Maryam 19:1

19. Maryamمريم

Mary · Meccan · 98 ayahs · 6 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ ۟۫ۚكٓهٰيٰـعٓـصٓ‌

کہیٰعص

— Fateh Muhammad Jalandhari

Kaf, Ha, Ya, 'Ayn, Sad.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:1

کاف، ہا، یا، عین، صاد (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کٓھٰیٰعٓصٓ

— محترمہ رفعت اعجاز

Kaf, Ha Ya, Ain, Sad

— Muhammad Taqi Usmani

Kaf, Ha Ya, Ain, Sad

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Kaf Ha Ya `Ain Sad.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Kaf, Ha, Ya, 'Ayn, Sad.

— Saheeh International

Kaf. Ha. Ya. Ain. Sad.

— Muhammad Sarwar

Kaf Ha Ya Ain Suad.

— Muhammad Habib Shakir

Kaf- Ha-Ya-'Ain-Sad.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 19:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

دعا اور قبولیت۔ اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر کھیعص (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو آئندہ قصہ آتا ہے) تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کے مہربانی فرمانے کا اپنے (مقبول) بندہ (حضرت) زکریا (علیہ السلام کے حال) پر جبکہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پوشیدہ طور پر پکارا (جس میں یہ) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں (بوجہ پیری کے) کمزور ہوگئیں اور (میرے) سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی (یعنی تمام بال سفید ہوگئے اور اس حالت کا مقتضاء یہ ہے کہ میں اس حالت میں اولاد کی درخواست نہ کروں مگر چونکہ آپ کی قدرت و رحمت بڑی کامل ہے) اور (میں اس قدرت و رحمت کے ظہور کا خوگر ہمیشہ رہا ہوں چناچہ اس کے قبل کبھی) آپ سے (کوئی چیز) مانگنے میں اے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

كهيعص۔ یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ ان حروف پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں دیکھیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 حضرت زکر یا علیہ السلام، انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ یہ بڑھئی تھے اور یہی پیشہ ان کا ذریعہ آمدنی تھا (صحیح مسلم)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا، مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آئے ہیں، ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ حروف مقطعات جن سے اس سورة کا آغاز ہو رہا ہے ان کی تفسیر میں ہماری یہی رائے ہے کہ یہ وہی حروف ہیں جن سے قرآن کریم بنا ہے۔ ان ہی سے یہ معجز کتاب بنی ہے اور انسانیت اس کتاب جیسی کتاب لانے سے عاجز ہے۔ حالانکہ یہ حروف اور ان سے بنے ہوئے کلمات انسانوں کی دسترس میں ہیں ، لیکن وہ اس موجود مواد سے کوئی ایسی کتاب تیار کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ان حروف کے تذکرے کے بعد حضرت زکریا اور یحییٰ کا قصہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس قصے کا بیشتر مواد رحمت الٰہی پر مبنی ہے۔ پورے ماحول پر رحمت خداوندی سایہ فگن ہے۔ چناچہ آغاز ہی لفظ رحمت سے ہوتا ہے ، ذکر رحمت سے ہوتا ہے ……

