Explained with ayahs 1–6
دعا اور قبولیت۔
اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
سورة مَرْیَم 1
تقابل کے لیئے سورة آل عمران رکوع 4 پیش نظر رہے جس میں یہ قصہ دوسرے الفاظ میں بیان ہوچکا ہے۔ تفہیم القران ج 1۔ ص 246۔ 250)
سورة مَرْیَم 2
یہ حضرت زکریا جن کا ذکر یہاں ہو رہا ہے حضرت ہارون کے خاندان سے تھے۔ ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہانت (Priesthood) کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا تھا کہ حضرت یعقوب کی اولاد کے 12 قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کردیا گیا، اور تیرھواں قبیلہ (یعنی لاوی بن یعقوب کا گھرانا) مذہبی خدمات کے لیئے مخصوص رہا پھر بنی لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو،…
Read the full tafseer →نِدَاۗءً خَفِيًّااس سے معلوم ہوا کہ دعا کا آہستہ اور خفیہ کرنا افضل ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان خیر الذکر الخفی وخیر الرزق مایکفی، یعنی بہتر ذکر خفی (آہستہ) ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو کافی ہوجائے (ضرورت سے نہ گٹھے نہ بڑھے (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
تفسیر آیت 3 تا 4: إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (3) قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا۔
اولاد کے لیے حضرت زکریا کی دعا اور اندازِ دعا : یہ حضرت زکریا کی دعا ہے جو انہوں نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ یہ دعا انہوں نے ہیکل میں، جیسا کہ آگے اشارہ آ رہا ہے، غالباً بحالتِ اعتکاف کی ہے۔ فرمایا کہ اس نے چپکے چپکے اپنے رب کو پکارا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا راز و نیاز کے انداز میں ہونا اس کے اولین آداب میں سے بھی ہے اور اس کی قبولیت کے لیے بہترین سفارش بھی۔ درحقیقت یہی دعائیں ہوتی ہیں جو ریا اور نمائش سے بھی…
Read the full tafseer →3۔ 1 خفیہ دعا اس لئے کی کہ ایک تو یہ اللہ کو زیادہ پسند ہے کیونکہ اس میں تضرع وانابت اور خشوع وخضوع زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ انھیں بیوقوف نہ قرار دیں کہ یہ بڈھا اب بڑھاپے میں اولاد مانگ رہا ہے جب کہ اولاد کے تمام ظاہری امکانات ختم ہوچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا، مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آئے ہیں، ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Read the full tafseer →وہ اپنے رب کے ساتھ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر مناجات کرتے ہیں۔ نہ کوئی دیکھتا ہے ، نہ کوئی سنتا ہے گوشہ تنہائی میں نہایت خلوص کے ساتھ رب کو پکارتے ہیں اور اپنا سینہ کھول کر اپنے رب کے سامنے رکھتے ہیں (جو خوب جانتا ہے) وہ اپنا بوجھ ، پریشانی ، اللہ کے سامنے رکھتے ہیں۔ نہایت قرب و اتصال کی حالت میں وہ رب کو پکارتے ہیں۔ (رب) ۔ وہ یہاں حرف ندایا کو بھی بیچ میں نہیں لاتے۔ اللہ تو بغیر دعا کے بھی سنتا ہے اور دیکھتا ہے ، اسے کسی پکارنے والے کی پکار کی ضرورت نہیں ، لیکن یہ ایک غمزدہ شخص کی ضرورت ہے کہ وہ پکارے ، وہ شکوہ کرے ، اور اللہ رحیم و کریم ہے۔ اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے او وہ جانتا ہے کہ…
Read the full tafseer →2 کہتے ہیں رات کی تاریکی اور خلوت میں پست آواز سے دعاء کا اصل قاعدہ ہے۔ (اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ) 7 ۔ الاعراف :55) ایسی دعاء ریا سے دور اور کمال اخلاص سے معمور ہوتی ہے۔ شاید یہ بھی خیال ہو کہ بڑھاپے کی عمر میں بیٹا مانگتے تھے۔ اگر نہ ملے تو سننے والے ہنسیں، اور ویسے بھی عموماً بڑھاپے میں آواز پست ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3 اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَاۗءً خَفِيًّا
