Maryam 19:6

Maryam · from ayah 6

19:6

یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ ۖۗ— وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا ۟يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ ۖ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا

جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who will inherit me and inherit from the family of Jacob. And make him, my Lord, pleasing [to You]."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:6

جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوب کی میراث بھی پائے، اور اے پروردگار، اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب ؑ کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بنده بنا لے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو میرا بھی وارث ہو، اور یعقوب ؑ کی اولاد سے بھی میراث پائے۔ اور یا رب ! اسے ایسا بنایے جو (خود آپ کا) پسندیدہ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب کا وارث ہو، اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو (آسمانی نعمت میں) میرا (بھی) وارث بنے اور یعقوب ؑ کی اولاد (کے سلسلۂ نبوت) کا (بھی) وارث ہو، اور اے میرے رب! تو (بھی) اسے اپنی رضا کا حامل بنا لے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو میرا وارث بنے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب ! اسے پسند کیا ہوا بنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو میرے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے پروردگار ! اسے پسندیدہ انسان بنانا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کی روایات کا بھی۔ اور اے رب ! اس کو پسندیدہ اخلاق بنائیو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب کے خاندان کا بھی اور اے میرے رب اس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔

— مولانا اسحاق مدنی

جو میرا بھی واث بنے اور اولاد یعقوب کا بھی وارث بنے۔ اور اے پروردگار تو اسے پسندیدہ بنا دے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو وارث ہو میرا اور آل یعقوب کا اور اے میرے پروردگار ! اس کو بنائیو پسندیدہ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو اور اے میرے رب ! اسے پسندیدہ انسان بنانا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

one that might be my heir and the heir of the house of Jacob; and make him, Lord, one that will be pleasing to You.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who inherits me and inherits the house of Ya'qub. And make him, My Lord, a favourite one.

— Muhammad Taqi Usmani

who inherits me and inherits the house of Yaqub. And make him, My Lord, a favourite one.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Who shall inherit me, and inherit (also) the posterity of Ya`qub. And make him, my Lord, one with whom You are well-pleased!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who shall inherit of me and inherit (also) of the house of Jacob. And make him, my Lord, acceptable (unto Thee).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who will inherit me and inherit from the family of Jacob. And make him, my Lord, pleasing [to You]."

— Saheeh International

who will be my heir and the heir of the family of Jacob. Lord, make him a person who will please you".

— Muhammad Sarwar

Who should inherit me and inherit from the children of Yaqoub, and make him, my Lord, one in whom Thou art well pleased.

— Muhammad Habib Shakir

Inheriting me and inheriting the Children of Ya'qub; and make him, my Lord, acceptable!

— Abdul Majid Daryabadi

"(One that) will (truly) represent me, and represent the posterity of Jacob; and make him, O my Lord! one with whom Thou art well-pleased!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

دعا اور قبولیت۔ اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 4 یعنی مجھے صرف اپنی ذات ہی کا وارث مطلوب نہیں ہے بلکہ خانوادہ یعقوب کی بھلائیوں کا وارث مطلوب ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

انبیاء ؑ کے مال میں وراثت نہیں چلتی۔ يَّرِثُنِيْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ ، باتفاق جمہور علماء اس جگہ وراثت سے وراثت مالی مراد نہیں، کیونکہ اول تو حضرت زکریا کے پاس کوئی بڑی دولت ہونا ثابت نہیں جس کی فکر ہو کہ اس کا وارث کون ہوگا اور ایک پیغمبر کی شان سے بھی ایسی فکر کرنا بعید ہے اس کے علاوہ صحیح حدیث جس پر صحابہ کرام کا اجماع ثابت ہے اسمیں ہے ان العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولا درھما انما ورثوا لعلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر (رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ والترمذی) ترجمہ بیشک علماء وارث ہیں انبیاء کے کیونکہ انبیاء علیہم السلام دنیار و درہم کی وراثت نہیں چھوڑتے بلکہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6)۔ دینی وراثت کے حامل کے لیے دعا : " موالی " سے مراد کسی شخص کے بنی اعمام، بھائی بند اور اس کے نسبتی اعزہ و اقرباء ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا کے اقرباء معلوم ہوتا ہے کہ اچھے لوگ نہیں تھے، ان کی طرف سے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ، ان کی وفات کے بعد ان کی اور آلِ یعقوب کی ان دینی روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو اس پاکیزہ خاندان کا اصلی سرمایہ امتیاز ہیں۔ انہیں فکر تھی کہ خدا ندان میں کوئی ایسا شخص اٹھے جو اس خاندان کے مشن کو زندہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

