Explained with ayahs 1–6
دعا اور قبولیت۔
اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 3
مطلب یہ ہے کہ ابیاہ کے خاندان میں میرے بعد کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو دینی اور اخلاقی حیثیت سے اس منصب کا اہل ہو جسے میں سنبھالے ہوئے ہوں۔ آگے جو نسل اٹھتی نظر آ رہی ہے اس کے لچھن بگڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →الْمَوَالِيَ ، مولیٰ کی جمع ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ بہت سے معانی کے لیے استعمام ہوتا ہے ان میں سے ایک معنی چچا زاد بھائی اور اپنے عصبات کے بھی آتے ہیں اس جگہ وہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6)۔
دینی وراثت کے حامل کے لیے دعا : " موالی " سے مراد کسی شخص کے بنی اعمام، بھائی بند اور اس کے نسبتی اعزہ و اقرباء ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا کے اقرباء معلوم ہوتا ہے کہ اچھے لوگ نہیں تھے، ان کی طرف سے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ، ان کی وفات کے بعد ان کی اور آلِ یعقوب کی ان دینی روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو اس پاکیزہ خاندان کا اصلی سرمایہ امتیاز ہیں۔ انہیں فکر تھی کہ خدا ندان میں کوئی ایسا شخص اٹھے جو اس خاندان کے مشن کو زندہ…
Read the full tafseer →5۔ 1 اس ڈر سے مراد یہ ہے کہ اگر میرا کوئی وارث میری مسند وعظ وارشاد نہیں سنبھالے گا تو میرے قرابت داروں میں اور تو کوئی اس مسند کا اہل نہیں ہے۔ میرے قرابت دار بھی تیرے راستے سے گریز و انحراف نہ اختیار کرلیں۔
5۔ 2 ' اپنے پاس سے ' کا مطلب یہی ہے کہ گو ظاہری اسباب اس کے ختم ہوچکے ہیں، لیکن تو اپنے فضل خاص سے مجھے اولاد سے نواز دے۔
Read the full tafseer →2: یعنی میری کوئی اولاد تو ہے نہیں، اور میرے پیچھے میرے چچازاد بھائی اپنے علم اور تقوی کے اعتبار سے اس مقام پر نہیں ہیں کہ وہ میرے مشن کو آگے جاری رکھ سکیں، اس لئے مجھے ان سے اندیشہ ہے کہ وہ دین کی خدمت نہیں کرسکیں گے، لہذا مجھے ایسا بیٹا عطا فرما دیجئے جو میرے علوم نبوت کا وراث ہو، حضرت زکریا ؑ کی اس دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے جواب میں بیٹا عطا فرمانے کا تذکرہ پیچھے سورة آل عمران (3: 38 تا 40) میں بھی گزرچکا ہے ان آیتوں کے حواشی بھی ملاحظہ فرمالئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔
یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی…
Read the full tafseer →5 ان کے بھائی بند قرابت دار نااہل ہوں گے۔ ڈر یہ ہوا کہ وہ لوگ ان کے بعد اپنی بد اعمالیوں اور غلط کاریوں سے راہ نیک نہ بگاڑ دیں اور جو دینی و روحانی دولت یعقوب (علیہ السلام) کے گھرانے میں منتقل ہوتی ہوئی حضرت زکریا (علیہ السلام) تک پہنچی تھی اسے اپنی شرارت اور بدتمیزی سے ضائع نہ کردیں۔
Read the full tafseer →آیت 5 وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِ یْ
مجھے اپنے ورثاء میں کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو میرے بعد ہیکل سلیمانی کا متولی اور میرا جانشین بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
وَکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا
یہاں ”ولی“ لفظ بہت اہم ہے ‘ یعنی مجھے ایسا ساتھی عطا کر جو میرے مشن میں میرا دوست وبازو بن سکے۔
Read the full tafseer →7 سیدنا زکریا کی بیٹے کے لئے دعا کرنا :۔ یعنی لڑکا طلب کرنے سے میری اصل غرض یہ ہے کہ وہ میرا صحیح جانشین ثابت ہو۔ کیونکہ دوسرے میرے بھائی بند جو مجھے نظر آرہے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو میرے بعد دعوت دین اور تبلیغ کے کام کو سنبھال سکے۔
