18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔

(1) تمام خوبیاں اور شکر والوہیت اس اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ کو بذریعہ جبریل امین قرآن کریم نازل فرمایا توحید اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کے بیان میں توریت وانجیل اور تمام آسمانی کتب کے بیان سے اس قرآن کریم میں کوئی مخالفت نہیں کی، یہ آیت مبارکہ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ قرآن کریم تمام تمام آسمانی کتب کے مخالف ہے تمام کتابوں پر اس کو غالب بنایا۔
Ayahs 18:2–3

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

(بلکہ) سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ (لوگوں کو) عذاب سخت سے جو اسکی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی بہشت) ہے

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ابد الآباد رہیں گے۔

(2۔ 3) اور بالکل استقامت کے ساتھ موصوف بنایاتا کہ رسول اکرم ﷺ قرآن کریم کے ذریعے سے ایک سخت عذاب سے ڈرائیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا اور بذریعہ قرآن کریم آپ ان اہل ایمان کو جو کہ مخلص ہیں اور نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری سنائیں کہ ان کو جنت میں اچھا اجر ملے گا کہ جس اجر وثواب میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ وہاں سے نکلے جائیں گے۔
Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے۔

(4) اور آپ بالخصوص بذریعہ قرآن کریم یہود و نصاری اور بعض مشرکین کو بھی ڈرائیے جو نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں کہ) یہ جو کچھ کہتے ہیں محض جھوٹ ہے۔

(5) نہ تو ان کے اس دعوی کی کوئی دلیل وحجت ان کے پاس ہے اور نہ انکے باپ دادا کے پاس تھی اور یہ شرک کی بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم ان کے پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے۔

(6) شاید آپ تو ان لوگوں کی وجہ سے اگر یہ لوگ اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے غم سے اپنی جان دے دیں گے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔

(7) ہم نے مردوں اور عورتوں وغیرہ کو زمین کے لیے بارونق بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کی آزمایش کریں کہ ان میں زیادہ اچھا عمل کون کرتا ہے یا آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جو نباتات اور درخت اور جانور اور دیگر قسم قسم جو نعمتیں ہیں ہم نے ان کو زمین کے لیے باعث رونق بنایا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آزمایش کریں کہ سب سے زیادہ زہد کون کرنے والا اور تارک الدنیا کون ہے۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کر کے) بنجر میدان کردیں گے۔

(8) اور ہم اس زمین کی تمام چیزوں کو اور اس رونق کو ایک صاف چٹیل میدان کردیں گے اور کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے ؟

(9) اے محمد ﷺ کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور پہاڑ والے ہماری عجائبات قدرت چاند، سورج آسمان و زمین ستارے اور سمندر وغیرہ میں سے کوئی تعجب کی چیز ہیں۔ کہف اس پہاڑ کا نام ہے جس میں وہ غار تھا اور رقیم وہ پیتل کی تختی ہے جس پر ان نوجوانوں کے نام اور ان کا واقعہ مرقوم تھا یا یہ کہ اس وادی کا نام ہے جس میں کہف پہاڑ تھا یا یہ کہ رقیم ایک شہر کا نام ہے۔
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام میں درستی (کے سامان) مہیا کر۔

(10) چناچہ اب اللہ تعالیٰ اجمالی طور پر یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ وقت قابل ذکر ہے جب کہ ان نوجوانوں نے اس غار میں جا کر پناہ لی اور داخل ہونے کے وقت دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھیے اور اس سے چھٹکارے کا کوئی رستہ نکالیے۔
Ayah 18:11

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) کا پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا۔

(11) چناچہ ہم نے اس غار میں ان کو تین سو نو سال تک کے لیے سلا دیا۔
Ayah 18:12

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ان کو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے۔

(12) پھر جس حالت پر وہ سوئے تھے اسی طرح ہم نے ان کو بیدار کیا تاکہ ہم ظاہری طور پر بھی معلوم کرلیں کہ مومنین اور کافروں میں سے کس نے ان لوگوں کی غار میں ٹھہرنے کی مدت کو زیادہ محفوظ رکھا ہے۔
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کے حالات تم کو صحیح صحیح بیان کرتے ہیں وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی۔

(13) ہم بذریعہ قرآن کریم آپ سے ان کا واقعہ بیان کرتے ہیں، یہ چند نوجوان تھے ہم نے ان کو دین کے معاملہ میں بصیرت عطا کی تھی یا یہ کہ اس چیز میں ان کو ثابت قدمی عطا کی تھی یا یہ کہ ان کو ایمان پر ثابت قدمی عطا کی تھی۔
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا جب وہ (اٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی۔