یعنی حضرت زکریا نے دل ہی دل میں اپنے رب سے دعا کی۔
Read the full tafseer →4 اس کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ مثلا ً رات کی نماز تہجد میں جب انسان کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا اور وہ بڑی دلجمعی اور سکون کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ بڑھاپے اور مایوسی کی عمر میں ایسی بات کی درخواست کی کہ اگر دوسرے لوگ سن لیں تو مذاق اڑائیں۔ اس لئے آہستہ آواز سے دعا کی۔ تیسرے یہ کہ جب سیدہ مریم کے پاس بےموسم میوے دیکھے تو دل ہی دل میں اللہ کو پکارنے لگے۔
Read the full tafseer →3۔ اولاد کے لیے دعا یوں ہی عام طور پر چپکے ہی چپکے کی جاتی ہے اور پھر یہاں تو غالبا دوسروں سے اخفاء مقصود بھی تھا۔ اسروہ واخفوہ من قومہ (ابن عباس ؓ اناجیل موجودہ میں ذکر اس دعا کا نہیں۔ صرف جواب دعا و قبول دعا کا ہے۔ فقہاء نے آیت سے استدلال کیا ہے کہ دعا میں اخفاء کو افضیلت حاصل ہے۔ مدحہ باخفاء الدعاء وفیہ الدلیل علی ان اخفاۂ افضل من الجھربہ (جصاص)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے کھیٰعص اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی خوب جانتا ہے یہ (متلو) اپنے بندے زکریا پر تیرے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے عبدہٗ رحمت کا مفعول ہے زکریا، عبدہ کا بیان ہے جبکہ اس نے اپنے رب کو مخفی طور پر پکارا اِذْ رحمۃً سے متعلق ہے، یعنی ایسا پکارنا کہ جو راز داری پر مشتمل تھا رات کے درمیان حصہ میں اس لئے کہ یہ (طریقہ) سریع القبول ہے عرض کیا اے میرے پروردگار میری تمام ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہیں اور میرے سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے شیباً فاعل سے منقول ہو کر تمیز ہے یعنی جس طرح لکڑیوں میں آگ پھیل جاتی ہے اسی طرح سفیدی میرے سر کے…
Read the full tafseer →اذ نادی ربہ ندآء خفیا۔ جب کہ انہوں نے اپنے رب کو پوشیدہ طور پر پکارا۔
اگر کہیعص سے مراد قرآن یا سورت ہو تو ذِکْرُ رَحْمَتِ ربک خبر ہوگی اور کہیعص مبتدا یا مبتدا محذوف ہے یعنی ہذا ذکر رحمۃ یا ذکر مبتدا ہے اور خبر محذوف ہے یعنی ذکر رحمۃ ربک یتلی علیک عَبْدُہٗرحمت یا ذکر کا مفعول ہے اور زکَرِیَّا عَبْدَہٗسے بدل ہے۔
نِدَآءً خَفِیًّا یعنی زکریا نے اپنے عبادت خانہ میں پوشیدہ طور پر رات کو اپنے رب کو پکارا پوشیدہ دعا میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے ‘ پوشیدہ دعا کرنی سنت ہے دعا کا طریقہ ہی یہ ہے کہ پوشیدہ طور پر کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2۔ 3) یہ تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کے مہربانی فرمانے کا اپنے بندہ زکریا ؑ پر کہ ان کو لڑکا عطا فرمایا جب کہ زکریا ؑ نے محراب میں اپنی قوم سے پوشیدہ طور پر اپنے پروردگار کو پکارا۔
Read the full tafseer →اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَاۗءً خَفِيًّا : اس آیت میں اس جگہ اور وقت کا ذکر نہیں جب ان کے دل میں اس دعا کا داعیہ پیدا ہوا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (37، 38)۔
نِدَاۗءً خَفِيًّا : چھپی آواز سے آہستہ آواز بھی مراد ہوسکتی ہے اور لوگوں سے الگ جگہ میں دعا بھی۔ اس کی وجہ بعض اہل علم نے یہ لکھی ہے کہ بڑھاپے میں بیٹا مانگنا لوگوں کی ہنسی کا باعث ہوتا، پھر اگر نہ ملتا تو لوگ مزید ہنستے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ خفیہ دعا ریا کا امکان نہ ہونے کی وجہ سے افضل ہوتی ہے، چناچہ فرمایا : (اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً) [ الأعراف : 55 ] ”اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو۔“ اسی لیے…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ نادی ربہ نداء خفیا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ادعو ربکم تضرعا و خفیۃ۔ انہ لا یحب المعتدین۔ (الاعراف) یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ندا کا معنی دعا اور رغبت ہے یعنی انہوں نے محراب میں اس کے ساتھ اپنے رب سے مناجات کی، اس کی دلیل یہ اشارہ ہے : فنادتہ الملئکۃ و ھو قآئم یصلی فی المحراب (آل عمران :39) یہ ظاہر ہوا کہ ان کی نماز میں ہی دعا کی قبولیت ہوئی جیسا کہ انہوں نے نماز کے اندر دعا کی ان کی دعا کو مخفی کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : اپنی قوم سے اس دعا کو مخفی کیا تاکہ بڑھاپے میں بچے کے سوال پر انہیں ملامت نہ کی جائے۔ دوسرا یہ کہ یہ دنیوی امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔
2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [نَادٰى: انھوں (علیہ السلام) نے پکارا ] [رَبَّهٗ : اپنے رب کو ] [نِدَاۗءً خَفِيًّا : ایک خفیہ پکار سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت
حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔
(ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4:۔ یہ پہلے شبہہ کا جواب ہے۔ اس پورے واقعہ سے حضرت زکریا (علیہ السلام) کا عجز و احتیاج ظاہر ہوتا ہے۔ وہ بیٹے کے لیے انتہائی عجز و نیاز سے دعا کر رہے ہیں۔ اس لیے وہ متصرف و کارساز نہیں ہوسکتے۔ ” رحمۃ “ مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے اور ” عبدہ زکریا “ مبدل منہ اور بدل مل کر اس کا مفعول ہے یہ مجموعہ مل کر ” ذکر “ کا مضاف الیہ ہے اور مرکب اضافی مبتدا محذوف ھذا کی خبر ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ رحمت جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی تھی۔ یہ اس کا ذکر ہے۔ ” نداء خفیا “ یعنی آہستہ اور چھپ کر یہ ” نادی “ کا مفعول مطلق ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعاء اخفاء اور آہستگی سے کی کیونکہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(کوائف اور زمانہ نزول)
اس سورة میں حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہے ، لہذا یہ سورة آپ ہی کے نام پر سورة مریم کے نام سے موسوم ہے یہ سورة اٹھانوے آیات اور چھ رکوع پر مشتمل ہے ، اس کے 962 الفاظ اور 3302 حروف ہیں ۔
یہ سورة مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے ۔
اس امر کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ سن پانچ اور چھ نبوی میں جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی دو جماعتیں مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ پہنچیں تو وہاں کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا چاہے چناچہ حضرت جعفر ؓ امیر قافلہ نے نجاشی کے سامنے نہ صرف حضور ﷺ اور مسلمانوں کے حالات بیان کیے بلکہ سورة مریم…
Read the full tafseer →اِذْ نَادٰى رَبَّہٗ نِدَاۗءً خَفِيًّا 3
ندا
النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
[ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : ذکر مرفوع بانہ خبر مبتدء محذوف ای ہذا ثم الخبر مضاف الیٰ رحمت وھی الٰی ربک۔ عبدہ منصوب بانہ مفعول رحمۃ وقیل مفعول لذکرا ذ نادی ظرف زمان للرحمۃ اے رحمۃ اللہ ایاہ وقت ان ناداہ۔ قال رب الخ الجملۃ مفسرۃ لقولہ نادی والوھن الضعف یقال وہن یہن وہنامن باب وعدیعد ولایتعدی فی لغۃ۔ اشتعل الراس الاشتعال انتشار شعاع النار فشبہ بہ انتشار بیاض شعرالراس بجامع البیاض ثم اخرجہ مخرج الاستعارۃ بالکنایۃ بان حذف المشبہ بہ واداۃ التشبیہ شقیا اے خائبا من الاجابۃ۔ خفت بصیغہ المتکلم وقری بکسر التاء وفاعلہ الموالی اے قلودما توالمراد بالموالی جمع المولیٰ ھنا الاقارب یرثنی و یرث بالرفع الفعلین علی انھما صفتان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اِذْنَادٰی رَبَّہٗ نِدَآئً خَفِیًّا۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّلَمْ اَکُنْ م بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا۔ (مریم : 3، 4)
