Al-Kahf 18:110

Al-Kahf · from ayah 110

18:110

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ— فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا ۟۠قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ يُوۡحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌  ۚ فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡالِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَـعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًـاوَّلَايُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا

کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "I am only a man like you, to whom has been revealed that your god is one God. So whoever would hope for the meeting with his Lord - let him do righteous work and not associate in the worship of his Lord anyone."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 12 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:110

اے محمدؐ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں (البتہ) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک خدا ہے۔ لہذا جس کسی کو اپنے مالک سے جاملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے، اور اپنے مالک کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے! ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے (بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلامِ الٰہی اتر سکے) وہ یہ کہ تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہی ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے میں تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : میں تو تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ (ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ) میری طرح وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ لہذا جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ میں تو بس تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں۔ مجھ پر وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔ پس جو اپنے رب کی ملاقات کا متوقع ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کج فہموں سے یہ بھی کہو کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں ایک بشر اور انسان ہوں تم ہی جیسا فرق صرف یہ ہے کہ میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اس مرکزی مضمون کی کہ معبود تم سب لوگوں کا بہرحال ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی امید و آرزو رکھتا ہو اپنے رب سے ملنے کی تو اس کو چاہیے کہ وہ نیک کام کرتا رہے اور کسی بھی طور پر وہ شریک نہ ٹھہرائے اپنے رب کی عبادت و بنددگی میں کسی کو۔

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس تمہارا ہی جیسا بشر ہوں میرے پاس تو بس یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ سو جو کوئی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک کام کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی بھی امید رکھتا ہو اپنے رب سے ملاقات کی تو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ البتہ میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ تو جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھے تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say (O Muhammad): "I am no more than a human being like you; one to whom revelation is made: 'Your Lord is the One and Only God.' Hence, whoever looks forward to meet his Lord, let him do righteous works, and let him associate none with the worship of his Lord."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Surely, I am but a human being like you; it is revealed to me that your God is the One God. So the one who hopes to meet his Lord must do righteous deed and must not associate anyone in the worship of his Lord. 19. Mary

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Surely, I am but a human being like you; it is revealed to me that your God is the One God. So the one who hopes to meet his Lord must do righteous deed and must not associate anyone in the worship of his Lord. 19. Mary

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "I am only a man like you. It has been revealed to me that your God is One God. So whoever hopes for the meeting with his Lord, let him work righteousness and associate none as a partner in the worship of his Lord."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: I am only a mortal like you. My Lord inspireth in me that your Allah is only One Allah. And whoever hopeth for the meeting with his Lord, let him do righteous work, and make none sharer of the worship due unto his Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "I am only a man like you, to whom has been revealed that your god is one God. So whoever would hope for the meeting with his Lord - let him do righteous work and not associate in the worship of his Lord anyone."

— Saheeh International

Say, "I am only a mortal like you but I have received revelation that there is only one Lord. Whoever desires to meet his Lord should strive righteously and should worship no one besides Him.

— Muhammad Sarwar

Say: I am only a mortal like you; it is revealed to me that your god is one Allah, therefore whoever hopes to meet his Lord, he should do good deeds, and not join any one in the service of his Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: I am but a human being like yourselves; revealed unto me is that your God is One God. Whosoever then hopeth for the meeting with his Lord, let him work righteous work, and let him not associate in the worship of his Lord anyone.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "I am but a man like yourselves, (but) the inspiration has come to me, that your Allah is one Allah: whoever expects to meet his Lord, let him work righteousness, and, in the worship of his Lord, admit no one as partner.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:110

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

سید البشر ﷺ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو حضور ﷺ پر اتری۔ حکم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں سے فرمائیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، تم بھی انسان ہو، اگر مجھے جھوٹا جانتے ہو تو لاؤ اس قرآن جیسا ایک قرآن تم بھی بنا کر پیش کردو۔ دیکھو میں کوئی غیب داں تو نہیں تم نے مجھ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کیا۔ اصحاب کہف کا قصہ پوچھا تو میں نے ان کے صحیح واقعات تمہارے سامنے بیان کر دئیے جو نفس الامر کے مطابق ہیں اگر میرے پاس اللہ کی وحی نہ آتی تو میں ان گذشتہ واقعات کو جس طرح وہ ہوئے ہیں تمہارے سامنے کس طرح بیان کرسکتا ؟ سنو تمام تر وحی کا خلاصہ یہ ہے کہ تم موحد بن جاؤ شرک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 109–110

