Maryam 19:2

Maryam · from ayah 2

19:2

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّا ۟ۖۚذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَـبۡدَهٗ زَكَرِيَّا

(یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان (ہے جو اس نے) اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

— Fateh Muhammad Jalandhari

[This is] a mention of the mercy of your Lord to His servant Zechariah

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:2

ذکر ہے اُس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان (ہے جو اس نے) اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ تذکرہ ہے اس رحمت کا جو تمہارے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ آپ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے (جو اس نے) اپنے (برگزیدہ) بندے زکریا ؑ پر (فرمائی تھی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ آپ کے پروردگار کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تیرے رب کے اس فضل کی ید دہانی ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ذکر ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے ایک خاص بندے زکریا پر فرمائی

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ) تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کی رحمت (فرمانے) کا اپنے بندہ زکریا پر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تمہارے رب کی مہربانی کا بیان ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This is an account of the mercy of your Lord to His servant Zechariah

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is a narration of your Lord‘s mercy to His servant Zakariyya,

— Muhammad Taqi Usmani

This is a narration of your Lord‘s mercy to His servant Zakariyya,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A reminder of the mercy of your Lord to His servant Zakariyya.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A mention of the mercy of thy Lord unto His servant Zachariah.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[This is] a mention of the mercy of your Lord to His servant Zechariah

— Saheeh International

This is the story of the blessing of your Lord to His servant Zachariah.

— Muhammad Sarwar

A mention of the mercy of your Lord to His servant Zakariya.

— Muhammad Habib Shakir

Mention of the mercy of thy Lord to His bondman Zakariyya.

— Abdul Majid Daryabadi

(This is) a recital of the Mercy of thy Lord to His servant Zakariya.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

دعا اور قبولیت۔ اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–4

سورة مَرْیَم 1 تقابل کے لیئے سورة آل عمران رکوع 4 پیش نظر رہے جس میں یہ قصہ دوسرے الفاظ میں بیان ہوچکا ہے۔ تفہیم القران ج 1۔ ص 246۔ 250) سورة مَرْیَم 2 یہ حضرت زکریا جن کا ذکر یہاں ہو رہا ہے حضرت ہارون کے خاندان سے تھے۔ ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہانت (Priesthood) کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا تھا کہ حضرت یعقوب کی اولاد کے 12 قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کردیا گیا، اور تیرھواں قبیلہ (یعنی لاوی بن یعقوب کا گھرانا) مذہبی خدمات کے لیئے مخصوص رہا پھر بنی لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر کھیعص (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو آئندہ قصہ آتا ہے) تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کے مہربانی فرمانے کا اپنے (مقبول) بندہ (حضرت) زکریا (علیہ السلام کے حال) پر جبکہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پوشیدہ طور پر پکارا (جس میں یہ) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں (بوجہ پیری کے) کمزور ہوگئیں اور (میرے) سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی (یعنی تمام بال سفید ہوگئے اور اس حالت کا مقتضاء یہ ہے کہ میں اس حالت میں اولاد کی درخواست نہ کروں مگر چونکہ آپ کی قدرت و رحمت بڑی کامل ہے) اور (میں اس قدرت و رحمت کے ظہور کا خوگر ہمیشہ رہا ہوں چناچہ اس کے قبل کبھی) آپ سے (کوئی چیز) مانگنے میں اے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذِكْرُ رَحْمَةِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا۔ حضرت زکریا کا مرتبۂ خاص : " ذکر " یہاں اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں آگے حضرت مریم سے لے کر حضرت ادریس تک تمام انبیاء کا ذکر بصیغہ " اذکر " ہوا ہے۔ یہ پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہے کہ نادانوں تو یہ تمام سرگزشتیں فرماوش کردیں، یہ تمہیں سنائی جا رہی ہیں تاکہ تم بھی ان سے بہرہ مند ہو اور دوسروں کو بھی یاد دہانی کرو کہ وہ بھی ان سے بہرہ مند ہوں۔ آیت میں " عبدہ " کا لفظ حضرت زکریا کے اختصاص پر دلیل ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ خود اپنا بندہ کہہ کر یاد فرمائے اس کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے ! بولائے تو کہ گر بندۂ خویشم خوانی زسر خواجگی کون و مکاں برخیزم

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 حضرت زکر یا علیہ السلام، انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ یہ بڑھئی تھے اور یہی پیشہ ان کا ذریعہ آمدنی تھا (صحیح مسلم)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا، مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آئے ہیں، ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اصل قصے کا آغاز ایک دعا کے منظر سے ہوتا ہے۔ یہ دعا حضرت زکریا کرتے ہیں اور نہایت عاجزی اور خضوع و خشوع کے ساتھ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