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

1 حضرت زکریا (علیہ السلام) " بنی اسرائیل " کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں۔ نجاری (بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھاتے تھے۔ ان کا قصہ پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 كۗهٰيٰعۗصۗ قرآن مجید کی یہ واحد سورت ہے جس کے آغاز میں اکٹھے پانچ حروف مقطعات ہیں۔ اگرچہ سورة الشوریٰ کے شروع میں بھی پانچ حروف مقطعات ہیں لیکن وہاں یہ دو آیات میں ہیں۔ دو حروف حٰمٓ پہلی آیت میں جبکہ تین حروف عٓسٓقٓ دوسری آیت میں ہیں۔ بہر حال سورة مریم کو اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس کے آغاز میں اکٹھے پانچ حروف مقطعات آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 اس سورة کا نام مریم اس لئے ہے کہ اس میں سیدہ مریم کے حالات کا تفصیلی ذکر آیا ہے اور یہی ایک خاتون ہیں جن کا قرآن میں نام مذکور ہے اور کم از کم تیس مقامات پر ان کا نام آیا ہے۔ 2 ہجرت حبشہ :۔ یہ سورت مکہ میں ہجرت حبشہ یعنی 5 نبوی سے پیشتر نازل ہوئی تھی۔ قریش کے ناروا مظالم اور سختیوں میں مسلمان پس رہے تھے اور کوئی غلام تھا یا آزاد، کمزور تھا یا قوی سب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ بالآخر آپ ﷺ نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ وہاں کا عیسائی بادشاہ جسے مسلمان نجاشی کہتے تھے۔ اپنے عدل کی وجہ سے مشہور تھا اور حبشہ کی طرف ہجرت کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ وہاں تبلیغ کے لئے میدان کھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ حروف مقطعات پر حاشیہ پارہ اول کے بالکل شروع میں گزر چکا۔ یہاں (آیت) ” کھیعص “۔ کی ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ یہ فقرہ کاف ھاد عالم صادق “۔ کا مخفف ہے۔ (ابن عباس ؓ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس ؓ ہی سے یہ بھی منقول ہے کہ ک مخفف کریم کا ہے، ہ مخفف ھاد کا، ی مخفف حکیم کا ع مخفف علیم کا اور ص مخفف صادق کا (روح) کلبی تابعی سے یہ معنی مروی ہیں۔ کاف لخلقہ ھاد لعبادہ یدہ فوق ایدیھم عالم ببریتہ صادق فی وعدہ (معالم) دارمی، ابن ماجہ، ابن جریر، میں فاطمہ ؓ بنت علی ؓ سے یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت علی ؓ اپنی دعاؤں میں یا کھیعص اغفرلی کہا کرتے تھے (روح) جس سے معلوم ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے کھیٰعص اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی خوب جانتا ہے یہ (متلو) اپنے بندے زکریا پر تیرے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے عبدہٗ رحمت کا مفعول ہے زکریا، عبدہ کا بیان ہے جبکہ اس نے اپنے رب کو مخفی طور پر پکارا اِذْ رحمۃً سے متعلق ہے، یعنی ایسا پکارنا کہ جو راز داری پر مشتمل تھا رات کے درمیان حصہ میں اس لئے کہ یہ (طریقہ) سریع القبول ہے عرض کیا اے میرے پروردگار میری تمام ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہیں اور میرے سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے شیباً فاعل سے منقول ہو کر تمیز ہے یعنی جس طرح لکڑیوں میں آگ پھیل جاتی ہے اسی طرح سفیدی میرے سر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(1) کھیعص۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد وثنا فرمائی ہے یعنی وہ کافی ہے ہدایت عطا فرمانے والا ہے اور عالم ہے، صادق ہے یا یہ ہے کاف کا مطلب وہ اپنی مخلوق کو کافی ہے اور ھاء سے مراد ہدایت فرمانے والا ہے اور یا سے مراد ہے کہ اس کا تسلط اور غلبہ تمام مخلوق پر ہے اور عین سے مراد کہ وہ تمام مخلوق کے احوال جاننے والا ہے اور صاد یعنی کہ اپنے وعدے میں سچا ہے یا یہ کہ کاف سے کریم اور لفظ ھا سے ھاد یا حلیم اور عین سے علیم اور صاد سے صادق کنایہ ہے یا یہ کہ صدوق سے کنایہ ہے یعنی کہ بہت ہی زیادہ سچا اور یا یہ کہ ایک قسم ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے کھائی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کھٰیٰعص۔ حروف مقطعات پر کلام پہلے سورتوں کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کاف۔ کافی سے، ھا۔ ھادی ہے، یا۔ حکیم سے اور عین۔ علیم سے اور صاد۔ صادق سے ہے، یہ ابن العزیز نے ذکر کیا ہے۔ قشیری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے لیے کافی ہے اپنے بندوں کو ہدایت دینے والا ہے۔ اس کا ہاتھ سب کے ہاتھوں پر ہے (یعنی سب پر غالب ہے) ان کو جاننے والا ہے اپنے وعدہ میں سچا ہے۔ یہ قول ثعلبی نے کلبی، سدی، مجاہد اور ضحاک سے روایت کیا ہے۔ کلبی نے یہ بھی کہا ہے کہ الکاف، کریم، کبیر اور کافی سے، ھا، ھادی سے ہے۔ یا رحیم سے ہے۔ عین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔ (ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ حروف مقطعات متشابہات میں سے ہیں اور ان کی تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کی مفصل تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 18 حاشیہ 2 ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

(کوائف اور زمانہ نزول) اس سورة میں حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہے ، لہذا یہ سورة آپ ہی کے نام پر سورة مریم کے نام سے موسوم ہے یہ سورة اٹھانوے آیات اور چھ رکوع پر مشتمل ہے ، اس کے 962 الفاظ اور 3302 حروف ہیں ۔ یہ سورة مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے ۔ اس امر کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ سن پانچ اور چھ نبوی میں جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی دو جماعتیں مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ پہنچیں تو وہاں کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا چاہے چناچہ حضرت جعفر ؓ امیر قافلہ نے نجاشی کے سامنے نہ صرف حضور ﷺ اور مسلمانوں کے حالات بیان کیے بلکہ سورة مریم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

