18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsسراج البیان

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف واسطے اللہ کے ہے جس نے اپنے بندہ پر کتاب نازل کی ، اور اس میں کچھ عیب نہ رکھا ۔

Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

ٹھیک اتاری ہے تاکہ وہ اس کی طرف سے ایک سخت آفت سے ڈرائے اور نیک اعمال مومنین کو بشارت سنائے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے ۔

Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔

Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور انہیں بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے ۔

Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

انہیں اس قول کا کچھ علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادوں کو اس کا کچھ علم تھا ، بڑا بول ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتا ہے جھوٹ ہے جو وہ کہتے ہیں ۔

Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

پھر شاید تو پچتا پچتا کر ان کے پیچھے اپنی جان گھونٹ ڈالے گا کہ وہ اس حدیث پر (بات پر) ایمان نہیں لاتے ۔

Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسی کی رونق کیلئے بنایا تاکہ اہل دنیا کو آزمائیں کہ ان میں سے کون نیک کام کرتا ہے ۔

Ayahs 18:8–12

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے چھانٹ کر میدان کردیں گے (ف 1) ۔

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ غارا اور کھوہ والے ہماری نشانیوں میں کچھ اچنبا تھے ؟

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ جوان غار میں جا بیٹھے ، پھر بولے اے رب ہم پر اپنی طرف سے رحم کر اور بنا دے ہمارے کام کی درستی ۔

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں غار میں چند برس سلا دیا ۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں جگایا ، تاکہ ہم معلوم کریں کہ دونوں فرقوں میں سے کس نے ان کے (غار میں) رہنے کی مدت یاد رکھی ہے ۔

سورة کہف کی دس آیتیں : (ف 1) ابتدا کی ان دس آیتوں میں جو معارف بیان فرمائے ہیں ان کو سمجھ لینے کے بعد گمراہی کا کوئی احتمال نہیں رہتا ، اور قلب و دماغ انواروصداقت سے مستنیر ہوجاتے ہیں ذلیل میں یہ معارف درج ہیں ۔ 1۔ قرآن حکیم اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کسی قسم کا الجھاؤ نہیں مطالب واضح اور صاف ہیں ۔ 2۔ یہ ہماری تمام ضروریات دینی کی کفیل ہے ، اس صحیفہ قیم کے بعد مزید تجدید وبعثت کی ضرورت نہیں ۔ 3۔ توحید کی راہ استقامت اور سلامت روی کی راہ ہے ، مسلمان کا نصب العین ہمیشہ یہی رہے گا کہ ایک خدا کے سامنے جھکے ، 4۔ عقیدہ شرک کی تمام صورتیں اور شکلیں غیر علمی اور غیر یقینی ہیں اور اللہ کی تقدیس پر اتہام وافترا ہے ۔ 5۔ جناب رسالت پناہ امت کے سب سے بڑے خیر خواہ ہیں ، ہمارے لئے ان کے دل میں بیحد کرب وبے چینی تھی ، (آیت) ” فلعلک باخع نفسک “۔ میں اسی جانب اشارہ ہے اس لئے آپ کا اسوہ حسنہ ہمارے لئے مکمل اور تشفی بخش ہے ۔ 6۔ دنیا کی آرائش وزینت ناپائدار اور فانی ہے مقصود یہ ہے کہ ہم دنیا میں رہ کر آیندہ زندگی کے لئے تیاری کریں ۔ 7۔ اللہ کے نیک بندے ابتلاء کے وقت مایوس نہیں ہوتے ، اور اللہ سے ہدایت و راہنمائی کی توفیق چاہتے ہیں ، کیا یہ حقائق ایسے نہیں کہ انسانیت کو فروغ دیں ، اور مومن کو ہر نوع کی گمراہیوں سے بچا لیں ؟ حل لغات : باخع : جان کھونے والا ۔ جرزا : زمین بےگیاہ ، بنجر ، غیر آباد ، ناقابل زراعت ۔ الرقیم : وہ جگہ ہے ، جسے بائبل میں ’ راقیم ‘ کہا گیا ہے ، وہ تختی جس پر اصحاب کہف کا قصہ اور ان کے نام لکھے ہوئے تھے ۔
Ayahs 18:13–15