7۔ 1 اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دعا قبول فرمائی بلکہ اس کا نام بھی تجویز فرما دیا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–7

3: ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ میراث پانے سے حضرت زکریا ؑ کا مطلب مال و دولت کی میراث نہیں تھا ؛ بلکہ علوم نبوت کی میراث پانا مراد تھا ؛ کیونکہ حضرت یعقوب ؑ کی اولاد سے مالی وراثت پانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لہذا انکی دعا اس اصول کے خلاف نہیں جو معروف حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ انبیاء ؑ کا ترکہ ان کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–6

ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔ یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی میں بوڑھا ہوں، بیوی بانجھ ہے، ظاہری سامان اولاد ملنے کا کچھ نہیں لیکن تو اپنی لامحدود قدرت و رحمت سے اولاد عطا فرما جو دینی خدمات کو سنبھالے اور تیری مقدس امانت کا بوجھ اٹھا سکے۔ میں اس ضعف و پیروی میں کیا کرسکتا ہوں، جی یہ چاہتا ہے کہ کوئی بیٹا اس لائق ہو جو اپنے باپ دادوں کی پاک گدی پر بیٹھ سکے۔ ان کے علم و حکمت کے خزانوں کا مالک اور کمالات نبوت کا وارث بنے (تنبیہ) احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ان کی وراثت دولت علم میں چلتی ہے۔ خود شیعوں کی مستند کتاب " کافی کلینی " سے بھی " روح المعانی " میں اس مضمون کی روایات نقل کی ہیں۔ لہذا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ مجھے ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے جو میری دینی و روحانی وراثت کو سنبھال سکے ‘ اور میری وراثت کیا ! یہ تو آل یعقوب علیہ السلام کی وراثت ہے۔ اس مقدس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے مجھے ایک ایسا وارث عطا کر جو واقعی اس منصب کا اہل ہو۔ وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا رَضِیّ فعیل کے وزن پر ہے ‘ چناچہ اس میں راضی وہ جو راضی ہو اور مرضِیّ جس کو راضی کردیا گیا ہو دونوں کیفیتوں کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے سورة البینہ آیت 8 میں فرمایا گیا : رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ اسی طرح سورة الفجر میں نفس مطمئنہ کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 علماء انبیاء کے وارث ہیں :۔ یہاں وراثت سے مراد علم دین کی وراثت ہے۔ کیونکہ انبیاء کی یہی وراثت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد نبوی ہے ان العلماء ھم ورثۃ الانبیائ (بخاری، کتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل) یعنی علماء حضرات ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں پھر میرے اس لڑکے کو اپنا پسندیدہ بھی بنایا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے اخلاق و کردار اس قدر پاکیزہ ہوں کہ وہ سب لوگوں کی نظر میں مقبول و محبوب اور پسندیدہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (علوم نبوت ومعارف ولایت میں اپنے اجداد اسرائیلی کی طرح) (آیت) ” یرثنی ویرث من ال یعقوب “۔ (وراثت سے یہاں مراد مال و دولت کی وراثت نہیں۔ حقائق عالیہ اور اخلاق فاضلہ کی میراث ہے اور انبیاء سے مال وجائداد کی وراثت تو چلتی بھی نہیں جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد بھی ہوچکا ہے :۔ صحابیوں، تابعین، اکابر مفسرین، سب سے ارث کی تفسیر علوم نبوت و شریعت منقول ہے۔ اور لفظ ارث کا اطلاق نبوت پر بالکل جائز ہے۔ قال ابن عباس ؓ ویرث من ال یعقوب النبوۃ فقد اجاز اطلاق اسم المیراث علی النبوۃ فکذلک یجوزان یعنی بقولہ یرثنی یرث علمی (جصاص) انما ارادارت النبوۃ وعلیھا خاف ان تخرج من عقبہ (ابن العربی) یرثنی العلم ویرث من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے کھیٰعص اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی خوب جانتا ہے یہ (متلو) اپنے بندے زکریا پر تیرے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے عبدہٗ رحمت کا مفعول ہے زکریا، عبدہ کا بیان ہے جبکہ اس نے اپنے رب کو مخفی طور پر پکارا اِذْ رحمۃً سے متعلق ہے، یعنی ایسا پکارنا کہ جو راز داری پر مشتمل تھا رات کے درمیان حصہ میں اس لئے کہ یہ (طریقہ) سریع القبول ہے عرض کیا اے میرے پروردگار میری تمام ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہیں اور میرے سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے شیباً فاعل سے منقول ہو کر تمیز ہے یعنی جس طرح لکڑیوں میں آگ پھیل جاتی ہے اسی طرح سفیدی میرے سر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یرثنی ویرث من ال یعقوب واجعلہ رب رضیا۔ یعنی بیٹا ایسا مرحمت فرما دے جو میرا (یعنی میرے علم کا) اور یعقوب کے خاندان (کے علم) کا وارث ہوجائے اور اے میرے رب اس کو اپنا پسندیدہ بنانا۔ الْمَوَالِیَ (مولیٰ کی جمع) یعنی چچا کے بیٹے یا وہ لوگ جو میرے بعد میری امت کی درستگی کے متولی ہوں گے اور میرے جانشین بنیں گے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری جانشینی اچھی طرح نہ کریں گے اور امت کے لئے دین کو بگاڑ دیں گے اور میری بیوی بانجھ ہے ناقابل تولید ہے (اور ضرورت ہے صحیح جانشین کی جو میری امت کو درست رکھ سکے) اس لئے تو محض اپنے فضل اور اپنی قدرت سے مجھے بیٹا عنایت فرما جو میرے بعد میرے کاموں کو درست رکھنے کا ذمہ دار…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–6