1 حضرت زکریا (علیہ السلام) " بنی اسرائیل " کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں۔ نجاری (بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھاتے تھے۔ ان کا قصہ پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہٗ زَکَرِیَّا ” یہاں ذکر تو حضرت عیسیٰ کا کرنا مقصود ہے مگر آپ کے ذکر سے پہلے حضرت یحییٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ حضرت یحییٰ کی ولادت بھی تو ایک بہت بڑا معجزہ تھی۔ حضرت زکریا بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور آپ کی اہلیہ بھی نہ صرف بوڑھی تھیں بلکہ عمر بھر بانجھ بھی رہی تھیں۔ ان حالات میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش کوئی معمول کا واقعہ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کو یہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 سیدنا زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) نیز سیدہ مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے واقعات پہلے سورة آل عمران کے رکوع نمبر 3 اور 4 میں گزر چکے ہیں۔ ان کے حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔ سیدنا یحییٰ اور سیدنا عیسیٰ (علیہما السلام) دونوں کی پیدائش خرق عادت کے طور پر ہوئی تھی۔ مگر چونکہ سیدنا یحییٰ کی پیدائش نسبتا ً کم خرق عادت ہے۔ اس لئے اسے بطور تمہید پہلے ذکر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (آیت) ” ذکریا “۔ پر حاشیہ سورة آل عمران پارہ 3 میں گزر چکا۔ آپ کی رسالت کا اثبات صرف قرآن مجید کرتا ہے، یہود اور نصرانی دونوں ان کی رسالت کے منکر ہیں۔ نصرانیوں کے ہاں ان کی حیثیت ہیکل بیت المقدس کے ایک بزرگ مجاور و خادم کی ہے۔ (آیت) ” عبدہ “۔ یعنی اس کا مقبول ومعزز بندہ۔ اضافت اضافت تشریفی ہے۔ جب بندہ کا تعلق اللہ کے ساتھ خاص تقرب وشرف کا دکھانا ہوتا ہے تو محاورۂ قرآنی میں عموما ایسے موقع پر ذکر (آیت) ” عبداللہ “۔ یا عبدنا یا (آیت) ” عبدہ “۔ کرکے لیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے کھیٰعص اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی خوب جانتا ہے یہ (متلو) اپنے بندے زکریا پر تیرے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے عبدہٗ رحمت کا مفعول ہے زکریا، عبدہ کا بیان ہے جبکہ اس نے اپنے رب کو مخفی طور پر پکارا اِذْ رحمۃً سے متعلق ہے، یعنی ایسا پکارنا کہ جو راز داری پر مشتمل تھا رات کے درمیان حصہ میں اس لئے کہ یہ (طریقہ) سریع القبول ہے عرض کیا اے میرے پروردگار میری تمام ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہیں اور میرے سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے شیباً فاعل سے منقول ہو کر تمیز ہے یعنی جس طرح لکڑیوں میں آگ پھیل جاتی ہے اسی طرح سفیدی میرے سر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔ یہ تذکرہ ہے آپ کے رب کے مہربانی فرمانے کا اپنے بندے زکریا پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–3

(2۔ 3) یہ تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کے مہربانی فرمانے کا اپنے بندہ زکریا ؑ پر کہ ان کو لڑکا عطا فرمایا جب کہ زکریا ؑ نے محراب میں اپنی قوم سے پوشیدہ طور پر اپنے پروردگار کو پکارا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا : یہاں ”ہٰذَا“ محذوف ہے، یعنی یہ تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ رحمت سے مراد یہاں زکریا ؑ کی دعا قبول کرنا اور انھیں سخت بڑھاپے اور بیوی بانجھ ہونے کے باوجود یحییٰ ؑ جیسا عظیم مرتبے والا بیٹا عطا فرمانا ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَانَ زَکَرِیَّاءُ نَجَّارًا) [ مسلم، الفضائل، باب من فضائل زکریا۔ : 2379 ] ”زکریا ؑ نجار (ترکھان) تھے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ وہ داؤد ؑ کی طرح اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا أَکَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَیْرًا مِنْ أَنْ یَّأْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ وَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔ اذنادی ربہ نداء خفیا۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذکر رحمت ربک ذکر کے رفع میں تین اقوال ہیں۔ فراء نے کہا : یہ کھٰیٰعص کی وجہ سے مرفوع ہے۔ زجاج نے کہا : یہ محال ہے کیونکہ کھٰیٰعص اس میں سے نہیں ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کے متعلق خبر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور انہیں جو بشارت دی اس کے متعلق خبر کردی اور کھٰیٰعص ان کے قصہ سے نہیں ہے۔ اخفش نے کہا : تقدیر عبارت اس طرح فیما یقص علیکم ذکر رحمۃ ربک۔ اور بعض علماء نے فرمایا : حسن نے ذکر رحمت ربک پڑھا ہے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِكَ : (یہ) آپ ﷺ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے ] [عَبْدَهٗ : اس کے بندے ] [زَكَرِيَّا : زکریا پر ] ترکیب : (آیت۔ 2) ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ ۔ یہ پورا مرکب اضافی خبر ہے اور اس کا مبتدا ھٰذَا معذوف ہے۔ زَکَرِیَّا تینوں حالتوں میں مبنی کی طرح زِکَرِیَّا استعمال ہوتا ہے۔ یہاں یہ عَبْدَہٗ کا بدل ہونے کی وجہ سے محلاً حالت نصب میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔ (ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–3