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ٹھیک ٹھیک تجھے ان کا قصہ سناتے ہیں ، وہ چند جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت زیادہ دی (ف 1) ۔

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ان کے دل پر ہم نے گرہ لگائی کہ جب وہ اٹھے بولے ، ہمارا رب زمین اور آسمان کا رب ہے ہم ہرگز اس کے سوا کسی اور معبود کو نہ پکاریں گے ورنہ ہمارا قول عقل سے دور ہوگا ۔

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ ہماری قوم ہے جس نے اس کے سوا کئی معبود ٹھہرائے ہیں ، ان کے ثبوت پر دلیل واضح کیوں نہیں لاتے پس جو اللہ پر جھوٹ باندھے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟

(ف 1) اصحاب کہف ورقیم چند موحد شخص تھے ، جو بت پرست حکومت کے مظالم سے تنگ آکر گوشہ نشین ہوگئے ، اور آبادیوں سے دور اپنے لئے ایک غار کو پسند کرلیا ، مدت تک دنیا ومافیہا کو فراموش کئے ہوئے اس میں پڑے رہے ، اور یاد الہی میں مشغول رہے ، اور یاد الہی میں مشغول رہے ، اور جب باہر نکلے تو معلوم ہوا کہ ظالم حکومت کا دور ختم ہوچکا ہے ، اور ساری دنیا عیسائیت کے پرچم تلے جمع ہے ۔ یہ ہجرت کی قدیم ترین صورت ہے اسلام یہ نہیں چاہتا ، کہ مسلمان ذہنی وقلبی غلامی کو گوارا کریں ، وہ مسلمان کو ہر وقت اللہ کی محبت میں سرشار دیکھنا چاہتا ہے ۔ حل لغات : فضربنا علی اذانھم : یعنی دنیا کی جانب سے انہیں بالکل بیخبر کردیا ، جمہور مفسرین نے نیند اور سکر طویل کے معنے لئے ہیں ۔
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم ان سے اور ان کے معبودوں سے جو اللہ کے سوا ہیں ، الگ ہوگئے ، تو اس غار میں چل بیٹھو تمہارا رب اپنی رحمت تم پر پھیلائے گا ، اور تمہارے کام میں تمہیں آرام بخشے گا (ف 1) ۔

اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے : (ف 1) جب کوئی قوم اللہ کے لئے اپنی آسائیشوں کو ترک کردے اور توحید کے لئے تکلفات کو چھوڑ دے ، عقیدے کی حفاظت وصیانت کے لئے دکھ اور مصائب برداشت کرلے ، تو اللہ کی رحمتیں اسے گھیر لیتی ہیں ، اصحاب کہف ، یہ چند نفوس قدسیہ تھے ، مظالم واستبداء سے گھبرا کر اللہ کی پناہ میں آگئے ، اور دین حق کے تحفظ کے لئے فار اور کھوہ کی زندگی پر قناعت کرلی ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کہ جب تم نے بت پرستوں سے قطع تعلق کرلیا ہے ، اور یہاں آگئے ہو تو خوف وہراس کی ضرورت نہیں ، ہم تمہاری مدد کریں گئے ، اور یہاں وہ لطف تمہیں میسر ہوگا ، جو بڑے بڑے ایوانوں میں تمہیں میسر نہ ہوتا ۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو دھوپ کو دیکھے گا جب نکلتی ہے ، ان کے غار سے بچ کر داہنی طرف کو جاتی ہے اور جب ڈوبتی ہے تو بائیں طرف کو کترا جاتی ہے اور وہ وہاں کشادہ میدان میں ہیں (ف 2) ۔ یہ بات اللہ کی آیتوں (معجزوں) میں سے ہے ۔ جسے اللہ نے راہ دکھائی وہی راہ یاب ہوا اور جسے وہ گمراہ کرے تو اس کے لئے کوئی راہنما دوست نہ پائے گا ۔

