Maryam 19:4

Maryam · from ayah 4

19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّلَمْ اَكُنْ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِیًّا ۟قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّىۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا وَّلَمۡ اَكُنۡۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا

(اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ) بڑھاپے (کی وجہ سے) شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "My Lord, indeed my bones have weakened, and my head has filled with white, and never have I been in my supplication to You, my Lord, unhappy.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:4

اُس نے عرض کیا "اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ) بڑھاپے (کی وجہ سے) شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے، لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا تھا کہ : میرے پروردگار ! میری ہڈیاں کمزور پڑگئی ہیں، اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے، اور میرے پروردگار ! میں آپ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں ہوا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی اور سرے سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا (شعلہ چمکا) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

عرض کیا: اے میرے رب! میرے جسم کی ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اوربڑھاپے کے باعث سر آگ کے شعلہ کی مانند سفید ہوگیا ہے اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا اے میرے رب ! یقینا میں ہوں کہ میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور سر بڑھاپے سے شعلے مارنے لگا اور اے میرے رب ! میں تجھے پکارنے میں کبھی بےنصیب نہیں ہوا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کہا : میرے پروردگار ! میری ہڈیاں بوسیدہ ہوچکیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر کے بال سفید ہوگئے، تاہم اے میرے پروردگار ! میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میرے اندر سے میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں اور میرا سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا اور اے میرے رب میں تجھے پکار کے کبھی محروم نہیں رہا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور عرض کیا اے میرے پروردگار میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور بڑھاپے سے میرا سر بھڑک اٹھا ہے۔ اور میں کبھی آپ سے دعا مانگنے میں نامراد و ناکام نہیں ہواف

— مولانا اسحاق مدنی

کہا اے میرے پروردگار میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے اور تجھ کو پکار کر اے میرے پروردگار میں (کبھی) نامراد نہیں رہا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے عرض کیا اے میرے پروردگار بلا شبہ میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میرا سر بھڑک اٹھا ہے بڑھاپے سے اور اے میرے پروردگار میں تجھے پکار کر کبھی بھی نامراد نہیں رہا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہا کہ اے میرے رب ! میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر سفید ہوگیا ہے اور اے میرے رب ! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "Lord! My bones have grown feeble and my head is glistening with age; yet, never have my prayers to You, my Lord, been unfruitful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :My Lord, I am in a state that bones in my body have turned feeble, and the head has flared up grey with old age, and I never remained, My Lord, unanswered in my prayer to You.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :My Lord, I am in a state that bones in my body have turned feeble, and the head has flared up grey with old age, and I never remained, My Lord, unanswered in my prayer to You.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "My Lord! Indeed my bones have grown feeble, and gray hair has Ashta`al on my head, and I have never been unblessed in my invocation to You, O my Lord!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Saying: My Lord! Lo! the bones of me wax feeble and my head is shining with grey hair, and I have never been unblest in prayer to Thee, my Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "My Lord, indeed my bones have weakened, and my head has filled with white, and never have I been in my supplication to You, my Lord, unhappy.

— Saheeh International

and said, "My Lord, my bones have become feeble and my hair has turned white with age. Yet I have never been deprived in receiving from You the answer to my prayers.

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! surely my bones are weakened and my head flares with hoariness, and, my Lord! I have never been unsuccessful in my prayer to Thee:

— Muhammad Habib Shakir

He said: O my Lord! verily the bones of me have waxen feeble, and the head is glistening with hoariness, and have not yet been in my prayer to thee, my Lord, unblest.