سورة الْكَهْف 80 " باتوں " سے مراد اس کے کام اور کمالات اور عجائب قدرت و حکمت ہیں۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 48۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل سورة کہف کی آخری آیت میں (آیت) وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا کا شان نزول جو روایات حدیث میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں شرک سے مراد شرک خفی یعنی ریاء ہے۔ امام حاکم نے مستدرک میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس کو صحیح علی شرط الشیخین فرمایا ہے روایت یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا تھا اس کے ساتھ اس کی یہ خواہش بھی تھی کہ لوگوں میں اس کی بہادری اور غازیانہ عمل پہچانا جائے اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (جس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں ایسی نیت کرنے سے جہاد کا ثواب نہیں ملتا) اور ابن ابی حاتم اور ابن دنیا نے کتاب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا۔ یعنی ان نشانیاں مانگنے والوں سے کہہ دو کہ میں تمہاری ہی طرح ایک بشرہوں۔ نشانیاں دکھانا خدا کا کام ہے۔ میں نے رسول ہونے کا اعلان کیا ہے تو جو وحی میرے پاس آتی ہے وہ میں تمہیں سناتا ہوں۔ خدائی کا دعوی نہیں کیا ہے کہ تمہاری طلب کے مطابق معجزہ دکھا دوں۔ میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جو اپنے رب کی ملاقات کا متوقع ہے وہ بلا شرکت غیرے اس کی بندگی کرے۔ یہ آخری سطریں ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

110۔ 1 اس لئے میں بھی رب کی باتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ 110۔ 2 البتہ مجھے یہ امتیاز حاصل ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ اسی وحی کی بدولت میں نے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق اللہ کی طرف سے نازل کردہ وہ باتیں بیان کی ہیں جن پر مرور ایام کی دبیز تہیں پڑی ہوئی تھیں یا ان کی حقیقت افسانوں میں گم ہوگئی تھی۔ علاوہ ازیں اس وحی میں سب سے اہم حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود صرف ایک ہے۔ 110۔ 3 عمل صالح وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو، یعنی جو اپنے رب کی ملاقات کا یقین رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ ہر عمل سنت نبوی کے مطابق کرے اور دوسرا اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، اس لئے کہ بدعت اور شرک دونوں ہی ضبط…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 109–110