Read the full tafseer →5۔ (کہ وہ میرے بعد اس مرکز توحید کی خدمات دینی اور علوم عالی کو سنبھال نہ سکیں گے) (آیت) ” الموالی “۔ مراد وہ عزیز ہیں جو اولاد نہ ہونے کی صورت میں وراث و جانشین ہوتے۔ الموالی یعنی الورثۃ (ابن عباس ؓ آپ کو ان کی طرف سے یہی اندیشہ تھا کہ یہ بدمذہب، بدعمل لوگ ہیں، ہیکل کی خدمت میں قاصر رہیں گے۔ فافھم علی الدین انھم کانوا اشرار بنی اسرائیل (جصاص) (آیت) ” من ورآء ی “۔ یعنی میری موت کے بعد۔ اے من بعد موتی (معالم۔ کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے کھیٰعص اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی خوب جانتا ہے یہ (متلو) اپنے بندے زکریا پر تیرے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے عبدہٗ رحمت کا مفعول ہے زکریا، عبدہ کا بیان ہے جبکہ اس نے اپنے رب کو مخفی طور پر پکارا اِذْ رحمۃً سے متعلق ہے، یعنی ایسا پکارنا کہ جو راز داری پر مشتمل تھا رات کے درمیان حصہ میں اس لئے کہ یہ (طریقہ) سریع القبول ہے عرض کیا اے میرے پروردگار میری تمام ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہیں اور میرے سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے شیباً فاعل سے منقول ہو کر تمیز ہے یعنی جس طرح لکڑیوں میں آگ پھیل جاتی ہے اسی طرح سفیدی میرے سر کے…
Read the full tafseer →وانی خفت الموالی من ورآی وکانت امراتی عاقرا فہب لی من لدنک ولیا۔ اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں اور میری بی بی بانجھ ہے سو (اس صورت میں) تو مجھے خاص اپنی عنایت سے ایک میرا وارث
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) اور اپنے بعد اپنے وارثوں کے بارے میں اندیشے میں مبتلا ہوں کہ کہیں میرے علم اور تقوے کا میرے بعد کوئی وارث نہ ہو یا یہ کہ میرے ورثہ کم ہیں اور میری بیوی حسنہ ہمشیرہ ام مریم بنت عمران بن ماثان بانجھ ہے لہذا آپ خاص اپنی رحمت سے ایسا فرزند عطا فرمائیے جو کہ میرے خاص علوم میں میرا وارث بنے اور یعقوب ؑ کے خاندان کے موروثی علوم میں ان کا وارث بنے اگر ان میں یہ علوم اور بادشاہت ہوں (حضرت یعقوب ؑ کا خاندان حضرت یحییٰ ؑ کی ننھیال تھی) اور اس کا اپنا پسندیدہ اور نیکوکار بنائیے۔
Read the full tafseer →وَاِنِّىْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَاۗءِيْ۔۔ :”الْمَوَالِيَ“ ”مَوْلٰی“ کی جمع ہے۔ یہاں مراد قریبی رشتے دار اور چچوں کے بیٹے ہیں جو اولاد نہ ہونے کی صورت میں وارث بنتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے ان میں سے کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو اس لائق ہو کہ میرے مرنے کے بعد بنی اسرائیل کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکے اور میرا اور آل یعقوب کا علمی و عملی وارث بن سکے، جس سے تیرے دین پر عمل اور اس کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رہ سکے، بلکہ مجھے ان سے خطرہ ہے کہ وہ دین کو بگاڑیں گے اور اپنی من مانیاں کریں گے، جیسا کہ سورة اعراف (169) میں بنی اسرائیل میں سے کتاب کے وارث بننے والے بعض لوگوں کا حال ذکر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانی خفت الموالی من ورآئی و کا نت امراتی عاقراً فھب لی من لدنک ولیا۔ اس میں سات مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانی خفت الموالی حضرت عثمان بن عفان، محمد بن علی اور علی بن حسین اور یحییٰ بن یعمر ؓ نے خفت خاکے فتحہ اور فاکلی شد اور تا کے کسرہ کے ساتھ اور الموالی کو یا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ خفت کی وجہ سے یہ محل رفع میں ہے۔ اس کا معنی ہے میرے رشتہ دار موت کے ساتھ ختم ہوگئے۔ اور باقی قراء نے خفت خاء کے کسرہ، فا کے سکون اور تا کے ضمہ اور موالی کے یا کی نصب کے ساتھ پڑھا ہے، کیونکہ خفت کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ الموالی سے یہاں مراد قریبی رشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔
2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…