(ف 2) یعنی ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو جگہ پسند فرمائی ہے ، وہ دھوپ سے محفوظ ہے ، سورج طلوع و غروب کے وقت کترا کر نکل جاتا ہے ، اور یہ لوگ آفتاب کی تمازت سے محفوظ رہتے ہیں ، البتہ ہوا پہنچتی رہتی ہے ، کیونکہ ہوا کے لئے غار کا دہانہ موجود ہے ، خدا کی جانب سے یہ حسن انتظام خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ حل لغات : شططا : غلو ، مبالغہ ، اندازہ سے گزرنا ، حد سے زیادہ ، بعید از عقل ۔ مرفقا : وسیلہ ، راحت ، آسائش ۔ فجوۃ : کشادہ جگہ ، فراخ مقام :
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تو سمجھے گا کہ ہو جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں ، اور ہم ان کی داہنی اور بائیں کروٹیں بدلتے رہتے ہیں ، اور ان کا کتا چوکھٹ پر اپنی بائیں پسارے پڑا ہے ، اگر تو انہیں جھانک کر دیکھے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور تیرے دل میں ان کا خوف (ف 1) ۔ چھا جائے ۔

(ف 1) یہاں ایک عرصہ تک یہ لوگ رہے ، اور زہد و راضت کی زندگی بسر کی ، آخر ان کا انتقال ہوگیا ، اور ایسی حالتوں میں موت آئی ، کہ یہ لوگ کسی نہ کسی کیفیت عبادت میں مشغول تھے ، کوئی سجدے میں تھا ، کوئی رکوع میں ، کوئی کھڑا تھا ، اور کوئی جھکا ہوا ، اس لئے باہر سے دیکھنے والے کو یہی معلوم ہوتا تھا ، کہ یہ لوگ زندہ ہیں ، اور عبادت میں مشغول ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ موت کی نیند سو رہے تھے ۔ کتا بھی غار کی دہلیز پر پاؤں پھیلائے بیٹھا تھا ، اور وہ بھی اسی کیفیت میں طعمہ اجل ہوچکا تھا اس سارے منظر کو اس وقت بھی اچھی طرح دیکھا جاسکتا ، جبکہ غور کیا جاتا ، کیونکہ یہ لوگ جس غار میں پناہ گزین تھے ، وہ قدرے تاریک تھا ، اور اول نظر میں تو یقینا دل دہل جاتا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کو دہشتناک بنا دیا ہے قرآن حکیم نے اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے ۔ (آیت) ” وتحسبہم ایقاضا “۔ اور لواطلعت : میں اس وقت کی حالت بیان فرمائی ہے ، یعنی اگر تم اس وقت موجود ہوتے ، تو تم بھی پہلی نظر میں انہیں زندہ خیال کرتے ، اور جب تمہیں معلوم ہوجاتا ، کہ یہ زندہ نہیں مردہ ہیں تو مارے خوف کے بھاگ جاتے ۔ حل لغات : ایقاضا : جیتے جاگتے ، جمع یقظ بمعنے بیدار رقود : موت کی نیند سوئے ہوئے ، جمع راقد بمعنی سونے والا خواب کنندہ ۔ بورقکم : سکہ ، روپیہ ۔
Ayahs 18:19–20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے انہیں (ایک دفعہ) جگا دیا تھا کہ آپس میں لگے پوچھنے ، ان میں سے ایک نے کہا تم کتنی دیر یہاں رہے ‘ وہ بولے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے ہیں پھر بولے تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کس قدر ہے اب تم اپنے میں سے ایک کو اپنا روپیہ (نوٹ) دے کر شہر میں بھیج دو ، تاکہ دریافت کرے کہ پاکیزہ کھانا کس کی دکان پر ہے کہ اس سے تمہارے پاس لائے اور نرمی سے بولے اور کسی کو تمہارے حال کی خبر نہ دے (ف 1) ۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر اہل شہر تم پر قابو پائیں گے تمہیں سنگسار کریں گے یا اپنے دین میں تمہیں لوٹائیں گے اور اس صورت میں تم کبھی نجات نہ پاؤ گے ۔