كۗہٰيٰعۗصۗ۝ 1ۣۚ ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَہٗ زَكَرِيَّا ۝ 2ۖ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت ﷺ نے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : ذکر مرفوع بانہ خبر مبتدء محذوف ای ہذا ثم الخبر مضاف الیٰ رحمت وھی الٰی ربک۔ عبدہ منصوب بانہ مفعول رحمۃ وقیل مفعول لذکرا ذ نادی ظرف زمان للرحمۃ اے رحمۃ اللہ ایاہ وقت ان ناداہ۔ قال رب الخ الجملۃ مفسرۃ لقولہ نادی والوھن الضعف یقال وہن یہن وہنامن باب وعدیعد ولایتعدی فی لغۃ۔ اشتعل الراس الاشتعال انتشار شعاع النار فشبہ بہ انتشار بیاض شعرالراس بجامع البیاض ثم اخرجہ مخرج الاستعارۃ بالکنایۃ بان حذف المشبہ بہ واداۃ التشبیہ شقیا اے خائبا من الاجابۃ۔ خفت بصیغہ المتکلم وقری بکسر التاء وفاعلہ الموالی اے قلودما توالمراد بالموالی جمع المولیٰ ھنا الاقارب یرثنی و یرث بالرفع الفعلین علی انھما صفتان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

کٓھٰیٰـعٓصٓ۔ ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہٗ زَکَرِیَّا۔ (مریم : 1، 2) (کاف ھا یا عین ص) یہ ذکر ہے آپ ﷺ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر فرمائی۔ ) حروف مقطعات کٓھٰیٰـعٓصٓ … یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ حروف مقطعات کی وضاحت ہم سورة البقرہ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اس پر اگرچہ مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں تاہم قشیری نے حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے اس کا ایک مفہوم نقل کیا ہے۔ ہم بھی دلچسپی کے لیے اسے نقل کررہے ہیں۔” کاف “ سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لیے کافی ہے۔ اور ” ھا “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت دینے والا ہے۔” یا “ سے مراد اس کا ید یعنی ہاتھ ہے جو ساری کائنات پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط کلام : سورة مریم بھی حروف مقطعات سے شروع ہوئی ہے۔ ان کے بارے میں پہلے بیان ہوچکا ہے کہ حروف مقطعات کا حقیقی معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جن لوگوں نے بزرگوں کے اقوال سے ان کا معنٰی متعین کرنے کی کوشش کی ہے اسے فکری کاوش کے سوا کوئی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ حقیقت یہی ہے کہ اس کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مکہ معظمہ میں مسلمانوں کے حالات اس قدر مخدوش ہوچکے تھے کہ دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی جس سے یہ واضح ہو کہ اللہ کی توحید کا غلبہ اور اسلام کی تحریک کامیاب ہو سکے گی۔ ان حالات میں سورة مریم نازل ہوئی جس کی ابتداء اس بات سے کی جا رہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1: كۗهٰيٰعۗصۗ سدی نے کہا ! یہ اللہ تعالیٰ کا اسم عظم ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ سورة کا نام ہے۔ قراءت : علی و یحییٰ نے ھاؔ اور یاؔ کے کسرہ سے پڑھا ہے نافع نے فتحہ اور کسرہ کے درمیان اور فتحہ کے زیادہ قریب کر کے۔ ابو عمرو نے کسرہ ھاؔ اور فتحہ یاؔ کے ساتھ اور حمزہ نے اس کا عکس اور دیگر قراء نے دونوں کا فتحہ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

سورة مریم۔ تفسیر۔ 1۔ کھیعص، ، ابوعمرو نے ھاء کے کسرہ اور، ی ، کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر اور حمزہ نے دونوں کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کسائی ، ابوبکر اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ یہ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے بعض نے کہا یہ سورة کا نام ہے بعض نے کہا یہ قسم ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی تھی۔ سعید بن جبیر ؓ نے بیان کیا کہ ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ ، ، کھیعص، ، میں کاف سے مراد مریم، کبیر ہے اور ھاء سے مراد ھاد (ہدایت دینے والا) اوری سے رحیم، عین سے علیم، وعظیم اور صاد سے صادق ۔ کلبی کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ اس سورت میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے اس واسطے اس سورة کا نام مریم ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے سورة آل عمران کی آیتوں کے مضمون کے موافق حضرت مریم کی ماں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوگا تو اس کو دنیا کے کاموں سے باز رکھ کر بیت المقدس کا خادم بنا دیا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی تو لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا اس واسطے حضرت مریم کی ان کو نذر کے پورا نہ ہونے کا بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کا رنج رفع کرنے کے لیے اپنی رحمت سے حضرت مریم کی خادمی جائز فرمائی اور حضرت مریم کی پرورش ان کے خالو زکریا (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