53: اللہ تعالیٰ کی باتوں سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات اور کمالات کا تذکرہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی حکمت اور اس کے کمالات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان کو قلم بند کیا جائے تو بڑے بڑے سمندروں کو روشنائی بناکر لکھا جائے، تو سمندر کے سمندر خشک ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور کمالات کا بیان ختم نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ہے مقام الوہیت کا افق بعید ، افق بلند۔ اس کے مقابلے میں انسانی علم کا افق بہت ہی نیچے ہے۔ کیونکہ علم نبوی ہو ، بہرحال نبی بشر ہی تو ہوتا ہے۔ قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی (81 : 011) ” اے نبی کہو میں تو ایک انسان ہی ہوں تم ہی جیسا میری طرف وحی کی جاتی۔ “ بس یہی فرق ہے میرے اور تمہارے درمیان کہ میں باری تعالیٰ کے بلند آفاق علم سے کچھ حاصل کرتا رہتا ہوں۔ اس دائمی سرچشمے سے میں علم حاصل کرتا ہوں۔ میں ان ہدایات سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا جو مجھے عالم بالا سے ملتی ہیں۔ میں انسان ہوں ، پہلے خود سیکھتا ہوں ، پھر سکھاتا ہوں لہٰذا جو شخص ان بلند علوم کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ ان علوم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں، خدا نہیں، جو خودبخود ذاتی طور پر تمام علوم و کمالات حاصل ہوں، ہاں اللّٰہ تعالیٰ علوم حقہ اور معارف قدسیہ میری طرف وحی کرتا ہے جن میں اصل اصول علم توحید ہے۔ اسی کی طرف میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔ جس کسی کو اللّٰہ تعالیٰ سے ملنے کا شوق یا اس کے سامنے حاضر کیے جانے کا خوف ہو اسے چاہیے کہ کچھ بھلے کام شریعت کے موافق کر جائے اور اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی میں ظاہر اً و باطناً کسی کو کسی درجہ میں بھی شریک نہ کرے۔ یعنی شرک جلی کی طرح ریا وغیرہ شرک خفی سے بھی بچتا رہے۔ کیونکہ جس عبادت میں غیر اللّٰہ کی شرکت ہو وہ عابد کے منہ پر ماری جائے گی۔ " اَللّٰہُمَّ اَعِذْنَا مِنْ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا یعنی عبادت خالص اللہ کی ہو۔ یہ توحید عملی ہے۔ اس بارے میں سورة بنی اسرائیل آیت 23 میں یوں فرمایا گیا ہے : وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ ”اور فیصلہ کردیا ہے آپ کے رب نے کہ تم لوگ نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اس کے“۔ سورة الکہف کی اس آخری آیت اور سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کا بھی آپس میں معنوی ربط وتعلق ہے۔ موازنہ کے لیے سورة بنی اسرائیل کی آیت ملاحظہ کیجیے : وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 کفار کا یہ اعتراض اور اس کا جواب متعدد بار پہلے بھی گزر چکا ہے یعنی میں بھی تمہاری ہی طرح ایک انسان ہوں، کھاتا ہوں، پیتا ہوں، چلتا ہوں، نکاح اور شادیاں کرتا ہوں البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں، یہ جواب تو ان لوگوں کو تھا جو آپ کو رسول نہیں مانتے تھے اور جو جانتے تھے (یعنی صحابہ کرام) ان کے سامنے بھی آپ نے متعدد بار انسان ہونے کے ناطے سے بشری کمزوریوں کا اعتراف فرمایا تھا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ 1۔ آپ کا صحابہ کرام ؓ کے سامنے بشر ہونے کا کئی بار اعتراف اقرار :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے نماز پڑھائی تو اس میں کچھ کمی بیشی کردی جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

160۔ یعنی امتیازی چیز میرے پاس صرف یہ ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے جو دوسروں کے پاس نہیں آتی، میں صرف وصف رسالت میں دوسروں سے ممتاز ہوں۔ (آیت) ” انما “۔ اول تو خود ہی کلمہ حصر ہے۔ پھر (آیت) ” مثلکم “۔ میں اس کی مزید تصریح کہ میں بشر ہی نہیں ہوں بلکہ تم ہی جیسا بشر ہوں۔ صفات بشری میں تم ذرا الگ نہیں ہوں۔ (آیت) ” انما ....... واحد “۔ میرا پیام توحید ہی ہے۔ 161۔ اور شرک کے اندر شرک جلی اور شرک خفی دونوں آگئے (آیت) ” فلیعمل عملا صالحا “۔ عمل صالح کا معیار یہ ہے کہ عمل شریعت اسلامی کے مطابق ہو۔ (آیت) ” ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا “۔ یعنی علم کا نقطہ آغاز تو کم از کم صحیح ہو۔ ایمانیات کا جو اقل قلیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 99–110

آیت نمبر 99 تا 110 ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انما ان ابشر مثلکم یوحی الی انما الہکم الہ واحد آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح انسان ہی ہوں (فرق یہ ہے کہ) میرے پاس وحی آتی کہ تمہارا معبود اکیلا معبود ہے (کوئی اس کا شریک نہیں) حضرت ابن عباس نے فرمایا ‘ اللہ نے اپنے رسول ﷺ : کو تواضع کی تعلیم دی تاکہ آپ مغرور نہ ہوجائیں اور حکم دیا کہ اپنے آدمی ہونے کا اقرار کریں لیکن اقرار بشریت کے ساتھ یہ بھی ظاہر کردیں کہ میرے اندر صاحب وحی ہونے کی خصوصیت بھی ہے میرے پاس وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود اکیلا معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں کہتا ہوں اس حکم سے ایک بہت بڑے فتنہ کا دروازہ بند ہوگیا جس میں نصاریٰ مبتلا ہوگئے تھے۔ حضرت عیسیٰ کے معجزات امت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(110) اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تم ہی جیسا آدمی ہوں میرے پاس بذریعہ جبریل امین ؑ یہ وحی آئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں سو جس شخص کو مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو منہ دکھانے کا ڈر ہو وہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی اطاعت میں کسی کو شریک نہ کرے یہ آیت کریمہ جندب بن زہیر عامری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ فمن کان یرجوا لقآء ربہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابن ابی الدنیا ؒ نے ”کتاب الاخلاص“ میں طاؤس سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے اعمال کرتا ہوں اور مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ۔۔ : اللہ کے کبھی ختم نہ ہونے والے کلمات میں سے تمام پیغمبر اور ہمارے نبی ﷺ جو کلمات لے کر آئے، کفار نے ان پر ایمان لانے سے اس لیے انکار کردیا کہ انھیں لانے والے بشر تھے۔ ان کے خیال میں بشر اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا تھا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (11) اور بنی اسرائیل (94) کی تفسیر۔ عقل کے ان اندھوں کو دیکھو کہ احسن تقویم والے انسان کو اللہ کا رسول ماننے کے لیے تیار نہیں، مگر بےجان پتھروں کو معبود مان رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہونے کے سوا کچھ نہیں، نہ میں رب ہوں، نہ رب ہونے میں میرا کوئی حصہ ہے، نہ عالم الغیب ہوں،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 109–110