(ف 1) طویل مدت کے بعد اللہ نے ان کو زندہ کیا ، یہ اٹھے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کتنی مدت یہاں رہے اور یہ خیال کرکے کہ شاید ایک آدھ دن اس عالم شکر وبیہوشی میں گزرا ہے ، اپنے آدمی کو شہر میں بھیجا کہ وہ نفیس کھانا خرید لائے ، اسے تاکید کی ، کہ خفیہ خفیہ جائے اور ہشیار رہے ، ایسا نہ ہو ، مخالفین پکڑ لیں ، اور پھر غلط عقائد کے ماننے پر مجبور کردیں ، یہ تمام عرصہ انہیں بہت تھوڑا معلوم ہوا ، اس لئے کہ وہ جس حالت میں تھے ، اسی میں زندہ ہوگئے ، انہوں نے یہ خیال کیا ہوگا کہ زہد و عبادت کی کثرت سے شاید قدرے بےہوشی طاری ہوگی ہو ۔
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور یوں ہم نے ان کے حال سے لوگوں کو خبردار کیا تاکہ وہ جانیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس گھڑی (قیامت) میں شک نہیں ، جب وہ اپنی بات پر جھگڑ رہے تھے ، انہوں نے کہا کہ ان کے اوپر ایک عمارت بناؤ ، ان کو ان کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے ، جو ان کے معاملہ میں غالب رہے انہوں نے کہا کہ ہم ان پر ایک مسجد بنائیں گے ، (ف 2) ۔

اصحاب کہف کی دوبارہ عزت افزائی : (ف 2) اللہ کی کرشمہ سازیاں ملاحظہ ہوں ، اصحاب کہف کا یہ آدمی جب شہر میں پہنچا ، تو اس کے پاس پرانا سکہ تھا ، لیکن پرانی حکومت کا نظام الٹ چکا تھا ، لوگ حیران ہوئے کہ یہ لوگ کیونکر یہاں موجود ہیں ؟ کیفیت دریافت کرنے پر معلوم ہوا ، کہ یہ لوگ اس زمانہ کی حکومت کے مظالم سے تنگ آکر پہاڑ کے کسی غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے چناچہ یہ لوگ پکڑ لئے گئے ، مگر اس وقت ان کے ہم عقیدہ لوگ ہی برسر اقتدار تھے ، اس لئے ان لوگوں کی بہت عزت کی گئی اب یہ بحث تھی کہ ان کی جگہ غار پر عمارت بنائی جائے ، جو بطور یادگار کے رہے ، غور فرمائیے ، یا تو وہ زمانہ تھا کہ یہ لوگ ابنائے قوم سے بیزار ہو کر بھاگے تھے اور پایہ کیفیت ہے ، کہ لوگ انہیں ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں ۔ اور اس واقعہ سے جہاں یہ مقصود تھا کہ ان لوگوں کو جو خدا کی پناہ میں آگئے ہیں ، عزت بخشی جائے اور انہیں بتایا جائے ، کہ اللہ اپنے بندوں کی ہمیشہ دستگیری کرتا ہے ، وہاں یہ بھی مدعا تھا ، کہ منکرین قیامت کو قیامت صغری کا ایک منظر دکھا دیا جائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ قیامت کے بعد مردوں کو زندہ کردینا اسی طرح ممکن ہے جس طرح ان اصحاب کہف کا موت کے زندہ ہوجانا ، اصحاب کہف کی صحیح تعداد معلوم نہیں ، یہ لوگوں کی مختلف قیاس آرائیاں ہیں ، جو اس آیت میں مذکور ہیں ۔ قرآن حکیم نے غیر ضروری جزئیات کو اس لئے بیان نہیں کیا کہ قرآن کا مدعا کوئی پرانا قصہ دہرا دینا نہیں ، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کے چند بندوں نے جب متاع ایمان کی حفاظت کے لئے ہم پر بھروسہ کیا تو ہم نے ہر طرح ان کی اعانت کی اور ظالم حکومت کو ان کے سامنے بیخ وبن سے اکھاڑ ڈالا ، اور یہ مقصد اس حد تک بالکل واضح ہے ۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ وہ تین شخص ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور بعض کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے ، بن دیکھے اٹکلیں دوڑاتے ہیں ‘ اور یہ بھی کہیں گے کہ وہ سات ہیں اور اٹھواں ان کا کتا ہے ، تو کہہ میرا رب ان کا شمار بہتر جانتا ہے ، اور لوگ انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے لوگ ، سو تو ان کے بارہ میں جھگڑا نہ کر مگر سرسری جھگڑا اور انکے بارہ میں کسی اہل کتاب (ف 1) ۔ سے فتوی نہ مانگ ۔