4:۔ یہ پہلے شبہہ کا جواب ہے۔ اس پورے واقعہ سے حضرت زکریا (علیہ السلام) کا عجز و احتیاج ظاہر ہوتا ہے۔ وہ بیٹے کے لیے انتہائی عجز و نیاز سے دعا کر رہے ہیں۔ اس لیے وہ متصرف و کارساز نہیں ہوسکتے۔ ” رحمۃ “ مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے اور ” عبدہ زکریا “ مبدل منہ اور بدل مل کر اس کا مفعول ہے یہ مجموعہ مل کر ” ذکر “ کا مضاف الیہ ہے اور مرکب اضافی مبتدا محذوف ھذا کی خبر ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ رحمت جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی تھی۔ یہ اس کا ذکر ہے۔ ” نداء خفیا “ یعنی آہستہ اور چھپ کر یہ ” نادی “ کا مفعول مطلق ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعاء اخفاء اور آہستگی سے کی کیونکہ جب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

(کوائف اور زمانہ نزول) اس سورة میں حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہے ، لہذا یہ سورة آپ ہی کے نام پر سورة مریم کے نام سے موسوم ہے یہ سورة اٹھانوے آیات اور چھ رکوع پر مشتمل ہے ، اس کے 962 الفاظ اور 3302 حروف ہیں ۔ یہ سورة مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے ۔ اس امر کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ سن پانچ اور چھ نبوی میں جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی دو جماعتیں مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ پہنچیں تو وہاں کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا چاہے چناچہ حضرت جعفر ؓ امیر قافلہ نے نجاشی کے سامنے نہ صرف حضور ﷺ اور مسلمانوں کے حالات بیان کیے بلکہ سورة مریم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

كۗہٰيٰعۗصۗ۝ 1ۣۚ ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَہٗ زَكَرِيَّا ۝ 2ۖ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت ﷺ نے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : ذکر مرفوع بانہ خبر مبتدء محذوف ای ہذا ثم الخبر مضاف الیٰ رحمت وھی الٰی ربک۔ عبدہ منصوب بانہ مفعول رحمۃ وقیل مفعول لذکرا ذ نادی ظرف زمان للرحمۃ اے رحمۃ اللہ ایاہ وقت ان ناداہ۔ قال رب الخ الجملۃ مفسرۃ لقولہ نادی والوھن الضعف یقال وہن یہن وہنامن باب وعدیعد ولایتعدی فی لغۃ۔ اشتعل الراس الاشتعال انتشار شعاع النار فشبہ بہ انتشار بیاض شعرالراس بجامع البیاض ثم اخرجہ مخرج الاستعارۃ بالکنایۃ بان حذف المشبہ بہ واداۃ التشبیہ شقیا اے خائبا من الاجابۃ۔ خفت بصیغہ المتکلم وقری بکسر التاء وفاعلہ الموالی اے قلودما توالمراد بالموالی جمع المولیٰ ھنا الاقارب یرثنی و یرث بالرفع الفعلین علی انھما صفتان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