— Abdul Majid Daryabadi

Praying: "O my Lord! infirm indeed are my bones, and the hair of my head doth glisten with grey: but never am I unblest, O my Lord, in my prayer to Thee!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

دعا اور قبولیت۔ اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–4

سورة مَرْیَم 1 تقابل کے لیئے سورة آل عمران رکوع 4 پیش نظر رہے جس میں یہ قصہ دوسرے الفاظ میں بیان ہوچکا ہے۔ تفہیم القران ج 1۔ ص 246۔ 250) سورة مَرْیَم 2 یہ حضرت زکریا جن کا ذکر یہاں ہو رہا ہے حضرت ہارون کے خاندان سے تھے۔ ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہانت (Priesthood) کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا تھا کہ حضرت یعقوب کی اولاد کے 12 قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کردیا گیا، اور تیرھواں قبیلہ (یعنی لاوی بن یعقوب کا گھرانا) مذہبی خدمات کے لیئے مخصوص رہا پھر بنی لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِنِّىْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًاکمزوری ہڈیوں کی ذکر فرمائی کیونکہ وہی عمود بدن ہیں، جب ہڈی ہی کمزور ہوجائے تو سارے بدن کی کمزوری ہے۔ اشتعال کے لفظی معنی بھڑک اٹھنے کے ہیں اس جگہ بالوں کی سفیدی کو آگ کی روشنی سے تشبیہ دے کر اس کا پورے سر پر پھیل جانا مقصود ہے۔ دعا میں اپنی حاجت مندی کا اظہار مستحب ہے۔: اس جگہ دعا سے پہلے حضرت زکریا ؑ نے اپنے ضعف و کمزوری کا ذکر کیا، اس کی ایک وجہ تو وہ ہے جس کی طرف خلاصہ تفسیر میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان حالات کا مقتضا یہ تھا کہ اولاد کی خواہش نہ کروں۔ ایک دوسری وجہ امام قرطبی نے تفسیر میں یہ بھی بیان فرمائی کہ دعا مانگنے کے وقت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 3–4

تفسیر آیت 3 تا 4: إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (3) قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا۔ اولاد کے لیے حضرت زکریا کی دعا اور اندازِ دعا : یہ حضرت زکریا کی دعا ہے جو انہوں نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ یہ دعا انہوں نے ہیکل میں، جیسا کہ آگے اشارہ آ رہا ہے، غالباً بحالتِ اعتکاف کی ہے۔ فرمایا کہ اس نے چپکے چپکے اپنے رب کو پکارا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا راز و نیاز کے انداز میں ہونا اس کے اولین آداب میں سے بھی ہے اور اس کی قبولیت کے لیے بہترین سفارش بھی۔ درحقیقت یہی دعائیں ہوتی ہیں جو ریا اور نمائش سے بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی جس طرح لکڑی آگ سے بھڑک اٹھتی ہے اسی طرح میرا سر بالوں کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے مراد ضعف وکبر (بڑھاپے) کا اظہار ہے۔ 4۔ 2 اور اسی لیے ظاہری اسباب کے فقدان کے باوجود تجھ سے اولاد مانگ رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا، مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آئے ہیں، ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–6

ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔ یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی بظاہر موت کا وقت قریب ہے، سر کے بالوں میں بڑھاپے کی سفیدی چمک رہی ہے اور ہڈیاں تک سوکھنے لگیں۔ 4 یعنی آپ نے اپنے فضل و رحمت سے ہمیشہ میری دعائیں قبول کیں اور مخصوص مہربانیوں کا خوگر بنائے رکھا اس آخری وقت اور ضعف و پیرانہ سالی میں کیسے گمان کروں کہ میری دعاء رد کر کے مہربانی سے محروم رکھیں گے۔ بعض مفسرین نے (وَّلَمْ اَكُنْۢ بِدُعَاۗىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا) 19 ۔ مریم :4) کے معنی یوں کیے ہیں کہ اے پروردگار آپ کی دعوت پر میں کبھی شقی ثابت نہیں ہوا یعنی جب آپ نے پکارا برابر امتثال امر اور طاقت و فرمانبرداری کی سعادت حاصل کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا یعنی بڑھاپے کے سبب میرے سر کے بال مکمل طور پر سفید ہوگئے ہیں۔ وَّلَمْ اَکُنْم بِدُعَآءِکَ رَبِّ شَقِیًّا چنانچہ آج میں بڑی ہمت کر کے تجھ سے ایک بہت ہی غیر معمولی دعا کرنے جا رہا ہوں۔ دنیوی حالات اور طبیعی قوانین کے اعتبار سے تو ایسا ہونا ممکن نہیں ‘ مگر تو چاہے تو ناممکن بھی ممکن ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 اشتعل الراس کا لفظی معنی سر کا شعلہ مارنا ہے مگر یہ بطور محاورہ استعمال ہوا ہے اور یہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب بڑھاپے کی وجہ سے سر کے بال سفید اور چمکدار ہونے لگیں۔ 6 اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ترجمہ میں مذکور ہوا۔ یعنی جب بھی میں نے تجھ سے دعا کی وہ ہمیشہ قبول ہوتی رہی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اے پروردگار جب بھی تو نے مجھے کسی کام کے کرنے کے لئے پکارا تو میں ہمیشہ بجا لاتا رہا اور کبھی شقی ثابت نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (تو پھر تیرے اس لطف مستقل وفضل مستمر پر نظر کرکے بعید سے بعید مقصود کے لیے بھی تجھ سے دعا کیوں نہ کروں) (آیت) ” شقیا “۔ شقی یہاں محروم وناکام کے معنی میں ہے۔ شقیا اے خائبا (ابن عباس ؓ (آیت) ” رب انی ....... شیبا “۔ یعنی گویا اسباب ظاہری کے لحاظ سے اب اولاد کا ہونا بہت مستبعد ہے اور میرا اس کے لیے دعا کرنا بھی بظاہر بےمحل ہے۔ انجیل میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور آپ کی زوجہ محترمہ ایشیع کا ذکر کرکے ہے :۔ ” اور ان کے اولاد نہ تھی، کیونکہ ایشیع بانجھ تھی، اور دونوں عمر رسیدہ تھے “ (لوقا۔ 1: 7) آیت میں اس کی بھی تعلیم ملتی ہے کہ کبر سنی کے طبعی اثرات سے حضرات انبیاء کو مفر نہیں۔ ہم سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے کھیٰعص اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی خوب جانتا ہے یہ (متلو) اپنے بندے زکریا پر تیرے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے عبدہٗ رحمت کا مفعول ہے زکریا، عبدہ کا بیان ہے جبکہ اس نے اپنے رب کو مخفی طور پر پکارا اِذْ رحمۃً سے متعلق ہے، یعنی ایسا پکارنا کہ جو راز داری پر مشتمل تھا رات کے درمیان حصہ میں اس لئے کہ یہ (طریقہ) سریع القبول ہے عرض کیا اے میرے پروردگار میری تمام ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہیں اور میرے سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے شیباً فاعل سے منقول ہو کر تمیز ہے یعنی جس طرح لکڑیوں میں آگ پھیل جاتی ہے اسی طرح سفیدی میرے سر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب انی وہن العظم منی واشتعل الراس شیبا (اور) عرض کیا اے میرے رب میری ہڈیاں (پیری کی وجہ سے) کمزور ہوگئیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل گئی۔ وَہَنَ الْعَظْمُ ہڈی کمزور ہوگئی یعنی میں ضعیف ہوگیا ‘ ہڈیاں سارے بدن کے ستون ہیں ‘ ڈھانچہ ہیں (ہڈیاں کمزور ہوگئیں تو سارے اعضاء کمزور ہوگئے) ہڈیاں باقی اجزاء بدن سے سخت ہیں جب ہڈیاں کمزور ہوگئیں تو دوسرے اجزاء کا زیادہ کمزور ہوجانا ضروری ہے العظم اسم جنس ہے (کثیر پر بھی جنس کا اطلاق ہوتا ہے یعنی فی نفسہٖ ہڈی کمزور ہوگئی کسی جگہ کی ہو۔ ) وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا یعنی سارا سر سفید ہوگیا۔ سفیدی بالوں میں ایسی پھیل گئی کہ گویا آگ بھڑک اٹھی ‘ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(4) اے میرے رب میرا جسم کمزور ہوگیا ہے اور میرے بال سفید ہوگئے ہیں اور اے میرے رب میں آپ سے کوئی دعا کرنے میں ناکام نہیں رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ وَهَنَ الْعَظْمُ۔۔ : ’ الْعَظْمُ“ اگرچہ واحد ہے مگر مراد جنس ہے، یعنی میری جو ہڈی بھی ہے کمزور ہوگئی ہے۔ اگر جمع کا لفظ بولتے ”اَلْعِظَامُ“ یعنی ہڈیاں، تو اس سے ہڈیوں کا کوئی مجموعہ بھی مراد ہوسکتا تھا۔ ”َاشْتَعَلَ الرَّاْسُ“ سارے سر کے بال سفید ہونے کو آگ کے شعلے مارنے سے تشبیہ دے کر آگ کا لفظ حذف کردیا اور بڑھاپے کی وجہ سے سر کو شعلے مارنے والا بنادیا، اسے استعارہ کہتے ہیں۔ ان الفاظ میں اپنی انتہائی کمزوری کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے، کیونکہ وہ کمزوروں پر زیادہ رحم فرماتا ہے۔ یہ دعا کے آداب میں سے ایک ادب ہے۔ وَّلَمْ اَكُنْۢ بِدُعَاۗىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال رب انی و ھن العظم منی اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال رب انی وھن بھی پڑھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کمزور ہونا۔ کہا جاتا ہے : وھن یھن وھنا فھوداھن۔ کمزور ہونا۔ ابو زید نے کہا : وھن یھن او و ھن یومن بھی کہا جاتا ہے۔ العظم کا ذکر کیا کیونکہ یہ بدن کا عمود ہے اس کے ساتھ جسم کا قوام ہے۔ یہ اس کی بنا (ڈھانچہ) کی اصل ہے جب ہڈیاں کمزور ہوتی ہے تو جسم کی تمام تر قوتیں کمزور ہوجاتی ہے کیونکہ جسم میں ہڈی ہی سخت اور مضبوط ہوتی ہے جب ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں تو دوسرا جسم بدرجہ اولیٰ کمزور ہوجاتا ہے۔ عظم واحد ذکر فرمایا کیونکہ واحد جنسیت کے معنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [انى: بیشک میں (ہوں کہ)] [وَهَنَ : کمزور ہوئی ] [الْعَظْمُ : ہڈی ] [مِنِّيْ : مجھ (میں) سے ] [وَاشْتَعَلَ : اور چمک اٹھا ] [الرَّاْسُ : سر ] [شَيْبًا : سفیدی سے ] [وَّلَمْ اَكُنْۢ: اور میں ہوا ہی نہیں ] [بِدُعَاۗىِٕكَ : تیری دعا سے ] [رَبِ : اے میرے رب ] [شَقِيًّا : کبھی نامراد ] ش ع ل [شَعْلاٌ: (ف) ] آگ بھڑکانا (افتعال) اِشْتِعَالًا آگ سے شعلہ نکلنا۔ غصّہ کا بھڑک اٹھنا، زیر مطالعہ آیت۔ 4 ش ی ب [شَیْبًا : (ض) (1) سفید بالوں والا ہونا۔ (2) بوڑھا ہونا۔ شَیْبٌ اسم ذات بھی ہے۔ (1) سفیدی (2) بڑھاپا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 اور ثُمَّ جَعَلَ مِنْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔ (ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