Read the full tafseer →[وَانى: اور بیشک میں ] [خِفْتُ : ڈرتا ہوں ] [الْمَوَالِيَ : اپنے اقربا سے ] [مِنْ وَّرَاۗءِيْ : اپنے بعد ] [وَ : اس حال میں کہ ] [كَانتِ : ہے ] [امْرَاَتِيْ : میری عورت ] [عَاقِرًا : بانجھ ] [فَهَبْ : پس تو عطا کر ] [لِيْ : مجھ کو ] [مِنْ لَّدُنْكَ : اپنے خزانے سے ] [وَلِيًّا : ایک ایسا کام اٹھانے والا ]
(آیت۔ 5 ۔ 6) ۔ یَرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ ۔ یہ پورا جملہ فعل امر فَھَبْ لِیْ کا جواب امر نہیں ہے۔ اگر جواب امر ہوتا تو مضارع مجزوم یَرِثْ آتا۔ لیکن یہاں مضارع مرفوع یَرِثْ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جملہ دراصل نکرہ موصوفہ وَلِیًّا کی صفت ہے۔ ترجمہ میں اس فرق کو ظاہر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت
حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔
(ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
6:۔ موالی سے ان کی عصبات اور بنو العم مراد ہیں۔ یہ لوگ بےدین تھے اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نیک فرزند کے لیے دعا کی تاکہ وہ ان کے بعد دعوت دین کے کام کو جاری رکھے۔ انما کان موالیہ مھملین للدین فخاف بموتہ ان یضیع الدین فطلب ولیا یقوم بالدین بعدہ (قرطبی ج 11 ص 78) ۔ ” یرثنی و یرث من ال یعقوب الخ “ یہاں وراثت سے وراثت علم نبوت مراد ہے نہ کہ وراثت مال کیونکہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ان کا ترکہ قومی ملکیت ہوتا ہے۔ ای یرثنی من حیث العلم والدین والنبوۃ فان الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لا یورثون المال قال ﷺ نحن معاشر الانبیاء لا نورث ماتکرناہ صدقۃ (ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(حضرت زکریا کی دعا)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں ہاتھ پھیلائے تھے کہ مولا کریم ! میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں اور سر سفید ہوگیا ہے ، میں قبولیت دعا سے کبھی محروم نہیں رہا ، لہذا میں امید رکھتا ہوں کہ تو میری دعا کو ضرور شرف قبولیت بخشے گا آپ کی یہ دعا اولاد کے لیے تھی عرض کیا پروردگار (آیت) ” وانی خفت الموالی من ورآء ی “۔ بیشک میں اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں سے خوف کھاتا ہوں ۔
موالی جمع ہے مولی کی ، یہ لفظ عربی زبان میں بہت سے معافی میں استعمال ہوتا ہے ، صاحب قاموس نے اس لفظ کے پچیس معنی لکھے ہیں جن میں غلام ، آزاد شدہ غلام ،…
Read the full tafseer →وَاِنِّىْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَاۗءِيْ وَكَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا فَہَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا 5ۙ
خفی
خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ،
( خی ) خفی ( س )
خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔
مولي
والمَوْلَى يقال للمعتِقِ ، والمعتَقِ ، والحلیفِ ، وابنِ العمِّ ، والجارِ ، وكلِّ من وَلِيَ أمرَ الآخرِ فهو وَلِيُّهُ ، ويقال : فلان أَوْلَى بکذا . أي أحری،
الوالیٰ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1 ؎ یعنی ایسا کوئی جانشین فرزند عطا کر کہ میرے بعد انتظام ملت و قوم کرے کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میرے بعد میرے اقارب جو اس مسند امامت پر بیٹھیں گے قوم و ملت کو برباد نہ کردیں کس لیے کہ حضرت زکریا ( علیہ السلام) کو ان کے آثار اچھے نہ دکھائی دیتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآئِ یْ وَکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا۔ یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ صلے قوَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا۔ (مریم : 5، 6)