کٓھٰیٰـعٓصٓ۔ ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہٗ زَکَرِیَّا۔ (مریم : 1، 2) (کاف ھا یا عین ص) یہ ذکر ہے آپ ﷺ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر فرمائی۔ ) حروف مقطعات کٓھٰیٰـعٓصٓ … یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ حروف مقطعات کی وضاحت ہم سورة البقرہ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اس پر اگرچہ مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں تاہم قشیری نے حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے اس کا ایک مفہوم نقل کیا ہے۔ ہم بھی دلچسپی کے لیے اسے نقل کررہے ہیں۔” کاف “ سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لیے کافی ہے۔ اور ” ھا “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت دینے والا ہے۔” یا “ سے مراد اس کا ید یعنی ہاتھ ہے جو ساری کائنات پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط کلام : سورة مریم بھی حروف مقطعات سے شروع ہوئی ہے۔ ان کے بارے میں پہلے بیان ہوچکا ہے کہ حروف مقطعات کا حقیقی معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جن لوگوں نے بزرگوں کے اقوال سے ان کا معنٰی متعین کرنے کی کوشش کی ہے اسے فکری کاوش کے سوا کوئی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ حقیقت یہی ہے کہ اس کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مکہ معظمہ میں مسلمانوں کے حالات اس قدر مخدوش ہوچکے تھے کہ دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی جس سے یہ واضح ہو کہ اللہ کی توحید کا غلبہ اور اسلام کی تحریک کامیاب ہو سکے گی۔ ان حالات میں سورة مریم نازل ہوئی جس کی ابتداء اس بات سے کی جا رہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ (یہ تذکرہ ہے تیرے رب کی مہربانی کا) نحو : یہ ھذا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ عَبْدَہٗ زَکَرِیَّا (جو اسنے اپنے بندے زکریا پر کی) عَبْدَہٗ یہ رحمت کا مفعول ہے اور زَکَرِیَّا یہ عبدہ کا بدل ہے۔ قراءت : زکریا کو قصر کے ساتھ ہمزہ علی اور حفص نے پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2۔ ذکر، ، وہ جو ہم آپ کے سامنے ذکر کریں گے ۔ رحمت ربک، اس میں تقدیم و تاخیر ہے ۔ ، ذکرربک، ، تیرے رب کا ذکر، عبدہ زکریا، ان کو اپنی رحمت ملنے کی وجہ سے عہد کہا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ اس سورت میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے اس واسطے اس سورة کا نام مریم ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے سورة آل عمران کی آیتوں کے مضمون کے موافق حضرت مریم کی ماں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوگا تو اس کو دنیا کے کاموں سے باز رکھ کر بیت المقدس کا خادم بنا دیا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی تو لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا اس واسطے حضرت مریم کی ان کو نذر کے پورا نہ ہونے کا بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کا رنج رفع کرنے کے لیے اپنی رحمت سے حضرت مریم کی خادمی جائز فرمائی اور حضرت مریم کی پرورش ان کے خالو زکریا (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

آیت 1 (ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا) ” یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ “ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریا (علیہ السلام) کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہوگی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے چن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

1 آداب دعا میں سے ایک اہم ادب اخفائ : سو یہ دعا کے آداب میں سے ایک اہم ادب ہے کہ دعا آہستہ اور چپکے چپکے سے کی جائے۔ کیونکہ اول تو انسان جس ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے اس کے یہاں سرّ و اخفا سب برابر ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور دوسرے اس لئے کہ آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے دعاء کرنا اخلاص کے بھی زیادہ قریب ہے اور ریاء و نمود سے بھی محفوظ تر ہے۔ اسی لئے رب تعالیٰ نے اپنے کلام حکیم میں ہمیں اس طرح صریح طور پر اس کا حکم دیا ہے ۔ { اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً } ۔ (الاعراف :55) یعنی " تم اپنے رب کو پکارو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے سے "۔ نیز دوسرے مقام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

سیدنا زکریا اور ان کی دعا تشریح : سیدنا زکریا (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر بڑی تفصیل سے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ بنی ہارون کے 24 خاندان تھے جن میں سے ابیاہ خاندان کے سردار سیدنا زکریا (علیہ السلام) تھے۔ آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے مگر ہدایت خلق کا کام ان کے ذمہ تھا۔ اسی ذمہ داری کو انہوں نے اپنی میراث کہا ہے اسی میراث کو سنبھالنے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگا کہ جو ہدایت خلق کا کام ان کے بعد اچھی طرح سنبھال سکے، حالانکہ آپ اور آپ کی بیوی عمر اور صحت کے لحاظ سے نااہل ہوچکے تھے۔ کیونکہ ایک تو دونوں بوڑھے ہوچکے تھے اور دوسرا ان کی بیوی قدرتی طور پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة مریم : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔ (حروف مقطعات) کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 8 اس ترجمہ کے مطابق ” زکریا “ کا لفظ ” عبدہ “ سے عطف بیان یا بدل ہے اور ” عبدہ “ رحمتہ کا مفعول ہے اور حضرت زکریا پر رحمت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت یحییٰ عنایت کئے۔ (شوکانی) حضرت یحییٰ بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے تھے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زکریا بخار بڑھئی) تھے۔ نیز ان کے قصہ کے لئے دیکھئے سورة عمران