5:۔ یہ ماقبل کا بیان ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا میں اپنی جسمانی کمزوریاں بیان کی ہیں اول یہ کہ ان کا بدن بالکل کمزور ہوچکا ہے۔ دوم یہ کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کے سر کے بال سفید ہوچکے ہیں۔ جو شخص اس قدر عاجز ہو کہ ان کمزوریوں سے اپنے آپ کی حفاطت نہ کرسکے وہ کسی طرح دوسروں کا کارساز نہیں ہوسکتا۔ ” و لم اکن بدعائک “ با سببیہ ہے اور مصدر مفعول کی طرف مضاف ہے فاعل محذوف ہے اصل میں تھا بدعائی ایاک یعنی میں اس وجہ سے بدبخت نہیں ہوں کہ صرف تجھ ایک ہی کو پکارتا ہوں۔ بدبخت وہ ہے جو تیرے سوا غیروں کو بھی پکارتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

(کوائف اور زمانہ نزول) اس سورة میں حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہے ، لہذا یہ سورة آپ ہی کے نام پر سورة مریم کے نام سے موسوم ہے یہ سورة اٹھانوے آیات اور چھ رکوع پر مشتمل ہے ، اس کے 962 الفاظ اور 3302 حروف ہیں ۔ یہ سورة مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے ۔ اس امر کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ سن پانچ اور چھ نبوی میں جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی دو جماعتیں مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ پہنچیں تو وہاں کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا چاہے چناچہ حضرت جعفر ؓ امیر قافلہ نے نجاشی کے سامنے نہ صرف حضور ﷺ اور مسلمانوں کے حالات بیان کیے بلکہ سورة مریم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ وَہَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًا وَلَمْ اَكُنْۢ بِدُعَاۗىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا۝ 4 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ وهن الوَهْنُ : ضعف من حيث الخلق، أو الخلق . قال تعالی: قالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي [ مریم/ 4] ، فَما وَهَنُوا لِما أَصابَهُمْ [ آل عمران/ 146] ، وَهْناً عَلى وَهْنٍ [ لقمان/ 14] أي : كلّما عظم في بطنها : زادها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : ذکر مرفوع بانہ خبر مبتدء محذوف ای ہذا ثم الخبر مضاف الیٰ رحمت وھی الٰی ربک۔ عبدہ منصوب بانہ مفعول رحمۃ وقیل مفعول لذکرا ذ نادی ظرف زمان للرحمۃ اے رحمۃ اللہ ایاہ وقت ان ناداہ۔ قال رب الخ الجملۃ مفسرۃ لقولہ نادی والوھن الضعف یقال وہن یہن وہنامن باب وعدیعد ولایتعدی فی لغۃ۔ اشتعل الراس الاشتعال انتشار شعاع النار فشبہ بہ انتشار بیاض شعرالراس بجامع البیاض ثم اخرجہ مخرج الاستعارۃ بالکنایۃ بان حذف المشبہ بہ واداۃ التشبیہ شقیا اے خائبا من الاجابۃ۔ خفت بصیغہ المتکلم وقری بکسر التاء وفاعلہ الموالی اے قلودما توالمراد بالموالی جمع المولیٰ ھنا الاقارب یرثنی و یرث بالرفع الفعلین علی انھما صفتان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

اِذْنَادٰی رَبَّہٗ نِدَآئً خَفِیًّا۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّلَمْ اَکُنْ م بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا۔ (مریم : 3، 4) (جب اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔ عرض کی اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور اور بوسیدہ ہوگئی ہیں اور میرا سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے (بالکل سفید ہوگیا ہے) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کے کبھی محروم نہیں رہا۔ ) دُعا کے آداب یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی وہ دعا ہے جو آپ ( علیہ السلام) نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ ہم سورة ال عمران میں اس کی کسی حد تک وضاحت کرچکے ہیں۔ اسرائیلی روایات کے مطابق اس وقت آپ ( علیہ السلام) کی عمر 70…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