(ف 1) قرآن حکیم میں اور بائبل میں بہت بڑا مابہ الامتیاز ہے کہ بائبل میں غیر ضروری جزئیات وتفصیلات مذکور ہوتی ہیں اور قرآن صرف مغز واصل پر اکتفا کرتا ہے ، قرآن کا مقصد یہ ہے کہ ایام اللہ یا واقعات کو عبرت آموز طریق سے بیان کیا جائے اس لئے وہ تفصیلات کو نظر انداز کرتا ہے ۔ اصحاب کہف کی زندگی کا وہ پہلو جو ہمارے لئے سبق آموز ہو سکتا تھا ، بیان فرما دیا ، اب اس بات کی بحث کہ اصحاب کہف کون کون شخص تھے ، تعداد کیا تھی ، بالکل غیر ضروری ہے ، اس نوع کی تفصیلات بسا اوقات اس روح ومقصد سے دور کردیتی ہے ، جس کی وجہ سے قصہ بیان کیا گیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی تعداد بہت کم لوگ جانتے ہیں آپ بھی اس میں زیادہ جستجو نہ کریں ، کیونکہ جہاں تک غرض اور نصب العین کا تعلق تھا ، واضح کردیا گیا ، آپ اسی قد معلومات پر اکتفا کریں ، جو وحی کے ذریعہ بتادی گئی ہیں ۔
Ayahs 18:23–27

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی شئے کی بابت یوں نہ بول کہ میں کل یہ کروں گا ۔ (ف 2) ۔

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر انشاء اللہ کے ساتھ اور جب تو انشاء اللہ کہنا بھول جائے جب یاد آئے تو اس وقت اپنے رب کو یاد کر اور کہہ شاید میرا رب مجھے اس (قصہ مذکور) سے زیادہ قریب نیکی کی راہ سجھا دے ۔

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور اصحاب کہف اپنے غار میں تین سو برس رہے اور نو برس اور زیادہ ہوئے ،

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

تو کہہ اللہ ہی خوب جانتا ہے ، جس قدر وہ رہے ، آسمان و زمین کا علم غیب اسی کو ہے کیا خوب دیکھتا اور کیا خوب سنتا ہے اس کے سوا ان کے لئے کوئی دوست نہیں ‘ اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں رکھتا ،

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور تیرے رب کی کتاب میں سے تجھ پر جو وحی کی گئی ہے اس کو پڑھ کوئی اس کی باتیں بدل نہیں سکتا ، اور تو اس کے سوا ہرگز کہیں پناہ نہ پائے گا ۔

