ہے ؟ ہرگز نہیں ہمیں ضرور پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کیا کیا ؟ اور یہی حساب کا دن ہوگا۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ “ (مریم آیت :72 )
یہ سب غائب کی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں پہلے سے بتا دیا گیا اور مہلت بھی دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–82
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ف 10 تو کیا جو ذات پاک اسے عدم سے وجود میں لے آئی ہے اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی دے سکے۔ یہ بعث یعنی دوبارہ زندہ کرنے کی سب سے قومی دلیل ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(19:66) ئ۔ استفہام کے لئے ۔ کیا۔ اذا ما۔ جب۔ جب کبھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 72
مت میں مر گیا۔ نحشرن ہم ضرور جمع کریں گے۔ نحضرن ہم ضرور حاضر کریں گے۔ حول اردگرد۔ جثی گھٹنوں کے بل۔ ننزعن ہم ضرور نکالیں گے۔ شیعۃ فرقہ، گروہ۔ عتی سرکش، نافرمان۔ صلی اندر داخل ہونا۔ وارد آنے والا۔ مقضی مقرر کیا ہوا۔ نذر ہم چھوڑ دیں گے۔
تشریح : آیت نمبر 66 تا 72
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر کفار و مشرکین کے متعلق بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کو سن کر بڑے تعجب اور حیرت سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے ۔ ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہو کر ہمارا وجود کائنات میں بکھر جائے گا تو کیا دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ ہمارے وجود کے اجزاء جمع ہو سکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ان آیتوں کی تفسیر ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے پانی جیسی پتلی چیز سے ماں کے پیٹ میں انسان کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ، اس کو آدم کے پتلے کی طرح انسان کو دوبارہ پیدا کرنے کے وقت مٹی کا پتلا بنانا اور اس پتلے میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے ؟ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
[26] یعنی کسی کو اس کے ساتھ اسمی شرکت بھی نہیں، اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبود کا نام اللہ نہیں رکھا۔ پس جب اس کا کوئی شریک نہیں تو بندگی بھی اسی کی ہونی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے ، جو گناہوں سے توبہ کرلیتے ہیں ، اور ایمان وعمل کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو خواہشات وشہوات کی پیروی نہیں کرتے ، اور اپنے دلوں میں تقوی و پرہیز گاری کے جذبات پیدا کرلیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے وا ہیں یہ لوگ اطمینان وسل امتی کے ساتھ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔
حل لغات :
اسرآئیل : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے ، عربی زبان میں اسرائیل کے معنے برگزیدہ خدا یا بندہ خدا کے ہیں ۔
غیا : گمراہی کی سزا ، گمراہی ، ہر بری بات ۔
Read the full tafseer →-67 کیا انسان اتنی بات نہیں سمجھتا اور یہ بات اید نہیں کرتا کہ ہم اب سے پہلے اس کو عم سے موجود کرچکے ہیں حالانکہ یہ اس وقت کچھ بھی نہیں تھا۔ یعنی ایسے انسان کی سمجھ میں اتنی موٹی بات نہیں اتٓی کہ یہ پیدا ہونے سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اس نے اس کو عم سے وجود بخشا۔ نیست سے ہست کیا اس سے پیشتر اس کا کوئی نام لینے والا نہ تھا اب اس کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرلینا کیا مشکل ہے بلکہ ابتدائی ساخت کے مقابلہ میں دوبارہ بنانا کچھ سہل ہی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ف 1۔ جب ایسی حالت سے حیات تک لانا آسان ہے تو دوبارہ حیات دینا تو بدرجہ اولی آسان ہے۔
Read the full tafseer →مشرکین کے اظہار تعجب کا واضح اور بدیہی جواب :
67۔ مشرکین کے تعجب کا ان کو جواب دیا رہا ہے کیونکہ تعجب اپنے اندر ایک سوال کی حیثیت رکھتا ہے ، فرمایا اچھا یہ سوال کرنے والے ذرا اتنی بات تو بتائیں کہ وہ خود بھی پیدا ہوئے ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ پیدا ہوئے تو آخر انکو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ کیا وہ خود بخود ہی پیدا ہوگئے ہیں ؟ اگر ایسی بات ہے تو وہ ایک بار خود ہی مرجائیں اور دوبارہ پیدا ہو کر اس کا ثبوت پیش کردیں کہ واقعی وہ خود بخود پیدا ہوئے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا یا وہ ایسا نہیں کرسکتے تو ان کو مان لینا چاہئے کہ ان کا پیدا کرنے والا کوئی ہے لیکن جب وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ کون ہے تو ہم ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
Commentary
وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ("and-persevere in His worship." - 19:65) The word اِصطِبَار ' means perseverance in the face of acute distress and hardship. The point here is that anyone who wishes to be constant and steadfast in. his prayers must be prepared to undergo pain and suffering.
هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا ("Do you know any one worthy of His name?" - 19:65). In the generally accepted sense the word applies to persons bearing the same name. The polytheists and idolaters had included many humans, angels, stones and idols along with Allah Ta` ala in their worship and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
40. That is, you should not only follow strictly the way of service and face all the obstacles and afflictions with patience, but also should not get uneasy, if there is a delay in revelation and help. You should rest content with His service as an obedient servant and perform persistently the duties and responsibilities entrusted to you as a servant and Messenger.
41. The word Samiya literally means a name sake. Here it implies: Allah is the only Deity. Do you know of any other deity besides Him? If there is none, and you know that there is none, then you do not have any alternative but to…
Read the full tafseer →