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل لو کان البحر مداداً لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی نفد الشی کا معنی ہے جب مکمل اور فارغ ہوجائے۔ یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ ولو جئنا بمثلہ مدداً ۔ اگر ہم سمندر پر عدد یا وزن کے اعتبار سے زیادتی کردیں۔ مصحف ابی میں مداداً ہے اسی طرح مجاہد، ابن محیصن اور حمید نے پڑھا ہے۔ مدداً کی نصب تمیز یا حال کی بناء پر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب نبی پاک ﷺ نے فرمایا : وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ (الاسرائ) تو یہود نے کہا : ہمیں تورات دی گئی ہے اور جس کو تورات دی گئی تو اسے خیر کثیر دیا گیا (تو ہم افضل ہوئے پھر ہم آپ کی پیروی کیسے کریں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” فمن کان یرجوا لقآء ربہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتے تھے اور یہ ایمان والوں کے بارے میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھنا چاہئے : 2:۔ عبدالرزاق، ابن ابی دنیا نے اخلاص میں طبرانی اور حاکم نے طاوس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی میں موقف حج میں ٹھہرتا ہوں اور اللہ کی رضا مندی کو چاہتا ہوں اور میں یہ بھی پسند کرتا ہوں کہ میرے یہاں ٹھہرنے کو دیکھا جائے (یعنی لوگ مجھے دیکھ لیں) آپ نے اس بات کا کوئی جواب نہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [انا : میں ] [بَشَرٌ: ایک بشر ہوں ] [مِّثْلُكُمْ : تم لوگوں جیسا ] [يُوْحٰٓى: وحی کی جاتی ہے ] [اِلَيَّ : میری طرف ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اِلٰـــهُكُمْ : تم لوگوں کا الیٰ ] [اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: واحد لٰہ ہے ] [فَمَنْ : پس وہ جو ] [كَان : ہے (کہ)] [يَرْجوا : امید رکھتا ہے ] [لِقَاۗءَ رَبِهٖ : اپنے رب سے ملاقات کرنے کی ] [فَلْيَعْمَلْ : تو اسے چاہیے کہ وہ عمل کرے ] [عَمَلًا صَالِحًا : نیک عمل کے ] [وَّلَا يُشْرِكْ : اور وہ شریک مت کرے ] [بِعِبَادَةِ رَبِهٖٓ: اپنے رب کی بندگی میں ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ] نوٹ۔ 1: حضرت شداد بن اوس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بشریت رسالت و نبوت کے منافی نہیں پھر فرمایا (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ) آپ فرما دیجیے کہ میں تمہارے ہی جیسا بشر ہوں (کوئی فرشتہ نہیں ہوں تم ہی میں رہتا سہتا ہوں کوئی ایسی بات نہیں کہتا جس سے تمہیں وحشت ہو) البتہ یہ بات ضرور کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ پاک کی طرف سے وحی آتی ہے۔ جس میں مجھے یہ بتایا گیا ہے اور تمہیں بھی بتاتا ہوں کہ تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے۔ یہ بات کوئی ناراض ہونے کی اور متنفر ہونے کی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے رسالت سے سرفراز فرما دیا اور میرے ذریعہ تمہیں بھی بتادیا کہ صرف معبود حقیقی کی عبادت کرو (اس میں توحید و رسالت دونوں کا اثبات ہے۔ ) جسے اپنے رب سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–110