(5۔ 6) اور اپنے بعد اپنے وارثوں کے بارے میں اندیشے میں مبتلا ہوں کہ کہیں میرے علم اور تقوے کا میرے بعد کوئی وارث نہ ہو یا یہ کہ میرے ورثہ کم ہیں اور میری بیوی حسنہ ہمشیرہ ام مریم بنت عمران بن ماثان بانجھ ہے لہذا آپ خاص اپنی رحمت سے ایسا فرزند عطا فرمائیے جو کہ میرے خاص علوم میں میرا وارث بنے اور یعقوب ؑ کے خاندان کے موروثی علوم میں ان کا وارث بنے اگر ان میں یہ علوم اور بادشاہت ہوں (حضرت یعقوب ؑ کا خاندان حضرت یحییٰ ؑ کی ننھیال تھی) اور اس کا اپنا پسندیدہ اور نیکوکار بنائیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا : ”رَضِيًّا“ ”فَعِیْلٌ“ بمعنی ”مَفْعُوْلٌ“ ہے، مطلب پسند کیا ہوا، یعنی وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں، سب کا پسندیدہ ہو۔ اللہ جسے پسند کرلے لوگ بھی اس سے محبت کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِیْلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِِبْہُ فَیُحِبُّہٗ جِبْرِیْلُ فَیُنَادِيْ جِبْرِیْلُ فِيْ أَھْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوْہٗ فَیُحِبُّہٗ أَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہٗ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ) [ بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللّٰہ علیہم : 3209، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”جب اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یرثنی و یرث من ال یعقوب واجعلہ رب رضیاً ۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یرثنی اہل حرمین، حسن، عاصم اور حمزہ نے یرثنی اور یرث دونوں کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں دھب کا جواب نہیں ہیں جیسا کہ سیبویہ کا مذہب ہے۔ اس کی تقدیر اس طرح ہے : ان تھبۃ یرثنۃ و یرث۔ معنی کے اعتبار سے پہلا قول زیادہ درست ہے کیونکہ انہوں نے موصوف وارث طلب کیا تھا یعنی تو مجھے ایسا ولی عطا فرما جو اس حالت اور صفت پر ہو کیونکہ ان میں بعض اولیاء وارث نہیں ہوتے۔ فرمایا : ھب لی الزی یکون ورائی۔ یعنی مجھے عطا فرما جو میرے پیچھے رہنے والا ہو، یہ ابو عبیدہ کا قول ہے اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَّرِثُنِيْ : جو وارث ہو میرا ] [وَيَرِثُ : اور جو وارث ہو ] [مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ : یعقوب (علیہ السلام) کے پیروکاروں میں سے (لوگوں) کا ] [وَاجْعَلْهُ : اور تو بنا اس کو ] [رَبِ : اے میرے رب ] [رَضِيًّا : پسندیدہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔ (ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–7