(اور میں ڈرتا ہوں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے اور میری بیوی بانجھ ہے پس بخش دے مجھے اپنی طرف سے ایک وارث۔ جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کی روایات کا بھی اور اے رب، اس کو پسندیدہ سیرت والا بنائیو۔ )
دُعا کا ایک اور سبب
اس آیت کریمہ میں تیسری بات یہ عرض کی کہ یا اللہ میں اس بڑھاپے میں یہ دعا اس لیے کر رہا ہوں کہ مجھے اپنے قریبی عزیزوں اور بھائی بندوں کے بارے میں فکرمندی ہے کہ وہ اپنی بےدینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جیسا کہ اس سے پہلے عرض کیا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے مریم [ کے پاس بےموسم پھل دیکھ کر اسی وقت اور اسی جگہ نیک بیٹے کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو فرشتے کے ذریعہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ یہاں زکریا (علیہ السلام) کی دعا کے تذکرہ میں یہ اضافہ موجود ہے کہ انھوں نے جب دعا کی تو وہ آہستہ الفاظ یعنی دبی زبان میں دعا کر رہے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم [ کی موجودگی اور انتہائی غم، بےبسی کی وجہ سے انھوں نے دل ہی دل میں دعا کی۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے انداز سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ دعا کرتے ہوئے آدمی…
Read the full tafseer →5: وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ (اور میں اپنے رشتہ داروں سے اندیشہ رکھتا ہوں) الموالیؔ سے ان کے عصبات یعنی بھائی، چچا کے بیٹے مراد ہیں اور یہ بنی اسرائیل کے شریرلوگ تھے۔ پس ان کو خطرہ ہوا کہ وہ دین کو نہ بدل ڈالیں اور آپ کی امت پر وہ اچھی نائبیت انجام نہ دیں اس لئے انہوں نے اپنی صلبی اولاد میں صالح فرزند کی درخواست کی تاکہ دین کو زندہ کرنے میں ان کی اقتداء کی جاس کے۔
مِنْ وَّ رَآ ئِ یْ (اپنے بعد) اپنی موت کے بعد۔ قراءت : قصر اور فتحہ یاؔ کے ساتھ ھدای کی طرح مکی نے پڑھا ہے۔
نحو : اس ظرف کا خفت سے تعلق نہیں کیونکہ موت کے بعد وجود خوف کا کوئی تصور نہیں۔ لیکن محذوف سے متعلق ہے۔ نمبر 2: یا…
Read the full tafseer →5۔ وانی خفت الموالی، ، موالی چچا کے بیٹوں کو کہتے ہیں یا وہ لوگ جو میرے بعد میری امت کے درستگی کے متولی ہوں گے مجاہد کا بیان ہے کہ اس سے مراد عصبات ہیں۔ ابوصالح کہتے ہیں کہ اس سے مراد کلالہ ہے ۔ کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد ورثہ ہیں۔ ، من وراء ی، میری موت کے بعد۔ ابن کثیر نے ، من وراء ی ، یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے سکون کیساتھ پڑھا ہے ۔ وکانت امرتی عاقرا، جو بچے نہ جنتی ہو۔ فھب لی من لدنک، ، اپنی طرف سے مجھے عطا کیجئے ۔ ولیا، ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ 6 حضرت زکریا ( علیہ السلام) حضرت مریم کے خالو تھے چناچہ معراج کی صحیح بخاری کی مالک بن صعصعہ کی 1 ؎ حدیث میں یہ بات آچکی ہے کہ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) خالہ زاد بھائی ہیں اگرچہ حضرت زکریا بیت المقدس کے متولیوں میں تھے لیکن صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے کہ بڑھئی کا کام کرکے اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنی گزر کیا کرتے تھے 2 ؎۔ اس لیے ان کے پاس کچھ ایسا مال متاع تو نہیں تھا صرف نبوت کے اپنے خاندان میں چلنے کے لیے لڑکے کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور حضرت یحییٰ پیدا ہوئے یہ نام صرف حضرت یحییٰ دنیا میں زیادہ نہیں جلے لیکن بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیت 1
(ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا) ” یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ “ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریا (علیہ السلام) کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہوگی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے چن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