تتمہ قصۂ ذوالقرنین و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔ اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

91:۔ یہاں آنحضرت ﷺ سے اعلان کرایا کہ میں غیب دان اور کارساز نہیں ہوں۔ بلکہ ایک انسان ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے اعلی ترین رتبہ نبوت پر سرفراز فرمایا ہے اور میرے پاس اللہ کی وحی آتی ہے۔ یہ اعلان اس لیے کرایا کہ کہیں لوگ آپ کو غیب داں اور خدا کا شریک نہ سمجھ بیٹھیں۔ 92:۔ آخر میں مسئلہ توحید کا ذکر فرما دیا۔ جس کے بارے میں شبہات کا جواب دیا گیا۔ ” فمن کان یرجوا الخ “ جو شخص مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے لقا کی توقع رکھتا ہے۔ اسے تو چاہئے کہ وہ نیک اعمال بجا لائے اور اپنے رب کی عبادت اور پکار میں کسی قسم کا شرک نہ کرے نہ جلی جیسا کہ مشرکین کیا کرتے تھے اور اصحاب کہف،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 109–110

(کلمات علم و حکمت) اس سورة کی ابتداء توحید کے بیان سے ہوئی تھی اور اب آخر میں بھی اللہ نے توحید ہی کا ذکر کیا ہے کیونکہ اکثر لوگ اسی مسئلہ میں ٹھوکر کھاتے ہیں اور پھر شرک میں مبتلا ہو کر آخرت برباد کرلیتے ہیں ابتدائے سورة میں عقیدہ ابنیت کی تردید کی گئی تھی اور آخر میں کلمات علم و حکمت کا بیان ہے اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا تذکرہ ہے گذشتہ درس کے آخر میں نیکوکاروں کے انعامات کے ضمن میں جنت الفردوس کا تذکرہ تھا کہ جنتی لوگ وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور وہاں سے کسی تبدیلی کے خواہشمند نہیں ہوں گے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں خدا تعالیٰ کے کلمات علم و حکمت اور اس کی صفات کمال کا ظہور ہوگا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰـــہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۝ 0ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّہٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا۝ 110ۧ بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ انما انابشر مثلکم الخ محض الوہیت و عبودیت کو امتیاز کے لیے ہے یعنی پیغمبر (علیہ السلام) میں الوہیت کا کوئی بھی حصہ نہیں اس سے کمالات نبوت کی نفی مراد نہیں پھر اس آیت سے آنحضرت ﷺ کو اور انسانوں جیسا معمولی انسان خیال کرنا سخت نادانی ہے۔ 12 منہ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰیٓ اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ج فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَـآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَّلاَ یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا۔ (الکہف : 110) (کہہ دیجیے ! کہ میں تو بس تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے، اور جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہے اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ ) ایک علمی قاعدہ اللہ تعالیٰ کے کلمات یعنی اس کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کی کوئی انتہا نہیں، کسی میں یہ قوت نہیں کہ وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کفار اس لیے بھی رسول اکرم ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے کہ یہ تو انسانوں میں سے ایک انسان ہے۔ وضاحت کے لیے آپ ﷺ کی زبان اطہر سے ہی انھیں سمجھایا اور بتلایا گیا ہے کہ میں نسل انسانی کے اعتبار سے تمہارے جیسا چلنے پھرنے، کھانے، پینے اور اٹھنے، بیٹھنے والا انسان ہوں۔ رسول کریم ﷺ سے کفار مختلف قسم کے مطالبات کرتے رہتے تھے کبھی کہتے کہ ہمارے لیے چشمے جاری کیے جائیں۔ کبھی کہتے آپ کے لیے سونے کا گھر ہونا چاہیے۔ اس طرح اوٹ پٹانگ مطالبات کرتے رہتے تھے۔ جس کے جواب میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ انھیں فرمائیں کہ میں بھی گوشت پوست کا بنا ہوا تمہارے جیسا انسان ہوں۔ انسان ہونے کے حوالے سے جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضری چاہے وہ شرک نہ کرے : 110: قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّ احِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآ ئَ رَبِّہٖ (پس آپ کہہ دیجئے میں تمہاری طرح انسان ہی ہوں۔ میرے پاس وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود اکیلا معبود ہے پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو) یعنی جو اپنے رب کی اچھی ملاقات کا امیدوار ہو کہ اس کو رضا مندی اور قبولیت والی ملاقات میسر ہوجائے نمبر 2۔ یا جو اس بات سے ڈرتا ہو کہ وہ اپنے رب کے ساتھ بری ملاقات کرے۔ یہاں ملاقات سے مراد اس کی بارگاہ میں حاضری ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ رؤیت مراد ہے جیسا کہ لقاء کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 107–110