فہم القرآن ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے جو خاص الخاص رحمت فرمائی اس کا ذکر۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک 120 سال کے قریب ہوچکی تھی اور ان کی زوجۂ مکرمہ 98 سال کے قریب اور جسمانی طور پر اولاد جنم دینے کے قابل نہ تھیں یعنی وہ کلیتاً بانجھ تھیں۔ ان حالات کے باوجود حضرت زکریا (علیہ السلام) ” اللہ “ کی رحمت سے مایوس نہیں تھے۔ یہی انبیاء (علیہ السلام) اور نیک لوگوں کا شیوہ ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں وہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوا کرتے۔ اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعائیں کیے جا رہے تھے۔ سورة آل عمران آیت 37 تا 39…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہڈیوں کے تذکرہ کی وجہ : 4: قَالَ رَبِّ (عرض کیا اے میرے رب) یہ دعا کی تفسیر ہے رب اصل میں یا رَبِّ ہے حرف ندا اور مضاف الیہ کو اختصار کیلئے حذف کردیا گیا۔ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ بیشک میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں) یعنی میں ضعیف ہوگیا یہاں عَظْم کو خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا کیونکہ وہ سارے بدن کیلئے بمنزلہ ستون کے ہے اور اسی سے بدن کا قوام ہے جب ہڈیاں ہی کمزورہو جائیں تو ساری قوت ختم ہوجاتی ہے اور کمزور پڑجاتی ہے کیونکہ ہڈیاں جسم میں سب سے زیادہ مضبوط اور سخت ہوتی ہیں جب یہ کمزور پڑجائیں تو اس کے علاوہ بقیہ اجزاء اس کی نسبت کمزور تر ہوتے ہیں۔ العظم کو واحد لائے کیونکہ یہ جنسیت پر دلالت کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4۔ ، قال رب انی وھن، جب وہ بوڑھے اور کمزور ہوگئے۔ العظم منی، ہڈیاں بوڑھی ہوگئیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد دانتوں کا گرجانا ہے۔ واشتعل الراس، جب سر کے بال سفید ہوگئے۔ شیبا، وہ سفید ہوگیا، ولم اکن بدعائک رب شقیا۔ پہلے زندگی میں جو میں نے تجھ سے دعائیں مانگیں تونے قبول فرمائیں میری دعا کو قبول کرنا تیرا معمولی رہا اس معاملے میں تم نے مجھے رسوا نہیں کیا۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب تونے مجھے ایمان کی طرف دعوت دی میں نے تیری دعوت قبول کی، ایمان کو ترک کرکے بدبخت اور نامراد نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ اس سورت میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے اس واسطے اس سورة کا نام مریم ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے سورة آل عمران کی آیتوں کے مضمون کے موافق حضرت مریم کی ماں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوگا تو اس کو دنیا کے کاموں سے باز رکھ کر بیت المقدس کا خادم بنا دیا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی تو لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا اس واسطے حضرت مریم کی ان کو نذر کے پورا نہ ہونے کا بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کا رنج رفع کرنے کے لیے اپنی رحمت سے حضرت مریم کی خادمی جائز فرمائی اور حضرت مریم کی پرورش ان کے خالو زکریا (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

آیت 1 (ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا) ” یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ “ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریا (علیہ السلام) کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہوگی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے چن…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–4