(14) اور ہم نے ان کے دلوں کو ایمان کے ساتھ مضبوط کردیا تھا یا یہ کہ ہم نے ان کو صبر وثابت قدمی کی توفیق عطا فرمائی تھی وہ دقیانوس کافر بادشاہ کے پاس سے کھڑے ہوتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم تو اللہ کو چھوڑ کر کسی معبود کی عبادت نہیں کریں گے ایسی صورت میں ہم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سواء اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے پر) کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔

(15) ہماری اس قوم نے تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ بتوں کو معبود قرار دے رکھا ہے، یہ لوگ اپنی اس پر ستش پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے کہ اللہ تعالیٰ نے انکو اس چیز کا حکم دے رکھا ہے، اور اس شخص سے زیادہ کون غضب ڈھانے ولا ہوگا کہ جو اللہ تعالیٰ پر تہمت لگائے اور اس کے لیے شریک تجویز کرے۔
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سواء عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کر دے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا۔

(16) جب تم نے ان کو اور ان کے دین کو اور ان کے بتوں کو جن کی یہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں الگ کردیا ہے تم خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اور اس غار میں چل کر پناہ لو تم پر تمہارا رب اپنی رحمت پھیلائے گا اور تمہارے لیے کل کو کامیابی کا سامان درست فرمائے گا یعنی آخر الامر کامیابی ہوگی یہ نوجوانوں کی آپس میں گفتگو تھی،
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو خدا ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کردے تو تم اسکے لیے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔

(17) اور وہ غار ایسی وضع پر ہے کہ دھوپ نکلنے کے وقت تو غار کے داہنی جانب کو بچھی رہتی ہے اور ڈوبنے کے وقت بائیں طرف کو ہٹی رہتی ہے اور وہ لوگ اس غار کے ایک کونے میں تھے یا یہ کہ وہ لوگ اس غار کے ایک کشادہ روشن موقع میں تھے اصحاب کہف کا جو واقعہ بیان کیا جا رہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ہدایت عطا فرمائے، وہ ہی ہدایت پاتا ہے اور جس کو وہ اپنے دین سے گمراہ کر دے تو آپ اس کے لیے کوئی مددگار اور ہدایت کا راستہ بتانے والا نہ پائیں گے۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ تو سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے۔

(18) اور اے محمد ﷺ جب آپ ان کو غار میں دیکھتے تو جاگتا ہوا خیال کرتے حالانکہ وہ سوتے تھے اور اس سونے کی حالت میں ایک سال میں ایک مرتبہ ان کی کروٹیں تبدیل کرتے رہتے تاکہ زمین ان کے گوشت پوشت نہ کھالے۔ اور قطمیر نامی ان کا کتا غار کی دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھا ہے، اے مخاطب اگر اس حالت میں تو ان کو جھانک کر دیکھتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا اور تو دہشت زدہ ہوجاتا۔
Ayah 18:19

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تم اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کونسا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔

(19) اور اسی طرح تین سو نوسال گزر جانے کے بعد ہم نے ان کو جگایا تاکہ آپس میں بات کریں چناچہ مکسلیمنا نامی نے جو ان کا سردار اور ان سب سے بڑا تھا کہا کہ تم حالت نیند میں اس غار کے اندر کس قدر رہے ہو گے بعض بولے غالبا ایک دن رہے ہوں گے مگر جب غار سے باہر نکل کر سورج دیکھا کہ وہ ابھی غروب ہونے کے قریب ہے تو بولے ایک دن سے بھی کچھ کم رہے ہوں گے مکسلیمنا سردار کہنے لگا یہ تو صحیح خبر تمہارے اللہ ہی کو ہے کہ تم کس قدر آب تملیخا کو افسوس شہر کی طرف یہ روپیہ دے کر بھیجو وہ تحقیق کرے کہ کون سا کھانا زیادہ آئے گا اور کون سا کھانا پاکیزہ اور حلال ہے تاکہ وہ اس میں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لے آئے اور سب کام خوش اسلوبی سے کرے تاکہ کسی کو ان مجوسیوں میں سے تمہاری خبر نہ ہونے دے۔
Ayah 18:20

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔

(20) اگر یہ مجوس تمہاری خبر پالیں تو تمہیں قتل کر ڈالیں گے یا پھر تمہیں اپنے مجوسیت کے طریقہ پر کرلیں گے اب اگر تم ان کے دین کو اختیار کرلو گے تو پھر کبھی عذاب خداوندی سے نجات نہیں ملے گی۔
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ بھی شک نہیں۔ اس وقت لوگ انکے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنادو ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے۔