جنت الفردوس کے بیان میں (107)” ان الذین آمنو ا وعملو الصالحات کانت لھم جنت الفردوس “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اللہ سے مانگا کرو تو فردوس ملنے کی دعا کیا کرو کیونکہ وہ جنت کے وسط میں ہے اور دوسری جنتوں سے اعلیٰ ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ حضرت کعب کا قول ہے کہ جنت میں فردوس سے اونچی کوئی جنت نہیں ہے، بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اسی میں داخل ہوں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ فردوس ربوۃ الجنتۃ کو کہتے ہیں۔ کعب کا بیان ہے کہ فردوس اس باغ کا نام ہے جس میں انگور ہوں۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ باغ جو رومی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

110۔ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ بیان کرنے کے بعد مشرکین مکہ کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ بشر ہونے میں تم اور میں برابر ہیں پھر تم لوگوں کو کیا اتنی سمجھ نہیں کہ بغیر پڑھے لکھے یہ غیب کے قصے میں اس طرح سے کیونکر بیان کرسکتا ہوں جو پچھلی آسمانی کتابوں کے موافق ہیں اور جو بات میں تم لوگوں کو آسمانی وحی کے موافق سمجھتا ہوں وہ بھی ہر شخص کی سمجھ میں آجانے کی بات ہے کہ جب اللہ نے تم کو تمہاری سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح سے پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک تم ثابت نہیں کرسکتے تو پھر اس وحدہ لاشریک کا تعظیم میں شریک ٹھہرانا بڑے وبال کی بات ہے صحیح بخاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 110 (قل) اے محمد ﷺ ان کفار سے کہہ دیجئے ! (انما انا بشر مثلکم) ” میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم “ یعنی میں معبود نہیں، اقتدار الٰہی میں میرا کوئی حصہ ہے نہ میرے پاس کوئی علم غیب ہے اور نہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہی ہیں : (انما انا بشر مثلکم) میں اپنے رب کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں۔ (یوحی الی انما الھکم الہ واحد) ” وحی آتی ہے مجھ پر کہ تمہارا معبود ایک معبود ہے “ یعنی مجھے تم پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے اور جلیل ترین وحی یہ ہے کہ اس نے تمہیں آگاہ کیا ہے کہ تمہارا معبود ایک ہے، یعنی اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ کوئی ذرہ بھر عبادت کا مستحق ہے اور میں تمہیں ان اعمال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

155 پیغمبر کو اپنی بشریت کے اعلان و اظہار کا حکم و ارشاد : سو آنجناب کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں سے کہو (اے پیغمبر ! ) کہ بلاشبہ میں تم ہی جیسا ایک بشر (اور انسان) ہوں "۔ اپنی اصل فطرت اور حقیقت نفس الامری کے اعتبار سے کہ میں عبد اللہ کا بیٹا، آمنہ کی آنکھ کا تارا، خدیجہ ؓ اور عائشہ ؓ کا شوہر، زینب ؓ ، رقیہ ؓ ، ام کلثوم ؓ اور فاطمہ ؓ کا باپ، عربی، قریشی اور ہاشمی ہوں۔ کھانے پینے، خوشی غمی اور شادی بیاہ وغیرہ کے تمام لوازم بشریہ رکھتا ہوں۔ البتہ وحی کے جس شرف سے میرے رب نے اپنے کرم سے مجھے نوازا ہے اس کے باعث اس نے میرا درجہ و مقام اپنی مخلوق میں سب سے بڑا کردیا ہے۔ ورنہ اپنی اصل کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 107–110