قول باری ہے وانی خفت الموالی من ورائی مجھے اپنے پیھچے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے ) مجاہد، قتادہ، ابو صالح اور سدی سے مروی ہے کہ الموالی عصبہ کو کہتے ہیں جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بنو اعمام تھے۔ آپ کو دین کے بارے میں ان کی برائیوں کا خوف تھا اس لئے کہ وہ بنی اسرائیل کے بدترین لوگ تھے۔
نبوت کی میراث
قول باری ہے (فھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب ۔ تو مجھے اپنے فضل خاص سے ایک ورث عطا کر دے جو میرا وارث بھی ہو اور آل یعقوب کی میراث بھی پائے) آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ ایک بیٹا عطا ہوجائے جو میری موت کے بعد دین کے امور کی نگہداشت کرے اور اس پر عمل پیرا رہے۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →3 دینی وراثت کے بارے میں فکر و اندیشہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت زکریا نے اپنے بعد اپنی دینی وراثت کے بارے میں فکر و اندیشہ کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا " اور میں ڈرتا ہوں اپنے رشتہ داروں سے "۔ کہ وہ میری مسند و عظ و ارشاد کو صحیح طور پر سنبھال نہیں سکیں گے اور علم وحی کی روشنی میں خلق خدا کی اصلاح نہیں کرسکیں گے۔ اور دین کی تعلیم و تبلیغ اور اس کے دفاع کے فریضہ کو صحیح طور پر ادا نہیں کرسکیں گے جو کہ ہماری اصل میراث اور حقیقی دولت ہے۔ (محاسن التاویل، المراغی اور المعارف وغیرہ) ۔ سو آپ کو اس بارے میں اندیشہ تھا کہ یہ لوگ آپ کے بعد آپ کی اور آل یعقوب کی دینی وراثت کو قائم نہیں رکھ سکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سیدنا زکریا اور ان کی دعا
تشریح : سیدنا زکریا (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر بڑی تفصیل سے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ بنی ہارون کے 24 خاندان تھے جن میں سے ابیاہ خاندان کے سردار سیدنا زکریا (علیہ السلام) تھے۔ آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے مگر ہدایت خلق کا کام ان کے ذمہ تھا۔ اسی ذمہ داری کو انہوں نے اپنی میراث کہا ہے اسی میراث کو سنبھالنے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگا کہ جو ہدایت خلق کا کام ان کے بعد اچھی طرح سنبھال سکے، حالانکہ آپ اور آپ کی بیوی عمر اور صحت کے لحاظ سے نااہل ہوچکے تھے۔ کیونکہ ایک تو دونوں بوڑھے ہوچکے تھے اور دوسرا ان کی بیوی قدرتی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة مریم :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔
(حروف مقطعات)
کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…
Read the full tafseer →ف 2 مطلب یہ ہے کہ ان میں مجھے کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو اس لائق ہو کہ میرے بعد پیغمبری کے عظیم ال شان منصب پر فائز کیا جاسکے اور تیرے دین کی تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔3 ابن جریر لکھتے ہیں کہ ان کی بیوی کا نام اشاع بنت فاقوذ تھا اور وہ حرت مریم کی والدہ حفہ کی بہن تھیں۔ قتیبی نے ان کا نام شاع بنت عمران لکھا ہے اور وہ حضرت مریم کی بہن تھیں۔ پہلے قول کے مطابق حضرت یحییٰ حضرت مریم کے اور دوسرے قول کے مطاب حضرت عیسیٰ کے خالہ زاد بھائی تھے اور حدیث معراج میں بھی ان دونوں کو ” ابنی خالہ “ فرمایا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(19:5) الموالی۔ مولیٰ کی جمع ہے وہ رشتہ دار جو ذوی الفروض ہوں وارثان کے بچے ہوئے مال کے وارث ہوں۔ چچا کے بیٹے۔ عام وارث۔ عام رشتہ دار۔ جو اپنی اولاد نہ ہونے کے باعث وارث بنیں۔ انی خفت الموالی من ورائی۔ میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں (یعنی مجھے ڈر ہے کہ میری اپنی اولاد نہ ہونے کی صورت میں میرے دوسرے رشتہ دار میرے بعد میرے اس مرکز توحید کی خدمات اور دینی علوم عالی کے فرائض کے بجا لانے میں قاصر رہیں گے۔ اور اس طرح میری ساری عمر کی محنت کو نقصان پہنچے گا) ۔