(21) اور اسی طرح ہم نے اپنی قدرت و حکمت سے افسوس شہر کے مسلمانوں اور کافروں کو ان کی حالت سے مطلع کردیا اور اس وقت ان شہر والوں کا بادشاہ یستفاد نامی مسلمان شخص تھا اور دقیانوس مجوسی بادشاہ اس سے قبل مرچکا تھا مگر اس کے بعث بعد الموت میں تسلی نہیں ہوئی تھی تاکہ اب اس شہر کے مسلمان اور کافر بھی اس بات کا یقین کرلیں کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونا یقینی ہے اور یہ کہ قیامت کے قائم ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر جب کہ اس زمانہ کے لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑا رہے تھے کافر کہنے لگے کہ ان کے پاس کوئی گرجا یا عمارت بنا دو کیوں کہ یہ ہمارے دین پر تھے بالآخر جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے یعنی کہ مسلمان (اھل حکومت) انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنائیں گے کیوں کہ یہ ہمارے دین پر تھے۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

(بعض لوگ) لوگ بظاہر کچھ کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتا تھا اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا (اور بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملہ) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو اور نہ ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا۔

(22) اور یہ لوگ انکی تعداد میں بھی ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے، چناچہ نجران کے عیسائیوں میں سید اور اس کے ساتھی یعنی نسطوریہ کہہ رہے تھے کہ وہ تین ہیں اور چوتھا ان کا کتا ہے اور عاقب اور اس کے ساتھی یعنی مار یعقوبیہ کہہ رہے تھے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ لوگ بےتحقیق باتیں کر رہے تھے اور اصحاب ملک یعنی ملکانیہ کہہ رہے تھے کہ یہ لوگ سات تھے آٹھواں ان کا قطمیر کتا تھا۔ اے محمد ﷺ آپ ان مخاطبین سے فرما دیجیے کہ میرا پروردگار ان کا شمار خوب صحیح جانتا ہے اور ان کے شمار کو صحیح طور پر بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں جو کہ ان میں مسلمان تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان تھوڑے لوگوں میں سے ہوں وہ کتے سمیت آٹھ تھے لہذا آپ ان مخاطبین سے بھی اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں کوئی بحث نہ کیجیے، بس ان کو آیات قرآنیہ پڑھ کر سنا دیجیے اور ان کی تعداد کے بارے میں ان لوگوں میں سے کسی سے بھی کچھ نہ پوچھیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ سے بیان فرما دیا وہ ہی آپ کے لیے کافی ہے۔
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا۔

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر (انشاء اللہ کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔

(23۔ 24) آپ کسی کام کے متعلق یوں نہ کہا کیجیے کہ مثلا میں کل کروں گا یا کل ایسا کہوں گا مگر مشیت خداوندی کو اس کے ساتھ ملا دیا کیجیے اور جب آپ اتفاقا انشاء اللہ کہنا بھول جائیں تو بعد میں یاد آنے پر کہہ لیا کیجیے اور ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ صحیح اور یقینی بات بتا دے گا۔ یہ آیت کریمہ رسول اکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ آپ سے مشرکین مکہ نے روح اور اصحاب کہف کے بارے میں دریافت کیا تھا، آپ نے فرمایا کل بتا دوں گا اور آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ الا ان یشآء اللہ“۔ (الخ) اور ابن جریر ؒ نے ضحاک ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ ہی سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں قسم کھائی پھر پر چالیس راتیں گزر گئیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اور آپ کسی کام کے متعلق یوں نہ کہا کیجیے کہ میں اس کو کل کروں گا مگر اللہ کے چاہنے کو ملا دیا کیجیے۔
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے

(25) اور وہ غار میں بیدار ہونے سے پہلے تین سو نو سال تک رہے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ والبثوا فی کہفہم“۔ (الخ) ابن مردویہ ؒ نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”ولبثوا فی کہفھم ثلث مائۃ“۔ تو آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ اس سے تین سو سال مراد ہیں یا تین سو مہینے پھر اس پر یہ جملہ نازل ہوا۔ (آیت) ”سنین وازدادواتسعا“۔ یعنی تین سو برس تک رہے اور نو برس اوپر اور ہے۔
Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ چتنی مدت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں معلوم ہیں وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے اس کے سوا انکا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے

(26) آپ ان سے فرمادیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے غار میں رہنے کی مدت کو تم سے زیادہ جانتا ہے کہ اس بیداری کے بعد سے پھر کتنا زمانہ ہوگیا تمام آسمانوں و زمین کی پوشیدہ باتوں کا علم اسی کو ہے وہ کیا کچھ دیکھنے والا ہے اور کیا کچھ سننے والا ہے اور ان کا اللہ کے علاوہ کوئی محافظ نہیں یا یہ کہ اہل مکہ کو اللہ کے علاوہ اور کوئی عذاب خداوندی سے چھڑانے والا مددگار اور رشتہ دار نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے حکم غیب میں شریک کیا کرتا ہے۔
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو اسکی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

(27) اور آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ آپ ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنادیا کیجیے اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کیا کیجیے اور اس کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور آپ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی پناہ بھی نہ پائیں گے۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسکی خوشنودی کے طالب ہیں ان کے ساتھ صبر کرتے رہو اور تمہاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا

(28) اور آپ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرتے ہیں جیسا کہ حضرت سلمان فارسی ؓ اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں ان سے ہٹنے نہ پائیں، اور ایسے شخص کی بات نہ مانیے جس کے قلب کو ہم نے اپنی توحید سے غافل کردیا ہے اور دو بتوں کی پوجا میں مصروف ہے اور اس کی یہ باتیں سب اکارت اور برباد ہیں یہ آیت کریمہ عیینہ بن حصن فزاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تطع من اغفلنا“۔ (الخ) ابن مردویہ ؒ نے جریر ؒ اور ضحاک ؒ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں روایت کیا ہے، کہ یہ آیت امیہ بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ اس نے رسول اکرم ﷺ سے ایک ایسی چیز کی درخواست کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمائی وہ یہ کہ مسلمان مساکین کو اپنے پاس سے ہٹادیجیے اور مکہ کے رؤسا کو اپنے پاس بٹھائیے، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، اور ابن ابی حاتم ؒ نے ربیع سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے امیہ بن خلف کی بات کا اثر لیا تھا اور آپ سے جو کہا گیا تھا آپ اس سے بیخبر اور غافل تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، نیز ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ عیینہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ کے پاس حضرت سلمان فارسی ؓ بیٹھے ہوئے تھے تو عیینہ کہنے لگا جس وقت ہم آپ کے پاس آیا کریں تو انہیں اپنے پاس سے ہٹا دیا کیجیے اور ہمیں بٹھا لیا کیجیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انکو گھیر رہی ہوں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے انکی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) من ہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری

(29) اور آپ عیینہ سے فرما دیجیے کہ لا الہ الا اللہ کی دعوت تمہارے رب کی طرف سے ہے سو جس کا دل چاہے ایمان لے آئے اور جس کا دل چاہے کافر رہے یا یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس کے متعلق مشیت خداوندی ایمان لانے کے بارے میں ہوتی ہے وہ ایمان لے آتا ہے اور جس کے کافر رہنے کے بارے میں ہوتی ہے وہ کفر پر رہتا ہے، بیشک ہم نے عیینہ اور اس کے ساتھیوں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے کہ اس کی قناتیں ان کو گھیرے ہوں گی اور اگر وہ پانی کی فریاد رسی کریں گے تو ایسے پانی سے فریاد پوری کی جائے گی جو زیتوں کے تیل کی تلچھٹ کی طرح یا پگھلی ہوئی گرم چاندی کی طرح ہوگا کہ وہ پاس آتے ہی منہ کو بھون ڈالے گا کیا ہی برا پانی ہوگا اور وہ دوزخ کیا ہی بری جگہ ہوگی یعنی بدترین ٹھکانا اور ان کے ساتھیوں یعنی شیاطین اور کافروں کا ہے۔
Ayahs 18:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی انکو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے

(30۔ 31) البتہ جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے خداوندی کی بجاآوری کی تو جو خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرے ہم ایسے لوگوں کے اجر وثواب کو ضائع نہ کریں گے ایسے حضرات کے لیے رحمن کی طرف سے محلات ہیں کہ ان محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی، اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی، ان لوگوں کو جنت میں سونے کے ہار پہنائے جائیں گے اور سبز رنگ کے کپڑے باریک اور موٹے ریشم کے پہنیں گے اور جنت میں مسہریوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جنت کیا ہی اچھا صلہ ہے اور کیا ہی اچھا ٹھکانا ہے یعنی بہترین جگہ ان کے رفقاء یعنی انبیاء اور صالحین کی جگہ ہے۔