نیک اعمال کرنیوالوں کی مہمانی تشریح : یعنی ” قیامت کے روز “ یہ ذوالقرنین کے فقرے ” قیامت کے وعدہ برحق “ کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ اس پوری سورت میں یہی مضمون تینوں قصوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے سامنے رکھا، یعنی توحید کفر و شرک، نیکی بدی، دنیا و آخرت، امن و فساد، نفرت و محبت، بغض و خلوص اور پھر ان کے بدلے میں ملنے والی جنت و دوزخ کا ذکر بڑے ہی احسن انداز سے کیا گیا ہے۔ کاش کہ آج کا مسلمان سچا اور پکا مسلمان بن جائے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–110

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف یہ سب حالات وواقعات تو عظمت الہی پر دلالت کرتے ہیں یہ سب بھی سن اور جان کر کفار اللہ جل جلالہ کے سوا دوسروں ہی کی عبادت پہ اصرار کرتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں تو پھر یہ بھی جان لو کہ ایسے کفار کی مہمانی کے لیے جہنم دہک رہا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ ان لوگوں کے حال سے مطلع نہ کر دوں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں تو وہ لوگ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دنیا کی سب محنت اکارت گئی اور وہ خود کو بہت کامیاب تصور کرتے رہے ۔ (خلاف شریعت عمل خسارہ ہے) یعنی زندگی بھر محنت دولت کمائی اقتدار حاصل کیا یا شان و شوکت سے رہے اور سمجھا کہ ہم کامیاب ہیں ، مگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 109–110

ف 6 نہ کسی دوسرے کی عبادت کر کے اور نہ ریاکاری کر کے کیونکہ غیر اللہ کی عبادت اگر شرک اکبر ہے تو ریا کاری شرک صغر ہے حضرت شدہ اوبن اوس سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت سے یہ سنا ہے کہ نماز، روزہ اور صدقہ میں ریا کاری بھی شرک ہے۔ (بیہقی حاکم) چناچہ حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں ” ہم آنحضرت کے زمانے میں ریا کاری کو شرک اصغر شمار کیا کرتے تھے اور حضرت ابوہریرہ سے ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے کوئی ایسا کام کیا جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرایا گیا ہو تو میں اس سے اور اس کے کام سے بےتعلق ہوں مسلم احمد اس طرح ریاکاری کی مذمت اور اس کا شرک اصغر ہونا متعدد احادیث میں مروی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:110) یوحی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایحاء (افعال) مصدر۔ وحی کی جاتی ہے۔ یرجوا۔ مضارع واحد مذکر غائب رجائمصدر (باب نصر) و امید رکھتا ہے وہ امید کرتا ہے۔ رجائ اس ظن کو کہتے ہیں جس میں مستقبل میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو اگرچہ خوف و وہم کے معنی میں مستعمل ہے۔ لقائ۔ حاصل مصدر مضاف ربہ (مضاف مضاف الیہ) مضاف الیہ۔ لقی یلقی (سمع) لقاء لقاء ۃ۔ لقایۃ مصدر۔ ملاقات کرنا دیدار پانا۔ آمنے سامنے آنا اور پالینا۔ اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے ولقد کنتم تمنون الموت من قیل ان تلقوہ (3:143) اور تم موت (شہادت) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 109–110

لغات القرآن آیت نمبر 109 تا 110 مداد روشنائی، لکھنے کی سیاہی۔ نفد ختم ہوگیا۔ یوحی وحی کی جاتی ہے۔ یرجوا امید رکھتے ہیں۔ لقآء ملاقات، ملنا۔ لاتشرک شرک نہ کرے۔ عبادۃ عبادت، بندگی۔ تشریح :- آیت نمبر 109 تا 110 کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے یہودیوں کے بہکاوے میں آ کر روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق پوچھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ قریش مکہ کے ہر سوال کا جواب عنایت فرما کر ثابت کردیا کہ اللہ کے علم و حکمت کی باتیں اس قدر زیادہ ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ایک محسوس مثال کے ذریعہ سے بتایا گیا ہے کہ اگر سارے سمندر بلکہ ان جیسے اور بہت سے سمندروں کا پانی سیاہی بن جائے اور پھر اس سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مشرکین کا ذکر : اصحاب کہف اور حضرت ذولقرنین (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنے کے بعد مشرکین کے قائل کرنے کے لئے فرمایا :" اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ بشر ہونے میں تم اور میں برابر ہیں۔ پھر تم لوگوں کو کیا اتنی سمجھ نہیں کہ بغیر پڑھے لکھے قصے میں اس طرح سے کیونکر بیان کرسکتا ہوں جو پچھلی آسمانی کتابوں کے موافق ہیں۔ اور جو بات میں تم لوگوں کو آسمانی وحی کے موافق سمجھاتا ہوں، وہ بھی ہر شخص کی سمجھ میں آجانے کی بات ہے۔ جب اللہ نے تمہاری سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح سے پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک ثابت نہیں کرسکتے ، تو پھر اس وحدہ لاشریک کی تعظیم میں شریک ٹھہرانا بڑے وبال کی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 109–110