(جب اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔ عرض کی اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور اور بوسیدہ ہوگئی ہیں اور میرا سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے (بالکل سفید ہوگیا ہے) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کے کبھی محروم نہیں رہا۔ )
دُعا کے آداب
یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی وہ دعا ہے جو آپ ( علیہ السلام) نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ ہم سورة ال عمران میں اس کی کسی حد تک وضاحت کرچکے ہیں۔ اسرائیلی روایات کے مطابق اس وقت آپ ( علیہ السلام) کی عمر 70…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے جو خاص الخاص رحمت فرمائی اس کا ذکر۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک 120 سال کے قریب ہوچکی تھی اور ان کی زوجۂ مکرمہ 98 سال کے قریب اور جسمانی طور پر اولاد جنم دینے کے قابل نہ تھیں یعنی وہ کلیتاً بانجھ تھیں۔ ان حالات کے باوجود حضرت زکریا (علیہ السلام) ” اللہ “ کی رحمت سے مایوس نہیں تھے۔ یہی انبیاء (علیہ السلام) اور نیک لوگوں کا شیوہ ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں وہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوا کرتے۔ اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعائیں کیے جا رہے تھے۔ سورة آل عمران آیت 37 تا 39…
Read the full tafseer →حضرت زکریّا ( علیہ السلام) کی بڑھاپے میں دعا :
3: اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآئً خَفِیًّا (جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پوشیدہ طور پر پکارا) اذ یہ رحمت کا ظرف ہے۔ خَفِیًّا کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے پوشیدہ طور پر اللہ کو پکارا جیسا کہ حکم ہے یہ دعا ریاکاری سے دور اور اخلاص کے قریب تر ہے۔
نمبر 2۔ یا اس کو اس لئے پوشیدہ رکھا تاکہ بڑھاپے کے زمانے میں لڑکے کی طلب پر ان کو ملامت نہ کی جائے کیونکہ اس وقت ان کی عمر 75 یا 80 سال تھی۔
Read the full tafseer →3۔ اذ نادی، جب پکارا، ربہ ، محراب سے ، ندآء خفیا، آہستہ آواز کے نصف حصے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ اس سورت میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے اس واسطے اس سورة کا نام مریم ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے سورة آل عمران کی آیتوں کے مضمون کے موافق حضرت مریم کی ماں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوگا تو اس کو دنیا کے کاموں سے باز رکھ کر بیت المقدس کا خادم بنا دیا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی تو لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا اس واسطے حضرت مریم کی ان کو نذر کے پورا نہ ہونے کا بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کا رنج رفع کرنے کے لیے اپنی رحمت سے حضرت مریم کی خادمی جائز فرمائی اور حضرت مریم کی پرورش ان کے خالو زکریا (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیت 1
(ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا) ” یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ “ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریا (علیہ السلام) کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہوگی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے چن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آداب دعا