آداب دعا قول باری ہے (اذ نادی ربہ نداء خفیاً ۔ جب کہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) اللہ تعالیٰ نے چپکے چپکے دعا کرنے پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ چپکے چپکے دعا مانگنا بلند آواز سے دعا مانگنے سے افضل ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ادعوا ربکم تضرعاً وخفیۃ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو) حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ صخیر الذکر الخفی وخیر الرزق مایکفی بہترین ذکر، ذکر خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو ضروریات کے لئے کافی ہو) حسن بصری سے مروی ہے کہ ان کی رائے میں امام قنوت کے اندر دعا مانگے اور مقتدی آمین کہیں۔ انہیں آواز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ رحمت ہی کی امید رکھنے کا درس : سو حضرت زکریا نے رب سے عرض کیا " اور میں کبھی آپ سے دعا مانگنے میں نامراد نہیں ہوا "۔ بلکہ ہمیشہ تیرے لطف و کرم سے سرفراز ہوا۔ اس لئے میں قوی امید رکھتا ہوں کہ اب بھی تو اے میرے مالک مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔ سو اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اللہ پاک کے حضور دعاء قوی امید و یقین کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ۔ " اُدْعُوا اللّٰہَ وَاَنْتُمُ مُّوْقِنُوْنَ بالْاِجَابَۃِ " ۔ کہ تم اللہ کو اس طرح پکارا کرو کہ تمہیں دعاء کی قبولیت کا پورا یقین ہوا کرے۔ سو اس میں رب کی رحمت کے بارے میں ہمیشہ پرامید رہنے کا درس عظیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

سیدنا زکریا اور ان کی دعا تشریح : سیدنا زکریا (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر بڑی تفصیل سے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ بنی ہارون کے 24 خاندان تھے جن میں سے ابیاہ خاندان کے سردار سیدنا زکریا (علیہ السلام) تھے۔ آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے مگر ہدایت خلق کا کام ان کے ذمہ تھا۔ اسی ذمہ داری کو انہوں نے اپنی میراث کہا ہے اسی میراث کو سنبھالنے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگا کہ جو ہدایت خلق کا کام ان کے بعد اچھی طرح سنبھال سکے، حالانکہ آپ اور آپ کی بیوی عمر اور صحت کے لحاظ سے نااہل ہوچکے تھے۔ کیونکہ ایک تو دونوں بوڑھے ہوچکے تھے اور دوسرا ان کی بیوی قدرتی طور پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة مریم : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔ (حروف مقطعات) کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی تو نے ہمیشہ میری وہ قبول فرمائی تو اب آخری وقت اور بڑھاپے کے عالم میں طمع پیدا ہوئی کہ تجھ سے دعا کروں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:4) رب۔ اصل میں یا ربی تھا۔ حرف ندائ ( یا) اور مضاف الیہ ( یضمیر واحد متکلم) کو اختصار کے لئے حذف کیا گیا۔ وھن۔ وھن یھن (ضرب) وھن سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (میری ہڈی) کمزور ہوگئی ہے۔ عظم۔ ہڈی۔ عظام ہڈیاں۔ بروزن سھم، سھام۔ وھن العظم منی میری ہڈی کمزور پڑگئی ہے۔ اشتعل۔ باب افتعال سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اشتعال کے معنی شعلہ بھڑکنے کے ہیں۔ اشتعل۔ اس نے آگ پکڑی۔ شعلہ نکلا۔ مجازًا رنگت کے لحاظ سے بڑھاپے کے بالوں کی سفیدی کو آگ سے تشبیہ دے کر اشتعال کا لفظ استعمال کیا ہے۔ شیبا۔ بڑھاپا۔ بالوں کی سفیدی۔ سر کے سفید ہونے کو شیب کہتے ہیں۔ شاب یشیب (ضرب) کا مصدر ہے۔ اشتعل الرأس شیبا۔ میرا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–4

حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر یہ سورت مریم مکی ہے اس سورة میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے۔ حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گذر چکا ہے، اور سورة آل عمران کی آیتوں میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی ماں کی نذر ماننے کا حال معلوم ہوچکا ہے۔ اب یہاں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے کہ جب حضرت مریم (علیہا السلام) سیانی ہوگئیں تو زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے لئے ایک عبادت خانہ بنوا دیا۔ اس عبادت خانہ میں زکریا (علیہ السلام) جب حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے ملنے آتے تو حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے پاس ان کے بےفصل کا میوہ رکھا ہوا نظر آیا کرتا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–4

[1] زکریا (علیہ السلام) کا قصہ سورة آل عمران آیت 38 تا 41 صفحہ 124 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–4