6:۔ موالی سے ان کی عصبات اور بنو العم مراد ہیں۔ یہ لوگ بےدین تھے اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نیک فرزند کے لیے دعا کی تاکہ وہ ان کے بعد دعوت دین کے کام کو جاری رکھے۔ انما کان موالیہ مھملین للدین فخاف بموتہ ان یضیع الدین فطلب ولیا یقوم بالدین بعدہ (قرطبی ج 11 ص 78) ۔ ” یرثنی و یرث من ال یعقوب الخ “ یہاں وراثت سے وراثت علم نبوت مراد ہے نہ کہ وراثت مال کیونکہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ان کا ترکہ قومی ملکیت ہوتا ہے۔ ای یرثنی من حیث العلم والدین والنبوۃ فان الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لا یورثون المال قال ﷺ نحن معاشر الانبیاء لا نورث ماتکرناہ صدقۃ (ابو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–6

(حضرت زکریا کی دعا) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں ہاتھ پھیلائے تھے کہ مولا کریم ! میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں اور سر سفید ہوگیا ہے ، میں قبولیت دعا سے کبھی محروم نہیں رہا ، لہذا میں امید رکھتا ہوں کہ تو میری دعا کو ضرور شرف قبولیت بخشے گا آپ کی یہ دعا اولاد کے لیے تھی عرض کیا پروردگار (آیت) ” وانی خفت الموالی من ورآء ی “۔ بیشک میں اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں سے خوف کھاتا ہوں ۔ موالی جمع ہے مولی کی ، یہ لفظ عربی زبان میں بہت سے معافی میں استعمال ہوتا ہے ، صاحب قاموس نے اس لفظ کے پچیس معنی لکھے ہیں جن میں غلام ، آزاد شدہ غلام ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّرِثُنِيْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ۝ 0ۤۖ وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِيًّا۝ 6 ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي : أصله وبقيّته، قال الشاعر : 461- فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ «3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن زيد، ووَرِثْتُ زيداً : قال تعالی: وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–6