آیت 1 (ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا) ” یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ “ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریا (علیہ السلام) کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہوگی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے چن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

1 آداب دعا میں سے ایک اہم ادب اخفائ : سو یہ دعا کے آداب میں سے ایک اہم ادب ہے کہ دعا آہستہ اور چپکے چپکے سے کی جائے۔ کیونکہ اول تو انسان جس ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے اس کے یہاں سرّ و اخفا سب برابر ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور دوسرے اس لئے کہ آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے دعاء کرنا اخلاص کے بھی زیادہ قریب ہے اور ریاء و نمود سے بھی محفوظ تر ہے۔ اسی لئے رب تعالیٰ نے اپنے کلام حکیم میں ہمیں اس طرح صریح طور پر اس کا حکم دیا ہے ۔ { اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً } ۔ (الاعراف :55) یعنی " تم اپنے رب کو پکارو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے سے "۔ نیز دوسرے مقام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

سیدنا زکریا اور ان کی دعا تشریح : سیدنا زکریا (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر بڑی تفصیل سے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ بنی ہارون کے 24 خاندان تھے جن میں سے ابیاہ خاندان کے سردار سیدنا زکریا (علیہ السلام) تھے۔ آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے مگر ہدایت خلق کا کام ان کے ذمہ تھا۔ اسی ذمہ داری کو انہوں نے اپنی میراث کہا ہے اسی میراث کو سنبھالنے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگا کہ جو ہدایت خلق کا کام ان کے بعد اچھی طرح سنبھال سکے، حالانکہ آپ اور آپ کی بیوی عمر اور صحت کے لحاظ سے نااہل ہوچکے تھے۔ کیونکہ ایک تو دونوں بوڑھے ہوچکے تھے اور دوسرا ان کی بیوی قدرتی طور پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة مریم : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔ (حروف مقطعات) کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 8 اس ترجمہ کے مطابق ” زکریا “ کا لفظ ” عبدہ “ سے عطف بیان یا بدل ہے اور ” عبدہ “ رحمتہ کا مفعول ہے اور حضرت زکریا پر رحمت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت یحییٰ عنایت کئے۔ (شوکانی) حضرت یحییٰ بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے تھے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زکریا بخار بڑھئی) تھے۔ نیز ان کے قصہ کے لئے دیکھئے سورة عمران

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

خواص سورة مریم : جو شخص روزی کے سبب پریشان ہو تو سورة مریم کو سات بار پڑھ کر دعا کرے انشاء اللہ روزی کی کشائش ہوگی۔ جو شخص حاکم کو اپنی عرضی دے تو لفافہ میں بند کرتے وقت سورة مریم پڑھ کر اس لفافہ کے اندر دم کر دے تو مراد پاوے گا۔ جو شخص سورة مریم کو لکھ کر اپنے گھر میں رکھے گا تو اس سے خیر و برکت اور خوشی زیادہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 3۔ یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں۔ 4۔ یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سورة مریم اور حروف مقطعات میں پانچ حروف کی حکمت : 1۔ سورة مریم سے پہلے 14 ‘ 15 سورتوں میں حروف مقطعات آچکے ہیں ، سورة البقرہ میں ان کی پوری بحث بیان کردی گئی ہے اور باقی سورتوں پر مختصر اشارہ بھی کیا گیا ہے ، سب کا ماحصل بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ جن سورتوں کے مضامین انسانی زندگی کے ہر دور میں کام آنے والے اور انسانوں کو سبق دینے کے لئے بیان کئے ہیں ان پر انسانوں کو متوجہ کرنے کے لئے حروف مقطعات لائے گئے ہیں اور اس طرح متوجہ کرنے کے لئے عربوں کے ہاں ایسے حروف بولے جاتے تھے اور آج بھی لوگ ایک دوسرے کو متوجہ کرنے کے لئے مفرد حروف والفاظ بیان کرتے ہیں اور یہ بھی کہ جتنی زیادہ متوجہ کرنے کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary In the Holy Qur'an Surah Maryam has been placed immediately after Surah Al-Kahf, presumably because there appears some kind of similarity between the two Surahs. While the former deals with some unusual anecdotes, the latter also covers a number of extraordinary events. كهيعص are letters known in Arabic as; حُرُوفِ مُقَطَّعَۃ whose meanings, like are known only to Allah Ta` ala and people should not even attempt to probe their meanings.

Read the full tafseer →