قول باری ہے (اذ نادی ربہ نداء خفیاً ۔ جب کہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) اللہ تعالیٰ نے چپکے چپکے دعا کرنے پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ چپکے چپکے دعا مانگنا بلند آواز سے دعا مانگنے سے افضل ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ادعوا ربکم تضرعاً وخفیۃ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو) حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ صخیر الذکر الخفی وخیر الرزق مایکفی بہترین ذکر، ذکر خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو ضروریات کے لئے کافی ہو) حسن بصری سے مروی ہے کہ ان کی رائے میں امام قنوت کے اندر دعا مانگے اور مقتدی آمین کہیں۔ انہیں آواز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 آداب دعا میں سے ایک اہم ادب اخفائ : سو یہ دعا کے آداب میں سے ایک اہم ادب ہے کہ دعا آہستہ اور چپکے چپکے سے کی جائے۔ کیونکہ اول تو انسان جس ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے اس کے یہاں سرّ و اخفا سب برابر ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور دوسرے اس لئے کہ آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے دعاء کرنا اخلاص کے بھی زیادہ قریب ہے اور ریاء و نمود سے بھی محفوظ تر ہے۔ اسی لئے رب تعالیٰ نے اپنے کلام حکیم میں ہمیں اس طرح صریح طور پر اس کا حکم دیا ہے ۔ { اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً } ۔ (الاعراف :55) یعنی " تم اپنے رب کو پکارو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے سے "۔ نیز دوسرے مقام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سیدنا زکریا اور ان کی دعا
تشریح : سیدنا زکریا (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر بڑی تفصیل سے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ بنی ہارون کے 24 خاندان تھے جن میں سے ابیاہ خاندان کے سردار سیدنا زکریا (علیہ السلام) تھے۔ آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے مگر ہدایت خلق کا کام ان کے ذمہ تھا۔ اسی ذمہ داری کو انہوں نے اپنی میراث کہا ہے اسی میراث کو سنبھالنے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگا کہ جو ہدایت خلق کا کام ان کے بعد اچھی طرح سنبھال سکے، حالانکہ آپ اور آپ کی بیوی عمر اور صحت کے لحاظ سے نااہل ہوچکے تھے۔ کیونکہ ایک تو دونوں بوڑھے ہوچکے تھے اور دوسرا ان کی بیوی قدرتی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة مریم :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔
(حروف مقطعات)
کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی رات کے وقت خلوت میں چپکے پکارا کیونکہ اخفاء میں اخلاص بھی زیادہ ہوتا ہے اور ریا کاری کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(19:3) نادی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نادی ینادی مناداۃ (مفاعلۃ) وندائ۔ اس نے پکارا۔ اس نے دعا مانگی۔ ندائپکار۔ دعا۔ آواز ندیمادہ۔ خفیا۔ پوشیدہ۔ چھپی ہوئی۔ خفائ (مصدر) سے جس کے معنی خفیہ اور پوشیدہ ہونے اور چھپنے کے ہیں۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ چپکے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مثلاً ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ۔ (7:55) اپنے پروردگار سے عاجزی اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 10
اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر
یہ سورت مریم مکی ہے اس سورة میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے۔ حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گذر چکا ہے، اور سورة آل عمران کی آیتوں میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی ماں کی نذر ماننے کا حال معلوم ہوچکا ہے۔ اب یہاں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے کہ جب حضرت مریم (علیہا السلام) سیانی ہوگئیں تو زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے لئے ایک عبادت خانہ بنوا دیا۔ اس عبادت خانہ میں زکریا (علیہ السلام) جب حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے ملنے آتے تو حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے پاس ان کے بےفصل کا میوہ رکھا ہوا نظر آیا کرتا۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