1 ؎ یعنی ایسا کوئی جانشین فرزند عطا کر کہ میرے بعد انتظام ملت و قوم کرے کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میرے بعد میرے اقارب جو اس مسند امامت پر بیٹھیں گے قوم و ملت کو برباد نہ کردیں کس لیے کہ حضرت زکریا ( علیہ السلام) کو ان کے آثار اچھے نہ دکھائی دیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآئِ یْ وَکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا۔ یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ صلے قوَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا۔ (مریم : 5، 6) (اور میں ڈرتا ہوں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے اور میری بیوی بانجھ ہے پس بخش دے مجھے اپنی طرف سے ایک وارث۔ جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کی روایات کا بھی اور اے رب، اس کو پسندیدہ سیرت والا بنائیو۔ ) دُعا کا ایک اور سبب اس آیت کریمہ میں تیسری بات یہ عرض کی کہ یا اللہ میں اس بڑھاپے میں یہ دعا اس لیے کر رہا ہوں کہ مجھے اپنے قریبی عزیزوں اور بھائی بندوں کے بارے میں فکرمندی ہے کہ وہ اپنی بےدینی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جیسا کہ اس سے پہلے عرض کیا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے مریم [ کے پاس بےموسم پھل دیکھ کر اسی وقت اور اسی جگہ نیک بیٹے کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو فرشتے کے ذریعہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ یہاں زکریا (علیہ السلام) کی دعا کے تذکرہ میں یہ اضافہ موجود ہے کہ انھوں نے جب دعا کی تو وہ آہستہ الفاظ یعنی دبی زبان میں دعا کر رہے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم [ کی موجودگی اور انتہائی غم، بےبسی کی وجہ سے انھوں نے دل ہی دل میں دعا کی۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے انداز سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ دعا کرتے ہوئے آدمی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وارث علم کی طلب : 6: یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ (جو میرا وارث ہو سو وارث ہو) دونوں رفع کے ساتھ ولیًا کی صفت ہیں۔ یعنی مجھے ایسا بیٹا عنایت فرما۔ جو میرے علم اور آل یعقوب کی نبوت کا وارث ہو۔ وراثت ِنبوت : کا معنی یہ کہ وہ وحی کی صلاحیت رکھتا ہو نفس نبوت میں وراثت مراد نہیں۔ قراءت : ابوعمرو اور علی نے دونوں کو جزم سے پڑھا۔ اس طرح کہ یہ دعا کا جواب ہے کہا جاتا ہے : ورثتہ وورثت منہ۔ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ (آل یعقوب بن اسحاق) وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا (اے میرے رب اس کو اپنا پسندیدہ بنا) ایسا پسندیدہ جس کو آپ چاہتے ہوں یا جو آپ سے راضی اور آپ کے حکموں پر خوش ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔ ، یرثنی ویرث من ال یعقوب، ، ابوعمرو اور کسائی نے ثاء کے جزم کے ساتھ دعا کے جواب میں فرمایا اور دوسرے قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے حال اور صفت ہونے کی وجہ سے یعنی ، ولیا وارثا، ،۔ وراثت کے متعلق ائمہ کے اقوال۔ وراثت میں مفسرین کا اختلاف ہے حسن ؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو میرے مال اور آل یعقوب کا وارث ہوجوان کا ذمہ دار اور متولی ہو اور خاندان یعقوب کا بھی صحیح متولی ہو۔ بعض نے کہا کہ میراث سے مراد نبوت اور علم کی میراث ہے ۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد احبار کی وراثت ہے کیونکہ حضرت زکریا (علیہ السلام) احبار کے بڑے تھے۔ زجاج کا قول ہے کہ اولی یہ ہے کہ یہاں اس کو محمول کیا جائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–6

5۔ 6 حضرت زکریا ( علیہ السلام) حضرت مریم کے خالو تھے چناچہ معراج کی صحیح بخاری کی مالک بن صعصعہ کی 1 ؎ حدیث میں یہ بات آچکی ہے کہ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) خالہ زاد بھائی ہیں اگرچہ حضرت زکریا بیت المقدس کے متولیوں میں تھے لیکن صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے کہ بڑھئی کا کام کرکے اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنی گزر کیا کرتے تھے 2 ؎۔ اس لیے ان کے پاس کچھ ایسا مال متاع تو نہیں تھا صرف نبوت کے اپنے خاندان میں چلنے کے لیے لڑکے کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور حضرت یحییٰ پیدا ہوئے یہ نام صرف حضرت یحییٰ دنیا میں زیادہ نہیں جلے لیکن بنی اسرائیل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

آیت 1 (ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا) ” یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ “ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریا (علیہ السلام) کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہوگی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے چن…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–10