مستقبل کے متعلق ادعا نہ کرو : (ف 2) ہر کام کے لئے اللہ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور ہر بات میں مصلحتیں ہوتی ہیں جنہیں کوتاہ نظر انسان نہیں دیکھ سکتا اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی ہر بات میں اس عارفانہ نظریہ کو ملحوظ رکھے یعنی کبھی ادعا کے ساتھ مستقبل کے متعلق کچھ نہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے ، اسے نہیں معلوم کل جو آفتاب طلوع ہوگا ، وہ میری تائید میں طلوع ہوگا یا مخالفت میں اصحاب کہف پر ظلم توڑنے والے لوگوں کو دیکھئے ، حکومت وقت کے وعادی کیا تھے یہی ناکہ ہم خدا پرستوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ، اور ان کا نشان تک باقی نہیں رہنے دیں گے ، اور اس ادعا کا کیا حشر ہوا ؟ تین صدیوں میں حکومت کا تختہ الٹ گیا متکبر غارت ہوگئے ، اور غار میں پناہ لینے والے معزز وممتاز ہوئے اور خدا پرستوں کا اقتدار قائم ہوگیا ۔ اس قصے میں ایک تعلیم یہ بھی تھی کہ حضور ﷺ کی وساطت سے اس قسم کا ادعا کرنے والوں کو متنبہ کیا گیا ، کہ خبردار آئندہ کے متعلق پیشگوئی کرنے کا تمہیں کوئی استحقاق نہیں کائنات میں اللہ کی بادشاہت ہے ، اس لئے وہی کچھ ہوگا ، جو خدا کو منظور ہے ۔ حل لغات : رجما بالغیب : تخمین و اندازہ ، اٹکل پچو ۔ تمار براء : سے ہے جس کے معنی بحث کرنا ہے ، مقصد یہ ہے کہ آپ اس میں بحث و مباحثہ نہ کریں اصل مدع کے سمجھنے کی کوشش کریں ، رشدا : بھلائی کی بات طریق ہدایت ۔ ملتحدا : جائے پناہ ، لحد سے بنا ہے جس کے معنی آغوش قبر کے ہیں ۔ بالغدوۃ والعشی : صبح وشام یعنی ہر وقت :
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے اس کی رضا مندی چاہتے ہیں (یعنی فقراء مکہ) تو انکے ساتھ ملا رہ اور تیری آنکھیں انکی طرف سے پھر نہ جائیں ، کیا تو حیات دنیا کی زینت ڈھونڈتا ہے اور اس شخص کا مطیع نہ ہو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کا پیرو ہے اور اس کا کام حد سے نکلا ہوا ہے ۔ (ف 1) ۔

پیغمبر مساکین : (ف 1) قرآن حکیم میں بعض باتیں بصیغہ امر ادا کی گئی ہیں ، مگر اس سے مراد خبر ہے ، اور ایک واقعہ کا اظہار ہے ، اور اس کی بہت سی مثالیں ہیں یہاں بھی بالکل یہی انداز بیان ہے ، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ شاید ان عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند نہ فرماتے تھے جو غریب اور مفلس تھے ، اور قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ ان لوگوں کے ساتھ رہنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں ، حالانکہ واقعہ بالکل اس کے خلاف ہے ، بات یہ ہے کہ حضور ﷺ ہمیشہ ابو ذر ؓ ، سلمان فارسی ؓ ، اور اس قسم کے غریب اور مخلص عقیدتمندوں میں بےتکلفی سے بیٹھتے ، اور انہیں صبح وشام وقت گزارتے ، امراء کو یہ ناگوار تھا ، کہ وہ اس حالت میں آپ سے ملیں ، چناچہ وہ کہتے کہ جناب ہم اس حلقے میں بیٹھ کر آپ سے گفتگو نہیں کرسکتے ، ان کے کپڑوں سے بو آرہی ہے ، اور ہماری طبیعت میں تکدر پیدا ہوتا ہے ، آپ بھی ان سے الگ ہوجائیے ، مگر وہ پیغمبر جو افلاس وفقر کو اعزاز بخشنے کے لئے آیا تھا ، کیونکر ان کی باتوں کو مان لیتا ، قرآن کی زبان میں ان کو بتایا گیا ، کہ گو یہ مفلس ہیں ، مگر دولت ایمان سے ان کے دل مالا مال رہیں ، ان کے کپڑوں سے گو تمہیں بو آتی ہے ، مگر دل ذکر خدا سے مہک رہے ہیں ، یہ مخلص ہیں ، خدا پرست ہیں ، تم انہیں حقیر سمجھو ، تمہیں اختیار ہے ، مگر قدرت کی جانب سے یہ ملے شدہ امر ہے ، کہ یہی لوگ دنیا میں انقلاب پیدا کریں گے ، تم حرص وہوا کے بندے ہو ، تمہارے دلوں پر غفلت کے حجاب پڑے ہوئے ہیں ، تم اسلام کی برکات سے استفادہ نہیں کرسکتے ، تم جب تک دنیا کی ان کثافتوں میں پڑے ہوئے ہو ، صحبت نبوی ﷺ سے فیضاب نہیں ہو سکتے ، اور تم ہرگز اس قابل نہیں ہو کہ پیغمبر مخلص مساکین کو چھوڑ کو تم مغرور اور متکبر انسانوں کے ساتھ بیٹھے اٹھے ۔
Ayahs 18:29–30