[1] زکریا (علیہ السلام) کا قصہ سورة آل عمران آیت 38 تا 41 صفحہ 124 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اللہ کے اندازہ ہائے بخشش :
(ف 1) سورة مریم کا آغاز جس واقعہ سے کیا ہے ، حقیقت میں یہ سابقہ آیت کی تفسیر ہے ، جس میں بتایا گیا تھا ، کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا کوئی مقرر و متعین اندازہ نہیں ، ہم اس کی وسعتوں کا صحیح صحیح جائزہ نہیں لے سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس کی بخششیں کن طریقوں اور واسطوں سے ہوتی ہیں ، ہمارا علم محدود ہے اور اس کے دینے اور بخشنے کے انداز لا محدود ہیں ۔
حل لغات :
وھن العظم : ضعف وناتوانی سے تعبیر ہے کیونکہ بڑھاپے میں ہڈیوں میں قوت حیات کم ہوجاتی ہے ۔
واشتعل الراس : بالوں کی سفیدی کو شعلہ زنی سے تشبیہ دینا کمال بلاغت ہے ، اور حقیقت یہ ہے کہ بالکل اچھوتی تشبیہ ہے ۔
Read the full tafseer →-3 جبکہ اس زکریا نے اپنے پروردگار کو پست اور خفیہ آواز سے پکارا اور ندا کی۔ شاید اس لئے دعا کو پوشیدہ رکھا ہو کہ بڑھاپے میں اولاد مانگی تھی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی دل میں دعا کی یا پکارا ہو اکیلے مکان میں چھپی پکار اس واسطے کو بوڑھی عمر میں بیٹا مانگتے تھے مانگے تو لوگ ہنسیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 3۔ یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں۔
4۔ یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔
Read the full tafseer →زکریا (علیہ السلام) کا اپنے رب کو چپکے چپکے یاد کرنے کا بیان :
3۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) ابیاہ کے خاندان میں سے تھے ، بہت معمر ہوگئے لیکن اولاد نہ تھی ان کی بیوی الیشبع ہارون (علیہ السلام) ہی کے خاندان سے تھی دونوں راست باز اور خدا کے حکموں پر بےعیب چلنے والے تھے چونکہ ان کے ہاں اولاد نہ تھی وہ اللہ تعالیٰ سے اولاد طلب کرنے کے متمنی تھے اور چپکے چپکے اپنی عرض بارگاہ صمدی میں پیش کرتے رہتے تھے چونکہ دعائیں کرتے کرتے ایک عرصہ ہوگیا تھا لیکن اولاد نہ ہو رہی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ابھی منظوری کا وقت نہ آیا تھا ۔ اس میں ہمارے لئے یہ سبق رکھا گیا ہے کہ ہم بھی…
Read the full tafseer →نِدَاءً خَفِيًّا (a low voice - 19:3) tells us that it is better to beseech Allah in supplication in undertone. Sayyidna Sa'd Ibn Abi Waqqas has narrated that the Holy Prophet ﷺ once said.
ان خیر الذکر الخفی ، وخیر الرزق ما یکفی
"Surely the best way to make supplication to Allah is in
undertone and the best sustenance is that which is sufficient for one's needs (i.e. neither more nor less than required) " (Qurtubi)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
1. For comparison please see the story of Zachariah as given in (Ayats 34-57 of Surah Aal-Imran) and the E.Ns thereof.
2. In order to understand the position held by Zachariah, a descendant of Prophet Aaron, one should be acquainted with the system of priesthood among the children of Israel.
After the conquest of Palestine, the entire land was divided among the 12 tribes of the descendants of Prophet Jacob as inheritance, and the 13th tribe, the Levites, was entrusted with religious services and duties. Even among the Levites, the house that was separated to sanctify the most holy things, to…
Read the full tafseer →