[39] اصل میں لفظ '' کلمات '' استعمال ہوا ہے جس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی وہ نشانیاں ہیں جو آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 109–110

خدا کا علم : (ف 3) اس سورة میں اصحاب کہف ، موسیٰ (علیہ السلام) و خضر (علیہ السلام) ، اور ذوالقرنین کے قصوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے حکم ومعارف کے دریا بہائے ہیں بتایا گیا ہے کہ کیونکر حق وصداقت کے لئے ثبات ، دوام مقدرات میں سے ہے اور اللہ کا علم کس قدر وسیع و متنوع ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) وخضر (علیہ السلام) دونوں اس بحر بیکراں سے استفادہ کرتے ہیں ، فرمایا ہے کہ حکمرانی اور طاقت بخشی صرف میرے اختیار میں ہے ، میں جسے چاہوں سرفراز کروں اور جسے چاہوں چشم زدن میں فنا وذلت کے گھاٹ اتار دوں ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی وسعت علم اور عظمت شان کا ذکر فرمایا ہے ، یہ بتایا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 1 10 آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی اور بشر ہوں مگر ہاں میری طرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود حقیقی صرف ایک ہی معبود ہی تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملاقات کا امیدوار ہے اور اس سے ملنے کا آرزو مند ہے اس کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت اور بندگی میں کسی اور کو شریک نہ کرے۔ یعنی مجھے ملکیت یا اور کوئی مخلوق ہونے کا دعویٰ نہیں میں تو تم ہی جیسا ایک بشر ہوں اور مجھ پر یہ وحی ضرور آتی ہے کہ معبود تم سب کا صرف ایک ہی ہے لہٰذا اس سے ملاقات کا جو خواہش مند ہے اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں ایک نیک اعمال کی پابندی اور دوسرے شرک سے احتراز۔ تم تفسیر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 109–110

ف 1۔ یعنی وہ کلمات و عبادات جو اوصاف و کمالات الہیہ پر دال ہوں اور ان سے ان کی تعبیر کی جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پیغمبر اسلام کا اعلان کہ میں ایک انسان ہوں لیکن ایسا کہ جس کی طرف وحی بھیجی جاتی ہے : 116۔ مختلف طرح کی نشانیان طلب کرنے والوں اور گزشتہ واقعات کی خبریں پوچھنے والوں سے آپ کہہ دیں کہ میں بھی ایک بشر ہوں جیسے کہ تم بشر ہو ہاں ! مجھ میں اور آپ میں فرق یہ ہے کہ مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا ہوں اور یہی وہ فرق ہے کہ میں انسان ہونے کے باوجود تم سے اتنا ہی امتیاز رکھتا ہوں جتنا عام حیوان سے حیوان ناطق ، مجھے یہ پیغام تم تک پہنچانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اس کا مستحق نہیں کہ اس کو معبود مانا جائے اس لئے معبود وہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The cause of the revelation of the last verse of Surah al-Kahf: وَلَا يُشْرِ‌كْ بِعِبَادَةِ رَ‌بِّهِ أَحَدًا (and must not associate anyone in the worship of his Lord - 110), as mentioned in Hadith reports, shows that shirk at this place means hidden shirk, that is, hypocrisy (رِیَاء : riy' ). One such narration from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ has been reported by Imam Hakim in al-Mustadrak as being sound on the criterion set forth by the two authorities, al-Bukhari and Muslim. According to the narration, one of the Muslims used to carry out Jihad in the way of Allah. Side…

Read the full tafseer →