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ یہ سچی بات تمہارے رب سے ہے ، جو کوئی (ف 2) ۔ ایمان لائے ، اور جو چاہے ، کافر رہے ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کی ہے کہ اس کی قناتوں نے انہیں گھیر لیا ہے ، اور اگر فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی اسی پانی سے کی جائیگی جو پیپ جیسا ہے وہ منہ بھون ڈالے گا برا پینا ہے ، اور بری ہے وہ آگ نفع اٹھانے میں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ہم (ایسے) نیکوں کا اجر نہیں کھوتے ۔

(ف 2) اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ ایمان ایک دولت ہے ایک حقیقت ہے ، چاہو تو اس سے اپنی جھولیاں بھو لو ، اور چاہو تو محروم رہو ، رسول تمہاری وجہ سے غربا اور مساکین سے قطع تعلق نہیں کرسکتا ۔ حل لغات : فرطا : حد سے تجاوز کرنے والی بات ۔ سرادق : پردے قناتیں ، شامیانے سرا پردہ ، اساور : اسوار کی جمع ہے کلائی میں پہننے کی زنجیر یا کنگن ، ملوک عجم عموما زیور پہنتے تھے اور بالخصوص ہاتھوں میں طلائی کنگن شاہان فارس کا طرہ امتیاز تھا ان کے تتبع میں امراء عرب بھی اس کو نشان افتخار سمجھنے لگے تھے ۔
Ayahs 18:31–35

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ان کے لئے رہنے کے باغ ہیں ، انکے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ان کو وہاں زیور پہنایا جائے گا سونے کے کڑے اور وہ پتلے اور گاڑے ریشمی سبز کپڑے پہنیں گے ، وہاں تکیے لگا کر تختوں پر بیٹھیں گے اچھا ثواب اور اچھا آرام ہے (ف 1) ۔

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

تو انہیں دو آدمیوں کی مثال سنا ، ان میں سے ایک کو ہم نے دو انگور کے باغ دیئے ، اور ان دونوں کے گرد کھجور کے درخت تھے اور ان دونوں کے بیچ میں ہم نے کھیتی رکھی ،

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ اپنا پھل دیتے اور کچھ کم نہ کرتے تھے ، اور ہم نے ان کے درمیان نہر جاری کی ۔

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس شخص کو میوے ملتے تھے پھر اس نے اپنے حریف (ساتھی) سے اثنا گفتگو میں کہا میں تجھ سے مال اور جتھے میں زیادہ ہوں ۔

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور اپنے باغ کے اندر آیا ، اور وہ اپنی جان پر ظلم کرتا تھا ، بولا میں خیال نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہو ۔

(ف 1) جو لوگ دنیا میں اسلام کی وجہ سے فاخرانہ زندگی کو ترک کردیتے ہیں اور اسلام کے اصول کو بلند کرتے رہتے ہیں ، اخروی زندگی میں انہیں تمام ان چیزوں سے بہرہ ور کیا جائے گا ، جن کا تعلق انتہائی اعزاز وفخر سے ہے ۔ جن کے لبادے یہاں بوسیدہ ، اور دریدہ ہیں ، انہیں ابریشم وقاتم دیا جائے گا پہننے کے لئے زیور ہوں گے اور ٹھاٹ کی زندگی ہوگی ، تاکہ انکو معلوم ہو کہ اللہ نے تحفہ اعمال کو قبول فرما لیا ہے ۔ حل لغات : حففنہما : ان کے گردا گرد حف سے ہے ، جن کے معنی گھیرنے اور کسی شئے کے احاطہ کرلینے کے ہیں ۔ یحاورہ : محاورہ کے معنے باہم گفتگو کرنا ہے ۔