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:2) ذکر رحمۃ ربک عبدہ زکریا۔ اس میں ھذا (محذوف) مبتدا ہے اور ذکر رحمۃ۔۔ زکریا۔ اس کی خبر ہے۔ عبدہ مفعول ہے رحمۃ کا اور زکریابدل ہے عبدہکا۔ ترجمہ یوں ہوا۔ یہ ذکر ہے تیرے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر فرمائی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–4

حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر یہ سورت مریم مکی ہے اس سورة میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے۔ حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گذر چکا ہے، اور سورة آل عمران کی آیتوں میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی ماں کی نذر ماننے کا حال معلوم ہوچکا ہے۔ اب یہاں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے کہ جب حضرت مریم (علیہا السلام) سیانی ہوگئیں تو زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے لئے ایک عبادت خانہ بنوا دیا۔ اس عبادت خانہ میں زکریا (علیہ السلام) جب حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے ملنے آتے تو حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے پاس ان کے بےفصل کا میوہ رکھا ہوا نظر آیا کرتا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–4

[1] زکریا (علیہ السلام) کا قصہ سورة آل عمران آیت 38 تا 41 صفحہ 124 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–4

اللہ کے اندازہ ہائے بخشش : (ف 1) سورة مریم کا آغاز جس واقعہ سے کیا ہے ، حقیقت میں یہ سابقہ آیت کی تفسیر ہے ، جس میں بتایا گیا تھا ، کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا کوئی مقرر و متعین اندازہ نہیں ، ہم اس کی وسعتوں کا صحیح صحیح جائزہ نہیں لے سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس کی بخششیں کن طریقوں اور واسطوں سے ہوتی ہیں ، ہمارا علم محدود ہے اور اس کے دینے اور بخشنے کے انداز لا محدود ہیں ۔ حل لغات : وھن العظم : ضعف وناتوانی سے تعبیر ہے کیونکہ بڑھاپے میں ہڈیوں میں قوت حیات کم ہوجاتی ہے ۔ واشتعل الراس : بالوں کی سفیدی کو شعلہ زنی سے تشبیہ دینا کمال بلاغت ہے ، اور حقیقت یہ ہے کہ بالکل اچھوتی تشبیہ ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-2 اے پیغمبر یہ آپ کے پروردگار کی اس رحمت و مہربانی کا تذکرہ ہے جو اس نے اپنے مقبول بندے زکریا نامی پر فرمائی تھی یعنی یہ قصہ جو آگے بیان کیا جاتا ہے یہ اس رحمت کا تذکرہ ہے جو اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر فرمائی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 3۔ یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں۔ 4۔ یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے بندے زکریا (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا ذکر : 2۔ قرآن کریم اور احادیث میں بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں کا ذکر آتا ہے اور یہ بارہ قبائل سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے تھے ، بنی اسرائیل نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو اس ملک کو بارہ حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر ایک حصہ پر ایک خاندان حکمران تھا اور ہر خاندان میں سے ایک سردار لازم قرار پایا تھا ان میں ایک قبیلہ بنی لادی کہلاتا تھا اس کے ذمہ مذہبی خدمات بھی لگائی گئی تھیں ، بعد ازیں یہ خدمت حضرت ہارون (علیہ السلام) کے خاندان میں چلی گئی اور یہ خاندان بہت بڑھ گیا یہاں تک کہ اس کے 24 قبیلے بن گئے انہیں خاندانوں میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary In the Holy Qur'an Surah Maryam has been placed immediately after Surah Al-Kahf, presumably because there appears some kind of similarity between the two Surahs. While the former deals with some unusual anecdotes, the latter also covers a number of extraordinary events. كهيعص are letters known in Arabic as; حُرُوفِ مُقَطَّعَۃ whose meanings, like are known only to Allah Ta` ala and people should not even attempt to probe their meanings.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–4

1. For comparison please see the story of Zachariah as given in (Ayats 34-57 of Surah Aal-Imran) and the E.Ns thereof. 2. In order to understand the position held by Zachariah, a descendant of Prophet Aaron, one should be acquainted with the system of priesthood among the children of Israel. After the conquest of Palestine, the entire land was divided among the 12 tribes of the descendants of Prophet Jacob as inheritance, and the 13th tribe, the Levites, was entrusted with religious services and duties. Even among the Levites, the house that was separated to sanctify the most holy things, to…

Read the full tafseer →