عاقرا۔ بانجھ۔ عقارۃ مصدر۔ یہ کانت کی خبر ہے لہٰذا منصوب ہے۔ رضیا۔ رضی سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بروزن فعیلبمعنی مفعول۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 10
اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علہما السلام کی شہادت
حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہ السلام) کے خالو تھے۔ چناچہ معراج کی صحیح حدیثوں میں اس کی تفصیل آچکی ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خالہ زاد بھائی ہیں۔ اگرچہ حضرت زکریا بیت المقدس کے متولیوں میں تھے، لیکن بڑھئی کا کام کر کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنی گزر کیا کرتے تھے۔ اس لئے ان کے پاس کچھ ایسا مال ومتاع تو نہیں تھا، صرف نبوت کے اپنے خاندان میں چلنے کے لئے لڑکے کی دعا مانگی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور حضرت یحییٰ پیدا ہوئے۔ یہ نام حضرت یحییٰ کا اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے، اور فرما دیا کہ اس سے پہلے…
Read the full tafseer →[2] کہ کہیں دین میں خرابی نہ ڈالیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(ف 1) واقعہ یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوگئے ، اور دیکھا کہ قوم ہنوز اصلاح وہدایت کی محتاج ہے اور یہ بھی دیکھا کہ ان کے بعد ان کا کوئی صالح جانشین نہیں ، جو ان کے کام کو سنبھال سکے ، تو بیٹے کی خواہش دل میں پیدا ہوئی ، اللہ سے دعا مانگی اور کہا ، خدایا میں کمزور اور بہت بوڑھا ہوگیا ہوں ، پیری نے حوصلے پست اور ولولوں کو افسردہ کردیا ہے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی مخالفت سے ڈرتا ہوں ، کہ کہیں عمر بھر کی سعی تبلیغ رائیگاں نہ ہوجائے ، اس لئے چاہتا ہوں کہ میرے بعد نیک اور مستعد اولاد ہو ، جو اس بار عظیم کو اپنے کندھوں پر اٹھالے ، اور میں دین کی جانب سے بالکل مطمئن ہو کر دنیا سے…
Read the full tafseer →-5 اب وجہ بیان کرتے ہیں بیٹا مانگنے کی اور میں اپنے مرنے کے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے سو آپ مجھ کو اپنے پاس سے کوئی ایسا وارث یعنی بیٹا عطا کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 3۔ یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں۔
4۔ یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔
Read the full tafseer →زکریا (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں اپنے عصبات کی نااہلی کا ذکر بھی کیا :
5۔ اولاد ہی والدین کی صحیح اور اصل وارث ہوتی ہے لیکن کسی کے ہاں اولاد نہ ہو تو کیا اس کی وراثت کسی کو نہیں ملے گی ؟ کیوں نہیں جب اصل وارث نہ ہوں گے تو اگر عصبات ہوں گے تو وراثت ادھر منتقل ہوجائے گی ، وراثت میں مال و دولت ہو یا کوئی خاندانی منصب یا کسی اوقاف میں وقف کا متولی ہونا ۔ ہیکل کس نے تعمیر کیا تھا سلیمان (علیہ السلام) نے اور آپ کے بعد ظاہر ہے کہ آپ کا بیٹا متولی ہوگا جو اولاد در اولاد متولی ہوتا رہے گا لیکن اگر کسی مقام پر آکر ہونے والے متولی کی اولاد نہ ہوگی تو متولی ہونے کا عہدہ کہاں جائے گا ظاہر ہے کہ اس کے…
Read the full tafseer →مَوَالِيَ is the plural of مَولٰی . This word has many meanings in the Arabic language, one of them being a cousin, or other relations on the father's side. Here the word has been used in this sense.
Read the full tafseer →3. That is, I see none among my kinsmen, the family of Abiah, who is religiously and morally sound and capable of carrying on the work of the mission that has been entrusted to me.
Read the full tafseer →