اللہ کے اندازہ ہائے بخشش : (ف 1) سورة مریم کا آغاز جس واقعہ سے کیا ہے ، حقیقت میں یہ سابقہ آیت کی تفسیر ہے ، جس میں بتایا گیا تھا ، کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا کوئی مقرر و متعین اندازہ نہیں ، ہم اس کی وسعتوں کا صحیح صحیح جائزہ نہیں لے سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس کی بخششیں کن طریقوں اور واسطوں سے ہوتی ہیں ، ہمارا علم محدود ہے اور اس کے دینے اور بخشنے کے انداز لا محدود ہیں ۔ حل لغات : وھن العظم : ضعف وناتوانی سے تعبیر ہے کیونکہ بڑھاپے میں ہڈیوں میں قوت حیات کم ہوجاتی ہے ۔ واشتعل الراس : بالوں کی سفیدی کو شعلہ زنی سے تشبیہ دینا کمال بلاغت ہے ، اور حقیقت یہ ہے کہ بالکل اچھوتی تشبیہ ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-4 زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے سے کمزور اور ضعیف ہوگئیں اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے چمک اٹھا اور اے میرے پروردگار میں آپ سے کوئی چیز طلب کر کے اور مانگ کر کبھی محروم اور ناکام نہیں رہا۔ یعنی جو مانگا وہ ملا اور جو دعا کی وہ قبول ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ڈیک بڑھاپے کی یعنی بال سفید 12 بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ تیری طلب اور تیرے بلانے پر میں کبھی محروم نہیں رہا یعنی جس خدمت کے لئے آپ نے حکم دیا میں فوراً بجالایا اور کبھی آپ کے حکم کی تعمیل سے محروم نہیں رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 3۔ یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں۔ 4۔ یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میرا سر سفید اور جسم کمزور ہوگیا : 4۔ اولاد کی خواہش امر طبعی ہے جو زہد وتقوی اور طہارت کے بھی منافی نہیں بلکہ تقوی و طہارت کا باعث ہے ، نکاح ‘ اولاد اور ضروریات زندگی کو زہد وتقوی ‘ طہارت اور پاکیزگی کے خلاف خیال کرنا ایک جہالت ہے لیکن افسوس کہ یہ آج کل کے پڑھے لکھے دور میں بھی بدستور قائم ہے کہ وہ نن اور منلگ لوگوں کو متبرک خیال کرتے ہیں جو مجسمہ ناپاکی ہوتے ہیں ، قرآن کریم نے بار بار پیغمبروں اور اللہ کے نیک بندوں اور بندیوں سے اس قسم کی دعائیں اور التجائیں نقل کرکے بتا دیا ہے کہ وہ لوگ حقیقت سے کتنے دور ہیں جنہوں نے اپنے زمانہ کے نبی بھی ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّ‌أْسُ شَيْبًا "Here I am that bones within me have turned feeble, and the head has flared up grey with old age." - 19:4 Human body becomes weak with the aging of bones, because it is the bones which keep the body firm and upright. When bones lose their strength, the whole body turns weak. The literal meaning of اشْتَعَالَ is a sudden burst of fire. Here the word is used as a simile for grey hair covering the head like a glow of fire. Mention of one's needs in supplication is desirable Here Sayyidna Zakariyya (علیہ السلام) before making his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–4

1. For comparison please see the story of Zachariah as given in (Ayats 34-57 of Surah Aal-Imran) and the E.Ns thereof. 2. In order to understand the position held by Zachariah, a descendant of Prophet Aaron, one should be acquainted with the system of priesthood among the children of Israel. After the conquest of Palestine, the entire land was divided among the 12 tribes of the descendants of Prophet Jacob as inheritance, and the 13th tribe, the Levites, was entrusted with religious services and duties. Even among the Levites, the house that was separated to sanctify the most holy things, to…

Read the full tafseer →