قول باری ہے وانی خفت الموالی من ورائی مجھے اپنے پیھچے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے ) مجاہد، قتادہ، ابو صالح اور سدی سے مروی ہے کہ الموالی عصبہ کو کہتے ہیں جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بنو اعمام تھے۔ آپ کو دین کے بارے میں ان کی برائیوں کا خوف تھا اس لئے کہ وہ بنی اسرائیل کے بدترین لوگ تھے۔ نبوت کی میراث قول باری ہے (فھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب ۔ تو مجھے اپنے فضل خاص سے ایک ورث عطا کر دے جو میرا وارث بھی ہو اور آل یعقوب کی میراث بھی پائے) آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ ایک بیٹا عطا ہوجائے جو میری موت کے بعد دین کے امور کی نگہداشت کرے اور اس پر عمل پیرا رہے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–8

8 حضرت زکریا کو عظیم الشان بیٹے کی خوشخبری : سو حضرت زکریا کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی گئی تو آپ نے عرض کیا کہ " مالک میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ چکا ہوں "۔ جو بچہ ہونے کی حد سے بہت آگے ہے۔ سو اس طرح بظاہر بچہ ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ تو ایسے میں بچہ اگر ہوگا تو کس طرح ہوگا ؟ اور اس کی کیا شکل ہوگی ؟ مجھے واپس جوانی کی عمر میں لوٹا دیا جائے گا اور میری بیوی کو " عقیم " کی جگہ " ولود " بنادیا جائے گا یا ایساکس طرح ہوگا ؟ سو اس سے ایک طرف تو اس بشارت کیلئے مزید وثوق حاصل کرنا تھا کہ یہ بشارت عام حالات کے بالکل خلاف تھی۔ اور دوسرے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

سیدنا زکریا اور ان کی دعا تشریح : سیدنا زکریا (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر بڑی تفصیل سے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ بنی ہارون کے 24 خاندان تھے جن میں سے ابیاہ خاندان کے سردار سیدنا زکریا (علیہ السلام) تھے۔ آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے مگر ہدایت خلق کا کام ان کے ذمہ تھا۔ اسی ذمہ داری کو انہوں نے اپنی میراث کہا ہے اسی میراث کو سنبھالنے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگا کہ جو ہدایت خلق کا کام ان کے بعد اچھی طرح سنبھال سکے، حالانکہ آپ اور آپ کی بیوی عمر اور صحت کے لحاظ سے نااہل ہوچکے تھے۔ کیونکہ ایک تو دونوں بوڑھے ہوچکے تھے اور دوسرا ان کی بیوی قدرتی طور پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة مریم : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔ (حروف مقطعات) کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی پیغمبری کا وارث ہو جیسا کہ جمہور مفسرین نے بیان کیا ہے کہ کیونکہ پیغمبروں کے مال و دولت کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ آنحضرت نے فرمایا ہے : ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو مال چھو دیتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ابن کثیر

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 5–6

(19:5) الموالی۔ مولیٰ کی جمع ہے وہ رشتہ دار جو ذوی الفروض ہوں وارثان کے بچے ہوئے مال کے وارث ہوں۔ چچا کے بیٹے۔ عام وارث۔ عام رشتہ دار۔ جو اپنی اولاد نہ ہونے کے باعث وارث بنیں۔ انی خفت الموالی من ورائی۔ میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں (یعنی مجھے ڈر ہے کہ میری اپنی اولاد نہ ہونے کی صورت میں میرے دوسرے رشتہ دار میرے بعد میرے اس مرکز توحید کی خدمات اور دینی علوم عالی کے فرائض کے بجا لانے میں قاصر رہیں گے۔ اور اس طرح میری ساری عمر کی محنت کو نقصان پہنچے گا) ۔ عاقرا۔ بانجھ۔ عقارۃ مصدر۔ یہ کانت کی خبر ہے لہٰذا منصوب ہے۔ رضیا۔ رضی سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بروزن فعیلبمعنی مفعول۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علہما السلام کی شہادت حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہ السلام) کے خالو تھے۔ چناچہ معراج کی صحیح حدیثوں میں اس کی تفصیل آچکی ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خالہ زاد بھائی ہیں۔ اگرچہ حضرت زکریا بیت المقدس کے متولیوں میں تھے، لیکن بڑھئی کا کام کر کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنی گزر کیا کرتے تھے۔ اس لئے ان کے پاس کچھ ایسا مال ومتاع تو نہیں تھا، صرف نبوت کے اپنے خاندان میں چلنے کے لئے لڑکے کی دعا مانگی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور حضرت یحییٰ پیدا ہوئے۔ یہ نام حضرت یحییٰ کا اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے، اور فرما دیا کہ اس سے پہلے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–6

(ف 1) واقعہ یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوگئے ، اور دیکھا کہ قوم ہنوز اصلاح وہدایت کی محتاج ہے اور یہ بھی دیکھا کہ ان کے بعد ان کا کوئی صالح جانشین نہیں ، جو ان کے کام کو سنبھال سکے ، تو بیٹے کی خواہش دل میں پیدا ہوئی ، اللہ سے دعا مانگی اور کہا ، خدایا میں کمزور اور بہت بوڑھا ہوگیا ہوں ، پیری نے حوصلے پست اور ولولوں کو افسردہ کردیا ہے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی مخالفت سے ڈرتا ہوں ، کہ کہیں عمر بھر کی سعی تبلیغ رائیگاں نہ ہوجائے ، اس لئے چاہتا ہوں کہ میرے بعد نیک اور مستعد اولاد ہو ، جو اس بار عظیم کو اپنے کندھوں پر اٹھالے ، اور میں دین کی جانب سے بالکل مطمئن ہو کر دنیا سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-6 جو میرا بھی وارث ہو اور اولاد یعقوب کا بھی وارث ہو اور آپ اس وارث کو اے میرے پروردگار اپنا پسندیدہ اور مقبول بنائیو۔ یعنی مرنے کے بعد میرے رشتہ دار شاید ملت ابراہیمی کی حفاظت نہ کرسکیں اور دین کو بجا نہ لائیں اور بظاہر بیٹے کے اسباب عادیہ بھی مفقود ہیں میں بھی بوڑھا اور میری بیوی بھی بوڑھی اور بانجھ سو ان اسباب عادیہ کے مفقود ہونے کے باوجو داپنے پاس سے اور اپنی رحمت خاص سے کوئی بیٹا عطا فرما۔ جو میرے بھی علم کا وارث ہو اور جو علم اولاد یعقوب (علیہ السلام) میں منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے اس کا بھی وارث اور نگہبان ہو اور وہ وارث تیرا پسندیدہ اور مقبول بھی ہو یعنی عالم باعمل ہو ۔ حضرت شاہ صاحب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 3۔ یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں۔ 4۔ یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زکریا (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں اپنی ضرورت کا اظہار کیا : 6۔ فرمایا اے میرے رب ! میں نے جو اولاد طلب کی ہے میری طلب میں اولاد ہے لیکن اولاد نیک ہو جو صحیح معنوں میں میری اور آل یعقوب کی وارث قرار پائے ، آپ کی دعا کے یہ الفاظ بہت معنی خیز ہیں کہ اے میرے پروردگار تو اپنے خاص فضل سے مجھے ایک وارث بخش دے ایسا وارث جو میرا بھی وارث ہو اور خاندان یعقوب کا بھی ۔ گویا خاندان یعقوب کی طرف سے جو وراثت ہمارے خاندان میں منتقل ہوتی چلی آرہی ہے اس وراثت کا وارث اس وقت تک میرے خاندان میں ایک بھی نظر نہیں آتا ۔ (انی خفت الموالی) مجھے اپنے بھائی بندوں سے اندیشہ ہے کہ وہ میرے مرنے کے بعد اس عہدہ کو سنبھال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Legacy of Prophets cannot be inherited يَرِ‌ثُنِي وَيَرِ‌ثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ "Who inherits me and inherits the house of Ya` qub." - 19:6. The religious scholars are all agreed that here the inheritance does not mean wealth, because in the first place, it has not been established that Sayyidna Zakariyya (علیہ السلام) had much wealth. Hence, the question as to who would inherit the same, does not arise. Secondly, it is inconsistent with the exalted position of a prophet to concern himself with such matters. And thirdly, a saying of the Holy Prophet ﷺ ، which has been unanimously accepted…

Read the full tafseer →